Ayah 64:16اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تمہاری استطاعت ہے سنو اور مانو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے
16 ؎ اللہ سے ڈرو اور اتنا ڈرو جتنی تمہاری استطاعت ہے اس لیے کہ سارے انسانوں میں ایک جیسی استطاعت نہیں ہوتی اس لیے سب کو نہ تو برابر ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ سب برابر ڈر سکتے ہیں ۔ اس زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا حالانکہ سورة آل عمران کی آیت 125 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اللہ سے ڈرنے کا حق ہے “ اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور جن لوگوں نے ان دونوں باتوں میں فرق سمجھا ہے اور پھر اس فرق کو اپنی طرف سے نکالنے کی کوشش کی ہے ہمارے خیال میں ان کی تفہیم ہی صحیح نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق سب کو برابر کیونکر ہوا ؟ اس لیے کہ ڈر اور خوف کا تعلق علم اور سمجھ سے ہے۔ جتنا علم و عقل ہوگی اسی کے مطابق ڈر اور خوف ۔ وہی بات جس کے متعلق زیر نظر آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ، دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے صرف الفاظ الگ الگ ہیں ایک ہی بات کو دس طریقوں سے بھی ادا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کو اختلاف کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔ اختلاف اس چیز کا نام ہے جو فی نفسہٖ بات میں اختلاف ہو جب بات ایک ہی ہے تو اس کو مختلف الفاظ میں بیان کرنے سے اختلاف کیسے ہوگیا ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سنو اور ان کو تسلیم کرو اور اپنے مشکل سے کمائے ہوئے مالوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرو ۔ چادر دیکھ کر پائوں پھیلائو اور اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کا بوجھ اٹھائو اور اس میں سے کچھ نہ کچھ غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں ، سوالیوں ، بیوائوں ، مسافروں اور دوسرے حق داروں کا بھی خیال رکھو۔ ایسا نہ کرو کہ جس طرف تمہارا جی چاہے اس طرف تو پیسے کو پانی کی طرح بہانا شروع کر دو چاہے وہ اخراجات اللہ نے آپ کے ذمہ ڈالے ہوں یا نہ ڈالے ہوں اور جس طرف تمہارا جی نہ چاہے اس طرف سے پیسے کو روک لو چاہے اللہ کا حکم اس طرف خرچ کرنے ہی کا ہو ۔ نہیں ایسا مت کرو یہ مال اللہ نے تم کو دیا اگر تم نے نجارت سے کمایا ہے تو آخرت تجارت میں بھی تم نے اصل زر بھی خرچ کیا ہے اور وہ بھی تم کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تھا۔ اگر تم نے ملازمت کی ہے تو ظاہر ہے کہ جس علم فکر کے باعث تم کو وہ ملازمت ملی ہے وہ عقل و فکر بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ چیز ہے۔ اسی طرح غور کرتے جائو اور جو بھی جائز طریقہ تمہارے پاس مال کے جمع ہونے کا ہو اس طریقہ میں اللہ رب کریم کا یقینا حصہ ہے اور وافر حصہ ہے اس لیے اس کو خرچ کرتے وقت بھی تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرو تاکہ تمہارا یہ مال تمہاری آخری کو بنا دے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو اور تم کو وہ بغیر حساب کے عطا کر دے اور یہی بات تمہارے حق میں بہتر ہے اور پھر تاکید فرمائی کہ بخل سے بچو اس لیے کہ جس شخص نے اپنے آپ کو بخل سے بچا لا لاریب اس نے فلاح دارین حاصل کرلی ۔ بخل کیا ہے ؟ اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 180 ، سورة النساء کی آیت 37 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 76 ، جلد ہشتم سورة محمد کی آیت 37 ، 38 ، جلد ہذا سورة الحدید کی آیت 24 میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 64:17اللہ کو قرض دو وہ کئی گنا بنا کر واپس تم کو ادا کرے گا ، تمہارے گناہوں کو بھی معاف فرمائے گا
17 ؎ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا ضروریات دین سے ہے جیسا کہ پیچھے سے ذکر ہوتا چلا آیا ہے اور یہ بات بھی بار بار ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال اللہ کے ذمہ قرض خیال کرو جس کا واپس دیا جانا بہت ضروری ہے اور بلا شبہ تم کو اس کا عوض واپس ملے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ جس نے گندم دی اس کو اس سے کئی گنا زیادہ کر کے گندم دے دی جائے گی اور جس نے اللہ کی راہ میں کوئی جانور دیا ہو اس کو جانور ملیں گے۔ نہیں یہ مطلب نہیں ہے بلکہ مفہوم اس کا اجر ملنے سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہے جس کا تعلق اخلاص کے ساتھ ہے جتنا اخلاص زیادہ ہوگا اجر بھی زیادہ ملے گا ۔ اخلاص اور خوشی سے اللہ تعالیٰ کے دین کو سر بلند کرنے کے لیے جو شخص اپنا مال جو جائز اور حلال طریقوں سے کمایا گیا ہوگا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے گا تو ایسے ہی ہے جیسے گویا اس نے اللہ تعالیٰ کو قرض دے دیا اور قرض دینے کا مفہوم کیا ہے ؟ اس کا مفہوم پیچھے عرض کرچکے ہیں لہٰذا اس کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 245 ، جلد سوم سورة المائدہ 125 ، جلد ہذا سورة الحدید کی آیت 11 ، 18 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ آیت کے اختتام پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ شکورو حلیم ہے یعنی بہت ہی قدر دان کہ تھوڑا سا کام جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے ، اللہ تعالیٰ بےحساب اجر اس کو عطا کردیتا ہے۔ وہ حلیم ہے اس لیے انسان جونہی گناہ کرتا ہے اسے پکڑ نہیں لیتا بلکہ اس کے حلم کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ۔ وہ معاف کرتا ہے تو کرتا ہی چلا جاتا ہے اور انسان خود ہی تشہیر شروع نہ کر دے تو وہ اس کو معافی مانگنے سے اس کو معاف فرما دیتا ہے۔
Ayah 64:18اللہ تعالیٰ ہر غیب و حاضر کو جانتا ہے ، وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے
18 ؎ غیب ہم انسانوں کی نسبت سے کہا گیا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے غیب کی کوئی بحث ہی نہیں ۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے جس چیز کو اللہ تعالیٰ کے غیب جاننے سے موسوم کیا جاتا ہے وہ محض ہم انسانوں ہی کے باعث کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے لیے غیب ہے اور اس لیے ہم اس کو غیب کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زمانو مکان ، جمع واحد اور تثنیہ ، حاضر و غائب کی ساری قیدیوں سے آزاد ہے اور کوئی اس کو جس نام سے بھی بلاتا اور پکارتا ہے وہ پکارنے والے کی ہر پکار سے واقف حال ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے مخفی نہیں ہے۔ وہ سب پر غالب ہے جس کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے ، کوئی اس کے فیصلے کو ٹال نہیں سکتا ۔ وہ ہمہ دان اور قادر مطلق ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے ۔ اس کے ہر فیصلے میں حکمت پنہاں ہے۔ وہ ان گنت صفات کا مالک ہے ۔ اللھم انت ربی لا الہ الا انت عالم الغیب والشھادۃ وانک انت العزیز الحکیم۔
انہی الفاظ پر ہم سورة التغابن کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