Explained with ayahs 1–4
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے
اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔ امیون سیم راد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ الخ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہوجائیں تو وہ راہ راست…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 2
یہاں امی کا لفظ یہودی اصطلاح کے طور پر آیا ہے، اور اس میں ایک لطیف طنز پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو یہودی حقارت کے ساتھ امی کہتے اور اپنے مقابلہ میں ذلیل سمجھتے ہیں، انہیں میں اللہ غالب و دانا نے ایک رسول اٹھایا ہے۔ وہ خود نہیں اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس کا اٹھانے والا وہ ہے جو کائنات کا بادشاہ ہے، زبردست اور حکیم ہے، جس کی قوت سے لڑ کر یہ لوگ اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید میں " اُمی " کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے اور سب جگہ اس کے معنی ایک ہی نہیں ہیں بلکہ مختلف مواقع پر وہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں وہ اہل…
Read the full tafseer →(آیت) هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُم، امیین، امی کی جمع ہے، ناخواندہ شخص کو کہا جاتا ہے، عرب کے لوگ اس لقب سے معروف ہیں، کیونکہ ان میں نوشت و خواند کا رواج نہیں تھا بہت آدمی لکھے پڑھے ہوتے تھے، اس آیت میں حق تعالیٰ کی عظیم قدرت کے اظہار کے لئے خاص طور پر عربوں کے لئے یہ لقب اختیار فرمایا اور یہ بھی کہ جو رسول بھیجا گیا وہ بھی انہی میں سے ہے یعنی امی ہے، اس لئے یہ معاملہ بڑا حیرت انگیز ہے کہ قوم ساری امی اور جو رسولبھیجا گیا وہ بھی امی اور جو فرائض اس رسول کے سپرد کئے گئے جن کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے وہ سب علمی تعلیمی اصلاحی ایسے ہیں کہ نہ کوئی امی ان کو سکھا سکتا…
Read the full tafseer →(ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتب الحکمۃ وان کانوا من قبل لف ضلل مبین) (2) فرمایا کہ اسی خدا نے جو اس کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ وہ ان کو اس آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو پاک کرے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ تدبر کیجئے تو معلوم ہوگا کہ تمہید کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفات گنائی ہیں انہی کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اس رسول کی بعثت ہوئی ہے جس کا یہاں ذکر ہے۔
(رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہوئی)۔ وہی خلق کا بادشاہ حقیقی ہے۔ اس کی اس صفت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس نے…
Read the full tafseer →2۔ 1 اُ مِّیِّینَ سے مراد عرب ہیں جن کی اکثریت ان پڑھ تھی۔ ان کے خصوصی ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ کی رسالت دوسروں کے کے لئے نہیں تھی، لیکن چونکہ اولین مخاطب وہ تھے اس لئے اللہ کا ان پر زیادہ احسان تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: آنحضرت ﷺ کی بعثت کے یہی مقاصد سورة بقرہ : 129 اور سورة آل عمران : 164 میں بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →کہا گیا ہے کہ عربوں کو امی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ لوگ بالعموم لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مہینہ تو یوں ہے ، یوں ہے اور یوں ہے اور دس انگلیوں کے ساتھ تین بار اشارہ کیا اور فرمایا ہم ایک امی امت ہیں ، ہم حساب اور کتاب نہیں کرتے “۔ (جصاص) یہ بھی کہا گیا ہے جو لکھا پڑھا نہیں ہے اسے امی اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اس حال میں ہے جس طرح ماں سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ لکھنا پڑھنا تو بعد میں سیکھنے سے ہوتا ہے۔
