Ayah 63:12:۔ ” اذا جاءک المنافقون۔ تا۔ ان اللہ لا یہدی القوم الفاسقین “ منافقین پر شکوی ہے۔ منافقین کے اعمال خبیثہ اور ان کے ناپاک عزائم کو واشگاف کر کے مسلمانوں کو ان سے متنفر کیا گیا ہے، تاکہ وہ ان سے دور رہیں۔ ” قالوا نشہد انک لرسول اللہ “ منافقین جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم دل و جان سے آپ کو اللہ کا سچا رسول مانتے ہیں۔ منافقین کا یہ دعوی چونکہ حق و صداقت کے خلاف تھا، کیونکہ وہ صرف زبان ہی سے رسالت کا اقرار کرتے تھے، لیکن ان کے دل ایمان وتصدیق سے خالی تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تکذیب فرمائی۔ ” واللہ یشہد انہم لکذبون “ کہ اللہ تعالیٰ اعلان فرماتا ہے کہ منافقین اپنے اس دعوے میں سراسر جھوٹے ہیں۔ درمیان ” واللہ یعلم انک لرسولہ “ جملہ معترضہ لایا گیا تاکہ یہ وہم نہ کیا جاسکے کہ ” لکذبون “ کا تعلق نفس خبر ” انک لرسول اللہ “ سے ہے۔ تو اب معلوم ہوگیا کہ منافقین کو نفس خبر میں جھوٹا نہیں کہا گیا، بلکہ انہیں ان کے اس دعوے میں جھوٹا کہا گیا ہے کہ ان کا یہ زبانی قول دل کے اعتقاد کے مطابق ہے۔ فالتکذیب راجع الی (نشہد) باعتبار الخبر الضمنی الذی دل علیہ التاکید وھو دعوی المواطاۃ فی الشہادۃ ای واللہ یشہد انہم لکاذبون فیما ضمنوہ قولہم (نشہد) من دعوی المواطاۃ وتوافق اللسان والقلب فی ھذہ الشھادۃ (روح ج 28 ص 108) ۔ یا ” لکذبون “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی اس صفائی میں جھوٹے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے خلاف کوئی بات نہیں کہی (روح) ۔ ظاہر قرآن سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔
Ayah 63:23:۔ ” اتخذوا ایمانہم “ یہ منافقین پر زجر ہے۔ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ مریسیع میں منافقین نے بھی شرکت کی۔ میں نے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے سنا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی مالی امداد کرنا بند کردو تو وہ بھوکوں مرتے خود بخود اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہوجائیں گے اور جب ہم مدینہ میں واپس جائیں گے (عیاذا باللہ) ان ذلیلوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے۔ میں چونکہ چھوٹا تھا اس لیے براہ راستحضور ﷺ کی خدمت میں حقیقت حال واضح کرنے کے بجائے اپنے چچا کو صورت حال سے آگاہ کردیا جنہوں نے سارا ماجر حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کردیا۔ آپ نے مجھے طلب فرمایا اور عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ منافقین صاف مکر گئے اور قسمیں کھا کھا کرحضور ﷺ کو اپنی سچائی کا یقین دلایا۔ چناچہ آپ نے مجھے جھٹلا دیا اور ان کو سچا سمجھ لیا۔ اس سے مجھے شدید صدمہ ہوا۔ آخر اللہ نے اس سورت کی ابتدائی آیتیں نازل فرما کر منافقین کی خباثت اور کذب بیانی ظاہر فرما دی۔ یہ بھی دلیل ہے کہ ” لکذبون “ کا دوسرا مفہوم راجح اور اصح ہے۔ ” جنۃ “ ڈھال، انہوں نے جھوٹی قسموں کو دنیوی سزا سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکاھ ہے اور لوگوں کو دین اسلام اور توحید سے روکتے ہیں۔ ان کا یہ کردار نہایت برا ہے۔
Ayah 63:34:۔ ” ذلک بانہم “ یہ اس لیے کہ زبان سے تو انہوں نے ایمان کا اقرار کیا، لیکن دل میں کفر رکھا جو آخر ان کے کردار و گفتار سے ظاہر ہو کر رہا۔ تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کو ایمان خالص کی توفیق اور حقیقت ایمان کے فہم سے محروم کردیا۔
