63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

جب آپ ﷺ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ بھی جانتا ہے کہ بلاشبہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں

منافق آپ ﷺ کے اللہ کے رسول ہونے کا جو اقرار کرتے ہیں یہ صرف انکے مونہوں کی باتیں ہیں 1 ؎ ( المنافقون ۔ المنافقین) دونوں ہی اسم فاعل جمع مذکر ہیں ۔ پہلا مرفوع ہے اور دوسرا مجرور ہے اور دونوں کا واحد ال منافق ہے۔ مادہ اس کا نق ہے ۔ دو رخی کرنے والے یعنی ظاہری طور پر مسلمان اور دل سے اسلام کے ساتھ سخت عداوت رکھنے والے ۔ گوہ ایک جانور ہے جس کو عربی زبان میں ضب کہا جاتا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ جو بل اپنے رہنے کا بناتا ہے اس کے ہمیشہ دو منہ بناتا ہے۔ شکاری جب اس کا شکار کرنا چاہتا ہے وہ ایک منہ کی طرف سے اس کی تلاش شروع کرتا ہے اور جب اس کو معلوم ہوتا ہے تو وہ دوسرے منہ سے نکل کر بھاگ جاتا ہے اور اس کے بل کعو عربی میں نفقہ کہا جاتا ہے اور ہماری زبان میں عام طور پر اس کے بل کو بھٹ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ نفاق اور منافقت اس دو رخی کا نام ہے جس میں بظاہر زبان سے آدمی ایمان کا اقرار کرتا ہے اور دکھاوے کے سارے کام وہ کرتا ہے جو اسلام کے کام کہلاتے ہیں لیکن اس کے دل کے اندر ایمان داخل نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر عقیدہ صحیح معنوں میں صحیح اور درست ہو اور اعمال اس کے اچھے نہ ہوں بلکہ کفر والے ہوں تو اس کو منافق نہیں بلکہ فاسق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ سرنگ جس چیز کو کہتے ہیں اس میں بھی چونکہ وہ دو مونہہ ہونے کی شرط ضرور ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو بھی عربی زبان میں نفق کہتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو دوغلی پالیسی کے حامل تھے یعنی زبان سے وہ اسلام کا اقرار کرتے تھے ، حکم پڑھتے تھے ، ارکان اسلام کا اعتراف کرتے تھے لیکن جو کچھ کرتے تھے محض زبان سے اقرار تھا ، ان کے دلوں پر اس کا کوئی اثر نہیں تھا۔ ہجرت سے قبل مکہ میں دو ہی طرح کے لوگ تھے ایک وہ جو ایمان لائے تھے اور وہ ایمان لانے میں بالکل سچے تھے اور اندر باہر سے وہ ایک جیسے تھے اس لیے نفاق کا وہاں کوئی وجود نہیں تھا کیونکہ وہاں ظاہری طور پر غلبہ کفار کا تھا اس لیے جو لوگ ایمان لائے تھے وہ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے تھے اور اس وقت کسی کے ایمان کا اظہار لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا اس لیے جو لوگ ایمان لائے تھے ان کے دنوں میں اس کی قدر و قیمت بھی ہوتی تھی اور وہ سب کچھ قربان کردینے کے لیے تیار بھی ہوتے تھے ۔ لیکن جب آپ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو یہاں کے حالات مکہ سے بالکل مختلف تھے کیونکہ آپ ﷺ کی آمد کے وقت مدینہ میں کافی تعداد مسلمانوں کی موجود تھی جو اسلام کا دعویٰ کرتے تھے اور بلا شبہ وہ بھی سچے دل ہی سے ایمان لائے تھے تب ہی تو انہوں نے موت کو دعوت دی تھی اور اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر آپ ﷺ کو مدینہ طلب کیا تھا اور آپ ﷺ کے رفقاء کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا اور اس ذمہ داری کو وہ نبھا بھی رہے تھے اور پھر مہاجرین اور انصار مل کر ایک بہت بڑی طاقت و قوت بن گئے تھے یعنی مدینہ کی حد تک ان کی تعداد دوسرے گروہوں میں مقابلہ میں زیادہ ہو چلی تھی۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مدینہ میں اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے آدمی مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے اس لیے ایک ادنیٰ سوجھ بوجھ کا مالک بھی یہ فیصلہ کرسکتا تھا کہ اب اس تحریک کے پنپنے کے حالات پدا ہوچکے ہیں کہ دو متحارب گروپ اب دو کی بجائے ایک ہو کر رہ گئے تھے حالانکہ وہ دونوں مدت تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہ چکے تھے۔ اس حالت کو دیکھ کر بعض پاپولر لوگ بھی مصلحتا ً دین اسلام میں داخل ہوگئے۔ ان میں سے بعض کے نام آج تک لیے جاتے ہیں جیسے عبد اللہ بن ابی وغیرہ ۔ ان لوگوں نے اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو بھانپ کر اور اس کے ساتھ اپنے فوائد وابستہ ہوتے سمجھے کہ اسلام کو قبول کرلیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ جب اسلام کو غلبہ نصیب ہوگا تو اس وقت ہم مادی فوائد حاصل کرسکیں گے اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کریں ۔ زیر نظر آیت بلکہ سورت نے ان کا یہ سارا راز فاش کردیا بلکہ باوجود ہزار کوشش کے ان سے کچھ نہ کچھ ایسی حرکت ہوجاتی تھی جس سے ان کا پردہ فاش ہوجاتا تھا۔ اس حقیقت سے آپ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جب تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ آپ ﷺ کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں اس لیے کہ یہ زبان سے جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کے دل اس بات کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ ان کی یہ بات فی نفسہٖ صحیح اور سچی ہے لیکن ان کی اس طرح کی گواہی سچی نہیں ہے کیونکہ وہ زبان سے جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کے دل اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ لیکن آج ہمارے معاشرے کی جو حالت وہ اگرچہ اس وقت کے ان منافقوں کی حالت سے بھی بدتر ہے تا ہم اس لیے مطمئن ہیں کہ ہم نے زبان سے اسی طرح اقرار کیا ہے کہ ” اقرار کیتا میں نے نال زبان دے اور سچ کر منیاں میں نے نال دل دے “ اس لیے معاشرے میں چاہے جو کچھ بھی کریں ہم پکے مسلمان ہیں لیکن اس بات کا فیصلہ یہاں نہیں ہونا ، اس کی حقیقت وہیں جا کر کھلے گی جہاں ان کی حقیقت کھلی ہے۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (اس طرح وہ) اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں کتنا ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

