63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 63:1–3

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تو جانتا ہی ہے کہ آپ ضرور اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافق جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو آڑ بنا رکھا ہے پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یہ) بہت ہی برا کر رہے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ (ظاہر میں) ایمان لائے پھر منکر ہوگئے پھر ان کے دلوں پر مہر کردی گئی جس لیے وہ سمجھتے ہی نہیں

ترکیب : اذا شرط قالوا جو ابہ وقیل محذوف وقالوا حال ای جائوک قائلین کیت وکیت فلاتقبل منھم وقیل جو ابہ اتخذوا فیہ مافیہ۔ واللہ یعلم الخ جملہ معترضۃ مقررۃ لمضمون ماقبلھا وھو الشہادۃ باللسان مع الانکار فی القلب اتخذو الخ الجملۃ مستانفۃ لبیان کذبھم و حلفھم علیہ۔ ایمانہم عند الجمھور بفتح الھمزۃ جمع الیمین وقریٔ بکسرہا والجنۃ الترس ‘ سپر۔ ساء ھھنا بمعنی بئس فی افادۃ الذم فطبع قرء الجمھور مبنیا للمفعول وقریٔ مبنیا للفاعل واذارایتھم شرط تعجبک جو ابہ وان یقولوا شرط تسمع جو ابہ وقریٔ یسمع علی البناء للمفعول مسندۃ من الاسنا دبمعنی الامالۃ والتشدید للمبالغۃ وقریٔ خشب بضمتین وقریٔ باسکان الشین وقری بفتحتین۔ کانھم خشب مسندۃ فی خبر الرفع علی انہ خبر مبتداء محذوف… مستائف لا محل لہ۔ وقریٔ خشب علی انہ جمع خشبۃ کبدن جمع بدنۃ و قیل جمع خشبا وھی الخشبۃ المجوفۃ وقریٔ بالتثقیل۔ تفسیر : یہ سورة بھی مدینے میں نازل ہوئی۔ ابن عباس ؓ وغیرہ اکثر اسی کے قائل ہیں۔ جمعہ کی نماز میں اول رکعت میں نبی ﷺ سورة جمعہ پڑھتے تھے۔ ایمانداروں کو بیدار و ہوشیار کرنے کے لیے اور دوسری رکعت میں اس سورة کو پڑھتے تھے۔ منافقوں کی سرزنش کے لیے (اس مضمون کو سعید بن منصور نے اور اوسط میں طبرانی نے نقل کیا ہے) ۔ بخاری اور مسلم وغیرہما (رح) نے زید بن ارقم صحابی ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے تو وہاں لوگوں کو تکلیف پہنچی (بھوک پیاس کی) اور بخاری وغیرہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو کسی بات میں خفا ہو کر تھپڑ مار دیا تھا۔ انصار نے مدد کے لیے انصار کو پکارا اور مہاجر نے مہاجرین کو اور اس وقت مہاجر تھوڑے اور انصار بہت تھے۔ آنحضرت ﷺ نے سن کر فرمایا کہ کیا گندی بات ہے۔ بات گئی گزری ہوئی (مگر عبداللہ بن ابی انصار میں برا شخص تھا اور آنحضرت ﷺ کے مدینے تشریف لانے سے پہلے اسی کی سرداری کی پگڑی بندھنے والی تھی جو آپ کے آنے سے خاک میں مل گئی اس کے دل میں آنحضرت ﷺ اور مہاجرین کی عداوت تھی اور منافقوں کا سردار تھا) اس نے کہا کیا مہاجر نے ایسا کیا ہے تب تو اس کو دلی بغض نکالنے کا موقع مل گیا۔ جوش میں آ کر کہنے لگا کہ ہمارے ٹکڑے کھا کر ان لوگوں کو یہ دن لگے ہیں بخدا مدینہ پہنچ کر ہم شہر کے رئیس ان ذلیل پردیسیوں کو نکال دیں گے اور لوگوں سے کہا کہ جو اس نبی کے پاس ہیں یعنی مہاجرین ان کو آیندہ سے کچھ دیا لیا نہ کرو، پریشان ہو کر بھوک کے مارے آپ بھاگ جائیں گے۔ بات زید ؓ کہتے ہیں میں نے سن لی اور میں نے اپنے چچا (طبرانی کے نزدیک چچا سے مراد سعد بن عبادہ ؓ ہے جو قوم خزرج کا سردار تھا) یا عمر ؓ سے ذکر کردیا انہوں نے آنحضرت ﷺ سے جا کہا۔ آپ نے مجھے بلا کر پوچھا میں نے صاف صاف کہہ دیا پھر عبداللہ بن ابی سردار منافقین کو بلا کر پوچھا اس نے انکار کردیا اور قسمیں کھانے لگا اور بڑی باتیں اخلاص مندی کی کرنے لگا۔ زید ؓ کہتے ہیں لوگوں نے مجھے جھوٹا سمجھ کر بڑی ملامت کرنی شروع کی۔ یہاں تک کہ میں شرمندگی کے مارے گھر میں بیٹھ رہا مگر خدا تعالیٰ سے امید تھی کہ قرآن میں میری بابت کوئی بات ضرور نازل فرمائے گا۔ پھر جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا۔ زید خدا نے تجھے سچا کردیا (خلاصۃ الروایات) یہ ہے ان آیات کا شان نزول۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ منافقوں کے اس قول کو بھی نقل کرتا ہے اور پھر ان کے قسمیں کھانے اور اخلاص ظاہر کر کے جان بچانے کا بھی حال بیان فرماتا ہے مگر شان الہامی اور رحمت خدائی یہ ہے کہ کسی کا نام نہیں لیا جاتا۔ فرماتا ہے اذاجاءک المنافقوں قالوانشہد انک لرسول اللہ جبکہ آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اے محمد ﷺ ! اللہ کا رسول ہے۔ منافق شرع میں اس کو کہتے ہیں جو بظاہر مسلمان اور درپردہ کافر ہو۔ وہ عنداللہ بھی کافر ہے گو شرع ظاہر ہے اسلام کے ظاہری احکام میں شریک ہے۔ اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ میراث کا حصہ بھی پائے گا لیکن مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور جس کا ظاہر کچھ ہو باطن کچھ ہو اس کو بھی منافق کہتے ہیں مگر حقیقی منافق نہیں۔ اسی طرح جس میں منافقوں کے عادات ہوں، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا، گالی بکنا، نماز میں سستی کرنا وہ حقیقی منافق نہیں بشرطیکہ دل میں کلمہ کی تصدیق ہے مگر ان بری عادتوں کے سبب گنہگار اور نفاق کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ مدینے میں ابتدائِ اسلام کے وقت چند لوگ ایسے تھے جن کا سردار عبداللہ بن ابی تھا۔ وہ اور اس کا گروہ آپ کے سامنے آ کر ایسی گواہی دیتے تھے۔ واللہ یعلم انک لرسولہ فرماتا ہے ان کی گواہی پر وقوف نہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ تو اس کا اے محمد ﷺ رسول ہے۔ یعلم اللہ کا لفظ عرب کے محاورہ میں قسم میں بھی مستعمل ہوتا ہے تب اس جملہ میں قسم سے تاکید اور زیادہ ہوجائے گی۔ مگر ان کی گواہی دل سے نہیں اور گواہی میں دل اور زبان کا موافق ہونا ضرور ہے اگر دونوں موافق نہیں تو وہ شہادت جھوٹی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، واللہ یشہدان المنافقین لکاذبون کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق اپنی شہادت میں ضرور جھوٹے ہیں۔ نہ اس کہنے میں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ یہ خبر تو صادق ہے واقع کے مطابق ہے۔ اور خبر کے صدق و کذب کا اسی پر مدار ہے اگر واقع کے مطابق ہے تو صادق ورنہ کاذب۔ مخبر کے اعتقاد کا اعتبار جمہور کے نزدیک نہیں مگر جاحظ کہتا ہے کہ جس طرح شہادت کے سچے ہونے میں واقع سے مطابق ہونے کے ساتھ اعتقاد سے مطابق ہونا بھی شرط ہے اسی طرح خبر میں بھی کس لیے کہ شہادت بھی خبر ہے۔ ہائل موکد ہے چونکہ ان کی خبر اعتقاد کے مطابق نہ تھی گو واقع کے مطابق تھی اس لیے ان کو خدائے پاک نے جھوٹا کہا۔ بعض کہتے ہیں خدا نے جو انہیں اس سچی بات کے کہنے میں جھوٹا کہا تو اس کے یہ معنی کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹے ہیں کس لیے کہ وہ انک لرسول اللہ کو جھوٹ جانتے تھے نہ یہ کہ وہ دراصل جھوٹے تھے کس لیے کہ بات تو سچی تھی اشہد اور نشہدیا اس کا ترجمہ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یمین اور حلف ہے۔ کچھ قسم کھا کر کہنے پر موقوف نہیں۔ 1 ؎ 1 ؎ جمہور کے نزدیک خبر کا سچا اور جھوٹا ہونا واقع سے مطابق ہونے نہ ہونے پر منحصر ہے آیت میں خبر میں کاذب نہیں فرمایا بلکہ شہادت میں جن کو وہ اشھد اور ان اور ل سے مؤکد کرکے ادا کرتے تھے یا کاذب اپنے اعتقاد میں یا اس قول میں نہیں بلکہ وہ جو کہتے تھے کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ مہاجروں کو نہ دو اور مدینے سے نکال دو اس میں جھوٹے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ بات ضرور کہی ہے۔ نظام معتزلی کہتا ہے خبر کے صدق و کذب کا مدا صرف اعتقاد پر ہے اگر اعتقاد کے موافق خبر دی جائے تو سچ گو واقع کے مطابق نہ ہو اسی طرح اگر اعتقاد کے موافق نہیں گو واقع کے مطابق ہے وہ خبر جھوٹی ہے جیسا کہ اس آیت میں خدا نے منافقوں کی خبر انک رسول اللہ کو جھوٹا کہہ دیا اعتقاد کے مطابق نہ ہونے کے سبب گو واقع سے مطابق بھی جاحظ دونوں کی مطابقت صدق میں اور دونوں کی عدم مطابقت کذب میں معتبر جانتا ہے۔ اس کے نزدیک بھی آیت میں جو منافقوں کو انک لرسول اللہ کہتے میں کاذب کہا اس لیے اعتقاد کے مطابق خبر نہ تھی۔ 12 پھر فرماتا ہے کہ یہ جھوٹی قسمیں اس لیے کھاتے ہیں، اتخذوا ایمانہم جنۃ فصدواعن سبیل اللہ کہ اپنی قسموں کو آڑ بنا رکھا ہے الزام سے بچنے کے لیے پھر وہ اللہ کے رستے سے روکتے ہیں یا خود رک گئے۔ ایمان یمین کی جمع، یمین کے لغت میں معنی قوۃ کے ہیں اور شرع میں اس کلام کو کہتے ہیں جس کو حلف اور قسم سے قوی کیا جائے خواہ لفظ اللہ یا اس کے کسی اور نام یا صفات سے صادر ہو جیسا کہ عربی میں باللہ تاللہ بالرحمن بالرحیم بعزۃ اللہ وجلالہ کہہ کر کوئی بات کہے۔ اردو میں خدا کی یا اللہ کی قسم یا اس کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں۔ ان الفاظ سے جو کہے۔ پھر یمین کی تین قسمیں ہیں۔ اول یمین غموس جو کسی گزشتہ بات پر ایسی قسم کھا کر کہے اور مقصود جھوٹ کہنا ہو کہ واللہ یہ بات یوں تھی۔ اور جانتا ہے کہ یوں نہ تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا جو جھوٹی قسم کھائے اللہ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ اس کا بجز توبہ و استغفار کے اور کوئی کفارہ نہیں۔ منافق بھی یمین غموس میں مبتلا تھے۔ اس سورة میں آگے ان کے لیے استغفار ہی کی تاکید ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کفارہ دے۔ دوم یمین منعقدہ کہ آیندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائے کہ واللہ یوں کروں گا یا بخدا ایسا نہ کروں گا اس کے خلاف کرنے میں کفارہ ہے۔ سوم یمین لغو کہ کسی گزشتہ بات کی قسم کھا کر خلاف خبر دی مگر یہ اس کو خلاف نہیں جانتا (یا یوں ہی بلاقصد واللہ باللہ کہہ دے جیسا کہ بات بات پر عوام واللہ باللہ کہا کرتے ہیں۔ اس میں کفارہ نہیں مگر ایسی قسم بھی نہ کھانا چاہیے۔ ) الشافعی۔ ابو محمد عبد الحق
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) تو ان کو دیکھے تو تجھے (ان کے ڈیل 3 ؎ ڈول) بھلے معلوم ہوں۔ اور اگر وہ کچھ کہیں تو ان کی بات سنے گویا کہ وہ دیوار کے سہارے لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں ہر ایک آواز 4 ؎ کو اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں وہی دشمن ہیں پس ان سے بچتے رہو انہیں اللہ کی مار کہ بہکے چلے جاتے ہیں۔