اور ممکن ہے امی اس لئے کہا گیا ہو کہ یہودی دوسری اقوام کو ” گویم “ کہتے تھے۔ عبرانی زبان میں گویم اقوام کو کہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہم تو اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
6 " اُمِّیِیْنَ "' (ان پڑھ) اہل عرب کو کہا۔ جن میں علم و ہنر کچھ نہ تھا نہ کوئی آسمانی کتاب تھی۔ معمولی لکھنا پڑھنا بھی بہت کم آدمی جانتے تھے۔ ان کی جہالت و وحشت ضرب المثل تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے، بت پرستی، اوہام پرستی، اور فسق و فجور کا نام " ملت ابراہیمی " رکھ چھوڑا تھا اور تقریباً ساری قوم صریح گمراہی میں پڑی بھٹک رہی تھی۔ ناگہاں اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں سے ایک رسول کو اٹھایا جس کا امتیازی لقب " نبی امی " ہے۔ لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا اور عجیب و غریب علوم و معارف اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھلا کر ایسا حکیم و شائستہ…
Read the full tafseer →آیت 2{ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَق } ”وہی تو ہے جس نے اٹھایا امیین میں ایک رسول ان ہی میں سے ‘ جو ان کو پڑھ کر سناتا ہے اس کی آیات اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے کتاب و حکمت کی۔“
{ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَـبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”اور یقینا اس سے پہلے تو وہ کھلی گمراہی میں تھے۔“
اس سورت کی یہ آیت انقلابِ نبوی ﷺ کے اساسی منہاج کے حوالے سے اسی طرح اہم ہے جس طرح سورة الصف کی آیت 9 تکمیلی منہاج کے اعتبار سے اہم ہے۔ سورة الصف کی مذکورہ آیت میں حضور ﷺ کا مقصد…
Read the full tafseer →3 یہود امی کا لفظ حقارت اور طنز کے طور پر بولتے تھے :۔ لفظ اُمِّیْ کی تشریح سورة اعراف کی آیت نمبر 155 (حاشیہ 154) کے تحت گزر چکی ہے۔ لیکن اس سورة میں آگے چونکہ یہود کو خطاب ہو رہا ہے۔ لہذا یہاں وہی مفہوم مراد ہوگا جو یہودی اس لفظ سے لیا کرتے تھے۔ یہودی خود تو اپنے آپ کو بہت پڑھے لکھے اور عالم فاضل سمجھتے تھے اور اپنے سوا سب غیر یہودیوں کو حقیر سمجھ کر امی کہتے تھے۔ یعنی ان کے سوا سب لوگ ان پڑھ اور بدھو ہیں اور رسول اللہ پر ایمان نہ لانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخرالزمان ہم جیسے عالم فاضل لوگوں میں سے ہوگا۔ گویا انہوں نے اس بات میں اپنی توہین سمجھی کہ وہ ایک ان پڑھ…
Read the full tafseer →2۔ (اور جو قوم بھی تعلیمات نبوت سے محروم ہوتی ہے۔ ایسی ہی ظلمتوں اور ظلالتوں میں گھری رہتی ہے) (آیت) ” فی الامین “۔ یعنی قوم عرب کے درمیان۔ الامی منسوب الی امۃ العرب (کبیر) امتی پر حاشیہ سورة آل عمران (پ 3) میں گزر چکا، صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ جب رسول اور رسول اعظم بھی امی یا علوم رسمی سے ناآشنا ہوسکتا ہے، تو کسی ولی کے امی یا ان پڑھ ہونے میں کیا اشکال ہے، البتہ علوم شرعی سے بقدر ضرورت اسے واقفیت ہونا چاہیے (آیت) ” یتلوا علیھم ایتہ “۔ پہلا کام اس عربی رسول کا اہل عرب کے سامنے کلام الہی کی آیتوں کو پڑھ کر سنانا ہے۔ (آیت) ” ویزکیھم “۔ رسول کا کام آیات الہی کی تلاوت اور کلام الہی کے سنانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلو علیھم ایتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین .
