Explained with ayahs 1–4
قرآن حکیم آفاقی کتاب ہدایت ہے
اور ہر جگہ بھی فرمایا ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ نہ کرتی ہو تمام مخلوق خاہ آسمان کی ہو، خواہ زمین کی، اس کی تعریفوں اور پاکیزگیوں کے بیان میں مصروف و مشغول ہے، وہ آسمان و زمین کا بادشاہ اور ان دونوں میں اپنا پورا تصرف اور اٹل حکم جاری کرنے والا ہے، وہ تمام نقصانات سے پاک اور بےعیب ہے، تمام صفات کمالیہ کے ساتھ موصوف ہے، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس کی تفسیر کئی بار گذر چکی ہے۔ امیون سیم راد عرب ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمان باری ہے۔ الخ، یعنی تو اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کہ کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ اور وہ مسلمان ہوجائیں تو وہ راہ راست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْجُمُعَة 5
یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ " دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں " اس میں لفظ منہم (ان میں سے) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ محمد ﷺ کو ماننے والے ہونگے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہوجائیں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(آیت) وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيم، آخرین کے لفظی معنی ”دوسرے لوگ“ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ کے معنی جو ابھی تک ان لوگوں یعنی امیین کے ساتھ نہیں ملے، مراد ان سے وہ تمام مسلمان ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے (کماروی عن ابن زید و مجاہد و غیر ہما) اس میں اشارہ ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمان سب کے سب مومنین اولین یعنی صحابہ کرام ہی کے ساتھ ملحق سمجھے جائیں گے، یہ بعد کے مسلمانوں کیلئے بڑی بشارت ہے (روح)
لفظ آخرین کے عطف میں دو قول ہیں، بعض حضرات نے اس کو امیین پر عطف قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول امیین…
Read the full tafseer →(ذلک فضل اللہ یونیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (4)۔
(یہود کے حسد پر تعریض)۔ یہ اسی فضل عظیم کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امیوں پر فرمایا اور جس کا اوپر ذکر ہوا۔ ارشاد ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے اس کے لیے انتخاب فرماتا ہے اور اس کا ہر چاہنا اس کی اپنی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہود کو اس پر حسد ہے تو وہ جتنا حسد کرنا چاہیں کرلیں۔ اس سے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑیں گے خدا نے امیوں کو اپنی چیز دی، کسی دوسرے کی نہیں دی ہے کہ وہ اس پر غصہ کا اظہار کرے۔
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ اشارہ نبوت محمدی کی طرف ہوسکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔
Read the full tafseer →3: یہودی یہ چاہتے تھے کہ آخر زمانے کے نبی انہی میں سے یعنی بنی اسرائیل میں سے آئیں، اور عرب کے بت پرست یہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی نبی بھیجنا تھا تو وہ ہمارے بڑے سرداروں میں سے کوئی ہونا چاہیے تھا (دیکھئے سورة زخرف : 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔ کسی اور کے لیے اس معاملے میں دخل دینے کی گنجائش نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ذلک فضل .................... العظیم (26 : 4) ” یہ اس کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے “۔
اللہ کی جانب سے کسی امت ، کسی جماعت ، کسی فرد کو اس کام کے لئے چن لینا کہ وہ اس عظیم امانت کا حامل ہو ، اور اللہ کے نور اور فیض کا سرچشمہ ہو ، اور ایسا مرکز ہو ، جس پر زمین و آسمان ملتے ہوں ، یہ اختیارو انتخاب اللہ کا بہت بڑا فضل وکرم ہوتا ہے۔ اس سے بڑا فضل کہ اگر مومن اپنی جان اور مال اور اس دنیا کا سب کچھ بھی دے دے تو وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس سے بڑا فضل کہ اگر مومن اپنی جان اور مال اور اس دنیا کا سب کچھ بھی دے دے تو وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس راہ میں جدوجہد ، مشکلات ،…
Read the full tafseer →1 یعنی رسول کو یہ بڑائی دی اور اس امت کو اتنے بڑے مرتبہ والا رسول دیا۔ فللہ الحمد والمنۃ علی ما انعم۔ چاہیے کہ مسلمان اس انعام و اکرام کی قدر پہچانیں، اور حضور ﷺ کی شان تعلیم و تزکیہ سے مستفید و منتفع ہونے میں کوتاہی نہ کریں۔ آگے عبرت کے لیے یہود کی مثال بیان فرماتے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب اور پیغمبر سے استفادہ کرنے میں سخت غفلت اور کوتاہی برتی۔