3 ؎ کھوکھلے 4 ؎ جب کوئی چیخے تو جانتے ہیں ہم پر بلا آئی۔
Ayahs 63:5–7

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ لو آؤ رسول اللہ تم کو معاف کرائیں تو اپنے سر ہلانے لگتے ہیں اور آپ ان کو روکے ہوئے اور متکبر بنے ہوئے دیکھو گے۔

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

برابر ہے خواہ آپ ان کے لیے معافی مانگیں یا نہ مانگیں اللہ ان کو ہرگز بخشے گا ہی نہیں ‘ بیشک اللہ بدکار قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

(یہ) وہی تو ہیں کہ جنہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ رسول کے پاس رہتے ہیں ان کو مت دیا کرو یہاں تک کہ تتر بتر ہوجائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنے خزانے ہیں سب اللہ ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے۔

ترکیب : واذا قیل مجزوم لو قوعہ فی جواب الامر ای تعالوا لو وا جواب الشرط۔ وھم مستکبرون الجملہ حال من فاعل یعبدون ورایت لو کان من الرویۃ البصرۃ فیصدون حال والا فھو مفعول ثان حتی ینفضوا قراء الجمہور من الانفضاض وھو التفرق وقری ینفضوامن انفض القوم اذا اغنیت ازوادھم تفسیر : فرمایا تھا کہ اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس لوگوں کو اللہ کے رستہ جہاد ‘ ایمان ‘ اعمال صالحہ سے روکتے ہیں دلوں میں شبہ ڈالوا کر اور اسلام میں جھوٹے عیب و اتہام لگا کر اور جو ان کا یہ جرم کسی نے ظاہر کردیا تو قسمیں کھا کر سزا سے بچ گئے۔ یہ دستور کر رکھا ہے۔ لیکن ساء ما کانوا یعملون یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب ان کے اس جرم کے ارتکاب کا سبب بیان فرماتا ہے۔ ذلک بانہم آمنوا ثم کفروا۔ کہ وہ زبان سے ایمان لائے پر دل سے منکر ہوگئے یا یوں کہو کہ اول ایمان لائے پھر آنحضرت ﷺ کی عداوت میں کافر و مرتد دل میں ہوگئے فطبع علی قلوبھم پھر تو ان کے دلوں پر مہر ہوگئی۔ فہم لا یفقہون پھر کچھ نہیں سمجھتے حق و باطل میں امتیاز نہ رہا۔ اب اس کے بعد ان کے ظاہر حالات بیان فرماتا ہے۔ واذا راتھم تعحبک اجسامہم کہ بڑے چپڑے چکنے ڈول ذیل کے خوبصورت بھلے بھانس معلوم ہوتے ہیں کہ دیکھنے سے بھلے معلوم ہوں یا تعجب ہو۔ وان یقولوا تسمع لقولھم اور خوش بیان چرب زبان بھی ہیں کہ مجلس میں بات کریں تو ان کی بات کان لگا کر دھیان سے سنی جائے۔ مگر یہ ظاہر ڈھول ہے اندر سے خالی ہیں۔ کانھم خشب مسندہ گویا وہ دیوار سے لگی ہوئی لکڑیاں ہیں۔ تشبیہ اس بات میں ہی کہ خشک لکڑی جب جلنے کے سوا اور کسی کام میں نہیں لائی جاتی نہ عمارت میں نہ کسی چیز کے بننے میں تو اس کو دیوار کے سہارے کھڑا کردیتے ہیں انہیں خود کھڑے ہونے کی بھی طاقت نہیں۔ یہی حال ان منافقوں کا ہی ہے۔ نکمے ہیں ‘ دل خالی ہیں۔ خیر و ایمان سے صرف جہنم میں جلانے ہی کے قابل ہیں اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں کہ دلوں پر مہر ہے کوئی بات خود حق و باطل کی سمجھ نہیں سکتے۔ (2) یہ بھی ہے کہ وہ خشک لکڑیاں اصل میں ترو تازہ تھیں کٹ کر خشک ہوگئیں اسی طرح اصل فطرت انسانیہ کے لحاظ سے یہ بھی اچھے اور ایماندنر تھے مگر جب اس سے کٹ گئے خشک ہوگئے۔ (3) اب جس طرح جلانے کے سوا ان کو لکڑیوں سے اور کوئی مقصود نہیں اسی طرح ان کفار و منافقین کو جہنم کا ایندھن سمجھنا چاہیے۔ (4) لکڑی کٹی ہوئی کے دوسرے ہوتے ہیں ایک اوپر دیوار سے ملا ہوادوسرا زمین سے لگا ہوا۔ اسی طرح منافقوں کے بھی دو رخ ہیں ایک اوپر ظاہری ایمان چرب زبانی کا دوسرا کفر و بدباطنی کا سرنگوں اور ذلت اندوز ہے۔ (5) دیوار سے لگے ہوئے خشک شے سے ان کے قد و قامت میں بھی تشبیہ ہے۔ نامرد ایسے ہیں۔ یحسبون کل صیحۃ علیہم کہ جو کوئی آواز و گھوڑا چھوٹ جائے یا کوئی کھڑکا ہو یا کوئی کسی کو پکارے تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر بلا آئی اور فواً اچھل پڑتے ہیں۔ فرماتا ہے ان کی چپڑی چکنی باتوں پر نہ جائو۔ ھم العدو اصل دشمن اسلام یہی ہیں ان سے بچو آپ ہی بددعا کرتا ہے محاورہ عرب کے موافق قاتلہم اللہ۔ اللہ ان کی گردن مارے۔ انی یوفکون کہاں سے پھرے جاتے ہیں ہدایت کے چشمے سے پیاسے جاتے ہیں اور جب ان کی جھوٹی قسمیں کھانے اور ان کے کذب ثابت ہوجانے یا منہ سے وہ نالائق باتیں کہنے پر جن کا ذکر ابھی آیا ہے یہ کہا جاتا ہے کہ چلو رسول اللہ پاس کہ تمہارے لیے خدا سے بخشش اور معافی مانگیں تو اکڑتے اور سر ہلاتے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! خواہ ان کے لیے آپ بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اللہ ان کو نہ بخشے گا۔ ھم الذین سے لے کر آخر تک وہ کلمات ہیں جو عبداللہ بن ابی نے کہے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے لوگوں کچھ نہ دو کہ چلے جاویں اس کے جواب میں فرماتا ہے وہ کیا دیں گے زمین و آسمان کے خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ بھی کہتا تھا کہ مدینے چل کر عزت دار یعنی میں ذلیلوں یعنی مہاجرین کو نکال 1 ؎ دوں گا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ عزت اللہ اور اس کے رسول ہی کو ہے یعنی مہاجرین ذلیل نہیں آئے تم ذلیل ہو مگر تم جانتے نہیں۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

کہتے تھے کہ اگر لوٹ کر مدینہ گئے تو عزت دار وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر رہیں گے۔ حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور ایمانداروں کو ہی ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔

1 ؎ ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی نے یہ کلمات بکے تو زید نے آنحضرت ﷺ کو خبر دی اور عبد اللہ بن ابی سے جو پوچھا گیا تو قسمیں کھا کر انکار کر گیا مگر اس کے بیٹے عبد اللہ نے جو خالص ایماندار تھا باپ کو پکڑلیا کہ بخدا شہر مدینے نہ جانے دوں گا جب تک تو یہ اقرار کرے کہ میں ذلیل اور رسول اللہ ﷺ عزت دار ہیں آخر اس نے کہا۔ اور یہ جہاد جس میں عبد اللہ بن ابی نے یہ باتیں بکی نہیں چوتھے سال ہجری میں تھا۔ بعض کہتے ہیں۔ چھٹے میں۔ درحقیقت عزت اللہ اور اس کے ماننے والوں کو ہے صحابہ ؓ کی عزت کو غور کرلو خزانے بھی اللہ کے پاس ہیں دیکھ لو صحابہ کو کیسے خزانے عطا کیے اور یوں بھی بارش ہوا گرمی سردی جس قدر رزق کے اسباب ہیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 63:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم کو تمہارا مال اور اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائے اور جس نے ایسا کیا تو وہی خسارے میں پڑگیا۔

