62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 62:1–2

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں بادشاہ پاک ذات زبردست حکمتوں والا

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اٹھایا ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں کا پڑھ کر سنایا ہے ان کو اس کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقل مندی اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے صریح بھول میں6

6 " اُمِّیِیْنَ "' (ان پڑھ) اہل عرب کو کہا۔ جن میں علم و ہنر کچھ نہ تھا نہ کوئی آسمانی کتاب تھی۔ معمولی لکھنا پڑھنا بھی بہت کم آدمی جانتے تھے۔ ان کی جہالت و وحشت ضرب المثل تھی خدا کو بالکل بھولے ہوئے تھے، بت پرستی، اوہام پرستی، اور فسق و فجور کا نام " ملت ابراہیمی " رکھ چھوڑا تھا اور تقریباً ساری قوم صریح گمراہی میں پڑی بھٹک رہی تھی۔ ناگہاں اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں سے ایک رسول کو اٹھایا جس کا امتیازی لقب " نبی امی " ہے۔ لیکن باوجود امی ہونے کے اپنی قوم کو اللہ کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا اور عجیب و غریب علوم و معارف اور حکمت و دانائی کی باتیں سکھلا کر ایسا حکیم و شائستہ بناتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے حکیم و دانا اور عالم و عارف اس کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرتے ہیں (تنبیہ) اس طرح کی آیت سورة " بقرہ " اور " آل عمران " میں گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور اٹھایا اس رسول کو ایک دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہی میں سے جو ابھی نہیں ملی اور ان میں7 وہی ہے زبردست حکمت والاف 8

7 یعنی یہ ہی رسول دوسرے آنے والے لوگوں کے واسطے بھی ہے جن کو مبدأ و معاد اور شرائع سماویہ کا پورا اور صحیح علم نہ رکھنے کی وجہ سے ان پڑھ ہی کہنا چاہیے۔ مثلاً فارس، روم، چین اور ہندوستان وغیرہ کی قومیں جو بعد کو امیین کے دین اور اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان ہی میں سے ہوگئیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کیے اس دین کے تھامنے والے، پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔ " حدیث میں ہے کہ جب آپ ﷺ سے (وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 63 ۔ الجمعہ :3) کی نسبت سوال کیا گیا تو سلمان فارسی کے شانہ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر علم یا دین ثریا پر جا پہنچے گا تو (اس کی قوم فارس کا مرد وہاں سے بھی لے آئے گا) شیخ جلال الدین سیوطی وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس پیشین گوئی کے بڑے مصداق حضرت امام اعظم ابو حنیفتہ النعمان ہیں۔ (رح) تعالیٰ ۔ 8 جس کی زبردست قوت و حکمت نے اس جلیل القدر پیغمبر ﷺ کے ذریعہ سے قیامت تک کے لیے عرب و عجم کی تعلیم و تزکیہ کا انتظام فرمایا۔ ﷺ ۔
Ayah 62:4

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ بڑائی اللہ کی ہے دیتا ہے جس کو چاہے اور اللہ کا فضل بڑا ہے1

1 یعنی رسول کو یہ بڑائی دی اور اس امت کو اتنے بڑے مرتبہ والا رسول دیا۔ فللہ الحمد والمنۃ علی ما انعم۔ چاہیے کہ مسلمان اس انعام و اکرام کی قدر پہچانیں، اور حضور ﷺ کی شان تعلیم و تزکیہ سے مستفید و منتفع ہونے میں کوتاہی نہ کریں۔ آگے عبرت کے لیے یہود کی مثال بیان فرماتے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب اور پیغمبر سے استفادہ کرنے میں سخت غفلت اور کوتاہی برتی۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جن پر لادی تورات پھر نہ اٹھائی انہوں نے جیسے مثال گدھے کی کہ پیٹھ پر لے چلتا ہے کتابیں2 بری مثال ہے ان لوگوں کی3 جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو4 اور اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو5

