Ayah 62:1جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے جو غالب حکمت والا ہے
1 ؎ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کا سب اللہ تعالیٰ کا تسبیح خواں ہے اور جس طرح صلوٰۃ وسلام اپنے اندر ایک وسعت رکھتے ہیں اسی طرح تسبیح کے لفظ میں بھی ورسعت ہے لیکن اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ گزشتہ مقامات پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے لہٰذا اس کے لیے ہم آپ کو اشارہ دے رہے ہیں کہ عروۃ الوثقیٰ جلد چہار میں سورة الرعد کی آیت 13 ، جلد پنجم میں سورة الاسراء کی آیت 44 ، جلد ششم میں سورة النور کی آیت 36 ، 41 جلد ہذا میں سورة الحشر کی آیت 44 کو دیکھ لیں اور اس جگہ بھی اس تفسیر کا تصورکر لیں ۔ گزشتہ سورت میں ( سبح) کا لفظ تھا اور اس جگہ ( یسبح) کا لفظ آیا ہے گویا گزشتہ سورت میں ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا تھا اور اس جگہ مضارع کا جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں میں دلالت کرتا ہے اور اس سے یہ بات خود بخود معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح زمانی حدود کی پابند نہیں ۔ شروع سے ہر ایک چیز اس کی تسبیح خواں ہے اور ابد تک اسی کی تسبیح ہوتی رہے گی ۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے جو کچھ تحت الثریٰ ہے اور فوق السماء وہ اپنی استعداد ، اپنی مخصوص ہیئت زندگی اور شعور کے مطابق اسی اللہ رب کریم کی تسبیح بیان کرنے میں منہمک ہے اور جس جس کام پر اللہ تعالٰ نے ان ساری چیزوں کو لگا دیا ہے ان کا ان کاموں پر لگا رہنا ہی اس کی دلیل ہے اور یہ کہ وہ ذات کبریا نہایت ہی مقدس ہے اور زبردست بھی ہے ، حکمت والا بھی اور کوئی کام وہ محض زبردستی سے نہیں کرتا بلکہ اس کا غلبہ بھی عین اس کی حکمت کے مطابق ہے ( الملک) اور ( القدوس) اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں ان کی وضاحت سورة الحشر کی آیت 44 میں آپ دیکھ سکتے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 62:2اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی و رسول کو امیین میں بھیج دیا تاکہ ان پر بھی حجت پوری ہو جائے
2 ؎ ( الامیین) مکہ والوں کا تعارف ہے اور اسی لقب سے وہ پہچانے جاتے تھے اور یہ بطور ذم نہیں بلکہ بطور مدح بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو ( النبی الامی) کے خطاب سے نوازا گیا ہے جو بطور مدح ہے اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 157 ، 158 میں کر آئے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی سرگزشت میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور آپ ﷺ کی سر گزشت سورة الفتح کے آخر میں درج کی گئی ہے۔ اس جگہ اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے حق میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جو سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے مکہ میں آباد کرنے کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے مانگی تھی اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد مکہ میں آپ کی نسل سے محمد رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی نبی و رسول نہیں آیا۔ اس کی وضاحت بھی پیچھے گزر چکی ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی سورة البقرہ کی آیت 48 میں گزر چکا ہے۔
آپ ﷺ کی دوسری خصوصیت اس جگہ یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ( رسولا منھم) ” ان ہی میں سے ایک رسول “ اور ایک جگہ آپ ﷺ کے بارے میں ( رسولا منکم) ” تم میں سے ایک رسول ‘ ‘ کہا گیا ہے۔ بہر حال ( منکم) اور ( منھم) کے مخاطب قریش مکہ ہیں جو سارے عرب میں باوجود امییون ہونے کے مخدوم ومطاع مانے جاتے تھے اور ان ضمائر سے مراد جملہ نوع انسان بھی لیے جاسکتے ہیں ۔ اب غور کرو کہ ( منکم) اور ( منھم) کہنے میں کیا خوبی و مصلحت ہے ؟ خیال رہے کہ نبی اعظم و آخر سے پیشتر دنیا کی تمام مشہور امم نے اپنے اپنے مقتدائوں کو جنس انسانی سے بالآتر ہونے کی عزت دے رکھی تھی ۔ ہندوئوں نے تقریباً 32 بزرگوں کو اوتار کا خطاب دے رکھا تھا اور اوتار کے معنی ہیں خود خدا منش یعنی انسان کے لبادہ میں آنے والا انسان ۔ گویا البشر نے تشکل مادی اختیار کر کے جامہ مخلوق پہن لیا ہے اور پھر مختلف صورتوں میں ظاہرہوا ہے جیسے انسان ، شیر ، خوک اور کچھوا وغیرہ ۔ ہمارے بریلوی بھائیوں نے بھی انہیں ہندوئوں سے اس عقیدہ کو ادھار لیا ہے یا چوری کیا ہے ؎
حقیقت میں دیکھو تو خواجہ خدا ہیں ہمیں در پہ خواجہ کے سجدے روا ہیں
یہ دعا ہے یہ دعا ہے یہ دعا تیرا اور سب کا خدا احمد رضا
چاچڑ وانگ مدینے د سے کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچ پیر فریدن باطن دے وچ اللہ
بہر حال بات ہندوئوں کی اور ان کے اوتاروں کی ہو رہی تھی ہندو زدہ یا ہندو نوازوں کی بات ضمناً آگئی اور پھر ہندوئوں کے علاوہ عیسائی ہیں تو انہوں نے بھی مسیح کو اوتار ہی کا درجہ دیا ۔ اہل تبت نے دلائی لاما کو خالقیت کی مسند پر بٹھایا ۔ اہل انگلستان نے کنگ آرتھر کی کرسی کو معصوم و غیر معصوم کی شناخت کا آلہ ٹھہرایا ۔ اسی طرح تاتاریوں نے بھی النقرا بیگم کے مجہول النسب بیٹوں کو فرزند نور قرار دیا ۔ زنان مصر نے بھی جمال یوسفی کو دیکھا تو جھٹ ان کے بشر ہونے کی نفی کر کے ان کو فرشتہ بزرگ قرار دے دیا اور اہل ناروے نے دو ڈن بت کو جو کسی نیک انسان ہی کا تھا صدیوں تک یورپ کا خدا بنا رکھا۔
ان حالات میں محمد رسول اللہ ﷺ ہیں کہ اس حقیقت کا انکشاف کرتے ہیں اور بشریت کو مخلوقیت کا برتر درجہ قرار دے کر خود کو بشر بتلاتے ہیں ۔ اس پاک لفظ ( منھم) اور ( منکم) نے ایک طرف انسان کا اشرف ماکان ہونا بتایا اور دوسری جانب ان کوتاہ بینوں کو نظر بلند پرواز کا ہم عنان بنایا ۔ تو ہمات کے سارے بادل چھٹ گئے ۔ ظنون واوہام کا پردہ چھٹ گیا ۔ نا واقفیت کا حجاب اٹھ گیا اور نقش حقیقت لوح قلب پر جاں گزیں ہوا کہ ہر ایک انسان اپنے اعلیٰ ترین کمالات اور اقتدار فوق الطبیات کو رکھتا ہوا بھی بشری ہی ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ اس لیے سرور کائنات ہیں کہ کمالات عبدیت کا اتمام و احتشام آپ ﷺ ہی کے عنصر شریف بشریت پر ہوا ۔ اس لیے آپ ﷺ سے دوسری جگہ اسی طرح اعلان کروایا گیا کہ ( ھل کنت الا بشرا رسولا) نہیں ہوں مگر بشر رسول بنایا گیا۔ اسی طرح ( منکم) اور ( منھم) نے درجہ بشریت کو بالآتر بنا دیا اور آپ ﷺ کی ذات ہمایوں کو کوتاہ بینوں کو خیالی توجیہات سے ارفع و اعلیٰ ثابت کیا اور اس طرح آپ ﷺ کا رسول رب العالمین اور مبشرا جمعین ہونا ثابت ہوگیا ۔
