62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 62:1–8

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور ان میں سے اور لوگوں کی طرف بھی (انکو بھیجا ہے) جو ابھی ان (مسلمانوں سے) نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا انکی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے یہود ! اگر تم کو یہ دعوے ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور یہ ان (اعمال) کے سبب جو کرچکے ہیں ہرگز اسکی آرزو نہیں کریں گے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آکر رہے گی پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

سورة الجمعۃ : تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے کہ وہی ہے بادشاہ پاک ذات زبردست حکمتوں والا جس کی پاکی و عظمت اور بادشاہت پر کائنات کی ہر چیز گواہ ہے وہی پروردگار ہے جس نے بھیجا ہے ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں کا جو سناتا ہے ان کو اپنے پروردگار کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے ہر عیب وگندگی سے اور سکھاتا ہے ان کو کتاب و حکمت اگرچہ یہ اہل عرب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ وہ قوم جس میں نہ کوئی علم وہنر تھا اور نہ انمیں کوئی آسمانی کتاب تھی معمولی لکھنا پڑھا بھی بہت ہی کم لوگ جانتے تھے جن کی وحشت وجہالت تاریخ میں ضرب المثل تھی، بت پرستی عام تھی، مخلوق کا اپنے خالق سے کوئی رشتہ اور رابتہ باقی نہ رہا تھا، ایسی حالت میں اللہ رب العزت کا ایسی قوم میں اپنا ایک رسول مبعوث فرما دینا جو ان کو اللہ کی آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے، ایسی دانائی کی باتیں بتائے، جن پر دنیا کے حکماء حیران ہوں وہ علوم ومعارف سکھائے کہ دنیا کے ارباب حکمت اور اصحاب معرفت کی اس کے سامنے کوئی حقیقت باقی نہ رہے بلاشبہ پروردگار عالم کا بڑا ہی عظیم انعام ہے اور اس پر پروردگار نے اس رسول کو بھیجا ہے کچھ اور دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہیں میں سے جو ابھی تک ان کے ساتھ ملے نہیں کہ وہ بھی اہل عرب کی طرح امی (ان پڑھ) ہیں اس لحاظ سے کہ وہ بھی ان کی طرح مبداء ومعاد سے بیخبر ہیں نہ ان کو آسمانی شریعت کا کوئی علم ہے، یہ فارس وروم چین اور ہندوستان کی قومیں جو بعد میں امیین کے دین اور اسلامی برادری میں شامل ہو کر انہی میں سے ہوگئے اور اس وقت جب کہ قرآن نازل ہوتا تھا اہل عرب کے ساتھ یہ ملے نہیں تھے، اور نہ فتوحات اسلام کا دائرہ ان تک وسیع ہوا تھا۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے (آیت) ” واخرین منھم “۔ کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کے شانہ پر ہاتھ مار کر فرمایا اگر علم دین ثریا پر بھی پہنچے تو اس کی قوم فارس کا ایک مراد وہاں سے دین لے آئے گا شیخ جلال الدین سیوطی (رح) اور ایمہ حدیث و تفسیر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے اعلی اور اکمل مصداق حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت (رح) ہیں۔ امام بخاری (رح) نے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت صحیح بخاری میں تخریج کی ہے فرمایا ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ پر سورة جمعہ نازل ہوئی، (آپ ﷺ نے جب یہ سورت تلاوت کی اور اس میں یہ پڑھا (آیت) ” واخرین منھم لما یلحقوا بھم “ تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں، آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا حتی کہ جب تین مرتبہ سوال کیا جاچکا اور اس وقت ہمارے درمیان سلمان فارسی ؓ موجود تھے تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک سلمان فارسی ؓ پر رکھا اور پھر یہ فرمایا۔ لوکان الایمان عند الثریا لنالہ رجال اور جل من ھؤلا ئ کہ اگر ایمان ثریا تک بھی پہنچ جائے تو انکی نسل کے لوگ یا یہ فرمایا ان کی نسل کا کوئی شخص ایمان لاکر وہاں سے بھی لے آئے گا، بیشک یہ اللہ کا فضل ہے جس کو وہ چاہے عطا کردے اور اللہ بڑا ہی عظیم فضل والا ہے، اسی نے اپنے رسول آخر الزمان ﷺ کو یہ بڑائی عطا فرمائی کہ خاتم الانبیاء والمرسلین بنایا اور ان کو ایسی حکمت سے نوازا کہ دنیا کے حکماء ان اسراروحکم کے سامنے حیران ہیں اور علم وہدایت کا وہ نور روشن ہوا کہ دنیا سے شرک وگمراہی کی تاریکی دور کردی اس لیے دنیا کو چاہئے کہ اس انعام واکرام کو پہچانے اور حضور اکرم ﷺ کے علوم وہدایات سے مستفید ہوعلوم وہدایات سے مستفیض ہونا انسانی کمال ہے، اس کے برعکس اگر کسی قوم کے پاس سامان اور ذخیرۂ علم وہدایت تو موجود ہو لیکن وہ اس سے استفادہ نہ کرے جیسے یہود تو ان کو بس اس طرح سمجھ لینا چاہئے، مثال ان لوگوں کی جن پر تورات لادی گئی لیکن پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا تو ایک گدھے کی طرح ہے جو پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے چل رہا ہو۔ جس کو ظاہر ہے کہ کوئی احساس نہیں کہ اس پر بوجھ کس چیز کا ہے یہ علوم و حکمت کے گرانقدر ذخائر ہیں اور اسفار ہیں یا اینٹ پتھر ہیں بالکل یہود نے یہی صورت کی ان پر تورات کا بوجھ رکھا گیا، اس کے ذمے دار بنائے گئے مگر انہوں نے ان علوم وہدایات کی کوئی پرواہ نہ کی نہ اس کو دل میں کوئی جگہ دی نہ اس کو پڑھا نہ اس پر عمل کیا تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان علوم وہدایات کے ذخیروں اور آسمانی صحیفوں کا ان پر بوجھ یقیناً ایسا ہی ہے کہ یہ کتابوں کا انبار کسی گدھے پر لدا ہوا ہے۔ نہ محقق بود نہ دانش مند چارپائے بروکتابے چند۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں۔ ” ایک گدھے پر پچاس کتابیں علم و حکمت کی لاد دو ، اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے اس بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدے ہوئے ہیں یا خزف و سنگریزے، اگر محض اسی پر فخر کرنے لگے کہ دیکھومیری پیٹھ پر کیسی کیسی عمدہ اور قیمتی کتابیں لدی ہوئی ہیں لہذا میں بہت بڑا عالم اور معزز ہوں تو اور زیادہ گدھا پن ہے “۔ اس مثال سے یہود کی اخلاقی اور عملی بہیودگی ظاہر فرمانے کے بعد فرمایا۔ بہت ہی بری ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی باتوں کو جھٹلایا اور جو بشارتیں ونشانیاں نبی آخر الزمان ﷺ کی کتب سماویہ میں تھیں ان کا انکار کیا اور تحریفات سے ان تمام حقائق کو مسخ کیا جو اللہ نے ان کو عطا کئے تھے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ہے ایسے ناانصاف ظالم لوگوں کو اس لیے اب یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ایسے بدبخت راہ حق پر آسکیں گے، شقاوت وبدبختی کی یہ انتہا ہے کہ یہودی ایک طرف اللہ اور اس کے احکام کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کررہے ہیں، انکار آیات، تحریف کتاب، اپنے رسول کی نافرمانی انکا طرز زندگی بنا ہوا ہو، اسی کے ساتھ دوسری طرف دعوی ہو خدا کی محبت کا اور اس کے محبوب بندے ہونے کا تو اس پر حق تعالیٰ اپنے پیغمبر کو خطاب فرما رہے ہیں کہہ دیجئے اے پیغمبر، اے لوگو ! جو یہودی ہوگئے ہو اگر تم کو دعوے ہے کہ تم اللہ کے محبوب اور اس کے دوست ہو دوسرے تمام لوگوں کو چھوڑ کر تو تمنا کرو تم موت کی اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو، اس لیے کہ اللہ کی ملاقات کا ذریعہ تو بس یہی ہے کہ انسان دنیا سے گزر جائے تو ایسی صورت میں کہ کسی کو خدا سے محبت ہو وہ یقیناً خدا سے ملاقات کا مشتاق ہوگا اور جب اس شوق کی تکمیل حیات دنیوی کا رشتہ منقطع ہونے کی صورت میں ہے تو لامحالہ یہ بھی محبوب ہوگی لیکن یہ لوگ قطعا جھوٹے ہیں اور ہرگز کبھی بھی یہ موت کی تمنا نہیں کریں گے ان اعمال کی وجہ سے جو پہلے کرچکے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو اور وہ ظالم اپنے ظلم کی سزا سے کبھی نہیں بچ سکتے ، بلاشبہ جن لوگوں کو اللہ سے محبت تھی انہوں نے موت کی تمنا کرکے دکھائی بلکہ موت کی طرف بڑھے اور جس طرح کسی مرغوب ومحبوب شئے کی طرف انسان دوڑتا ہو وہ دوڑے کسی کی زبان سے غیراختیاری طور پر یہ الفاظ جاری ہوئے واھا انی لاجد ریح الجنۃ دون احد “۔ سبحان اللہ مجھے تو احد پہاڑ کے اس طرف جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ یہ ہستیاں نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ورفقاء تھے کسی کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے، غدا نلقی الاحبۃ محمد وحزیہ یا حبذا الجنۃ واقترابھا، طیبۃ وبارد شرابھا۔ ان اولیاء اللہ کے یہ کلمات کسی دنیوی سختی اور تکلیف سے گھبراکر نہیں بلکہ خالص اللہ کی ملاقات اور جنت کے اشتیاق میں تھے اور اسی کے لیے موت کی تمنا تھی، ان کی زندگی اور زندگی کے جملہ احوال اس بات کے گواہ تھے کہ موت سے زیادہ ان کو دنیا کی کوئی چیز لذیذ اور مرغوب نہیں خود حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان انی لودوت انی اقتل فی سبیل اللہ ثم احی ثم اقتل اسی جذبہ کا پیکر تھا اس کے بالمقابل ان جھوٹے مدعیوں کے افعال وحرکات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک شخص یہ سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ ان سے زیادہ کوئی شخص دنیا کی زندگی کا حریص اور موت سے ڈرنے والا نہیں ہے مگر زندگی کی حرص اور موت کے ڈرنے کیا انسان موت سے بچ سکتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں تو کہہ دیجئے اے یہودیو ! بیشک وہ موت جس سے تم بھاگ رہے ہو وہ ضرور تم سے ملاقات کرے گی اور پھر لوٹائے جاؤگے ایسے رب کی طرف جو ہر چھپے ہوئے اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تم کو خوب جتلا دے گا وہ کام جو تم کیا کرتے تھے اور اس کا امکان نہ رہے گا کہ تم اس سے انکار یا اس میں حجت بازی کرسکو، ائمہ مفسرین نے بیان فرمایا ہے کہ (آیت) ” فتمنوا الموت ان کنتم صدقین “ ان یہودیوں کے کاذب ہونے کی واضح دلیل ہے کیونکہ اس اعلان کے بعد اگر ان میں ذرہ برابر بھی صداقت ہوتی تو ضرور وہ موت کی تمنا کرکے دیکھاتے لیکن ایسانہ ہوا۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت بیان کی ہے کہ ابن عباس ؓ بیان کرتے تھے کہ (مکہ زندگی کے زمانہ میں) ابوجہل نے (ایک دفعہ) کہا تھا اگر اب میں محمد ﷺ کو دیکھوں کہ وہ کعبہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں تو (العیاذ باللہ) میں ان کی گردن روند ڈالوں گا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ بدبخت ایسا کرتا تو (خدا کی قسم) فرشتے اس کو اچک لیتے اور ٹکڑے کرڈالتے، اور اگر یہود (اس اعلان خداوندی کو سنکر) موت کی تمنا کربیٹھتے تو اسی وقت سب کے سب لقمہ اجل بن جاتے اور جہنم میں ان کے جو ٹھکانے ہیں وہ دیکھ لیتے اور فرمایا اگر وہ نصاری جن کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر مباہلہ کے لیے نکل آتے تو ان کے اہل و عیال اور مال ومتاع کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا۔ (رواہ البخاری والترمذی والنسائی، بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج 4) حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت سے نکالنے جانے کی حکمت : حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرۂ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت سے نکالے جانے کی حکمت بیان کرتے ہوئے اپنے ایک وعظ میں فرماتے ہیں، ” جمعہ کی فضیلت کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے فیہ ولد ادم وفیہ ادخل الجنۃ وفیہ ھبط الاالارض۔ اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ ہبوط الی الارض میں کون سی نعمت ہے جو اس کو دلائل فضیلت میں ذکر فرمایا یہ تو بظاہر نہایت درجہ تکلیف ہے تو اس شبہ کا جواب عارفین سے پوچھئے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب (رح) فرماتے تھے کہ بھائی اگر آدم (علیہ السلام) جنت سے نہ نکلتے تو ان کی اولاد میں سے کوئی نکلتا کیونکہ جو ممانعت ان کو ہوئی تھی وہی ممانعت ان کی اولاد کو بھی ہوتی اور یہ ظاہر ہے کہ ان ممانعت کے خلاف بہت لوگ کرتے نتیجہ یہ ہوتا کہ نکالے جاتے اور اخراج ایسی حالت میں ہوتا کہ جنت خود آباد ہوتی وہاں اس کے ماں باپ، بھائی بیٹے بیوی سبھی ہوتے ان سب سے علیحدہ کرکے اس کو دنیا میں بھیجا جاتا تو جنت میں ایک کہرام مچ جاتا تو وہ جنت مثل دوزخ ہوجاتی، اس لیے اللہ میاں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو وہاں سے زمین پر اتارا تاکہ یہ اولاد زمین پر پیدا ہو۔ یہ مصلحت تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کے حق میں ہے کہ جنت میں تکلیف ہونے سے بچا لیا، باقی حضرت آدم (علیہ السلام) کے حق میں جو حکمت تھی اس کو حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عارفوں کے لیے بہت بڑی نعمت معرفت ہے اور معرفت کی دو قسمیں ہیں ایک علمی اور ایک عینی، معرفت علمی تو یہ ہے کہ صفات کمال اور اس کے آثار کا علم ہوجائے اور معرفت عینی یہ ہے کہ اس صفت کے اثر کا مشاہدہ ہوجائے تو اس وقت آدم (علیہ السلام) کو معرفت علمی تو حاصل تھی لیکن معرفت عینی صرف بعض صفات کی حاصل تھی جیسے کہ منعم کہ اس صفت کا اس وقت مشاہدہ ہورہا تھا لیکن بعض صفات کا مشاہدہ اس وقت نہ تھا مثلا ” تواب “ کہ اس صفت کی معرفت علمی تو حاصل تھی باقی معرفت عینی حاصل نہ تھی اور معرفت عینی افضل ہے معرفت علمی سے تو جنت سے علیحدہ کرکے خدا تعالیٰ کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی تکمیل عرفان مقصود تھی، پس یہ اخراج حقیقت میں عقوبت نہ تھی بلکہ تکمیل تھی اور بعض قرائن سے آدم (علیہ السلام) کو اس کا کچھ پتہ بھی چل گیا تھا چناچہ ایک حدیث ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کی ناک میں روح داخل ہوئی تو آپ کو چھینک آئی۔ ارشاد ہوا کہو ” الحمد للہ “ اور فرشتوں کو حکم ہوا کہو ” یرحمک اللہ “ تو بعض روایات میں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) روئے اور کہا دعائے رحمت حضور ﷺ کو جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اتنا بخار چڑھا تھا جتنا دو آدمیوں کو چڑھتا ہے چونکہ جس اسم کا یہ مظہر ہے اس کی معرفت حضور ﷺ کو علی وجہ الکمال عطا فرمائی تھی۔ (النور ص 23)
Ayahs 62:9–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

مومنو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ سوا یکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو اکثر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے

ترغیب اہل ایمان برائے اقامۃ جمعہ وتاکید سعی الی ذکر اللہ وترک بیع وشراء براذان :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... واللہ خیر الرزقین “۔ (ربط) ماقبل آیات میں یہود پر تین طرح زجروتوبیخ کی گئی تھی (1) اول جب انہوں نے اپنے علم وفضل پر فخر کیا عرب اور آنحضرت ﷺ کو قوم جاہل کہا تو اس کے بالمقابل یہ ثابت کیا گیا کہ خود یہ لوگ گدھے ہیں او جس علم وفضل پر یہ اترا رہے ہیں اس کا بوجھ ان پر حرف بالکل ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابوں کا انبار لداہو اہو۔ (2) جب انہوں نے یہ فخر کیا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس وجہ سے ہم خدا تعالیٰ سے زیادہ قریب ہیں بلکہ اس کے دوست اور محبوب ہیں اور یہ کہ دارآخرت کی ساری نعمتیں بس ہمارے واسطے مخصوص ہیں، تو ان کے اس لغو اور خلاف حقیقت دعوے کا رد اس طرح کیا گیا کہ اچھا اگر تم اللہ کے دوست ہو اور آخرت کی نعمتیں بس تمہارے ہی واسطے مخصوص ہیں تو موت کی تمنا کرکے دکھاؤ اگر سچے ہو گے تو بلاجھجک موت کی تمنا کروگے، مگر ایسا نہ ہوا۔ (3) تیسری بات یہ تھی کہ وہ فخر کرتے تھے کہ ہمارے دین میں یوم السبت (ہفتہ کا دن) ہے، جس کی تعظیم و حرمت ہم پر واجب ہے اور اس میں بڑی برکات ہیں مسلمانوں کے پاس یہ نعمت نہیں تو اس تفاخر کے مقابلہ میں یوم جمعہ کی فضیلت اور اس کی عظمت واہمیت کے لیے یہ آیات و احکام نازل فرمائے گئے اور یہ بتایا کہ جمعہ کا دن اہل کتاب کے سینچر اور اتوار کے دن سے زیادہ عظمت و برکت والا ہے تو ارشاد فرمایا، اے ایمان والو، جب اذان دی جائے نماز کے لیے جمعہ کے روز تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف اور چھوڑ دو خرید وفروخت یہی بہتر ہے تمہارے واسطے اگر تم اس بات کو سمجھو، کیونکہ دنیوی منافع کی آخرت کے اجروثواب کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں تو اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر اس کے بعد عملا اس امر کی ضرورت ہے کہ ادنی کے مقابلہ میں اعلی کو اختیار کرے پھر جب نماز پوری کرلی جائے تو پھیل پڑو زمین میں اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے ہوئے اور اس کے واسطے چلو پھرو، اور تلاش کرو اللہ کا فضل اور اس کا رزق اور یاد کرو اللہ کو کثرت سے امید ہے تم کامیاب ہوگے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس کے برعکس اگر دنیا کی محبت اور کاروبار کی منفعت کی امید میں تم اللہ کے ذکر اور جمعہ کے خطبہ و حاضری کو چھوڑو گے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس میں دنیا وآخرت کا خسارہ ہے، ابتدا جن افراد سے اس طرح کی چوک اور غلطی ہوئی کہ اور جب انہوں نے دیکھا تجارت کو کہ ایک تجارتی قافلہ غلہ لے کر آیا ہے یا کچھ تماشا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو چھوڑ دیا کھڑا ہوا خطبہ کی حالت میں اس وقت میں غلہ کی کمی تھی اور یہ حکم معلوم نہ تھا یا نازل نہیں ہوا تھا کہ خطبہ سننا لازم ہے لوگ نقارہ کی آواز سن کر دوڑ پڑے اور آپ کو خطبہ کی حالت میں کھڑا چھوڑ گئے، تو یہ ایک قسم کی چوک اور غلطی تھی تو آپ کہہ دیجئے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے تماشے سے اور تجارت سے اور اللہ تو بہت ہی بہتر ہے روزی دینے والا، جب رزق اسی کے ہاتھ میں ہے تو تلاش رزق کے ظاہری اسباب میں اس طرح مشغول ہوجانا کہ خدا سے اور اس کی یاد سے اور اس کی عبادت و بندگی سے انسان غافل ہوجائے کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ روایات میں ہے ایک روز آنحضرت ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اسی وقت باہر سے کوئی تجارتی قافلہ آپہنچا اس زمانہ کے دستور کے مطابق بازار کے لوگوں نے نقارہ بجا دیا اس زمانہ میں اتفاق یہ کہ شہر میں غلہ کی کمی تھی اور خطبہ کے احکام بھی معلوم نہ تھے یہ خیال کیا کہ جیسے کسی وعظ ونصیحت کے دوران کسی ضرورت سے اٹھ کر چلے جانے کی گنجائش ہے اسی طرح اس وقت بھی ہم کو اس کی گنجائش ہوگی بعض اقوال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابتداء میں خطبہ بعد نماز کے ہوتا تھا جیسے کہ عیدین کا خطبہ تو اکثر لوگ مسجد سے باہر نکل گئے اور صرف چند لوگ رہ گئے اور آنحضرت ﷺ کھڑے خطبہ دیتے رہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ آدمی رہ گئے جن میں خلفائے راشدین تھے اس پر آیت نازل ہوئی جس میں اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی گئی کہ انسان اسباب رزق میں یا کھیل تماشا میں ایسا منہمک نہ ہو کہ خدا کو بھلا دے اس کو سمجھنا چاہئے کہ اصل رزق کے خزانے تو اللہ کے قبضے میں ہیں اسی کی رضاء سے سب کچھ ملتا ہے اس لیے قحط یا عارضی مشقت کے خیال سے ایسی غفلت اور غلطی نہ اختیار کرنی چاہئے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بالفرض اگر اس وقت دکانیں بند کرنے اور تجارتی لین دین روک دینے سے کچھ نقصان ہورہا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس کے بالمقابل اللہ کے یہاں کی جو نعمتیں حاصل ہونگی وہ اس عارضی اور قلیل و حقیر منفعت سے بہت زائد اور بڑھ کر ہے۔ اسی چیز کے باعث اللہ رب العزت نے اپنے ان برگزیدہ بندوں کی تعریف فرمائی جن کو تجارتی کاروبار اللہ کی یاد سے کسی بھی مرحلہ پر غافل نہیں بناتے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے، (آیت) ” رجال لاتلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ واقام الصلوۃ “۔ روایات میں ہے کہ ایک دفعہ عمر فاروق ؓ بازار میں گشت لگار ہے تھے کہ مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی، جوں ہی اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی دیکھا کہ دکاندار اور تاجر اپنی دکانوں اور تجارتی دھندوں کو چھوڑ کو مسجد کی طرف جلدی جلدی جانے لگے، فاروق اعظم ؓ نے ان کو ایک نظر سے دیکھا اور فرمایا سچ ہے اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ (آیت) ” رجال لاتلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ واقام الصلوۃ “۔ تخلیق کائنات میں یوم جمعہ کی عظمت وخصوصیت اور امت محمدیہ ﷺ کی فضیلت : یوم جمعہ قدیم تاریخ قبل از اسلام میں یوم العروبہ کہلاتا تھا، اسلام نے اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھا، یہ لفظ جمع سے مشتق ہے اس دن میں متعدد وجوہ سے جمعیت کا مفہوم پایا جاتا ہے اس کی وجہ تسمیہ میں آنحضرت ﷺ سے یہ بھی نقل کیا گیا فرمایا کہ ان فیہ جمعت طینۃ ابیکم آدم، یعنی اس روز تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی مٹی روئے زمین کے مختلف طبقوں کی جمع کی گئی یہ بھی وجہ ہوسکتی ہے، کائنات کی تخلیق جو چھ روز میں ہوئی اسی پر مکمل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے سلمان ؓ سے پوچھا یا سلمان ما یوم الجمعۃ “ کے اے سلمان یوم جمعہ کیا ہے کہ انہوں نے کہا اللہ ورسولہ اعلم “ ، آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں اللہ نے تمہارے ماں باپ (آدم وحوا) کو جمع فرمایا، (جبکہ ان کو زمین پر اتار دیا گیا تھا) ایک حدیث میں ہے ”، وفیہ خلق ادم وفیہ ادخل الجنۃ وفیہ اخرج منھا وفیہ تقوم الساعۃ، وفیہ ساعۃ لایوافقھا عبد مومن یسال اللہ خیرا الا اعطاہ ایاہ، کہ اسی دن ان کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تاکہ خلافۃ اللہ فی الارض کا عظیم منصب عطا ہو اور اس ارادۂ الہیہ کی تکمیل ہو جس کا اظہار ملائکہ کے سامنے فرمایا گیا تھا (آیت) ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ “ اور اسی منصب کی عظمت ومنزلت کے ظاہر کرنے لیے ملائکہ کو آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدہ کا حکم دیا گیا الغرض اس طرح جنت سے زمین پر اترنا بھی ایک بڑی عظمت ومنقبت کی تکمیل تھی جو جمعہ کے روز ہوئی اور فرمایا اسی روز قیامت قائم ہوگی اور اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں مومن بندہ جو کچھ بھی اللہ سے مانگے اللہ اس کو ضرور عطا کرتا ہے، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : نحن الاخرون السابقون یوم القیمۃ بیدانھم اوتو الکتب من قبلنا ثم ھذا ایومھم الذی فرض اللہ علیہم فاختلفوا فیہ نھدانا اللہ لہ فالناس لنا فیہ تبع الیھود غدا والنصاری بعد غد۔ 1 حاشیہ (صحیح بخاری، وفی روایۃ المسلم فاضل اللہ عن الجمعۃ من کان قبلنا۔ الخ۔ 12) کہ ہم لوگ دنیا میں آنے والوں میں آخر ہیں لیکن قیامت کے روز ہم ہی سابقین ہیں بس فرق یہی ہے کہ انکو کتاب ہم سے پہلے دی گئی تو اس سبقت کی وجہ سے یہ نہیں ہوگا وہ قیامت کے روز بھی ہم سے سابق ہوں قیامت میں سبقت حاصل کرنے والے ہم ہی ہوں گے پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ جمعہ کا دن وہ تھا کہ اللہ نے ان پر بھی فرض کیا تھا (کہ اس کو خاص عظمت اور عبادت کے لیے مخصوص کرلو) لیکن وہ اس بارے میں مختلف رہے (اور بھٹکتے رہے) تو اب اور لوگ (اہل کتاب میں سے) ہمارے پیچھے ہیں، یہودیوں کا دن کل ہے یعنی سنیچر اور نصاری کا دن آئندہ کل کے بعد یعنی اتوار کہ ان دونوں کو یہود ونصاری نے تعظیم اور خاص عبادت کے لئے مقرر کیا۔ یہود ونصاری کے اختلاف کی مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے انکے واسطے بھی یہ دن مقرر کیا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے اختلاف کرتے ہوئے کسی نے یوم السبت متعین کیا کسی نے یوم الاحد یعنی اتوار یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے یہ توفیق بخشی کہ ہم نے اس کے حکم کے مطابق جمعہ مقرر کیا۔ یا بقول بعض شارحین مراد یہ ہے کہ ہفتہ کے سات دنوں میں ایک دن خاص عبادت وتعظیم کے لیے اللہ نے اپنے علم میں رکھا تھا جب اہل کتاب کو حکم ہوا کہ ایک دن متعین کرو تو یہود ونصاری بھٹکتے ہی رہے اور مبارک دن نہ ملے کرسکے لیکن اللہ نے امت محمدیہ ﷺ کو یہ توفیق دی کہ انہوں نے خود اپنے باطنی تقاضوں اور قلبی داعیہ سے جو دن خاص اجتماع اور عبادت کا تجویز کیا وہ جمعہ کا دن تھا تو ان کا انتخاب اللہ کے ارادہ اور مشیت کے مطابق ہوگیا اور یہ سب کچھ حضور اکرم ﷺ کی ذات سراپا برکت کی بدولت ہوا۔ مصنف عبدالرزاق میں اسناد صحیح کے ساتھ محمد بن سیرین (رح) سے نقل کیا گیا، فرمایا (بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد جب مدینہ میں اسلام پھیل چکا تو) انصار نے آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے قبل اور جمعہ کے نازل ہونے سے پہلے ایک دفعہ جمع ہوکرمشورہ کیا اس مشورہ میں یہ بات رکھی گئی۔ یہودیوں نے ایک دن خاص اجتماع کا مقرر کیا ہوا ہے وہ اس میں جمع ہو کر اپنی عبادت کرتے ہیں، نصاری نے بھی اسی طرح ہفتہ میں ایک دن اپنی عبادت وتعظیم کا مقرر کیا ہوا ہے تو ہمیں بھی چاہئے کہ ایک دن ہم بھی متعین کرلیں جس میں جمع ہوا کریں، اللہ کا ذکر کریں، اس کی حمد وثناء کرین اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور نماز پڑھیں تو اس کے واسطے سب نے یوم العروبہ یعنی جمعہ مقرر کیا اور سب انصار جمع ہو کر اسعد بن زراہ ؓ کے پاس پہنچے انہوں نے جمعہ کے روز سب انصار کو نماز پڑھائی اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں۔ (آیت) ” اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ “۔ الخ۔ ابن خزیمہ (رح) ودیگرائمہ محدثین نے کعب بن مالک ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے قبل سب سے پہلے جس نے ہمیں جمعہ پڑھایا وہ اسعد بن زرارہ ؓ ہیں۔ یوم جمعہ کی خصوصیات میں حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا کہ اس دن آدم (علیہ السلام) کی مٹی جمع کی گئی اور ان کو پیدا کیا گیا پھر یہ فرمانا کہ اسی دن قیامت قائم ہوگی، اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ یوم جمعہ درحقیقت انسان کو اس کا مبداء ومعاد یاد دلانے والا دن ہے اس دن اس کو چاہئے کہ اپنے مبداء پر غور کرے اور پھر یہ کہ قیامت میں پھر مبعوث ہونا ہے اور اس طرح اس کی فکر اور تیاری کا قلب میں تقاضا پیدا کرے اور یہ سمجھے کہ جس طرح اللہ رب العزت نے روئے زمین کے اجزاء بدنیہ خواہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی حالت میں ہوں ہر حالت سے ان کو یکجا جمع کرے گا اور جملہ ارواح اپنے ابدان کے ساتھ جمع ہوجائیں گی، پھر ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال وافعال جمع ہوں گے غرض اجتماعیت کی یہ تکوینی نوعیت یوم جمعہ کے ساتھ وابستہ کردی گئی پھر یہ کہ اس دن ایک شہر کے سب مسلمان بھی یک جا جمع ہو کر نماز ادا کررہے ہیں تو ان جملہ وجوہ سے اجتماعیت اس دن کے ساتھ ظاہر ہورہی ہے۔ ابوہریرہ ؓ ۔ (صحیح مسلم جلد 1) بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر اللہ کا یہ حق ہے یہ ہر سات روز میں ایک دن (یوم جمعہ) غسل کرے اپنے بدن اور سر کو خوب دھوئے جمعہ کی عظمت وفٗضیلت میں حضور اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ جمعہ کی نماز ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اوس بن اوس الثقفی ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس شخص نے جمعہ کے روز غسل خوب نظافت وصفائی سے کیا اور صبح جلدی ہی مسجد کے لیے روانہ ہوا اور اول وقت ہی پہنچ گیا اور پیدل چلا کسی سواری پر سوار ہو کر نہیں چلا اور امام کے قریب بیٹھا اور اس کا خطبہ توجہ سے سنا کوئی لغو کام نہیں کیا تو اس شخص کے لیے ہر قدم پر جو اس نے اٹھایا ہے ایک سال کے روزوں اور قیام اللیل کا اجر ہے۔ 