Ayah 64:1اللہ تعالیٰ ہی کا تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
1 ؎ زیر نظر آیت قبل ازیں دوبارہ گزر چکی ہے اس لیے کہ سورة الحشر کی پہلی آیت بھی یہی ہے اگر کوئی معمولی فرق ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے۔ پہلی دونوں جگہ پر اجمال ہے اور اس جگہ ان کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ انسان کی تخلیق کیا ہے ؟ وہ مجموعہ اضداد ہے اور ان ضدین میں رہ کر اس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑائی سے بچے اور نیکی کی طرف رغبت کرے یہی اس کا کمال ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ حکومت ہے تو وہ اللہ کے لیے ہے اور سب اچھی تعریفیں ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہیں ۔ اس کی قدرت ہرچیز پر محیط ہے اور یہ بھی کہ اس کی قدرت کی کرشمہ سازیاں ہر ایک چیز میں دیکھی جاسکتی ہیں صرف انسان کے اندر ہی محدود نہیں ہیں۔
Ayah 64:2پیدا کرنے والا سب کا اللہ ہے خواہ کوئی کافر ہے یا مسلمان
2 ؎ انسان کیا ہے ؟ وہ اپنی تخلیق پر غور کرے اور دیکھے کہ وہ کیا ہے ؟ مومن کے پاس کیا زیادہ ہے اور کافر کے ساتھ کیا کم ؟ لاریب جتنی کوشش بیک وہ کرے گا اس بات کا فیصلہ وہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان دونوں میں کوئی کمی بیشی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ہی جے سک انسان بنایا ہے اور ایک ہی طرح سے ان کی تخلیق کی ہے اور کوئی بھی ان میں سے نہ تو مختار کل ہے اور نہ ہی مجبور محض ۔ ہاں ! دونوں کی صلاحیتوں کا خالق بھی وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان میں سے جن صلاحیتوں کو چاہے بروئے کار لائے اور جس طرح چاہے ان کا استعمال کرے یہی انسان کا فعل اور کسب ہے اور اسی کسب کے باعث اس کو جزا اور سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ سارے انسانوں کو خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان ان کو نیست سے ہست کرنے والا والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی دوسرا نہیں ہے۔ جتنی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے انسان میں پیدا کردی ہیں اتنی کسی اور مخلوق میں پیدا نہیں کی گئیں خواہ وہ مخلوق حجم اور جسم کے لحاظ سے انسان سے کروڑوں گنا زیادہ ہو اور ان کے سامنے انسان کی کوئی نسبت ہی قائم نہ کی جاسکے کیونکہ یہی ایک مخلوق ہے جو باقی ساری مخلوقات پر حاوی اور بھاری ہے ۔ اس لیے ہم نے یہ بات بار بار عرض کی ہے کہ ہزاروں بندے الگ الگ نوعیت کے کام کرتے ہیں لیکن ہر نوعیت کی صلاحیتیں ہر انسان کے اندر ودیعت کی گئی ہیں ۔ یہ دوسری بات ہے کہ کسی نے کسی صلاحیت سے کام لیا ہے اور بقای سب کو ڈیڈ (Dead) کردیا اور کسی نے دو چار ، چھ سات کو بہر حال انسان جس کوشش میں مصروف ہوجائے اس کو حاصل کرسکتا ہے اور سیکھنے سے سب کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ اسی تکلیف کے باعث وہ مکلف ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر وہ مومن ہے تو اختیار سے ہے اور کافر ہے تو اختیار سے ہے۔ اگر کافر کو کافر پیدا کیا گیا ہوتا اور اسی طرح مومن کو مومن ، تو وہ کبھی جزا اور سزا کا مستحق نہ ہوتا ۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا اور کائنات میں جو کچھ ہے سب کو اس نے پیدا کیا پھر جو صلاحیتیں اس نے انسان میں پیدا کی ہیں وہ صلاحیتیں کسی دوسری مخلوق میں پیدا نہیں کیں ۔ اس کی ہدایت کے سارے سازو سامان پیدا کیے ، حق اور ناحق کی پہچان دی اور پہچان کرانے والوں کا سلسلہ شروع کیا اور اختیار دینے کے بعد اس کو اس آزمائش میں مبتلا کیا اور پھر سامان رزق سب کے لیے برابر ایک ہی نہج پر رکھا ۔ کسی کے معاملہ میں ایک ذرہ برابر فرق نہ پایا اور سب کے کاموں سے وہ اچھی طرح واقف ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں ۔ پھر ان کے کرنے کے بعد وہ جزا و سزا کا مستحق قرار دیتا ہے۔ غور کرو کہ کیا اس کو اس کا حق نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے ؟ بلا شبہ اسے حق تھا اور انسانی فرض ہے کہ وہ حدود میں رہتے ہوئے اپنے اختیار کا جائز استعمال کرے اور ناجائز سے گریز کرے تاکہ وہ آخرت میں بھی اجر پانے کا مستحق ٹھہرے۔
Ayah 64:3اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور انسانوں کو جو شکل و صورت دی وہ بہت خوب دی
3 ؎ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ پیدا کیا ، کیا مطلب ؟ یہ تفہیم کرانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو ان کے اندر ہے یا اوپر اور نیچے سب کا سب اللہ نے اسی طرح پیدا کیا جس طرح کہ اس کو پیدا کرنا چاہئے تھا اور کسی چیز کو ناحق پیدا نہیں کیا ۔ یعنی ایسا نہیں بنایا کہ اس کے متعلق کوئی شخص کہہ سکے کہ اگر اس کو اس طرح نہ بنایا ہوتا تو اس کا یہ فائدہ ہوتا گویا اس میں کمی بیشی کو ثابت نہیں کرسکتا ۔ آپ کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز پر اس طرح غور کریں کہ اس میں آپ کوئی نقص نکال سکیں کہ اگر اس کو اس طرح بنایا جاتا تو اس کا یہ فائدہ ہوتا ، اس طرح نہیں بنایا گیا تو اس میں یہ نقص باقی رہ گیا ہے۔ انسان جتنا بھی غور و فکر کرے اس طرح کا کوئی نقص وہ اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق میں نہیں نکال سکتا ۔ مثل ہے کہ کوئی شخص اس طرح اپنی فکر دوڑا رہا تھا تو اس کے اندر خیال پیدا ہوا کہ کہتے ہیں کہ اللہ کی کسی چیز میں کوئی نقص نہیں ہے ، نہیں ہوگا لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس پیڑ پر جس کے نیچے میں سویا ہوا ہوں اتنا بڑا پیڑ ہونے کے باوجود یہ چھٹانک دو چھٹانک ہی کا پھل لگایا گیا ہے اور یہ ساتھ کدو کی بیل کو دیکھو کہ ایک ایک دو دو کلو کے پھل لٹک رہے ہیں جس سے وہ بیل ان پھلوں کو سہار بھی نہیں سکتی ۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی جانور نے اوپر سے اسی پیڑ کا پھل توڑ کر پھینک دیا جو سیدھا اسی فلسفی کے سر پر آ لگا بس لگتے ہی فلسفی صاحب کی چیخ نکل گئی کہ بلا شبہ وہ مالک حقیقی ہے اور جو کچھ اس نے بتایا ہے حق کے ساتھ بنایا ہے اگر اس پیڑ پر اس بیل کے پھل کے برابر پھل لگا ہوتاتو نہ میں باقی رہتا نہ میرا سر ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
