62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں وہ سب جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں جو بادشاہ ہے، بہت زیادہ پاک ہے، غالب ہے، حکمت والا ہے،

اللہ تعالیٰ قدوس ہے، عزیز ہے، حکیم ہے اس نے تعلیم وتزکیہ کے لئے بےپڑھے لوگوں میں اپنا رسول بھیجا یہاں سے سورة الجمعہ شروع ہو رہی ہے۔ پہلے رکوع میں ارشاد فرمایا کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی چار صفات جلیلہ بیان فرمائیں یعنی ﴿الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ ﴾ جس کا ترجمہ اور مطلب سورة الحشر کے ختم کے قریب آیت کریمہ ﴿ھُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ﴾ کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مزید جو دو صفات بیان فرمائیں ان میں ایک العزیز اور دوسری الحکیم ہے ان دونوں صفات کا تذکرہ بار بار قرآن مجید میں فرمایا ہے، العزیز عزت والا زبردست غلبہ والا اور الحکیم حکمت والا۔ ان دونوں صفات کے بار بار بیان کرنے میں مخلوق کو اس بات پر تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غالب ہے اس کی گرفت سے نکل کر کوئی کہیں نہیں جاسکتا اور یہ کہ وہ حکمت والا ہے اس کا کوئی فعل اور کوئی امر حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے ایک بہت بڑے احسان کا تذکرہ فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ اس نے امیین (یعنی بےپڑھے لوگوں) میں ایک رسول بھیجا جو انہیں میں سے ہے، امیین سے عرب مراد ہیں جن میں پڑھنے لکھنے کا بہت کم رواج تھا اگرچہ شاعری کرتے رہتے تھے۔ (جس کے لئے علم سے متصف ہونا ضروری نہیں ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نحن امة امیة یعنی ہم (عرب) بےپڑھے لوگ ہیں لانکتب ولا نحسب نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب جانتے ہیں، اہل مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی وہ امی تھے اور خود آپ بھی امی تھے جیسا کہ آیت بالا میں رسولا منھم اور سورة الاعراف میں ﴿فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ﴾ فرمایا ہے اور سورة عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا ہے۔ ﴿ وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ 0048﴾ (اور آپ اس کتاب سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل والے شبہ لگالیتے) ۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہ ہی ہے جس نے بےپڑھے لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، اور ان کا تزکیہ کرتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور بلاشبہ وہ لوگ پہلے کھلی گمراہی میں تھے،

اللہ تعالیٰ نے امیین میں رسول بھیجا جو خود بھی امی تھا اس امی پر کروڑوں پڑھے لکھے قربان جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی کتاب لایا کہ اس کے مقابلہ میں بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء ایک چھوٹی سی سورة بنا کر لانے سے بھی عاجز رہے اور عاجز ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو سارے عالم کے لئے ہادی اور رحمت بنا کر بھیجا بڑے بڑے اہل علم نے اس رسول امی ﷺ کے دامن میں پناہ لی، اور آپ کے سامنے علمی ہتھیار ڈال دیئے، اس رسول عظیم کی بعثت کا تذکرہ فرمایا اور اس کی صفات بھی بیان فرمائیں۔ 1 فرمایا ﴿رَسُوْلًا مِّنْهُمْ ﴾ یعنی انہیں امیین میں سے رسول بھیجا۔ 2 فرمایا کہ وہ ان کا تزکیہ فرماتا ہے۔ اس سے نفوس کا تزکیہ کرنا مراد ہے انسانوں کے نفوس میں جور ذائل اور بری صفات اور عادات ہوتی ہیں ان سے پاک کرنے کو تزکیہ کہا جاتا ہے۔ 3 صفت یہ بیان فرمائی کہ یہ رسول کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔ مفسرین نے فرمایا کہ کتاب سے قرآن مجید اور حکمت سے فہم قرآن مراد ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ کا سکھانا اور اس کے معانی اور مفاہیم اور مطالب کا سمجھانا یہ سب حکمت میں شامل ہیں۔ مزید توضیح اور تفسیر کے لئے سورة بقرہ کی آیت ﴿ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ﴾ کا مطالعہ کیا جائے۔ (دیکھو انوارا لبیان جلد اول) پھر فرمایا ﴿ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍۙ002﴾ یہ امی لوگ جن میں رسول امی ﷺ کو بھیجا اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے مشرک تھے بت پرست تھے۔ قتل و قتال اور لوٹ مار میں لگے رہتے تھے، صاحب رسالت محمد رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے اہل عرب میں ہدایت بھی آگئی برے اعمال بھی چھوٹ گئے اور چونکہ آپ کی بعثت عمومی ہے اس لئے آپ کی دعوت و تبلیغ پورے عالم میں پھیل گئی۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور دوسروں کے لئے بھی جو ان میں سے ہونے والے ہیں، جو ان کے ساتھ نہیں ملے، اور وہ عزیز ہے، حکیم ہے،

