Explained with ayahs 1–4
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے
اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔ امیون سیم راد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ الخ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہوجائیں تو وہ راہ راست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْجُمُعَة 5
یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ " دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں " اس میں لفظ منہم (ان میں سے) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ محمد ﷺ کو ماننے والے ہونگے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہوجائیں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(آیت) وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيم، آخرین کے لفظی معنی ”دوسرے لوگ“ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے معنی جو ابھی تک ان لوگوں یعنی امیین کے ساتھ نہیں ملے، مراد ان سے وہ تمام مسلمان ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے (کماروی عن ابن زید و مجاہد و غیر ہما) اس میں اشارہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان سب کے سب مومنین اولین یعنی صحابہ کرام ہی کے ساتھ ملحق سمجھے جائیں گے، یہ بعد کے مسلمانوں کیلئے بڑی بشارت ہے (روح)
لفظ آخرین کے عطف میں دو قول ہیں، بعض حضرات نے اس کو امیین پر عطف قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امیین…
Read the full tafseer →(واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم) (3)۔
(ان امیوں کو جاندار و لطیف دعوت جو ابھی اسلام سے محروم تھے)۔ اس کا عطف امین پر ہے۔ یعنی جن امیوں کے اندر اس رسول کی بعثت ہوئی ہے انہی میں سے وہ دوسرے بھی ہیں جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ اشارہ ان بنی اسماعیل کی طرف ہے جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس سے یہ بات نکلی کہ اوپر اگرچہ لفظ امین عام استعمال ہوا ہے لیکن اس سے مراد صرف وہ بنی اسماعیل ہیں جو مشرف با سلام ہوچکے تھے۔ چناچہ آیت کا آخری ٹکڑا (وان گانو من قبل لفی ضلل مبین) اسی پر دلیل بھی ہے۔ اب اس آیت میں نہایت خوب صورت اور بلیغ اسلوب سے بنی اسماعیل کے ان لوگوں کو بھی…
Read the full tafseer →3۔ 1 یہ امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَ فِیْ اَ خِرِ یْنَ مِنْھُمْ اَخَرِ یْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ ﷺ پر ایمان لانے والے ہونگے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چناچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چناچہ یہ سب ہی آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب…
Read the full tafseer →2: اس کا مقصد یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ صرف ان عربوں کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے جو آپ کے زمانے میں موجود تھے بلکہ آپ تو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں چاہے وہ کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔
Read the full tafseer →واخرین .................... الحکیم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ، اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ آخر ون کون ہیں ان کے بارے میں متعدد روایات آئی ہیں۔
امام بخاری نے روایت کی ہے ، عبدالعزیز ابن عبداللہ سے ، انہوں نے سلیمان ابن بلال سے ، انہوں نے ثور سے ، انہوں نے ابو الغیث سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ فرماتے ہیں ” ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة جمعہ نازل ہوئی۔
واخرین ................ بھم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں “۔ تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اللہ کے رسول وہ کون تو حضور نے ان کے سوال کا جواب…
Read the full tafseer →7 یعنی یہ ہی رسول دوسرے آنے والے لوگوں کے واسطے بھی ہے جن کو مبدأ و معاد اور شرائع سماویہ کا پورا اور صحیح علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پڑھ ہی کہنا چاہیے۔ مثلاً فارس، روم، چین اور ہندوستان وغیرہ کی قومیں جو بعد کو امیین کے دین اور اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان ہی میں سے ہوگئیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کیے اس دین کے تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔ " حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ سے (وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 63 ۔ الجمعہ :3) کی نسبت سوال کیا گیا تو سلمان فارسی کے شانہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر علم…
Read the full tafseer →آیت 3{ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ } ”اور ان ہی میں سے ان دوسرے لوگوں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔“
{ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ کا عطف اُمّیّٖنَ پر ہے۔ یعنی دوسرے کچھ اور بھی ہیں جن کی طرف آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ حضور ﷺ کی بعثت تو قیامت تک لیے ہے۔ ظاہر ہے آپ ﷺ کی امت میں ہر نسل ‘ ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ شامل ہوں گے۔ متفق علیہ احادیث کے مطابق حضور ﷺ سے جب اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی رض کے کندھے پر رکھ کر فرمایا کہ ”یہ اور اس کی قوم…
Read the full tafseer →6 آپ تمام لوگوں کے لئے تاقیام قیامت رسول ہیں :۔ نبی آخرالزمان صرف ان امی اہل عرب ہی کی طرف مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ بعد میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے بھی نبی ہیں گویا آپ کی نبوت اور رسالت صرف اہل عرب کے لیے اور صرف اس دور کے لیے ہی نہیں تھی بلکہ اس دور کے اور بعد میں تاقیامت آنے والے سب انسانوں کے لیے یکساں ہے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ : جب سورة جمعہ نازل ہوئی تو ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ ( وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 62 ۔ الجمعة :3) سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے…
Read the full tafseer →3۔ (آیت) ” اخرین “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو نزول قرآن کے وقت موجود نہ تھے۔ آگے چل کر کسی زمانہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں گے، اور یوں وہ سارے لوگ جو قیامت تک اسی دین حق میں داخل ہوں گے، سب (آیت) ” اخرین “۔ کے تحت میں آگئے، وقال ابن زیدھم جمیع من دخل فی الاسلام بعد النبی ﷺ الی یوم القیمۃ وھی روایۃ ابن نجیح عن مجاھد (معالم) قال مجاھد وغیر واحدھم الاعاجم وکل من صدق النبی من غیرالعرب (ابن کثیر) ھم سے تعبیر ان غیر موجودین کو بحیثیت ان کے اسلام کے کیا گیا ہے۔ (آیت) ” وھو العزیز الحکیم “۔ اور اسی قدرت والے اور حکمت والے نے اپنی قدرت و حکمت سے ایسا رسول مبعوث کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم
” اور (علاوہ ان موجودین کے) دوسرے لوگوں کیلئے بھی جو انہیں میں سے ہیں ‘ مگر ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ : اس کا عطف یُعَلِّمُھُمْ کی ضمیر مفعول ہے یعنی ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی وہ تعلیم دیتے ہیں اور یہ دوسرے لوگ بھی اوّل لوگوں میں سے ہی ہیں یعنی انہی کے ہم مذہب ہیں اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔
عکرمہ اور مقاتل نے کہا : آخرین سے مراد ہیں تابعین۔ ابن زید نے کہا : وہ تمام لوگ مراد ہیں جو قیامت تک حلقۂ اسلام میں داخل ہونے والے ہیں۔ ابن نجیع کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا ہے لیکن…
Read the full tafseer →اور دوسروں کے لیے بھی ان ہی میں سے یا یہ کہ آس پاس کے لوگوں کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا ہے جو ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں یا یہ کہ تمام اولین و آخرین کی طرف رسول اکرم کو رسول بنا کر بھیجا ہے خواہ عرب میں سے ہوں یا عجم میں سے ہوں۔
اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے وہ اس کو سزا دینے میں زبردست ہے اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔۔۔:”اخرین“ کا عطف ”فی الامین“ پر ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کو عرب امیوں میں بھیجا جن کی وہ نسل میں سے ہے اور اسے غیر عرب امیوں میں بھی بھیجا جو ابھی مسلمان ہو کر عربوں کے ساتھ ملے ، مگر آئندہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ تفصیل کے لیے اسی سورت کی آیت (2) کی تفسیر کا پہلا فائدہ ملاحظہ فرمائیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے ، وہ فارس کے لوگ (ہیں) وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے۔ حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کیے اس دین کو تھامنے والے ، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے“۔ (موضح)
Read the full tafseer →واخرین منھم اس کا عطف الامین پر ہے یعنی امیوں میں اور دوسرے لوگوں میں رسول بھیجا۔ یہ بھی جائز ہے اس کا عطف یزکیھم ویعلمھم کی ضمیر پر ہو، یعنی انہیں تعلیم دیتا ہے اور دوسرے مومنوں کو تعلیم دیتا ہے کیونکہ تعلیم جب آخر زمانہ تک ترتیب وار ہوگی تو سب اول کی طرف منسوب ہوگی تو گویا تعلیم میں سے جو بھی چیز پائی گئی اس کی والی وہ پہلی ذات ہوگی۔
لما یلحقوابھم وہ ان کے زمانہ میں نہیں وہ ان کے بعد آئیں گے۔ حضرت ابن عمر اور سعید بن جیر نے کہا : مراد عجمی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے : ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ آپ ﷺ پر نازل ہوئی جب آپ ﷺ نے اس آیت کی…
Read the full tafseer →8۔ طبرانی وابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ میں سے کچھ لوگو کی نسلوں در نسلوں میں سے ایسے مرد اور عورتیں ہوں گی جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم وہو العزیز الحکیم۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ سارے لوگ مراد ہیں جنہوں نے اسلام کی تابعداری کی۔
10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واخرین منہم لمایلحقوا بہم سے تابعین مراد ہیں۔
11۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت واٰخرین منہم لما…
Read the full tafseer →[وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ : اور کچھ ایسے دوسرے لوگوں میں ان میں سے جو ] [لَمَا يَلْحَقُوْا بِهِمْ : ابھی تک نہیں ملے ان سے ] [وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اور وہی بالادست ہے حکمت والا ہے ]
(آیت۔ 3) وَاٰخَرِیْنَ گذشتہ آیت میں فِی الْااُمِّیّٖنَ کے فِیْ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جرّ میں ہے۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 3 ۔ میں آخَرِیْنَ کے عطف میں دو قول ہیں۔ بعض نے اس کو اُمِّیّٖنَ پر عطف قرار دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امین میں اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے نہیں ملے۔ یہاں ان میں بھیجنے سے مراد ان کے لیے بھیجنا ہے کیونکہ لفظ فی عربی میں اس معنی کے لیے آتا ہے اور بعض نے آخرین کا…
Read the full tafseer →اہل عجم کی اسلام کی خدمتیں :
جب حدود عرب سے نکل کر آپ کا لایا ہوا پیغام توحید شرقاً غرباً عجم میں پھیل گیا تو عجمیوں نے قرآن کو لیا حفظ کیا قراتیں اور روایتیں محفوظ کیں، طرق ادا سیکھے، معانی سمجھے، قرآن کی تفسیریں لکھیں اور احکام قرآن پر کتابیں تالیف کیں، قرآن کے مواعظ کو امت میں پھیلایا حتی کہ کثیر تعداد میں علماء وصلحاء وجود میں آگئے اہل عرب کے بعد اہل عجم کا خدمات اسلام میں بہت بڑا حصہ ہے اسی کو فرمایا ﴿ وَّ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ﴾ (اور ان امیین کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی ان ہی کو رسول بنا کر بھیجا جو ابھی تک امیین سے نہیں ملے) یعنی ان تک اسلام نہیں پہنچایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →4:۔ ” واخرین منہم “ اس میں ان مومنوں کا ذکر ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست تعلیم وتزکیہ حاصل نہیں کیا۔ ” واخرین، الامییین پر معطوف ہے۔ کیونکہ آپ بعد والوں کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ یا یہ ” یعلمہم “ کی ضمیر منصوب پر معطوف ہے۔ کیونکہ تعلیم کا سلسلہ معلم اول ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لان التعلیم اذا تناسق الی اخر الزمان کان کلہ مسندا لی اولہ الخ (قرطبی ج 18 ص 93) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” اخرین “ فعل مقدر یظہر کا مفعول ہے از قبیل علفتہا تبنا وماء باردا۔ کیونکہ بعد میں آنے والوں کو آنحضرت ﷺ کا تزکیہ نصیب نہیں ہوا۔ ای یظہر کتابہ اخرین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ ہے۔ کیونکہ اس میں بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ نماز جمعہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی یہ گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 748 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ نے یہودیوں کی ایذاء رسانی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا تھا۔ کہ تم بھی ان جیسے نہ ہوجانا۔ اور اب اس سورة میں یہودیوں کی نافرمانی کی وجوہات یعنی ان کی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو فرائض کا ذکر تھا ، ایک تو وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے اور دوسرا نبی آخرالزمان…
Read the full tafseer →وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 3
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1 ؎ ان پڑھ قوم سے مراد عرب ہے ان میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور ان کے سوا اور آیندہ آنے والی قوموں کے لیے بھی خواہ عرب کی نسلوں میں سے یا اور قوموں میں سے ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَّاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الجمعۃ : 3)
(اور ان ہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں، اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ )
یہ دعوت ان کے لیے بھی ہے جو ابھی اسلام نہیں لائے
اس کا عطف امیین پر ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں کی طرف رسول بھیجا، اسی طرح اس نے ان لوگوں کی طرف بھی بھیجا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے۔ اور جس طرح وہ اُمّی جو اسلام قبول کرچکے اور آنحضرت ﷺ انھیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں، ان کا تزکیہ فرماتے ہیں اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اسی طرح ان لوگوں کو بھی جو ابھی ان میں شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے رد عمل میں بنی اسرائیل دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور دوسرے گروہ نے ان کا انکار کردیا۔ سورة الجمعہ کی ابتدا ” سَبَّحَ “ کے پرجلال لفظ سے کی گئی ہے جس کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات کو مانے یا نہ مانے اسے یاد کرے یا اس کا انکار کرے وہ تو وہ ہستی ہے جسے زمین و آسمانوں کی ہر چیز ان الفاظ میں یاد کرتی ہے کہ ” اللہ “ کلی اختیارات کا مالک اور ہر قسم کی حاجت اور نقص سے پاک ہے۔ ہر نقص اور حاجت سے مبرّا ہونے کے ساتھ ہر اعتبار سے پوری کائنات پر غالب ہے۔ اس کے غالب ہونے میں صرف قوت ہی…