پس ہر ایک چیز کو اسی طرح پیدا فرمایا جس طرح اس کو پیدا کرنا چاہئے تھا ۔ اس بات کی تفہیم کے لے یہ الفاظ اختیار کیے گئے تاکہ یہ بات آپ پر واضح ہوجائے کہ رب کریم نے ہرچیز کو اسی طرح بنایا جس طرح اس کو بنانا چاہئے تھا تاکہ وہ اپنی تخلیق کے مقاصد کو صحیح طریقہ سے انجام دے سکے ۔ کائنات کی کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں بھی آپ غور کریں تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ چیونٹی کا ننھا سا جسم ، اس کی باریک باریک ٹانگیں اور اس کے بقیہ جسم کی ساخت ایسی ہی ہونی چاہئے تھی جیسے ہے اور اس کے مقابلہ میں ہاتھی کا بھاری کم جثہ ، اس کی موٹی موٹی مضبوط ٹانگیں ، اس کے چوڑے چوڑے کان اور اس کی لمبی سوراخ دار سونڈ ایسی ہی ہونی چاہئے تھی جیسے ہے۔ ہوا میں جو خوبیاں ہیں اور پانی کی جو خصوصیتیں ہیں ان میں رد و بدل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ۔ جو بنایا ہے ، جیسے بنایا ہے وہی حق اور درست ہے۔ اس میں رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی بڑے سے بڑا انجینئر (Engineer) تبدیلی نہیں کرسکتا ۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کے شاہکار حضرت انسان کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ہم نے اسے بنایا ہے اور کتنا ہی خوبصورت بنایا ہے۔ اس کے پائوں سے لے کر سر تک ، انگلیوں کے پوروں سے لے کر بھاری بھاری کندھوں تک نظر دوڑائو ، اس کی قدو قیامت ، اسکے ہاتھ اور بازو کتنے مناسب ہیں ۔ اگر پانچ کی بجائے ہاتھ میں سات انگلیاں ہوتیں تو کیا ہوتا ؟ کیا وہ کام اس خوبی سے انجام دے سکتا جس خوبی سے وہ اب دے رہا ہے ؟ اگر اب سمجھ میں نہیں آتا تو کسی چھانگلے کو دیکھو ، کسی دو انگلیاں کٹے پر نگاہ ڈال لو تم کو حقیقت معلوم ہوجائے گی اب اگر تم (فتبارک اللہ احسن الخالقین) کو تسلیم نہ کرو تو تمہاری مرضی ۔ ذرا غور تو کرو کہ انسان چیز کیا ہے ؟ ہاں ! ہاں ! اس آسمان کے مقابلہ میں ، زمین کے مقابلہ میں ، سورج ، چاند اور ستاروں کے مقابلہ میں ، ان دریائوں اور پہاڑوں کے مقابلہ میں پھر غور کرو کہ اس نے ان سب کو مسخر کیا ہے یا ان بڑی بڑی مخلوق میں سے بھی کوئی اس کی اپنی ہیبت سے ڈرا سکی ۔ ستاروں پر کمندیں ڈالیں تو کس نے ؟ پہاڑوں کی سر بفلک چوٹیاں سر کیں تو کس نے ؟ دریائوں کو چیرا اور پھاڑا تو کس نے ؟ ہاں ! ہاں ! ( سدرۃ المنتھیٰ ) تک پہنچا تو کون ؟ کوئی چاہے جتنی عقل دوڑالے اس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ساری کائنات کا اگر کوئی ہے تو وہ حضرت انسان ہی ہے اور اگر کسی سے ہیبت چھاتی ہے تو وہ انسان ہی ہے اگر ان ساری چیزوں سے کسی نے فائدہ حاصل کیا ہے تو وہ انسان ہی ہے اگر اس کائنات میں کسی نے ہلچل مچائی ہے تو وہ انسان ہی ہے لیکن جس نے یہ ساری صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور جس نے سارے کمال اس چھوٹی سی مشین کے اندر رکھ دیئے ہیں یہ کمال ہے تو اس کا ہے اور انسان سے اوپر اگر کوئی چیز ہے تو وہ اس کا خالق ومالک ہی ہے۔ پھر کیوں نہ کہا جائے کہ تف ہے اس انسان پر جو اپنے سے ہیچ مخلوق کو اپنا خدا اور اپنا رب بنا کر بیٹھ جائے۔ تف ہے ان انسانوں پر جو خود پتھر گھڑیں اور خود ہی ان کے سامنے سجدہ ریزہو جائیں ۔ افسوس ہے ان انسانوں پر جو خود ہی مردوں کو گاڑیں اور ان کی قبریں بنائیں اور پھر ان پر خلاف چڑھا کر ان کے سامنے ہاتھ جوڑنا شروع کردیں اور افسوس ہے ان بد بختوں پر جو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ اور ملک کے صدور بن کر ان قبروں کو عرق گلاب سے غسل دینا شروع کردیں ۔ کیا ان عہدوں پر فاء ہونے کے بعد بھی ان بد بختوں اور انسانیت سے گرے ہوئے بندہ نژادلوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ انسانوں کے لیے پرستش کے اگر کوئی قابل ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے ، جو اس کائنات کا خالق ہے اور جس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ سب امیر و وزیر ہیں یا ننگ انسانیت ہیں اور یہ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اندھے ، بہرے اور گونگے کہہ کر ( لا یرجعون) کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔
Ayah 64:4اللہ تعالیٰ آسمانوں زمین کی چھپی چیزوں کو جاننے والا اور سینوں کے رازوں سے واقف ہے
4 ؎ وہی اللہ تعالیٰ ہے جو آسمانوں اور زمین کے اندر جو کچھ چھپا ہے اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ اس کائنات کے اندر دکھائی دیتا ہے اس کی حقیقت کو بھی وہی سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہے اور کیونکر ہے ۔ رب ذوالجلال والاکرام کی بےپایاں قدرت اور اس کی حکمت کی کرشمہ سازیاں وہ خود ہی جان سکتا ہے اور خود ہی جانتا ہے اور پھر اس کے بعد اگر اس نے کسی کو علم دیا ہے تو وہ اس ساری کائنات میں صرف اور صرف ایک انسان ہی ہے جس کو عطا کیا ہے پھر جتنا اس نے اس کو دیا ہے اس سے بھی واقف ہے اور جتنا ابھی اس کو نہیں دیا وہ بھی اس کو معلوم ہے اورو جو اس کو دینا اس کے علم میں موجود ہے اس کو بھی وہ خود ہی جانتا ہے۔ ان آسمانوں اور زمین میں جتنی اس کی مخلوق ہے اس میں سے انسان نے کیا جانا ہے اور کیا اس کو ابھی جاننا باقی ہے اور جو اس کے سینہ میں چھپا ہے اس کا بھی اس کو علم ہے۔ بلا شبہ جو کچھ اس نے انسان کو عطا کیا وہ اتنا ہے کہ عقل کہتی ہے کہ شاید اس سے آگے کچھ نہیں ہوگا لیکن رات کو اگر اس کا خیال کیا جائے تو صبح کو تصدیق ہوگئی ہے کہ رات کا سمجھا صحیح نہیں تھا اور یہی بات دن کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔ آج اس وقت تک جو کچھ ایجاد کیا جا چکا ہے اگر ایک سو سال پیچھے چلے جائیں تو یہ بہت زیادہ ہے لیکن آنے والے سو سال تک کیا کچھ ہونے والا ہے ؟ اس وقت ہم نہیں جانتے اور اگر جانتے ہیں تو وہ اتنا ہی ہے کہ ابھی ہم کچھ نہیں جانتے اور جو قوم یا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ابھی کچھ نہیں جانتے وہی انسانیت کے قریب ترین ہے اور جو یہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ جان لیا ہے وہ بلا شبہ جاہل کے جاہل ہیں اگرچہ وہ اپنے علم کی ڈینگیں مارتے ہوں اور حضرت العلام بنے بیٹھے ہوں۔
Ayah 64:5کیا آپ ان کافروں کو جانتے نہیں ہیں جو اپنے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ؟