اہل عجم کی اسلام کی خدمتیں : جب حدود عرب سے نکل کر آپ کا لایا ہوا پیغام توحید شرقاً غرباً عجم میں پھیل گیا تو عجمیوں نے قرآن کو لیا حفظ کیا قراتیں اور روایتیں محفوظ کیں، طرق ادا سیکھے، معانی سمجھے، قرآن کی تفسیریں لکھیں اور احکام قرآن پر کتابیں تالیف کیں، قرآن کے مواعظ کو امت میں پھیلایا حتی کہ کثیر تعداد میں علماء وصلحاء وجود میں آگئے اہل عرب کے بعد اہل عجم کا خدمات اسلام میں بہت بڑا حصہ ہے اسی کو فرمایا ﴿ وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ (اور ان امیین کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی ان ہی کو رسول بنا کر بھیجا جو ابھی تک امیین سے نہیں ملے) یعنی ان تک اسلام نہیں پہنچایا انہوں نے ابھی قبول نہیں کیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے اس وقت سورة الجمعہ نازل ہوئی جس میں ﴿وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ فرمایا ہے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے ؟ تین بار سوال کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا اس وقت وہاں سلمان فارسی ؓ موجود تھے آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھ دیا (اور اس طرح بتادیا کہ وہ لوگ ان میں سے ہوں گے) پھر فرمایا اگر ثریا (ستاروں) کے نزدیک بھی ایمان ہو تو ان میں ایسے لوگ ہوں گے جو وہاں سے لے لیں گے۔ (صحیح بخاری صفحہ 727: جلد 2) حضرت سلمان ؓ فارس کے رہنے والے تھے حضور اقدس ﷺ نے اہل فارس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو یہ لوگ وہاں سے لے لیں گے یہ بطور مثال ہے ان کے علاوہ جو غیر عرب ہیں انہوں نے بھی اسلام کی بہت خدمت کی۔ جب اہل فارس نے ایمان اور قرآن کو چھوڑ دیا اور شیعیت اختیار کرلی اس وقت سے دوسری اقوام نے الحمدللہ تعالیٰ اسلام کو خوب بڑھایا اور طرح طرح سے اس کی خوب خدمات انجام دیں۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے) ۔ ﴿وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 004﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) ۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی ایمان کی توفیق دیدے یہ اس کا فضل ہے۔ تمام اہل ایمان اور خاص کر وہ لوگ جو اسلام کی خدمات میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں مومن بنایا اور اسلام کی خدمت میں لگایا۔ فلہ الحمد والمنہ۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جنہیں توراۃ اٹھانے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے نہیں اٹھایا گدھے کی سی مثال ہے، جو کتابوں کو لادتا ہے، بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا،

یہودیوں کی ایک مثال اور ان سے خطاب کہ جس موت سے بھاگتے ہو وہ ضرور آکر رہے گی ان آیات میں یہود کی بےدینی اور ان کی دنیا و آخرت کی بد حالی بیان فرمائی ہے، یہود حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے جن کا لقب اسرائیل تھا اور اسی مناسبت سے یہودیوں کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان میں جو انبیاء بھیجے ان میں حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما الصلاۃ والسلام زیادہ معروف ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے توراۃ شریف عطا فرمائی، جس میں یہودیوں کے لئے احکام تھے، ان میں اہل علم بھی تھے اور اہل عمل بھی جیسا کہ سورة المائدہ میں فرمایا ہے : ﴿النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَآءَ﴾ ” انبیاء جو کہ مطیع تھے اس کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی بوجہ اس کے کہ ان کو کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے “۔ کچھ عرصہ تو یہودیوں کے علماء توراۃ شریف کے مطابق چلتے رہے اور قوم کو چلاتے رہے پھر توراۃ شریف کی تعلیمات کو چھوڑ دیا بلکہ ادل بدل کردیا اور اس کے احکام پر عمل پیرانہ ہوئے۔ جو علم تھا اس پر عمل نہ رہا تو حامل کتاب ہونا ان کے لئے فائدہ مندہ نہ رہا ان لوگوں کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں سے توراۃ اٹھوائی گئی یعنی انہیں حکم دیا گیا کہ احکام توراۃ پر عمل کرو پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا (اور یہ دعوے کرتے رہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے) ان کی ایسی مثال ہے جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی گئی ہوں وہ کتابیں لادے پھرتا ہے اور اس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ میرے اوپر کیا ہے ؟۔ یہود کی بدعملی اور اپنے بارے میں خوش گمانی : یہود کے پاس توراۃ شریف تھی لیکن حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی قتل کرتے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی اور ان کے قتل کے درپے ہوگئے پھر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ کو پہچان بھی لیا کہ آپ و ہی نبی ہیں جن کا توراۃ وانجیل میں ذکر ہے پھر بھی ایمان نہ لائے۔ ان کی اس بدحالی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ (بری حالت ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا) ﴿وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ 005﴾ (اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا)
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اے وہ لوگو جنہوں نے یہودیت اختیار کی اگر تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگ اس میں شریک نہیں تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو

یہودیوں کا اپنے بارے میں یہ گمان تھا کہ ہم اللہ کے دوست ہیں اور ہمارے سوا اللہ کا کوئی دوست نہیں بلکہ یوں کہتے تھے کہ ﴿نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ 1ؕ﴾ (ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں) اور یوں بھی کہتے تھے کہ دارالآخرۃ صرف ہمارے لئے ہے ان کی ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 006﴾ (آپ فرما دیجئے کہ اے یہودیو اگر تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگ اس دوستی میں شریک نہیں تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں پکا یقین ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہو اور اس میں کسی دوسرے کی شرکت نہیں ہے تو اس دنیا والی زندگی میں کیوں تکلیفیں اٹھا رہے ہو، اگر اپنے کو حق پر سمجھتے ہو اور یہ خیال کرتے ہو کہ مرتے ہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے تو تمہیں جلد از جلد مرجانا چاہیے تاکہ دنیا چھٹے اور جنت ملے جبکہ تم جانتے اور مانتے ہو کہ جنت کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ تمہیں جلد سے جلد مر کر جنت کے لئے فکر مند ہونا چاہئے اگر یوں کہو کہ موت کا لانا اپنے قبضہ میں نہیں ہے تو موت کی تمنا ہی کر کے دکھا دو اگر تم اپنے عقیدہ میں سچے ہو۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں کبھی بھی اس بات کی تمنانہ کریں گے اور اللہ جانتا ہے ظالموں کو

﴿ وَ لَا يَتَمَنَّوْنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ﴾ (اور یہ لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے) ۔ یعنی یہ ان کے زبانی دعوے ہیں کہ جنت ہمارے ہی لئے ہے اور ہم اللہ کے ولی ہیں۔ لیکن کفر اور اعمال بد کی وجہ سے موت سے ڈرتے ہیں یہ موت کی تمنا کرنے والے نہیں ہیں سورة البقرۃ میں فرمایا ہے ﴿ وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيٰوةٍ﴾ (اور آپ ان کو ایسا پائیں گے کہ لوگوں میں زندگی کے سب سے زیادہ حریص ہیں) یہ یقین کرتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد عذاب میں گرفتار ہوں گے لہٰذا جتنی بھی دنیاوی زندگی مل جائے بہتر ہے اپنے بارے میں اللہ کے اولیاء اور احباء ہونا محض زبانی دعویٰ ہے۔ شاید کسی کو یہ اشکال ہو کہ اگر کسی مسلمان سے کہا جائے کہ تو موت کی تمنا کر تو وہ بھی ایسی تمنا نہیں کرے گا پھر یہ حق اور باطل کا معیار کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہودیوں سے جو بات کی جارہی تھی وہ ان کے اس دعوے سے متعلق ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں اور پیارے ہیں جنت میں صرف ہم ہی کو جانا ہے۔ ان کے اس دعوے کا الزامی جواب دیا گیا ہے انہیں اپنے دعویٰ کے مطابق عقلی طور پر بغیر کسی جھجھک کے فوری طور پر مرجانا چاہئے تاکہ اپنے عقیدہ کے مطابق مرتے ہی جنت میں چلے جائیں، اگر مر نہیں سکتے تو مرنے کی تمناہی کریں۔ رہا مومنین اہل اسلام کا معاملہ تو ان میں سے کسی کو اگر موت سے کراہت ہے تو وہ طبعی امر ہے پھر احادیث شریفہ میں موت کی تمنا کرنے سے منع بھی کیا گیا ہے، مومن کے زندہ رہنے میں خیر ہے اگر نیک آدمی ہے تو اچھا ہے اور زیادہ اچھے عمل کرلے گا اور اگر گناہوں کی زندگی گزار رہا ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کی توفیق ہوجائے، البتہ جس نے قصداً کفر اختیار کیا ہے اور کفر پر جما ہوا ہے اور کفر پر ہی رہنے کا ارادہ ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ کفر کے باوجود مجھے جنت ملے گی اور مجھے اور میرے ساتھیوں کے سوا کسی اور کونہ ملے گی اس سے وہی خطاب ہے جو یہودیوں سے ہے۔ یاد رہے کہ بعض یہودی اپنے بارے میں دوزخ میں جانے کا بھی یقین رکھتے تھے لیکن یوں کہتے تھے کہ ہم چند دن دوزخ میں رہیں گے پھر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں ان یہودیوں سے خطاب ہے جو اپنے بارے میں اولیاء اللہ ہونے کا اعتقا درکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم کو مرتے ہی جنت میں داخل ہونا ہے۔ اسی طرح کا ایک مضمون سورة البقرہ میں بھی گزرا ہے وہاں ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ نقل کیا تھا کہ اس میں یہودیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو آجاؤ ہم مل کر موت کی دعا کریں کہ دونوں فریق میں جو بھی جھوٹا ہے وہ فوراً مرجائے جب یہ بات سامنے آئی تو وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور راہ فرارا ختیار کرلی۔ (سورۃ البقرہ ع 11)
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ بیشک موت جس سے تم بھاگتے ہوئے وہ ضرور تم سے ملاقات کرے گی پھر تم لوٹا دئیے جاؤ گے غیب اور شہادت کے جاننے والے کی طرف سو وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کردے گا۔

﴿ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ ﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بلاشبہ جس موت سے تم بھاگتے ہو اس سے تمہاری ملاقات ضرور ہوگی) ۔ موت سے بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہر ایک کی اجل مقرر ہے جو شخص جہاں بھی ہوگا اپنے وقت پر اسے موت وہیں آجائے گی اور ضرور آئے گی۔ سورة نساء میں فرمایا ﴿ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ (تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں ضرور پکڑلے گی اگرچہ تم مضبوط بر جوں میں ہو) موت سے کسی کو چھٹکارہ نہیں اور زیادہ عمر ہوجانے سے عذاب سے بچاؤ نہیں، جو لوگ بحالت کفر مرجائیں گے انہیں جہنم میں داخل ہونا ہے اور عذاب ضرور ہونا ہے۔ سورة البقرہ میں فرمایا ﴿ يَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ 1ۚ ﴾ (ان کا ایک ایک فرد یہ آرزو کرتا ہے کہ کاش اسے ہزار سال کی عمر دیدی جائے) ﴿ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ 1ؕ ﴾ (اور حال یہ ہے کہ اسے یہ چیز عذاب سے بچانے والی نہیں ہے کہ اس کی عمر ہزار سال کردی جائے) دیر سویر ہر ایک کو موت آنی ہی ہے اور اہل کفر کے لئے جو عذاب طے شدہ ہے وہ انہیں ملنا ہی ہے جو دائمی عذاب ہوگا۔ ﴿ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (رح) 008﴾ (پھر تم اللہ تعالیٰ کی ذات عالم الغیب والشہادۃ کی طرف لوٹا دیئے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتادے گا جو عمل تم دنیا والی زندگی میں کیا کرتے تھے) جب قیامت کے دن حاضر ہونا ہے اور یہ بھی جانتے ہو کہ کفر کی سزا دائمی عذاب ہے تو سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ تم ایمان قبول کرلو، کوئی شخص یوں نہ سمجھ لے کہ میرے اعمال کا کسے پتہ ہے جس نے پیدا کیا اسے سب علم ہے وہ غیب اور شہادہ سب جانتا ہے وہ سب بتادے گا کہ کس نے کیا کیا ہے پھر وہ اپنے علم کے مطابق اعمال کی جزا سزادے گا۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور بیع کو چھوڑ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو،