” وہی ہے جس نے (عرب کے) ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر بھیجا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو (غلط عقائد اور برے اعمال و اقوال سے) پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور دانش مندی کی باتیں سکھاتا ہے اور بلاشبہ یہ لوگ (بعثت محمدی ﷺ سے) پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ “
الْاُمِّیِّنَ : سے مراد ہیں عرب ‘ کیونکہ ان میں اکثر ناخواندہ تھے۔
مِنْھُمْ : یعنی پیغمبر بھی ان امیوں میں سے ایک امّی تھے ‘ مطلب یہ کہ ان کی طرح ناخواندہ تھے۔
اٰیتِہٖ : یعنی…
Read the full tafseer →اسی نے عرب میں ان کی قوم میں سے محمد کو بھیجا جو ان کو قرآن کریم پڑھ کر سناتے ہیں جس میں اوامرو نواہی کا بیان ہے اور ان کو توحید کے ذریعے سے شرک سے پاک کرتے ہیں یا یہ کہ زکوٰۃ اور توبہ کے ذریعے گناہوں سے پاک کرتے اور اس کی دعوت دیتے ہیں اور ان کو قرآن کریم اور حلال و حرام سکھاتے ہیں یا یہ کہ علم کی باتیں، مواعظ اور قرآن سکھاتے ہیں اور یہ اہل عرب رسول اکرم کی بعثت سے پہلے واضح طور پر کفر میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →1۔ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ : اس آیت کی دلیل بنا کر بعض اہل کتاب کہتے ہیں کہ محمد ﷺ صرف عربوں کے لیے رسول تھے ، کیونکہ ”الامین“ عرب قوم کو کہتے ہیں ، لہٰذا آپ غیر عرب لوگوں اور یہود و نصاریٰ کے لیے رسول نہیں تھے۔ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں ، کیونکہ قرآن مجید میں ”الامین“ کا لفظ ایک معنی میں نہیں بلکہ مختلف مواقع پر مختلف معانی کے لیے آیا ہے۔ کہیں وہ اہل کتاب کے مقابلے میں ان لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے ، جیسا کہ فرمایا :(وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ئَ اَسْلَمْتُمْ) (آل عمران : 20)”اور ان لوگوں سے…
Read the full tafseer →ھوالذی بعث فی الامین رسولاً منھم حضرت ابن عباس نے کہا : الامیون سے مراد تمام عرب ہیں خواہ ان میں سے کوئی لکھتا جانتا ہو یا لکھنا نہ جانتا ہو کیونکہ وہ اہل کتاب نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : امی سے مراد وہ ہیں جو لکھنا نہیں جانتے۔ قریش اسی طرح تھے۔ منصور نے ابراہیم سے روایت نقل کی ہے کہا : امی وہ ہے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
رسولاً منھم مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے۔ عربوں میں سے کوئی قبیلہ ایسا نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کی ان سے رشتہ داری تھی سب کا آپ سے نسبی تعلق ہے۔ حضرت ابن حاسق نے کہا، مگر بنی تغلب اس میں شامل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نصرانی ہونے کی…
Read the full tafseer →4۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت ہوا الذی بعث فی الامیین رسولا منہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں رسولا سے مراد محمد ﷺ ہیں آیت یتلو علیہم کہ وہ ان پر اس کی آیات کو پڑھتے ہیں یعنی قرآن کو آیت وان کانوا من قبل لفی ضلٰل مبین اور اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے یعنی شرک میں۔
5۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا لذی بعث فی الامیین رسولا منہم سے مراد عرب کے لوگ مراد ہیں آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم اور دوسرے لوگ جو انہیں میں سے ہیں مگر ابھی ان میں شامل نہیں اس میں اٰخرین سے مراد عجمی لوگ ہیں۔
6۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم…