1 حاشیہ (ائمہ محدثین نے سنن میں اس روایت کو بیان کیا ہے اور امام ترمذی نے اس کو حدیث حسن فرمایا، واللہ اعلم بالصواب۔ 12) اسی طرح دیگر احادیث میں فضائل جمعہ متعدد وجوہ سے ذکر فرمائے گئے، (کتب احادیث کی مراجعت فرمالی جائے) (آیت) ” اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ “۔ کی تفسیر میں زہری (رح) سے منقول ہے بیان کرتے ہیں کہ سائب بن یزید ؓ نے فرمایا جمعہ کے روز پہلی اذان آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس وقت ہوتی تھی، جب امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتا یہی دستور ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں رہا جب عثمان غنی ؓ کا دور خلافت آیا اور فتوحات کی وجہ سے مسلمانوں کی تعداد بہت زائد ہوگئی تھی تو عثمان غنی ؓ نے مقام زوراء پر ایک اذان کا اضافہ فرمایا (جو خطبہ کی اذان سے پہلے ہوتی ہے) تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ حرمت بیع کا جو حکم اذان جمعہ پر نازل ہوا تھا اب وہ اسی اذان پر ہوگا جو قبل از خطبہ ہوتی ہے اور اس کو حضرت عثمان ؓ نے اضافہ فرمایا کیونکہ (آیت) ” اذا نودی “ ، کا عموم اور اطلاق چاہتا ہے کہ نفس نداء جمعہ پر حرمت بیع کا حکم مرتب ہو، حضرات صحابہ ابتداء میں خود ہی اس قدر جلد مسجد میں آجاتے تھے کہ اذان خطبہ ان کی موجودگی میں ہوتی، لیکن جب مسلمانوں کی کثرت ہوگئی اور تجارتی کا روبار کی وسعت ہوگئی تو اندیشہ تھا کہ اذان خطبہ سن کر لوگ گھروں سے نکلیں گے یا دکانیں بند کریں گے تو خطبہ فوت ہوجائے گا جس کا سننا ضروری ہے اس وجہ سے ایک اذان کا اضافہ کیا گیا تاکہ خطبہ شروع ہونے سے قبل لوگ مسجد میں پہنچ جائیں اور (آیت) ” فاسعوا الی ذکر اللہ “ میں لفظ الی (جو غایت کے معنی پر دلالت کرتا ہے) خود اس مفہوم کی تعیین کررہا ہے کہ سعی اور جمعہ کی تیاری ذکر اللہ تک پوری ہونی چاہئے اور وہ ظاہر ہے اس صورت میں ممکن ہے کہ خطبہ سے قبل ایک اذان کے ذریعے لوگوں کو بلایا جائے، گویا حضرت عثمان غنی ؓ کا اس اذان کا اضافہ کرنا قرآن کریم کے الفاظ سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے پھر یہ کہ وہ خلفائے راشدین میں ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا حکم اور سنت شریعت کا قانون ہے علاوہ ازیں جملہ صحابہ نے اس عمل کو درست قرار دیا تو صحابہ کو اجماع بھی قانون شریعت ہے، نص قرآنی سے جس اذان جمعہ پر بیع وشراء شرک کرنے کا حکم ہے یہی اذان ہوگی جو شروع میں اضافہ کی گئی، اس بناء پر تمام ائمہ اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلی اذان جمعہ کے بعد ہر قسم کا کاروبار بیع وشراء حرام ہے اور جس اہمیت وتاکید اور نصیحت کے انداز میں قرآن کریم نے دکانیں بند کردینے کو اور خرید وفروخت روک دینے کو فرمایا ہے اس کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اذان جمعہ کے بعد کسب معاش میں مشغولی کو حلال رزق شمار کیا جائے اس وجہ سے اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) ومشقی نے عراک بن مالک (رح) سے نقل کیا ہے کہ جب وہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹتے تو مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوئے اور یہ کہتے اے اللہ میں نے تیری نداء پر حاضری دے دی اور تیرا فرض ادا کرچکا اور اب میں رزق کی تلاش کے لیے زمین میں چلنا پھرنا چاہتا ہوں جیسے کہ تو نے حکم دیا پس اپنے فضل سے رزق عطا فرما۔ تو خیرالرازقین ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کے بعد خرید وفروخت کرے گا (یعنی جبکہ جمعہ کے لیے اس نے اپنا کاروبار بند کردیا تھا) تو اللہ تعالیٰ اس کو ستر گنانفع عطا فرمائے گا۔