ان لوگوں نے قسموں کو محض ڈھال بنا رکھا ہے ، اللہ کی راہ سے دور رہیں 2 ؎ (ایمانھم) انہوں نے اپنی قسموں کو ۔ ایمان جمع ہے یمین کی اور یمین کے اصل معنی تو داہنے ہاتھ کے ہیں ۔ معاہدہ کرنے والا اور حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے یہی حلف کے معنی ہیں ۔ اس فعل سے مستعارہ لیا گیا ہے۔ اس لیے یہ بات یاد رہے کہ ایمان اور ایمان میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے کے ہیں یعنی خبر دینے والے کے حکم کا یقین کرنا ۔ اسی طرح حکم کو قبول کیا جائے اور بتانے والے کو سچا قرار دیا جائے۔ یہ مصدر ہے بروزن افعال امن سے مآخوذ ہے گویا ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جس پر ایمان لایا جائے اس کو تکذیب و مخالفت سے امن دے دیا جائے اور اس کا تعارف ذرا مزید لمبا ہے۔ جھوٹا شخص خود تو جانتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یہ بات میرے دل میں نہیں ہے اس لیے اس شک کے باعث کہ لوگ میری بات کا اعتراف نہیں کریں گے وہ ضرورت اور بلا ضرورت قسمیں کھانے کا عادی ہوتا ہے اور یہی حالت منافقین کی بتائی جا رہی ہے کہ یہ بار بار اور بلا ضرورت قسمیں کھاتے ہیں تو ان کے جھوٹ ہونے کی علامت خاص ہے اور وہ قسمیں کھا کھا کر اپنے آپ کو پکے اور سچے ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اس لے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ میں ان کی قسمیں کہ وہ محض انہوں نے ڈھال بنا رکھی ہیں اور ان کی آڑ میں وہ طرح طرح کے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں کہ مسلمان ان سے وہی سلوک کرتے ہیں جو پکے اور سچے ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ میں ان کی قسمیں کہ وہ محض انہوں نے ڈھال بنا رکھی ہیں اور ان کی آڑ میں وہ طرح طرح کے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں کہ مسلمان ان سے وہی سلوک کرتے ہیں جو پکے اور سچے مسلمانوں سے کرتے ہیں اور حکومت ان کے مالوں اور جانوں کی حفاظت کرتی ہے اور مال غنیمت سے ان کو باقاعدہ حصہ ملتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے اس آڑ میں لوگوں کو ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ طرح مصرع اس پر طرح لگاتے ہیں کہ سننے والے کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیتے ہیں ۔ جس کی دل سے مخالفت کرتے ہیں اس کے منہ پر بیٹھ کر اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ وہ باور کرجاتا ہے کہ یہ لوگ میرے بہت سے ہی خیرخواہ ہیں اور میرے چاہنے والے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے اندر کا راز ان کو پہنچا دیتا ہے اور یہ عمل ان کا اتنا برا عمل ہے کہ دوسروں کو دھوکادے رہے ہوتے ہیں حالانکہ نتیجتاً وہ دھوکہ رہے ہوتے ہیں ۔ وہ حقیقت میں خود وین سے دور رہیں اور دوسروں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے دور کر رہے ہیں ۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ (حالت) اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کرنے لگے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں پر مہر لگا دی اب وہ کچھ نہیں سمجھتے

ایمان کے بعد کفر اور کفر کے بعد ایمان اسی حالت نے ان کا ستیا ناس کردیا ہے 3 ؎ ان کی عجیب و غریب حالت کا بیان بھی بڑا عجیب و غریب ہی ہے کہ زبان سے اقرار کرتے ہیں تو عمل سے کفرکا ساتھ دیتے ہیں ۔ جب مسلمان کے سامنے آتے ہیں تو ان کو اپنے ایمان کو باور کرانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ وہ باور کرلیتے ہیں کہ یہ ہمارے بہت ہی خرا خواہ ہیں اور جب اپنے مخصوص ساتھیوں کے سامنے ہوتے ہیں تو ان کو باور کراتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ محض اس لیے میل ملاپ رکھتے ہیں کہ ان سے جو باتیں راز کی ہم کو معلوم ہوں تم کو بتائیں اور حقیقت میں وہ نہ انکے ساتھ ہیں اور نہ ان کے ساتھ ۔ ان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے حقیقت میں وہ خود دھوکے میں مبتلا ہیں کہ وہ تھن سمجھ کر دم چوس رہے ہیں اور اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق ان کے دلوں پر مہریں کردی ہیں اور اس طرح حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی کو وہ کھو چکے ہیں ۔ وہ دیکھتے آپ کو نظر آتے ہیں کہ ان کے دلوں کی آنکھیں بےنور ہوچکی ہیں ، ان کو کچھ نہیں سوجھتا ۔ اس کی وضاحت سورة البقرہ کے شروع ہوتے ہی بطور نشاندہی صاف صاف لفظوں میں کردی گئی ہے ملاحظہ کریں سورة البقرہ کی آیات 8 تا 20 عروۃ الوثقیٰ جلد اول آیت 217 ، جلد دوم سورة آل عمران آیت 21 ، 22 ، 143 ، 144 سورة النساء آیت 26 ، 27 ، 60 ، 63 ، 75 ، 89 تا 91۔ 113 تا 121۔ 140 تا 142 ، جلد سوم سورة المائدہ آیت 52 ، 53 ، جلد چہام سورة الانفال آیت 21 ، 22 سورة التوبہ کا پورا مضمون ان لوگوں کا ریشہ دوانیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جلد ششم سورة النور آیت 35 ، 36 ، 48 ، 50 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت 10 ، 11 کا مطالعہ کریں ۔ آپ کے مطالعہ کے لیے اتنے ہی حوالوں پر اکتاف کیا جاتا ہے اور یہ سورة زیر نظر ان ہی کے کارناموں سے بھری پڑی ہے جو ابھی آپ کے مطالعہ میں ہے۔
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے جسم آپ کو بھلے معلوم ہوں اور جب وہ بات کریں تو آپ ان کی بات توجہ سے سنیں حالانکہ وہ لوگ لکڑیاں ہیں جو دیوار کے سہارے کھڑی کردی گئی ہیں وہ ہر تیز آواز کو سمجھتے ہیں کہ ان پر آفت نازل ہوئی کہ ہوئی ، یہی دشمن ہیں (آپ کے) اس لیے ان سے ہوشیار رہیے ، اللہ ان کو غارت کرے کہاں بہکے پھرتے ہیں