2 یعنی یہود پر " تورات " کا بوجھ رکھا گیا تھا اور وہ اس کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات و ہدایات کی کچھ پروانہ کی، نہ اس کو محفوظ رکھا، نہ دل میں جگہ دی، نہ اس پر عمل کر کے اللہ کے فضل و انعام سے بہرہ ور ہوئے۔ بلاشبہ تورات جس کے لوگ حامل بنائے گئے تھے حکمت و ہدایت کا ایک ربانی خزینہ تھا مگر جب اس سے منتفع نہ ہوئے تو وہ یہ مثال ہوگئی۔ نہ محقق شدی نہ دانشمند چار پائے بروکتابے چند ایک گدھے پر علم و حکمت کی پچاسوں کتابیں لاد دو ، اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے۔ اس بات سے کچھ سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدھے ہوئے ہیں یا خزف وسنگریزے۔ اگر محض اسی پر فخر کرنے لگے کہ دیکھو ! میری پیٹھ پر کیسی کیسی عمدہ اور قیمتی کتابیں لدی ہوئیں ہیں لہذا میں بڑا عالم اور معزز ہوں تو یہ اور زیادہ گدھا پن ہوگا۔ 3 یعنی بری قوم ہے وہ جس کی مثال یہ ہے۔ اللہ ہم کو پناہ میں رکھے۔ 4 یعنی اللہ تعالیٰ نے تورات وغیرہ میں جو بشارات نبی آخرالزماں ﷺ کی دی تھیں اور جو دلائل وبراہین کی رسالت پر قائم کیں، ان کو جھٹلانا آیات اللہ کو جھٹلانا۔ 5 یعنی ایسے معاند، ہٹ دھرم و بےانصاف لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔
Ayahs 62:6–7

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

تو کہہ اے یہودی ہونے والو اگر تم کو دعویٰ ہے کہ تم دوست ہو اللہ کے سب لوگوں کے سوا تو مٹاؤ اپنے مرنے کو اگر تم سچے ہو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور وہ کبھی نہ منائیں گے اپنا مرنا ان کاموں کی وجہ سے جن کو آگے بھیج چکے ہیں ان کے ہاتھ اور اللہ کو خوب معلوم ہیں سب گناہ گار6

6 یعنی اس گدھے پن اور جہل و حماقت کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ بلا شرکت غیرے ہم ہی اللہ کے دوست اور ولی، اور تنہا جنت کے حق دار ہیں بس دنیا سے چلے اور جنت میں پہنچے۔ لیکن اگر واقعی دل میں یہ ہی یقین ہے اور اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ضروری تھا کہ دنیا کے مکدر عیش سے دل برداشتہ ہو کر محبوب حقیقی کے اشتیاق اور جنت الفردوس کی تمنا میں مرنے کی آرزو کرتے۔ جس کو یقینا معلوم ہوجائے کہ میرا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے اور کوئی خطرہ نہیں۔ وہ بیشک مرنے سے خوش ہوگا اور موت کو ایک پل سمجھے گا جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے اس کی زبان پر تو یہ الفاظ ہوں گے۔ " غَدًا نَلْقَی اِلَّاحِبَّۃٌ، مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ، اور یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقترابہا طیبۃ وبارد شرابہا اور حبیب جاء علی فاقۃٍ اور یا بنی لا یُبَالِی ابوک سقط علی الموت ام سقط علیہ الموت " وغیر ذلک۔ یہ ان اولیاء اللہ کے کلمات ہیں جو دنیا کی کسی سختی یا مصیبت سے گھبرا کر نہیں، خالص لقاء اللہ اور جنت کے اشتیاق میں موت کی تمنا رکھتے تھے، اور ان کے افعال و حرکات خود شہادت دیتے تھے کہ موت ان کو دنیا کی تمام لذائذ سے زیادہ لذیذ ہے۔ قال النبی ﷺ " لَوَدِدْتُّ اِنِّی اُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ اُحیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ " اس کے بالمقابل ان جھوٹے مدعیوں کے افعال و حرکات پر نظر ڈالو کہ ان سے بڑھ کر موت سے ڈرنے والا کوئی نہیں۔ وہ مرنے کا نام سن کر گھبراتے اور بھاگتے ہیں، اس لیے نہیں کہ زیادہ دن زندہ رہیں تو زیادہ نیکیاں کمائیں گے۔ محض اس لیے کہ دنیا کی حرص سے ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا اور دل میں سمجھتے ہیں کہ جو کرتوت کیے ہیں، یہاں سے چھوٹتے ہی ان کی سزا میں پکڑے جائیں گے۔ غرض ان کے تمام افعال واطوار سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لیے موت کی آرزو نہیں کرسکتے۔ اور ممکن تھا کہ اس زمانہ کے پہلو قرآن کے اس دعویٰ کو جھٹلانے کے لیے جھوٹ موٹ زبان سے موت کی تمنا کرنے لگتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت بھی ان کو نہ دی۔ روایات میں ہے کہ اگر (ان میں سے) کوئی یہودی موت کی تمنا کر گزرتا تو اسی وقت گلے میں اچھو لگ کر ہلاک ہوجاتا (تنبیہ) اس مضمون کی آیت سورة " بقرہ " میں گزر چکی ہے، اس کے فوائد دیکھ لیے جائیں۔ بعض سلف کے نزدیک " تمنی موت " کا مطلب مباہلہ تھا۔ یعنی معاند یہود سے کہا گیا کہ اگر وہ واقعی اپنے اولیاء ہونے کا یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کو باطل پر سمجھتے ہیں تو تمنا کریں کہ فریقین میں جو جھوٹا ہو، مرجائے۔ لیکن وہ کبھی ایسا نہ کریں گے کیونکہ ان کو اپنے کذب و ظلم کا یقین حاصل ہے۔ ابن کثیر اور ابن قیم وغیرہ نے یہ ہی توجیہ اختیار کی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