Ayah 63:45:۔ ” واذا رایتہم “ بھی زجر ہے۔ جب منافقین کو آپ دیکھتے ہیں تو حسن و جمال اور جسمانی ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ آپ کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اور ان کی باتیں بھی آپ بغور سنتے ہیں، کیونکہ وہ فصاحت و بلاغت، شیریں کلامی ور چرب زبانی میں ماہر ہیں اور اپنی دلیری اور بہادری کی ڈینگیں مارتے ہیں۔ ” کانہم خشب مسندۃ “ یہ کلام مستانف ہے اور اس میں منافقین کے ایمان سے خالی ہونے کا بیان ہے جس طرح بیکار لکڑی دیوار کے ساتھ کھڑی کردی جاتی ہے جو نہ ستون ہو نہ شہتیر نہ کڑی الغرض فائدے سے خالی ہو اسی طرح یہ منافقین جو آپ کی مجلسوں میں دیواروں سے تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں محض بیکار اور ایمان سے خالی ہیں۔ شبھو فی جلوسہم مجالس رسول اللہ صلی اللہ علی ہو سلم مستندین فیہا وما ھم الا اجرام خالیۃ عن الایمان والخیر یخشب منصوبۃ مسندۃ الی الحائط فی کو نہم اشباھا خالیۃ عن الفائدۃ الخ (روح ج 8 ص 111) ۔
6:۔ ” یحسبون “ منافقین کے دلوں میں چونکہ چور ہے اور وہ اپنی خباثتوں کو خوب جانتے ہیں اس لیے ہر وقت خوفزدہ اور ہراساں رہتے ہیں اور جب بھی کوئی آواز سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہماری خیر نہیں اور یہ ہماری ہی موت کا پیغام اور ہمارے ہی خلاف کوئی اعلان ہے یہ ملعون آپ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ان سے بچیے اور ان کی چالوں سے خبردار رہیے وہ کس طرح حق سے کفر و ضلال کی طرف پھیرے جا رہے ہیں۔
Ayah 63:5ٖف 7:۔ ” واذا قیل لہم “ یہ بھی منافقین پر زجر ہے۔ جب منافقین کی تکذیب نازل ہوئی تو تمام مسلمانوں نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو ملامت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرنے کا مشورہ دیا، خود رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا تاکہ وہ سچے دل سے ایمان لے آئیں اور نفاق سے توبہ کرلیں تو آپ ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں اور ان کے لیے معافی کی درخواست کریں تو انہوں نے کمال بےاعتنائی سے کبر و غرور کے ساتھ اس سے اعراض کیا اور خدمت عالیہ میں حاضر ہونے سے انکار کردیا۔
Ayah 63:68:۔ ” سواء علیہم “ یہ منافقین، نفاق اور ضد وعناد کی انتہاء کو پہنچ چکے ہیں، اس لیے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے اور ان سے توبہ کرنے اور راہ راست پر آنے کی توفیق سلب کرلی گئی ہے، اس لیے آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں، اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے فساق و فجار کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا جو راہ راست پر نہ آنا چاہیں۔
Ayah 63:79:۔ ” ھم الذین “ تمہید کے بعد اصل مقصود کا بیان ہے اور یہ پہلا شکوی ہے۔ منافقین جن باتوں سے انکار کر رہے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہی ہیں بیشک انہوں ہی نے وہ باتیں کہی ہیں لیکن اب جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کے ارد گرد جمع ہوتے ہیں ہم ہی ان کو کھلاتے پلاتے ہیں اس لیے ان پر خرچ کرنا چھوڑ دو تاکہ وہ اس کے پاس سے منتشر ہوجائیں، انہیں یہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملے گا، تو خود بخود اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