آپ ﷺ کی تیسری خصوصیت جو اس جگہ بیان کی گئی وہ ہے ( یتلوا علیھم ایتہ) ” وہ نبی جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا ہے “۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ مسلمان ہوتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ میں کوئی اسلام کی وہ خدمت انجام دو جو سخت مشکل ہو۔ مسلمان ان کو بتاتے ہیں کہ ہمارے نزدیک تو سب سے مشکل کام قریش مکہ کو قرآن کریم کا سنانا ہے۔ وہ بھی دھن کے پکے تھے ، قریش کے مجمع میں پہنچے اور قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ واپس لوٹے تو ان کا سارا بدن لہولہان تھا اور زخموں نے چہرہ کو بےپہچان کردیا تھا۔ اس سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ قرآن کریم کا سنانا کتنامشکل تھا اور آپ ﷺ نے ایک مدت تک ہر روز اس کام کو کیا اور آبادی مکہ کے اندر ہر ایک مجمع میں آپ ﷺ پہنچتے اور قرآن کریم سناتے تھے اور ہر شخص کو تنہائی میں ملتے اور اسے پیغام الٰہی پہنچاتے تھے ۔ آبادی کے باہر جتنے راستے آنے جانے کے تھے ان سب پر دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں آپ ﷺ جا پہنچتے اور قرآن کریم کی تلاوت سے آنے جانے والوں کے کانوں میں حکم الٰہی ڈالتے تھے۔ عرب کی کوئی مشہور منڈی اور مشہور میلہ ایسا نہ تھا جہاں آپ ﷺ نہ پہنچے ہوں اور آپ ﷺ نے تبلیغ بذریعہ تلاوت اور اشاعت بذریعہ دعوت نہ فرمائی ہو ۔ عکاظہ کا ذرہ ذرہ اور طائف کا پتہ پتہ آپ ﷺ کی تلاوت کا گواہ ہے۔
ذرا غور کرو اس گوہر مقدس کی جرأت و فتوت ، نجدت و جلاوت پر کہ رزمگاہ عالم میں جملہ افراد عالم بلکہ اقوام عالم کے خلاف اپنی زبان کھولتا ہے۔ ہر ایک کو انصاف سے ملزم ٹھہراتا ہے۔ ہر ایک کا شیشہ پندار سنگ براہین سے توڑتا ہے اور ہر ایک بت بطلان کو سند ان حقانیت پر پھوڑتا ہے۔ اسے نہ ضرب کا ڈر ہے نہ ضرر کا غم ، نہ خوف و خطر کا اندیشہ ۔ اس کا سینہ و جگر ، نیزہ و تیر سے دل نہیں ڈرتا ، اس کی زبان بیان توحید سے بند نہیں ہوتی ، اس کی سرگرمیاں لوگوں کی سرد مہری سے ٹھنڈی نہیں پڑجاتیں ، مال کی طمع ، حکومت کی للچاہٹ اسے اپنے کام سے روک نہیں سکتی ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ تلاوت آیات کتنا کٹھن اور دشوار اور خطرناک کام تھا اور یہ آپ ﷺ ہی کی خصوصیت ہے جسے آپ ﷺ نے اس خوش اسلوبی سے پورا کیا کہ اپنی آواز کو ہر ایک غافل تک پہنچایا اور ہر ایک غفلت زدہ کو خواب سے جگایا اور بالآخر سب کو ” بیدار “ کرکے چھوڑا جو بیدار ہونے کے قابل تھے۔
آج اگر کوئی شخص تلاوت قرآن کریم کو آسان اور سہل سمجھتا ہے تو اس سے بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مخالفین کے زمرہ میں تلاوت کا کام فی الواقع آج بھی آسان نہیں ہے اور اگر کسی قدر سہولت پیدا ہوگئی ہے تو محض اس لیے کہ آج کے سامعین کو معلوم نہیں کہ اس میں بیان کیا کیا جا رہا ہے اور یاد رکھناچاہئے کہ تلاوت کی دو صورتیں ہیں : (1) خود اپنے لیے پڑھنا ۔ اس کے آداب الگ ہیں مثلاً تحسین صوت ، حضور قلب ، معانی پر تفکر و تدبر ، حقائق و معارف کے خواص اور غوطہ زنی (2) دوسروں کو پڑھ کر سنانا وہ بھی اس طرح کہ وہ اس کو سمجھ جائیں اور پھر دوسرے بھی ، کون ؟ وہ جن کے کان سننے کے لیے تیار نہ ہوں اور دل سمجھنے سے انکار کرتے ہوں ۔ ان کو اس طرح سنانا کہ ان کی سمجھ میں ایک ایک چیز داخل ہوجائے۔ ان کو ثواب اخروی اور عذاب ابدی سے آگاہ کرنا کہ ان کے بدن لرز جائیں ، دل کانپ اٹھیں ، آنکھیں کھل جائیں اور طبیعت اپنے سابقہ اطوار سے رک جائے ۔ یہ کام جتنا کہنا آسان ہے اتنا ہی کر کے دکھانا مشکل ہے اور لاریب یہ کام آپ ﷺ نے کیا اور آپ ﷺ ہی کے کرنے کا تھا اور قرآن کریم گواہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس کام کو نہایت ہی عمدگی سے سر انجام دیا اور آپ ﷺ ہی کا یہ حصہ تھا۔
چوتھی خصوصیت اس آیت میں آپ ﷺ کی بیان کی گئی ہے کہ : (یعلمھم ال کتاب والحکمۃ) ” اللہ کا رسول لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے “ ال کتاب کیا ہے ؟ قرآن کریم ہی تو ہے اور تعلیم ال کتاب میں آپ ﷺ کی احادیث صحیح بھی شامل ہیں کیونکہ وہ کتاب ہی کی تفسیر ہیں اور پیچھے کتاب کے پڑھتے ہی اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اس جگہ دراصل کتاب کو حکمت ہی سے روشناس کرنا مقصود ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا ً کثیراً ) ” جسے حکمت دی گیں اسے خیر کثیر عطا کی گئی “ آیت زیر نظر سے آشکارا ہے کہ فضائل محمودہ اور محاسن کثیرہ کا نام حکمت ہے اور لفظ حکمت کا اثبات منصب نبوت سے علیحدہ بھی رکھا گیا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ہے کہ : (ولقد اتینا لقمان الحکمۃ) ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی “۔
اب قابل غور بات یہ ہے کہ ( الکتاب) اور ( تعلیم الکتب) کے بعد وہ کونسی بات رہ گئی ہے جسے حکمت سے تعبیر کیا ہے ؟ سو جان لینا چاہیے کہ ہدایات واضح اور بیانات راشدہ پر عمل کرنے کے موقع پر مختلف المزاج لوگوں کی حالت بھی مختلف پیدا ہوا کرتی ہے ۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے پیچیدہ معاملات کو عملی طریق پر بھی حل کر کے صحابہ کرام ؓ کو مکمل تعلیم عطا فرما دی (1) آپ ﷺ رونق افروز مدینہ ہوئے تو اول مہاجرین و انصار میں موافقات قائم فرما دی ، پھر یہودان یثرب اور مسلمانوں میں ایک معاہدہ قلم بند کرایا اور اس طرح ان کو اتحاد مدنیت میں شامل کرلیا ، معاہدہ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : ھذا کتاب من محمد النبی ﷺ بین المومنین المسلمین من قریش ویثرب ومن تبعھم فدحن بھم وجاھد معھم انھم امۃ واحدۃ “ ” یہ تحریر ہے محمد النبی ﷺ کی جانب سے کہ مؤمنین و مسلمین مکہ و یثرب ایک قوم واحد ہوں گے اور جو لوگ ان کا اتباع کریں گے اور ان کے معاہدات میں اور مجاہدت میں شامل ہوں گے وہ سب مل کر ایک امت کہلائیں گے “۔ (2) وان یھود بی عدن امۃ مع المومنین ” یہود ان بنی عدن بھی مؤمنین کی معیت میں قوم سمجھے جائیں گے “۔ (3) وان بینھم لنصر علی من حارب اھل ھذہ الصحیفۃ ” مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان باہمی امداد کا طریقہ جاری ہوگا خواہ کوئی بھی اس معاہدہ والوں کے خلاف لڑنے کو آئے گا ۔ اگر آپ کے پاس عقل و فکر جیسی قیمتی چیزموجود ہے تو آپ لوگ یقینا الفاظ معاہدہ کی گہرائی کا اندازہ کریں گے اور اگر آپ نے اندازہ کیا تو اس میں وہ حکمت نظر آئے گی جو اس کے اندر پوشیدہ ہے۔ ( 4) آپ نے مدینہ پہنچ کر ان سب راستوں پر آباد قبائل سے جو مدینہ کو آئے تھے معاہدے کیے ، بنو مدلج اور بنو ضمرہ کے معاہدے اس حکمت پر مبنی تھے۔ (5) صلح نامہ حدیبیہ لکھا گیا مسلمانوں میں بڑے بڑے نامور عقلمندوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا جو حکمت اس معاہدہ کی شقوں میں مخفی تھی اس وقت تو جو ہوا سو ہوا لیکن بعد میں ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے اس بات کا اعتراف نہ کیا ہو معاہدہ عین حکمت پر مبنی تھا۔ (6) کفار مکہ نے اہل یثرب کو مجبور کیا کہ وہ اہل مکہ کے مہاجرین سے جنگ کر کے ان کو ختم کردیں یا وہاں سے نکل جانے پر مجبور کریں ورنہ ہم یثرب پر حملہ کردیں گے۔ آپ ﷺ نے نہایت سمجھداری سے اہل یثرب کو باور کر ایا کہ اہل مکہ یعنی کفار مکہ تمہارے ہاتھوں تمہارے عزیزوں کو کس طرح ختم کرا دینا چاہتے ہیں اور یہ بات اہل یثرب کے دلوں میں اترگئی (7) طائف حنین کے لوگوں کو آپ ﷺ کی حکمت عملی ہی نے اسلام کی طرف مائل کردیا ۔ (8) تاریخ گواہ ہے کہ ہر قل نے مکہ والوں پر حملہ کرنا چاہا لیکن آپ ﷺ نے نہایت دانش مندی اور عین حکمت سے اس کو روک دیا کہ قریش مکہ آپ ہی کے خاندان کے لوگ تھے اور باہر سے حملہ آوروں کی آماجگاہ اس سر زمین کو نہیں بننا چاہئے اس لیے حالات کو بدلتے زیادہ دیر نہیں لگتی اور آپ براہ راست قریش مکہ سے نبردآزما رہے ۔ (9) مکہ فتح ہوا تو وہاں جو بت رکھے تھے ان میں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بھی شامل تھے اور وہ آپ ﷺ کے آبائو اجداد تھے تا ہم آپ ﷺ نے پہلے ان کو اٹھوا کر پھینکو ایا جو نہایت حکمت عملی پر مبنی تھا۔ (10) تعمیر کعبہ قریش نے ایک حصہ بیت اللہ کو چھوڑ کر بعمل مجبوری بعض حصہ پر چھٹ ڈلوائی لیکن بعد میں آپ ﷺ نے اس کو اسی حال پر رہنے دیا اور اس طرح بیت اللہ کے دروازے سے نیچے لانے کا مسئلہ زیر تجویز آیا لیکن آپ ﷺ نے اس کو اسی حال پر رہنے دیا کہ دونوں باتوں میں کچھ احتمال تھا اور دونوں ہی باتوں میں کوئی شرک وغیر کی بات نہ تھی اسی لیے اس کو برداشت کرنا نہایت حکمت عملی پر دال تھا اگر ان باتوں میں غور کرو گے تو ان کی حکمت سامنے آجائے گی ۔ اس طرح کی اتنی باتیں ہیں کہ اگر ان کو شمار کیا جائے تو بیسیوں سے متجاوز ہوجائیں اور پھر ذرا مزید سمجھنے کی کوشش کرو گے تو معلوم ہوگا کہ اس حکمت کے مآل ہی کا نام تزکیہ نفس ہے اور یہی زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم نے اشارات و استعارات میں آپ کے سامنے جو کچھ پیش کیا ہے اس میں سمجھنے کی بیشمار باتیں ہیں اور جن کے پاس سمجھ لینے کی قوت موجود ہے وہ کوشش کریں گے تو ان کو پا لیں گے ۔ اس آیت کی تشریح کے لیے صفحات درکار ہیں لیکن ہم نے سطور ہی میں اس کو سمیٹ دینے کی کوشش کی ہے اور یہ ہماری مجبوری ہے ۔ آیت کے آخر میں مکہ والوں کی حالت کی طرف اشارہ کردیا ہے جو آپ ﷺ کی آمد سے پہلے ان کی زمانہ میں تھی لیکن ان کی اس گمراہی کو دور فرما دیا۔ نیز آیت کے لفظ (الامیین) کی وضاحت بھی اسی آخری ٹکڑے نے کردی کہ یہ لوگ تھے جو آپ ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی گمراہی اسی باعث دور ہوگئی اگرچہ ابھی بعض وہ بھی ان میں موجود تھے جن کی گمراہی ابھی تک دور نہیں ہوئی تھی اور وہ ایمان سے مشرف نہیں ہوئے تھے لیکن اس سے کچھ عرصہ بعد ان میں سے بھی بہت لوگ اسلام میں داخل ہوگئے جن کا داخل ہونا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔
Ayah 62:3ان لوگوں کو دعوت اسلام کا طریقہ جو ابھی تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے
3 ؎ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی قریش مکہ جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو مصائب میں مبتلا کیا اور طرح طرح کی تکالیف ان کو پہنچائیں اور آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ کیا ہی حکمت ہے اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں اور اس رسول مکرم میں جس پر یہ قرآن کریم وحی کیا گیا کہ کس حکمت کے ساتھ ان کو دعوت دی جا رہی ہے اور ذرا بھر بھی ان کو احساس نہیں ہونے دیا کہ تم نے اہل اسلام کو اور خود نبی کریم ﷺ کو کس قدر تکلیفیں دی ہیں اور تمہارے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے اور تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ فرمایا ان لوگوں میں ابھی ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ابھی تک ان کے ساتھ ملحق نہیں ہوئے اور ابھی ان کے دلوں میں نور ایمان داخل نہیں ہوا لیکن بہر حال ان کے دلوں کی زمینوں کو پاک ہونا ہے اور ان کے میل سب اترنے باقی ہیں اور اللہ تعالیٰ غالب آنے والا ہے اس لیے اس کے غلبہ نے ان لوگوں کو مغلوب کرنا ہے ۔ وہ بہت حکمت والا ہے کہ سمجھنے سوچنے کے لیے بہت وقت دیتا ہے اور ڈھیل پر ڈھیل فراہم کرتا رہتا ہے اور یہ لوگ اسی ڈھیل سے جلد ہی فائدہ اٹھائیں گے۔
Ayah 62:4یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے خالص کرلیتا ہے
4 ؎ مطلب یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں کے نبی و رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات اگر اٹھا لی جائے گی تو آپ ﷺ کا کام تو بہر حال جاری وساری رہے گا اور دعوت الی اللہ اسی طرح دی جاتی رہے گی اور جو لوگ اس کو قبول کریں گے وہ اپنے حصہ کا انعام حاصل کرتے رہیں گے۔ ایمان کی چاشنی اور مٹھاس سے وہی لوگ واقف ہوتے ہیں جو اس دعوت کو قبول کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ اللہ تعالٰ کا فضل ہے لیکن اس کے فضل ہونے سے مستفید کون ہوتا ہے ؟ وہی جو اس کو اختیار کرتا ہے اور جس کو وہ عطا کیا جاتا ہے اور سچے دل سے ایمان و اسلام کی روشنی کو قبول کرتا ہے صرف دفع الوقتی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے لیکن جو قانون اس نے بنایا ہے ہدایت پانے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس قانون کے مطابق ہدات کے حصول کی وہ کوشش کرے کیونکہ جو یندہ یا بندہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل یہ ہے کہ انسان جس چیز کو حق سمجھے اسی کے مطابق اپنی حالت کو بدل لے اگر وہ اپنی حالت کو جامد کر دے تو خالی دعوئوں سے یہ نور حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کے لیے لوہے کے چنے چبانا پڑتے ہیں اور انسان کو اندر اور باہر سے ایک ہونا پڑتا ہے۔
Ayah 62:5تورات بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، اس کے عاملین کی حالت ِ زار کا بیان