تو کہہ موت وہ جس سے تم بھاگتے ہو سو وہ تم سے ضرور ملنے والی ہے پھر تم پھیرے جاؤ گے اس چھپے اور کھلے جاننے والے کے پاس پھر جتلا دے گا تم کو جو تم کرتے تھے7

7 یعنی موت سے ڈر کر کہاں بھاگ سکتے ہو۔ ہزار کوشش کرو، مضبوط قلعوں میں دروازے بند کر کے بیٹھ رہو، وہاں بھی موت چھوڑنے والی نہیں۔ اور موت کے بعد پھر وہی اللہ کی عدالت ہے اور تم ہو (ربط) یہود کی بڑی خرابی یہ تھی کہ کتابیں پیٹھ پر لدھی ہوئی ہیں، لیکن ان سے منتفع نہیں ہوتے دین کی بہت سی باتیں سمجھتے بوجھتے، پر دنیا کے واسطے چھوڑ بیٹھتے۔ دنیا کے دھندوں میں منہمک ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت کے تصور کو فراموش کردیتے، ایسی روش سے ہم کو منع کیا گیا۔ جمعہ کا تقید بھی ایسا ہی ہے کہ اس وقت دنیا کے کام میں نہ لگو بلکہ پوری توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنو اور نماز ادا کرو۔ حدیث میں ہے کہ " جو کوئی خطبہ کے وقت بات کرے وہ اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔ " یعنی اس کی مثال یہود کی سی ہوئی۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو جب اذان ہو نماز کی جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کی یاد کو اور چھوڑ دو خریدو فروخت8 یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے9