منافقین کی ظاہری اور باطنی حالت کی مزید وضاحت 4 ؎ ( واذا رایتھم تعجبک اجسامھم) ’ ’ اور جب تو ان کو دیکھتا ہے تو ان کے اجسام آپ کو بھلے لگتے ہیں ‘ ‘ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتے ۔ بڑے بڑے پیرو بزرگ ، شیوخ اشیاخ ، مذہبی رہنماء اور پیشوا ، سیاسی لیڈر ، امیر و زیر اور سارے باپ دادا والے لوگ ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کو دیکھ کر کون ہے جو تعجب نہیں کرتا ۔ کون ہے جو ان کی شخصیتوں کو سن کر ، جان کر ان سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے۔ آج کل کی زبان میں جتنے ایم ۔ پی ۔ اے ، ایم ۔ این ۔ اے ۔ سینیٹر اور سارے وزراء ہیں جیسے وزیراعظم ، وزیراعلیٰ ، وزیر داخلہ ، وزیر خارجہ وغیرہ بھلا ان کے نام سن کر کس کو ہیبت نہیں ہوتی اور کون ہے جو ان کی زیارت کے لیے حاضر نہ ہوا اور ان کی جھلک پا کر باغ باغ نہ ہوجائے اور اس کا خواہش مند نہ ہو کہ ذرا بات کا موقع مل جائے تو حج سے بڑھ کر ثواب کا مستحق ہو جائوں ۔ قرآن کریم کا کمال ہے کہ صرف ایک جملہ میں ان کی ساری سیرت بھر کر رکھ دی اور تین لفظوں میں وہ سب کچھ کہہ دیا جس کیوضاحت کرنے کے لیے بیسیوں صفحات سیاہ کردیئے جائیں تو بھی کم پڑیں۔ ان میں سے کسی ایک کے دورے کی رپورٹ پڑھ کر دیکھ لیں اور اندازہ کرلیں کہ جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے اس میں کتنا مبالغہ ہے ؟ میں یقین سے کہتا ہوں کہ مبالغہ کی کوئی بات آپ نہیں کہہ سکیں گے کیونکہ میرے کہنے سے بہت زیادہ پڑھ چکے ہوں گے۔ آپ کا جس جماعت سے تعلق ہے صرف اسی جماعت کے کسی ایک وزیر ، ایم ۔ پی ۔ اے ، ایم ۔ این ۔ اے اور سینیٹر کی رپورٹ کو دیکھیں اور باقی سب کو چھوڑ دیں ۔ اگر آپ کا کسی مذہبی جماعت سے تعلق ہے تو انہیں کے ان نا خدائوں میں سے کسی کے جماعتی دورہ کا حال ایک نگاہ دیکھ لیں اور ذرا عقیدت کو ایک طرف رکھ کر غورکریں آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ بات اہم یقین سے کہہ رہے ہیں اور فیصلہ آپ ہی پر چھوڑتے ہیں شاید آپ ناراض ہوں گے کہ میں نے ان کو کس زمرہ میں داخل کردیا ہے حالانکہ یہ تو وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کو سارے لوگ نہیں تو کم از کم ان کی جماعت کے سارے لوگ قابل زیارت سمجھتے ہیں ۔ بلا ریب یہ بات صحیح ہے لیکن ان کے اس عہدہ کی تخلیق پر آپ ایک نظر ڈالیں کہ اگر یہ سینیٹر ہیں تو ، اگر یہ ایم ۔ این ۔ اے ہیں تو ، اگر یہ ایم ۔ پی ۔ اے ہیں تو اور اگر کوئی وزیر ہیں تو دین اسلام کی نظر میں کن کن بداعتدالیوں سے گزر کر اس عہدہ تک پہنچے ہیں کیونکہ یہ بات آپ کو بھی معلوم ہے کہ یہ عہدے کسی کو دیئے نہیں جاتے بلکہ ان کو لوگ حاصل کرتے ہیں خواہ وہ کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اور ان سب کے لیے ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے اور ووٹ جس طرح لیے جاتے ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے ؎ گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو کہ طرز مغز دو صد خر فکرے انسان نمی آید (اقبال (رح) منافقت کے جو نشانات پیغمبراسلام ﷺ نے بتائے ہیں ان میں سے ایک ایک نشان ان لوگوں میں پائے جاتے ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ وہ نشانات کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب بولے جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو وعدہ کا خلاف کرے ، جب امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے “۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور صحیح مسلم میں اتنا زیادہ ہے کہ ” اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو ، روزے رکھتا ہو اور سمجھتا ہو کہ وہ مسلمان ہے “۔ ایک حدیث میں ہے کہ : ’ ’ جس شخص میں چار باتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک ہو گویا اس میں نفاق کی ایک علامت پائی جاتی ہے۔ (1) جب امانت دار بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (2) جب بولے تو جھوٹ بولے۔ (3) جب وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے۔ (4) جب جھگڑے تو گالی بکے۔ “ آپ سے میر التجا ہے کہ آپ ان باتوں کو پیش نظر رکھ کر اس ملک عزیز کے صدور ، وزراء اعظم اور وزیراعلیٰ اور دوسرے سارے وہ لوگ جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اپنی امانت و دیانت کے ساتھ تجزیز کرلیں اور پھر ہم سے بات کریں اور یہ عہدے جن جن لوگوں کے پاس گئے آپ کو معلوم ہو سکتا ہے اور جن جن لوگوں کے پاس ہیں وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ان کے بیانات ، ان کی امانت و دیانت ، ان کے قوم سے وعدے بھی اور ان کے جھگڑے بھی جو آپس میں ہوتے ہیں اور جو عوام و خواص سے ہوتے ہیں۔ (وان تقولوا تسمع لقولھم) ” جب وہ بات کریں تو آپ ان کی بات توجہ سے سنیں “ نشر و اشات کے سارے ادارے آپ کے سامنے ہیں ۔ قومی اخبارات کے نمائندے ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن کے نمائندے اور ان کے علاوہ سارے حساس اداروں کے نمائندے۔ وہ جہاں جاتے ہیں ان کے ساتھ ساتھ پہنچے کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے جاتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ جہاں بھی گئے ہیں انہوں نے الفاظ منہ سے ادا کیے ہیں اور ان کا اس وقت موڈ کیسا تھا ؟ اور پھر صبح جونہی اخبار کے دستیاب ہونے کا وقت آیا ہے یا ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خبروں یا تبصروں کا وقت ہوتا ہے تو لوگوں نے نوٹ کر کے رکھا ہوتا ہے اور ہر گھر میں بڑی توجہ سے سننے والے موجود ہوتے ہیں جن کا تعلق ہے وہ بھی اور جن کا کوئی تعلق نہیں وہ بھی اور جن کا کوئی تعلق نہیں وہ بھی ۔ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو قرآن کریم کے ان تین الفاظ پر ایک بار پھر نظر ڈال لو جو اوپر ہم نے درج کیے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ ” جب وہ بات کریں تو آپ ان کی بات توجہ سے سنیں “ خیال رہے کہ یہ حکم نہیں بلکہ خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات رسول لالہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمائی ہے یا تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائی ہے یہ بھی واضح ہے اور جن کے متعق فرمائی ہے وہ بھی واضح ہے کہ وہ منافقین ہی کی بات کی جا رہی ہے جن کا ذکر شریف کیا جارہا ہے۔ آپ شاید محسوس کریں کہ میں نے ذکر خیر کیوں نہیں کیا اور ذکرشریف کیوں کہا ہے ؟ اس لیے کہ یہ ذکر خیر نہیں بلکہ کچھ اور ہی ہے اور میں نے اس کو شریف اس لیے کہا ہے کہ قوم اس لفظ سے خوب شناساں ہے اور اس کا استعمال اتنا عام ہے کہ جس کے ساتھ چاہیں لگا لیتے ہیں ۔ مثلاً لگ گیا لفظ شریف جدھے نال اے بن گیا فیر اوہ حراموی حلال اے ختم دی شریف اے تو قل دی شریف اے لہن جیہڑا ختم دا او ملوی شریف اے ست پوٹھا بن گیا ستواں شریف اے چالیہ شریف نالے دسواں شریف اے ایس طراں نال جمعراتوی شریف اے بھری ہوئی چولاں دی پر اتوی شریف اے عرس دی شریف اے مولودوی شریف اے بانگوں پہلاں گھڑیا درودوی شریف اے پیر دا مرید نالے پیروی شریف اے پیر جیہڑی ڈپھدا اوہ کھیروی شریف اے غیر اللہ نذر و نیازوی شریف اے وجدا مزار اتے سازوی شریف اے طبلہ شریف نالے ونجھلی شریف اے نچدی مزاراں اتے کنجری شریف اے بابے گلو شاہ والی منڈیوی شریف اے قبر دے دوالے دی چوکھنڈیوی شریف اے میلیاں چ پوے جیہڑی بھنڈیوی شریف اے تھیڑاں چ نچے جیہڑی رنڈیوی شریف اے چورہ دی شریف اے منڈیروی شریف اے علی پور نالے اجمیروی شریف اے قوالی دی شریف تے قوالوی شریف اے ہیکاں وی شریف سر تالوی شریف اے جھوٹھ موٹھ پوے جیہڑا حال دی شریف اے بھنگڑاوی شریف تے دھمالوی شریف اے کولوں ای بنائی دھک مارویں شریف اے بدعتاں دی ماں ایک یارہویں شریف اے اس لیے میں نے منافقین کے ذکر کو ذکر شریف کہہ دیا ہے کہ وہ بڑے بڑے لوگ ہیں ، ان کی ہیبت اور رعب و ادب کا پھر مجھ پر آخر اثر کیوں نہ ہوگا اور میں ان کی باتوں کو آخر دھیان سے کیوں نہیں سنوں گا جب کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی ہے۔ میں بھی ایک پنجابی ہوں اس لیے پنجاب کی بہت سی شریف چیزوں کا ذکر میں نے کیا ہے اور بہت سی چیزوں کا ذکر شریف چھوڑ دیا ہے کہ اس میں بہت زیادہ صفحات کھپ جائیں گے ۔ ” شریف “ کا لفظ آپ کے پاس ہے اور اس کا استعمال آپ بھی جانتے ہیں ، خود ہی استعمال کرلیں یا اپنی روز مرہ بول چال پر ذرا دھیان رکھیں کہ لوگ کس کس کے ساتھ ” شریف “ استعمال کرتے ہیں ۔ قرآن کریم نے جن لوگوں کا تعارف اس جگہ اس آیت میں کرانا شروع کیا ہے وہ کون ہیں ؟ آپ کو معلوم ہوچکا ہے اور جو باتیں ان کے اوپر ذکر کی ہیں ان کا بیان بھی آپ نے پڑھ لیا ہے اور ابھی آیت کا مضمون جاری ہے۔ آگے جو ارشاد فرمایا گیا ہے اب اس پر نظر کریں اور قرآن کریم کے الفاظ کو پڑھیں اور یاد رکھیں ۔ فرمایا جا رہا ہے : ( کانھم خشب مسندہ) وہ لکڑیاں جو دیوار کے سہارے کھڑی کردی گئی ہیں “ ( مسندۃ) اسم مفعول واحد مؤنث تسنیہ مصدر باب تفعیل۔ دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئی چیز جس سے پشت کا سہارا لگایا جائے۔ اسناد ( افعال) کسی بات کی کسی طرف نسبت کرنا ۔ سہارا دینا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ان لوگوں کی مثال دی گئی ہے جن کا تعارف اوپر قرآن کریم کی آیت زیر بیان میں کرایا گیا ہے اور آپ تفصیل سے اس کو دیکھ چکے ہیں ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جو اوپر ذکر شریف ان کا کیا گیا ہے وہ تو ان کی ظاہری حالت کا بیان تھا اور ان کی اندرونی حالت کچھ اس طرح ہے کہ جے سا اندرہی اندر کھائی گئی لکڑیاں ہوں کہ ان کی اوپر کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے محض کسی دیوار کے سہارے انکو کھڑا کر دیا جائے تاکہ ان کی اندرونی حالت کو آپ دیکھ نہ سکیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے سہارے خود کھڑے بھی نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ دوسروں کا وہ بوجھ اٹھائیں بلکہ وہ تو خود دسروں کے سہارے زندہ ہیں اور دوسرے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے ہیں ۔ ذرا سہارا سرک جائے تو دھڑام سے وہ نیچے آ گریں اور ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے۔ ابھی وہ خوشنما دکھائی دے رہے تھے اور ابھی وہ ٹولے اور بکھرے پڑے ہیں ۔ اپنے ایمان کو ذرا حاضر کر کے سچی بات کہہ دیں کہ جو کچھ ہم نے اوپر تعارف کرایا اور جن لوگوں کا اس میں ذکر شریف کیا ہے کیا ان پر یہ مثال صادق آرہی ہے یا نہیں ؟ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو کہنا پڑے گا کہ سو فیصد یہ مثال ان پر فٹ (Fit) آرہی ہے اور ان کی اندرونی حالت کا یہ بیان بالکل سچ ہے اور قرآن کریم کی مثال میں صرف دو الفاظ بولے گئے ہیں جن کے اندر دنیا جہان کی طاقت اور قوت رکھ دی گئی ہے اور اس قدر پتے کی بات لاریب اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہو سکتا ہے کہ لیوں کو ذرا حرکت ہوئی ہے کہ دنیا کی ساری تاریخ اس میں بند کردی ہے اور جن جن پر یہ مثال فٹ (Fit) آتی ہے وہ اس طرح آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں کہ وہ ہٹائے بھی نہیں ہٹتے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ (یحسبون کل صیحۃ علیھم) ” وہ ہر تیز آواز کو سمجھتے ہیں کہ ان پر ہی آفت آنے والی ہے “ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، جو ایک ابدی تعلیم ہے اس کو صرف اسی وقت کے ساتھ مخصوص کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ان کی اگر بات کی بھی جائے تو اس وقت وہ ضمناً آئے گی حقیقت کے طور پر نہیں اور آنے والے وقتوں میں جوں جوں لوگ بدلیں گے یہ حکم بھی ان کے ساتھ آنے والوں کے لیے بدلتا رہے گا جن میں اس طرح کی صفات ہوں گی ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس بات کا بہت کم خیال رکھا ہے ۔ زیر نظر آیت کے ان الفاظ میں فرمایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی یہ صفات بتائی گئی ہیں اور جن پر آج کل یہ آیت فٹ ہوتی نظر آرہی ہے یہ لوگ باوجود بڑے بڑے نام اور بڑے بڑے رعب و داب رکھنے کے ہر رعب دار اور مہیب آواز سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ دراصل ان کا اپنا کیا ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے ۔ وہ سب چور ہیں اور اپنی چوریاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ہر وقت ان کو خیال رہتا ہے کہ یہ جو آواز اٹھی ہے شاید یہ میرے ہی خلاف نہ ہو ، مجھے ہی کچھ ہونے والا ہے ۔ اس طرح کے تانے بانے ان کے ذہن و دماغ کو ہر وقت پریشان رکھتے ہیں۔ ان کی راتوں کی نیند میں ہرگز ہرگز چین نہیں ہوتا اور دن کو بھی باوجود ساری حفاظتوں کے خوفزدہ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ بالکل اپنے قریب کے ساتھیوں ، اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں اور اپنے محافظ اور نگہبانوں کی طرف سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں ۔ سفر میں ہوں تو اپنا ڈرائیور اور پائلٹ ان کے لیے وبال جان بنا رہتا ہے اور ان کی پوری زندگی شکوک و شبہات میں گزرتی ہے ۔ کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں تو کوئی لقمہ یہ بےخوف و خطر منہ سے نہیں ڈال سکتے ، ضروریات زندگی اور حوائج کے وقت بھی وہ خطرہ سے خالی نہیں ہوتے ۔ اگر ان کے پاس اولاد ہوتی ہے تو یہ جانوروں کی طرح خود کہیں ہوتے ہیں اور اولاد کہیں ہوتی ہے ۔ اپنے پاس رکھ کر خوف و حر اس ان کی پرورش نہیں کرنے دیتا ۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کے لیے بھی صرف تین الفاظ کا ایک جملہ بولا ہے لیکن اس میں اتناوسیع مضمون رکھ دیا ہے کہ اگر آپ اس کو کھولتے جائیں تو وہ کھلتا ہی چلا جائے گا اور ان بڑے بڑے خناس میں کسی ایک کو تجزیہ کے لیے اپنی آنکھوں کے سامنے لے آئیں تو آپ پر ایک ایک بات روشن ہوتی چلی جائے گی اور آپ ان شاء اللہ میری باتوں کی بےساختہ تصدیق کریں گے اور یہ مجھے غلطی لگی ہے کہ میں نے ” میری باتیں “ کہہ دی ہیں دراصل حقیقت تو یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کے ان الفاظ کی یہی تشریح و تفسیر کریں گے کیونکہ حقیقت خود اپنا آپ منوا لیتی ہے اور آدمی اس کے ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمیت کا لفظ اس پر صادق آتا ہو ۔ مختصر یہ ہے کہ یہ بیان ہے ان کی بزدلی کا اور یہ بھی بات یاد رکھنے کی ہے کہ منافقت اور بزدلی لازم و ملزوم ہیں ۔ اس وقت کے منافق بھی بزدل تھے حالانکہ بڑی بڑی شخصیتیں تھے ، آج کے بھی ہیں اگرچہ صدر اور وزیراعظم ہی کیوں نہ ہوں اور ان طریقوں سے یہ عہدے حاصل کرنے والے ایسے ہی ہوں گے جو بعد میں آئیں گے اور ایک بار پھر سن لو کہ چور مکار اور ہوشیار تو ہو سکتا ہے لیکن شجاع اور بہادر نہیں ہو سکتا۔ ہاں ! وہ نام یہ رکھتے ہوں یہ دوسری بات ہے ۔ (ھم العدو فاحذرھم) ” یہی آپ ﷺ کے دشمن ہیں اس لیے ان سے ہوشیار رہیے “ ۔ انداز تخاطب نبی کریم ﷺ سے ہے اور مراد سارے مسلمان ہیں یہ لوگ جن کا ذکر پیچھے سے چلا آرہا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ، اسلام اور حق و سچ کے دشمن ہیں ، ان کی طرف سے محتاط رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے کہ ہر منافق فاسق بھی ہوتا ہے اور جب اس کا دائو بھرا جائے پھر وہ معاف نہیں کرتا ۔ یہ عقرب صفت ہیں کہ جو ان کے سامنے آئے گا وہ کاٹیں گے اور مسلمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ یہ تلقین کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ یہ چور بھی ہیں اور چتر بھی ۔ (قاتلھم اللہ انی یوفکون) ” اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے کہاں بہکے پھرتے ہیں “ ( قاتلھم اللہ) کلمہ زجر و توبیخ ہے اور اس طرح گویا ان کو ملامت کی جا رہی ہے اور ان کے حال پر اظہار افسوس کیا جا رہا ہے کہ اللہ ان کو غارت کرے ان کا ستیا ناس ، یہ کس کردار کے لوگ ہیں ( انی یوفکون) یہ کیسے بہکے پھرتے ہیں گویا خود جس مرض کا شکار ہیں اسی مرض کا شکار دوسروں کو ثابت کر رہے ہیں اور جو عیب ان کے اندر موجود ہیں وہی عیب دوسروں پر لگا رہے ہیں گویا ان کا ہر کام الٹا ہے۔ منافقین کی یہ پہچان قرآن کریم نے طرح طرح سے کرائی ہے ۔ ہم پیچھے ان کا تعارف کرانے کے لیے آپ کو بہت حوالے پیش کرچکے ہیں اور ایک بار دوبارہ صرف ایک مقام کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ آپ عروۃ الوثقیٰ جلد اول کی آیت 204 تا 206 کی تفسیر پر ایک نگاہ ڈال لیں اور آیت کے اس آخری فقرہ کو ذہن نشین رکھیں اور ان کے صحیح تعارف کو آپ حاصل کرلیں گے ۔ اللہ آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو اور ان دلی بیماریوں سے بچائے کہ انسانیت کے لیے یہ ٹی بی سے کم نہیں ہیں۔
Ayah 63:5

