62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 62:1–8

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو بادشاہ ہے ، پاک ہے ، زبردست ، حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ، ان ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجے (حضرت محمد ﷺ جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور ان کو پاک کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور دانشمندی کی باتیں سکھاتے ہیں۔ اور یہ لوگ (آپ کی بعثت سے) پہلے کھلی گمراہی میں تھے

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور ان میں سے اور (بعد میں آنے والے) لوگوں کی طرف بھی (ان کو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں) سے نہیں ملے۔ اور وہ (اللہ) غالب ، حکمت والے ہیں

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ (ایمان نصیب ہونا) اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتے ہیں عطا فرماتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں پر تورات کا بوجھ رکھا گیا پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر بہت سی کتابیں لدی ہوں۔ (غرض) ان لوگوں کی بری حالت ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ظالموں کو (توفیق) ہدایت نہیں دیا کرتے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اے یہود ! اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم بلا شرکت غیرے اللہ کے دوست ہو تو اگر تم سچے ہو تو ذرا موت کی آرزو کرو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتے ہیں

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ بلا شبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو اور یقینا تم سے آملے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر جاننے والے کے پاس لے جائے جاؤ گے۔ پھر وہ تم کو تمہارے تمام اعمال کی خبر دیں گے

آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ ذکرالٰہی۔ ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ معجزہ۔ خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت ہوئے اور بجاطور پر جہانگیر وجہاں بان وجہاں دار وجہاں آرائ ، کا مصداق بن گئے اور خود نبی لامی نے پوری انسانیت کو معرفت باری کے ساتھ ایک خوبصورت اور حقوق وفرائض کا صحیح ترین ذمہ دار نظام حیات بخشا جو اسی امی قوم کے ہاتھوں زمانے میں رائج ہوا۔ فرائض نبوت۔ وہ نبی ان پر آیات تلاوت فرماتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور نہیں کتاب اللہ کی اور حکمت کی یعنی سنت یا وہ تفسیر جو آپ نے ارشاد فرمائی کی تعلیم دیتا ہے یہ چہارگانہ فرائض نبوت ہیں اول دعوت کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق اللہ پر ایمان لانے کی دعوت جو ایمان لائے اس کا تزکیہ کرے۔ تصوف۔ ظاہری پاکیزگی ، کپڑوں اور بدن کی غذا کے حلال اور پاکیزہ رکھنے کی تعلیم اور باطنی پاکیزگی اخلاقیات و عادات اور کردار سازی اس کا قاعدہ یہ تھا کہ جو ایمان لاکر آپ کی نگاہ پاک میں آیا صحابی ہوگیا یعنی باطنی پاکیزگی پا گیا یوں کہ ، ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ ، کہ کھال سے لے کرنہال خانہ دل تک ہر ذرہ بدن اللہ کا ذاکر ہوگیا۔ یہ کیفیت جسے تزکیہ کہا گیا یہی تصوف کہلائی بلکہ تصوف تزکیہ ہی کا فارسی ترجمہ ہے کہ سب سے پہلے یہ عجمی زبان ہے جسمیں ترجمہ ہواصحابہ کی صحبت سے تابعی بن گئے تابعین کی صحبت نے تبع تابعی بنادیے مگر بعد میں وہ تیزی اور قوت نہ رہی لوگ ذکرقلبی کرتے اور برسوں ایسے حضرات کی صحبت میں بیٹھتے جن کے قلوب میں برکات نبوی کی کیفیات ہوتیں اور اپنے دل روشن کرتے جس سے ان کے اخلاق سدھرتے اور کردار میں نکھارآتا اور شریعت پر عمل کرنے میں خلوص دل بھی نصیب ہوتا مگر پھر اس میں بھی وراثت درآئی ناہل لوگ پیر بن گئے اور رسومات کا پلندہ بناکر اسے بدنام کردیامگر اس سب سے اصل کی افادیت مجروح نہیں ہوتی۔ قرآن کے مفاہیم متعین فرمانا فرائض نبوت میں سے ہے۔ اور جب ظاہری اور دلی پاکیزگی نصیب ہوئی تو انہیں کتاب کی تعلیم فرمائی اور حکمت یعنی کتاب اللہ کے مفاہیم کا شعور عطا فرمایا یعنی جس طرح الفاظ قرآن سکھائے ویسے ہی ان کے معانی ومفاہیم ارشاد فرمائے گویا قرآن کے معانی متعین کرنا فرائض نبوت میں سے ہے ہر کس وناقص اپنی پسند کے معانی پہنانے کا حق نہیں رکھتا حالن کہ یہ ایسی قوم تھی جو خود بھی اپنے حال سے نالاح تھی اور جانتی تھی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں صاف گمراہی ہے مگر حق کیا ہے انہیں خبر نہ تھی۔ بعد میں آنے والوں کا اعزاز۔ اور بعد میں آنے والے ایسے لوگ جو انہی جیسے ہوگئے ان سے مل گئے یعنی قیامت تک آنے والے وہ لوگ جو عقیدہ وعمل میں صحابہ ہی کی پیروی کریں گے وہ بھی ایسی برکات رسالت پائیں گے یہ بعد والوں کے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انہیں ایسی عظیم الشان ہستیوں کے قدموں میں جگہ ملے اور عظمت صحابہ بھی اس سے واضح ہے کہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ یہ اس کا کرم ہے اس کی مہربانی ہے اور وہ جس پر چاہے اپنا کرم کردے گویا جو بھی صحابہ کا اتباع کرلے اس نے اللہ کے فضل کو پالیا اور صحابہ نے نبی کریم کا اتباع کرکے یہ کرم حاصل کیا واقعی اللہ بہت بڑا فضل وکرم کرنے والا ہے یہ بات تو ان پڑھ لوگوں کی تھی جن کی قسمت چمک اٹھی مگر وہیں کچھ لوگ خود کو عالم وفافضل بھی سمجھتے تھے اور ان کے علم کا چرچا بھی تھا یعنی علماء یہود جن کو تورات نصیب ہوئی مگر وہ اس کے حق ادا نہ کرسکے ۔ علم کی صفت۔ علم کی صفت یہ ہے کہ انسان کا کردار علم کی روشنی میں ڈھل جائے اور اگر عمل کو متاثر نہ کرے تو وہ علم نہ ہوگامحض خبر کہہ سکتے ہیں ۔ چناچہ بڑی بڑی کتابیں پڑھنے کے باوجود ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گدھے پر بڑی بڑی کتابیں لادی گئی ہوں کہ علوم تورات کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور باوجود تورات میں سے جاننے کے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے اب اس سے زیادہ اور کیا برائی کرسکتے تھے اور اللہ ایسا بےنیاز ہے کہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں فرماتا۔ یہود کو بھی نبی کریم کی صداقت پر شک نہ تھا۔ یہ بدنصیب کہتے ہیں کہ یہ ولی اللہ یعنی اللہ کے دوست ہیں اور باقی لوگوں کی طرح نہیں ہیں تو آپ انہیں فرمائیے گا کہ اگر تمہیں اپنی آخرت کی کامیابی کا اس قدر یقین ہے تو موت کی تمنا کرکے دیکھو کہ تمہارے دعوے کی صداقت کا پتہ چلے مگر یہ ہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے انہیں یقین ہے کہ آپ کے فرمان پر تمنا کربیٹھے تو موت آجائے گی اور اپنے کرتوتوں کا بھی ان کو پتہ ہے لہذا آخرت سے ڈرتے ہیں کہ اللہ ایسے ظالموں کو جانتا ہے۔ کافر اور بدکار موت سے بہت ڈرتا ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کافر اور بدکار موت سے ڈرتا ہے اس کا تجربہ اپنے ہاں بھی ہے اور عالم کفر یامغرب میں تو اب اس ڈرنے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے کہ ہر کافر ڈرتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ کیوں ڈرتا ہے لہذا انہوں نے اس کا نام ہی ، انجاناخوف رکھ دیا ہے لیکن ان پر یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ تم جس موت سے بھاگتے ہو اپنے وقت پر آکر رہے گی اور پھر تمہیں اس اللہ کے حضور پیش ہوناپڑے گا جو تمام پوشیدہ اور ظاہر باتوں سے واقف ہے اور اس کی بارگاہ میں تمہارے سارے کاموں سے پردہ اٹھایاجائے گا۔
Ayahs 62:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز کے لئے اذان کہی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ ، نماز جمعہ) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو اور کاروبار بند کردو اگر تم علم رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز پوری ہوچکے تو زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (کاروبار کرو) اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور (بعض لوگوں کا یہ حال ہے کہ) جب سودا بکتا یا تماشا لگا ہوا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ (اس) تماشے اور تجارت سے بہت بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے اچھے رزق دینے والے ہیں

