62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsجواھر القرآن

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی2 بولتا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں بادشاہ پاک ذات زبردست حکمتوں والا

2:۔ ” یسبح للہ الخ “ مضمون توحید کا اعادہ ہے۔ اس سورت سے چونکہ نئے مضمون یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی ابتداء ہوئی ہے اس لیے شروع میں مسئلہ توحید کا اعادہ کیا گیا تاکہ یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ انفاق اور جہاد مسئلہ توحید کی خاطر ہیں۔ اس آیت کی تفسیر اور الفاظ کے معنی پہلے گذر چکے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی توحید کا اقرار کرتی اور اس کی تسبیح و تنزیہ بجا لاتی ہے۔ یہاں تک کہ جمادات اپنی مخصوص حیات اور شعور کی بنا پر تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ کل شیئ وان کان جمادا فلہ نوع من الحیاۃ والشعور فیقربوحدانیتہ ویسبحہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم (مظہری ج 9 ص 275) ۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے3 اٹھایا ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں کہ پڑھ کر سنایا ہے ان کو اس کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقل مندی اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں

3:۔ ” ھو الذی بعث “ یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہمارا پیغمبر دعائے توحید اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے پیش نہیں کر رہا۔ بلکہ اللہ نے اس کو مبعوث کیا ہے اور مسئلہ توحید اور اس کی تبلیغ کا حکم وحی کے ذریعے اس پر نازل فرمایا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے وہ کتب سابقہ کے بھی مطابق ہے۔ یہ آیت ضمنًا صداق رسول ﷺ کی بھی دلیل ہے۔ آپ جو بیان فرماتے ہیں وہ کتب سابقہ کے مطابق ہے ساحر اور مجنون ایسی سچی خبریں دینے سے عاجز ہوتے ہیں جو واقع کے عین مطابق ہوں۔ یہاں مومنوں کے دو فریق مذکور ہیں اعلی اور ادنی۔ ” یزکیھم “ میں فریق اعلی کا ذکر یعنی ان کو عقائد باطلہ خصائل قبیحہ اور خبث جاہلیت سے پاک کرتا ہے۔ ” ویعلمہم الکتب والحکمۃ “ میں فریق ادنی کا ذکر ہے جیسا کہ دوسری جگہ ان دونوں مرتبوں کا ذکر اس طرح فرمایا۔ ” لعلہ یزکی “ میں مرتبہ اولی اور ” یذکر “ میں مرتبہ ثانیہ کا ذکر ہے۔ فریق اول کے بارے میں ارشاد ہے ” اللہ یجتنبی الیہ من یشاء “ اور فریق ثانی کے بارے میں فرمایا ” ویھدی الیہ من ینیب “۔ ھذا ما افادہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور اٹھایا اس رسول کو4 ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہی میں سے جو ابھی نہیں ملی اور ان میں وہی ہے زبردست حکمت والا

4:۔ ” واخرین منہم “ اس میں ان مومنوں کا ذکر ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست تعلیم وتزکیہ حاصل نہیں کیا۔ ” واخرین، الامییین پر معطوف ہے۔ کیونکہ آپ بعد والوں کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ یا یہ ” یعلمہم “ کی ضمیر منصوب پر معطوف ہے۔ کیونکہ تعلیم کا سلسلہ معلم اول ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لان التعلیم اذا تناسق الی اخر الزمان کان کلہ مسندا لی اولہ الخ (قرطبی ج 18 ص 93) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ” اخرین “ فعل مقدر یظہر کا مفعول ہے از قبیل علفتہا تبنا وماء باردا۔ کیونکہ بعد میں آنے والوں کو آنحضرت ﷺ کا تزکیہ نصیب نہیں ہوا۔ ای یظہر کتابہ اخرین۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ بڑائی5 اللہ کی ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے

5:۔ ” ذلک فضل اللہ “ آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے وہ جسے چاہے اسے سرفراز فرمائے اور اس کے فضل عظیم کے سامنے دنیا کی ہر نعمت حقیر اور ہیچ ہے۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی6 جن پر لادی تورات پھر نہ اٹھائی انہوں نے جیسے مثال گدھے کی کہ پیٹھ پر لے چلتا ہے کتابیں بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو اور اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو

6:۔ ” مثل الذین حملوا “ یہ یہودیوں کی بد عملی کی تمثیل ہے اور مشرکین کے لیے زجر ہے کہ تم ان یہودیوں کی مانند نہ ہوجاؤ جنہیں تورات دی گئی مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لاد دی جائیں تو اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اے اہل عرب ! تم اس حمار کی مانند نہ بنو اور اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید کا دعوے مان لو۔ تمہارے پاس اللہ کا سچا رسول آیا اور اللہ کی طرف سے اپنے ساتھ کتاب بھی لایا ہے اس پر ایمان لے آؤ اور یہودیوں کی طرح بدعملی کی راہ اختیار کر کے حمار نہ بنو۔
Ayahs 62:6–7

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

تو کہہ اے یہودی7 ہونے والو اگر تم کو دعویٰ ہے کہ تم دوست ہو اللہ کے سب لوگوں کے سوا تو مٹاؤ اپنے مرنے کو اگر تم سچے ہو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور وہ کبھی نہ منائیں گے اپنا مرنا ان کاموں کی وجہ سے جن کو آگے بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ اور اللہ کو خوب معلوم ہیں سب گناہ گار

7:۔ ” قل یا ایہا الذین ھادوا “ یہ یہود کو دعوت مباہلہ ہے تم خاتم النبیین کی بعثت سے پہلے فخر کیا کرتے تھے اب وہی رسول آگیا ہے، تو محض اپنی دنیوی ریاست کے تحفظ کی خاطر اس پر ایمان نہیں لاتے ہو، اور دعوی کرتے ہو کہ تم ہی حق پر ہو اور تم اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہو تو آؤ مباہلہ کرلو۔ دونوں فریق ایک کھلے میدان میں نکل کر ایک دوسرے پر بد دعا کریں کہ اللہ جھوٹے کو ہلاک کردے۔ مگر یہود مباہلہ کے لیے ہرگز تیار نہ ہوں گے۔ کیونکہ انہیں پانے کرتوت معلوم ہیں، اور وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مباہلہ کے لیے نکلے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔ فادعوا بالموت علی الضال من الفئتین ان کنتم صدقین (ابن کثیر ج 4 ص 364) ۔ سورة بقرہ میں اس سے ملتی جلتی ایک آیت گذر چکی ہے۔ ” قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ۔ الایۃ “ (بقرہ رکوع 11) ۔ اس آیت کی تفسیر میں تمنی موت سے مباہلہ کا مراد ہونا خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ ملاحظہ تفسیر ابن جریر ج 1 ص 424 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بھی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ ای ادعوا بالموت علی ای الفریقین اکذب (ابن جریر ج 1 ص 425) ۔ اسی طرح امام قتادہ، ابو العالیہ اور ربیع بن انس سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہی تفسیر متعین ہے۔ ثم ھذا الذی فسر بہ ابن عباس الایۃ ھو المتعین وھو الدعاء علی ای الفریقین اکذب منہم او من المسلمین علی وجہ المباھلۃ ونقلہ ابن جریر عن قتادۃ وابی العالیۃ والربیع بن انس رحمہم اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ج 1 ص 127) ۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

تو کہہ موت8 وہ جس سے تم بھاگتے ہو سو وہ تم سے ضرور ملنے والی ہے پھر تم پھیرے جاؤ گے اس چھپے اور کھلے جاننے والے کے پاس پھر جتلا دے گا تم کو جو تم کرتے تھے

8:۔ ” قل ان الموت الذی “ یہ آیت ماقب سے متعلق ہے یعنی جس موت سے تم ڈر رہے ہو اور اس سے بچنے کے لیے مباہلہ کی طرف نہیں آتے ہو اس سے تم کبھی بچ نہیں سکتے۔ موت تو بہرحال آئے گی، اس کے بعد تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو تمہاری ہر بات کو جانتا ہے۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو9 جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خریدو فروخت یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے

9:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ ترغیب الی الذکر ہے۔ جمعہ کا اجتماع چونکہ سات دنوں میں ایک بار ہوتا تھا اور سب لوگ اکٹھے ہوتے تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ خطبہ جمعہ میں زیادہ اہمیت کے مسائل بیان فرماتے تھے مثلا جہاد میں خرچ کرنے اور جہاد میں شمولیت کی ترغیب وغیرہ۔ اس لیے ارشاد فرمایا جب جمعہ کی اذا ہونجائے تو تجارت اور دیگر کاروبار چھوڑ کر خطبہ کی طرف دوڑوں اور زیادہ اہمیت کے احکام سنو اور ان پر عمل کرو تمہاری دینی اور دنیوی بہتری اسی میں ہے۔ ” وذروا البیع “ اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ، سے ایک لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ نماز جمعہ اسی جگہ قائم کی جائے جہاں تجارتی کاروبار ہوتا ہو، اور ایسی جگہ قصبات یا بڑے شہر ہیں۔ دیہات پر یہ بات صادق نہیں آتی۔ ” ذکر “ سے مراد خطبہ ہے یا نماز یا خطبہ مع نماز، اکثر مفسرین نے ان تینوں معنوں میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب تمام ہوچکے10 نماز تو پھیل پڑو زمین میں اور ڈھونڈوفضل اللہ کا اور یاد کرو اللہ کو بہت سا تاکہ تمہارا بھلا ہو

ف 10:۔ ” فاذا قضیت “ جب نماز جمعہ سے فارگ ہوجاؤ تو بدستور خریدو فروخت اور دیگر کاروبار میں لگ جاؤ اور اپنی روزی تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد رکھو۔ اللہ کی یاد کو صرف نماز ہی سے مختص نہ کرو بلکہ ہر وقت اس کو یاد کرتے رہو۔ اللہ کی یاد زبان سے یاد کرنے ہی میں منحصر نہیں اگر کوئی شخص اپنے کاروبار میں اللہ کو یاد رکھتا ہے تو وہ بھی ذکر اللہ میں مصروف ہے۔ واذکروا کثیرا فی مجامع احوالکم ولا تخصوا ذکرہ بالصلوۃ الخ (مظہری ج 9 ص 298) ۔ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنا فلاح دارین کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب دیکھیں11 سودا بکتا کچھ تماشہ متفرق ہوجائیں اس کی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشہ سے اور سوداگری سے اور اللہ بہتر ہے روزی دینے والا

11:۔ ” واذا راو “ یہ مومنین پر زجر ہے۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوراک کی قلت اور نایابی کی وجہ سے لوگوں کو فاقوں کا شکار ہونا پڑا، کیونکہ خوراک کی قیمتیں اس قدر چڑھ گئیں کہ عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں۔ ایک دن آپ جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے کہ اچانک ڈھنڈورہ پیٹنے کی آواز سنائی دی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی تاجر اشیاء خوردنی میں لے کر مدینہ میں آ وارد ہوا ہے۔ تو بہت سے مسلمان بھی آپ کو بحال خطبہ چھوڑ کر بازارچلے گئے تاکہ وہ ضرورت کی چیزیں خرید لیں۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر وہ نماز ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں تو سارا مال بک جائے گا اور وہ اس قحط کے زمانے میں اشیاء ضرورت سے محروم رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا یہ فعل پسند نہ آیا اس لیے ان کو بغرض تادیب عتاب فرمایا۔ بارہ مرد اور ایک عورت مسجد میں باقی رہ گئے۔ فرمایا ان کو بتا دو کہ اس لہو و لعب اور تجارت کے مقابلہ میں پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ نماز ادا کرنے کا اجر وثواب کہیں زیادہ بہتر ہے۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرو اور اس کی خوشنودی تلاش کرو۔ وہ روزی کے وسائل خود مہیا فرمائے گا۔ امام ابو حبان کہتے ہیں کہ خطبہ چھوڑ کر جانے کی ابتداء منافقین کی طرف سے ہوئی پھر ان کے بعد بہت سے مسلمان بھی اٹھ کر چلے گئے۔ یہ استماع خطبہ کے وجوب سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ان آیتوں کے نزول کے بعد ثابت نہیں کہ کوئی صحابی خطبہ چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہو۔ ان آیتوں کے نزول کے بعد صحابہ کرام ؓ کا یہ حال تھا کہ جونہی اذا کی آواز کانوں میں پڑی ہاتھوں کو کاموں سے روک لیتے اور سب کام چھوڑ کر مسجد کی طرف روانہ ہوجاتے۔ سورة جمعہ میں آیت توحید اور اس کی خصوصیت۔ 1 ۔ ” یسبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض۔ الایۃ “ نفی شرک ہر قسم۔ سورة الجمعہ ختم ہوئی