5 ؎ قرآن کریم کے تخاطب کا انداز عین حکمت پر مبنی ہے اور اس کے اندر پیار اور محبت کی چاشنی بھری گئی ہے ۔ بات کرنے کا انداز ایسا اختیار کرتا ہے کہ بات کسی کی کرتا ہے اور مخاطب کسی سے ہوتا ہے تاکہ جس کو مخاطب کیا جا رہا ہے وہ کسی حال میں چڑ نہ کھائے اور حقیقت حال اس کے کانوں تک پہنچا دی جائے۔ اس جگہ بات سمجھانا دراصل اہل اسلام کو ہے لیکن نام ان لوگوں کا لیا جارہا ہے جو بد عمل تھے اور اپنی بد اعمالیوں کا رزلٹ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ وہ کون تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اہل یہود ہی تھے اور ان ہی کو تورات اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی ۔ فرمایا ان سے تورات اٹھو الی گئی تھی اور حامل تورات بنائے گئے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے تورات کو پس پشت ڈال یا تھا اور اس کے قوانین و احکام کی کوئی پرواہ نہ کی تھی ۔ الفاظ پر غور کرو کہ فرمایا جا رہا ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ ( حملوا التوراۃ) ان کے اوپر تورات کا بوجھ رکھا گیا تھا ( ثم لم یحملوھا) پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا ۔ کیسے نہ اٹھایا ؟ اس کی وضاحت خود ہی فرما دی کہ ( کذبوا بایات اللہ) تورات کے احکام کو انہوں نے عملاً جھٹلا دیا اور فرمایا جو قوم حامل کتاب ہو کر پھر کتاب کی عملاً تکذیب کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گدھا ہو اور ( یحمل اسفارًا) اس پر کتابیں لاد دی جائیں تو اس کا نتیجہ کیا ہوا کہ اس نے ایک بوجھ اٹھایا بالکل اسی طرح جس طرح اس پر پتھر لاد دیئے جائیں یا کوئی دوسری چیز لاد دی جائے کہ اس کا کام بوجھ اٹھانا ہے خواہ آپ اس پر کچھ لاد دیں اس سے کیا فرق پڑے گا ۔ فرمایا اگر تم غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ اس قوم کی مثال کتنی ہی بری مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی ۔ یہ بات تو یہود کی کی جا رہی ہے اور آج اگر ہم اپنی قوم مسلم کے افراد پر غور کریں تو کیا آج ہماری حالت ان سے کچھ زیادہ مختلف ہے ؟ بالکل نہیں بلکہ ایک ایک جزء کی وضاحت کریں گے تو ہماری حالت ان سے بد تر نکلے گی اور اگر یہ مثال اس وقت ان پر فٹ (Fit) آتی تھی تو آج بھی بلا شبہ آتی ہے لیکن اس وقت صرف ان کی حالت کے پیش نظر کہا گیا تھا لیکن آج ہم بھی من حیث القوم ان کے اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔ ان پر تورات کا بوجھ رکھا گیا تھا ہم پر قرآن کریم کا ۔ انہوں نے جو عملاً تکذیب کی وہ توات کی تکذیب تھی اور ہم نے جو عملاً تکذیب کی وہ قرآن کریم کی ہے۔ انکار تورات کا انہوں نے بھی نہیں کیا تو آج ہماری قوم میں بھی کوئی بد بخت سے بد بخت قرآن کریم کا انکار نہیں کرتا ۔ انہوں نے حروف میں تحریف کی لیکن ہم سے وہ نہ ہوسکا لیکن مفہوم میں اس طرح تحریف کردی کہ آج سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھا جانے لگا ۔ پورے دین کا نقشہ انہوں نے بھی بدلا تھا اور انہیں سے یہ سبق ہم نے بھی سیکھا اور ہم نے پورے دین کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ۔ ان کے ہاں بھی فقط رسم و رواج کا نام دین رہ گیا تھا اور ہمارے ہاں بھی صرف رسم و رواج کا نام اسلام رہ گیا ہے جو رسوم اسلام کی ہمارے پاس رہ گئی ہیں پہلے تو ان کے قریب ہی ہم نہیں جاتے اور اگر جاتے بھی ہیں تو نام ان کا لیتے ہیں اور کرتے ہیں اپنی مرضی ۔ گویا ان رسوم کو بھی اسلام کی طرز پر نہیں رہنے دیا گیا ۔ ان کے علماء کا فتویٰ بھی یہی تھا کہ ان باتوں پر عقیدہ رکھنا لازم و ضروری اور ہماری مفتیان شرح دین اور سیاسی رہنمائوں کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ دین کے کسی معاملہ کو قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کا نفاذضروری ہے بلکہ یہ عقیدہ کے مسائل ہیں ۔ بس عقیدہ درست ہے تو سب کچھ صحیح ہے پھر عقائد کی بات آئی تو اسلام کے اندر رہتے ہوئے سارے گروہوں کے الگ الگ عقائد ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہیں یہاں تک کہ ایک فرقہ ایک چیز کا حرام کہتا ہے اور دوسرا اس کو ثواب سمجھ کر کرتا ہے گویا بحث صرف حرام و حلال کی نہیں رہی اس سے بہت آگے بڑھ گئی ہے لیکن ہم جب بات کرتے ہیں تو یہود کرتے ہیں اپنانام لینے کے لیے تیار نہیں ۔ یاد رہے کہ زیر نظر آیت اگر ان کی مذمت کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے ساتھ اللہ میاں کو کوئی بیر تھا اگر ہم وہی کام کرنا شروع کردیں جو وہ کر رہے تھے تو وہ بڑے ٹھہرے اور ہم نیک ۔ ہرگز نہیں جو قوم بھی اس طرح کرے گی وہ اس حکم کی زد میں آئے گی۔ اگر یہود کو کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کر کے گدھوں سے بھی بد تر ہوگئے ہیں تو ہم آیات اللہ کا عملاً انکار کر کے بعینہٖ اس سزا کے مستحق ٹھہریں گے اور اگر غور کریں تو آج ہماری حالت بالکل وہی ہے جو ان کی ہے۔ فرمایا جو بھی ایسا کریں گے وہ ظالم ٹھہریں گے اور ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے قانون میں کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی جب تک وہ اپنی حالت کو خود بدل نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کے سمجھنے کی توفیق دے اور ہماری قوم اس ظلم سے باز آجائے ۔ اللھم اھد قومی انھم لا یعلمون۔
Ayah 62:6یہود کو انتباہ کہ اگر تم اللہ کے پیارے ہو تو اس کا ثبوت فراہم کرو
6 ؎ یہ مرض بھی بہت پرانا ہے کہ ہر قوم اللہ تعالیٰ کی چہتی بننے کے ثبوت فراہم کرتی ہے اور اعمال کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ نہایت گندے عقیدے رکھنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کام اللہ میاں کو پسند ہیں اسی لیے تو ہم ان کو کہے چلے جا رہے ہیں اگر ہم اور ہمارے یہ کام اللہ کو پسند نہ ہوتے تو ہم ایسے افعال کر ہی کیسے سکتے تھے یہاں تک کہ مکہ والے جو کچھ کرتے تھے وہ اس کو صحیح اور درست سمجھتے تھے اور بر ملا کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا رسول نہیں بلکہ اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہے اور اس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ دیکھو سارے لوگ بیت اللہ کے قرب و جوار میں ناچتے اور گاتے ہیں ، سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو خوش کرتے ہیں ۔ وہ انسانوں کو بنانے والا ہے اور جب انسان خوش ہو کر ایک کام کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور پھر جب سارے لوگ ایسا کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اللہ کو ان کی یہ باتیں اور حرکتیں پسند ہیں اگر اس کو پسند نہ ہوتیں تو وہ ان سب کو ایسے کام کیوں کرنے دیتا جب کہ وہ قادر مطلق ہے اور اس کے حکم کے سوا ایک پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے حکم کے سوا ہی یہ سب لوگ اس طرح کے کام کرتے چلے جا رہے ہیں اور اس طرح کے باطل زعم میں یہود بھی مبتلا تھے اور بر ملا کہتے تھے کہ ہم کو آگ قطعاً نہیں چھو سکتی مگر ہاں چند گنتی کے دن ہم میں سے کسی کو چھوئے تو یہ دوسری بات ہے کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہتے ہیں اور اللہ ہماری باتوں کو رد نہیں کرتا حالانکہ ان کی اندرونی بیماریوں کو قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق کو چھپانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کبھی حق اور باطل کو ملا دیتے ہیں اور اس معاملہ میں بھی بڑے ماہر ہیں ۔ یہ بھی کہ لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔ ان کی نظر جب پڑتی ہے تو دوسروں ہی پر پڑتی ہے کہ فلاں ایسا کر رہا ہے اور فلاں ایسا کر رہا ہے۔ اپنی فضلیت کی اور برتری کی کہانیاں ان لوگوں نے گھڑ رکھی ہیں اور اپنی مجلسوں میں ان کو پڑھتے اور خوش ہوتے ہیں ۔ مخالفت پر اترتے ہیں تو نبیوں اور رسولوں کو بھی کر جاتے ہیں اور نہ صرف مخالفت ہی پر بس کرتے ہیں بلکہ ان کو قتل کرنے میں بھی چھوٹ ہیں ۔ جب ان کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ بیسیوں حجتیں کرتے ہیں اور کبھی کسی طرح کا سوال کردیتے ہیں کبھی کسی طرح کا اور منافقت جیسے برے فعل سے بھی باز نہیں آتے۔ ایک طرف ایمان کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مخالفت میں تیز گام ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اللہ کی کتاب میں تحریف کرنا ان کے پڑھے لکھے لوگوں کا خاص مشغلہ ہے وہ اپنی مرضی کی باتیں تورات کے اندر لکھ لیتے ہیں اور پھر لوگوں کو دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھو تورات میں اس طرح لکھا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے چہتے بنتے ہو اور بر ملا کہتے ہو کہ ہم بزرگوں کی اولاد ہیں ، ہم کو اللہ تعالیٰ کبھی عذاب نہیں دے گا اگر ایسی بات ہے تو آئو موت کی تمنا کرو اور بہت جلد جنت میں پہنچنے کی کوشش کرو اگر تم سچے ہو اور یہی بات سورة البقرہ کی آیت 94 ، 95 میں بیان کی گئی ہے۔
اس پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موت کی تمنا کرنے سے موت آجاتی ہے ؟ اور یہ بھی کہ کیا موت کی تمنا کرنا ازروئے اسلام جائز ہے ؟ موت کی خواہش کرنا اسلام میں جائز نہیں ہے اور خودکشی بہت بڑا ظلم ہے جو ناحق قتل کرنے کے مترادف ہے اور یہ بھی کہ اگر کوئی خواہش کرے کہ مجھے موت آجائے تو موت آ بھی نہیں جاتی اور زیر نظر آیت سورة البقرہ کی ہو یا سورة الجمعہ کی اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی زیادہ چہیتے ہو اور تمہاری بات کو اللہ تعالیٰ نہیں موڑتا تو اٹھو اور جہاد کے لیے تیار ہو جائو اور یہ بھی مباہلہ کے لیے تیارہو جائو اور مل کر دونوں فریق اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ہونے کی اس طرح دعا کریں کہ جو ہم میں جھوٹا ہے وہ میدان کے اندر تباہ و برباد ہوجائے اور یہ آخری صورت ہے فریقین کے حق اور باطل کو واضح کرنے کی اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے وہی شخص یا قوم تیار ہوگی جو اپنے آپ کو فی الواقع حق پر سمجھتی ہے اور یہ صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے کہ جب کوئی قوم یا فرد دلائل کو نہ مانے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے بھی باز نہ آئے تو اس کے لیے آخری حربہ کے طور پر فریقین کو اپنے اللہ کے سامنے پیش ہو کر جھوٹے کے غرق ہونے کی دعا کو جائز رکھا گیا ہے اور یہی وہ موت کی تمنا ہے جس کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور اس جگہ واضح بھی کردیا ہے کہ یہ لوگ کبھی اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے اس لیے کہ جو کچھ اپنے مونہوں سے کہتے ہیں وہ بس ان کے مونہوں ہی کی باتیں ہیں ان کے دل اپنی اس بات کو بھی تسلیم نہیں کرتے بس ضدی ہیں اور ضد میں آ کر کہہ دیتے ہیں جو کچھ کہہ دیتے ہیں اگر ان کو ان کے اس گمان پر پکڑ لیا جائے تو ان کے چھکے چھوٹ جائیں اور ان کے اندر کا چور فوراً ظاہر ہوجائے اور یہ لوگ کبھی اس کے لیے تیار نہ ہوں۔
فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اس کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوں گے
7 ؎ مطلب یہ ہے کہ نہ تو یہ لوگ جہاد کے لیے میدان میں اترنے کے لیے کبھی تیار ہوں گے اور نہ ہی مباہلہ کے لیے یہ کبھی تیار ہوں گے کیونکہ ان کے اندر کا چور ان کو اس طرح کبھی نہیں کرنے دے گا محض باتونی ہیں اور ان کو باتیں بنانا آتی ہیں اور وہ بنائے چلے جاتے ہیں ۔ فرمایا ان کے سارے دعوئوں کی کلی اس طرح کھل جائے گی۔ آج تک تو ان کا یہ دعویٰ ہے کہ : ( نحن ابناء اللہ واحبناءہ ) لیکن یہ سب ان کے مونہوں کی باتیں ہیں ان کے دلوں کے اندر جو کچھ کہتے ہیں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ سب ان کے کھوکھلے نعرے ہیں ۔ بس یہ جنت میں جانے کا فقط دعویٰ کرسکتے ہیں ۔ رہی موت تو اس سے وہ اس قدر دور بھاگتے ہیں کہ شاید ان کو کبھی مرنا ہی نہیں ہے حالانکہ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کوئی اپنے بچائو کو چاہے جتنے سامان لے کر موت سے کبھی مفر نہیں ہے اور نہ ہی آج تک کوئی اس کے پنجہ سے بچا ہے اور نہ ہی کوئی بچے گا اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان خالی نعرے لگانے والوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کل کے لیے انہوں نے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے اور یہ بھی کہ جس طرح کے وہ ظلم ڈھاتے ہیں ان سے کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔ تعجب ہے ان کی حرکتوں پر کہ جس اللہ کا نام لیتے ہیں اس کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک ٹھہراتے ہیں اور جو حکم ان کو دیا جاتا ہے اس کی صریحا ً خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ کیا یہ ایسے نادان ہیں کہ جن کو اتنی سمجھ بھی نہیں ہے کہ ان کو حکم کیا دیا جا رہا ہے اور کر کیا رہے ہیں ۔ نہیں ہرگز نہیں ان کی وہی حالت ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ” جٹ ینبھلا خدا نوں چور لے گئے “۔
Ayah 62:7آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ہر حال میں تم کو آ کر رہے گی
