62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 62:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔

نبی ﷺ اور ان کی قوم امومت میں برابر تھے قول باری ہے (ھوالذین بعث فی الامیین رسولا منھم ، وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہیں میں سے اٹھایا) انہیں امی اس لئے کہا گیا کہ یہ لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کی اکثریت کا یہی حال تھا۔ اگرچہ بہت قلیل تعداد میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا (الشھوھکذا او ھکذا مہینہ اتنے اتنے دنوں کا ہوتا ہے) یہ کہتے ہوئے آپ نے انگلیوں سے اشارہ کیا۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے (انا نحن امۃ امیۃ لا نحسب ولا نکتب ہم امی لوگ ہیں ہم نہ حساب کتاب رکھتے ہیں اور نہ ہمیں لکھنا آتا ہے) قول باری ہے (رسولا منھم) کیونکہ حضور ﷺ اُمی تھے۔ ارشاد باری ہے (الذین یتبعون الرسول النبی الامی، جو لوگ رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی ہیں) ایک قول کے مطابق جس شخص کو لکھنا نہیں آتا ہے اسے امی اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو ماں کے پیٹ سے پیدائش کی حالت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ لکھنا تو سیکھنے اور دوسروں سے استفادہ کرنے کے ذریعہ آتا ہے اس حالت کی بنا پر نہیں آتا جس سے فطری طور پر ایک نو مود کو گزرنا پڑتا ہے ۔ (یاد رہے کہ عربی زبان میں ماں کو ام کہتے ہیں) ایک امی کو نبوت عطا کرنے کی حکمت یہ تھی کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں حضور ﷺ کے متعلق جو بشارتیں آئی تھیں آپ کا امی ہونا ان کے عین مطابق تھا۔ نیز اس کی وجہ سے کسی کو یہ تو ہم نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ کو کتاب وحکمت کا جو علم دیا گیا تھا آپ نے لکھنے پڑھنے کی مدد سے اسے کسی اور ذریعے سے حاصل کیا تھا۔ آپ کے امی ہونے کی نسبت سے یہ دو وجوہ آپ کی نبوت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی ہے کہ آپ کی یہ حالت اس قوم کی حالت کے مشابہ تھی جس کے اندر آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ اسی طرح آپ اپنی اس حالت کی بنا پر حتی الامکان اس قوم کے ساتھ مساوی سطح پر تھے۔ مساوات کی اس جہت کے باوجود قوم کی طرف سے آپ کی لائی ہوئی کتاب جیسی پیش کرنے سے عاجز رہنا اس بات کی دلیل تھی کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
Ayahs 62:3–5

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (انکو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا انکی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

علم بغیر عمل کے بیکار ہے قول باری ہے (مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملو ھا کمثل الحمار یحمل اسفار، جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں) ایک روایت کے مطابق اس سے یہود مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے تورات کا علم حاصل تو کرلیا لیکن اس پر عمل پیرا نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گدھے کے مشابہ قرار دیا جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیونکہ انہوں نے بھی اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جس کا انہیں حامل بنایا گیا تھا جس طرح گدھا اپنی پیٹھ پر لدی ہوئی کتابوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا، یہ لوگ بس چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گم کردہ راہ) نیز ارشاد ہوا (واتل علیھم نبا الذی اتیناہ ایاتنا فانسلخ منھا، انہیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنائیں جسے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا) تا قول باری (فمثلہ کمثل الکلب، اس کی مثال کتے جیسی ہے۔ )
Ayah 62:6

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے یہود ! اگر تم کو یہ دعوے ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو

یہود کی خام خیالی قول باری ہے (قل یایھا الذین ھادوا ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صادقین، ان سے کہو ” اے لوگوجو یہودی بن گئے ہو ! اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو ) تا قول باری (واللہ علیم بالظلمین، اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے) ایک روایت کے مطابق یہودا اس گھمنڈ میں مبتلا تھے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر صرف یہی لوگ اللہ کے پیارے اور چہیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ﷺ کو یہ بتادیا کہ اگر یہ موت کی تمنا کریں گے تو مرجائیں گے۔ اس آیت کے ذریعہ دو وجوہ سے ان پر حجت تام ہوگئی۔ ایک تو یہ کہ اگر یہ لوگ اللہ کے ہاں اپنی قدرومنزلت کے دعوے میں سچے ہوتے تو موت کی ضرور تمنا کرتے کیونکہ موت کے ذریعے جنت میں داخل ہوجانا دنیا میں زندہ رہنے سے بہتر ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ یہ لوگ موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دی ہوئی خبر حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی۔ اس لئے یہ چیز بھی نبوت کے واضح ترین دلائل میں سے ہے۔
Ayahs 62:7–9

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ ان (اعمال) کے سبب جو کرچکے ہیں ہرگز اسکی آرزو نہیں کریں گے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آکر رہے گی پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

مومنو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