5 ؎ مطلب یہ ہے کہ اب سے پہلے کتنے ہی اکھڑ اس دھرتی پر پیدا ہوچکے ہیں جو ہم چوما دیگرے نیست کے نعرے بلند کرتے رہے اور جنہوں نے ( انا ربکم الاعلیٰ ) کی صدائیں بلند کیں ۔ یہ عاد ، ثمود ، اہل مدین ، قوم تبع ، فرعون ، قارون ، ہامان اور رشد اد وغیرہ اور ایسے ہی دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ سارے لوگ وہ ہیں جو اپنے اپنے وقت میں بڑے بڑے دعوے کرچکے اور ان کی خبریں ہم تم کو ایک بار نہیں کئی بار قرآن کریم میں سنا چکے کیا یہ سب کے سب اپنے اپنے کیے کے انجام کو پہنچ کر نہیں رہے ؟ بلا شبہ وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس وقت کے وہ ہیکڑ تھے اور آج کے جو ہیکڑ ہیں ان کو انہیں گزشتہ ہیکڑوں سے سبق حاصل کرلینا چاہئے اگر ان میں کچھ انسانیت کا مادہ موجود ہے تو وہ ہمیشہ آگے ہی نہ دیکھتے رہیں کبھی پیچھے نظر دوڑا کر بھی دیکھیں ۔ یہ بات شاید ان کے حق میں مفید رہے۔ دعویدار بہت آئے اور وہ اپنے اپنے عہد میں دعوے کرتے رہے اور آج بھی ایسے دعوے کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ آج وہ لوگ فقط داستانیں ہی داستانیں رہ گئے ہیں تو کل ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوگا کہ ہر جانے والا آنے والے کے لیے ایک داستان ہوتا ہے اگر آنے والا بھی اس بات کو سمجھ جائے کہ میں آیا ہوں تو کل میں نے جانا بھی ہے لہٰذا کوئی بات ، کوئی دعویٰ ایسا نہ کروں کہ کل گزشتہ لوگوں کی طرح میری داستان ہی داستان باقی رہ جائے اور میرا کیا ہوا کام کسی کے لیے رہنمائی کا کام نہ دے ۔ کامیاب ہیں وہ لوگ جن کی مثالیں دے کر ، جن کی مثالیں دیکھ کر انسان کو سبق حاصل ہوتا ہے اور ان سے سبق سیکھتا ہے اور ان کے کارہائے نمایاں سے آنے والے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور کتنے ہی ہیں وہ لوگ جو خود اپنے کیے کے انجام کو پہنچ گئے اور آج ان کا نام لینے کے لیے بھی کوئی شخص خوشی کے ساتھ تیار نہیں ہے بلکہ ان پر حسرت و افسوس ہی سے نظر ڈالتا ہے جب بھی ڈالتا ہے۔ جن لوگوں کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ان میں سے کوئی ہے جس کو حسرت و افسوس ہی سے یاد نہ کیا جاتا ہو خواہ اپنے وقت کے خدا ہی بنے ہوئے تھے۔ اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے جو اس وقت اپنے زمانہ کے خدا بنے بیٹھے ہیں اور اس طرح کی ڈینگیں مارتے ہیں جس طرح کی ان کے گزشتہ آبائو اجداد مارتے رہے تھے۔ فرمایا وہ بھی اپنے وبال کو پہنچ گئے اور یہ بھی پہنچ جائیں گے۔
Ayah 64:6ان کے پاس ہمارے رسول گئے تو انہوں نے ان کو بشر کہہ کر ٹال دیا اور اپنی ڈگر پر قائم رہے
6 ؎ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا جیسے ہود ، صالح ، ابراہیم لوط اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوموں کی طرف نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور انہوں نے ان کا مذاق اڑایا کہ دیکھو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا ، یہ آخر ہیں کان ؟ یہ تو عام انسانوں کی طرح انسان ہیں خواص کی تو ان کی ہوا بھی نہیں لگی اگر یہ لوگ خود اس میں ہوتے تو آخر ان کے پاس بھی بڑے بڑے محلات ، کو ٹھیاں ، باغات اور نوکر و خدام ہوتے ۔ وہ باغوں میں بیٹھتے۔ لوگ ان کے ارد گرد حلقہ لگائے بیٹھتے ہوتے اور ان کا نام آتا تو ان کے دل ڈر جاتے ۔ تعجب ہے کہ ان رسول کہلانے والوں کے ساتھ تو دنیا کی کوئی آسائش بھی نہیں ہے اور نہ کوئی امتیازی حیثیت ان کی قائم ہے بلکہ یہ تو انسان ہیں اور وہ بھی عام انسانوں کی طرح ۔ کیا یہ اس طرح کے انسان ہماری رہنمائی کے لیے آئے ہیں ۔ تعجب ہے کہ ہم ان سے کس چیز کی رہنمائی حاصل کریں گے۔ اس طرح کی باتیں کہہ کر وہ اپنے کفر پر ڈٹے رہے اور رسولوں کی تکذیب ہی کرتے رہے اور پھر وہ وقت آگیا کہ وہ خود بعد میں آنے والوں کے لیے قصے اور کہانیاں بن کر رہ گئے ۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہ تھی ۔ ان کا سارا کرو فر بھی انکے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوگیا ۔ غور کرو کہ ان کا نتیجہ کیا رہا ؟ یہی کہ ان احمقوں نے یہ کہہ کر نبیوں اور رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا کہ یہ ہمارے جیسے انسان ہم کو کیا دعوت دیں گے اور یہ کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کا اتباع نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی طرف سے اپنے قانون کے مطابق بےپروائی اختیار کرلی اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ۔ بندوں کو اللہ تعالیٰ کے احسان اور لطف و کرم کی ضرورت ہے ، اس کو تو بندوں کے سجدوں اور عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی کوئی شخص بھی تعریف نہ کرے پھر بھی اس کی ان گنت مخلوق ہے جو اس کی تسبیح و تمحید کر رہی ہے۔ اس لیے وہ تو بہر حال غنی اور تعریف کیا گیا ہے اور ہرچیز سے وہ بےنیاز ہے۔
Ayah 64:7کافروں کا یہ گمان کہ ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا سراسر جھوٹ ہے
7 ؎ کوئی شخص یا قوم زبان سے اقرار کرے کہ قیامت ہے اور آخرت کی زندگی لازم ہے یا اقرار نہ کرے اس وقت دونوں ایک ہی نظریہ کے حامل گنے جاتے ہیں جب اعمال دونوں کے ایک جیسے ہوں اور جب تک اعمال میں فرق واضح نہ ہو یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ اس قوم کا آخرت پر ایمان ہے اور اس قوم کا آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ اس لیے زیر نظر آیت میں دونوں طرح کے لوگوں کو ایک ہی طرح کے شمار کرتے ہوئے بات کی جا رہی ہے اور ان کو کافر کہا جا رہا ہے کہ وہ عملاً انکاری ہیں کہ وہ اپنے کیے گئے اعمال کے اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ غور کیجئے کہ جب ایک قانون بنتا ہے اور اس کا اعلان ہوجاتا ہے کہ بی ڈی ۔ ایم ۔ پی ۔ اے اور ایم ۔ این ۔ اے کی درخواست دینے کے لیے یہ قانون ہے اور یہ اس کی شرائط ہیں ۔ کیا درخواست دہندہ ان کا لحاظ کیے بغیر درخواست دے دیتا ہے۔ اچھا اگر وہ دے دے تو اس کی درخواست قبول ہوجاتی ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ یہ وہ قانون ہے جو ان انسانوں کا بنایا ہوا ہے جو قانون کو بناتے اور ہٹاتے رہتے ہیں اور اپنے قانون میں ترمیمات (Amendments) بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اس بات کا دعویٰ کرے کہ میں اس قانون کو مانتا ہوں لیکن اس کی پابندی نہ کرے تو انجام کیا ہوتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ درخواست مسترد کردی جاتی ہے جب تک اس بنائے ہوئے قانون کے مطابق درخواست نہ ہو اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کے لیے قانون بنایا اور اس میں فیصلہ کیا کہ جس شخص نے یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہ آخرت ہے اور ہم انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے کیے کے جوابدہ ہیں عقدتا ً اس کو مان لیا اور دوسرے نے اس کو ماننے سے صاف انکار کردیا لیکن جب عمل کا وقت آیا تو اس قانون کا ماننے والا بھی اس سے بےنیاز ہو کر عمل کرتا ہے اور نہ ماننے والا تو پہلے مانتا ہی نہیں جب دونوں کا عمل ایک جیسا ہے تو ان دونوں کا نتیجہ آخر ایک جیسا کیوں نہیں ہوگا ؟ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ جس نے اس عقیدہ کے ماننے کا اعلان کیا ہے وہ زیادہ سزا کا مستحق قرار دیا جائے کیونکہ اس نے قانون کی خلاف ورزی بھی کی ہے ، عدالت عالیہ کی ہتک کا بھی وہ مرتکب ہوا ہے لیکن دوسرا اس کے مقابلہ میں اس قانون ہی کو تسلیم نہیں کرتا تھا وہ مجرم ہے لیکن اس ماننے کا دعویٰ کرنے والے سے کمتر درجہ کا ۔ اسلام نے اس کو بالکل اسی طرح مانا اور تسلیم کیا ۔ اس نے بظاہر اس قانون کو تسلیم کرنے کے جو خلاف ورزی کی ہے اس کا نام منافق رکھا ہے اور دوسرے کو کافر مانا ہے اور منافق کی سزا کافر سے بھی بری قرار دی ہے لیکن ہمارے مذہبی پیشوائوں نے عقیدہ بھی تسلیم کرنے والے کے لیے بہت رعایت روا رکھی ہے اور کافر کو اس سزا کا مستحق سمجھا ہے انہوں نے یہ رعایت کس آیت یا حدیث سے استنباط کی ہے یہ بات وہی بہتر بنا سکتے ہیں بہر حال اس جگہ ان عملی کافروں ہی کا ذکر ہے ۔ فرمایا کافر گمان کرتے ہیں کہ ہم کو قطعاً دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ۔ ان کی اس بات کا ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ اعلان فرما دیں کہ کیوں نہیں ہمارا رب یقینا سب کو اٹھا کھڑا کرے گا اور پھر سب کو ان کے اعمال کے بارے میں بتا دے گا کہ یہ تمہارے کرتوت ہیں اور یہ بات اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے اس لیے کہ پہلی پیدائش کے مقابلہ میں دوسری پیدائش ہر حال میں آسان ہے اور کوئی عقل مند بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ پہلی بار ایک چیز بنانے سے دوسری باری اس کا بنانا مشکل تصور کیا جائے۔ اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ دوسرے تیسرے حاشیہ میں اس کا کچھ نہ کچھ ذکر موجود پایاجاتا ہے۔
Ayah 64:8اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لائو اور اس نور کو قبول کرو جو ہم نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیا
8 ؎ یہ تلقین ہے ان لوگوں کے لیے جو ابھی زندہ وجاوید موجود ہیں اور اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے بلکہ ان کا وقت ابھی آنے والا ہے۔ ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جو چلے گئے وہ تو چلے ہی گئے اور وہ یقینا اپنے انجام کو بھی پہنچ گئے اور تم جو لوگ ابھی زندہ ہو کچھ تو خیال کرو کہ تم کس طرح غفلت میں پڑے ہو۔ اٹھو اور اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر سچے دل کے ساتھ ایمان لائو اور اس روشنی کو تسیم کرو جو ہم نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی ہے یعنی قرآن کریم ۔ یہ بات اس لیے اس جگہ ذکر کی گئی کہ قرآن کریم میں بار بار اس بات کی طرف رغبت دلائی گئی ہے کہ تم سب کو اس دنیوی زندگی کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور تمہارے اعمال کی تم سے باز پرس ہوگی ۔ جب یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ تم کو محض دوسرے جانوروں کی طرح ہی پیدا نہیں کیا گیا بلکہ پوری کائنات کے پیدا کرنے کا مقصد محض انسان کا استفادہ کرنا ہے تو کیا یہ بات ممکن ہو سکتی ہے کہ جب دنیا کی ہر ایک چیز کے پیدا کرنے کا ایک مقصد موجود ہے تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کو محض بےکار اللہ نے پیدا کردیا ہو اس کو تو عام انسان کی عقل بھی صحیح تسلیم کرنے کے لے تیار نہیں ہے پھر تم یہ کس طرح کہہ دیتے ہو کہ اللہ ہم کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور وہ کیوں زندہ نہیں کرے گا جب کہ وہ ضرورت جو انسان کے پیدا کرنے کی تھی اس کا تصفیہ ہونا ابھی باقی ہے اور وہ اس دنیا کی زندگی میں پورا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ درالعمل ہے جب تک عمل مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک نتیجے کا اعلان کرنا تو سراسر جہالت ہے ۔ معلوم ہوا کہ اس دارالعمل سے نکل جانے کے بعد ایک دوسرا نظام آئے گا جس میں سب انسانوں کے سامنے ان کا نتیجہ پیش کردیا جائے گا اور اس نتیجہ کے بعد ان کی ابدی زندگی شروع ہوجائے گی اور ابھی جب کہ تم لوگ دارالعمل میں ہو اس لیے ضروری ہے کہ تم تو اپنے بیان پر نظر ثانی کرو اور ایک غلط راہ کو چھوڑ کر سیدھی راہ پر گامزن ہو جائو کہ مثل ہے کہ صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اس کو بھولا نہیں کہا جاتا اور اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے اور تمہاری کوئی حرکت بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس کلام پر ایک بار پھر غور کرو کہ وہ تفہیم کا کیا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ پہلے قرآن کریم میں کفر و انکار جن ہلاکتوں سے انسان کو دو چار کرتا ہے ان کا ذکر کیا گیا ، پھر قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا حتمی اعلان کیا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا کہ تمہاری سلامتی اور بہتری اسی میں ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئو اور قرآن کریم جو سراسر نور اور روشنی ہے اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام سچے دل سے مان لو تو یہ نور تمہاری زندگی کے گوشہ گوشہ کو منور کر دے گا اور اس کی چمک سے تمہارے تصورات کے ظلمت کدہ میں اجالا ہوجائے گا اور پھر تم حق اور باطل میں بآسانی امتیاز کرسکو گے ۔
Ayah 64:9تم سب کو جمع کرلیا جائے گا اور ایمان لانے کے بعد اچھے عمل کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے
9 ؎ جو دن تمام انسانوں کے اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وہی دن ہے جس کو قیامت کا دن یا ( یوم الحشر) اور ( یوم العبث) کہا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس کے بہت سے نام آئے ہیں ( یوم الجمع) کے الفاظ اس جگہ ہیں ۔ اکٹھے ہونے یا اکٹھے کیے جانے کا دن اس کو کہا گیا ہے کیونکہ ابتدائے آفرنیش سے قیام قیامت تک کے سارے انسان وہاں جمع ہوں گے تاکہ ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور اس جگہ اس کا ایک نام ( یوم التغابن) بھی بیان ہوا ہے۔ ( تغابن) کا اصل غ ب ن ہے یعنی غبن دینا ، غبن ظاہر کرنا ، ہار جیت اور ایک دوسرے کے ساتھ غبن کرنا ۔ (تفاعل) مصدر ہے اس کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ بیان کیا ہے اور بہت بحثیں بھی اٹھائی ہیں کہ اس کو ( یوم التغابن) کیوں کہا گیا ہے لیکن اس کے مفہوم میں ہار جیت کا دن بھی تسلیم کیا گیا ہے تو یہ بہت واضح اور صاف بات ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے ہیکڑ سے ہیکڑ انسان بھی اپنے ہیکڑ ہونے کے باعث اپنے آپ کو جیتا ہوا ثابت کرتے ہیں اور قیامت کی ہار کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تاثر نہیں ہوتا ۔ اچھے اعمال کرنے والوں کی تو باری ہی نہیں آتی کہ وہ اپنی آخرت کے بارے میں زبان کھول سکیں بڑے بڑے فراڈ کرنے والے ، گھپلے کرنے والے ، پرلے درجے کی راشی ، گانے بجانے والے ، ڈوم اور ڈانگری سب کے سب اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ بس جنت کے مستحق تو ہم لوگ ہیں کہ لوگوں کے دلوں کا گا گا کر ، ناچ ناچ کر ہم خوش کرتے ہیں اور کسی بندے کے دل کو خوش کرنا تو اللہ کو خوش کرنا ہے اور ہم نے تو کتنی بار زندگی میں یہ گایا ہے کہ ؎
