Ayahs 63:1–8مذمت نفاق ومنافقین وتحقیق بیہودہ خصال منافقین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا جآءک المنفقون ...... الی ....... ولکن المنفقین لا یعلمون “۔
(ربط) سورة الصف اور سورة الجمہ میں اسلام کی عظمت و غلبہ اور اہل ایمان کے خصوصی احوال کا بیان تھا اور یہ کہ دین کے دشمن خواہ کتنی بھی سازشیں اسلام کے خلاف کریں لیکن اسلام کے غلبہ اور ظہور کو کافروں کی طاقتیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتیں، اب اس سورت میں منافقین کی مذموم خصلتیں ذکر کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کے لبادہ میں کس طرح اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔ مقصد بیان یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں اسلام کو انشاء اللہ کوئی نقصان نہ پہنچائیں گی، ساتھ ہی منافقین کے ذلیل اور گندے کردار کو واضح کردیا گیا تاکہ مسلمان سمجھ لیں کہ نفاق کی علامات اور خصلتیں کیا ہوتی ہیں اور منافقین کا کردار کیسا ہوتا اور اس طرح یہ حقیقت سمجھی جاسکے کہ ایسی خصلتیں کیا ہوتی ہیں اور منافقین کا کردار کیسا ہوتا ہے اور اس طرح یہ حقیقت سمجھی جاسکے کہ ایسی خصلتوں کا حامل شخص منافق ہی ہوسکتا ہے خواہ اپنی زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہو، فرمایا۔
اے ہمارے پیغمبر ! جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں گواہی تو نام ہے اس اقرار واعلان کا جو دل کے اعتقاد کے مطابق ہو اور منافق جب دل سے رسول خدا کی رسالت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کا یہ کہنا کہ ہم گواہی دیتے ہیں جھوٹ اور دھوکہ ہوا، اس لیے ارشاد ہوا اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے سچے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں، جب وہ واقع میں آپ ﷺ کی رسالت کے قائل ہی نہیں تو پھر اس طرح کا اظہار محض دھوکہ اور فریب ہے اور اپنی اغراض حاصل کرنے کے لیے اس زبانی اقرار کو بہانہ بنایا ہوا ہے، حالانکہ خود بھی ان کو اس امر کا احساس ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں، ان منافقین نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے، جب بھی کوئی گرفت ہو تو قسمیں کھا کر اپنی جان بچا لیں، مسلمانوں کے حملوں سے تحفظ حاصل ہوجائے کہ جس طرح دوسرے کافروں اور مشرکوں کے خلاف غزوات و جہاد کی صورت ہوتی ہے یہ ایسے حملوں بچے رہیں، اسی کے ساتھ پھر یہ بھی مذموم حرکت کہ روکتے ہیں، دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے یقیناً بہت ہی برا ہے یہ کام جو منافقین کررہے ہیں کیونکہ ان کی جھوٹی قسموں کا ضرر صرف انہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ دوسروں کو دھوکہ لگتا ہے اور اس کے علاوہ بھی دوسرے حربے اور طریقے استعمال کرتے ہیں تاکہ کوئی اسلام کے قریب نہ آئے تو ظاہر ہے اس سے زیادہ برا کردار کیا ہوسکتا ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ انہوں نے پہلے ایمان کا دعوے کیا پھر کفر کیا تو مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر اس کا نتیجہ ہے کہ وہ اب کچھ نہیں سمجھتے جب دلوں پر مہرلگ گئی تو اندر کے کفر اور گندگی کے نکلنے اور دور ہونے کی توقع نہیں ہوسکتی اور نہ ہی باہر سے اب کوئی ہدایت ونصیحت ان کے دلوں تک سرایت کرسکتی ہے، دل مسخ ہیں کفر ونفاق جھوٹ اور دھوکہ کی گندگیاں اندر بھری ہیں مگر ظاہری حال انہوں نے ایسا بنا رکھا ہے کہ اے مخاطب جب تو