Read the full tafseer →آخرین کی مراد :
3 : وَّ ٰاخَرِیْنَ مِنْہُمْ (اور دوسرے لوگوں کیلئے بھی) نحو : یہ مجرور ہے۔ اور اس کا عطف الامیّین پر ہے۔ یعنی اسی نے آپ کو بھیجا اُمیّین میں جو آپ کے زمانہ میں ہیں۔ اور امیّین میں سے پچھلوں میں جو ابھی تک نہیں آئے۔ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (مگر ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے) یعنی ابھی تک ان کے ساتھ نہیں ملے۔ وہ عنقریب ان سے آملیں گے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ ؓ کے بعد ہوئے (تابعین) نمبر 2۔ جو صحابہ کرام کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ ایک قول یہ ہے اس سے عجمی مراد ہیں۔
نحو : اس کا عطف یعلمھم کی ضمیر مفعول پر ہے۔ اور یہ حالت نصبی میں ہے۔ تقدیرعبارت یعلمھم ویعلم آخرین۔ کیونکہ تعلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2-1…” یسبح للہ مافی السموات…تا…بعث فی الامیین “ یعنی عرب ان پڑھ امت تھے نہ لکھتے تھے اور نہ پڑھتے تھے۔ ” رسولا منھم “ یعنی محمد ( ﷺ ) آپ کا نسب ان کا نسب ہے۔ ” یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلھم الکتاب والحکمۃ ہو ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین “ یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے نہیں تھے مگر واضح گمراہی میں بتوں کی عبادت کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث 2 ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ وہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر بھی احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہ کی دعوت پہنچی تھی اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پاسکے۔ بہر حال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنی صحیح ہیں بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ نے اپنا رسول مبعوث کیا جنہوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا ان کو ایسے خصائل اور فضائل حاصل ہیں کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
علم بغیر عمل کے بیکار ہے
قول باری ہے (مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملو ھا کمثل الحمار یحمل اسفار، جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں)
ایک روایت کے مطابق اس سے یہود مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے تورات کا علم حاصل تو کرلیا لیکن اس پر عمل پیرا نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گدھے کے مشابہ قرار دیا جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیونکہ انہوں نے بھی اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جس کا انہیں حامل بنایا گیا تھا جس طرح گدھا اپنی پیٹھ پر…
Read the full tafseer →9 ۔ عموم بعثت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز ان کی بعثت ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی تک ان کے ساتھ ملے نہیں ہیں۔ یعنی واخرین کا عطف " الامیین " پر ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا عطف " یعلمھم " کی ضمیر منصوب پر ہو کہ آنحضرت ﷺ کی پیش فرمودہ تعلیمات عالیہ قیامت تک کے جملہ انسانوں کے لیے ہیں سو اس سے اشارہ فرمایا گیا کہ انہی امیوں میں سے جن کے لیے یہ آسمانی نعمت اتاری گئی ہے کہ کچھ دوسرے بھی ہیں جو ابھی تک اس سے دور ہیں، سو پیغمبر کی بعثت موجود بنو اسماعیل کے علاوہ آئندہ آنے والوں کے لیے بھی ہے۔ کیونکہ آپ کی بعثت عام اور سب دنیا جہاں اور قیامت تک کے سب لوگوں کے لیے ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ رب العزت کی تسبیح اور آخری رسول ﷺ کی بعثت کا ذکر
تشریح : اس مضمون سے ملتی جلتی بیشمار آیات ہم پڑھ چکے ہیں اب اس مضمون کو ہم سید حسین نصر صاحب کی تحریر سے واضح کرتے ہیں لکھتے ہیں، عام طور پر اسلام کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے معنوی لحاظ سے تین درجے ہیں اول تو یہ کہ ساری مخلوق مسلم ہے یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (ایک پھول اس بات پر قادر نہیں کہ وہ پھول نہ رہے، اسی طرح ایک ہیرا چمکنے پر مجبور ہے اللہ نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے اور ان کا کام ہی اطاعت کرنا ہے) دوسری بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اپنی مرضی سے مقدس الہامی قانون کو قبول کرتے ہیں اس اعتبار سے مسلم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →ف 6 واخرین الخ اس کا عطف فی الامیین پر ہے یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے۔ (موضح) ان سے مراد دنیا بھر کے وہ تمام لوگ ہوسکتے ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضتر سے دریافت کیا کہ ” ان ابھی نہ ملنے والے لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں ؟ “ آپ نے حضرت سلمان فاسری کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو تو وہ اہل فارس میں سے کچھ لوگ اسے ضرور پالیں گے شوکانی