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ادھر آؤ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے (اللہ سے) بخشش طلب کریں تو سر ہلاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بےرخی کرنے لگتے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں

ان کو قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کی طرف دعوت دی جائے تو تکبر سے سر پھرجاتے ہیں 5 ؎ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی طرح ان کی پہچان اور شناخت ہی میں کہی جا رہی ہے کہ اس وقت جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس قوم کے اندر موجود تھے اگر اس طرح کے لوگوں کو آپ ﷺ کے رودر روبات کرنے کے لیے کہا جاتا تو کبھی تیار نہ ہوتے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگوں نے کبھی بھی آپ ﷺ کے قریب آ کر بات نہ کی بلکہ ہر بات آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں کرنے کے عادی تھے اور اگر انہیں موقع بن بھی گیا کہ آمنا سامنا ہوگیا تو انہوں نے اپنی باتوں کا کبھی اقرار نہ کیا کہ ہاں ہم نے ایسا کہا ہے بلکہ اپنے یبان سے منحرف ہوتے ان کو ذرا دیر نہ لگتی اور یہ گرگٹ کی طرح فوراً رنگ بدل جاتے ۔ ان کے مغرورانہ انداز کے لیے قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان پر غور کرو کہ ( لو وا روسھم) وہ سر پھیر گئے ، گردنیں اکڑائیں اور غرور کیا ۔ ( لو وا) جمع مذکر غائب ماضی معروف ” تلویۃ “ مصدر باب تفعیل اور اس کا اصل مادہ ل ی ی ہے وہ اکڑ گئے ، اترا گئے ، نیوڑائے اور گھمائے ۔ یہ غرور کی علامت کے لیے لفظ بولا جاتا ہے ۔ ” جب کبھی بھی ان کو کہا جاتا ہے کہ آئو رسول اللہ ﷺ کے پاس کہ وہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں تو سر پھیر جاتے اور آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بےرختی کرنے لگتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں ۔ یہ اس وقت کے منافقین کا تعارف ہے اور آج جب کہ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس موجود نہیں ہے لیکن آپ ﷺ کا لایا ہوا قرآن کریم موجود ہے اور آپ ﷺ کی بتائی ہوئی باتیں یعنی احادیث موجود ہیں گویا ان کو کتاب و سنت کی طرف دعوت دی جائے تو یہ لوگ اپنی چالاکی اور بےباکی کے باعث دعوت دینے والی پر وہابی ، معتزلی اور اسی طرح کے بہت سارے الزام لگانے لگتے ہیں اور کتاب و سنت کی دعوت کی طرف بالکل نہیں آتے بلکہ لوگوں کے اختراعی طریقوں پر چلنے کے بڑے شیدائی ہیں ۔ اس آیت کے مزید تعارف کے لیے بھی عروۃ الوثقیٰ جلد اول میں آیت 206 کی تفسیر دیکھنے کی طرف ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں اور بلا شبہ اس مضمون کے ساتھ آیت 206 کا مفہوم ملا کر پڑھنے سے مزید وضاحت ہوگی۔
Ayah 63:6

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! یہ بات) برابر ہے آپ ان کیلئے بخشش طلب کریں یا بخشش طلب نہ کریں (اس لیے کہ) اللہ ان کو بخشنے والا نہیں بلاشبہ (ایسے) نافرمان لوگوں کو اللہ (کبھی) ہدایت نہیں دیتا

آپ ان کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کرے گا 6 ؎ ایسے لوگوں کو جب کتاب و سنت کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو سر پھیر دیتے ہیں اور غیر اللہ کی بات آتی ہے تو ان کے دل باغ باغ ہوجاتے ہیں ۔ حقیقی نیکی کی طرف جب ان کو دعوت دی جاتی ہے تو ایک قدم دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اختراعی اور بناوٹی طریقوں کی طرف چلنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔ ان کی حالت کے پیش نظر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے حق میں یہ بات برابر ہے کہ آپ ﷺ ان کے لیے بخشش و مغفرت طلب کریں یا نہ کریں جب اللہ نے اپنے قانون میں یہ طے کردیا ہے کہ ان کو اور ان جیسے کردار کے سارے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف کرنے والا نہیں ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو کبھی ہدایت نصیب ہی نہیں ہوتی ۔ غور و فکر کا مقام ہے کہ آج ہم نے مردوں کی بخشش کے جو طریقے وضع کرلیے ہیں اور بخشش کی دعائیں جن لوگوں کے لیے مانگی جاتی ہیں اور جو طریقے اس کے اختیار کرلیے گئے ہیں اگر الٰہی فہصل میں ان لوگوں کے لیے خود رسول اللہ ﷺ بھی دعائے مغفرت کریں تو اس کے قبول ہونے کی نفی کی جائے تو آج کل کے ملاں جن کے لیے محض اپنے پیٹ کی خاطر غلط طریقوں سے مغفرت کی دعائیں مانگیں وہ قبول و منظور ہوجائیں گی ؟ آخر اس کی سند کیا ہے ؟ ہمارے ہاں رواج ہے کہ وہ لوگ جن کا ذکر ہم نے اوپر نام بنام یعنی انکے عہدوں کے تعارف سے کرایا ہے ان میں سے جو بھی مرتا ہے ان کا مقامی ملاں جن رسوم کو اسلام کی رسوم بیان کر کے ادا کرتا ہے حالانکہ ان کو اسلام کی رسوم کہنا بھی اسلام کی توہین ہے کیا اس طرح ان لوگوں کی مغفرت ہوجائے گی ۔ گویا جن لوگوں نے ساری زندگی اسلام کا نام استعمال کیا لیکن اسلام کا کام ایک بھی ان کو نصیب نہ ہوا ، برے لوگ تھے ، اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرتے رہے ، مسجدوں کو چھوڑ کر قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھاتے رہے ، درباروں اور خانقاہوں پر بدکاری کے اڈے بنوا کر اور کسی قبر کو عطر لگا کر گلاب کے عرق سے غسل دے کر قبلہ پرستوں کو قبروں پر لگائے رکھنے کے لیے ان کے قبے اور مزار بنواتے رہے جب وہ خود مر گئے تو ملاں نے ان کی قبر پر ڈیرا لگا دیا اور ان کے مرنے کے بعد آنے والی جمعرات تک قبر پر ڈیرہ جمائے رہے پھر ان کے تس رہے کی رسم قل بڑے دھوم دھام سے مسجد کے اندر منائی گئی ، ان کے حق میں مغفرت کی دعائیں مانگی گئیں ، اسی طرح پھر ساتھ ہی چالیسویں کی رسومات کو خوب منایا گیا ۔ کیا اللہ تعالیٰ ان طریقوں سے ان کی بخشش فرما دے گا جب کہ اس کا فیصلہ یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اگر آپ ﷺ بھی ایسے لوگوں کے لیے بخشش طلب کریں تو میں ان کو مطلق چھوڑنے کا نہیں ہوں ۔ کیا اللہ کے رسول ﷺ کے مقابلے میں آج کے ملاں کی پہنچ زیادہ ہوگئی ہے ۔ یہ سند ان ملائوں نے آخر کہاں سے حاصل کرلی ہے۔ بہر حال زیر نظر آیت نے ہم کو یہ سبق دیا ہے کہ دنیاوی زندگی میں و ڈیرے اور عہدوں پر فائز لوگ آپ کو نظر آتے ہیں اگر ان کا کردار اچھا نہیں ہے تو محض ان کی دنیوی شان و شوکت کے باعث ان کے گرویدہ مت ہو جائو بلکہ ان سے دور ہی رہو ۔ ایسا نہ ہو کہ ان کے فسق و فجور سے تم کو بھی کچھ حصہ مل جائے کیونکہ صحبت کا اثر بہر حال ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر مت خرچ کرو یہاں تک کہ وہ (پریشان حال ہو کر) منتشر ہوجائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے (سب کے سب) اللہ ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