ان کو دیکھے تو تجھ کو اچھے لگیں گے ان کے اجسام ڈیل ڈول میں بہت اچھے لگتے ہوں گے، چکنے چپڑے، اپنی وضع اور ہئیت ایسی بنائیں گے کہ ظاہری نظر سے دیکھنے والا ان کو بڑا ہی شریف اور بھلامانس سمجھے اور اگر وہ بات کریں تو ایسی لچھے دار میٹھی باتیں کریں کے فصاحت وبلاغت اور ان کی چرب لسانی کی بناء پر توجہ کے ساتھ تو ان کی بات سننے لگے، اس ظاہری بناؤ سنوار، چکنی چپڑی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ لکڑیاں ہیں جن کو سہارا دے کر کھڑا کردیا گیا ہے جو دیکھنے میں موٹے تازے شہتیر نظر آتے ہیں لیکن وہ صرف دیکھنے ہی کی حد تک ہیں دیوار کے ساتھ کھڑے ہیں انکے اندر کچھ نہیں ایسے کھوکھلے ہیں کہ ایک لمحہ بھی وہ سہارا نہ رہے تو گرپڑیں اسی طرح منافقین اپنے نفاق کی گندگیوں اور ایمان وصداقت کے جو ہر سے عا ری ہونے کے باعث محض سہارے پر کھڑے ہیں، نہ ان کی کوئی بنیاد ہے اور نہ ان میں کوئی قوت ہے۔ 1
حاشیہ (شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی (رح) اپنے فوائد میں یہاں ایک لطیف بات فرماگئے، فرمایا ” خشک اور بیکار لکڑی جو دیوار سے لگا کر کھڑی کردی جائے محض بےجان اور لایعقل دیکھنے میں کتنی موٹی مگر ایک منٹ بھی بدون سہارے کے کھڑی نہیں رہ سکتی ہاں ضرورت پڑے تو جلانے کے کام آسکتی ہے یہاں حال ان لوگوں کا ہے ان کے موٹے فربہ جسم اور تن وتوش سب ظاہری خول ہیں اندر سے خالی بےجان محض جہنم کا ایندھن بننے لائق۔ 12)
مضبوطی اور قوت تو ایمان وصداقت سے ہوتی ہے تو یہ اپنی کمزوری اور بزدلی میں ایسے ہی ہیں کہ ہر چیخ کو اپنے اوپر ایک بلاسمجھتے ہیں، بزدلی اور نامردی کا یہ عالم ہے کہ ذرا بھی کہیں شوروغل سن لیں تو دل دھل جائیں اور سمجھنے لگیں کہ اب ہم پر کوئی آفت آئی اور ہمہ وقت اس ڈر سے ان کے دل لرزتے رہتے ہیں کہ ہماری منافقانہ حرکتوں اور دغابازیوں کا پردہ چاک نہ ہو اور ایسا تو نہیں ہماری ان حرکتوں کی پاداش میں ہم پر کوئی افتاد پڑجائے خواہ وہ کتنے ہی کمزور ہوں بہرکیف اے مخاطب یا ہمارے پیغمبر ان سے بچتے رہو، دغا بازوں سے احتیاط عقل و فطرت کا تقاضا ہے، خدا انہیں غارت کرے کہاں بھٹک رہے ہیں۔
منافقین اگرچہ اپنی بیہودہ خصلتوں اور دلوں کے روگ سے ایمان کی دولت اور اس کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے مگر پھر بھی بعض مرتبہ جب ان کی منافقانہ سازشیں کھل جاتیں اور کذب وخیانت کا پردہ فاش ہوجاتا تو کچھ لوگ ان کو سمجھانے کا ارادہ کرتے تو ایسی صورت میں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آجاؤ راہ راست پر اور اپنی گندگیوں سے تائب ہو کر رسول ﷺ خدا کے پاس معافی کے لیے حاضر ہوجاؤ انسان جب تک دنیا میں زندہ ہے قبول حق اور توبہ کا دروازہ اس کے واسطے کھلا ہے تم اگر تائب ہو کر ایمان لاتے ہوئے۔ رسول خدا ﷺ کے پاس پہنچ جاؤ گے تو استغفار کریں گے اور معافی طلب کریں گے تمہارے واسطے اللہ کے رسول تو اپنے سرہلاتے ہیں تمسخر اور استہزاء کی شکل اختیار کرتے ہوئے گردن ہلا کر اور سرمٹکا کر رہ جاتے ہیں، اور حال یہ کہ وہ غرور وتکبر کرتے ہوئے ہیں اور انتہائی بیہودگی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ کے استغفار کی ضرورت نہیں تو ظاہر ہے کہ جو قوم خدا کی رحمت اور معافی سے اس قدر بےرخی برتے اس کے واسطے یہی ہے کہ اے ہمارے پیغمبر ان پر برابر ہے کہ آپ ان کے واسطے استغفار کریں یا نہ کریں، اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہیں کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا ہے نافرمان لوگوں کو ایسے نافرمان جن کا حق کی طرف کوئی رخ اور ادنی توجہ ہی نہ ہو بلکہ ہر مرحلہ پر وہ دین کا مذاق ہی اڑاتے ہوں۔