Read the full tafseer →[هُوَ الَّذِي بَعَثَ : وہ، وہ ہے جس نے بھیجا ] [فِي الْاُمِّيّٖنَ : اَن پڑھ لوگوں میں ] [رَسُوْلًا مِّنْهُمْ : ایک ایسا رسول ان میں سے جو ] [يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ : پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں ] [وَيُزَكِّيْهِمْ : اور تزکیہ کرتا ہے ان کا ] [وَيُعَلِمُهُمُ : اور تعلیم دیتا ہے ان کو ] [الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ : اس کتاب (قرآن) کی اور دانائی کی ] [وَان كَانوْا مِنْ قَبْلُ : اور بیشک وہ لوگ تھے اس سے پہلے ] [لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : یقینا ایک کھلی گمراہی میں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں لفظ اُمِّیّٖنَ بنی اسماعیل کے لیے ایک امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ یہود کی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے امیین میں رسول بھیجا جو خود بھی امی تھا اس امی پر کروڑوں پڑھے لکھے قربان جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی کتاب لایا کہ اس کے مقابلہ میں بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء ایک چھوٹی سی سورة بنا کر لانے سے بھی عاجز رہے اور عاجز ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو سارے عالم کے لئے ہادی اور رحمت بنا کر بھیجا بڑے بڑے اہل علم نے اس رسول امی ﷺ کے دامن میں پناہ لی، اور آپ کے سامنے علمی ہتھیار ڈال دیئے، اس رسول عظیم کی بعثت کا تذکرہ فرمایا اور اس کی صفات بھی بیان فرمائیں۔
1 فرمایا ﴿رَسُوْلًا مِّنْهُمْ ﴾ یعنی انہیں امیین میں سے رسول بھیجا۔
2 فرمایا کہ وہ ان کا تزکیہ فرماتا ہے۔ اس سے نفوس کا تزکیہ کرنا مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →3:۔ ” ھو الذی بعث “ یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہمارا پیغمبر دعائے توحید اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے پیش نہیں کر رہا۔ بلکہ اللہ نے اس کو مبعوث کیا ہے اور مسئلہ توحید اور اس کی تبلیغ کا حکم وحی کے ذریعے اس پر نازل فرمایا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے وہ کتب سابقہ کے بھی مطابق ہے۔ یہ آیت ضمنًا صداق رسول ﷺ کی بھی دلیل ہے۔ آپ جو بیان فرماتے ہیں وہ کتب سابقہ کے مطابق ہے ساحر اور مجنون ایسی سچی خبریں دینے سے عاجز ہوتے ہیں جو واقع کے عین مطابق ہوں۔ یہاں مومنوں کے دو فریق مذکور ہیں اعلی اور ادنی۔ ” یزکیھم “ میں فریق اعلی کا ذکر یعنی ان کو عقائد باطلہ خصائل قبیحہ اور خبث جاہلیت سے پاک کرتا ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ ہے۔ کیونکہ اس میں بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ نماز جمعہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی یہ گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 748 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ نے یہودیوں کی ایذاء رسانی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا تھا۔ کہ تم بھی ان جیسے نہ ہوجانا۔ اور اب اس سورة میں یہودیوں کی نافرمانی کی وجوہات یعنی ان کی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو فرائض کا ذکر تھا ، ایک تو وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے اور دوسرا نبی آخرالزمان…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ 0 ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 2 ۙ
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1 ؎ ان پڑھ قوم سے مراد عرب ہے ان میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور ان کے سوا اور آیندہ آنے والی قوموں کے لیے بھی خواہ عرب کی نسلوں میں سے یا اور قوموں میں سے ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلاً مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الجمعۃ : 2)
(وہی ہے جس نے اٹھایا ہے اُمّیوں میں ایک رسول ان ہی میں سے جو انھیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ )
آخری جملے کی وضاحت