Read the full tafseer →آیت 4 { ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُـؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ } ”یہ اللہ کا فضل ہے وہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
{ وَاللّٰہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ کے فضل کے بہت سے درجات ہیں اور ان میں سب سے اونچا اور اعلیٰ درجہ پوری کائنات میں محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے مختص ہے : { اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔ } بنی اسرائیل ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا فضل آپ ﷺ پر بہت بڑا ہے“۔ حضور ﷺ کے بعد ہر اس شخص پر بھی اللہ کا بہت بڑا فضل ہے جو حضور ﷺ کے دامن سے وابستہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمیں اس نے اپنا یہ فضل پیدائشی طور پر عطا فرما دیا اور ہمیں ایسے گھروں…
Read the full tafseer →8 یہود اگر جلتے ہیں تو جلتے رہیں۔ وہ کوئی اللہ کے فضل کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ رسول اگر آنا تھا تو انہی کی قوم میں سے آنا چاہیے تھا۔ اور یہ فضل بھی کیا کم ہے کہ تاقیامت تمام روئے زمین کی قیادت پیغمبر اسلام اور آپ کی امت کے سپرد کردی گئی۔
Read the full tafseer →4۔ ایک بگڑی ہوئی قوم کو راہ ہدایت دکھا دینا، اور بیشمار مخلوق کو راہ ہدایت پر لے آنا اس کے فضل عظیم کے سامنے کیا مشکل ہے ؟ پھر اس کے عموم فضل کو کسی ایک نسل یا قوم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محدود ومحصور سمجھنا بھی حماقت ہی ہے۔ (آیت) ” ذلک “ یعنی رسول کے ذریعہ سے، ضلال مبین سے نکل کر کتاب و حکمت وہدایت کی روشنی میں آجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم .
یہ (رسول کی ہدایت اور اسکو قبول کرنا) اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
ذٰلِکَ : یہ بعثت رسول ‘ تعلیم رسول اور تزکیۂ گمراہاں ؓ
فَضْلُ اللہ : اللہ کا فضل ہے محمد رسول اللہ ﷺ پر کہ ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا اور ہادی بنا دیا اور امت پر بھی اللہ کا فضل ہے کہ انہوں نے رسول کا اتباع کیا اور رسول نے ان کو ہدایت کی اور پاک کیا۔
یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ : وہ جس کو دینا چاہتا ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے اس کو وہ عنایت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →توحید، نبوت اور کتاب یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے اللہ اس دولت کے ساتھ اس کو سرفراز کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں کہ حضور کو اسلام اور نبوت عطا فرمائی یا یہ کہ مسلمانوں کو اسلام کی دولت دی یا یہ کہ اپنی مخلوق پر رسول اور کتاب کے ذریعے سے اپنا فضل فرمایا۔
Read the full tafseer →ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ ِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔۔۔۔۔: یعنی امیوں میں نبی معبوث کرنا اور اسے بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے رسول بنانا اللہ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، وہ یہود یا کسی اور کی خواہش کا پابند نہیں کہ اسی کو اپنے فضل سے نوازے جسے وہ چاہیں اور نہ ہی یہ کسی کی محنت و کوشش پر موقوف ہے کہ کوئی ریاضت اور محنت کے ساتھ نبوت کا منصب حاصل کرلے ، بلکہ یہ سراسر اللہ کے انتخاب اور اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(اَﷲُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ) (الحج : 75)”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی“۔ اور…
Read the full tafseer →حضرت ابن عباس نے کہا، فضل سے مراد ہے عجم کو قریش کے ساتھ ملا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسلام ہے (6) اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وحی اور نبوت ہے، یہ مقاتل کا قول ہے۔ چوتھا قول ہے : اس سے مراد وہ مال ہے جو طاعت میں خرچ کرتا ہے، یہ ابو صالح کے قول کا معنی ہے۔ امام مسلم، ابو صالح سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : مالدار لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں لے گئے۔ پوچھا :” وہ کیا ؟ “ صحابہ نے عرض کی : وہ نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جس…
Read the full tafseer →12۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ میں الفضل سے مراد ہے دین۔