10:۔ ” وللہ خزائن السموات “ جملہ معترضہ برائے ابطال قول منافقین۔ منافقین کا یہ خیال باطل ہے کہ اگر وہ خرچ نہ کریں گے تو مسلمان بھوکوں مرتے پیغمبر (علیہ السلام) سے الگ ہوجائیں گے۔ وہ کسی کے روزی رساں نہیں ہیں۔ روزی رساں تو اللہ ہے، زمین و آسمان کے تمام خزانے اور روزی کے تمام وسائل اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے اور جتنا چاہے دے اور جسے نہ چاہے نہ دے مگر یہ منافقین ایسے کم فہم واقع ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی شان کے خلاف سوچتے اور کہتے ہیں۔
Ayah 63:811:۔ ” یقولون لئن رجعنا “ یہ دوسرا شکوی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ذلیل و حقیر سمجھا اور اپنے کو معزز اور اشراف قرار دیا اور کہا ہمیں مدینہ میں واپس تو جا لینے دو ، ہم (عیاذا باللہ) ان کمینوں اور ذلیلوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے۔ ” واللہ العزۃ الخ “ یہ منافقین کے قول خبیث کا جواب ہے۔ فرمایا عزت، غلبہ اور قوت تو اللہ کیلئے ہے اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کیلئے ہے جن کو اللہ نے عزت اور غلبہ عطا فرمایا ہے اور ان منافقین کے لیے دنیا اور آخرت میں ذلت و رسوائی مقدر ہے۔ ای وللہ تعالیٰ الغلبۃ والقوۃ ولمن اعزہ اللہ تعالیٰ من رسولہ ﷺ والمومنین لا للغیر (روح ج 28 ص 116) ۔ لیکن منافقین فرط جہالت کی وجہ سے اس حقیقت کو نہیں جانتے اس لیے اس قسم کے ہذیات کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
Ayah 63:9ٖ 12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے۔ ” ذکر اللہ “ سے تمام عبادات خصوصا جہاد اور انفاق فی سبیل اللہ مراد ہے۔ مومنوں سے ارشاد فرمایا مال و اولاد کی تدبیر واصلاح میں اشتغال و انہماک تمہیں جہاد و انفاق اور دیگر عبادات سے غافل نہ کردے۔ جو لوگ دنیوی امور میں منہمک ہو کر ذکر اللہ سے غافل ہوجائیں وہ انتہائی خسارے میں ہیں۔
Ayah 63:1013:۔ ” وانفقوا من ما رزقنکم “ یہ ذکر اللہ کی تفسیر ہے نیز سورة جمعہ کی آخری آیتوں کی تفصیل ہے مقصد یہ ہے کہ عبادت کے وقت عبادت کرو اور فارغ وقت میں تجارت اور دوسری کاروبار کرو اپنے ہاتھ سے کماؤ خود کھاؤ، فقراء مسلمین پر اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرو تاکہ منافقین کی مالی امداد کی تمہیں حاجت ہی نہ رہے۔ اپنی زندگی میں موت سے پہلے خرچ کرلو، ورنہ پچھتاؤ گے اور موت کے وقت آرزو کروگے کہ بار الٰہا ! تھوڑی سی مہلت ہی دیدے تاکہ میں خیرات کرلوں اور نیک بن جاؤں۔ اَکُنْ مجزوم فَاَصَّدَّقَ کے محل پر معطوف ہے گویا اسل عبارت اس طرح ہے۔ اخرتنی اصدق واکن۔ یا مجزوم کا عطف منصوب پر ہے جیسا کہ بعض نحویوں کے نزدیک جائز ہے من الروح و المتن والمتین۔
Ayah 63:1114:۔ ” ولن یؤخر اللہ “ اور جب کسی کی موت کا معین وقت آجائیگا تو اللہ تعالیٰ اس میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں فرمائیگا اور وہ سب کے تمام اعمال سے باخبر ہے، ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
سورة منافقون کی خصوصیات : مؤمنین کو انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب، منافقین کی خباثتوں کا بیان۔ ؎
سورة منافقون ختم ہوئی