ان باطنی گندگیوں کے علاوہ اخلاقی معیار سے اس قدرذلیل ہیں کہ دنیا میں اس طبقہ سے زیادہ بداخلاق اور ذلیل کوئی نہیں ہوسکتا، چناچہ یہ منافقین جو یہ کہتے ہیں مت خرچ کرو ان لوگوں پر جو رسول اللہ کے قریب ہیں یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ سے دور اور متفرق ہوجائیں اور آپ ﷺ کا تعلق اور مجلس میں آمد ورفت ترک کردیں، اس وقت تک کسی کی کوئی امداد واعانت نہ کرو، ایسے ذلیل اور بداخلاق منافقوں سے کہہ دینا چاہئے اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے زمینوں اور آسمانوں کے لیکن منافقین سمجھتے نہیں کہ جس مالک کے قبضہ میں ساری کائنات اور آسمان و زمین کے خزائن ہیں کیا ہو مالک اپنے رسول کے پاس رہنے والوں کی مدد نہیں کرے گا، اور کیا ان کو رزق نہیں دے گا ؟ رزق تو اصل میں اللہ ہی دیتا ہے اگر کوئی صاحب مال واستطاعت شخص کسی کی دو چار مرتبہ کچھ مدد کرے گا تو یہ اس کی بےوقوفی ہوگی کہ وہ اپنے کو رازق سمجھنے لگے اور یہ سوچنے لگے کہ میں فلاں کی مدد نہ کروں گا تو وہ بھوکا مرجائے گا تو یہ ہے وہ بدعقلی اور حماقت جس میں اس قسم کے لوگ مبتلا ہوتے ہیں اسی پر بس نہیں بلکہ کہتے ہیں البتہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے اور وہاں پہنچ گئے تو ضرور بالضرور ہم میں سے عزت والا مدینہ سے ذلیل کو نکال دے گا یہ بھی ایک احمقانہ تخیل اور آرزو ہے اور اس شعور وفہم سے بعید ہونے کی دلیل ہے کہ انہیں نہ عزت وذلت کی حقیقت معلوم ہے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ عزت وذلت کس کے قبضہ میں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت وقوت تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور ایمان والوں کے واسطے لیکن منافقین جانتے نہیں ہیں، اصل عزت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کے تعلق سے یہ عزت پہنچتی ہے اس کے رسول کے پاس اور چونکہ رسول خدا ﷺ اللہ کے احکام وپیغام اس کی مخلوق کو پہنچاتے ہیں تو پھر اس رسول پر ایمان لانے والوں اور اطاعت کرنے والوں کے لیے عزت ہے۔
امام بیہقی (رح) نے سنن کبری میں حضرت جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت میں بیان کیا ہم لوگ ایک سفر جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ دوران سفر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری کے لات ماری (اور اس کی وجہ سے اس کو چوٹ آئی) تو انصاری نے بآواز بلندپکارا یا للانصار (اے انصار آجاؤ میری مدد کرو) اس پر مہاجر نے آواز دی یا للمہاجرین، اے مہاجرو آؤ میری مدد کرو، آنحضرت ﷺ نے جب یہ آوازین سنیں تو فرمایا یہ کیسے جاہلیت کے نعرے ہیں ایک روایت میں ہے، ماھذا الدعوی المنتنۃ کہ یہ کیسا بدبودار نعرہ ہے۔
عبداللہ بن ابی ابن سلول رئیس المنافقین کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو تو کہنے لگا اچھا یہ بات ہوگئی ہے یعنی اس پر خوش ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں ایسی فضا باہمی منافرت اور عصبیت کی پیدا ہوئی اور کہنے لگا ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم میں سے عزت والا مدینہ سے ذلیل کو نکال دے گا اور اس سے ارادہ یہ تھا کہ مدینہ کے انصار اب مہاجرین کو مدینہ سے نکال دیں گے عبداللہ بن ابی کو زیادہ تر غیظ وغضب اس پر