منافقین کی ایک سکیم جس کا ذکر انہوں نے اپنے ہم نوائوں اور سادہ لوح مسلمانوں سے کیا 7 ؎ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر اثر و رسوخ ہوتا ہے اور وہ لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اکثر لوگ بھی ان کو سلام کرتے ہیں ، اس وقت جب رسول اللہ ﷺ خود ابھی اپنے صحابہ کرام ؓ میں موجود تھے اس کردار کے جو لوگ موجود تھے ان سب کا سردار اور مدینہ کار ئیس عبد اللہ بن ابی تھا اور اس کے ساتھی بھی تھے جو لوگوں کی طرح طرح سے ورغلانے کی بےکار سعی و کوشش کرتے تھے ۔ ہم ایک سے زیادہ بار عرض کرچکے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کو اسلام اور مسلمانوں سے عموماً اور رسول اللہ ﷺ سے خصوصاً بڑی کد تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کی ہجرت سے قبل اوس اور خزرج دونوں ہی اس کی قیادت پر متفق ہوچکے تھے اور اس کی تاج پوشی کے لیے جواہرات کا تاج بنایا جا رہا تھا کہ اتنے میں مدینہ کے اندر اسلام کی شعاعیں پہنچ گئیں اور لوگوں کی توجہ ابن ابی سے ہٹ گئی تھی اس لیے اس کی رقابت اور چشمک تھی اور اس بات کا احساس تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے گویا اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ اس کی یہ کد اور جلن ابتدائے ہجرت ہی سے واضح تھی جب کہ اس نے ابھی اسلام کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔ پھر اسلام کا اظہار کرنے کے بعد بھی اس کی ہی روش رہی ۔ چناچہ اس کے اظہار اسلام سے پہلے ایک بار رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار سعد بن عبادہ ؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک مجلس سے گزر ہوا جس میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا ۔ اس نے ناک پر ہاتھ رکھ لیا اور بولا کہ ہم پر غبار نہ اڑائو ۔ پھر جب آپ ﷺ نے اہل مجلس پر قرآن کریم کی تلاوت کی تو کہنے لگا کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں بیٹھیں ہماری مجلس میں ہمیں قرآن سنا سنا کر تنگ نہ کریں۔ (ابن ہشام جلد اول ص 584 بخاری جلد 2 ص 294 ، صحیح مسلم ج 2 ص 109) جنگ بدر کے بعد اس نے ہوا کا رخ جب بدلا ہوا دیکھا تو اسلام کا اظہار کردیا لیکن اس کے باوجود اس کو اللہ کے رسول ﷺ اور اہل اسلام سے دشمنی ہی رہی اور اسلامی معاشرے میں انتشار برپا کرنے اور اسلام کی آواز کو کمزور کرنے کی مسلسل تدبیریں سوچتا رہا اور وہ اعدائے اسلام سے بڑا مخلصانہ ربط رکھتا تھا جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بنو قنیقاع کے معاملہ میں نہایت نا معقول طریقے سے دخل انداز ہوا تھا ۔ اسی طرح غزوہ احد میں بھی شر اختیار کیا اور بد عہدی کی اور مسلمانوں میں تفریق اور ان کی صفوں میں بےچینی ، انتشار اور کھلبلی پیدا کرنے کی کوشش کیں اور جب احد میں مسلمانوں کو مصیبت کا طرف جب جمعہ کا روز آتا اور آپ ﷺ خطبہ کے لیے تشریف لانے والے ہوتے تو فوراً کھڑا ہوجاتا اور سامعین سے اس طرح مخاطب ہوتا “ لوگو ! یہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ ہیں ۔ اللہ نے ان کے ذریعہ تم کو عزت و احترام بخشا ہے لہٰذا آپ ﷺ کی مدد کرو اور انہیں قوت پہنچائو اور ان کی باتوں کو خوب غور سے سنو “ اس کے بعد پیٹھ جاتا اور رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ۔ پھر جب بنو نضیر کا معاملہ آیا تو اس نے بنو نضیر سے بھی برابر رابطہ رکھا اور ان سے مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہ تو محض اللہ کا فضل تھا کہ ان کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کا رعب اور خوف پڑگیا اور وہ لوگ نکلنے پر تیار ہوگئے ورنہ اس نے ان کو مسلمانوں کے ساتھ لڑانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس کی وضاحت سورة الحشر میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ جنگ حنین میں جو کچھ اس نے کیا اس کا ذکر بھی آپ سورة الاحزاب کی آیات 12 تا 20 میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں ۔ اس کی اندر کی دشمنی کا حال آپ نے وہاں بھی خوب پڑھا ہے جہاں زید ؓ کے زینب ؓ کو طلاق دینے کا ذکر ہے اور اس کے بعد آپ ﷺ کا زینب ؓ سے شادی کرنے کا بیان ہے یعنی سورة الاحزاب آیت 36 سے 40 تک بیان کیا گیا ہے ۔ اس نے آپ ﷺ کے خلاف جو طوفان کھڑا کیا تھا اس میں تین باتوں کو سر فہرست رکھا کہ : (1) زینب آپ ﷺ کے متبنیٰ بیٹے کی بیوی تھی لیکن آپ ﷺ کے نبی و رسول اپنے متبنیٰ کی بیوی سے کیسے نکاح کرلیا جب کہ متبنیٰ بھی جا بجا بیٹے ہی کے ہوتا ہے۔ (2) نبی نے لوگوں کو چار بیویوں سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں دی اور خود مذہب ؓ کو پانچویں بیوی بنا لیا ہے۔ (3) زید نے جب دیکھا کہ محمد ﷺ اس کی بیوی کو چاہتے ہیں تو اس نے طلاق دے کر محمد ﷺ کا راستہ صاف کردیا ۔ منافقین نے اس افسانے کو اتنی ہوا دی اور اس قوت کے ساتھ پروپیگنڈا کیا کہ اس کے اثرات کتب احادیث اور سیرت و تاریخ میں آج تک پائے جاتے ہیں ۔ اس کا اثر سادہ لوح مسلمانوں پر اتنا گہرا پڑا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کو اس کی وضاحت کرنا پڑا اور پوری وضاحت کرنے کے بعد بھی جو حال ہوا اس کے متعلق ہم سورة الاحزاب میں تفصیل سے عرض کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ غزوہ بنی المصطلق جس کو مریسیع کے نام سے بھی ذکر کیا جاتا ہے ایک معمولی بات کو جس طرح ان لوگوں نے اچھا اور خصوصاً عبد اللہ بن ابی نے جو طریقہ اختیار کیا اس کی وضاحت بھی آپ سن چکے ہیں اور آگے بھی اس کا بیان آنے والا ہے ۔ ہم نے محض اشارات کیے ہیں اور اس وقت کے منافقین جو کچھ کرتے رہے ان کا حال پڑھنے کے بعد دراصل قارئین کا اپنا کام ہے کہ وہ دور حاضر کے منافقین کے ساتھ موازنہ کریں اور ان کی ریشہ دوانیوں کو سمجھیں ۔ ہم بار بار اس طرح کے اشارات دیتے چلے آ رہے ہیں اور محض اس لیے کہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہی نہ پڑھتے رہیں موجودہ دور کے فتنوں پر بھی نگاہ ڈالیں خصوصاً وہ فتنے جو محض دین کے نام پر کھڑے کیے جا رہے ہیں اور یہ فتنے کھڑے کرنے والے بھی قوم کے و ڈیرے ہیں بالکل وہی لوگ جن کا تذکرہ ہم پیچھے کرچکے ہیں ۔ اس پوری سورت اور خصوصاً اس سے پہلے رکوع میں صرف اور صرف منافقین ہی کا بیان ہے اس لیے ابھی انیر لوگوں کا ذکر شریف چل رہا ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان کی اس سکیم کا ذکر شریف آیا ہے کہ یہ لوگ جب اپنی مخصوص مجلسوں میں بیٹھتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں میں طرح مصرع کے طور پر بیان شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم لوگ اگر ایک کام کرو کہ رسول اللہ ﷺ اور اس کے ساتھیوں پر مال خرچ کرنا بند کر دو تو یہ سارے لوگ تتر بتر ہوجائیں گے اور رسول کے ارد گرد ایک بھی نظر نہ پڑے ۔ ان کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ان کو سنایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان منافقوں کو یہ بھول لگی ہے کہ اس طرح کی وہ باتیں کر رہے ہیں ۔ حقیقت حال یہ نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دولت کے خزانے تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کے لیے ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا خود ذمہ لے لیا ہے تو منافق ان کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جب کہ اس حقیقت کو سمجھنے کے وہ اہل ہی نہیں ہیں۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

