62. Surah Al-Jumu'a
الجمعةFriday · 11 ayahsعروۃ الوثقٰی
وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader
اور جب وہ کچھ خریدو فروخت یا دنیوی مصروفیات دیکھتے ہیں تو ان کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ ہر مصروفیت اور ہر تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے
جمعہ پڑھنے والوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کا مختصر ذکر
11 ؎ زیر نظر آیت کے تحت ہمارے مفسرین نے ایک واقعہ تحریر کیا ہے اور بلا شبہ وہی واقعہ شروع سے نقل ہوتا چلا آرہا ہے اور شروع سے ہماری مراد یہ ہے کہ جب سے تحریر کا سلسلہ شروع ہوا اور تفسیر و احادیث کو باقاعدہ ضبط کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہمیں اعتراف ہے کہ اس طرح کا واقعہ گزرا ہوگا اور اسلام کے شروع دور میں یعنی ہجرت کے معاً بعد جب نماز جمعہ کی فرضیت نازل ہوئی اور باقاعدہ جمعہ کی نماز اور خطبہ کا سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جمعہ کے آداب سے لوگ مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ اس واقعہ کا اختصار یہ ہے کہ جمعہ کے روز عین اس وقت کہ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور خطبہ جاری تھا اس لیے کہ ابتدائی دور میں ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے نماز پہلے پڑھائی اور خطبہ بعد میں ارشاد فرمایا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد جمعہ کا خطبہ پہلے اور نماز بعد میں رکھی گئی اور اس میں کوئی قباحت اور منسوخ ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کو فی نفسہٖ صلوٰۃ جمعہ کا حکم دیا گیا تھا اور اس کی وضاحت نہ کی گئی کہ خطبہ پہلے ہے یا نماز کیونکہ دونوں کی اہمیت ایک جیسی تھی ۔ آپ ﷺ نے اپنے اجتہاد سے صلوٰۃ کو اول اور خطبہ کو مؤخر رکھا ہو لیکن جب تفصیلی حکم آیا تو اس میں اس کی وضاحت کردی گئی اور آپ ﷺ نے خطبہ کو پہلے اور صلوٰۃ کو بعد میں کردیا اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ اس دور کی بات ہے جس دور میں نماز کے بعد خطبہ دیا جاتا تھا۔ یہ دور کتنا ہی مختصر ہو لیکن بہر حال اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ کسی روایت میں ہم نے یہ وضاحت نہیں دیکھی کہ اسوقت کل کتنے آدمی تھے جو نماز اور خطبہ میں شریک تھے ؟ اگر وضاحت ملتی ہے تو صرف یہ کہ اتنے آدمی باقی رہ گئے لیکن یہ بات واضح نہیں ہوئی کیونکہ صرف یک طرفہ بات ہے کہ اتنے باقی رہ گئے ہیں ۔ وقت شریک نماز کتنے تھے اس کی وضاحت نہ تو بات صاف نہیں ہوتی بہر حال ان میں کتنے لوگ گئے ؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ تا ہم جتنے لوگ گئے محض اس لیے گئے کہ نماز تو پوری ہوچکی تھی اور خطبہ کے بارے میں وضاحت معلوم نہ ہوئی تھی ۔ ان لوگوں نے جب علامات سے یہ سمجھ لیا کہ شہر میں کوئی تجارتی قافلہ پہنچ گیا تو انہوں نے خطبہ ختم ہونے کا انتظار نہ کیا اور کوئی صاحب ان میں سے اٹھ کر چلے گئے تاکہ ضرورت کی چیزیں خرید سکیں ۔ وہ دو تھے یا چار تھے ؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ان کی اس حالت پر ان کی سرزاش نہیں کی گئی اور نہ کسی طرح کی کوئی خفگی کی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی تفصیل حکم بھی آپ ﷺ پر نازل نہیں ہوا تھا تا ہم ان کی اس حرکت کا ذکر کردیا گیا اور ان کو بات سمجھائی گئی اور ادب سکھایا گیا اور اس کے بعد اس طرح کی کسی نے حرکت نہیں کی اور یہ بھی کہ اس کے بعد خطبہ کو پہلے اور نماز کو مؤخر کردیا کیونکہ خطبہ کا کچھ حصہ سن لیتا کفایت کرتا ہے اور نماز کو ہر حال میں مکمل کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کا کوئی حصہ اگر کسی وجہ سے رہ جائے تو بھی انفرادی طور پر اس کی تکمیل ضروری ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ابھی اس بات کی تربیت نہیں ہوتی تھی اور عام طور پر نماز کے ادا کر چکنے کے بعد لوگ نکل کھڑے ہوتے تھے خواہ خریدو فروخت کی غرض سے اور خواہ دوسرے لہو و لہب کے باعث اور پھر انہی واقعات میں کسی ایک موقع پر لوگ زیادہ ہی نکل کھڑے ہوئے کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ کی رفتار یہ نہیں بتاتی کہ یہ محض ایک بار ایسا ہوا ہے (واذا روا تجارۃ اولھوا انفضوا الیھار ترکوک قائما) ” اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی تجارت یا دلچسپی کی چیز دیکھ پاتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں “۔ (تدبر) ’ ’ اور جب تجارت یا کھیل کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بھاگ جاتے ہیں اور تجھے کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ۔ “ (بیان القرآن) اور ( بعض لوگوں نے) جب کبھی ایک سودے یا تماشہ کو چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑتے ہوئے پھرگئے اور آپ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑ دیا “۔ (ماجدی) اور جب دیکھیں سودا بکتا یا کچھ تماشا متفرق ہوجائیں اس کی طرف اور تجھ کو چھوڑجائیں کھڑا “۔ ( معارف القرآن) ” اور ( بعض لوگوں نے) جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو توبکھر گئے اس کی طرف آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا “۔ (ضیاء القرآن) ” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لیک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا “۔ (مظہری ، اردو) ” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا “۔ ( تفہیم القرآن) (انفضوا) کا اصل مادہ ض ض ہے جس کے معنی بھاگ جانے اور متفرق ہوجانے کے ہیں ۔
آپ ترجمہ پر براہ راست غور کریں۔ آپ کی سہولت کے لیے ہم نے چار ، پانچ ترجمے نوٹ کردیئے ہیں اور اس آیت میں پہلی آیت پر غور کریں اور سارے مضمون کو ملا کر ایک ، دو بار پڑھیں آپ پر ان شاء اللہ مطلب خود بخود واضح ہوجائے گا۔ ہمیں جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یقینا خطبہ جمعہ میں خریدو فروخت کے اسلامی اصولوں کی وضاحت کی اور بلا شبہ آپ ﷺ خطبوں میں اس طرح کی باتیں بیان کرتے تھے لیکن جن خطوط پر پہلے تجارت ہوتی تھی اور لوگ سامان لہو و لعب میں جس طرح مصروف رہتے تھے اور دنیا کے ان سامانوں کی طرف توجہ دیتے تھے اس کو ابھی چھوڑ نہیں رہے تھے حالانکہ اس طرح کی ساری خریدو فروخت اور تجارت محض لغو اور فضول ہے اور زیر نظر آیت میں اس کی لغویت اور فضولیت کو طشت ازبام کیا گیا ہے اور دنیا کی طرف راغب کرنے والی ان چیزوں سے منع کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہمارا رسول اس طرح کی باتیں بیان فرما کر اپنی جگہ سے ادھر ادھر بھی نہیں ہوا اور تم نے وہی کام شروع کردیا جس سے تم کو اس نے سختی سے روکا اور منع کیا ہے اور تم نے اسی طریقہ اور نہج سے تجارت اور کھیل کود کے سامان کی طرف راغبت شروع کردی اور یہ وہی بات ہے جس کو بیان کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ یار ابھی تو اس معاہدہ کی تحریر خشک بھی نہیں ہوئی کہ تم لوگوں نے پہلے ہی خلاف ورزی شروع کردی ہے اور اس طرح گویا شرم دلائی جاتی ہے کہ تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو اور تم کو کیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ تم کو جو طریقہ تجارت اور جو اشیاء تجارت اللہ کے رسول ﷺ نے بتائی ہیں ان میں بھی تمہارے لیے وافر رزق موجود ہے اور یہ بھی کہ کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا مآل اور انجام اچھا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تجارت ہی سیحاصل ہو سکتا ہے۔ شاید ہم اپنی تجارت کو اسلامی اصولوں کے مطابق لانا ہی نہیں چاہتے اور اسی طرح سامان لہو و لعب کو بھی ترک نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہماری ساری رغبت انہی اصولوں کی طرف ہے جو ملک غیر سے آئے ہیں اور ان اصولوں کو اسلامی اصولوں کی ہوا بھی نہیں لگی بلکہ اسلامی اصولوں کے سخت خلاف ہیں اس لیے ہم نے اس طرح کا مفہم سمجھنے اور بیان کرنے سے شاید گریز کی ہے اور پھر جب ہم نے ایسا مفہوم بیان کردیا ہے جو دوسروں نے نہیں کیا تو ظاہر ہے کہ اس پر تفسیر بالرائے کا فتویٰ لگا کر ہم کو جہنم رسید کردیا جائے گا اور غیر اسلامی اصولوں پر عمل کرنے والے اور سامان لہو و لعب کے خریدار سارے جنت کے مستحق ٹھہریں گے ، اس کو کہتے ہیں کہ
؎ جو چاہے سو آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
یہ کل تین آیات کریمات ہیں جو اس آخری رکوع میں بیان ہوئی ہیں اور جن میں جمعہ کی صلوٰۃ اور خطبہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت صلوٰۃ جمعہ کے لیے اذان کی پکار دی جائے تو اپنے کام کاج کو چھوڑ کر فوراً خطبہ اور نماز کے لیے حاضر ہو جائو تو یہ بات تمہارے لیے بہت ضروری ہے اور دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب تم نماز کو پورا کرلو اور جماعت سے نماز ادا کر چکو تو اسی طرح اپنے کام کاج میں مصروف ہو جائو اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق و روزی تلاش کرو اور تیسری آیت میں اس رزق کے حاصل کرنے کے اسلامی طریقوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ وہی اصول تجارت اور طریقے اچھے ہیں جن اصولوں اور طریقوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمدرسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے بیان کرایا ہے اور انہیں میں تمہارے حلال رزق کا فی مقدار میں موجود ہیں ۔ رزق حلال میسر آجائے تو دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اسی مضمون پر ہم سورة الجمعہ کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ اللھم ربنا انزل علنا مائدۃ من السماء تکون لنا عیداً لاولنا واٰخرنا واٰیۃً منک وارزقناوانت خیر الرازقین