8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہر اذان کا یہ حکم نہیں، کیونکہ جماعت پھر بھی ملے گی۔ اور جمعہ ایک ہی جگہ ہوتا تھا۔ پھر کہاں ملے گا۔ " اور اللہ کی یاد سے مراد خطبہ ہے اور نماز بھی اس کے عموم میں داخل ہے۔ یعنی ایسے وقت جائے کہ خطبہ سنے۔ اس وقت خریدو فروخت حرام ہے۔ اور " دوڑنے " سے مراد پورے اہتمام اور مستعدی کے ساتھ جانا ہے۔ بھاگنا مراد نہیں۔ (تنبیہ) " نودی " سے مراد قرآن میں وہ اذان ہے جو نزول آیت کے وقت تھی یعنی جو امام کے سامنے ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلی اذان بعد کو حضرت عثمان ؓ کے عہد میں صحابہ کے اجماع سے مقرر ہوئی ہے۔ لیکن حرمت بیع میں اس اذان کا حکم بھی اذان قدیم کے ہے کیونکہ اشتراک علت سے حکم میں اشتراک ہوتا ہے۔ البتہ اذان قدیم میں یہ حکم منصوص و قطعی ہوگا اور اذان حادث میں یہ حکم مجتہد فیہ اور ظنی رہے گا۔ اس تقریر سے تمام علمی اشکالات مرتفع ہوگئے۔ نیز واضح رہے کہ " یا ایہا الذین اٰمنوا " یہاں " عام مخصوص منہ البعض " ہے۔ کیونکہ بالاجماع بعض مسلمانوں (مثلاً مسافر و مریض وغیرہ) پر جمعہ فرض نہیں۔ 9 ظاہر ہے کہ منافع آخرت کے سامنے دنیاوی فوائد کیا حقیقت رکھتے ہیں۔
Ayah 62:10

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب تمام ہوچکے نماز تو پھیل پڑو زمین میں اور ڈھونڈو فضل اللہ کا اور یاد کرو اللہ کو بہت سا تاکہ تمہارا بھلا ہو10

10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہود کے ہاں عبادت کا دن ہفتہ تھا، سارا دن سودا منع تھا اس لیے فرما دیا کہ تم نماز کے بعد روزی تلاش کرو، اور روزی کی تلاش میں بھی اللہ کی یاد نہ بھولو۔ "
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب دیکھیں سودا بکتا کچھ تماشہ متفرق ہوجائیں اس کی طرف اور تجھ کو چھوڑ جائیں کھڑا تو کہہ جو اللہ کے پاس ہے سو بہتر ہے تماشہ سے اور سوداگری سے اور اللہ بہتر ہے روزی دینے والاف 1

1 ایک مرتبہ جمعہ میں حضرت محمد ﷺ خطبہ فرما رہے تھے، اسی وقت تجارتی قافلہ باہر سے غلہ لے کر آپہنچا۔ اس کے ساتھ اعلان کی غرض سے نقارہ بجتا تھا۔ پہلے سے شہر میں اناج کی کمی تھی۔ لوگ دوڑے کہ اس کو ٹھہرائیں (خیال کیا ہوگا کہ خطبہ کا حکم عام وعظوں کی طرح ہے جس میں سے ضرورت کے لیے اٹھ سکتے ہیں۔ نماز پھر آکر پڑھ لیں گے۔ یا نماز ہوچکی ہوگی جیسا کہ بعض کا قول ہے کہ اس وقت نماز جمعہ خطبہ سے پہلے ہوتی تھی۔ بہرحال خطبہ کا حکم معلوم نہ تھا) اکثر لوگ چلے گئے حضرت کے ساتھ بارہ آدمی (جن میں خلفائے راشدین بھی تھے) باقی رہ گئے۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی سوداگری اور دنیا کا کھیل تماشا کیا چیز ہے، وہ ابدی دولت حاصل کرو جو اللہ کے پاس ہے اور جو پیغمبر کی صحبت اور مجالس ذکر و عبادت میں ملتی ہے۔ باقی قحط کی وجہ سے روزی کا کھٹکا جس کی بناء پر تم اٹھ کر چلے گئے، سو یاد رکھو روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہی بہترین روزی دینے والا ہے اس مالک کے غلام کو یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس تنبیہ و تادیب کے بعد صحابہ کی شان وہ تھی جو سورة " نور " میں ہے۔ ( رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَاِقَام الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوةِ ) 24 ۔ النور :37) (تنبیہ) " لھو " کہتے ہیں ہر اس چیز کو اللہ کی یاد سے مشغول (غافل) کر دے جیسے کھیل تماشا۔ شاید اس نقارہ کی آواز کو لھو " سے تعبیر فرمایا ہو۔ تم سورة الجمعۃ فللہ الحمد والمنۃ۔