وہ (منافق) کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم میں جو عزت والے ہیں وہ ذلت والوں کو نکال دیں گے حالانکہ عزت (دراصل) اللہ کیلئے ہے اور اس کے رسول کیلئے اور مومنین کیلئے لیکن منافقین نہیں جانتے

یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو تہی ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا ذلیل کو نکال دے گا 8 ؎ اس وقت کے منافقین نے یہ بات اس وقت کی تھی جب بنی المصطلق کے قریب مریسیع نامی چشمہ پر ڈیرہ ڈال چکے تھے اور آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں تو تو میں ہوگئی جب کہ ایک کا تعلق مہاجرین سے اور دوسرے کا تعلق انصار سے تھا پھر دونوں نے اپنے اپنے لوگوں کو آواز دے دی اور قریب تھا کہ کوئی ناگوار بات ہوجاتی لیکن آپ ﷺ خود وہاں پہنچ گئے اور ان دونوں کو آپ ﷺ نے سمجھایا اس طرح یہ بات تو رفع دفع ہوگئی لیکن کچھ بےپر کی اڑانے والوں نے اس خبر کو خوب گرم کیا اور عبد اللہ بن ابی کو یہ موقع ہاتھ آگیا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے دو باتیں کہہ دیں ایک تو وہ پیچھے گزر چکی کہ اگر ان لوگوں پر خرچ کرنا روک دیا جائے تو یہ سب کے سب تتر بتر ہوجائیں اور محمد ﷺ کے ارد گرد ایک بھی نظر نہ آئے اور دوسری یہ جو زیر نظر آیت میں بیان کی گئی کہ اس نے غصہ کی حالت میں یہاں تک کہہ دیا کہ مدینہ واپس چلتے ہیں تو ہم ان کی خبر لے لیتے ہیں ۔ اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ ہم میں عزت والے ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر پھینک دیں ۔ اس نے بات کو ذرا محتاط انداز میں کہہ دیا ۔ اس کے اندر تو وہی بات تھی کہ ہم عزت والے لوگ ہیں جو مدینہ کے رہنے والے ہیں اور یہ مہاجرین ہی ذلیل لوگ ہیں جن کے پاس کوئی چیز موجود نہ تھی اور مرتے مراتے ادھر آگئے اور ہم لوگوں نے ان کو ٹھہرنے کی جگہ دے دی اور آج یہ لوگ ہماری برابری پر اتر آئے ہیں ان کو ان کی اس بات کا جواب دیا جا رہا ہے کہ تم کو جو زعم ہے وہ بالکل باطل ہے دراصل عزت و احترام کے مستحق وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں ۔ منافقوں کو اس بات کا علم نہیں کہ وہ خود ہی ذلیل ٹھہریں گے جب اس کی حقیقت کھلے گی وہ محض تنگ نظری سے یہ باتیں کہہ رہے ہیں اور اپنی تنگ نظری ہی کو عزت سمجھ بیٹھے ہیں پھر یہ بات بجلی کی طرح لشکر میں پھیل گئی ۔ آپ ﷺ جب مدینہ واپس آ رہے تھے اور حدود مدینہ میں پہنچے تو عبد اللہ بن ابی کے بیٹے نے اپنی تلوار کھینچ لی اور چاہا کہ اپنے باپ کی گردن اتار دے تاکہ اس کو پتہ چل جائے کہ عزت والا کون ہے اور ذلت والا کون ؟ لیکن اس معاملہ میں پھر آپ ﷺ ہی نے مداخلت کی اور عبد اللہ بن عبد اللہ کو اس حرکت سے باز رکھا اور اس کے باپ عبد اللہ کو اس کی کیا ہوئی بات کی معافی دے دی اور مدینہ داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی اور مسلمانوں کو سمجھا دیا کہ وہ خود ہی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا ہم دوسرے لوگوں میں یہ بد نامی مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اب مہاجرین نے انصار پر زیادتیاں شروع کردیں ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم ہی ایسا نہیں نازل ہوا تھا جس سے بات واضح تھی کہ عبد اللہ بن ابی کو گزند پہنچانے کی بجائے چھوڑ دینا زیادہ بہتر تھا اور یہی آپ ﷺ نے کیا ۔ اب منافقوں کی باتیں سمجھا لینے کے بعد سچے اور پکے مسلمانوں کی تلقین کی جا رہی ہے جو آنے والی آیات میں بیان کی گئی ہیں ۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (سن لو اور یاد رکھو) تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہی لوگ خود نقصان اٹھانے والے ہیں

