63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 63:1–9

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

اشھد کا لفظ بمعنی میں قسم کھاتا ہوں قول باری ہے (اذا جاء ک المنافقون قالواشھد انک لرسول اللہ، اے نبی ﷺ ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں) تا قول باری (اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ ، انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خودرکتے اور دنیا کو روکتے ہیں) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) کا لفظ قسم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین نے لفظ ” شھد “ استعمال کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قسم قرار دیا۔ چناچہ ارشاد ہوا (اتخذوا ایمانھم جنۃ) اس مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب، سفیان ثوری اور اوزاعی کا قول ہے کہ ” اشھد، اقسم اعزم اور احلف “ کے الفاظ سب قسم کے الفاظ ہیں۔ زفر کا قول ہے کہ اگر کوئی کہے ” اقسم لافعلن “ (میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ فلاں کام کروں گا) یہ تو قسم ہوگی اور اگر ” اشھد لا فعلن “ کا فقرہ کہے گا تو قسم نہیں ہوگی۔ امام مالک کا قول ہے کہ اگر ” اقسم “ کے لفظ سے اس کی مراد ” اقسم باللہ “ (اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں) ہو تو یہ قسم ہوگی ورنہ یہ فقرہ بےمعنی ہوگا۔ یہی صورت ” احلف “ (میں حلف اٹھاتا ہوں) کی ہے۔ امام مالک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ” اعزم “ (میں عزم کرتا ہوں) کہے تو یہ قسم نہیں ہوگی الا یہ کہ وہ یہ کہے ” اعزم باللہ “ (میں اللہ کے نام کے ساتھ عزم کرتا ہوں) اگر کوئی کہے ” علی نذر “ (مجھ پر نذر ہے) یا کہے ” علی نذر للہ “ (مجھ پر اللہ کے لئے نذر ہے) تو اس فقرے سے جو اس کی نیت ہوگی اس کے مطابق ہوگا۔ اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو تو اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہوگا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ لفظ ” اقسم “ قسم نہیں ہے البتہ ” اقسم باللہ “ قسم ہے۔ بشرطیکہ وہ قسم کا ارادہ کرے اگر وہ اس فقرے سے وعدہ کا ارادہ کرے گا تو یہ قسم نہیں ہوگی۔ اسی طرح فقرہ ” اشھد باللہ “ سے اگر قسم کی نیت ہوگی تو یہ قسم ہوگی اور اگر قسم کی نیت نہیں ہوگی تو یہ قسم نہیں ہوگی۔ اگر وہ ” اعزم باللہ “ کہہ کر قسم کا ارادہ کرے گا تو قسم ہوجائے گی۔ الربیع نے امام شافعی کی طرف سے ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ” اقسم “ یا ” اشھد “ یا ” اعزم “ کہے اور اس کے ساتھ ” باللہ “ کا لفظ نہ ملائے تو یہ اس کے قول ” واللہ “ کی طرح ہوگا۔ اگر وہ ” احلف باللہ “ کہتا ہے تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا الایہ کہ وہ قسم کی نیت کرے۔ ابوبکرحبصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فقرہ ” اشھدب اللہ “ قسم کا فقرہ ہے اسی طرح لفظ ” اشھد “ بھی قسم کا فقرہ ہونا چاہیے۔ اس کے دو وجوہ ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو قسم قرار دیا ہے جبکہ اس فقرے کے ساتھ اللہ کے نام کا الحاق نہیں ہے۔ اسی طرح ارشاد باری ہے (فشھادۃ احدھم اربع شھادات باللہ، ان میں سے ایک کی گواہی یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کا نام لے کر گواہی دے) اللہ تعالیٰ نے لفظ شھادۃ سے علیٰ الاطلاق قسم کی تعبیر کی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فقرہ ” اشھدب اللہ “ قسم کے موقعہ پر بولا جاتا ہے اس لئے یہ واجب ہے کہ اللہ کے نام کو حذف کرنے اور اسے ذکر کرنے کی صورتوں میں اس فقرے کے حکم میں کوئی اختلاف واقع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قسم کے لفظ کے ساتھ کبھی اللہ کے نام کا ذکر کیا ہے اور کبھی اسے حذف کردیا ہے لیکن دونوں صورتوں میں فقرے کا مفہوم یکساں ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے (واقسموا باللہ جھدا ایمانھم اور انہوں نے اللہ کے نام کی پکی قسمیں کھائی تھیں) دوسری جگہ ارشاد ہوا (اذا اقسموا لیصرمنھا مصبحین، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح اٹھ کر ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے) اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ اللہ کے نام کو محذوف کردیا کیونکہ مخاطبین کو اس کا علم تھا کہ یہاں یہ لفظ پوشیدہ ہے اور ایک جگہ اسے ظاہر کردیا۔ زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ کے سامنے ایک خواب کی تعبیر بیان کی جسے سن کر آپ نے فرمایا : ” ابوبکر ؓ ! تم نے ایک حصے کی تعبیر درست کی ہے اور ایک حصے کی تعبیر میں تم سے غلطی ہوگئی ہے۔ “ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور بتادیں۔ “ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” ابوبکر ! قسم نہ کھائو۔ “ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا تھا : ” اللہ کے رسول بخدا آپ مجھے ضرور بتادیں۔ “ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کے قول ” اقسمت علیک “ (میں آپ کی قسم دے کر کہتا ہوں) کو قسم قرار دیا۔ بعض لوگ قسم کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا تھا ” لا تقسم “ (ابوبکر ؓ ! قسم نہ کھائو) بعض لوگ قسم کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو قسم کھانے سے اس لئے منع فرمایا تھا کہ خواب کی تعبیر کی حیثیت ایک ظن اور گمان کی ہوتی ہے جس میں غلطی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ بات اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو کوئی دوسرا آدمی قسم دے اس پر اس قسم کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا۔ کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضور ﷺ کو خواب کی تعبیر بتانے کی قسم دی تھی لیکن حضور ﷺ نے ان کی اس قسم کو پورا نہیں کیا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس شخص کو خواب کی تعبیر معلوم ہو اس پر اسے دوسرے کو بتانا لازم نہیں ہوتا کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو اس خواب کی تعبیر نہیں بتائی تھی۔ ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کو شام کا گورنر مقرر کردیا تھا۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ” میں یہ دیکھ رہا تھا کہ گویا اونٹ پر پالان کس رہا ہوں۔ “ جب انہوں نے شام کی طرف کوچ کا ارادہ کیا تو لوگوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے عرض کیا کہ ” آپ عمر ؓ کو شام جانے دے رہے ہیں، بخدا عمر ؓ آپ کے پاس رہ کر بھی شام کے معاملات سدھارنے میں آپ کے لئے کافی ہوں گے۔ “ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا : ” میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ ٹھہر جائو۔ “ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کی چند متروکہ چیزوں کی ملکیت کے متعلق جب حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے مابین تنازعہ پیدا ہوگیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عباس ؓ سے اپنی ذات پر حضرت علی ؓ کو ترجیح دینے کے لئے کہا اور فرمایا : ” میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ تم یہ چیزیں علی کے حوالے کردو۔ “ حضرت برا بن عازب نے روایت کی ہے کہ ہمیں حضور ﷺ نے قسم پوری کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بات قسم کی اباحت پر دلالت کرتی ہے نیز یہ کہ قسم کا لفظ یمین ہے یعنی اس لفظ سے قسم واقع ہوجاتی ہے۔ تاہم قسم پوری کرنے کا حکم استحباب پر محمول ہے کیونکہ حضور ﷺ نے وہ قسم پوری نہیں کی تھی جو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کو دی تھی اور یہ کہا تھا (اقسمت علیک میں آپ ﷺ کو قسم دیتا ہوں) حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، علقمہ، ابراہیم نخعی، ابوالعالیہ اور حسن سے مروی ہے کہ قسم کا لفظ یمین ہوتا ہے۔ حسن اور ابوالعالیہ کا قول ہے کہ ” اقسمت “ اور ” اقسمت باللہ “ دونوں کا مفہوم ایک ہے۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اس کا حکم قول باری ہے (وانفقوا مما رزقنا کم میں قبل ان یاتی احدکم الموت جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے) تاآخر آیت۔ عبدالرزاق نے روایت کی ہے، انہیں سفیان نے ابوحباب سے، انہوں نے ابوالضحیٰ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا : (من کان لہ مال تجب فیہ الزکوٰۃ ومال یبلغہ بین اللہ ثم لم یحج ولم یزک سائل الرجعۃ ، جس شخص کے مال میں زکوٰۃ واجب ہو یا حج پر جانے کے لئے رقم ہو پھر وہ حج پر نہ جائے یا اپنے مال کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو مرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے یہ استدعا کرے گا کہ اسے واپس دنیا میں بھیج دیا جائے) پھر آپ نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی ۔ یہ روایت حضرت ابن عباس ؓ سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ تاہم آیت اس بات پر واضح طور سے دلالت کررہی ہے کہ موت کی وجہ سے زکوٰۃ کی ادائیگی میں تفریظ اور کوتاہی وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اگر مرنے والے کو کوتاہی کرنے والا نہ قرار دیا جاتا اور اس کی موت کے بعد اس کے مال سے زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوتی تو یہ زکوٰۃ اس کے مال کی طرف منتقل ہوجاتی اور اس کے ورثاء پر اس کی ادائیگی لازم ہوجاتی۔ لیکن جب مرنے والے نے اللہ تعالیٰ سے اسے دنیا میں واپس بھیج دینے کی استدعا کی تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ زکوٰۃ کی ادائیگی اس سے فوت ہوگئی ہے اور یہ ادائیگی اس کے متروکہ مال کی طرف منتقل نہیں ہوتی ہے اور اس اب کے ترکہ میں یہ زکوٰۃ وصول نہیں جائے گی الا یہ کہ اس کے ورثاء تبرع کے طور پر اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کریں۔