اس مضمون کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی یہ صفات اس سے پہلے تین جگہ گزر چکی ہیں اور ہم بقدر توفیق ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ خاص طور پر سورة بقرۃ میں پہلی دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے رد عمل میں بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور دوسرے گروہ نے ان کا انکار کردیا۔ سورة الجمعہ کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال لفظ سے کی گئی ہے جس کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات کو مانے یا نہ مانے اسے یاد کرے یا اس کا انکار کرے وہ تو وہ ہستی ہے جسے زمین و آسمانوں کی ہر چیز ان الفاظ میں یاد کرتی ہے کہ ” اللہ “ کلی اختیارات کا مالک اور ہر قسم کی حاجت اور نقص سے پاک ہے۔ ہر نقص اور حاجت سے مبرّا ہونے کے ساتھ ہر اعتبار سے پوری کائنات پر غالب ہے۔ اس کے غالب ہونے میں صرف قوت ہی…
Read the full tafseer →امیین میں بعث رسول :
2 : ھُوالَّذِیْ بَعَثَ (وہی ہے جس نے بھیجا) رسول بنا یا۔ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ (ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے ایک پیغمبر) یعنی ایک امی انسان کو ناخواندہ قوم میں رسول بنایا۔
ایک قول :
منہم یہ اس قول کی طرح ہے۔ من انفسکم ] التوبہ : 128[ کہ وہ اس کے نسب و احوال کو جانتے ہیں۔ الامیؔ اس کی نسبت امت عرب کی طرف ہے کیونکہ وہ پوری امتوں میں پڑھ لکھ نہ سکتے تھے (اکثریت ان کی اس طرح تھی) ایک قول یہ ہے کتابت کی ابتداء طائف میں ہوئی۔ جس کو انہوں نے اہل حیرہ سے لیا۔ اور اہل حیرہ نے اہل انبار سے لی۔ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ (جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2-1…” یسبح للہ مافی السموات…تا…بعث فی الامیین “ یعنی عرب ان پڑھ امت تھے نہ لکھتے تھے اور نہ پڑھتے تھے۔ ” رسولا منھم “ یعنی محمد ( ﷺ ) آپ کا نسب ان کا نسب ہے۔ ” یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلھم الکتاب والحکمۃ ہو ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین “ یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے نہیں تھے مگر واضح گمراہی میں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث 2 ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان ؓ کی…
Read the full tafseer →(امیین) سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے نہ رسالت کے آثار اور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بےبہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے شجر وحجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا اور وہ انبیائے کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جس کے نسب اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ( يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نبی ﷺ اور ان کی قوم امومت میں برابر تھے
قول باری ہے (ھوالذین بعث فی الامیین رسولا منھم ، وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہیں میں سے اٹھایا) انہیں امی اس لئے کہا گیا کہ یہ لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، ان کی اکثریت کا یہی حال تھا۔ اگرچہ بہت قلیل تعداد میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں لکھنا پڑھنا آتا تھا۔
حضور ﷺ نے فرمایا (الشھوھکذا او ھکذا مہینہ اتنے اتنے دنوں کا ہوتا ہے) یہ کہتے ہوئے آپ نے انگلیوں سے اشارہ کیا۔ آپ کا یہ ارشاد بھی ہے (انا نحن امۃ امیۃ لا نحسب ولا نکتب ہم امی لوگ ہیں ہم نہ حساب کتاب رکھتے ہیں اور نہ ہمیں لکھنا آتا ہے)
قول باری ہے (رسولا منھم) کیونکہ حضور ﷺ اُمی تھے۔…
Read the full tafseer →4 ۔ " امیین " سے مقصود و مراد ؟: امی کے معنی ان پڑھ کے ہیں، جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا جانتا ہو، اور اسلام سے پہلے عربوں کی اکثیرت چونکہ ایسی ہی ان پڑھ تھی نہ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب تھی اور نہ ہی وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اس لیے ان کو امی کہا جاتا تھا ( فتح القدیر وغیرہ) سو اس سے مراد عرب ہیں (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن التاویل وغیرہ) کیونکہ وہ لوگ بالعموم