8 ؎ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیں وہ موت جس سے تم لوگ اس قدر بھاگ رہے ہو وہ تمہارے اختیار کی چیز نہیں ہے کہ اگر تم نہیں چاہو گے تو وہ نہیں آئے گی اور تم اس سے بھاگ کر کہیں چلے جائو گے یا وہ تم کو چھوڑ کر دوسروں کو پکڑ لے گی ۔ ہرگز نہیں جو تمہارے لیے موت کا وقت مقرر ہے اس سے ایک پل بھر بھی تم نہ آگے جاسکتے ہو اور نہ پیچھے رہ سکتے ہو ۔ یہ بات تو محض تمہاری آزمائش کے لیے کہی گئی تھی کہ تم نے جو عقائد بنا رکھے ہیں تمہارا ان پر کتنا یقین ہے اور وہ ہم کو معلوم ہوگیا کہ تم کس پانی میں ہو ۔ یاد رکھو اور کان کھول کر سن لو کہ تمہارا مرنا موت کی تمنا پر موقوف نہیں ہے تم ہزار اس سے بھاگو کبھی نہیں بھاگ سکو گے اور لاکھ اس سے بچنے کی کوشش کرو کبھی نہیں بچ سکو گے اور وہ روز یقینا آنے والا ہے کہ تم کو تمہارے پیدا کرنے والے کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور اس کی طرف لوٹنے کے لیے موت ہی تو شرط اول و آخر ہے اور پھر جب تم اس کے ہاں حاضر ہو گے تو وہ تم کو تمہاری ساری باتوں سے آگاہ کر دے گا کیونکہ وہ تمہارے سارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے۔ جن اعمال کے کرنے سے پہلے بھی تم کو معلوم نہیں تھا کہ ہم یہ عمل کریں گے اور کرنے کے بعد بھی تم ان اعمال کو بھول چکے ہو گے لیکن وہاں تمہاری ہر حرکت محفوظ کرلی گئی ہے پھر جب تم حاضر ہو گے تو تمہارے مونہوں سے نہیں تمہارا ہاتھ پائوں تم پر گواہی پیش کر دے گا کہ یہی ہو تم حضرت العلام اور قوم کے پیرو مرشد اور مذہبی رہنما ۔ تم لوگوں کو یہ اور کہتے رہے اور تم خود ذرا غور سے دیکھو کہ یہ تم ہی تو ہو جو ایسا اور ایسا کر رہے ہو ۔ ہاں ہاں ! اگر ہمت ہے تو اس کو جھٹلادو جب کہ تم اس میں بہت مہارت بھی رکھتے ہو ۔ لیکن کون ہے جو جھٹلانے کی جرأت کرے۔ اس کی وضاحت سورة البقرہ کی آیت 95 ، 96 سورة الحشر کی آیت 13 ، 14 میں خوب کردی گئی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیں ۔
Ayah 62:8ایمان والو ! جب تم کو صلوٰۃ جمعہ کی صدا دی جائے تو خریدو فروخت چھوڑ کر حاضر ہو جائو
9 ؎ شاید آپ حیران ہوں گے کہ پیچھے بات تو یہود کی چلی آرہی تھی اور اچانک یہ نماز جمعہ کا حکم کیسے سنا دیا گیا اور اس حکم کا یہ موقع پر محل کیسے بن گیا اور گزشتہ آیات کے ساتھ اس آیت اور اس کے حکم کا کیا ربط قائم ہوگا ۔ جان لینا چاہئے کہ قرآن کریم کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی خوبی ہے کہ وہ جب کسی قوم یا فرد کے کمزور پہلو کو اجاگر کرتا ہے تو عموماً نام نہیں لیتا اور یہ بھی کہ وہ ایسے معاملات میں براہ راست بہت کم مخاطب کر کے بات کرتا ہے بلکہ بات کا اندازہ ایسا اختیار کرتا ہے کہ کچھ نہ کہنے کے باوجود سب کچھ کہہ دیتا ہے اور مخاطب کی وضاحت بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے کام کی مذمت کا طریقہ بھی وہ اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنا تقابل خود کر کے دیکھتا چلا جائے اور اس طرح اپنا فیصلہ خود ہی کرلے تو زیادہ بہتر ہے ۔ یہی بات اس جگہ ہوئی ہے چونکہ پیچھے یہود کا ذکر تھا اور یہود کے لیے عبادت کا خاص دن ہفتہ کا مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے ہفتہ کی عفادت کو جس طرح ستیا ناس کیا اور خوص غرضی اور حیلہ و بہانے کی جو صورتیں نکالی تھیں ان کی وضاحت قرآن کریم میں کئی مقامات پر کردی گئی ہیں مثلاً سورة البقرہ کی آیت 65 ، سورة النساء کی آیت 47 ، 154 ، سورة الاعراف کی آیت 163 ، سورة النحل کی آیت 124 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ زیر نظر آیت میں مسلمانوں کو جمعہ کے رو کی خاص عبادت جس میں خصوصاً خطبہ فرض قرار دیا گیا ہے اس میں حاضر ہونے کی تلقین کی جا رہی ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ یہود نا مسعود کی طرح تم لوگ بھی اس روز کے لیے حیلے بہانوں سے کام نہ لینا بلکہ جب صلوٰۃ جمعہ کے لیے تم کو دعوت دی جائے تو اسی وقت جس کام میں بھی تم مصروف ہو فوراً اس کو ترک کردینا اور صلوۃ جمعہ ادا کرنے کے لیے اور خطبہ سننے کے لیے مقام دعوت پر پہنچ جانا اور خریدو فروخت کا ذکر خصوصاً اس لیے کردیا کہ یہی وہ روز ہے کہ اجتماع کے قریب منڈیوں میں مال لایا جاتا ہے تاکہ شہروں کی طرف آنے والے دیہاتی مال کو خرید لیں لہٰذا اس کا ذکر کردینا ضروری سمجھا ۔ اس لیے مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ بات ارشاد فرمائی اور اس تنبیہ میں مخصوص لوگوں کا ذکر تک نہیں کیا جن سے کوئی اس طرح کی کمزوری سر زد ہوئی تھی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا ذکر آگے آنے والا ہے۔ ( نودی للصلوٰۃ) کے الفاظ پر غور کرو کہ یہ کس وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمائے گئے ہیں اور اگرچہ ان میں وضاحت نہیں کی گئی کہ نماز کے لیے کس طرح بلایا جائے لیکن دعوت صلوٰۃ کے لیے اسلام کا مروجہ طریقہ اذان ہی ہے اور اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ صلوٰۃ و خطبہ صلوٰۃ سے کچھ وقت پہلے یہ دعوت دینا ضروری ہے تاکہ لوگ پکار کو سنتے ہی اپنے کاروبار کو بند کردیں اور صلوٰۃ جمعہ کی تیاری کر کے فوراً اجتماع کی طرف دوڑ پڑیں اور یہ بات اس حکم کا عموم بتا رہا ہے کہ ذکر یعنی خطبہ سے قبل اس دعوت کا دیا جانا ضروری ہے اور عین وقت خطبہ جو اذان مشروع ہے وہ اقامت خطبہ کے قائم مقام رکھی گئی ہے تاکہ اس خطبہ کو بھی لازم اور ضروری سمجھا جائے جس طرح نماز لازم و ضروری ہے۔ اس سے اذن قبل از خطبہ کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے اور خطبہ کا لزوم بھی نکلتا ہے لیکن افسوس کہ ہم نے بھی صلوٰۃ جمعہ اور اس کے خطبہ کا جو حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور نبی کریم ﷺ کا معمول زندگی بھی بڑی وضاحت سے احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ صلوٰۃ جمعہ کو جو جمعہ کے روز کی ظہر کا قائم مقام بنایا گیا ہے یہ آپ ﷺ کے معمول میں سے لیا گیا ہے اس لیے خطبہ صلوٰۃ اور فی نفسہٖ نماز دونوں کو دلوک شمس کے بعد ضروری سمجھا گیا ہے اور اذان کے لیے دلوک ضروری نہیں کیونکہ احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ دلوک کے احکام جمعہ کے روز منسوخ سمجھے گئے ہیں اور انہی احادیث کے پیش نظر بعض فقہاء اور اماموں نے جمعہ کے روز خطبہ اور نماز کے لیے کوئی وقت بھی مقرر کرلیا جائے تو جائز اور درست قرار دیا ہے اور اس میں بحث بہت طویل ہے۔ فرمایا جو حکم تم کو دیا جا رہا ہے اس کی اہمیت کو ذہن میں رکھو اور اس معاملہ میں سستی ہرگز نہ کرو اور جمعہ کے خطبہ اور نماز کا اہتمام ضرور رکھو اور یہود کی طرح حیلوں اور بہانوں سے کام مت لو ۔ یہود نے ( السبت) کے روز جو حیلے بہانے نکالے تھے ان کا ذکر اوپر کیے گئے مقامات سے دیکھا جاسکتا ہے۔
