62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کے رہنے والے (ہر وقت) اللہ کی تقدیس کرتے ہیں جو بادشاہ قدوس (اور) زبردست حکیم ہے۔

ترکیب : الملک القدوس العزیز الحکیم مجرورعلیٰ انہ صفۃ للہ وقریٔ بالرفع علی الاستیناف والجمہور علی ضم القاف من القدوس و قریٔ بفتحھا وھمامعنتان۔ منہم صفۃ رسولا اوحال وکذاما بعدہ یتلواویزکیھم ویعلمھم وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمھا محذوف ای وانھم واللام لفی دلیل علیھا وآخرین مجرور عطفاً علی الامیین ای بعثہ فی الامیین الذین فی عہدہ و بعثہ فی آخرین منھم لم یلحقوا بھم الی الان اومنصوب علی انہ عطف علی الضمیر المنصوب فی یعلمھم ای ویعلم آخرین اوانہ عطف علی مفعول یزکیھم ای ویز کی آخرین ولمایلحقوا صفۃ لاخرین۔ تفسیر : قرطبی (رح) کہتے ہیں سب متفق ہیں کہ ابن عباس ؓ کا قول اس سورة کی بابت یہ ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی اور ابن الزبیر ؓ بھی یہی کہتے ہیں۔ مسلم و سنن اربع کے مصنفوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ میں نے نبی ﷺ کو نماز جمعہ میں یہ سورة اور سورة منافقین پڑھتے سنا ہے۔ ابن حبان اور بیہقی نے جابر بن سمرہ ; سے نقل کیا ہے کہ جمعہ کی رات مغرب کی نماز میں نبی ﷺ قل یا ایہا الکافرون اور قل ھواللہ پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں سورة جمعہ اور سورة منافقون پڑھتے تھے۔ مسلم اور اہل سنن نے ابوہریرہ ؓ سے نقل کی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو سنا کہ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ واذاجاءک المنافقون پڑھتے تھے۔ اس سے پہلے یہ ذکر تھا کہ دین و اطاعتِ الٰہی میں ہمیشہ سرگرم اور ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اس میں خیال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی مدد و اعانت اور دینی استقامت کی حاجت ہے یا کوئی اس کا اس سے فائدہ ہے یا دفع مضرت ہے اس لیے ان خیالات کا ابطال اول سورة میں کرتا ہے۔ فقال یسبح للہ مافی السمٰوات ومافی الارض کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اللہ کی ہر وقت پاکی بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس کو کسی کی بندگی و اطاعت کی کوئی ضرورت نہیں اب جو کچھ تم کو حکم دیا جاتا ہے وہ صرف تمہاری بھلائی کے لئے۔ پہلی سورت میں سبح بلفظ ماضی ذکر کیا تھا یہاں یسبح بلفظ مضارع تاکہ تجددودوام پر دلالت کرے۔ مضارع کے صیغے جیسا کہ تجدد پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح ہمیشہ کرنے پر بھی بقرائن یہ بھی ایک وجہ مناسبت اگلی سورة سے ہے۔ تسبیح کے معنی اور یہ کہ آسمان اور زمین کے رہنے والے کیونکر اس کی تسبیح کرتے ہیں (بزبان حال وبزبان مقال) اس کو ہم کئی بار بیان کر آئے ہیں۔ اس جملے میں پہلے خیال کا ابطال ہے اس کو کوئی حاجت نہیں۔ تمام عالم اس کے آگے مسخر ہے۔ ہر چیز کی قدرتی بناوٹ اور اس کے حالات کا تغیر اپنے خالق کی یکتائی و بزرگی بیان کر رہا ہے جس کے کان ہوں سن لے آنکھ ہو دیکھ لے، دل ہو سمجھ لے۔ اسی بات کو ایک جگہ فرماتا ہے۔ وان من شیئٍ الایسبح بحمدہ ولکن لاتفقہون تسبیحہم۔ اس کے بعد فرماتا ہے الملک وہ بادشاہ بھی ہے یعنی غنی اور بےپروا ہے اس کے معنی واجب الوجود کے قریب قریب اس موقع پر مراد ہیں۔ کس لیے کہ بادشاہت بغیر جمع ہونے تمام کمالات و اسباب سلطنت کے حاصل نہیں ہوتے اس سے اشارہ ہے نبوت صفات عالیہ کی طرف جس میں دوسرے خیال کا رد ہے القدوس یعنی پاک ہے اس میں تیسرے خیال کی طرف اشارہ ہے۔ کوئی مضرت و نقصان اس کی ذات پاک کی طرف عائد نہیں ہوسکتا۔ خیالات کے ابطال کے سوا الفاظ قرانیہ میں ایک اور مسئلہ بترتیب بیان فرمایا جاتا ہے۔ یسبح للہ مافی السمٰوات ومافی الارض سے الحکیم تک توحید کے مسئلہ کا عجب لطف کے ساتھ ثبوت ہے کہ تمام کائنات علوی و سفلی اسی کی تسبیح کر رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے مسخر ہیں۔ زمینوں کے حالات اور آفتاب و ماہتاب اور دیگر ستاروں کی حالت کہہ رہی ہے کہ کوئی ہے جو ہم کو مجبورانہ ایک حرکت پر مجبور کر رہا ہے۔ جو لوگ کرّات ہی کو باعتبار فوق ہونے کے سماوات کہتے ہیں اب وہ بھی غور کریں کہ آفتاب و دیگر سیارات جو زمین سے ہزاروں حصے بڑے اور کروڑوں کوس دور ہیں اور اس سرعت کے ساتھ دور کرتے ہیں کہ منٹوں میں ہزاروں کوس کا فاصلہ طے کرتے ہیں اور پھر یہ بیشمار ہیں آپس میں ٹکرانے نہیں پاتے 1 ؎۔ ا ؎ ریل گاڑیاں باوجود اس قدر محافظت اور ایسے ہنرمندوں کی کوششوں کے ہر سال ٹکرا جاتی ہیں اور مگر اس مدبرحکیم کے کر ات نہیں ٹکرانے پاتے پھر اس سے زیادہ کون ثبوت اس کی توحید کے لیے ہوسکتا ہے۔ 12 پھر ان کی یہ حالت اپنے خالق ومالک و مدبر کی تسبیح ہی تو ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ آسمانوں پر ایک چپہ بھر بھی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں ہزاروں روحانی و ملائکہ اس کی تسبیح و تہلیل نہ کرتے ہوں۔ وہ ایک قسم کی غیرمرئی مخلوق ہے جس کے ادراک سے فلسفہ حال عاجز ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ پھر یہ انسان کیوں بیکار اور غیرمعبودوں کی پرستش میں گرفتار ہے، اس کو بھی اسی کی تسبیح چاہیے۔ الملک میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہی حاکم مطلق ہے ‘ وہی قابل پرستش و اطاعت ہے ‘ اسی کی نافرمانی سزا کی مستوجب کرتی ہے۔ القدوس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو اوہام باطلہ نے خدا کے لیے تثلیث اور بیٹے بیوی اور کارکن سمجھ رکھے ہیں وہ ان سب سے پاک ہے اس میں جمیع مذاہب باطلہ کا اجمالی رد ہے۔ العزیز وہ زبردست بھی ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عزت و غلبہ اسی کو ہے اسی کے احکام قابل پذیرائی ہیں۔ الحکیم وہ حکمت والا ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ انتظام دنیاوی جس طرح اس کی حکمت بالغہ کا مقتضٰی ہے اسی طرح دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کا بھیجنا ‘ کتابوں کا نازل کرنا بھی بندوں کی معادومعاش درست کرنے کے لیے اسی حکیم کی حکمت کاملہ کا مقتضٰی ہے لہٰذا اس کے بعد مسئلہ نبوت کا اثبات کرتا ہے۔ فقال ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منہم کہ اسی حکیم نے امیوں یعنی ان پڑھوں میں جس سے مراد ملک عرب لیا گیا ہے انہیں میں سے ایک رسول یعنی محمد ﷺ کو مبعوث و برپا کیا مگر امیوں سے مراد تمام ممالیک ہیں کس لیے کہ جن باتوں کی تعلیم کے لیے رسول آیا ان سب کی نسبت وہ امی ان پڑھ اور جاہل ہی تھے اور جو کسی کو کچھ خبر بھی تھی تو اس پر سینکڑوں جہالت کی تہیں چڑھی ہوئی تھیں پھر یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ خاص عرب کے لیے نبی تھے غلط بات ہے اور بالفرض امیوں سے مراد عرب ہی ہوں تو ان میں برپا کرنے سے یہ مراد نہیں کہ اور قوموں کے لیے نبی نہ تھے بلکہ یہ ایک واقعی بات کا بیان ہے جو دراصل آنحضرت ﷺ ملک عرب میں پیدا ہوئے اور ظاہر ہوئے تھے۔ کیوں رسول بھیجا یتلواعلیہم ایاتہ کہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ کر سنا دے۔ ویزکیہم اور ان کو اخلاق بد کی نجاستوں سے پاک کرے اپنی روحانی روشنی سے ان کے نفوس کو منور کرے۔ کوئی کیسا ہی پرزور واعظ ہو ہزاروں کو وعظ و پند کرے جب تک اس میں روحانی کشش اور باطنی جاذبہ نہیں کچھ بھی اثر پیدا نہیں ہوتا اور ہوتا ہے تو جلد زائل ہوجاتا ہے۔ وہ کیا نقش تھا جو عرب کے سخت دل ‘ شہوت پرست ‘ مغرور جاہلوں کے دلوں پر قائم کردیا تھا کہ جو صدیوں تک نہ مٹا اور ان کی دنیاوی اور دینی ترقی کا رہنما بنا رہا۔ ہم نے زباں زور سینکڑوں واعظ دیکھے کہ جو بک بک کر تھک گئے پر کچھ اثر نہ ہوا مگر حضرت ﷺ نے تو پہاڑوں کو موم کردیا اس کو رسالت کبریٰ کہتے ہیں۔ اور صرف پڑھ کر سنا وے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ان کو ویعلمھم الکتاب۔ کتاب یعنی قرآن سکھا دے۔ والحکمۃ اور حکمت بھی۔ کتاب سیکھنا اور چیز ہے اور اس کے برکات سے فائض اور دل میں جگہ دینا اور چیز ہے اسی لیے الکتاب کے بعد الحکمۃ کا لفظ ارشاد فرمایا۔ حکمۃ سے بعض نے سنت کو مراد رکھا ہے۔ 1 ؎ فائدہ : تکمیل کا اول مرتبہ یہ ہے کہ کلام سنایا جائے جس کے بعد اس کے دل پر سے کثافت و جہالت کی تاریکی دور ہوتی ہے۔ یہ دوسرا مرتبہ ہے ان دونوں کو یتلواعلیہم آیاتہ ویزکیھم میں بیان فرمایا۔ تیسرا مرتبہ اس اثرپذیر ہونے کے بعد یہ ہے کہ کتاب الٰہی اس کو سکھا دی جائے۔ سکھانے اور پڑھ کر سنانے میں بڑا فرق ہے۔ چوتھا مرتبہ یہ کہ اس کتاب کے اسرار و معانی اور اس کے احکام کے علاوہ علل و اسباب اور مصلحتیں بھی وہ سمجھ لے ان دونوں کو یعلمھم الکتاب والحکمۃ میں بیان فرمایا۔ حکمت کے معنی : حکمۃ کا لفظ فلاسفہ کے نزدیک حقائق الاشیاء کو ٹھیک ٹھیک طور پر جاننے میں بولا جاتا ہے اس لیے موجودات خارجیہ ‘ آسمان و زمین ‘ انسان و دیگر حیوانات وغیرہا کے حالات جاننے کا نام حکمۃ رکھا ہے۔ پھر موضوع متعین کر کے حکمت کو تقسیم کردیا کسی کا نام حکمۃ عملیہ کسی کا نظریہ رکھا اور پھر حکمۃ عملیہ اور نظریہ کے بھی بہت سے اقسام جداگانہ ناموں سے نامزد ہوئے۔ نظریہ میں سے فلکیات وعنصریات والٰہیات اور عملیہ میں سے تدبیر المنزل ‘ سیاست تمدن ‘ تہذیب الاخلاق نام قرار دیے گئے اور پھر ہر ایک کی اور بھی شاخیں ہیں۔ ریاضی اور طب پھر ریاضی کے اقسام ہیئت ‘ نجوم ‘ زیچ ‘ اکر ‘ مرایا ‘ حساب ‘ ہندسہ وغیرہ۔ ا ؎ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ جو چوتھے خلیفہ تھے یہ بات ان کے بیجا طرفداروں کو بری معلوم ہوتی لگے حضرت شیخین ؓ پر اتہام لگائے اور اس کے لیے انہیں تمام صحابہ کو برا بھلا بھی کہنا پڑا جس لیے وہ اس کہنے پر مجبور ہوئے کہ پیغمبر خدا ﷺ نے کوئی حکمت نہیں سکھائی نہ تزکیہ کیا نہ کتاب سکھائی اور آپ کا اثر ان سے شبنم کی طرح جلد زائل ہوگیا جس کے مخالف اسلام بھی قائل نہیں اور خلاف واقعہ بات بھی ہے پھر ان مطالب کے اثبات کے لیے ان کو سینکڑوں جھوٹی احادیث و روایات بنانی پڑیں جن کو واقعہ اور تاریخ زمانہ رد کرتی ہے اور انہیں کے بھروسہ وہ قرآن مجید میں تاویل کرتے اور جمہور اہل اسلام سے جھگڑتے ہیں۔ افسوس ! 12 منہ حکمت شرعیہ کا بیان : شرع محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں یہ لفظ ان معنوں میں مستعمل نہیں بلکہ اس میں کسی قدر تغیر کیا گیا اور آلہ حق اور مبدء ومعاد ‘ رسالت اور اسرار حکمۃ نوامیہ اور احکام الٰہیہ اور ان کے اسرار و مصالح اور تزکیہ نفس اور اس کے متعلق امور اور اسی طرح قوانین عدل و انصاف ‘ سیاست و اخلاق طہارت باطنی و ظاہری کا جاننا نہ صرف دلائل عقلیہ سے بلکہ الہامِ الٰہی سے نبی مرسل اور اس کے سچے پیروئوں کے وسیلوں سے جاننا حکمت ہے۔ ان میں علم بالسنۃ المطہرہ بھی داخل ہے۔ دونوں حکمتوں میں فرق ہے اول کی بنیاد دلائلِ عقلیہ یا حکما کے اشراق پر ہے جس میں بیشتر توہمات اور تخیلات کو دخل ہے اور اسی لیے یہ حکمت ہر زمانے میں نیا رنگ بدلتی رہتی ہے۔ آج کل کا فلسفہ اور ہیئت کچھ اور ہے اور قدیم فلسفہ اور دیگر علوم پر بڑے زورشور کے حملے ہور رہے ہیں اور شاید اس کے بعد جو زمانہ ترقی کر جائے تو اس پر بھی حملے ہونے لگیں اور یہ خیالات باطل ثابت ہوجائیں۔ بخلاف دوسری حکمت کے کہ اس میں ان امور کو دخل ہی نہیں وہ ان کدورتوں سے پاک وصاف ہے۔ زمانہ کیسا ہی بدلے پر وہ حکمت نہ بدلے گی۔ اسی فرق کی طرف اشارہ کرنے کے لیے حکیم دوجہاں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرما دیا کہ الایمان یمان والحکمۃ یمانیۃ (متفق علیہ) کہ ایمان تو یمانی ہے اور حکمۃ تو یمانی ہے۔ یعنی میری امت میں سے جو اہل یمن ہیں میری حکمۃ وہ خوب جانتے ہیں یا یوں کہو کہ حکمۃِ الہیہ کا مدرسہ یمان ہے نہ یونان اور دراصل لفظ یمان میں یمن و برکت کی طرف بھی اشارہ ہے جس سے حکمۃِ آسمانی مراد ہوسکتی ہے۔ فوائدِ حکمت : اس حکمۃ کے فضائل شرع محمدیہ میں بہت آئے ہیں۔ ومن یؤت الحکمۃ فقداوتی خیراکثیرا کہ جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت خیر دی گئی۔ حضرت انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام کی حکمۃ میں دل پرنور ‘ روح کو سرور ابدی ملتا ہے۔ حکمۃِ یونانیہ میں انجام کار ترددوخبط اور شک و ظلمات روحانیہ کے سوا کچھ نہیں اس لیے مولانا روم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ چند چند از حکمۃِ یونانیاں حکمۃِ ایمانیاں راہم بخواں یہ ذات بابرکات عرب جیسے امی اور جاہل ملک میں ظاہر ہوئی یعنی اس معلم کو ایسے سخت اور جاہل لوگ دیے گئے پھر دیکھئے کہ آپ نے ان کو حکمۃ کی تعلیم کہاں تک کی۔ مؤرخین باانصاف عرب کی اس حالت کا کہ جب آپ نے اظہار نبوت نہ کیا تھا اور اس کے بعد کی حالت سے خلفائے راشدین (رح) کے عہد تک جو مقابلہ کرتے ہیں تو ان کو ایک سخت حیرت ہوتی ہے۔ صحابہ ؓ اور ان کے بعد والوں کے علوم برکات اور ان کی بےحد ترقیاں اور لیاقتیں صاف صاف کہہ رہی ہیں کہ آپ نے حکمۃ سکھائی ہی نہیں بلکہ حکمۃ کا دریا بہا دیا۔ اب اسی کے ساتھ حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کی قوم کو بھی دیکھئے باوجودیکہ وہ لوگ عرب جیسے اجڈ نہ تھے، پڑھے لکھے شائستہ بھی تھے مگر پھر ان کو حکمۃِ الٰہیہ سے کہاں تک حصہ ملا۔ کیا اسرائیلیوں کی گوسالہ پرستی اور بات بات پر سرکشی اور جلدجلد بت پرستی و بدکاری کی طرف رجوع کرنا جیسا کہ توریت سے ثابت ہے یہ نہیں کہے گا کہ عرب کے ان مقدس اور پاک باز اور مستقل اور مردانہ و فرزانہ جماعتوں سے ان کو کوئی بھی مناسبت نہیں۔ بڑی تعجب کی بات ہے کہ ان کے معلم تو حکیم کامل یعنی نبی مرسل قرار پائیں اور ان کے معلم حکیم کامل یعنی نبی مرسل قرار نہ پائیں۔ عرب کی حالت گمراہی اور دنیا کے اقوام کی ضلالت : وان کانوامن قبل لفی ضلال مبین کہ اس سے پہلے وہ امی عرب بیشک صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے اس میں اسی مقابلہ حالت سابقہ کی طرف اشارہ ہے۔ عرب کی پہلی ضلال مبین کی جو کچھ مورخین نے شرح کی اس کے ذکر کی تو یہاں گنجائش نہیں مگر اس قدر جاننا کافی ہے کہ علم و ہنر سے خالی تھے، لکھنا پڑھنا بھی سینکڑوں ہزاروں میں سے کوئی جانتا تھا۔ افلاس کی کوئی انتہا نہ تھی، قزاقی اور چوری اور قتل و زنا ‘ شراب خواری کی کوئی انتہا نہ تھی۔ شہوت پرستی یہاں تک تھی کہ بڑا بیٹا اپنے باپ کی بیویوں کو بھی تصرف میں لاتا تھا۔ سنگدلی یہاں تک کہ معصوم بچوں کو زندہ دفن کردینا ایک عام بات تھی۔ پھر سینکڑوں معبود اور سینکڑوں تھان جھنڈے پوجتے تھے۔ رمالوں ‘ کاہنوں ‘ عیاروں کے کرشموں پر ایمان تھا۔ فال و شگون پر سفرواقامت منحصر تھی، گندے میلے وحشی بنے ہوئے تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے وقت تک تھا۔ گو پہلے عرب میں شاہان یمن کے ذریعے سے شائستگی ہوئی ہوگی اور علم و ہنر کی چمک ان پر پڑی ہوگی مگر اب تو چاروں طرف سے جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ ملت ابراہیمیہ بالکل مٹ گئی تھی اور اسی طرح تمام مذاہب اور جمیع اقوام کی حالت تھی۔ مجوس کا مذہب اصل میں جو کچھ ہو مگر اب تو شہوت پرستی اور عناصر پرستی کا مجموعہ رہ گیا تھا۔ اسی طرح اہل کتاب کی حالت خراب تھی۔ یہودتوریت اور انبیاء (علیہم السلام) کے اصل نسخے کھو بیٹھے تھے جو بخت نصر وغیرہ بادشاہوں کے عہد میں ہوا۔ صرف کچھ مضامین اصل کتابوں کے باقی قصص و حکایات یا مذہبی دستورات تھے جن کو توریت وصحف انبیاء کہتے تھے۔ اس کے سوا ان کے اجداد کی بےایمانیاں اور قوم کی بےہودگی تو اس درجہ تھی کہ جس کے حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی شاکی تھے اور وہ دنیا سے شاکی گئے اور ملت مسیحیہ کا تو پوپوں کی بددیانتی سے اور خراب حال تھا۔ سینکڑوں فرقے تھے اور سینکڑوں جدا جدا خیالات۔ انجیل ان کے پاس بھی نہ رہی تھی۔ عجائب پرستی اور پیروں کی پرستش اور اوہام باطلہ کی پابندی اور معمولی دستورات کی بجاآوری ہی مذہب رہ گیا تھا۔ تواریخ کلیسا کے دیکھنے سے یہ بات ثابت ہوسکتی ہے۔ رہے ہنودواہل چین وتتار تو اب تک بت پرستی اور توہمات باطلہ کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور صرف اس عہد کے لیے یہ آفتاب ہدایت جلوہ گر نہیں ہوا تھا یا عرب کے لوگوں کے لیے ہی نہ تھا بلکہ وآخرین منہم اور آیندہ آنے والے لوگوں کے لیے بھی۔ یہ مجرور ہے اس کا عطف امییّن پر ہے یہ معنی کہ آنحضرت ﷺ کو آپ کے عہد کے امی لوگوں کے لیے بھیجا اور ان کے سوا اوروں کے لیے بھی جو ہنوز نہیں پیدا ہوئے یا پیدا ہیں مگر ان میں نہیں ملے اور منصوب بھی ہوسکتا ہے تب اس کا عطف ضمیر منصوب پر ہوگا جو یعلمہم میں ھم ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ آپ کو بھیجا کہ ان امییوں کو کتاب و حکمت سکھائے اور ان کے سوا اوروں کو بھی جو ہنوز ان سے نہیں ملے لمایلحقوابہم۔ امام ابوحنیفہ کی بشارت : بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ابی حاتم و ابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آپ نے یہ جملہ لمایلحقوابہم پڑھا تو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں یارسول اللہ۔ آپ نے جواب نہ دیا۔ پھر سوال کیا۔ تیسرے بار سلمان فارسی ؓ پر جو ہم میں موجود تھے ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ ایمان اگر ثریا تک چلا جائے تو ان میں کے لوگ اس کو پالیں گے۔ یعنی اگر دنیا سے ایمان و خیر اٹھ کر آسمان تک بھی جا پہنچے۔ مطلب یہ کہ اس کا لینا مشکل ہوجائے تو ابنائے فارس کے لوگ اس کو حاصل کرلیں گے۔ مقصد یہ کہ آنے والے لوگوں سے غیرعرب جمیع امم مراد ہیں خواہ اہل فارس ہوں یا اہل روم اور اسی لیے آپ نے قیصر و کسریٰ وغیرہ کو دعوت اسلام کے لیے نامے لکھے (مجاہد وغیرہ سب کا یہی قول ہے) اس حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق بالخصوص اہل فارس میں سے بڑے بڑے نامور اسلام میں پیدا ہوئے جن کی مساعی جمیلہ کی اب تک امت محمدیہ مشکور ہے اور یہ بشارت امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے تلامذہ پر صادق آئی جیسا کہ جلال الدین سیوطی وغیرہ محدثین نے بھی اقرار کیا۔ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشائ۔ یہ اس کی عنایت ہے جس کو چاہے نصیب کرے۔ یہودونصاریٰ یا کسی اور کا کیا خدا تعالیٰ کو دینا آتا ہے کہ اخیر نبی اور اس کے ایسے نامور پیرو انہیں میں سے پیدا کرتا اس کی حکمتیں وہی جانتا ہے کہ کس قوم میں اس خدمت کی بجاآوری کا مادہ ہے۔ واللہ ذوالفضل العظیم اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔
Ayahs 62:2–4

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہ ہے کہ جس نے ان پڑھوں 1 ؎ میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کو اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ اور اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور دوسروں کے لیے بھی جو ہنوز ان سے نہیں ملے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے دے اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

1 ؎ ان پڑھ قوم سے مراد عرب ہے ان میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور ان کے سوا اور آیندہ آنے والی قوموں کے لیے بھی خواہ عرب کی نسلوں میں سے یا اور قوموں میں سے ہوں۔ 12 منہ
Ayahs 62:5–10

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال کہ جن پر توریت لادی گئی پھر اس کو انہوں نے اٹھایا نہیں اس گدھے کی مثال ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔ کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی کہ جس نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں کیا کرتا۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(اے محمد) ان سے جو یہودی ہوگئے ہیں کہہ دو اگر تم کو دعویٰ ہے کہ سب لوگوں کے سوا ہمیں اللہ کے پیارے ہیں تو موت کی خواہش کرو اگر تم سچے ہو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور اس کی تو وہ کبھی بھی خواہش نہ کریں گے اپنے ہاتھوں کے ان کاموں کے سبب جن کو کرچکے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ موت کہ جس سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ ضرور تم کو آ لے گی۔ پھر تم چھپی اور کھلی چیزوں کے جاننے والے کے پاس لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کیا کرتے تھے وہ تم کو بتا دے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

مسلمانو ! جب جمعہ کے روز نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کی یاد کے لیے جلدی چلو اور سودا چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم کچھ جانتے ہو۔

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ہوچکے تو زمین پر چلو پھرو اور اللہ کا فضل (روزی) ڈھونڈو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پائو۔

ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ الشرط وقیل الفاء زائدۃ وفیہ مافیہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ اس حکیم کی حکمت کاملہ کا مقتضٰیہے کہ اس نے رسول بھیجا تاکہ لوگوں کو پاک کرے اور علم و حکمت سکھائے اور یہ رسول عرب میں ظاہر کیا جو اَن پڑھ لوگ تھے۔ یہود کی قوم کو اپنے علم و خاندان کا بڑا گھمنڈ تھا (اور خاندانی آدمیوں کا جب اصلی کمال جاتا رہتا ہے تو ان میں یہی باقی رہ جایا کرتا ہے) ان کو اس نبی عربی ﷺ کے اتباع اور اس کے نور سے مستفید ہونے سے عار ہوا اور کہنے لگے کہ علم و حکمت کا خزانہ ہمارے پاس ہے۔ بڑے بڑے کتابوں کے ذخیرے ہمارے ہاں موجود ہیں۔ یہ جاہلوں کے سمجھانے کے لیے ہے نہ کہ ہمارے لیے۔ اس لیے خدا تعالیٰ اس قوم بدنصیب کی اصلی حالت بیان فرماتا ہے اور ان کے علم بےعمل کی پوری تشبیہ دیتا ہے۔ فقال مثل الذین الخ کہ ان کی مثال جن پر توریت لادی گئی یعنی اس کی پابندی کی تاکید کی گئی گویا توریت کو ان پر سوار کیا گیا یا یہ معنی کہ توریت کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے کیونکہ یہ حمل بمعنی اٹھانے کے نہیں بلکہ حمالہ بمعنی کفالہ وضمان سے ہے (یہ زمخشری کا قول ہے) اور پھر انہوں نے پوری ذمہ داری نہ کی ایک گدھے کی مثال ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوں پھر اس گدھے کو ان کتابوں سے کیا فائدہ بجز اس کے کہ ان کے بوجھ کی مشقت اٹھا رہا ہے ؎ نہ محقق بود نہ دانشمند چارپایہ برو کتابے چند یہی حال ان یہود کا ہے۔ گدھا حیوانات میں سے بالخصوص بارکش اور بدعقل جانور ہے اس لیے اس سے تشبیہ دی نہ گھوڑے خچر گاڑی چھکڑے سے۔ اور تہذیباً یہود کا نام نہ لیا بلکہ یہ فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال جن پر توریت لادی گئی ایک گدھے کی مثال ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔ اسفار اسفر کی جمع ہے اور سفر بڑی کتاب کو کہتے ہیں اس وجہ سے کہ اس کے اصلی معنی روشنی کے ہیں۔ کہتے ہیں اسفر الصبح چونکہ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو پڑھنے سننے والے کو علم کا نور اور روشنی بخشتی ہے اس لیے اس کو سفر کہنے لگے اور اس کی نظیر اشبار ہے جو شبر کی جمع ہے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جس سے علمائِ امت محمدیہ کو بھی سن کر ڈرانا چاہیے اور علم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ وہ بھی گدھے شمار ہوں گے جن پر کتابیں لدی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ بئس مثل القوم الذین کذبوابایات اللہ کہ اس قوم کی جس نے آیات اللہ کو جھٹلایا یعنی یہود بری مثل ہے۔ مثل کے برے ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ مثل بیجا اور نامناسب ہے بلکہ یہ تمثیل ٹھیک ہے اور ان پر چسپاں ہے مگر وہ بہت بری قوم ہے کہ جس کی یہ مثل ہے۔ آیات اللہ سے مراد آیات قرانیہ ہی نہیں بلکہ وہ دلائل بھی جو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور اسلام کے برحق ہونے پر دال ہیں خواہ وہ عقلیہ ہوں خواہ نقلیہ یعنی وہ بشارتیں جو ان کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی بابت مذکور ہیں جب ان پر عمل نہ کیا بلکہ ان کے برخلاف کیا تو ان کو جھٹلا دیا۔ یا یوں کہو کہ جب یہود نے توریت و صحف انبیاء کی ان ہدایات و تاکیدی احکام کو پس پشت ڈال دیا اور ان پر عمل نہ کیا تو گویا ان کو جھٹلا دیا۔ یہ بھی ایک قسم کی تکذیب ہے لسانی نہ ہو حالی سہی۔ واللہ لایہدی القوم الظالمین ایسے متعصب لوگوں کو ہدایتِ الٰہی سے حصہ نہیں ملتا ہمیشہ بدنصیبی و خسران و ضلال ہی کے گڑھے میں پڑے رہتے ہیں۔ یہود کہتے تھے کہ ہم پر یہ الزام غلط ہے کس لیے کہ ہم خدا تعالیٰ کے خاص اور پیارے بندے ہیں خواہ کچھ ہی کریں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے قل یا ایھا الذین ھادوا ان زعمتم الخ کہ اے پیغمبر یہودیوں سے کہہ دے اگر تم کو گمان ہے کہ ہم اللہ کے خاص دوست ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل ہونے کے سبب موروثی بزرگی و خلت اور دارآخرت میں جنت کے مستحق ہیں۔ تو فتمنوا الموت ان کنتم صادقین۔ موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو تاکہ تم مرنے کے بعد عیش و آرام اپنے ادعاء کے موافق پاؤ مگر دل بڑا منصف ہے اپنے اعمالِ بد کی شامت اسے معلوم ہوجاتی ہے اس لیے ولا یتمنونہ ابدًا بما قدمت ایدیھم۔ وہ اس کی ہرگز تمنا نہ کریں گے اپنے اعمالِ بد کے خوف سے۔ ملزم عدالت میں جانے سے ڈرتا ہے پاک کو کوئی خوف نہیں ہوتا نیک اور باخدا لوگ جن کو دارآخرت کے نعماء پانے کا ان کے رب کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے مرنے کے مشتاق رہا کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے عیش و آرام کو قیدخانہ کے آب و دانہ سے کم نہیں سمجھتے مگر خدا تعالیٰ کے ملزم زبان سے لاکھ لاف ماریں مرنے سے ڈرتے ہیں یہیں کی زندگی پر مرتے ہیں۔ یہیں کے سامان و اسباب پیدا کرنے کی فکر میں رہا کرتے ہیں۔ واللہ علیم بالظالمین۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ وہ بدکاروں کو ابرار کے درجے نہیں دیتا البتہ نیک نسل اپنے بزرگوں کے انعام کا حصہ پاتی ہے۔ یہود اس امتحان سے بھاگ نکلے اور موت سے ڈرتے تھے اس لیے فرماتا ہے قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم کہ کہہ دے جس موت سے تم بھاگ رہے ہو آخر وہ ایک روز تمہیں آپکڑے گی اس سے بھاگ کر کوئی کہاں جاسکتا ہے۔ ثم تردون الی عالم الغیب والشہادۃ فینبئکم بماکنتم تعملون مرنے کے بعد تم اس کے پاس پہنچائے جاؤ گے جو چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے تھے۔ ان آیات میں مسئلہ معاد بھی کس خوبی کے ساتھ بیان کردیا اور ہدایات انبیاء (علیہم السلام) سے بیخبر ہونے کا نتیجہ اور ان سے مفاخرِ آبائی کے غرور میں سرتابی کا انجام بڑے پراثر الفاظ میں ظاہر فرمایا گیا۔ فائدہ : اسلام میں انبیاء اور اولیاء زادہ ہونا بغیر ایمان و عمل صالح کے کچھ کام نہیں آتا۔ 1 ؎ ا ؎ ہنود میں برہمن ایک قوم ہے وہ بھی مدعی ہے کہ ہم برہما جی کے پوتر یعنی بیٹے ہیں۔ ہماری مکتی یعنی نجات ہر حال میں ہے۔ خیرات دو تو برہمن کو دو نیکی کرو تو برہمن سے کرو، برہمن کسی کو مارے تو اس سے بدلہ لینا روا نہیں اور قومیں کئی بار جنم لے کر یعنی تناسخ کے میدانوں میں ٹھوکریں کھا کر نجات کے لیے برہمن کے گھر جنم لیتے ہیں۔ برہمن سے نطفہ حاصل کرنا بھی فخر سمجھا جاتا تھا۔ برہمنوں میں ایک گروہ کو پروہت کہتے ہیں۔ وہ تو اب تک ہنود کے نکاح ‘ بیاہ و موت و سفر کے مالک ہیں اور مرنے کے بعد سرگ نرک (دوزخ بہشت) کی کنجی انہیں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ مردے کے وارثوں سے کہتے ہیں اس قدر دو تو سرگ میں ورنہ نرگ میں پہنچتا ہے بیچاروں کو دینا ہی پڑتا ہے۔ پھر جو چیزیں اس عالم میں مردے کو درکار ہوتی ہیں لحاف ‘ رضائی ‘ بچھونا اوڑھنا، پانی پینے کا لوٹا کٹورا وغیرہ سب پروہت جی لے کر مردے کے پاس پہنچانے کا ذمہ کرتے ہیں اگر پروہت جی کے گھر دودھ پینے کو گائے نہیں تو فرماتے ہیں گاؤ ماتا پن کرو کہ اس کی دم پکڑ کر یہ مرنے ولا نرک کی جھیل سے پار جائے۔ ہر موسم کی ترکاریاں اور میوے بھی پہنچانے کے لیے لیتے ہیں۔ ہندوستان میں جب باہر سے مسلمان آئے اور ان سے ہنود کا میل جول ہوا تو لالچی مسلمانوں کے منہ میں یہ شکار دیکھ کر پانی بھر آیا اور جو ہندو مسلمان ہوئے ان کے دل میں بھی پرانا چسکا باقی تھا۔ ان حضرات نے دیکھا کہ ہندو تو ہمارے دام میں کیوں آنے لگے۔ وہ برہمن کا شکار ہیں۔ جاہل مسلمانوں کو گھیرو پھر تو انہوں نے بھی اپنی دینیات کو انہیں رسوم کے قوالب میں ڈھالنا شروع کردیا کہ دسہرہ کے جواب میں محرم کا سانگ بنایا۔ دیوالی کے جواب میں شبرات کی روشنی اور آتشبازی نکالی، مردے کی روح نکالنے اور اشیائے مرغوب کو میت تک پہنچانے کا ملاں جی نے بیمہ کرنا شروع کیا اور اسی طرح شادی غمی کے رسوم انہیں سے ملنے لگے۔ بیوہ کا نکاح ممنوع ہوگیا۔ میت کی نعش پر سرخ دوشالہ ڈالنا بھی سیکھا پروہت کی جگہ جاہل پیر قائم ہوا۔ بوہرہ قوم میں ان کاملاں بھائی جبرئیل کو چٹھی لکھا کرتا ہے کہ اس میت کو اتنے انار اتنے کھجور کے درخت دینا۔ 12 منہ آنحضرت ﷺ نے اپنی صداقتِ الٰہیہ کے زور پر عیسائیوں سے بھی مباہلہ کیا اور یہود سے بھی مگر وہ ڈر گئے۔ بخاری اور ترمذی اور نسائی اور احمد نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر مکہ میں ابوجہل کعبے کے پاس مجھ پر حملہ کرتا (جیسا کہ وہ کہتا تھا کہ کعبہ میں پائوں تو گردن مروڑ دوں) تو سب کے روبرو اس کو فرشتے اچک لیتے اور اگر یہود موت کی تمنا کرتے تو فوراً مرجاتے اور اپنا گھر دوزخ میں دیکھ لیتے اور جو رسول اللہ ﷺ سے مباہلہ کرنے کو نکلتے تو گھر آ کر مال و اہل کچھ نہ دیکھتے۔ 1 ؎ انفضاض شکستہ شدن۔ صراع 2 ا