اذان جمعہ سے کیا مرا د ہے ؟ قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا نودی لصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع، اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ) تا آخر آیت۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز حسب معمول باجماعت نمازیں ادا کی جاتی ہیں جس طرح اس روز زندگی کے اور دوسرے مشاغل سرانجام دیے جاتے ہیں لیکن آیت میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان ہی نمازوں میں سے کوئی جمعہ کی نماز ہے۔ تاہم مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ آیت میں اس سے وہ نماز مراد ہے کہ جسے اگر کوئی شخص جمعہ کے روز امام کے ساتھ ادا کرلے تو پھر اس پر ظہر پڑھنا لازم نہیں ہوتا۔ اس نماز کی دو رکعتیں ہیں جو زوال کے بعد جمعہ کی شرائط کے تحت ادا کی جاتی ہیں۔ سب کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ آیت میں جس نداء کا ذکر ہے اس سے مراد اذان ہے، تاہم آیت میں اذان کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ البتہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زید کی روایت میں اسے بیان فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ نے خواب میں اذان دیتے ہوئے کسی کو دیکھا تھا اور یہی خواب حضرت عمر ؓ کو آیا تھا۔ پھر حضور ﷺ نے اذان کے یہ کلمات حضرت ابومحذورہ کو سکھا دیے تھے۔ اس میں ترجیع کا بھی ذکر ہے۔ ہم نے اذان کے مسئلے پر قول باری (واذا نادیتم الی الصلوۃ اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو) کی تفسیر کرتے ہوئے روشنی ڈالی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ اور حسن بصری سے قول باری (اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ) کی تفسیر منقول ہے کہ امام جب نکل آئے یعنی مسجد میں داخل ہوکر منبر پر بیٹھ جائے اور پھر موذن اذان دے دے تو گویا نماز جمعہ کے لئے پکار ہوگئی۔ زہری نے حضرت سائب ؓ بن یزید سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے ایک موذن ہوتے تھے جب آپ منبر پر بیٹھ جاتے تو وہ اذان دیتے اور پھر جب منبر سے نیچے تشریف لاتے تو وہ اقامت کہہ دیتے۔ یہی طریق کا ر حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں رہا پھر حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بھی۔ لیکن جب حضرت عثمان ؓ خلیفہ بنے اور لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی نیز آبادی پھیل گئی تو آپ نے تیسری اذان کا اضافہ کردیا۔ سلف کی ایک جماعت سے پہلی اذان کا انکار منقول ہے جو امام کے باہر آنے سے پہلے دی جاتی ہے۔ وکیع نے ہشام بن الغار سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے جمعہ کے دن پہلی اذان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ” حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اسے اچھا ہی کیوں نہ سمجھیں۔ “ منصور نے حسن سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ جمعہ کے دن نداء یعنی اذان وہ ہوتی ہے جو امام کے باہر آنے پر دی جاتی ہے اس سے پہلے کہ اذان نئی ایجاد ہے۔ عبدالرزاق نے ابن جریج سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کی ہے کہ ماضی میں جمعہ کی نماز کے لئے ایک اذان ہوتی تھی۔ اور اس کے بعد اقامت ہوجاتی تھی لیکن آج کل جو اذان امام کے باہر آکر منبر پر بیٹھنے سے پہلے دی جاتی ہے وہ باطل اور غلط ہے، اس کی ابتداء حجاج نے کی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے ایک اذان کا ذکر کیا ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد دی جائے اور پھر منبر سے نیچے آجانے کے بعد اقامت کہی جائے جیسا کہ حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ جمعہ کا وقت زوال کے بعد ہوتا ہے۔ حضرت انس ؓ ، حضرت جابر ؓ اور حضرت سہل بن سعد ؓ ، نیز حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ جمعہ کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد ادا کرتے تھے۔ شعبہ نے عمرو بن مرثد سے اور انہوں نے عبداللہ بن سلمہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود ؓ اور آپ کے رفقاء نے چاشت کے وقت جمعہ کی نماز پڑھا دی تھی اور پھر کہا تھا کہ تم لوگوں کے لئے گرمی کے خطرے کے پیش نظر میں ایسا کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کے متعلق مروی ہے کہ ان حضرات نے زوال کے بعد جمعہ کی نماز ادا کی تھی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے خود جب یہ کہہ دیا کہ ” میں نے تم لوگوں کے لئے گرمی کے خطرے کے پیش نظر اس نماز کو مقدم کردیا ہے۔ “ تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان کا یہ طریق کار اس عام ڈگر سے ہٹ کر تھا، جس سے لوگ متعارف تھے۔ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ گرمی یا سردی کی بناء پر فرائض کو ان کے مقررہ اوقات سے قبل ادا کرلینا جائز نہیں ہے جبکہ تقدیم و تاخیر کے شرعی اسباب موجودنہ ہوں۔ یہ ممکن ہے کہ حضر ت ابن مسعود ؓ نے جمعہ کی نماز ظہر کے اول وقت میں ادا کی ہو۔ ظہر کا اول وقت چاشت کے وقت سے قریب ترین ہوتا ہے۔ پھر راوی نے اسے اس بنا پر چاشت کا وقت کہہ دیا ہو کہ یہ وقت چاشت سے قریب ترین ہوتا ہے۔ جس طرح حضور ﷺ نے سحری کھاتے ہوئے فرمایا تھا (ھلم الی الغداء لمبا رک صبح کے مبارک کھانے میں تم بھی شریک ہوجائو) آپ نے سحری کو صبح کا کھانا قرار دیا کیونکہ سحری کا وقت صبح کے وقت سے قریب ہوتا ہے۔ یا جس طرح حضرت حذیفہ ؓ کا قول ہے کہ ” ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ دن کے وقت سحری کھائی تھی۔ “ یہاں مفہوم یہ ی ہے کہ سحری کا وقت دن کے وقت سے قریب ہوتا ہے۔ نماز جمعہ میں اختلاف ائمہ فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ دخول وقت کے ساتھ کون سی نماز فرض ہوتی ہے جمعہ یا ظہر کی۔ کچھ حضرات کا قول ہے کہ جمعہ کی نماز فرض ہوتی ہے اور ظہر کی نماز اس کا بدل ہوتی ہے۔ بعض حضرات کا قول اس کے برعکس ہے کہ ظہر کی نماز فرض ہوتی ہے اور جمعہ کی نماز اس کا بدل ہوتی ہے اس لئے یہ بات محال ہوگئی کہ بدل کی ادائیگی اس وقت کے سوا جس میں بدل منہ کی ادائیگی درست ہوتی ہو کسی اور وقت میں کی جائے۔ مبدل منہ ظہر کی نماز ہے۔ جب یہ ثابت ہے کہ ظہر کی ادائیگی کا وقت زوال کے بعد ہوتا ہے تو اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ دوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی اذان کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ قول باری (فاسعوا الی ذکر اللہ) کی قرات حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عبداللہ بن الزبیر نے ” فامضوا الی ذکر اللہ “ (اللہ کے ذکر کی طرف چل پڑو) کی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر میں ” فاسعوا “ کی قرات کرتا تو دوڑتا ہوا جاتا کہ میری چادر گرجاتی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے ” فامضوا “ کے لفظ سے آیت کی تفسیر کی ہے ، نص قرات مراد نہیں لی ہے۔ جس طرح انہوں نے ایک عجمی کو آیت (ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم زقوم کا درخت گنہگاروں کی خوراک ہے) کی تعلیم دیتے ہوئے جب دیکھا کہ اس کی زبان پر ” الاثیم “ کا لفظ نہیں چڑھ رہا ہے اور وہ اس لفظ کو ” الیتیم “ پڑھے جارہا ہے تو پھر مجبور ہوکر اسے ” طعا الفاجر کا لفظ پڑھادیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا مقصد اس عجمی کو اس لفظ کے معنی کا افہام تھا۔ حسن کا قول ہے کہ سعی سے دوڑنا مراد نہیں ہے۔ بلکہ دل اور نیت کی سعی مراد ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ سعی سے ذہاب یعنی جانا مراد ہے۔ عکرمہ کے قول کے مطابق سعی کے معنی عمل کے ہیں۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ (فاسعوا) کے معنی ” اجیبوا “ (لبیک کہو، جواب دو ) کے ہیں۔ دوڑ کر جانا اس کے معنی نہیں ہیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بہتر بات یہ ہے کہ سعی سے نیت وعمل کا اخلاص مراد لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سعی کے لفظ کا کئی مقام پر ذکر فرمایا ہے لیکن کسی جگہ رفتار کی سرعت مراد نہیں ہے۔ چناچہ ارشاد ہے (ومن ارادا الاخرۃ وسعی لھا سعیھا جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے مطابق سعی کرے) اسی طرح ارشاد ہے (واذا تولی سعی فی الارض ، جب اسے حکومت ملتی ہے تو زمین میں کوشاں ہوجاتے ہے) نیز فرمایا (وان لیس للانسان الا ماسعی۔ اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لئے وہ کوشش کرے گا) یہاں عمل مراد ہے۔ العلاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذاثوب بالصلوٰۃ فلا تاتوھا وانتم تسعون ولکن ائتوھا وعلیکم السکینۃ والوقارفما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاتموا، جب نماز کی اقامت ہوجائے تو تم جماعت میں شامل ہونے کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آئو بلکہ پورے سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آکر شامل ہوجائو، پھر امام کے ساتھ نماز کا جتنا حصہ مل جائے وہ ادا کرلو اور جو باقی رہ جائے اسے پورا کرلو) حضور ﷺ نے اس حکم میں جمعہ اور غیر جمعہ کی نمازوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ نیز فقہاء امصار کا متفقہ قول ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے نمازی اپنی اصل رفتار سے چل کر جائے گا۔ فصل جمعہ صرف شہروں تک محدود ہے یا دیہات بھی شامل ہیں ؟ فقہاء امصار کا اس پر اتفاق ہے کہ نماز جمعہ کے لئے جگہ مخصوص ہوتی ہے۔ اس خاص جگہ کے سوا کہیں اور اس کی ادائیگی جائز نہیں ہوتی۔ کیونکہ فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ بوادی یعنی صحرا اور جنگل نیز بدویوں کے گھاٹ جیسے مقامات پر جمعہ کی نماز جائز نہیں ہوتی۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے جمعہ شہروں کے ساتھ مخصوص ہے، دیہاتوں میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی۔ سفیان ثوری اور عبیداللہ بن الحسن کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ ہر ایسے گائوں میں جمعہ جائز ہے جہاں مکانات ایک دوسرے سے متصل بنے ہوئے ہوں اور بازار کی دکانیں بھی متصل ہوں۔ وہاں کے رہنے والے امام نہ ہونے کی صورت میں کسی کو آگے کردیں گے جو خطبہ دے کر انہیں جمعہ کی نماز پڑھا دے گا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ جمعہ کی نماز صرف ایسی مسجد میں جائز ہوگی جہاں امام کے پیچھے پانچوں وقت باجماعت نماز پڑھی جاتی ہو۔ امام شافعی کا قول ہے کہ اگر گائوں کے مکانات ایک جگہ بنے ہوئے ہوں اور گائوں والے صرف اپنی ضروریات کے لئے وہاں سے باہر جاتے ہوں، مستقل طور پر کوچ نہ کرجاتے ہوں، اور ان کی تعداد چالیس ہو جو سب کے سب آزاد اور بالغ ہوں، ان میں سے کوئی دیوانہ وغیرہ نہ ہو تو ان پر جمعہ کی نماز فرض ہوجائے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ سے مروی ہے (لا جمعۃ ولا تشریق الا فی مصر حامع، جمعہ اور عید کی نمازیں صرف جامع قسم کے شہر میں جائز ہوتی ہیں) حضرت علی ؓ سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ نیز جمعہ اگر گائوں میں جائز ہوتا تو اس کی روایت بھی اسی تواتر کے ساتھ ہوتی جس طرح شہروں کے اندر اس کے جواز کی روایت تو اتر کے ساتھ منقول ہے کیونکہ عوام الناس کی یہ ایک ضرورت تھی۔ نیز جب سب کا اس پر اتفاق ہے کہ صحرا اور جنگل میں جمعہ جائز نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ شہر نہیں ہوتے تو دیہاتوں کے بارے میں بھی یہی حکم واجب ہونا چاہیے۔ ایک روایت کے مطابق حسن بصری سے کہا گیا کہ حجاج نے اہواز میں جمعہ جاری کردیا ہے یہ سن کر انہوں نے کہا : ” حجاج پر خدا کی لعنت ہو، شہروں میں جمعہ جاری کرنے کی بجائے علاقوں کے خلقوم یعنی چھوٹے چھوٹے مقامات پر جمعہ جاری کرتا ہے۔ “ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہر اس شخص پر جمعہ واجب ہے جس کے پاس رات گزارنے کے لئے اپنا ٹھکانہ ہو۔ نیز حضرت انس بن مالک ؓ مقام طف میں رہتے تھے بعض دفعہ وہ وہاں جمعہ کی نماز کرادیتے تھے اور بعض دفعہ نہیں کراتے تھے۔ ایک قول کے مطابق طف سے بصرہ تک کا فاصلہ چار فرسخ سے کم تھا (ایک فرسخ تقریباً آٹھ کیلومیٹر ہوتا ہے) دونوں مقامات کے درمیان سفر میں نصف دن سے بھی کم وقت لگتا تھا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا یہ بات ان مقامات کے بارے میں ہے جو شہر کے حکم میں ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کی رائے یہ تھی کہ جو مقامات شہر سے قریب ہوں وہ بھی شہر کے حکم میں ہوتے ہیں۔ اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ واجب ہوتا ہے۔ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان حضرات کی رائے میں جمعہ صرف شہروں میں یا ایسے مقامات میں جائز ہوتا ہے جو شہر کے حکم میں ہوں۔ جمعہ کی نماز کی دو رکعتیں ہوتی ہیں ۔ امت نے حضور ﷺ سے قولاً اور عملاً اسے روایت کی ہے۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ ” سفر کی نماز دو رکعتیں ہوتی ہیں، فجر کی نماز کی دو رکعتیں ہوتی ہیں۔ اور اسی طرح جمعہ کی نماز کی بھی دو رکعتیں ہوتی ہیں جو قصر نہیں ہوتیں بلکہ مکمل ہوتی ہیں۔ یہ حکم تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے دیا گیا ہے۔ جمعہ کو خطبہ کی وجہ سے دو رکعتوں پر مقصود کردیا گیا ہے۔ جمعہ کے خطبے کے وجوب کا بیان قول باری ہے (فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع۔ اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو ) آیت اللہ کے ذکر کی طرف وجوب سعی کی مقتضی ہے۔ اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ یہ ایک واجب ذکر ہے جس کی طرف سعی واجب ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ ذکر اللہ سے خطیب کی پندو موعظت مراد ہے۔ ہم نے چند سطور پہلے جس روایت کا ذکر کیا ہے اس میں حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہے : ” جمعہ کو خطبہ کی وجہ سے دو رکعتوں پر مقصود کردیا گیا ہے۔ “ زہری نے سعید بن المسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر آکھڑے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے آنے والوں کے نام سب سے پہلے لکھتے ہیں۔ جب امام خطبے کے لئے برآمد ہوتا ہے تو ناموں کی ان فردوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور فرشتے خطبہ سننے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ جو شخص دوپہر کی دھوپ میں جمعہ پڑھنے کے لئے جاتا ہے یعنی سب سے پہلے مسجد میں پہنچتا ہے وہ گویا اونٹ کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد آنے والا گویا گائے کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد آنے والا گویا بکری کی، اس کے بعد آنے والا مرغی کی اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی دیتا ہے۔ “ آیت میں ذکر سے اسی مقام پر خطبہ مراد ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اذان جمعہ کے بعد خطبہ کا نمبر آتا ہے اور اسکی طرف سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے خطبہ مراد ہے۔ سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ امام اگر خطبہ نہ دے تو اس صورت میں چار رکعتیں پڑھائے گا۔ حسن بصری، ابن سیرین، طائوس، ابن جبیر وغیرہم اس گروہ میں شامل ہیں اور فقہاء امصار کا بھی یہی قول ہے۔ کوئی خطبہ نہ سن سکا تو نماز کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ اگر کسی شخص کو جمعہ کا خطبہ نہ ملے لیکن پوری نماز یا اس کا بعض حصہ مل جائے تو ایسے شخص کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ جس شخص کو جمعہ کا خطبہ نہ ملے وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے گا۔ سفیان نے ابن ابی نجیح سے روایت کی ہے اور انہوں نے مجاہد ، عطاء اور طائوس سے کہ جس شخص کو جمعہ کا خطبہ نہ ملے وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔ ابن عون کا قول ہے کہ محمد بن سیرین کے سامنے اہل مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا کہ اگر کسی کو جمعہ کا خطبہ نہ ملے تو وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔ انہوں نے یہ سن کر کہا کہ ” یہ ایک بےکار بات ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح اور چند دوسرے اصحاب کے سوا جن کا ہم نے قول نقل کیا ہے فقہاء امصار اور سلف کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس شخص کو جمعہ کی ایک رکعت مل جائے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے گا۔ فقہاء کے ساتھ عطاء بن ابی رباح کا اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر ایک شخص خطبہ سننے کے بعد وضو کرنے چلا جائے اور پھر امام کے پیچھے اسے صرف ایک رکعت ملے تو وہ دو رکعتیں پڑھے گا۔ جب ایک رکعت کا رہ جانا اسے جمعہ کی ادائیگی سے روک نہیں سکتا تو خطبہ کا رہ جانا اسے اس کی ادائیگی سے بطریق اولیٰ نہیں روکے گا۔ اوزاعی نے عطاء سے روایت کی ہے کہ جس شخص کو جمعہ کی نماز کی صرف ایک رکعت ملے وہ اس کے ساتھ تین رکعتیں اور ملائے گا۔ یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس شخص سے صرف ایک رکعت ہی نہیں رہ گئی تھی بلکہ خطبہ بھی رہ گیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ، حضرت انس ؓ ، حسن، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی اور شعبی کا قول ہے کہ اگر کسی کو جمعہ کی ایک رکعت مل گئی ہو تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالے گا۔ زہری نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من ادرک رکعۃ من الجمعۃ فلیصل الیھا اخری ومن فاتتہ الرکعتان یصلی اربعا۔ جس شخص کو جمعہ کی ایک رکعت مل جائے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالے اور جس شخص کی دونوں رکعتیں رہ گئی ہوں وہ چار پڑھے گا) اگر کوئی شخص تشہد کے اندر امام کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوجاتا ہے تو ایسے شخص کے متعلق فقہاء امصار کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ابو وائل نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ جو شخص تشہد کو پالیتا ہے وہ پوری نماز کو پالیتا ہے۔ “ ابن جریج نے عبدالکریم سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ ” اگر سلام پھیرنے سے پہلے کوئی شخص جمعہ کی جماعت میں شریک ہوجاتا ہے جبکہ امام قعدہ میں ہو تو وہ جمعہ کی نماز پالیتا ہے۔ “ حسن بصری، ابراہیم نخعی اور شعبی سے مروی ہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز میں رکوع کے اندر امام کے ساتھ شریک نہیں ہوگا وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کا قول ہے کہ اگر تشہد کے اندر وہ نمازیوں کے ساتھ شامل ہوجائے تو اس صورت میں دو رکعتیں پڑھے گا ۔ امام زفر اور امام محمد کا قول ہے کہ چار رکعتیں پڑلے گا۔ طحاوی نے ابن ابی عمران سے ، انہوں نے محمد بن سماعہ سے اور انہوں نے امام محمد سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ چار رکعتیں پڑھے گا۔ پہلی دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار قعدہ کرے گا۔ اگر تشہد کی مقدار رقعدہ نہیں کرتا تو میں اسے ظہر کی چار رکعتیں پڑھنے کے لئے کہوں گا۔ امام مالک، ثوری، حسن بن صالح اور امام شافعی کا قول ہے کہ چار رکعتیں پڑھے گا۔ البتہ امام مالک نے کہا ہے کہ جب کھڑا ہوگا تو ایک اور تکبیر کہے گا۔ سفیان ثوری کا قول ہے کہ جب وہ امام کے ساتھ قعدہ میں شامل ہوجائے گا تو سلام نہیں پھیرے گا بلکہ ظہر کی نیت کے ساتھ چار رکعتیں پڑھ لے گا۔ اور مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ نئے سرے سے نماز کا افتتاح کرلے۔ عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے کہا ہے کہ جمعہ کی نماز میں امام کے ساتھ جب تشہد میں شریک ہوجائے گا تو تکبیر کے بغیر قعدہ کرلے گا۔ پھر جب امام سلام پھیرلے گا تو یہ کھڑا ہوجائے گا اور تکبیر کہنے کے بعد اپنی نماز میں داخل ہوجائے گا۔ اگر تکبیر کہہ کر امام کے ساتھ قعدہ میں مل جائے گا تو امام کی فراغت کے ساتھ یہ بھی سلام پھیر لے گا پھر کھڑا ہوکر ظہر کی نماز کے لئے تکبیر کہے گا۔ لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر جمعہ کی نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ اس خیال کے ساتھ ادا کرلے کہ امام نے خطبہ دیا تھا تو اس رکعت کے ساتھ دوسری رکعت ملالے گا اور پھر سلام پھیر دے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد اگر لوگ اسے بتائیں کہ امام نے خطبہ ہی نہیں دیا تھا بلکہ چار رکعتیں پڑھائی تھیں تو یہ دو رکعتیں پڑھ کر سجدہ سہو کرے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جب یہ فرما دیا کہ (ما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا امام کے ساتھ نماز کا جتنا حصہ ملے اسے پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے اسے پورا کرلو) تو اس سے جمعہ کے تشہد میں امام کے ساتھ شامل ہونے والے پر اس کا اتباع یعنی اس کے ساتھ قعدہ کرنا واجب ہوگیا۔ جب اس نے نماز کے اس حصے کو امام کے ساتھ ادا کرلیا تو اس پر رہ جانے والے حصے کو پورا کرنا واجب ہوگیا۔ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد (وما فاتکم فاقضوا) ظاہراً اسی کا مقتضی ہے۔ اب اس سے جو نماز رہ گئی وہ جمعہ کی نماز تھی اس لئے اس پر دو رکعتوں کی ادائیگی واجب ہوگئی۔ نیز مسافر اگر مقیم امام کے ساتھ تشہد میں شامل ہوجائے تو اس پر اتمام لازم ہوگا یعنی وہ قصر نہیں کرے گا اور اس کی حیثیت اس شخص جیسی ہوگی جو امام کی تکبیر تحریمہ میں شامل ہوا تھا۔ اس لئے جمعہ کے اندر بھی یہی حکم واجب ہوگا۔ کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نماز کے اندر اس کا دخول فرض کے بغیر ہوا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ (من ادرک رکعۃ من الجمعۃ فلیصل الیھا اخری جس شخص کو جمہ کی ایک رکعت مل جائے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے) اور بعض روایات کے الفاظ یہ ہیں (وان ادرکھم جلوسا صلی اربعا، اور اگر وہ لوگوں کے ساتھ قعدہ میں شامل ہوا ہو تو چاررکعتیں پڑھ لے) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اصل روایت اس طرح ہے (من ادرک رکعۃ من الصلوٰۃ فقدادرک جس شخص کو نماز کی ایک رکعت مل گئی اسے نماز مل گئی) حدیث کے راوی زہری کا قول ہے ” میں جمعہ کو بھی نماز سمجھتا ہوں ۔ “ اس لئے روایت میں جمعہ کا ذکر زہری کا اپنا قول ہے۔ یہ روایت زہری سے آگے چلی ہے۔ وہ کبھی اسے سعید بن المسیب سے روایت کرتے ہیں اور کبھی ابوسلمہ سے اور وہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے۔ زہری نے مطلق نماز کے سلسلے میں اس حدیث کی روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” میں جمعہ کو بھی نماز سمجھتا ہوں۔ “ اگر زہری کے نزدیک یہ روایت حضور ﷺ سے جمعہ کے بارے میں نص ہوتی تو وہ اپنا درج بالا فقرہ ہرگز نہ کہتے۔ علاوہ ازیں حضور ﷺ کے ارشاد (من ادرک رکعۃ من الجمعۃ فقد ادرک) میں اس امر پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ جس شخص کو جمعہ کی ایک رکعت نہ ملے وہ چاررکعتیں پڑھے۔ یہی صورت اس ارشاد کی بھی ہے (من ادرکعۃ من الجمعۃ فلیضف الیھا رکعۃ اخری) رہ گئی وہ روایت جس میں ذک رہے (وان ادرکھم جلوسا صلی اربعا) تو اس کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ اس فقرے کا حضور ﷺ کا کلام ہونا ثابت نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کسی راوی کا اپنا فقرہ ہو جسے اس نے اصل روایت میں داخل کردیا ہے۔ اگر حضور ﷺ سے اس کی روایت درست ہوجائے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ” وہ لوگوں کو بیٹھا ہوا پائے اور امام سلام پھیر چکا ہو۔ فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جمعہ کا وجوب ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو آزاد ، بالغ اور حالت اقامت میں ہوں۔ عورتوں، غلاموں، غلاموں، مسافروں اور درماندہ لوگوں کے ساتھ اس کا وجوب کا تعلق نہیں ہے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (رابعۃ لا جمعۃ علیھم العبد والمراۃ والمریض والمسافر، چار قسم کے اشخاص پر جمعہ واجب نہیں۔ غلام، عورت، مریض اور مسافرپر) نابینا کے متعلق امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اس پر جمعہ نہیں۔ امام صاحب نے نابینا کو اپاہج کا درجہ دیا ہے۔ کیونکہ وہ دوسرے کی مدد کے بغیر جمعہ کی نماز میں حاضر ہونے کی قدرت نہیں رکھتا۔ امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اس پر جمعہ ہے۔ ان دونوں حضرات نے نابینا اور اپاہج کے درمیان فرق کیا ہے۔ ان کے نزدیک نابینا آدمی اس شخص کی طرح ہوتا ہے جسے راستہ معلوم نہ ہو، جب اسے راستہ بتادیا جائے تو وہ خود چل پڑتا ہے۔ اس کے برعکس اپاہج انسان خود چل کر جا نہیں سکتا بلکہ اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اٹھا کرلے جائے۔ دوسری طرف امام ابوحنیفہ نے نابینا اور راستے سے ناواقف کے درمیان فرق رکھا ہے اس لئے کہ جو شخص راستے سے ناواقف ہو اسے جب راستہ بتادیا جائے تو وہ خود اس راستے کو پالیتا ہے جبکہ نابینا انسان نہ تو خود راستہ پاسکتا ہے اور نہ ہی رہنمائی کرنے اور بتانے پر وہ اسے جان سکتا ہے۔ امام ابویوسف اور امام محمد کے مسلک کے حق میں اس روایت سے استدلال کیا جاسکتا ہے جسے ابوزرین نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ بن ام مکتوم نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میں نابینا ہوں، مسجد سے میرا گھر دور ہے اور میرے ساتھ آنے والا کوئی قائد بھی نہیں ہے، آیا مجھے اس بات کی اجازت مل سکتی ہے کہ میں مسجد میں نہ آیا کروں اور گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کروں۔ “ حضور ﷺ نے ان کی اس بات کا نفی میں جواب دیا۔ حصین بن عبدالرحمن کی روایت میں جو انہوں نے عبداللہ بن شداد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم سے کی ہے یہ ذکر ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی بات سن کر ان سے پوچھا تھا : ” آیا تم اذان کی آواز سنتے ہو۔ “ انہوں نے عرض کیا کہ سنتا ہوں “ اس پر آپ نے فرمایا، پھر نماز کے لئے آیا کرو۔ جمعہ میں نمازیوں کی تعداد جمعہ کی نماز کی صحت کے لئے نمازیوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ اس بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام محمد، زفر اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ امام کے سوا کم از کم تین آدمی ہوں۔ امام ابویوسف کا قول ہے کہ امام کے سوا دو آدمی ہوں۔ ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی موجود ہو اور امام اسے خطبہ دے کر نماز پڑھا دے تو دونوں کی نماز کی ادائیگی ہوجائے گی۔ امام مالک نے اس سلسلے میں کوئی تعداد مقرر نہیں کی ہے۔ امام شافعی نے چالیس آدمیوں کا اعتبار کیا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ تجارتی قافلے کی آمد کی اطلاع ملی۔ لوگ اس طرف چلے گئے اور آپ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (واذاراوتجارۃ او لھوان انفضوا الیھا) یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مدینہ تشریف لانے کے بعد آپ نے کبھی جمعہ کی نماز نہیں چھوڑی اور روایت میں ذکر نہیں ہے کہ جو لوگ تجارتی قافلے کی آمد کی خبر سن کر چلے گئے تھے وہ واپس بھی آگئے تھے، جس سے یہ بات لازم ہوگئی کہ آپ نے بارہ آدمیوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی تھی۔ اصحاب سیر نے یہ نقل کیا ہے کہ مدینہ منورہ حضور ﷺ کے پہلا جمعہ حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے پڑھایا تھا جس میں بارہ افراد شریک ہوئے تھے۔ یہ بات ہجرت سے پہلے کی ہے اس لئے اس روایت کی بنا پر چالیس آدمیوں کا اعتبار باطل ہوگیا۔ نیز ثلاثۃ یعنی تین کا لفظ جمع صحیح ہے اس لئے وہ اربعون یعنی چالیس کی طرح ہے کیونکہ دونوں ہی جمع صحیح ہیں۔ البتہ تین سے کم کے ہند سے کے جمع صحیح ہونے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ اس لئے تین پر اقتصار کرنا اور تین سے کم کے اعتبار کو ساقط کردینا واجب ہے ۔ قول باری ہے (وذراوالبیع اور خرید و فروخت ترک کردو) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ خریدوفروخت ترک کردینے کے وقت کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ مسروق، ضحاک اور مسلم بن یسار سے مروی ہے کہ زوال شمس کے ساتھ ہی خرید و فروخت کی ممانعت ہوجاتی ہے۔ مجاہد اور زہری کا قول ہے کہ اذان کے ساتھ ہی اس کی ممانعت ہوجاتی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس سلسلے میں جمعہ کے وقت کا اعتبار اولیٰ ہے کیونکہ وقت کے دخول کے ساتھ ہی لوگوں پر جمعہ کی حاضری واجب ہوجاتی ہے اس لئے اگر اذان دیر سے بھی ہو تو اس سے وجوب ساقط نہیں ہوتا۔ کیونکہ زوال سے پہلے اذان کے کوئی معنی نہیں تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ زوال کے بعد جمعہ کی اذان کا وقت نماز جمعہ میں حاضری کے وجوب کے بعد ہوتا ہے۔ جمعہ کی نماز کے لئے اذان کے وقت خریدوفروخت کے جواز میں اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد، زفر اور امام شافعی کا قول ہے کہ نہی کے باوجود بیع واقع ہوجاتی ہے امام مالک کا قول ہے کہ بیع باطل ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ارشاد باری ہے (ولا تاکلوا امالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم) نیز حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا یحل مال امری مسلم الا بطیبۃ من نفسہ) ظاہراً یہ ارشاد تمام اوقات میں عقد بیع کے ذریعے فروخت شدہ چیز کی مشتریکی ملکیت میں آجانے کا مقتضی ہے۔ کیونکہ اس عقد باہمی رضامندی کی شرط پائی گئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وذروا البیح) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم دونوں آیتوں پر عمل کرتے ہیں، جمعہ کے وقت عقد بیع کی ممانعت ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وذروالبیع) ۔ لیکن دوسری آیت نزی مذکورہ بالا روایت کے حکم کے تحت عقد بیع ہوجانے کی صورت میں ملکیت واقع ہوجائے گی۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھے، نہی کا تعلق نفس عقد میں کسی فساد یا خرابی کے ساتھ نہیں ہے، اس کا تعلق ایک ایسے سبب کے ساتھ ہے جو خود اس عقد بیع میں موجود نہیں ہوتا۔ اور وہ سبب اشتغال عن الصلوٰۃ ہے یعنی نماز جمعہ کے لئے جانے میں رکاوٹ بننے والی مصروفیت اس لئے بیع کے وقوع اور اس کی صحت کے لئے اس سبب کا مانع نہ ہونا لازم قرار پایا۔ جس طرح فرض نماز کے آخری وقت میں کیا گیا عقد بیع درست ہوتا ہے اگر اس میں نماز قوت ہوجانے کے خطرے کے پیش نظر اس کی ممانعت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ نہی کا تعلق اشتغال عن الصلوٰۃ کے ساتھ ہے۔ اس بیع کی مثال خریدوفروخت کی ان صورتوں جیسی ہے جن کی ممانعت ہے لیکن یہ ممانعت ان کے وقوع ہوجانے کی راہ میں حائل نہیں ہوتی، مثلاً آئے ہوئے تجارتی قافلے سے شہر کے باہر جاکر مل لینا اور ان کے ساتھ مول تول کرلینا یا دیہاتی کے ساتھ شہر کی خریدوفروخت یا غصب شدہ زمین پر بیٹھ کر خریدوفروخت کرنا وغی رہے۔ عبدالعزیز الدر اور دی نے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ” جب تم مسجد میں کسی شخص کو بیع کرتے ہوئے دیکھو تو کہو ” لا اربح اللہ تجارتک “ (اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو کبھی نفع بخش نہ بنائے) اور جب تم کسی کو مسجد کے اندر اپنی شدہ چیز تلاش کرتے ہوئے دیکھو تو کہو ” لارد اللہ علیک “ (اللہ تعالیٰ تمہاری یہ چیز تمہیں کبھی واپس نہ دے) محمدبن عجلان نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمرو کے دادا سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے مسجد میں خریدوفروخت کی ممانعت کی ہے۔ نیز آپ ﷺ نے وہاں گمشدہ چیز کی تلاش سے اور شعرخوانی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے کی بھی ممانعت کی ہے۔ عبدالرزاق نے روایت بیان کی ہے، انہیں محمد بن مسلم نے عبدربہ بن عبیداللہ سے انہوں نے مکحول سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” تم اپنی مساجدکو اپنے دیوانوں اور بچوں سے بچا کر رکھو، نیز رفع اصوات سے خریدوفروخت سے ، اقامت حدود سے اور جھگڑے لڑائی سے بھی انہیں محفوظ رکھو، جمعہ کے دنوں میں انہیں دھونی دو اور ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کے لئے مطابر یعنی پانی اور ڈھیلے وغیرہ رکھ دو ۔ “ اس روایت میں حضور ﷺ نے مسجد بیع وشراء سے منع فرمایا لیکن اگر بیع وشراء کرلی جائے تو جائز ہوگی کیونکہ نہی کا تعلق ایسے سبب کے ساتھ ہے جو نفس عقد میں موجود نہیں ہے۔ جمعہ کے دن سفر کا بیان ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جمعہ کے دن زوال سے پہلے اور زوال کے بعد سفر شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ سفر پر جانے والا ظہر کا وقت نکل جانے سے پہلے پہلے اپنے شہر سے باہر ہوجائے۔ امام محمد الیسر میں اس مسئلے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ طلوع فجر کے بعد مجھے اس کا سفر پسند نہیں ہے اگرچہ حرام نہیں ہے، لیکن زوال کے بعد جمعہ پڑھے بغیر اسے سفر نہیں کرنا چاہیے۔ اوزاعی، لیث بن سعد اور امام شافعی جمعہ کی نماز پڑھے بغیر سفر کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ حماد بن سلمہ نے حجاج بن ارطاۃ سے، انہوں نے الحکم بن عیینہ سے، انہوںے مقسم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن رواحہ ؓ ، حضرت جعفر ؓ اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کو کسی مہم پر روانہ کیا، حضرت عبداللہ بن رواحہ پیچھے رہ گئے۔ حضور ﷺ نے جب ان سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا کہ جمعہ کی وجہ سے میں پیچھے رہ گیا ہوں، جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد میں چل پڑوں گا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا (لغدوۃ فی سبیل اللہ اور روحۃ خیر من الدنیا ومافیھا۔ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام لگانا دنیاو مافیہا سے بہتر ہے) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ اسی وقت روانہ ہوگئے۔ سفیان ثوری نے اسود بن قیس سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” جمعہ کی نماز سفر سے نہیں روکتی۔ “ ہمیں کسی صحابی کے متعلق یہ علم نہیں ہے کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کی اس رائے سے اختلاف کیا ہو۔ یحییٰ بن سعید نے نافع سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ایک بیٹا عقیق کے مقام پر تھا جو مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک جمعہ کی صبح کو حضرت ابن عمر ؓ کو اپنے بیٹے کی بیماری کی اطلاع ملی۔ وہ جمعہ چھوڑ کر اپنے بیٹے کی عیادت کے لئے عتیق چلے گئے۔ عبیداللہ بن عمر نے کہا ہے سالم جمعہ کے روز مکہ سے چل پڑے تھے۔ عطاء اور قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ ان دونوں حضرات نے جمعہ کے روز دن کے اول حصے میں سفر کو مکروہ سمجھا ہے۔ حسن اور ابن سیرین سے مروی ہے کہ جب تک جمعہ کا وقت نہ ہوجائے اس سے پہلے سفر پر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسرائیل نے ابراہیم بن المہاجر سے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص جمعرات کو سفر پر جانے کا ارادہ کرے تو صبح صبح سفر پر چلا جائے یہاں تک کہ دن پوری طرح چڑھ جائے۔ پھر اگر شام تک قیام کرے تو اگلے دن جمعہ پڑھے بغیر سفر نہ شروع کرے۔ عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ” جب تم پر جمعہ کی رات آجائے تو جمعہ پڑھے بغیر سفر پر نہ جائو۔ “ یہ حضرت عائشہ ؓ اور ابراہیم نخعی کا مسلک تھا، جبکہ ارشاد باری ہے (ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی منا کبھا وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع کررکھا ہے، چلو اس کی چھاتی پر) اللہ تعالیٰ نے تمام اوقات میں سفر کی اباحت کردی ہے اور کسی خاص وقت کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کی یہ بات جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن زوال سے پہلے سفر کی اباحت کے سلسلے میں بالکل واضح ہے لیکن زوال کے بعد سفر کی ممانعت واجب ہے کیونکہ زوال کے ساتھ ہی اسے نماز جمعہ کی حاضری کا خطاب لاحق ہوجاتا ہے اس لئے کہ قول باری ہے (اذا نودی لصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع) اس کے جواب میں کہا جائے گا اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ خطاب مسافروں کو لاحق نہیں ہے۔ دوسری طرف ہماری نماز کی فرضیت کا تعلق آخر وقت کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے جب کوئی شخص آخر وقت میں گھر سے نکل کر سفر پر روانہ ہوجائے تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ جمعہ کی ادائیگی کے حکم کا مخاطب ہی نہیں تھا۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