بھی تھا کہ آنحضرت ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے قبل مدینہ کے لوگ اسی کو اپنا سردار بنانے والے تھے آپ ﷺ کی تشریف آوری سے یہ سارا منصوبہ خاک میں مل گیا، جابر ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ میں انصار کی تعداد زیادہ تھی، (اگرچہ بعد میں مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوگئی) عمر فاروق ؓ کو عبداللہ بن ابی منافق کی بات سن کر بہت غصہ آیا اور کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا چھوڑو اس کو (اگر تم نے ایسا کیا تو) لوگ کہیں گے محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کراتے ہیں، اسی نے یہ بھی کہا (آیت) ” لاتنفقوا علی من عندرسول اللہ “۔
زید بن ارقمرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے جب یہ بات سن کر حضور اکرم ﷺ کو بتائی تو یہ منافق فورا آکر قسمیں کھانے لگا کہ میں نے ہر گزایسا نہیں کیا، بیان کرتے ہیں تو جب ابن ابی قسمیں کھانے لگا اور میرے پاس کوئی ثبوت اس بات کا نہ تھا تو آنحضرت ﷺ نے میری بات رد فرمائی اور فرما دیا کہ بس ٹھیک ہے جب یہ شخص قسمیں کھارہا ہے، زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں مجھے اس پر انتہائی غم اور صدمہ ہوا آنحضرت ﷺ کے خیال میں یہ تصور پیدا ہوا کہ میں نے غلط بیانی کی ہے میرے چچا نے بھی مجھے ملامت کی تجھے کیا ضرورت تھی تو نے یہ بات جا کر رسول اللہ ﷺ کو بتائی، بیان کرتے ہیں کہ میں اسی غم اور بےچینی میں تھا کہ حق تعالیٰ نے یہ سورة منافقون نازل فرمائی، فورا ہی رسول خدا ﷺ نے میری طرف ایک آدمی بلانے کے لیے بھیجا میں حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے یہ سورت پڑھ کر سنائی اور فرمایا اللہ نے تیری تصدیق کردی۔
محمد بن اسحاق (رح) امام المغازی نے اس سلسلہ میں یہ بھی روایت کیا ہے کہ اس منافق عبداللہ بن ابی کے بیٹے ” عبداللہ “ جو سچے مسلمان اور صحابی رسول اللہ ﷺ تھے نے اپنے باپ کی یہ بیہودہ بات سنی تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ میرے باپ کی اس بیہودہ بات پر آپ ان کو قتل کردینا چاہتے ہیں اگر آپ ﷺ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اجازت دیجئے میں اس خبیث کا سرقلم کرکے آپ ﷺ کے سامنے لاکر پیش کرتا ہوں اور خدا کی قسم قوم خزرج یہ بھی جانتی ہے کہ اس قوم میں مجھ سے زیادہ اپنے باپ سے اچھا سلوک کرنے والا کوئی نہیں لیکن اس کے باوجود اب میں آپ ﷺ سے یہ اجازت چاہتا ہوں کہ اس کا سراپنے ہاتھ سے قلم کرکے آپ ﷺ کے سامنے پیش کردوں مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کام کے واسطے میرے علاوہ کسی اور کو مامور فرمادیں، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں، ہم تو اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں گے۔
عکرمہ ؓ اور ابن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ اس منزل سے روانہ ہوئے مدینہ منورہ کی طرف لوٹتے ہوئے تو عبداللہ بن عبداللہ صحابی ؓ مدینہ منورہ کے دروازے (شہر پناہ) پر تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے جب ان کا باپ عبداللہ بن ابی منافق آیا تو (بآواز بلند) فرمایا پیچھے ہٹ، خدا کی قسم تو ہی ذلیل ہے اور رسول اللہ ﷺ عزیز ہیں جب تک وہ اجازت نہ دیں گے تو ہرگز مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔
اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ کو اپنے باپ کی اس بیہودہ بات پر اس قدر غصہ تھا کہ جب قافلہ سفر کے لیے روانہ ہونے لگا تو تلوار نکال کر باپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا جب تک تو اقرار نہ کرے گا کہ میں ذلیل ہوں اور رسول اللہ ﷺ عزت والے ہیں ہرگز تجھے زندہ نہ چھوڑوں کگا اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے منافق باپ کی گردن زمین پر رگڑنے لگے اور کہا اقرار کر کہ تو ذلیل ہے، اور رسول اللہ ﷺ عزیز ہیں۔
Ayahs 63:9–11تنبیہ وتحذیر اھل ایمان از غفلت ذکر اللہ وتاکید انفاق فی سبیل اللہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ....... الی ....... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) ابتداء سورت سے جملہ آیات منافقین کے کردار اور ان کی مذموم ترین خصلتوں کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں ایسے اسباب غفلت سے مسلمانوں کو چوکنا فرمایا گیا جو انسان کو ایمان وتقوی کی حقیقت سے دور کردیں اور غفلت ہی دراصل نفاق کا پیش خیمہ ہے نفاق کی اصل حقیقت جب یہ معلوم ہوگئی کہ دل میں ایمان نہ ہو اور زبان سے ایمان کا دعوی اور اعلان ہو تو مال واولاد کے فتنوں میں بھی مبتلا ہونے سے یہی نوعیت قلب کی ہوجاتی ہے، امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب الایمان میں ایک باب باندھا ہے، جس میں ایمان کے مہلکات اور مضرات میں غفلت، نفاق اور اصرار علی المعاصی کو شمار فرمایا، اس لیے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اے ایمان والو ! غافل نہ بنا دیں تم کو تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد اللہ کی یاد اور اس کے ذکر سے اور جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے تو یقیناً ایسے لوگ ناکام و ذلیل ہوں گے دنیا کی ہر نعمت اور زیب وزینت محض نظر کا فریب ہے اگر اس فریب دنیا میں پھنس کر خدا کو بھلا دیا تو اس سے بڑھ کر اور کی ذلت وخسارہ ہوسکتا ہے آخرت کا توشہ تو ذکر الہی اور کی یاد ہے اس کی تیاری میں لگ جانا چاہئے لہذا اے ایمان والو سوچو اور فکر آخرت کرتے ہوئے خرچ کرو اللہ کی راہ میں اس مال سے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے۔
اس سے قبل کہ آجائے تم میں سے کسی کے سامنے موت، پھر وہ یہ کہے اے میرے پروردگار کیوں نہ مہلت دے دی تو نے مجھ کو ایک قریب مدت کے لیے کہ میں صدقہ کرلوں اور صالحین ونیکوکاروں میں سے ہوجاؤں، لیکن ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں موت سامنے آچکی ہو اس قسم کی تمنا و آرزو ہرگز نہیں ہوسکتی اور کبھی بھی اللہ نفس کو مہلت نہیں دے گا جب کہ اس کی موت آچکی ہو کیونکہ خدا کا قانون ہے کہ جس انسان کے لیے موت کا جو وقت طے کردیا نہ اس کی موت اس وقت سے مقدم ہوسکتی ہے، اور نہ مؤخر ہوسکتی ہے، اور اے انسانو ! خوب جان لو اللہ تو بہت ہی خبر رکھنے والا ہے ان اعمال کی جو تم کرتے ہو، ہر ایک پر آخرت میں اسی کے اعمال کے مطابق جزاء وسزا ہوگی، اس وجہ سے انسان کو جو بھی موقعہ میسر آئے اس کو ضائع نہ کرے بلکہ اپنی زندگی اور زندگی کے لمحات کو آخرت کی سعادت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے یہ فرمایا جس کسی کے پاس اتنا مال ہے کہ وہ اس کو بیت اللہ تک پہنچا سکتا ہے یا اتنا مال ہے کہ اس پر زکوٰۃ لازم ہے مگر پھر نہ اس نے حج کیا اور نہ زکوٰۃ ادا کی تو موت کے وقت اس کی یہی حالت ہوگی کہ (آیت) ” لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصلحین “۔ اے پروردگار کیوں نہیں مجھ کو تو اتنی مہلت دے دیتا کہ میں صدقہ کرلو اور صالحین میں سے ہوجاؤں، ایک شخص حاضرین مجلس میں سے کہنے لگا اے ابن عباس ؓ موت کے وقت مہلت کافر مانگتا ہے تم خدا سے ڈرو کہ اس کو اہل اسلام میں سے ان لوگوں پر محمول کررہے ہیں جو مالی حقوق اور فرائض ادا نہ کریں، عبداللہ بن عباس ؓ فرمانے لگے ابھی میں تم کو آیت قرآن پڑھ کر سناتا ہوں اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی، (آیت) ” یایھا الذین امنو الا تلھکم۔ الخ مطلب یہ تھا کہ یہ آیت اہل ایمان کو خطاب ہے اور اسی میں سے اس فرد کا یہ حال ذکر کیا جارہا ہے، (آیت) ” لولا اخرتنی “۔ الخ کہ وہ اس طرح تمنا کرے گا کہ کاش مجھے کچھ وقت مل جائے یا دوبارہ مجھ کو دنیا میں لوٹا دیا جائے، غرض حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس جواب سے مخاطب کو بتادیا سکرات موت آنے پر موت کے ٹلنے کی تمنا یا مرنے کے بعد دنیا کی طرف واپسی کی درخواست کافروں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں یہ تمنا وہ بدعمل لوگ بھی کریں گے جنہوں نے فرائض دین ادا کرنے میں کوتاہی کی اور اللہ کی نافرمانی کی روش اختیار کی۔
فتنہ مال اور فتنہ جاہ انسان کے لیے سعادت سے محرومی کا باعث ہے۔
سورة منافقون کی ان آیات (آیت) ” لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ “۔ اور (آیت) ” لیخرجن الاعز منھا الاذل “۔ دو عظیم فتنوں کی نشاندہی ہی فرمائی گئی، ایک مال و دولت کا اور دوسرا عزت وجاہ کا تو حق تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ اللہ کے پاس آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں تو یہ دونوں چیزیں اگرچہ فی ذاتہ بری نہیں لیکن ان کا غلط استعمال مذموم ہے، ان کو اگر غلط استعمال کیا گیا تو ہلاکت وبدنصیبی ہے اور اگر صحیح استعمال کیا گیا تو اللہ کا تقرب اور کامیابی ہے، چناچہ اس مال کو دین اور مرکز ہدایت سے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے خرچ کرو گے اور عزت وجاہ کو اس کام کے لیے صرف کرو گے کہ مسلمانوں کو ان کی جگہ سے نکالو تو اس مال اور عزت ووجاہت سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔
لہذا (آیت) ” لا تلھکم اموالکم “ میں اس سے بچنے کی تعلیم دی گئی اور اس کے بالمقابل صحیح مصرف بتایا گیا (آیت) ” وانفقوا ممارزقنکم “۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے شریعت نے حصول مال کے طریقے بیع وشراء کے احکام نازل کرکے متعین کردیئے، عزت وجاہ کو اگر تخریب دین کے بجائے اس غرض سے حاصل کیا جائے کہ اس سے دین کی تعمیر اور مخلوق خدا کی راحت رسانی کی سعادت حاصل کی جاسکے تو پھر مذموم نہیں۔
جاہ ومنصب اور طلب عہدہ اور اس کے واسطے کوشش وردرخواست وغیرہ شریعت نے اسی لیے ناجائز قرار وہی کہ انسان نفس کی گمراہیوں میں پڑکر اس کو کبر اور خلق خدا پر جو رواستبداد کا ذریعہ نہ بنا لے ہاں اگر اخلاص نیت اور صدق قلب سے کسی عہدہ ومنصب سے دین کی خدمت اور اعلاء کلمۃ اللہ چاہتا ہے تو جائز ہے۔
جیسے کہ حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے عزیز مصر سے فرمایا (آیت) ” اجعلنی علی خزآئن الارض انی حفیظ علیم “۔ لیکن ایسی طلب پر اقدام کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس شخص کا حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسا تقوی اور دیانت اور اخلاص ہو کہ حاصل شدہ منصب کو صرف اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر استعمال کرے۔
تم بحمد اللہ تفسیر، سورة المنافقون “۔