5 ۔ بعثت رسول ﷺ صفات خداوندی کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل ہے، اسی لیے کہ یہاں پر اوپر اللہ تعالیٰ کی چار صفات کریمہ کے ذکر وبیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ رب العزت کی تسبیح اور آخری رسول ﷺ کی بعثت کا ذکر
تشریح : اس مضمون سے ملتی جلتی بیشمار آیات ہم پڑھ چکے ہیں اب اس مضمون کو ہم سید حسین نصر صاحب کی تحریر سے واضح کرتے ہیں لکھتے ہیں، عام طور پر اسلام کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے معنوی لحاظ سے تین درجے ہیں اول تو یہ کہ ساری مخلوق مسلم ہے یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (ایک پھول اس بات پر قادر نہیں کہ وہ پھول نہ رہے، اسی طرح ایک ہیرا چمکنے پر مجبور ہے اللہ نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے اور ان کا کام ہی اطاعت کرنا ہے) دوسری بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اپنی مرضی سے مقدس الہامی قانون کو قبول کرتے ہیں اس اعتبار سے مسلم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 3 یعنی حضرت محمد ﷺ جو عرب تھے اور ان پڑھ بھی تھے۔ کہتے ہیں کہ عرب کے ہر قبیلہ کے ساتھ آپ کی کچھ نہ کچھ رشتہ داری تھی سوائے بنی تغلب کے جو عیسائی تھے … عربوں کو امی یا تو اکثریت کے اعتبار سے فرمایا ہے اور یا اس اعتبار سے کہ آنحضرت سے پہلے کوئی کتاب الٰہی ان میں نہ آئی تھی ان کے مقابلہ میں یہود و نصاریٰ کو اہل کاتب کہا گیا کیونکہ ان کے ہاں توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابیں آچکی تھیں … آٰنحضرت کو امی کہنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ بےعلم تھے بلکہ یہ ہے کہ آپ نے کسی استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ آنحضرت کے پاس جو علم تھا وہ اللہ تعالیٰ سے بذریعہ وحی حاصل کیا گیا تھا لہٰذا یہ صحیح نہیں ہے…
Read the full tafseer →(62:2) بعث : ماضی واحد مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر۔ اس نے بھیجا۔
الامیین : امی کی جمع بحالت جر۔ امی جو نہ لکھ سکے نہ کتاب پڑھ سکے۔ ان بڑھ۔ بےپڑھا لکھا۔ امین سے مراد اہل عرب ہیں جو اکثر ان پڑھ تھے۔
رسولا : پیغمبر۔ بعث کا مفعول ہے۔
منھم : ای من جملتیہم ومثلہم۔ یعنی انہی میں سے کا ایک ۔ انہیں جیسا (امی) یہ رسولا کی صفت ہے۔
یتلوا علیہم ایتہ : یہ دوسری صفت ہے رسولا کی۔ پڑھ کر سناتا ہے۔ (امتیین کو) اس (اللہ) کی آیات، یہ تیسری صفت ہے رسولا کی۔ یتلوا مضارع واحد مذکر غائب ! تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑھ کر سناتا ہے۔ وہ تلاوت کرتا ہے۔
ویزکیہم : اس کا عطف یتلوا پر ہے۔ یزکیہم مضارع واحد مذکر غائب تذکیۃ…
Read the full tafseer →(ف 1) عرب کی قوم میں ملت ابراہمی کا عمل اٹھ کر ان میں جہالت کے سبب بت پرستی پھیل گئی تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے اس لیے عرب کو ان پڑھ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں سے ایک رسول جن کا نام پاک محمد ﷺ ہے بھیجا جن کی صفت نبی امی ہے لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب یعنی قرآن پڑھ کر سناتے اور عجیب و غریب علوم ومعارف اور حکمت دانائی کی باتیں سکھلاکر ایسا حکم وشائستہ بنائے کہ دنیا کے بڑے بڑے حکیم ودانا اور عالم وعارف ان کے سامنے زانوائے طے کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →[2] اُمّی کے معنی ان پڑھ کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے مراد تمام دنیا کے غیر یہودی ہیں۔ یہود اپنے سوا دنیا کی تمام اقوام کو ناشائستہ، ناپاک، ذلیل اور حقیر سمجھتے تھے اور یہ لفظ دوسروں کے لئے حقارت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یہاں اس لفظ کے استعمال میں ایک لطیف طنز پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن عربوں کو یہود حقارت کے ساتھ اُمّی کہتے ہیں اور انہیں ذلیل سمجھتے ہیں انہیں میں سے اللہ نے ایک رسول اٹھایا ہے۔ وہ خود نہیں اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس کا اٹھانے والا وہ ہے جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں نیز ملاحظہ ہو صفحہ 9731 پر لفظ '' اُمّی '' کی تشریح۔