Read the full tafseer →(62:3) واخرین منھم اس کا عطف یعلمہم کی ضمیر پر ہے اور منھم کی ضمیر جمع مذکر غائب امیون کی طرف راجع ہے۔ یعنی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو امیین میں سے ہیں نہ صرف ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں اور یہ دوسرے لوگ بھی اول لوگوں میں سے ہی ہیں۔ (منھم) یعنی انہی کے ہم مذہب اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔
اخرین سے کون مراد ہیں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) عکرمہ اور مقاتل نے کہا کہ اخرین سے مراد تابعین ہیں۔
(2) ابن زید نے کہا کہ :۔ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو قیامت تک حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے ہیں ۔ ابن بخیع کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
حضور ﷺ کی عالمگیر نبوت و رسالت۔
(ف 2) نبی ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے ہیں ان کی ہدایت کرتے اور نیز سوائے عرب کے جس قدر اور ممالک مشارق ومغارب ارض میں سارے جہان کی وہ ہدایت کرتے ہیں جو لوگ ابھی نہیں آئے زمانہ کے آخر تک جب تک دنیا باقی ہے اور دنیا میں آدمی ہیں اس وقت تک کے ہادی ہیں خواہ عرب ہوں خواہ عجم ، خواہ آزاد خواہ غلام ، اس وقت موجود ہوں یا بعد میں آنے والے، غرض آپ کی نبوت عرب عجم وغیرہ سب مخلوقات کے لیے عام ہے خدا بڑی عزت والا ہے غالب ہے جو اس پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا اس کی سزادینے والا حکیم ہے اپنے اوامر ونواہی اور مجاری قضا وقدر میں حکمت والا ہے اس نے حکم دیدیا ہے کہ سوائے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[4] یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عربوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام اقوام عالم کے لئے بھی ہے جو قیامت تک آنے والی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(3) اوردوسرے لوگوں کے لئے بھی جو آئندہ ان میں شامل ہونے والے ہیں اور ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا یعنی وہ رسول بھی امی اور ان پڑھ بھیجا اور عرب کی ہدایت کے لئے اس کو مقرر کیا آگے اس پیغمبر کے تعلیمی شعبوں کا ذکر فرمایا کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے جس سے ان کو ہدایت میسر ہوتی ہے اور ان کو عقائد باطلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرتا ہے اور ان کی اخلاقی اصلاح کرتا اور ان کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب یعنی قرآن کی تعلیم دیتا ہے اور ان کو حکمت و دانش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3۔ اس میں تمام امت قیامت تک عربی و عجمی سب آگئے اور ان کو منھم باعتبار اسلام کے فرمایا کیونکہ مسلمان سب متحد ہیں۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کو دعوت اسلام کا طریقہ جو ابھی تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے
3 ؎ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی قریش مکہ جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو مصائب میں مبتلا کیا اور طرح طرح کی تکالیف ان کو پہنچائیں اور آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ کیا ہی حکمت ہے اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں اور اس رسول مکرم میں جس پر یہ قرآن کریم وحی کیا گیا کہ کس حکمت کے ساتھ ان کو دعوت دی جا رہی ہے اور ذرا بھر بھی ان کو احساس نہیں ہونے دیا کہ تم نے اہل اسلام کو اور خود نبی کریم ﷺ کو کس قدر تکلیفیں دی ہیں اور تمہارے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے اور تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ فرمایا ان لوگوں میں ابھی ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (...And [ this Messenger is sent also ] to others of them who did not join them so far. And He is the All-mighty, the All-wise...62:3) The word 'akharin means 'other people' and the phrase لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ means 'those people who have not yet joined the unlettered people'. This refers to all those Muslims who will enter the fold of Islam until the Last Hour [ as transmitted by Ibn Zaid, Mujahid and others ]. This indicates that the succeeding generations of Muslims will be appended to the earlier generations of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 That is, the Apostleship of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is not restricted only to the Arabs but is meant for other nations and races as well, who havc not yet joined the believers, but are going to be born till the Last Day. The word minhum (of them) in the original can have two meanings: (1) "That those other people will be of the ummis i.e. the non-Isaelite nations of the world;" and (2) "that they will be believers in Muhammad (upon whom be Allah s peace and blessings) , though they have not yet joined the believers, but will join them later on. " Thus, this verse…
Read the full tafseer →