قول باری ہے (فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ ، پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو) حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ اجازت اور رخصت ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کی ممانعت کے بعد اس کا ذکر کیا تو ظاہراً اس سے اباحت اور ممانعت کے رفع کا مفہوم حاصل ہوا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصلادوا اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو) ۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے ” اللہ کی اطاعت اور دعا کے ذریعے اس کا فضل تلاش کرو۔ “ ایک قول ہے کہ ” تجارت وغیرہ کے ذریعے اس کا فضل تلاش کرو۔ “ یہ بھی اباحت کا مفہوم ادا کررہا ہے۔ یہ بات زیادہ واضح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کی ابتداء میں بیع وشراء کی ممانعت کردی تھی جس طرح جمعہ کی طرف چل پڑنے کا حکم دیا تھا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں ظاہر قول باری (وابتغوا من فضل اللہ) میں بیع کی اباحت ہے جس کی ابتداء میں ممانعت کردی گئی تھی۔ ارشاد باری ہے (واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ، اور کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں) ۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ تجارت اور دوسرے کام کاج کے ذریعے اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اباحت مراد ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس حکم کے فوراً بعد فرمایا (واذکراللہ کثیرا، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو) آیت میں جمعہ کی نماز کے بعد سفر کی اباحت پر دلالت موجود ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ)
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ سوا یکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو اکثر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے

قول باری ہے (واذادم وتجارۃ او لھون انفضوا الیھا، اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل تماشہ ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے) حضرت جابر ؓ بن عبداللہ اور حسن سے مروی ہے کہ لوگوں نے دیکھا کہ قافلہ تجارت خوراک وغیرہ لے کر آیا ہے لوگوں کو اس کی بڑی ضرورت تھی کیونکہ ان پر بھوک کا غلبہ تھا۔ اور خوراک کی قلت درپیش تھی۔ حضرت جابر ؓ کا قول لہو سے آلات موسیقی مثلاً بانسری وغیرہ مراد ہیں۔ مجاہد کے قول کے مطابق اس سے طبلہ سارنگی وغیرہ مراد ہے۔ قول باری ہے (قل ما عند اللہ کہہ دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس موجود ہے) یعنی خطبہ سننے اور پندونصیحت کی مجلس میں حاضری دینے کا ثواب (خیر من اللھو ومن التجارۃ وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے) قول باری (و ترکوک قائما اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا) کھڑے ہوکر خطبہ دینے پر دلالت کرتا ہے۔ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ حضور ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے یا بیٹھ کر ؟ “ انہوں نے جواب دیا۔” تم قرآن میں آیت (وترکوک قائما) کی تلاوت نہیں کرتے ۔ “ حصین نے سالم سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ جمعہ کے روز شام سے ایک تجارتی قافلہ عین جمعہ کے وقت مدینہ پہنچا۔ اس وقت حضور ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ سامعین کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو وہ قافلہ دیکھنے کے لئے اس طرف چلے گئے اور حضور ﷺ صرف بارہ افراد رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جعفر بن محمد نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ تجارتی قافلے کی آمد کی اطلاع ملی، لوگ اس طرف چلے گئے اور مسجد نبوی میں صرف بارہ آدمی رہ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حصین سے پہلی حدیث کی روایت میں ابن فضیل اور ابن ادریس کے مابین اختلاف ہوگیا ہے۔ ابن فضیل نے یہ ذکر کیا ہے ” ہم حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ “ جبکہ ابن ادریس نے روایت کی ہے کہ ” حضور ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ “ یہاں یہ احتمال ہے کہ ابن فضیل کی روایت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہو کہ لوگ نماز کے لئے اکٹھے ہوگئے تھے اور جماعت کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ جو شخص جماعت کے انتظار میں ہوتا ہے وہ نماز کے اندر ہوتا ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے حسن سے قول باری (انفضوا الیھا وترکوک قائما) کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ اہل مدینہ کو خوراک کی قلت اور مہنگائی کا سامنا تھا۔ ایک تجارتی قافلہ عین اس وقت مدینے پہنچا جب حضور ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے۔ لوگوں کو جب قافلے کی آمد کی اطلاع ملی تو وہ اس طرف چل دیئے، حضور ﷺ اسی طرح کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وترکوک قائما) اس موقعہ پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا (لواتبع اخرھم اولھم لا لتھب علیھم الوادی نارا، اگر سب سے پہلے جانے والے شخص کی پیروی میں مسجد سے آخری آدمی بھی چلا جاتا تو پوری وادی ان پر آگ بن کر بھڑک اٹھتی۔ )