قرآن کریم کے اس حکم سے یہ بات واضح ہے کہ جمعہ فرض ہے اور اس کی فرضیت آپ ﷺ کے معمول سے بھی سمجھی جاسکتی ہے اور اس کے لیے تیار اور وقت پر حاضری ضروری سمجھی گئی ہے۔ لاریب اس کا انکار کفر ہے ، اسی طرح جمعہ کی نماز کے لیے اہتمام بھی لازم و ضروری ہے اور کام کاج کا ترک کرنا بھی لازم آتا ہے۔ جمعہ کی نماز ترک کرنے والوں کے لیے جو وعید آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ :
( عن ابی جعد الضمری ؓ عن النبی ﷺ قال من ترک ثلث جمع تھا دنا بھا طبع اللہ علی قلب) ( ابو دائود ، ترمذی ، نسائی) ” ابی جعد الضمری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے نماز جمعہ کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہوئے تین جمعے ترک کیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “۔
جمعہ کی رعایت آپ ﷺ نے جن لوگوں کو دی ان میں مریض ، مسافر ، عورتیں ، نا بالغ بچے شامل ہیں لیکن اگر یہ لوگ بھی نماز جمعہ میں شریک ہوں تو جائز اور درست ہے اور پھر ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ جمعہ میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں ان کی تفصیل بہت لمبی ہے اور جمعہ کی فرضیت کہاں اور کہاں نہیں ، اس کے لیے کیا کیا شرائط ہیں اس میں طولانی کلام کیا گیا ہے لیکن سب بحث برائے بحث ہے۔ اس وقت جو ہر مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اور ہر ایک پیش امام کو جمعہ کے ادا کرانے کی اور اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنارواج والی بات بنا لی گئی ہے اس کا کوئی جواز اسلام میں نہیں ہے بلکہ اس کے لیے بڑے سے بڑے اجتماعات اور صاحب اقتدار شخصیتوں کا خطاب بہت ضروری ہے اور مسائل حاضرہ کا ذکر بہت ضروری ہے۔ اس معاملہ میں نبی کریم ﷺ کی ہدایات واضح ہیں اور تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے لیکن اس وقت ہمارے ہاں جو حالت جمعہ کی کی جا رہی ہے وہ بھی نہایت ہی ناگفتہ بہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حق کے سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق بخشے اگرچہ توفیق بھی اسی وقت ملتی ہے جب آدمی اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہو اور اس کو تلاش کرے۔
Ayahs 62:9–10صلوٰۃ جمعہ ادا کرلینے کے بعد اپنے اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کی اجازت عام ہے
10 ؎ پیچھے ” ذکر اللہ “ کی وضاحت گزر چکی ہے کہ اس سے مراد خطبہ جمعہ ہے جس کا سننا لوازمات جمعہ میں سے ہے اگرچہ فقہاء کی تشریحات اس کے خلاف ہیں اور ان کے کہنے کے مطابق یا آپ یوں کہیں کہ ان میں سے بعض کے کہنے کے مطابق صلوٰۃ جمعہ میں اگر کوئی شخص مل گیا تو بھی اس کو جمعہ کے بقیہ فرض دو فرضوں میں جو باقی رہ جائے اس کو پورا کرنا ضروری ہے اور جب کسی نے دو فرض جمعہ ادا کرلیے یا ان کا بعض حصہ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تشہد میں بھی آ کر مل گیا تو اس کی صلوٰۃ جمعہ ادا ہوگئی لیکن ہماری تفہیم میں جمعہ اس کا ادا ہو سکتا ہے جس نے پورا خطبہ یا خطبہ کا بعض حصہ سن لاض ہوتا کہ جو چیز لازم ہے اس کا بعض تو اس کے حصہ میں آیا ہوتا ہم اس میں وضاحت اور تشریح کی مزید ضرورت ہوگی جس کا بیان لمبا ہے۔ ہم نے جو سمجھا ہے اس کی طرف اشارہ کردیا ہے لہٰذا جس شخص نے خطبہ کا بعض حصہ سن لاض اور صلوٰۃ جمعہ کی جماعت پا لی اس کا جمعہ ادا ہوگیا اور اب وہ صلوٰۃ جمعہ سے فارغ ہو کر اپنے کام کاج میں مصروف ہو سکتا ہے جس کو اس نے جمعہ کی پہلی اذان کے وقت چھوڑا تھا اور جمعہ کی تیاری کر کے جمعہ میں حاضر ہوا تھا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے کام کاج میں مصروف ہونا اور تجارت کے عمل کو جاری کردینا واضح اور صاف صاف الفاظ میں پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروافی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکرواللہ کثیراً لعلکم تفلحون) ” پھر جب نماز پوری کرلو تو زمین میں پھیلا جائو اور اب اللہ کا فضل تلاش کرو تاکہ تم فلاح پائو “۔ یعنی جب نماز جمعہ سے فارغ ہو جائو تو زمین میں پھیلا جائو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو یہ گویا اجازت ہے کہ جس کام کو چھوڑ کر اور بند کر کے تم نماز کے لیے حاضر ہوئے تھے اب اس کا بند رکھنا تمہارے لیے ضروری نہیں ہے بلکہ اس میں مصروف ہونا ضروری ہے۔ اس سے صاف صاف یہ حکم نکلتا ہے کہ جمعہ کے روزمکمل طور پر کام کو بند رکھنا اور سارا سارا دن کسی آوار وقت میں گزارنا اور پورے دن کی چھٹی کرنا اور ساران دن کسی کام کاج میں مصروف نہ ہونا ضروریات اسلام میں سے نہیں بلکہ اس طرح کی وضاحت کرنا اور جمعہ کے روز جمعہ کی چیٹک کو لازم قرار دینا اور جمعہ ہی کے روز دوسری ساری مشغولیات زندگی سے فارغ ہونا اور صلوٰۃ جمعہ کی پروانہ کرنا سب فضول اور لغو ہے۔ سات دنوں میں ایک روز چھٹی کا منانے کے لیے جمعہ ہی کے دن کا انتخاب کرنا بالکل ضروری نہیں بلکہ جمعہ کے روزکوچھٹی کا دن قرار دینا تعلیمات اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن کریم کی صراحت ہے اور کسی حدیث میں اس کے خلاف کوئی اشارہ تک نہیں پایا جاتا یہ محض یہود و نصاریٰ کی پیروی میں کہا جاتا ہے یا کیا جاتا ہے کہ ان کے ہاں اپنی عبادت کے بہانے اس دن کی چھٹی ضروری قرار دے دی اور پھر جب مشغولات زندگی کی ضرورت نے ان کو تنگ کیا تو اس کے لیے حیلے بہانے کرنے لگے اور حیلوں بہانوں سے اپنی ہی حرام کردہ چیز کو حلال کرنا شروع کردیا اور علمائے اسلام بھی اسی کے ارتکاب کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں اور جمعہ کے روز کو چھٹی کا روز قرار دینے میں بہت حد تک مبالغہ کر رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس کتاب و سنت سے کوئی دلیل موجود نہیں ہے محض اکثریت کو ورغلا لیا گیا اور جمعہ کے روز کام کاج میں مصروف ہونے کو بےبرکتی پر محمول کرلیا گیا ہے اور اس طرح قرآن کریم کے حکم کی صریحا ً خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ زیر نظر آیت کی تاویل میں کہا گیا ہے کہ ” نماز جمعہ سے فارغ ہو کر زمین میں پھیلا جائو اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔ یہ حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لیے ہے “ حالانکہ جمعہ کی اذان کے بعد کاروبار سے منع کردیا گیا تھا ، اب اس کی اجازت دی گئی ہے اور کئی سلف صالحین (رح) کا یہ معمول تھا کہ وہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس حکم کی تعمیل میں بازار کا چکر ضرور لگایا کرتے تھے تاکہ اس حکم کی تعمیل ہوجائے۔ پھر علمائے اسلام کا کام کاج میں مصروف ہنے کی اباحت کو تسلیم کرنے کے بعد اس روز کی چھٹی کو لازم قرار دینے پر زور دینے کی بات کم از کم ہماری سمجھ میں نہیں آتی بلکہ ہمیں یہ بات قرآنی حکم کے بالکل خلاف نظر آتی ہے اور اس کے خلاف اس بات کی حمایت میں زوردینا کہ جمعہ کے روز کی مکمل چھٹی اور کاروبا معیشت کو ترک کرنا دین کا کام نہیں بلکہ اس کا خلاف دین کا کام ہے اور جائز اور حلال کام سے لوگوں کو منع کرنا اسلام کا کام نہیں بلکہ حلال کو حرام بتانا یا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