جمعہ کی اذان ہوجائے تو کاروبار چھوڑ دو اور نماز کے لئے روانہ ہوجاؤ ان آیات میں جمعہ کی فرضیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے پکارا جائے یعنی اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو۔ نماز جمعہ سے پہلے جو خطبہ ہوتا ہے اسے ذکر اللہ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کو سننے کے لئے دوڑ جانے کا حکم دیا ہے دوڑ جانے سے مراد یہ نہیں ہے کہ بھاگ کر جاؤ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی حاضری جلدی کرو اور خطبہ سننے کے لئے حاضر ہوجاؤ۔ ﴿وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ﴾ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ۔ خرید فروخت بطور مثال فرمایا ہے کیونکہ تاجر لوگ اپنے سوداگری کے دھندوں کی وجہ سے جمعہ کی اذان سن کے مسجد کی حاضری دینے میں کچے پڑجاتے ہیں اور دنیاوی نفع سامنے ہونے کی وجہ سے خریدو فروخت میں لگے رہتے ہیں اور کاروبار بند کرنے کے لئے طبیعتیں آمادہ نہیں ہوتیں۔ اس لئے تنبیہ فرمائی۔ دنیاوی نفع حاصل کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگ جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے اور بہت سے لوگ صرف آدھا تہائی خطبہ سن لیتے ہیں۔ اس لیے صاف صاف اعلان فرما دیا : ﴿ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 009﴾ (یہ جمعہ کی حاضری تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو) ۔ نزول قرآن کے وقت صرف ایک ہی اذان تھی جو امام کے منبر پر چڑھنے کے بعد دی جاتی تھی اس زمانہ کے لوگ رغبت سے نماز کے لیے پہلے سے حاضر رہتے تھے کوئی اکاد کارہ گیا تو اذان سن کر حاضر ہوجاتا تھا۔ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ کے عہد میں ایسا ہی رہا۔ پھر جب نمازیوں کی کثرت ہوگئی تو خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ نے اذان خطبہ سے پہلے ایک اور اذان جاری کردی جو مسجد سے ذرا دور بازار میں مقام زوراء پر ہوتی تھی (صحیح بخاری صفحہ 124) اس وقت سے یہ پہلی اذان بھی جاری ہے علماء نے فرمایا کہ کاروبار چھوڑ کر جمعہ کے لئے حاضر ہونا اب اسی اذان اول سے متعلق ہے۔ حضرت عثمان ؓ چونکہ خلفاء راشدین میں سے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین فرمایا ہے اس لئے ان کا اتباع بھی لازم ہے۔ جمعہ کے فضائل : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں جو پہلے آیا اس کا نام پہلے اور جو بعض میں آیا اس کا نام بعد میں لوگوں کی آمد کے اعتبار سے نام لکھتے رہتے ہیں پھر فرمایا کہ جو شخص دوپہر کا وقت شروع ہوتے ہی جمعہ کے لئے روانہ ہوگیا اس کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ گویا اس نے بدنہ یعنی اونٹ کی ہدی پیش کی پھر جو اس کے بعد آیا اس کا ایسا ثواب ہے گویا اس نے گائے کی ہدی پیش کی اس کے بعد آنے والے کا ایسا ثواب ہے گویا اس نے مینڈ ھاھدی میں پیش کیا اس کے بعد آنے والے کا ایسا ثواب ہے جیسا کہ اس نے مرغی پیش کی اس کے بعد آنے والے کا ایسا ثواب ہے گویا کہ اس نے انڈا پیش کیا، پھر جب امام (اپنے حجرہ سے ممبر پر آنے کے لئے) نکلتا ہے تو فرشتے اپنے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور ذکر سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ (رواہ البخاری صفحہ 121، 127، و مسلم صفحہ 282) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ میں حاضر ہوا اور کان لگا کر (خطبہ) سنا اور خاموش رہا اس کے لئے اس جمعہ سے لے کر آئندہ جمعہ تک کے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور مزید تین دن کی مغفرت ہوگی (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا زیادہ دیا جاتا ہے) پھر فرمایا کہ جس نے کنکریوں کو چھولیا اس نے لغوکام کیا (کیونکہ جو شخص خطبہ کی طرف سے غافل ہوگا وہ ہی کنکریوں سے کھیلے گا یا اسی طرح کا اور کوئی لغو کام کرے گا) ۔ (رواہ مسلم صفحہ 283: ج 1) اس حدیث میں اچھی طرح وضو کر کے آنے کا حکم ہے اور بعض روایات میں غسل کرنے، تیل یا خوشبو لگانے، اور پیدل چل کے جانے اور مسواک کرنے اور اچھے کپڑے پہننے اور امام کے قریب ہو کر خطبہ سننے کی بھی ترغیب وارد ہوئی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح) جو شخص خطبہ کے درمیان بات کرنے لگے اس کو یوں کہنا کہ خاموش ہو جایہ بھی ممنوع ہے (کیونکہ اس میں دھیان سے خطبہ سننے میں فرق آتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو نے بات کرنے والے سے یوں کہہ دیا کہ چپ ہو جاتو نے لغوکام کیا۔ (رواہ البخاری صفحہ 127: ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب دنوں سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا كئے گئے اور اسی دن جنت میں داخل كئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے (ان کا وہاں سے نکالا جانا دنیا میں ان کی نسل بڑھنے کا اور ان میں سے انبیاء، شہداء صدیقین، صالحین اور عام مومنین کے وجود میں آنے کا سبب بنا۔ جنہیں جنت کا داخلہ نصیب ہوا) اور فرمایا کہ قیامت جمعہ ہی کے دن آئے گی۔ (رواہ مسلم صفحہ 282: ج 1) ترک جمعہ پر وعید : فائدہ : مریض اور مسافر اور عورت اور غلام پر جمعہ کی حاضری ضروی نہیں ہے۔ بالغ مرد جسے کوئی ایسا مرض لاحق نہ ہو جو نماز کو جانے سے مانع ہو اس پر خوب ہمت کر کے کا روبار چھوڑ کر اور آداب کا خیال کر کے حاضر ہونا لازم ہے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوڑنے سے رک جائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ لوگ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔ (رواہ مسلم صفحہ 282: ج 2) حضرت ابو جعد ضمری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ جمعہ کی نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں میں نے ان کے بارے میں پکا ارادہ کرلیا ہے کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں پھر پیچھے سے جا کر ان لوگوں کے گھروں کو جلادوں جو جمعہ کی نماز کی حاضری سے رہ جاتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 121) ساعت اجابت : فائدہ : جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعاء ضرور قبول ہوتی ہے بعض روایات میں ہے کہ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیان دعاء قبول ہونے کا وقت ہے۔ (رواہ مسلم صفحہ 281) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جمعہ کے دن جس گھڑی میں دعا قول ہوتی ہے اس گھڑی کو عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک تلاش کرو۔ (رواہ الترمذی صفحہ 111: ج 1) سورة کہف پڑھنے کی فضیلت : فائدہ : جمعہ کے دن سورة ٴ کہف کی ابتدائی تین آیات پڑھنے کی بھی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ تین آیات پڑھ لیا کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ (رواہ الترمذی صفحہ 116: ج 2) بعض روایات میں جمعہ کے دن سورة کہف کی آخری آیات پڑھنے کا بھی ذکر آیا ہے اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ جس نے جمعہ کے دن سورة کہف پڑھ لی اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان نور روشن رہے گا یعنی جمعہ کے دن اس سورة کے پڑھنے کی وجہ سے اس کی قبر میں یا قلب میں ایک ہفتہ کے بقدر روشنی رہے گی۔ (رواہ البیہقی فی دعوات الکبیر) فائدہ : جمعہ کے دن سورة ہود پڑھنے کا بھی حکم وارد ہوا ہے۔ (رواہ الدارمی صفحہ 326) جمعہ کے دن درود شریف کی فضیلت : فائدہ : جمعہ کے دن درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہئے یوں تو درود شریف پڑھنے کا ہمیشہ ہی بہت زیادہ ثواب ہے لیکن جمعہ کے دن خاص طور پر آپ ﷺ نے درود پڑھنے کا حکم دیا۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ 120)
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز کی ادائیگی ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے تلاش کرو اور اللہ کو خوب زیادہ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

نماز جمعہ کے بعد زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ ﴾ (الآیۃ) (یعنی جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو) ۔ یہ امرو جوب کے لیے نہیں ہے اباحت اور اجازت کے لیے ہے۔ مطلب یہ کہ جب نماز ختم ہوگئی تو مسجد کی حاضری والا کام ختم ہوگیا اب اپنے دنیاوی مشاغل میں لگ سکتے ہو مسجد سے فارغ ہو کر بازار میں جاؤ۔ اللہ کا رزق حاصل کرو۔ جمعہ کی حاضری کے لیے جو کاروبار چھوڑ کر آئے تھے چاہو تو اس میں لگ جاؤ چونکہ یہ امراباحت کے لیے ہے اس لئے اگر کوئی شخص نماز پڑھ کر عصر تک یا مغرب تک مسجد میں رہ جائے اعتکاف، تلاوت ذكر، ساعت اجابت کی تلاش میں وقت گزارے تو یہ بھی اچھی بات ہے۔ خریدو فروخت کی اجازت دینے کے بعد ﴿ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 0010﴾ بھی فرمایا اور یہ بتادیا کہ خریدو فروخت کی مشغولیت یا دوسرے کام اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں، مومن کو ہر حال میں اللہ کے ذکر میں لگا رہنا چاہئے جو حاصل زندگی ہے، نماز بھی اللہ کے ذکر کے لئے ہے جیسا کہ سورة طہ میں فرمایا ہے۔ ﴿وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ 0014﴾ (کہ نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو) سورة العنکبوت میں فرمایا ﴿ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ﴾ (اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے) سورة الاحزاب میں فرمایا ہے : ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًاۙ0041 وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا 0042﴾ (اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر کرو خوب زیادہ اور صبح وشام اس کی تسبیح میں مشغول رہو) پھر فرمایا ﴿لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 0010﴾ (تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ اس میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اس سے قلب کو راحت ہوتی ہے اطمینان حاصل ہوتا ہے چونکہ بازار میں بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے خریدو فروخت کی آوازیں لگتی ہیں۔ غفلت کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں اس لئے طلب رزق کے ساتھ کثرت ذکر کا بھی حکم فرمایا۔ ذیل میں لکھے ہوئے الفاظ پڑھنے کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بازار میں داخل ہوا اور اس نے یہ کلمات پڑھے : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وھو حی لایموت بیدہ الخیرو ھو علی کل شیء قدیر (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے ملک ہے اور اسی کے لیے حمد ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ زندہ ہے اسے موت نہ آئے گی، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) ۔ تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ دس لاکھ نیکیاں لکھ دیں گے اور دس لاکھ گناہ معاف فرما دیں گے اور دس لاکھ درجے بلند فرما دیں گے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنادیں گے۔ (رواہ الترمذی وابن ماجہ)
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب وہ کسی تجارت یالہو کی چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ ایسے لہو اور تجارت سے بدر جہا بہتر ہے اور اللہ سب سے اچھا روزی پہنچانے والا ہے۔

خطبہ چھوڑ کر تجارتی قافلوں کی طرف متوجہ ہونیوالوں کو تنبیہ حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ رہے تھے۔ اچانک (مدینہ منورہ) میں ایک اونٹوں کا قافلہ آگیا جن پر کھانے پینے کا سامان لدا ہوا تھا (جب حاضرین کے کانوں میں اس کی بھنک پڑی تو) اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور بازار کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ آدمی رہ گئے اس پر آیت کریمہ ﴿ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا ا۟نْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا ﴾ نازل ہوگئی۔ (رواہ البخاری صفحہ 128: جلد 1 صفحہ 727: جلد 2) یہ صحیح بخاری کی روایت ہے اور صحیح مسلم صفحہ 284 میں اس روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کھڑے ہو کے خطبہ پڑھنے کو نماز پڑھنے سے تعبیر کردیا۔ (قال النووی فی شرح مسلم والمراد بالصلوة (فی روایة البخاری) انتظار ھا فی حال الخطبة كما وقع فی روایات مسلم) صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ جو بارہ افرادرہ گئے تھے ان میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی تھے مراسیل ابوداؤد صفحہ 7 میں مقاتل بن حبان سے نقل کیا ہے کہ پہلے یہ طریقہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نماز عیدین کی طرح جمعہ کی خطبہ بھی نماز کے بعد دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر خطبہ میں مشغول تھے کہ ایک شخص اندر مسجد میں آیا اور اس نے کہا کہ دحیہ بن خلیفہ اپنی تجارت کا سامان لے کر پہنچ گیا ہے (اس وقت دحیہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) ۔ جب وہ باہر سے تجارت کا سامان لے کر آتے تھے تو ان کے گھر والے دف بجا کر استقبال کیا کرتے تھے جو لوگ خطبہ سن رہے تھے وہ یہ سمجھ کر کہ خطبہ چھوڑ کر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مسجد سے باہر نکل گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ﴿ وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا ا۟نْفَضُّوْۤا اِلَيْهَا ﴾ نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد سے خطبہ کو نماز سے مقدم کردیا اور نماز سے خطبہ پہلے پڑھا جانے لگا۔ مراسیل ابوداؤد کی روایت بالا سے معلوم ہوا کہ جو صحابہ اس موقع پر مسجد سے نکل گئے تھے انہوں نے یہ خیال کرلیا تھا کہ نماز تو ہو ہی گئی ہے خطبہ نماز کا جزء نہیں ہے اور نصیحت کی باتیں رسول اللہ ﷺ سے سنتے ہی رہتے ہیں، اس لیے خطبہ چھوڑ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے ان کی یہ اجتہادی غلطی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرزنش فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ جب یہ تجارت کو دیکھتے ہیں یا کسی لہو کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چل دیتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ لہو سے طبل مراد ہے (جسے مراسیل ابوداؤد میں دف بتایا ہے) معالم التنزیل میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کتنے لوگ مسجد میں رہ گئے ؟ عرض کیا بارہ مرد اور ایک عورت باقی رہ گئے آپ نے فرمایا اگر یہ بھی باقی نہ رہتے تو ان پر آسمان سے پتھر بر سادیئے جاتے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم سب یکے بعد دیگرے چلے جاتے اور کوئی بھی مسجد میں نہ رہتا تو یہ وادی آگ بن کر بہہ پڑتی۔ (معالم التنزیل صفحہ 345، 346: ج 4) بات یہ ہے کہ وہ زمانہ خوراک کی کمی کا بھی تھا اور بھاؤ کے مہنگے ہونے کا بھی دحیہ بن خلیفہ تجارت کا سامان لے کر آئے جس میں کھانے پینے کی چیزیں بھی تھیں۔ اس ڈر سے کہ ممکن ہے اور لوگ خرید لیں اور ہم کو کچھ بھی نہ ملے حاضرین مسجد سے اس طرف چلے گئے۔ ایک تو چیزوں کی نایابی کا زمانہ تھا دوسرے انہوں نے یہ سمجھا کہ نماز کے بعد خطبہ چھوڑ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور مال خریدنے میں یہودی اور منافق بھی ہیں اس لیے ہمیں بھی مال جلدی خرید لینا چاہئے۔ اس خیال نے خطبہ چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ کردیا۔ اگر معاملہ کی ساری صورت حال سامنے رکھی جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ حضرات صحابہ ؓ نے ایسا کیوں کیا ؟ لیکن غلطی، غلطی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمادی ﴿ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ 1ؕ ﴾ (آپ فرما دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے لہو سے اور تجارت سے) اس میں یہ بتادیا کہ نماز میں اور خطبہ کی مشغولیت میں بڑی برکات ہیں۔ ان چیزوں میں مشغول ہوتے ہوئے جو اللہ کی طرف سے دنیا و آخرت میں خیر ملے گی وہ ان چیزوں سے بہتر ہے جن کے لئے اللہ کے ذکر کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے مومن بندوں کو اللہ کی طرف متوجہ رہنا چاہئے ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں اور اس کے احکام پورے کریں اور اسی سے مانگیں۔ ﴿ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ (رح) 0011﴾ (اور اللہ تعالیٰ تمام دینے والوں سے بہتر ہے) ۔ اسی نے ارزاق واسباب پیدا فرمائے ہیں اور مقدر بھی فرمائے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی دینے والا نہیں ہے جو کچھ ملتا ہے اس کی مشیت سے ملتا ہے جو کوئی شخص کسی کو کچھ دیتا ہے وہ بھی اللہ کی طرف سے دل میں ڈال جاتا ہے۔ فائدہ 1 جمعہ کا خطبہ اداء صلاۃ کے لیے شرط ہے خطبہ پڑھے بغیر دورکعتیں پڑھ لیں تو جمعہ ادا نہیں ہوگا۔ فائدہ 2 نماز جمعہ میں پہلی رکعت میں سورة الجمعہ اور سورة اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ پڑھنا مسنون ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ 287: ج 1) اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین میں اور صلوٰۃ جمعہ میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ001 اور هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِؕ001 پڑھتے تھے اگر کسی دن ایسا ہوگیا کہ عید بھی ہے اور جمعہ بھی تو دونوں نمازوں میں ﴿ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِؕ001 اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى﴾ پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم صفحہ 288: ج 1)