لفظ " اُ مّی " کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نبوت کے متعلق چند نکات
1: اس آیت میں منصب نبوت کے متعلق چند نہایت ہی بیش قیمت نکات کی توضیح فرمائی ہے ۔ اور بیان کیا ہے ۔ کہ رسالت کے مفہوم اور تخیل کو کون کون چیزیں لازم ہیں اسلام سے قبل مذاہب میں عام غلطی یہ تھی ۔ کہ وہ نبوت اور رسالت کے صحیح صحیح مفہوم سے آگاہ نہیں تھے ۔ یہودی اور عیسائی تجسم کے قائل تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خدا متجسد ہوکر نزول فرماتا ہے ۔ تاکہ انسان کے لئے رشدوہدایت کا پیکر ہوسکے ۔ اور قریب قریب غیر حالی دنیا بھی الہام وبعثت کے مفہوم سے نآشنا تھی ۔ اور اس کے ہاں بھی حلال اور تجسم ہی ایک ذریعہ تھا ۔ جس کی وساطت سے خدا اپنے بندوں سے ہمکلام ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے سب سے پہلے اس…
Read the full tafseer →(2) وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے ان پڑھ اور ناخواندہ لوگوں میں انہی ناخواندوں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا۔ اور ان کو سنوارتا اور پاک کرتا ہے اور ان کو قرآن سکھاتا ہے اور ان کو حکمت و دانش مندی کی باتوں کی تعلیم دیتا ہے اور بلاشبہ اس رسول کی بعثت اور تشریف آوری سے قبل یہ لوگ صریح اور کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ مراد اکثر ہیں کیونکہ جاہلیت میں بھی بعضے موحد تھے مگر تاہم تکمیل ہدایت کے وہ بھی محتاج تھے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی و رسول کو امیین میں بھیج دیا تاکہ ان پر بھی حجت پوری ہو جائے
2 ؎ ( الامیین) مکہ والوں کا تعارف ہے اور اسی لقب سے وہ پہچانے جاتے تھے اور یہ بطور ذم نہیں بلکہ بطور مدح بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو ( النبی الامی) کے خطاب سے نوازا گیا ہے جو بطور مدح ہے اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 157 ، 158 میں کر آئے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی سرگزشت میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور آپ ﷺ کی سر گزشت سورة الفتح کے آخر میں درج کی گئی ہے۔ اس جگہ اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے حق میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جو سیدنا اسماعیل…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ (He is the One who raised amidst the unlettered people a messenger from among themselves...62:2) The word ummiyyin is the plural of ummiyy, which denotes 'unlettered'. The Arabs were known by this title, because they did not know how to read and write. Very few of them had the knowledge of reading and writing. The Arabs in this verse are specially referred to in order to express the great power of Allah. The Holy Prophet ﷺ is also sent amongst them, who is himself unlettered. The duties and reformative functions of a Prophet [ as set…
Read the full tafseer →2 Here the word ummi (gentile) has been used as a Jewish term and there is a subtle aabtle in it. The verse means: "The All-Mighty and All-Wise Allah has raised a Messenger among the Arabs whom the Jews contemptuously consider the gentiles and much below themselves, The Messenger has not risen of his own wish and will, but has been raised by Him Who is the Sovereign of the universe, Who is All-Mighty and All-Wise, Whose power can be resisted and opposed only to one's own loss and peril.
One should know that the word ummi has occurred in the Qur'an at several places but in different meanings…
Read the full tafseer →