مسجد ڈھادے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھندا پر کسے دا دل نہ ڈھائیں رب دلاں وچ رھندا
اور پھر ہمارے اعمال بھی بالکل اسی کے مطابق ہیں لہٰذا جنت کے مستحق تو ہم ہیں ۔ اس طرح کے نظریات ہر ایک نے گھڑے ہوئے ہیں اور کوئی اپنی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس لیے اس دن کو ہار جیت کے مان لینے کا دن اقرار دیا گیا کہ اس روزسب کو اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا ؟ اور پھر یہ بھی کہ کوئی ہارنے والا یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میں ہارا تو نہیں تھا لیکن مجھے فریق ثانی نے دھونس اور دھاندلی سے ہرا دیا ۔ حکومت نے مداخلت کر کے میرے ووٹ ادھر ادھر کردیئے اور یہ رزلٹ فلاں جگہ بیٹھ کر تیار (Monitor) کیا گیا۔ میرے ساتھ یہ اور یہ زیادتی ہوئی ۔ فرمایا ایسا مطلق نہیں ہوگا اور ہر ایک نے جو کچھ کہا ہے اس کو من و عن ان کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیں گے اور ہر ایک کو پوری پوری تسلی کرائیں گے کہ ہم نے کیا کہا تھا اور تو نے کیا کیا اور جب اس کو پورا اطمینان ہوجائے گا تب ہم فیصلہ سنائیں گے ۔ اس لیے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ دنیا میں انسان نے خواہ جو کچھ بھی کیا کیا اور جو کچھ کہا کہا لیکن آخرت میں ہر ایک کو اپنے کیے کی صحیح ڈائری (Diary) ملے گی اور اس کو کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں رہے گا کیونکہ سب کچھ ظاہر ہو کر اس کے سامنے آجائے گا اور جہاں ضرورت ہوگی ہم اس کے ہاتھوں سے ، منہ سے یا پائوں سے اور ان کی جلدوں سے ان پر گواہی پیش کردیں گے اور کسی کو اس سے انکار کی جرأت نہیں ہوگی اور پھر یہ بھی کہ یہ سب کچھ کہیں کسی کمرے میں چھپ کر نہیں کیا جائے گا بلکہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا اور اس طرح واضح طورر پر ہوگا کہ اس نتیجہ کو سب دیکھ لیں گے اور پہچان جائیں گے۔ پھر جو شخص سچے دل سے ایمان لایا ہوگا اب اس کو اس بحث کی کیا ضرورت رہے گی کہ اس کے اعمال نا مہ میں یہ برائیاں بھی ہیں اور یہ غلط تحریر بھی کیا گیا۔ یہ بحث اب بالکل فضول ہے اس لیے فرمایا کہ ان کی انسانی لغزشیں سب کی سب معاف کردی جائیں گی اور ان کو باغات میں داخل کردیا جائے گا ۔ ایسے باغات جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ لوگ جو جنت میں داخل کردیئے جائیں گے ان کا داخل عارضی نہیں ہوگا کہ آج نہیں تو کل یا کسی وقت بھی ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جائے۔ نہیں ! نہیں ! ان کی الاٹمنٹ عارضی نہیں ہوگی بلکہ مکمل طور پر وہ حصہ ان کے تصرف میں دے دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ اب غور کرو دنیا کی کامیابیاں اس کے مقابلہ میں کیا شے ہوں گی اس لیے کہ نہ تو دنیا کی زندگی ہمیشگی کی زندگی ہوئی اور نہ ہی دنیا کی کوئی کامیابی ہمیشگی کی کامیابی ۔ یہاں کی کامیابی ، یہاں کی ہار جیت تو بالکل وقتی ہار جیت ہے جو آج جیت گیا کل ہار گیا اور جو آج ہار گیا کل جیت گیا ۔ پھر یہ بھی کہ یہاں کے جیتنے والے اگر آخرت کو ہار گئے اور اس جیت کے باعث ان کا ہارنا ہارنا ہوگیا تو وہ کتنے خسارے میں رہے اس کا اندازہ آج نہیں اس وقت ہی صحیح لگ سکے گا ۔
وہ لوگ جو تلاش زر ، زن اور زمین میں آج دیوانے بنے پھرتے ہیں اور حلال و حرام ، جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کرتے اور آج وہ اپنے کارخانوں کی اونچی اونچی چمنیوں سے دھواں نکلتا ہوا دیکھ کر پھولے نہیں سماتے اور آج وہ اپنی ایئر کنڈیشنڈ (Air Conditioned) کار میں بیٹھ کر فر سے گزر جاتے ہیں جو ہوائی جہازوں میں اڑتے پھرتے ہیں ، ان کی رات کہیں ہوتی ہے تو دن کہیں ، صبح کہیں تو شام کہیں وہ اپنے کروفر اور اربوں کروڑوں میں اتنے خوش ہیں کہ گویا مست ہوچکے ہیں اور راہ حق کے لیے ایک قدم چلنا بھی ان پر ناگوار گزرتا ہے ۔ بہتر ہے کہ وہ اپنے فرصت کے اوقات میں اس ( یوم الجمع) اور ( یوم التغابن) کا تصور بھی کریں ۔ شاید اس کا نتیجہ ان کا حق میں اچھا ہے کیونکہ ابھی قدم جما لینے کا وقت ہے اگر کوئی جمانا چاہتا ہے اور ابھی سنبھل جانے کا وقت باقی ہے اگر سنبھل جانا چاہتا ہے اور گزرا ہوا وقت پھر کبھی کسی کے بھی ہاتھ نہیں آتا اور ان کے بھی نہیں آئے گا ۔
Ayah 64:10کافر اور مکذبین قرآن آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جو بہت بری جگہ ہے
10 ؎ رسول اللہ ﷺ پر اور آپ ﷺ پر اتاری گئی کتاب پر جو لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اگر وہ اسی طرح ڈٹے رہے اور اسی حال میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اتنی نصیحتوں کے باوجود اپنے کفر پر اڑے ہی رہے اور قرآن کریم کی تکذیب قولی اور عملی پر قائم رہے تو ان کا انجام درد ناک عذاب ہے۔ ہم آج ہی بتا رہے ہیں تاکہ وہ کان کھول کر سن لیں اور آگ کا نام سن کر مذاق کرنے والے اچھی طرح جان لیں کہ وہ بہت ہی بری جگہ ہے پھر کر جانے والوں کی اور اس سے بری جگہ کوئی اور نہیں ہے۔ آج اس دنیا کی ہو ہوا میں مست اگر نہیں سمجھناں چاہتے تو بہر حال یہ ہو ہوا ہوا ہوتے زیادہ دیر نہیں لگے گی ادھر یہ ہمارا حکم آئے گا اور ادھر ان کا غبارہ ٹھاہ کر جائے گا ۔
Ayah 64:11ہر آنے والی مصیبت اللہ کے اذن سے آتی ہے اور ایمان ہدایت قلبی کا نام