ایمان والو ! تم کو مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے کہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے 9 ؎ جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے اب مخاطب کیا جا رہا ہے ان لوگوں کو جو سچے اور پکے مومن ہیں اور جن کے دلوں میں اسلام مکمل طور پر داخل ہوچکا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم کو تمہارا مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کردیں کیونکہ منافقوں کو اسی چیز نے خراب کیا ہے اور یہی چیزیں اکثر نفاق کا باعث بنتی ہیں۔ جب مال اور اولاد میں کثرت ہوجائے تو انسان کئی ایک غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر وہ جائز و ناجائز اور صحیح اور غلط کی طرف بہت کم ہی دھیان دیتا ہے بلکہ وہ مال اور اولاد کے نشہ میں مست ہو کر جو کچھ کرتا ہے وہ سینہ زوری سے کرتا ہے اور منافقین کی حرکتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ بھی جو کچھ کرتے رہے وہ محض طاقت اور عزت ہی کے گھمنڈ میں کرتے رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو اس سے باز رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ منافقین کو ان کے مال اور اولاد ہی نے اتنا چھوٹ کردیا تھا کہ وہ اپنے مالک حقیقی کی یاد ہی سے غافل ہوگئے اور انہوں نے نفاق کو اسلام پر ترجیح دے دی ۔ اے مسلمانو ! تم ایسا نہ کرنا جس شخص کی دنیا کی دلچسپیاں اپنے پروردگار کی بندگی اور اطاعت سے محروم کردیتی ہیں اور وہ دنیا کے کاموں میں اس قدر مشغول ہوجاتا ہے وہ انسان آخرت کے روز گھاٹے میں ہوگا ۔ ( تلھکم) کا اصل مادہ ل ھ و ہے یعنی وہ تم کو غافل کر دے ۔ تلہ الھاء سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر تلھکم وہ تم کو غافل نہ کر دے ۔ صیغہ نہی ہے ۔ جس شخص کو بھی مال اور اولاد کے نشہ نے آخرت سے غافل کردیا سمجھ لو کہ وہ بہت ہی گھاٹے میں رہا ، جس کے گھاٹا کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہیں رہی ( تلھکم ، تلھیھم ، یلھھم) اور ( الھاکم) سب ایک ایک بار ہی استعمال ہوئے ہیں اور اسی طرح ( تلھی) کا لفظ بھی ایک ہی بار استعمال ہوا ہے ( لاھیۃ) بھی ایک بار آیا ہے اس مادہ سے ( لھو) اور (لھوا) کے الفاظ 6 اور 4 بار استعمال ہوئے ہیں ۔ اب غور کرو جس چیز کو اسلام نے آخرت کا گھاٹا اور خسارہ قرار دیا ہے ہم اس کی طرف کس حد تک مائل ہیں اور اس کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں حالانکہ دوسری جگہ اس کی اس سے بھی زیادہ وضاحت فرما دی ہے کہ ” جن لوگوں کے دلوں میں ان کے فعل و عمل میں دنیا کے کاموں کی اہمیت آخرت کے کاموں سے زیادہ ہے وہ ایمان والے نہیں ہو سکتے “۔ (27 : 4) اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان کے پرکھنے کی کسوٹی سارے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دی خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں کہ اگر وہ ایمان کو پرکھنا چاہیں تو پرکھ لیں اور اپنا تجزیہ خود کر کے دیکھ لیں کہ ان کے ایمان کی کیا حقیقت ہے اور کیا حیثیت ہے کہ وہ دنیا کے لیے کیا کیا محنتیں اور کوششیں کر رہے ہیں اور آخرت کے لیے کتنی سعی و کوشش کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر انسان کو دوسروں کے متعلق نہیں تو اپنے متعلق تو معلوم ہوتا ہی ہے کہ میری جدوجہد کا کیا حال ہے اور میں دنیا کے لیے کیا کر رہا ہوں اور آخرت کے لیے کیا ( ذکر اللہ) سے مراد یہ نہ سمجھ لی جائے کہ جو شخص زبان سے اللہ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی دوسرا نام یاد کر رہا ہے اور یاد کر کے پڑھ بھی رہا ہے تو وہ اللہ کی یاد میں مصروف ہوگیا ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد فقط یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی سختی کے ساتھ پابندی کرے اور مال و اولاد کی چاہت کے لیے کوئی ایسا کام اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ہو اگر اس نے ایسا کیا تو سمجھ لو کہ وہ خسارہ میں گر گیا ۔ اب اس اصول کے مطابق خود اپنا تجزیہ کر کے دیکھتے چلے جائو اگر دنیا کی چیزوں کی طرف رغبت زیادہ نکلی تو سمجھ جائو کہ آخرت برباد ہونے کا زبردست خطرہ موجود ہے اور اگر آخرت کی چیزوں کی طرف رغبت زیادہ رہی تو ان شاء اللہ خیر ہی خیر ہے۔
Ayah 63:10

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو ! ) جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں کسی کو موت آپہنچے پھر وہ کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی کہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں ہو جاتا

ایمان والو ! اپنی موت سے قبل جو خرچ کرسکتے ہو کرلو ورنہ تم پچھتائو گے 10 ؎ یہ دوسری نصیحت اس جگہ کی جا رہی ہے کہ ایمان والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جو مال تم کو اللہ نے دیا ہے اور تم نے نہایت محنت شاقہ کر کے وہ کمایا ہے اس کو اپنی زندگی کے اندر موت آنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرلو ورنہ تم پچھتائو گے ، واویلا کرو گے ، شور مچائو گے اور سر پیٹو گے اور پکار پکار کر کہو گے کہ اے اللہ تو نے مجھے کچھ مدت اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں تیری راہ میں کچھ خرچ کرلیتا ۔ ہم نے یہ بات بہت غور و خوض سے کی ہے اور نہایت واضح اور صاف الفاظ میں بتائی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا وہی خرچ کرنا ہے جو انسان اپنی زندگی میں اپنی بہت سی دوسری ضرورتوں کو روک کر فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا خرچ کیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ رہے اور وہ آخرت میں اس کے کام آئے ۔ ورنہ دوسروں کا بھیجا ہوا مال جو مرنے والے کے لیے اس کے مر جانے کے بعد اس کے نام ملاں لوگوں کے ذریعہ بھجوایا جاتا ہے اس کی کوئی اہمیت اور حیثیت اسلام میں نہیں ہے ۔ ہاں ! ان کو جو مال دیا جاتا ہے وہ لاریب ان کو پہنچتا ہے اور وہ اس سے گلچھرے اڑاتے ہیں اور پھر جب ان کو مفت میں ملتا ہے اور کچھ اس کے لیے محنت و مشقت بھی نہیں کرنا پڑتی اور آخرت پر ان کا اپنا بھی کوئی یقین نہیں ہے تو وہ اس کو آخر تسلیم کریں گے تو آخر کیوں کریں گے اور اپنے روز گار پر خواہ مخواہ لات کون مارے گا اور کیوں مارے گا ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تم کو دی ہیں انہیں اس کی راہ میں خود خرچ کرو اور خرچ کرنے میں لیت و لعل نہ کرو اور تاخیر سے کام نہ لو ایسا نہ ہو کہ تم کو موت آجائے اور تم کف افسوس ملتے رہ جائو ۔ اس وقت تمہاری آنکھیں کھلیں اور اس طویل سفر کے لیے زاد راہ مہیا کرنے کا تم کو احساس سناتے لگے اور تم ایڑیاں رگڑرگڑ کر التجائیں کرو کہ ایک مرتبہ موت ٹل جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جی بھر کر اپنا مال لٹالوں اور اس کے نیک بندوں میں شامل ہو جائوں پھر موت آئے اور میں بصد شوق پیام اجل کو قبول کرلوں ۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة لقمان کی آیت 33 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ ان شاء اللہ العزیز بہت تفصیل ملے گی۔
Ayah 63:11

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور (اللہ تعالیٰ کا قانون تو یہ ہے کہ) جب کسی کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ قطعاً کسی کو مہلت نہیں دیتا اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

جب وقت مقرر آجاتا ہے تو پھر ڈھیل نہیں دی جاتی ، قانون الٰہی کا اعلان 11 ؎ بلا شبہ ہرچیز کو موت ہے اور اس کی موت کا وقت متعین و مقرر ہے جب تک موت کا وقت نہیں آتا کوئی چیز مر نہیں سکتی اور یہی حال انسان کا ہے ۔ گزشتہ آیت میں ذکر تھا کہ مرنے والے نے اگر آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا ہوگا تو وہ کف افسوس ملے گا اور اپیلیں کرے گا کہ اے اللہ کچھ وقت تک مجھے مہلت عطا فرما دے تاکہ میں اپنی آخرت کے لیے کچھ تیار کرلوں اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرلوں اور نیک لوگوں میں شامل ہو جائوں ۔ گزشتہ آیت میں اس کے سوال کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ اے بات کہنے والے کان کھول کر سن لے اور یاد رکھ کہ اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب کسی کی موت کا مقرر وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی ۔ جب تم کو معلوم ہے کہ موت نے بہر حال آنا ہے تو سمجھداری اور عقل و فکر کی بات تو یہی ہے کہ اس میں غفلت کو اتار دو اور جتنا جلد ممکن ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرلو اور دوسری ضرورتوں کو آخرت پر ترجیح نہ دو اور یاد رکھو کہ تمہارے اعمال اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہیں جو بھی پوشیدہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے ۔ پھر اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں آخرت کی فکر دنیاوی زندگی کی فکر سے زیادہ ہو اور اللہ کی راہ میں دامے درمے سخنے جو کچھ بھی خرچ کرسکیں نمائش سے بچتے ہوئے خرچ کردیں ۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