بلا شبہ علماء ، علماء ہی ہوتے ہیں خواہ وہ کسی قوم اور کسی ملت سے تعلق رکھتے ہوں جیسے علمائے یہود ، علمائے نصاریٰ ، علمائے صائبین اور علمائے ہنود وغیرہ وغیرہ ۔ جب ہم تاریخ عالم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کے علماء کی اکثریت نے ہمیشہ ان باتوں پر زور دیا ہے جن باتوں پر زوردینا ضرورت میں سے نہیں تھا بلکہ وہ محض جذبات ہی جذبات تھے اور جذبات میں آ کر جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے تو اس میں حیوانیت کا عنصر زیادہ ہوتا ہے انسانیت کا عنصر کم اور یہ بات بھی صاحب عقل لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اکثریت کے بل بوتے پر کوئی کام کرنا یا جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی کام کرنا دونوں ہی میں حیوانیت کا عنصر زیادہ ہوتا ہے اور ہر قوم کے علماء کا انحصار انہی دونوں چیزوں پر رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس سے مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے تو وہی دور مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے ( قرنی) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے یا زیادہ سے زیاد ( ثم الذین یلونھم) کے الفاظ دو بار ارشاد فرمائے ہیں ۔ ہم نے یہ بات محض اس لیے کہی ہے کہ علم کا تقاضا یہ نہیں ہے جو علماء قوم سر انجام دیتے رہے ہیں اس لیے ہم ورطہ ٔ حیرت میں گم ہیں کہ اے رب کریم یہ ماجرا کیا ہے ؟ بہر حال بات نماز جمعہ کی ہو رہی تھی ہم اپنے موضوع سے دور چلے گئے اور وہ محض اس لیے کہ اس ہمارے دور میں جمعہ کے روز کی چھٹی ہونے یا نہ ہونے کی بحث جاری ہے۔ حکومت اپنی مجبوریاں ظاہر کرتی ہیں کہ جمعہ کی چھٹی کرنے میں ہمارا کتنا قومی نقصان ہے اسلیے اس کو منسوخ ہونا چاہئے اور علمائے امت زور دیتے ہیں کہ اس سے ہمارا دین بھرسٹ ہوتا ہے اس لیے ہم کو یہ منظور نہیں ہے پھر حکومت نے اس کی منسوخی کا اعلان کردیا اور علمائے اسلام اور مفتیان شرح متین اپنے سارے غیض و غضب کے باوجود خاموش رہے اور اب دوبارہ وہ اس مقصد کے لیے اتحاد بنا رہے ہیں کہ باقی سارے کام تو عین اسلام کے مطابق ہو رہے ہیں لیکن یہ کام ایک کفر کا ہوگیا لہٰذا اس کفر کو اب وہ مٹا کر رہیں گے اور ظاہر ہے کہ علمائے قوم کی یلغار کے سامنے کس کی چل سکتی ہے ۔ حکومتیں ہمیشہ علماء کو رشوتیں پیش کرتی آئی ہیں اور رشوت کا اثربہر حال وقتی ہوتا ہے کیونکہ رشوت کا مال زیادہ دیر نہیں چلتا اور رشوت دینے والوں کو بار بار دینا پڑتی ہے اور راشیوں کا اونٹ بار بار کروٹ بدلتا رہتا ہے اور لوگ بھی انتظار کرتے رہتے ہیں کہ دیکھیں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ہمیں تو تعجب ہے اور اس تعجب میں ہم گھائل ہوجائیں گے کہ جب سے ملک تقسیم ہوا اور پاکستان کی تخلیق ہوئی آج تک دین کے نام پر جتنے فیصلے ہوئے ان کو ایک ایک کر کے تجزیہ کرتے جائیں وہ عائلی قوانین ہوں یا قانون میراث ، وہ مذہبی اقلیتوں کے فیصلے ہوں یا مذہبی گروہ بندیوں کے ، فوجداری معاملات ہوں یا دیوانی کسی ایک جگہ بھی کتاب و سنت کی روح کو پیش نظر نہیں رکھا گیا بلکہ مذہبی جذبات کے اشتعال میں ہوا جو کچھ ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے نتائج مثبت نہیں نکلے بلکہ منفی رہے اور ان میں طرح طرح کی رخنہ اندازیاں پیدا کی گئیں جس کے نتیجے میں لوگ دین و مذہب سے بیزار ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔ تھانوں میں اسلامی ایکٹ کے تحت مقدمہ کو درج کرانے کے لیے دس گنا زیادہ رشوت دینا پڑتی ہے اور جس چیز کو ہم رشوت کہہ رہے ہیں اس کا نیا نام رشوت نہیں بلکہ فیس (Fees) رکھا گیا ہے۔ اور ایف ۔ آئی ا۔ (F۔ I۔ R ) کی مکمل تیاری کے لیے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور ان میں 99% جھوٹ گھڑ دیا جاتا ہے اور جو مقدمات نہیں بنتے وہ بنائے جاتے ہیں تاکہ اسلام اسلام کا نعرہ لگانے والے اسلام سے مکمل طور پر بیزار ہو سکیں ۔ ہاں ! مقدمات بنانے والے تو اپنی چراغی حاصل کرتے لیکن ان کی چراغی وصول کرنے کا جو نتیجہ نکلتا ہے ہم نے اس کا ذکر کر دیا ہے اور بلا شبہ وہ اسلام کے نام سے بھی بیزاری کے سوار کچھ نہیں نکلتا ۔ حالانکہ اسلام تو سچائی اور صلح و آتشی کا مذہب ہے اور وہ اپنی طرف مائل کرتا ہے نہ کہ لوگوں کو بیزار کرتا ہے اور یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہو رہا ہے اور ایسی سکیموں کے اثرات ظاہر ہونے میں کم از کم مدت بھی ایک سو سال تھی ہے جس مدت میں انسانوں کی ایک دو پشتیں کھپ جاتی ہیں ۔ ہم کو معلوم ہے کہ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اشارات ہی اشارات ہیں وہ بھی استعاروں اور کنایوں میں کیونکہ ان کی وضاحت کے لیے صفحات درکار ہیں جن کی یہاں گنجائش نہیں۔
زیر نظر آیت کے آخری حصہ یعنی ( واذکرو اللہ لعلکم تفلحون ) میں بتا دیا کہ نماز کا ماحصل کیا ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد دل میں ہر وقت تازہ رہے اور کسی حال میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل نہ ہو اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کے ذکر کی کثرت سے ہی فلاح دارین حاصل ہوتی ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے پھر عوام نے کیا خواص نے ذکر اللہ کے معنی یہی سمجھے ہیں کہ زبان سے انسان ہر وقت اللہ اللہ یا کوئی ورد و وظیفہ جو اس کو پیر صاحب بتا دیں وہ بڑھتا رہے اور اس کے ہونٹ ہلتے رہیں دل اگرچہ غفلت میں ڈوبے ہوں اور ہاتھ خواہ کچھ کر رہے ہوں اور بگلہ بھگت کی طرح دماغ خواہ کچھ سوچ رہے ہوں پھر جب پورا راز چھڑ جائے اور وار خالی جانے کا کوئی امکانی صورت باقی نہ رہے تو یکبارگی سب کچھ جست اول ہی میں ہڑپ کرلیا جائے اور نگلنے میں دیر بھی نہ کی جائے اور پھر خاموشی کے ساتھ منہ صاف کردیا جائے تو یہ اللہ والے ہوتے ہیں ۔ حاشا اللہ آیت کا یہ منشا نہیں ہے۔