آیات 9 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان ہوجائے تو اپنا کاروبار بند کردو اور پورے اہتمام سے اللہ کے ذکر کے لیے یعنی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں پہنچو۔ جمعہ کے احکام۔ جمعہ مسلمانوں کا بہت ہی مبارک دن ہے جس میں ظہر کی نماز نہیں ہوتی بلکہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے یہ نماز عورتوں ، مریضوں اور مسافروں پر فرض نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرسکتے ہیں اور جب اذان ہوجائے تو دنیاوی کاروبار حرام ہوجاتا ہے۔ جمعہ علماء کے نزدیک ایسی آبادی جس میں دکانیں ہوں یاسرکاری دفتر ، سکول ، ڈاکخانہ ، وغیرہ ہوہوسکتی ہے تفصیل فقہ کی کتب میں دیکھی جائے ۔ چناچہ یہاں نماز کی ادائیگی اور اس کے ارکان و شرائط سب کو ذکر اللہ سے تعبیر فرمایا کہ اس میں زبانی اور عملی ذکر دونوں شامل ہیں اور خلوص قلبی بھی ضروری کہ اگر تمہیں خبر ہے تویہی کام تمہارے لیے سب سے بہتر ہے پھر جب خطبہ اور نماز مکمل کرچکو تو اپنے اپنے کام پر چلے جاؤ اور اپنی روزی کی تلاش میں لگ جاؤ۔ ذکرقلبی۔ لیکن کام کاج کرتے ہوئے بھی اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو کام کام میں تو انسان کی زبان بھی مصروف ہوجاتی ہے ذکر کثیر تب ہی ممکن ہے جب قلب ذاکر ہوجائے اللہ کریم سب مسلمانوں کو نصیب کرے لیکن اگر یہ نعمت نصیب نہ ہو تو بھی کوئی نہ کوئی تسبیح ممکن حد تک کی جانی چاہیے ، ابتداء میں نماز کے بعد خطبہ ہوتا تھا ایک روز ایک تجارتی قافلہ مدینہ منورہ آیا اور اشیاء صرف کی کمی تھی کچھ لوگ خطبے کے دوران چلے گئے ان کا خیال تھا کہ نماز تو ہوچکی مگر اللہ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ دو خطبے بھی دو رکعت کے قائم مقام ہیں اس کے بعد آپ نے خطبہ نماز سے پہلے کردیا جو تاحال ایسا ہی ہے تو ارشاد ہوا کہ لوگوں نے تجارتی قافلے کا سنا اور چلے گئے جبکہ آپ کھڑے تھے ، اور خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو انہیں فرمادیجئے کہ اللہ کے انعامات مادی تجارت سے بہت زیادہ قیمتی ہیں اور رہی بات روزی کی اللہ ہی بہترین روزی دینے والا ہے لہذا روزی کے لیے عبادات میں تیزی اور عجلت نہ کی جائے بلکہ پوری دل جمعی سے ارکان ادا کیے جائیں۔