11 ؎ ( اصاب) کی اصل ص و ب ہے ۔ اس کے معنی میں وہ پہنچا ، وہ آ پڑا ۔ اس نے پا لای ۔ اصابۃ سے جس کے معنی پا لینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ما اصاب) نہیں پہنچتی ۔ وہ لوگ جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ان کے راستے کا سب سے بڑا خطرہ اور سب سے بڑا پتھر جو ہر وقت ان کے راستے میں موجود ہوتا ہے اور کبھی بھی ان کے راستے سے وہ نہیں ہٹتا اور ہر وقت مزاحم ہوتا رہتا ہے اس کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جب انسان اس بات پر ایمان لے آئے کہ جو کچھ ہوگا اللہ کے حکم سے ہوگا اور جو ہوا وہ اللہ ہی کے حکم سے ہوا اور اس کے احکام تکوینی کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتے پھر اس کی رضا کو حاصل کرنے والے کے راستے سے جو چیز بھی مزاحم ہوتی ہے وہ ہو اور جو خطرہ آتا ہے وہ آئے اگر رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اس کا آنا ضروری ہے تو ہمارے سرما تھے پر ، ہم کو سو بار قبول ہمیں اس راہ کو جاری رکھنا ہے اور مزاحمتیں ہٹانا ہمارا کام نہیں بلکہ ان مزاحمتوں کی پرواہ نہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہی امتحان ہے اور اس میں ہم فیل نہیں ہونا چاہتے بلکہ اس کو پاس کرنا چاہتے ہیں اور اگر اس کو پاس کرتے کرتے ہم پاس ہی ہوجاتے ہیں تو اس میں گھبرانے کی بات کیا ہے ؟ یہی تو وہ گوہر جو ہمارا مقصود ہے ، اسی کی تلاش میں تو ہم اس راہ پر گامزن ہیں ، یہی تو ہمارا مطلوب ہے پھر اس سے ہم گھبرائیں گے تو آخر کیوں ؟ کیا ہم اللہ کے حکم سے باہر نکلنے کے لیے اس راستے پر گامزن ہوئے ہیں ؟ نہیں اور ہرگز نہیں ہم اللہ کے حکم سے باہر نہیں نکلنا چاہتے بلکہ اس کے مطابق اس عارضی زندگی کو گزارنا چاہتے ہیں اور اس راستے میں حائل ہونے والی چیز سے ہم قطعا ًڈرانے والے نہیں کیونکہ ایمان جس چیز کا نام ہے وہ یہی ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ اللہ کے حکم سے ہوگا پھر آخر ڈر اور خطرہ ہم کو ہوگا تو کیوں ؟ زیر نظر آیت میں (باذن اللہ) کے مفہوم کو ذہن نین کرنے کی کوشش و سعی کرو تاکہ یہ مفہوم آپ کے ذہن میں فٹ ہوجائے۔ خوب یاد رکھو کہ ( باذن اللہ) کا لفظ کسی انہوں نے کام پر نہیں بولا جاتا بلکہ ہونے کام پر بولا جاتا ہے لیکن ہمارے مفسرین نے ہمیشہ اس کے متعلق یہی خیال کیا ہے کہ یہ نہ ہونے والے کاموں پر یا ان ہونے والے کاموں پر بولا جاتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ انسان کا کام پیدا کرنا نہیں لیکن اللہ چاہے تو وہ پیدا کرسکتا ہے۔ انسان کا کام اندھوں کو بینا کرنا نہیں لیکن ( باذن اللہ) انسان اندھوں کو بینا کرسکتا ہے۔ انسان مردوں کو زندہ نہیں کرسکتا لیکن (باذن اللہ) مردوں کو زندہ کرسکتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے کہ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان بذاتہٖ کچھ بھی نہیں کرسکتا جو کرتا ہے وہ اللہ کے اذن ہی سے کرتا ہے اور اللہ کا اذن اسی چیز کے متعلق ہوتا ہے جس چیز کی صلاحت انسان میں اللہ نے ودیعت کی ہے اور جو انسان کے اختیار و بس کا نہیں اللہ کبھی اس کے متعلق کسی بھی انسان کو اذن نہیں دیتا۔ ( باذن اللہ) کے معنی یہ سمجھنا کہ اللہ کے کرنے کے جو کام ہیں ان کو اللہ جس بندے سے کرانا چاہے اس کو اذن دے دیتا ہے اور وہ ان کو کرلیتا ہے کسی حال میں صحیح نہیں ہوسکتے۔ زیر نظر آیت میں ( باذن اللہ) کا مفہوم بالکل واضح ہوگیا ہے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے راستے میں نکل کھڑا ہوتا ہے پھر جو کچھ اس کو پیش آتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کا کام راستے کی چیزوں یعنی مشکلات کو دور کرنا نہیں بلکہ ہر حال میں راستہ پر چلتے رہنا ہے اگر اس طرح چلنے میں اس کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو آئے ، اس کو گھبرا کر دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ کسی مصیبت کو مصیبت نہیں سمجھنا چاہئے سب سے زیادہ جو کچھ ہو سکتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کی جان چلی جائے گی تو اللہ کی راہ میں جان کا چلا جانا اس کا اصل مقصود ہے پھر جب اس کو وہ حاصل ہوگیا تو یہ تو اس کی خوش قسمتی کی بات ہے۔ اس سے جو گھبراتا ہے وہ تو کبھی اللہ کی راہ میں گامزن کہلا ہی نہیں سکتا وہ تو دنیا دار ہے اور جو کچھ کر رہا ہے محض دنیا داری کے لیے کررہا ہے اور دین کا تو اس نے خواہ مخواہ ڈھونگ رچایا ہے۔ جو شخص ایمان لانے کے دعویٰ میں سچا ہے اس کی تو نشانی ہی یہ ہے کہ اس کے دل میں اس بات کا خطرہ کبھی پیدا نہیں ہوا کہ کہیں میری جان ہی نہ چلی جائے۔ اس کا دل تو مطمئن ہوتا ہے اس بات پر کہ اگر میری جان چلی جائے تو مجھے میرا گوہر مقصود مل گیا اور میری ذمہ داری پوری ہوگئی اور اللہ تعالیٰ ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کوئی چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔
زیر نظر آیت کو ایک بار نہیں بار بار پڑھو اور اس کو سمجھنے کی پوری پوری کوشش کرو ۔ یہ مردوں کو ثواب پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ زندوں کو سیدھی راہ پر لگانے کے لیے آئی ہے۔ ملائیت نے اس کو پیٹ کا دھندا بنا لیا ہے۔ اس میں سمجھایا گیا ہے کہ یہ دنیا کیا ہے ؟ اور پھر بتایا گیا ہے کہ یہ دارالمحن ہے ۔ اس میں داخل ہو کر مصائب و آلام سے کسی کو مفسر نہیں ہے۔ یہاں کیا ہے ؟ بتایا جا رہا ہے کہ بیماریاں ہیں ، صدمے ہیں ، تجارت و زراعت میں کمائیاں ہیں اور خسارے ہیں ۔ انسان کے لیے عزیز ترین مقصد میں انتہائی مساعی کے باوجود ناکامیاں ہیں اور یہ وہ حالات ہیں جن سے کم و بیش ہر شخص کو واسطہ پڑتا ہے لیکن آلام و مصائب کے ہجوم پر ہر شخص کا ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا وہ لوگ جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ان حالات میں ایک بےبس اور محض مجبور تنکا محسوس کرتے ہیں جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکیل کر پھینک رہے ہیں ۔ اس وقت جس ذہنی پستی اور اخلاقی انحطاط کا یہ لوگ مظاہرہ کرتے ہیں اسے دیکھ کر ایک انسان پسینہ سے شرابور ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھیں جھک جاتی ہیں لیکن جن کا ایمان محکم ہوتا ہے ان کے قدموں میں ذرا برابر بھی لچک نہیں آتی اور خصوصاً ان کی حالت اس وقت دیکھنے واولی ہوتی ہے جب وہ کسی مصیبت کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور لوگ ان پر ترس رکھا رہے ہوتے ہیں اور وہ ہیں کہ مسکراتے چلے جاتے ہیں ، لوگوں کی آنکھیں نم ہوتی ہیں لیکن ان کے چہروں پر خوشی کی لہریں دوڑ رہی ہوتی ہیں اور بڑی سے بڑی آندھیاں بھی ان کے یقین کی شمع کو گل نہیں کرسکتیں اور وہ پکار پکار کر کہتے ہیں کہ