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور ہمارے دیے ہوئے میں سے اس دن سے پہلے دے لو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو پھر کہنے لگے کہ اے رب ! مجھے ذرا تو مہلت دی ہوتی کہ میں خیرات دے لیتا اور نیک ہوجاتا

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور اللہ تو کسی کو ہرگز مہلت نہیں دیتا جبکہ اس کا وقت آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو۔

ترکیب : فیقول بالنصب بالفاء 1 ؎ الواقعۃ فی جواب الامرو ھو انفقوا لو لاحرف التحضیض معناھا حض علی الفعل لمضارع ولوم ان دخلت علی الماضی فاصدق بالنصب لوقوعہ فی جواب لولائ۔ واصلہ الصدق والجمہور علی ادغام التاء فی الصاد واکن اصلہ اکون سقطت الواؤ بالجزم وقراء الجمہور بالجزم عطفا علی محل فاصدق کانہ قیل ان اخرتنی واکن وقریٔ اکون بالنصب عطفا علی لفظۃ فاصدق لن یوخر الخ الجملۃ تدل علی جواب اذا جائ۔ تفسیر : منافقوں کی افسوسناک حالت بیان فرما کر مسلمانوں کو یاد الٰہی کی طرف ابھارتا ہے اور ایک ناگہانی آجانے والے سے ڈراتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا الخ کہ اے ایماندارو ! مال اور اولاد کے مشغلہ میں اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوجانا اور جو غافل ہوگیا۔ فاولئک ھم الخاسرون تو وہ بڑے نقصان میں ہے۔ یہ مانا کہ حق سے غافل ہو کر آپ نے بہت مال جمع کیا ‘ بڑی جائیدادیں حاصل کیں ‘ نقد و زیور و جواہرات ‘ ہاتھی گھوڑے ‘ شال دو شالوں ‘ نقرئی طلائی برتنوں کی کوئی کمی نہیں رہی۔ مکان بھی اور ان میں باغ بھی بہت آراستہ کے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں حوض جھلک رہے ہیں ‘ عیش و نشاط کے ہزاروں سامان موجود ہیں ‘ خوبصورت ماہر و عورتیں بھی بناؤ سنگار کیے ان باغوں میں آپ کے ساتھ گا بجاکر دل لبھا رہے ہیں اولاد بھی ہے مگر عمر گراں ما یہ کہاں۔ وہ جوانی اور طبیعت 2 ؎ کے جوش نہ رہے تو سب ہیچ دنیا ہی میں معلوم ہونے لگا۔ پھر ایک دن چل دیے سب یہیں پڑا رہا ایک گڑھے میں پڑے ہیں چند روز بعد ہڈیوں کے ریزے ریزے ہوگئے یہ سب عیش خواب پریشان معلوم ہونے لگا۔ گناہوں کا بوجھ سر پر اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے اس کا کوئی سامان نہیں۔ پھر ہمیشہ طرح طرح کی ذلت اور آفت اور حسرت و ندامت اگر خسارہ اور نقصان نہیں تو اور کیا ہے۔ اس تھوڑی دیر کے عیش 3 ؎ پر جس کے بعد ہمیشہ کی یہ مصیبت ہو۔ بس دار آخرت کا توشہ لو۔ وہ کیا ہے ؟ یادِ الٰہی اس سے ایک گھڑی نہ بھول۔ روح جو ہر لطیف ہے۔ آلودگی جسمانی سے یہ اس نور حقیقی کی طرف متوجہ ہونے میں پس و پیش کرتی ہے اور لذائذِ دنیا پر گرے پڑتے ہیں۔ حکم دیتا ہے انفقوا مما رزقنکم کہ ہمارے دیے میں سے دو جس طرح ذکر الٰہی میں نماز ‘ فرائض یا نوافل حج وغیرہ کی تخصیص نہ تھی بلکہ عام مراد تھی نماز روزہ حج بھی اور ایسی ذکر و فکر مراقبہ بھی ہو۔ اسی طرح یہاں خرچ کرنے سے خاص زکوٰۃ و صدقات واجبہ مراد نہیں بلکہ عام ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام بہت جلد کرو۔ برسوں کے آنے والے سامانوں پر منحصر نہ رکھو۔ کہ یوں ہوگا اور اس قدر ہوجاوے گا تب دیں گے اور فرصت سے اللہ کو یاد بھی کیا کریں گے۔ کس لیے کہ موت کا وقت معین نہیں ہر وقت کھٹکا لگا ہو اجل لگائے ہوئے گھات ہر کسی پر ہے بہوش باش کہ عالم رواروی پہ ہے پھر عمر بھر تو یاد الٰہی نہ کی حتیٰ کہ نماز پنجگانہ سے بھی غافل پڑے رہے ‘ اللہ کی راہ میں کوڑی تک نہ دی ‘ زکوٰ 1 صدقات واجبہ بھی نہ دیے اور خیالات میں بےفکر تھے کہ موت کے سامان پیدا ہوگئے اور یقین ہوگیا کہ اب ان سب رفیقوں کو چھوڑتے ہیں ایسا کہ پھر کر کبھی یہاں آنا نہ ہوگا تو اب لگے حسرت و افسوس سے یہ کہنے کہ اے خدا ! مجھے ذرا تو مہلت دے کہ میں خیرات دے لوں نیک ہوجائوں۔ مگر اس وقت کسی کو ایک ذرا بھی مہلت نہیں اللہ دیتا۔ اب تم کو مہلت بہت ہے جو کرنا ہو کرلو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ 1 ؎ بعد القاء الواقعہ فی جواب الامر والنہی والاستفہام والتفی والتمنی والغرض بقدر ان ناصبۃ۔ 12 منہ 2 ؎ گئے دن ٹکٹکی کے باندھنے کے اب آنکھیں رہتی ہیں دو دوپہر بند۔ 12 3 ؎ کسی شاہی اجر ای ہوئی دار الامارۃ کو دیکھ لو کہ کبھی یہاں کس قدر مہ جبین عورتیں جواہرات میں مغرق برتی ہوں گی مکان اور باغوں کی روشیں کیسی آراستہ ہوں گی باہر سینکڑوں سیاہ کمر بستہ کپڑے ہوں گے اور کیا کیا ہوگا ہائے آج کچھ بھی نہیں ان عورتوں اور ماہڑبوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں کہ اس محل کا حال اس سے پوچھتے نہ کوئی اس عہد کا کپڑا ہے کہ وہاں کے لباس کی طرز معلوم ہوتی ہے یہ بیشمار سپاہ کہاں غائب ہوگئی یہ ہزاروں ہاتھی گھوڑے جو سنہری جھولیں اور زریں پوشوں سے اراستہ صف بستہ کھڑے تھے اور وہ ہانکے جو ان جو عجیب سج و جج سے ان کے رکاب میں تھے کس رستے سے گئے ہیں کہ جا پکڑوں ہائے ان کی تو آواز بھی نہیں آتی ان تیز رو گھوڑے ہاتھیوں کی گرد پہنچ دکھائی نہیں دیتی اے کو شک اور اے بام شکستہ اور اے اس کے صحن بےرونق پراگندہ ذرا یہ تو بتادے کہ یہاں کون رہتے تھے اور کیا کیا عیش و نشاط کے سامان تھے کون باہر و یہاں ناز سے حراماں پیرا کرتے تھے اور ان کا حلیہ یا کوئی ان کی پیدائش اور رہنے کا مکان یا محلہ یا ان کی برادری کنبہ بھی تم بنا سکتے ہو کیا ان دنوں میں ایسے ہی رات دن تھے ایسے ہی گرمی جاڑا برسات ہوتا تھا پھر ہر موسم میں کیا کیا بہاریں تھیں خدا کے لیے اتنے لوگوں میں سے کوئی بولے اے محل تیرے بڑے چھوٹے کنگورے کن ہاتھوں نے بنا لیے تھے وہ اب کہاں سوتے ہیں جس عیش کو یہ تھا تو اس پر تف ہے اور اس پر مرنے والے پر بھی تف ہے۔ 12 منہ