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جبکہ وہ لوگ تجارت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو (اکیلا) چھوڑ دیتے ہیں کہہ دو جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشا اور تجارت سے کہیں بہتر ہے اور اللہ بہتر روزی دینے والا ہے۔

ترکیب : اذا شرط من یوم من بمعنی فی ای فی یوم الجمعۃ فاسعوا جو ابہ وذروا عطف علی فاسعوا الجمعۃ بضمتین وباسکان المیم مصدر بمعنی الاجتماع فاذا قضیت شرط فانتشروا جو ابہ کثیرا ای ذکر کثیر واذ اراوا شرط انفضوا جو ابہ وترکوا معطوف علیہ قائمًا حال من المفعول فی ترکوک ما موصولۃ عنداللہ صلۃ خیر خبر للموصول والصلۃ۔ تفسیر : یہود پر تین زجرو توبیخ ہوئیں۔ اول جب انہوں نے اپنے علم و فضل کا فخر کیا اور عرب اور آنحضرت ﷺ کو جاہل قرار دیا تو ان کو گدھے سے تشبیہ دی اور جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے سبب خدا تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر اور خاص دوست ہیں دار آخرت کی نعماء ہمارے لیے تیار ہیں تو ان کی تکذیب کی اور فرمایا کہ اگر سچے ہو تو موت کی آرزو کرو وہ چیزیں تمہیں تیار ملیں۔ تیسرا ان کا ایک اور فخر تھا کہ خدا نے ہمارے دین میں سبت (ہفتے کا دن) رکھا ہے جس کی تعظیم و حرمت ہم پر واجب ہے اور اس میں بڑے برکات ہمارے لیے ہیں مسلمانوں کے لیے یہ نعمت نہیں۔ اس تفاخر کے مقابلے میں یا اس کی جگہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن مقرر کرتا ہے جو ہفتہ اور اتوار سے بھی مقدم ہے اس لیے اس دن کی خاص عبادت کے لیے حکم دیتا ہے۔ فقال یا ایھا الذین آمنوا الی قولہ ان کنتم تعلمون۔ کہ اے ایماندارو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اس کی طرف چلو اور جا کر یادالٰہی کرو اور سوداگری یا اور کوئی دنیاوی کام ہو اس کو چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ کس لیے کہ دنیا اور اس کے نعماء جن کے حاصل کرنے میں تم سرگرمی اور کوشش کرتے ہو فانی ہیں تم کیا یہاں سدا رہو گے اور کیا تمہارے کام یہ چیزیں ہمیشہ آئیں گی ؟ جہاں تمہیں جانا اور وہاں جا کر سدا رہنا ہے اس کے لیے کوشش کرنا بہتر ہے اور منجملہ ان کے جمعہ کے لیے چلنا اور تیار ہونا اور کاردنیاویہ کو چھوڑ دینا ہے۔ مباحث۔ (1) فضائل جمعہ : فضائل جمعہ احادیث صحیحہ میں بکثرت وارد ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم پچھلے ہیں مگر قیامت میں سب سے آگے رہیں گے۔ یہی بات ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب ملی اور ہم کو بعد میں، پھر یہ دن جمعہ کا ان پر فرض ہوا وہ اس میں جھگڑے اللہ نے ہم کو بتا دیا۔ سب لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں یہود اس کے ایک روز بعد نصاریٰ ان کے ایک دن بعد 1 ؎ (متفق علیہ) نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ سب دنوں سے جمعہ افضل ہے۔ اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں گئے، اسی دن وہاں سے نکلے، اسی دن قیامت ہوگی (رواہ مسلم) آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے روز ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جو کچھ بندہ اس ساعت میں مانگتا ہے پاتا ہے (متفق علیہ) ۔ مسلم کی روایت میں جوابی بردہ ؓ سے ہے وہ ساعت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز تمام کرنے تک کے زمانے میں ہے۔ اور ترمذی اور ابودائود اور نسائی اور احمد (رح) کی روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حسب قول عبداللہ بن سلام ؓ وہ ساعت آخر ساعت ہے یعنی غروب کے قریب تک عصر سے لے کر۔ ابودائود و نسائی وغیرہ نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں یہ دن تمہارے سب دنوں سے افضل ہے اس دن مجھ پر درود بھیجو کہ وہ میرے سامنے لایا جاتا ہے۔ (2) احکام جمعہ : (1) یہ نماز ہر مسلمان عاقل بالغ غیرمعدوز پر واجب ہے۔ مگر علماء نے احادیثِ آثار میں غور کر کے اس نماز کے وجوب کے لیے بارہ شرطیں قائم کی ہیں چھ خاص پڑھنے والے کے لیے، وہ یہ ہیں : حریۃ یعنی آزاد ہو کسی کا غلام نہ ہو کس لیے کہ وہ بیگانہ تابعدار معذور ہے۔ ذکورۃ یعنی مرد ہو عورت پر واجب نہیں۔ اقامۃ یعنی مقیم ہو مسافر نہ ہو کس لیے کہ مسافر پر واجب نہیں۔ صحت تندرستی کس لیے کہ بیمار پر واجب نہیں۔ سلامۃ الرجلین یعنی پائوں ہوں لنگڑا اپاہج نہ ہو کس لیے کہ اس پر بھی واجب نہیں۔ سالمۃ البصر بینا ہو کس لیے کہ اندھے پر واجب نہیں۔ بعض کہتے ہیں جب اندھے کو لے جانے والا ہو اس پر بھی واجب ہے۔ اور چھ دوسرے شروط ہیں۔ مصر جامع کہ شہر ہو جس میں بازار وغیرہ ہوں کس لیے کہ دیہات میں جمعہ واجب نہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں یہ شرط ثابت نہیں بلکہ جس بستی میں چالیس آدمی جمعہ میں آسکتے ہوں وہاں جمعہ واجب ہے۔ اور یہی امام احمد بن حنبل (رح) کا قول ہے۔ اور امام مالک (رح) کہتے ہیں کہ چالیس سے بھی کم ہوں تو بھی واجب ہے۔ سلطان یا اس کا نائب منتظم بھی ہو۔ اس شرط میں بھی دیگر آئمہ کو کلام ہے۔ جماعت، اگر جماعت میسر نہ آئے تو جمعہ واجب نہیں۔ امام اعظم (رح) کے نزدیک کم از کم امام کے سوا تین آدمی اور ہوں تو جماعت ہوجائے گی۔ صاحبین کہتے ہیں امام کے سوا دو اور ہوں تو کافی ہے۔ وقت، ظہر کے وقت پر ہونا چاہیے ظہر کے وقت سے پہلے یا اس کے بعد جمعہ نہ ہوگا۔ مگر حنبلیوں کے نزدیک زوال سے پہلے بھی جمعہ پڑھنا جائز ہے۔ احادیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اول وقت جمعہ پڑھا۔ اس کو دیواروں کے سایہ دیکھ کر بعض نے زوال کا وقت سمجھ لیا ہوگا۔ اظہار یعنی مخفی اور پوشیدگی کی حالت میں جمعہ نہیں، شہرت اور اذن عام ہونا چاہیے۔ خطبہ بھی ہونا نماز سے پہلے شرط ہے۔ اگر خطبہ نہ ہوگا جمعہ صحیح نہ ہوگا (ملخص ازہدایہ وشروحہ ومن دارالحکام) باقی طہارت مصلی وغیرہ اور نماز کی سب شرطیں ہیں۔ جب یہ شروط پائی جائیں تو جمعہ واجب و فرض ہے اس کا ترک کرنے والا گنہگار ہے۔ نبی ﷺ منبر پر چڑھے ہوئے فرماتے تھے کہ لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آئیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر کر دے گا کہ وہ غافل ہوجائیں گے۔ (رواہ مسلم) نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو سستی سے تین جمعے ترک کر دے گا اللہ اس کے دل پر مہر کر دے گا (رواہ ابودائود و النسائی والترمذی وابن ماجہ والدارمی ومالک و احمد) نبی ﷺ نے فرمایا میں نے قصد کیا تھا کہ کسی کو جمعہ پڑھانے کے لیے کہوں پھر دیکھوں جو شریک نہیں ہوتے ان کے گھروں میں آگ لگا دوں (رواہ مسلم) نبی ﷺ نے فرمایا جمعہ حق اور واجب ہے ہر مسلمان پر واجب کے ساتھ مگر چار شخص غلام، عورت، لڑکے، بیمار پر نہیں۔ (رواہ ابودائود) (2) مسنون یہ ہے کہ جمعہ کے روز غسل کرے اچھے اور صاف کپڑے پہنے، خوشبو لگائے اور جب اول اذان ہو تو خریدو فروخت سب کاروبار بند کر دے اور مسجد میں جا کر جہاں جگہ ملے چار رکعت سنت پڑھے، پھر جب امام منبر پر چڑھے اور اذان ثانی شروع ہو تو بات چیت بند کر دے اور نوافل و سنن بھی نہ پڑھے متوجہ ہو کر خطبہ سنے۔ امام خطبہ منبر پر خطبہ کھڑا ہو کر پڑھے اور بیچ میں تھوڑی دیر بیٹھ جائے پھر شروع کرے، خطبہ میں خدا کی حمدوثناء اور پیغمبر (علیہ السلام) پر درود کے بعد وعظ و پند اور احکامِ الٰہی کی تعلیم و ترغیب ہو۔ راگنی میں نہ ہو صاف اور سادی وضع پر ہو اور خطیب لباس مسنون پہنے ہاتھ میں عصا لیے اس پر سہارا کیے ہو۔ خطبہ عربی زبان میں ہو اور جو قوم بالکل نہ سمجھے ان کو ترجمہ کر کے سمجھا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خطبہ کے بعد امام منبر سے اتر آئے اور اقامت کے بعد دو رکعت نماز پڑھائے۔ پکار کر نماز میں الحمد اور اس کے ساتھ اور سورة یا آیات قرآنیہ پڑھے۔ سلام کے بعد چار رکعت 1 ؎ اور پھر دو رکعت یا صرف چار علیٰ حسب اختلاف الروایات اور بھی ہر ایک جداگانہ پڑھے، یہ مسنون ہے واجب نہیں 2 ؎۔ جمعہ کی نماز سے ظہر کے چار فرض ساقط ہوجاتے ہیں اور مسافر وغیرہ جو جمعہ میں شریک ہوجائیں تو ان سے بھی ظہر کی نماز ساقط ہوجاتی ہے اور جو کوئی بلاعذر شریک نہ ہو گو شریک نہ ہونے سے گناہگار ہوگا مگر وہ ظہر پڑھے لیکن جماعت نہ کرے۔ جمعہ سے پہلے اور نماز کے بعد کاروبار دنیاویہ کی ممانعت نہیں۔ ہاں جو اس تمام روز متبرک میں خیرات اور عبادت کے لیے تعطیل کرے تو بڑی برکت ہوگی۔ (3) جمعہ کو اس لیے جمعہ کہتے ہیں کہ اس دن لوگ نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ جس سے سب سے اول اس دن کا نام جمعہ 3 ؎ رکھا ہے بعض کے نزدیک کعب بن لوی ہے اور عرب پہلے اس دن کو عروبہ کہا کرتے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق انصار نے ہجرت سے پہلے جمع ہونے کا اور مل کر عبادت کرنے کا یہ دن مقرر کیا تھا اس لیے کہ ہفتہ یہود کے لیے، اتوار نصاریٰ کے لیے تھا۔ تب وہ سعد بن زرارہ ؓ کے پاس جمع ہوئے اس نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور اس سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں وعظ و نصائح تھے تب سے اس دن کا نام جمعہ قرار پا گیا۔ یہ پہلا جمعہ اسلام میں ہوا جب ہجرت کر کے نبی ﷺ مدینے تشریف لائے اور قبا میں بنی عمرو بن عوف کے ہاں اترے اور پیر اور منگل اور بدھ اور جمعرات کے روز وہیں رہے اور مسجد کی بنیاد ڈالی پھر جمعہ کے روز وہیں رہے اور مسجد کی بنیاد ڈالی پھر جمعہ کے روز نکلے مدینے میں آنے لیے تو آپ نے جمعہ بنی سالم ابن عوف میں پڑھا خطبہ پڑھ کر نماز پڑھائی۔ یہ آنحضرت ﷺ کا پہلا جمعہ تھا۔ یہاں تک کہ جمعہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اذانودی الصلوٰۃ من یوم الجمعۃ کہ جب جمعہ کے روز نماز کے لیے آواز دی جائے 1 ؎ اس سے مراد وہ اذان ہے جب امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتا ہے اس و قت دی جاتی ہے کس لیے کہ آنحضرت ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے عہد تک صرف یہی ایک اذان تھی مگر عثمان ؓ کے عہد میں جب آبادی بڑھ گئی اور لوگ زیادہ ہوگئے اور یہ اذان کافی نہ سمجھی گئی تو حکم دیا کہ اس سے پہلے ایک اور اذان دیا کرو جو ان کے مکان پر دی جاتی تھی جس کو زوراء کہتے تھے اس کو سن کر لوگ نماز کے لیے آنے لگتے تھے۔ پھر جب سب جمع ہوجاتے تھے تو امام جب منبر پر بیٹھتا تھا تو دوسری اذان بدستور ہوتی تھی۔ گویہ حضرت عثمان ؓ کا فعل تھا مگر آنحضرت ﷺ نے فرما دیا تھا کہ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی کہ میرے طریقے کو اور میرے سچے جانشینوں کے طریقے کو لازم پکڑو اس لیے یہ بھی مسنون ہوگئی اور اس وقت صحابہ ؓ میں سے کسی نے اس میں کلام نہ کیا تو آج تک یہ دستور چلا آیا۔ اس پہلی اذان سننے سے بھی نماز جمعہ کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ 1 ؎ اسلام نے عبادات میں بھی قوت اجتماعیہ ملحوظ رکھی ہے نماز یا جماعت جس میں مسلمانوں کو پانچ وقت میل جول ‘ محبت ‘ ہمدردی کا موقع ملتا ہے۔ جمعہ میں شہر بھر کے مسلمانوں کا مجمع ہے خطیب کو قومی مصالح کی تعلیم اور وعظ و پند کا موقع ہے اسی طرح عیدین میں اور حج میں تمام ملکوں کے مسلمان باہم مل جل سکتے ہیں سب ایک مشورت و تدبیر سے مطلع ہوسکتے ہیں مگر افسوس ہم نے ان باتوں سے برکات حاصل کرنا چھوڑ دیا۔ مجموعی عبادت میں انکار کا انعکاس اور جماعت خدا پرستوں کا غلبہ و شوکت بھی غیرجماعتوں پر اثرڈالنے والی چیز ہے اب جمعہ کو سبت اور اتوار سے مقابلہ کیجئے کہ بجز اس کے کہ تمام دن بازار و کاربند کر کے آرام کرو اور کیا ہے توریت میں سبت کے دن کوئی نماز نہیں ہاں بعد میں بنا لی ہو تو خیر ‘ جمعہ میں پوری سبت کی اصلاح ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی سبت کے دن بعض کام کر کے معطل رہنے کی رسم کو اٹھانا چاہا تھا مگر یہود نے بڑا نر غہ کیا آنے والے مصلح پر تقدیر نے اس کو بھی چھوڑ دیا۔ 12 منہ اس لیے علمائِ احناف فرماتے ہیں کہ اس اذان سننے کے بعد بیع و شرائ ‘ کاروبار دنیاوی ممنوع ہیں۔ فاسعوا الی ذکر اللہ تو ذکر اللہ یعنی خطبہ اور نماز کے لیے چلو۔ ذکر اللہ سے دونوں چیزیں مراد ہیں خطبہ اور نماز۔ بعض کہتے ہیں نماز، بعض کہتے ہیں خطبہ۔ اور سعی سے مراد دوڑنا بھاگنا نہیں کہ دوڑ بھاگ کر آؤ بلکہ چلنا اور قصد کرنا اور کوشش کرنا۔ کمافی قولہ وان لیس للانسان الاماسعی ‘ ولمابلغ معہ السعی۔ غسل کرنا۔ کپڑے پہننا بھی اس سعی میں داخل ہے۔ وذروالبیع اور خریدوفروخت چھوڑ دو ۔ مراد کاروبار دنیاوی ہیں چونکہ اس دن لوگ اس کار میں زیادہ مصروف رہتے تھے اس لیے اس کا ذکر کیا۔ اذان سننے کے بعد خریدوفروخت حرام ہے۔ کشاف میں ہے کہ عامۃ علماء کے نزدیک باوجود ممنوع ہونے کے جو کوئی بیع کرے گا تو یہ فاسد نہ ہوگی کس لیے کہ حرمۃ لعینہ نہیں بلکہ نماز سے روکنے کے لیے ہے چناچہ اذان سن کر چلتے ہوئے جو کوئی رستہ میں بیع و شراء کرے اس میں کچھ بھی قباحت نہیں۔ امام مالک (رح) کہتے ہیں بیع فاسد ہوگی۔ وذلکم خیرلکم ان کنتم تعلمون اس وقت خریدوفروخت چھوڑنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں علم ہے کس لیے کہ دنیا فانیہ کی تجارت سے آخرت باقیہ کی تجارت بہرحال بہتر ہے۔ فاذاقضیت الصلوٰۃ فانتشروافی الارض وابتغوا من فضل اللہ اور جب نماز سے فارغ ہو چکو تو زمین پر چلو پھرو اور اللہ کے فضل و رزق روزی کی تلاش کرو۔ فضل اللہ سے مراد روزی ہے۔ یہ حکم وجوبی نہیں بلکہ پہلے جو ممانعت کی تھی اس کی اجازت ہے واذکروا اللہ کثیرًا لعلکم تفلحون۔ اور صرف روزی ہی کی تلاش میں بےہوش نہ ہوجاؤ بلکہ اللہ کو یاد کرو تاکہ فلاح پائو۔ تسبیح وتحمید استغفار و ذکر قلبی و لسانی سے ہر حال میں اللہ کو نہ بھولو۔ دست بکار دل بیار رہے۔ نماز کے باہر بھی ذکر الٰہی جاری رہے۔ بخاری و مسلم وغیرہما نے جابر بن عبداللہ ؓ سے نقل کیا کہ ایک وقت نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہوئے خطبہ پڑھا ہی تھا کہ مدینے کا کاررواں آیا (شام سے غلہ لے کر آیا اور دن قحط سالی کے تھے اور اس کی ڈگڈگی بجی) تو لوگ اس کے دیکھنے کو چلنے لگے یہاں تک کہ بارہ آدمی رہ گئے کہ جن میں میں اور ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے۔ تب یہ آیات 1 ؎ نازل ہوئیں واذا راوا تجارۃ اولہوًا انفضوا الیہا 2 ؎ کہ جب تجارت یا لہو یعنی ڈھونڈی پٹتی دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ وترکوک قائما اور تجھے اے نبی ! کھڑا چھوڑ جاتے ہیں شاید اس وقت خطبہ عیدین کی طرح بعد میں تھا یہ سمجھے کہ نماز تو ہوچکی قل ماعنداللہ خیرمن اللہ وومن التجارۃ۔ کہہ دے جو کچھ اللہ کے پاس ہے ثواب اور آخرت کی نعمتیں جو خطبہ اور نماز سے حاصل ہیں وہ لہو ڈگڈگی کی آواز اور تجارت سے بہتر ہیں کس لیے کہ وہ نعمائِ باقیہ ہیں پھر عمدہ چیز چھوڑ کر بری کی طرف دوڑنا کونسی عقل مندی ہے۔ واللہ خیرالرازقین۔ اللہ بہتر ہے روزی دینے والوں سے۔ دراصل وہی روزی دیتا ہے ‘ تجارت زراعت نہ نوکری۔ 1 ؎ وقبل الجمعتہ اربع بلا خلاف وبعد ہا اربع سلیمۃ و عندابی یوسف (رح) بعد الجمعہ یصلی اربعا وبعدہ رکعتین متسلیمتین وبہ اخذ الطحاوی و اکثر المشائخ مناوبہ یعمل الیوم 2 ا (مجمع الانہر) یعنی چار رکعت جمعہ کے پہلے بلا خلاف اور چار اس کے بعد ایک سلام سے ابو یوسف (رح) کے نزدیک بعد جمعہ کے چھ رکعت ہیں۔ چار رکعت پڑھ کر دو اور پڑھے۔ 2 ا منہ 2 ؎ امام احمد جنبل (رح) کے نزدیک اول جمعہ کی کوئی تعداد نوافل کی مخصوص نہیں اور بعد میں اول دو رکعت ہیں لانہ (علیہ السلام) کان یصلی بعد الجمعۃ رکعتین متفق علیہ اور زیادہ چھ کمارواہ ابو دائود۔ 2 امنہ 3 ؎ کعبہ کے عہد میں اسلام نہ تھا اس نے اس دن کا نام جمعہ شاید یوں رکھا ہوگا کہ اس دن بازار لگتا ہوگا جس میں خریدو فروخت کے لیے جمع ہوتے ہوں گے۔ ا ؎ یہود ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اس دن کاروبار دنیاوی ان کے ہاں حرام ہے۔ نصاریٰ کے نزدیک اتوار کے دن کی تعظیم ہے۔ وہ کہتے ہیں اس دن حضرت مسیح (علیہ السلام) قبر سے اٹھ کر آسمان پر گئے اور لوگوں کو دکھائی دیے۔ ہنود بھی اتوار کو مانتے ہیں۔ 12 منہ 1 ؎ ایک بار کے معاملہ پر تو ییخاً بولا گیا قتادہ کہتے ہیں تین بار ایسا کیا گیا تین بار قافلہ آیا اور لوگوں نے ایسا کیا۔ کشاف 12 منہ 2 ؎ واذا الخ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک نکاح میں جب لونڈیاں گانے بجانے لگیں لوگ خطبہ میں سے اٹھ کر چلنے لگے اور ایک بار قافلہ کے لیے چل دیے تو دونوں معاملوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ لہو سے مراد لونڈیوں کا گانا بجانا تجارت سے قافلہ۔ 12 منہ