؎ تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم بےآسرا اور بےسہارا نہیں ہیں ۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ان کا آسرا و سہارا ہے۔ پھر اس سے بڑا آسرا اور سہارا کیا ہوگا اور ان کو اس بات پر پختہ یقین ہے کہ ان کا پروردگار ان کی حالت سے اچھی طرح واقف ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ اگر اس نے یہ چاہا ہے تو ہم کو ایک بار کیا سو بار قبول ہے۔ ہم نہیں جانتے اس کی حقیقت کو وہی جانتا اور سمجھتا ہے کہ اس میں ہماری کونسی بہتری پنہاں ہے اور کس مصلحت کے تحت یہ ہوا ہے یا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل کبھی مضطرب اور بےچین نہیں ہوتے ، وہ پکارتے ہیں اور اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : ( رب اسبحن احب الی مما یدعوننی الیہ) ” اے میرے رب ! مجھے قید اس سے بہتر ہے جس طرح یہ عورتیں مجھے دعوت دے رہی ہیں “ اس لیے مصائب و آلام کو دیکھ کر ان کے دل کبھی بےچین نہیں ہوتے۔ آزمائش کی اس پر خار وادی کو بڑے صبر و تحمل اور سکون و وقار کے ساتھ طے کرتے چلے جا تے ہیں ۔ ایمان باللہ میں کس بلا کی قوت ہے اس قوت کے بل بوتے پر انسان کس طرح ثابت قدمی اور جوان مردی کا مظاہرہ کرتا ہے اس کے لیے آپ لوگ فرعون کے ساحروں کے روپ پر ذرا نگاہ ڈالو کہ فرعون ان کو دھمکیاں دے رہا ہے ” اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہارے ہاتھ پائوں خلاف سمت کٹوا دوں گا اور پھر اس ہی پر بس نہیں کروں گا بلکہ آگے بڑھ کر تم کو سولی چڑھا دوں گا ۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ فرعون یقینا ایسا کر دے گا کیونکہ اس کے ظلم کی داستانیں تو اس سے بہت آگے بڑھ چکی تھیں لیکن وہ ایمان جو ان کے دلوں میں یکا یک پیدا ہوگیا تھا اگرچہ ابھی نوزائیدہ تھا لیکن اس کی طاقت کا اندازہ کرو کہ وہ بےدھڑک پکار اٹھتے ہیں کہ ( فاقض ما انت قاض) اے فرعون ! کر جو تو کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ تیرا فصلہ تو آخری زندگی کے متعلق ہو سکتا ہے جو عارضی زندگی دنیا کی زندگی ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ( انا امنا بربنا لیغفرلنا خطایانا) ” ہم تو اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہمارے گناہ معاف فرما دے “۔ اگر اس نے ہمارے ایمانوں کی صفائی کے لیے یہی چاہا ہے جو تو کہہ رہا ہے تو ایک بار نہیں ہم کو سو بار قبول ہے اور اب پڑھو ( ومن یومن باللہ یھد قلبہ) کہ اس ایمان کا نشہ انسان کو کس قدر مست کردیتا ہے اور یہ کہ ایمان کا چاشنی جو صحیح معنوں میں چکھ لیتا ہے اس کا دل کس طرح مطمئن ہوجاتا ہے خصوصاً اس وقت جب زندگی کا کارواں لالہ زاروں اور مرغزاروں سے نکل کر خار زاروں اور اد اس و ویران ریگ زاروں سے گزرنے لگے تو ان کے چہروں پر اس وقت بھی طمانیت کا نورجھلک رہا ہوتا ہے ۔ ان کے دل دلوں میں یہ سما چکا ہوتا ہے کہ ہماری حالت سے ہمارا اللہ خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 64:12اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اگر پھر جائو گے تو ہمارے رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے
12 ؎ دکھ ہو یا سکھ ، خوشی ہو یا غمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کو اپنے اوپر لازم رکھو اور خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ دنیا کی کسی چیز میں ثبات نہیں ہے بلکہ ہرچیز عارضی ہے یہاں تک کہ انسان کی زندگی جس کو وہ ہرچیز پر عزیز رکھتا ہے وہ بھی عارضی چیز ہے لیکن اگر تم پھرگئے اور خوشی و آرام کے دنوں میں اس کو بھلا دیا یا غم واندوہ کی تاریک راتوں میں اس کی رحمت سے مایوس ہو کر دل ہار بیٹھے اور بےراہ روی اختیار کرلی تو اس کا نقصان بھی تم ہی کو ہوگا ، کیوں ؟ اس لیے کہ جو نہی تم نے ایسا کیا راستہ سے تم ہٹ گئے اور تمہاری زندگی کی گاڑی پٹڑی سے اتر گئی تو پھر ریل کے پٹڑی سے اترنے سے جو کچھ ہوتا ہے سب لوگ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے پھر یاد رکھو کہ اگر تم نے ایسا کیا تو ہمارے رسول ﷺ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اس کی ذمہ داری صرف بات کو پہنچانے کی تھی ۔
Ayah 64:13اللہ تعالیٰ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اور ایمان والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے
13 ؎ زیر نظر آیت میں توحید الٰہی کا بیان ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان اور اس ذات پر بھروسہ ہی ایک مومن انسان کا طرہ امتیاز ہے۔ اس جگہ اس کے بیان کی ضرورت یہ تھی کہ اگر انسان کا اس بات پر یقین ہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں ہے جو مجھے اگر دکھ لگا تو اس کو دور کر دے اور اگر وہ حالت خوشی میں ہے تو کوئی اس کو دکھ پہنچا سکے تو وہ جس حالت و حال میں بھی ہوگا مطمئن ہوگا کہ جب میرے خالق ومالک کی رضا یہی ہے کہ میں اس حال میں رہوں تو میں نہ تو جزع فزع کرسکتا ہوں اور نہ ہی اترا کر اپنے آپے سے باہر ہو سکتا ہوں بلکہ جس حال میں وہ مجھے رکھنا چاہتا ہے میں اسی حال میں خوش ہوں ۔ خیال رہے کہ یہ بیان سچے دل سے ایمان لانے والے کا ہے کہ وہ ہر حال میں حالت ایمان پر رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ غمی اور خوشی کی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایک بار پھر سن لیں کہ یہ بیان اس رند کا نہیں جس کو ایمان اور کفر ہی میں امتیاز باقی نہ رہا اور نہ اس کے نزدیک جائز و ناجائز کی بحث اہمیت رکھتی ہے اور نہ حق اور ناحق کی پہچان ۔ ایسے لوگوں کو اسلام کی زبان میں مرفوع القلم کہا جاتا ہے یا ان کو فاتر العقل سے موسوم کرتے ہیں ۔
Ayah 64:14اہل ایمان کی رہنمائی کے لیے اس کے حقیقی دشمنوں سے اس کو آگاہ کیا جا رہا ہے
14 ؎ اللہ کی راہ چلنے والے مسافر کو راستے کے خطروں سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ تیرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں کیا کیا ہیں ؟ اور یہ بھی کہ اگر تم لوگوں نے ان بڑی بڑی رکاوٹوں کا خیال رکھا تو تمہارا راستہ آسانی سے کٹ جائے گا اور تم یقینا منزل مقصود تک پہنچ جائو گے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح دشمن خطرہ کا باعث ہوتے ہیں بالکل اسی طرح دوست بھی اللہ تعالیٰ کی راہ پر چلنے والوں کے لیے خطرہ کا باعث ہو سکتے ہیں ۔ پھر دشمنوں سے بچتا تو انسان کی فطرت میں ہے اس لیے ان کا خیال تو ہر حال رہتا ہے لیکن دوستوں کی طرف سے غفلت کے امکانات بہت زیادہ ہیں مثلاً ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا حاصل کرنے والے کے ذہن و دماغ میں بھی یہ بات آسکتی ہے کہ اگر میں نے یہ روپیہ پیسہ اس جگہ خرچ کردیا تو میری بیوی کی فرمائش پوری نہیں ہوگی اور اولاد کی ضرورتیں کس طرح پوری کروں گا اور پھر کیا ہوتا ہے کہ اس خیر کے کام سے وہ رک جاتا ہے۔ بلا شبہ بیوی ، بچوں کی ضروریات زندگی کا وہ کفیل ہے لیکن جس چیز کو فرمائش کہتے ہیں وہ ضرورت سے ایک الگ چیز ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ضروریات اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا تو فرائض میں سے ہے اور فرائض سے سبکدوشی لوازمات اسلام میں سے ہے اور ظاہر ہے کہ جس کے ارادہ میں کوئی کار خیر آیا ہے وہ ان فرائض سے نبٹنے کے بعد ہی آسکتا ہے۔ اب جو تصادم ہوا ہے تو فرمائش اور کار خیر میں ہوا ہے اس لیے اس کو دشمنی قرار دیا گیا ہے اور اس کی طرف سے چوکنا رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی چیز کے پیش نظر ہر انسان اگر اپنی زندگی کا مطالعہ کرے تو اس پر بیوی اور بچوں کی دشمنی صاف عیاں ہوجائے گی لیکن اس کی تفصیلات اتنی لمبی ہیں کہ اگر ان کو شروع کر لاب تو یہ بات بہت لمبی ہوجائے گی ، اشارات ہم نے دے دیئے ہیں اور عقل و فکر اللہ نے ہر انسان کو دی ہے بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں بھی عقل و فکر سے کام لے سکتا ہو کہ یہ زندگی انسان کی عارضی ہے اور اس کے بعد ایک دوسری زندگی ہے اس کو یقینا اس سے دو چار ہونا ہے۔ بہر حال ان کی طرف سے چوکنا اور ہوشیار کرنا مقصود تھا اور جب اپنا فرض ادا کردیا تو پھر ارشاد فرمایا کہ ان دشمنوں اور راہ کی رکاوٹوں کو اس طرح دور نہیں کیا جاسکتا کہ تم تجرد کی زندگی کو پسند کرنے لگو بلکہ تم سے کہا یہ جا رہا ہے کہ ان کی طرف سے ہوشیار رہو اور ان کی اکثر فرمائشوں سے در گزر کر جایا کرو اور ہر کام کو صلح و آتشی سے کرو اور افہام و تفہیم سے کام لو اور ان کی کھلی عداوت کے باوجود ان کے ساتھ حسن سلوک اور عفو و در گزر سے کام لیتے ہوئے وسیع القلبی کا ثبوت پیش کرو۔ ظاہر ہے کہ جب تم ایک فرمائش پوری نہیں کرو گے تو تم سے بہر حال تقاضا ہوگا اور اس معاملہ میں اپنے پیارے رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرو اور اس رہنمائی کے لیے سورة الاحزاب کا مطالعہ بہت مفید رہے گا اور خصوصاً عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة الاحزاب کی آیات 28 تا 34 کی تفسیر دیکھیں۔ زیر نظر آیت کے شان نزول اور ( تعفوا و تصفحوا) کی وضاحت میں بعض مفسرین نے بہت کچھ بیان کردیا ہے لکنل ہم ایسی بحثوں میں مبتلا ہونا پسند نہیں کرتے خصوصاً جب اس کا مطلب واضح ہے تو پھر اس میں سے پیچیدگیاں پیدا کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا سب فرضی باتیں ہیں ۔
Ayah 64:15مال و اولا کو آزمائش سمجھو اور انکے فرائض پورے کرتے ہوئے اللہ سے اجر کے طلب گار بنو
15 ؎ مال اور اولاد کی محبت انسان کی محبت میں داخل ہے بلکہ اس کو یوں کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہر حیوان کی فطرت میں اولاد کی محبت موجزن ہے اور انسان تو ایک اشرف المخلوقات ہے اور اس میں مال اور اولاد کی محبت کا ہونا لوازمات زندگی میں سے ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ جب مال و اولاد کی محبت میں ایسا وارفتہ ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں غفلت کرنے لگے اور احکام اسلام کی پابندی میں تساہل برتنے لگے۔ اسلام اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ایک پکے اور سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ( اشد حب اللہ) کا ثبوت فراہم کرے ۔ اس کی وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 165 کی تفسیر دیکھیں ۔ اولاد کی صحیح اور درست پرورش لزومات اسلام میں سے ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے بھی مال ضروری ہے لہٰذا ہر ضرورت کو اس کی حد تک رکھنا اسلام ہے ۔ ایک ضرورت کو اتنا اوپر لے جانا کہ دوسری ضرورتوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جائیں یہ وہ فتنہ ہے جس سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اولاد دی اور کوئی شخص اس اولاد کی محبت میں ایسا پھنسا کہ دوسرے حقوق کی طرف سے منہ پھیرلیا تو ظاہر ہے کہ وہ اولاد اس کے لیے فتنہ و آزمائش بن گئی ۔ یہ حقوق و فرائض کیا ہیں ؟ یہ محض انسان کی آزمائش کے لیے ہیں ، پھر ان کا خیال کس طرح رکھا جاسکتا ہے ؟ اس طرح کہ حقوق کے معاملہ میں انسان دوسروں کے حقوق کو سمجھے اور ان کو پورا کرے اور ایک کے حق کو دوسرے کے حق میں ضائع نہ کر دے مثلاً اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کا حق ہے ، والدین کا حق ہے ، اولاد کا حق ہے ، بیوی کا حق ہے ، عزیز و اقارب کا حق ہے ، معاشرے کے حقوق ہیں ۔ پہلے انسان ان سارے حقوق کو سمجھنے کی کوشش کرے پھر ان سب کو اپنے اوپر فرض سمجھ کر پورا کیا جائے اور سب حقوق الگ الگ ادا کیے جائیں ۔ کسی ایک یا دوسرے حق کو ادا کرتے ہوئے چھوڑ نہ دیا جائے یا اس میں کمی بیشی نہ ہوجائے اور پھر اس سے بھی بھڑ کر یہ کہ ان سب پر جو اس کے حقوق بنتے ہیں ان کے ساتھ اپنے حقوق کو مشروط نہ کیا جائے کہ وہ میرے حقوق ادا کریں گے تو میں ان کے کروں گا ۔ نہیں ! اس سے فساد پیدا ہو گا جو زندگی کو خراب کر دے گا اور حقوق کی ادائیگی میں غفلت ہوگی ۔ اگر اس طرح جائز اور صحیح ہوتا تو غور کرو کہ تمہاری زندگی آج کتنی اجیرن ہوتی مثلاً آج کل غور کرو کہ جو حق اللہ کے اپنے بندوں پر ہیں اس کو کون پورا کر رہا ہے ؟ بڑے غور و فکر سے آپ جواب دیں تو شاید کوئی ایک بھی آپ کی نظر میں ایسا نہ دکھائی دے پھر اگر اللہ تعالیٰ پر جو بندوں کے حقوق ہیں اگر وہ ان کو روک لے تو انجام کیا ہو ؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طرح کسی ایک انسان کے حق کو روکا ہے ؟ نہیں ! اور بلا شبہ نہیں تو اس لیے ہم نے یہ کہا کہ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے اوپر جو جو دوسروں کے حقوق ہیں ان کا خیال کرے اور ہر ممکن ان کو پورا کرنے کی کوشش کرے لیکن جو دوسروں پر اس کے حقوق نکلتے ہیں ان کا خیال نہ کرے۔ جو شخص یہ اصول اپنی زندگی پر لا گو کرتے سمجھ لو کہ بحمد اللہ زندگی کی حقیقت کو سمجھ لو ۔ بد قسمتی سے آج اہم اس معاملہ میں بہت تساہل برت رہے ہیں اور شاید ہی کوئی ہوگا جو اپنے فرائض میں میانہ روی سے کام لے رہا ہو اور ان کی ادائیگی کے لیے مستعد ہو ۔ اگر ایک طرف وہ خیال رکھتا ہے تو دوسری طرف سے غفلت ہوجاتی ہے اور اس طرح ہر طرف تجاوز ہی تجاوز ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اپنے اموال اور اپنی اولاد کے سلسلہ میں اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے انجام دو گے تو اللہ رب کریم سے تم پر مزیدفضل و احسان کی بارش ہوگی اور تمہارے اس عمل شکر گزاری کے باعث تم پر مزید انعامات کی بارش ہوگی اور تمہاری آخرت بھی یقینا سنورے گی۔