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا فضل ہے ] [يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے وہ (فضل)] [مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جسے وہ چاہتا ہے ] [وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : اور اللہ بڑے فضل والا ہے ]
Read the full tafseer →﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ 1ؕ﴾ (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے) ۔ ﴿وَ اللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 004﴾ (اور اللہ بڑے فضل والا ہے) ۔
اللہ تعالیٰ جس کو بھی ایمان کی توفیق دیدے یہ اس کا فضل ہے۔ تمام اہل ایمان اور خاص کر وہ لوگ جو اسلام کی خدمات میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں مومن بنایا اور اسلام کی خدمت میں لگایا۔ فلہ الحمد والمنہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →5:۔ ” ذلک فضل اللہ “ آنحضرت ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و احسان ہے وہ جسے چاہے اسے سرفراز فرمائے اور اس کے فضل عظیم کے سامنے دنیا کی ہر نعمت حقیر اور ہیچ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ ہے۔ کیونکہ اس میں بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ نماز جمعہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی یہ گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 748 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
پچھلی سورة میں اللہ نے یہودیوں کی ایذاء رسانی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا تھا۔ کہ تم بھی ان جیسے نہ ہوجانا۔ اور اب اس سورة میں یہودیوں کی نافرمانی کی وجوہات یعنی ان کی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو فرائض کا ذکر تھا ، ایک تو وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے اور دوسرا نبی آخرالزمان…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 4
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1 ؎ ان پڑھ قوم سے مراد عرب ہے ان میں آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور ان کے سوا اور آیندہ آنے والی قوموں کے لیے بھی خواہ عرب کی نسلوں میں سے یا اور قوموں میں سے ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الجمعۃ : 4)
(یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
یہود کے حسد پر تعریض
اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں پر اپنا رسول بھیج کر اور کتاب اتار کر جو فضل و احسان فرمایا یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے پہلے بھی دنیا کو ہدایت ملتی رہی ہے اور اسی کی عنایت سے افراد اور خاندان ممتاز ہوتے رہے ہیں۔ یہ اسی کا اختیار ہے کہ وہ جسے چاہے اس اعزاز سے نواز دے، کسی کا اس پر کوئی اجارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت جس کو نوازنا چاہتی ہے اس کے راستے میں کوئی حائل نہیں ہوسکتا۔ یہود اپنے حسد…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اَ ن پڑھ اور گمراہ ترین لوگوں میں ایک پاکباز اور اُمّی شخص کو اپنا رسول منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر عظیم ترین فضل ہے کہ اس نے ایک اَن پڑھ اور بدعمل قوم میں ایک ایسی شخصیت کو اپنا رسول منتخب کیا جس کا نبوت سے پہلے بھی اخلاق اور کردار اس قدر شاندار تھا کہ جس کی ہر شخص تعریف کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا فضل یہ ہے کہ اس نے انسانوں میں ایک ہمہ صفت موصوف انسان کو اپنا رسول منتخب کیا اس لیے کہ وہ لوگوں کو آسان زبان میں اس کا پیغام پہنچائے اور اس پر عمل کرکے دکھلائے تاکہ لوگوں کو اللہ کا حکم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی مشکل پیش…
Read the full tafseer →4 : ذٰلِکَ (یہ) وہ فضل جو اس نے محمد ﷺ کو عنایت فرمایا وہ یہی ہے کہ ان کو اپنے زمانہ کے لوگوں کا پیغمبربنا دیا اور بعد والے زمانوں کیلئے بھی پیغمبر بنادیا۔ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآ ئُ (اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے) جس کو وہ عطاء کرنا چاہتا ہے۔ اور اس کی حکمت جس کو عطاء کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے)
Read the full tafseer →واخرین منھم کی اعراب کی وجہ
3 ۔” وآخرین منھم “ اور آخرین میں اعراب کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک جر ہے الامیین کی طرف لوٹاتے ہوئے اس کا مجاز وفی آخرین ہے اور دوسری نصب ہے ھاء اور میم کی طرف رد کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ویعلمھم “ میں ہے ۔ یعنی اور ان میں سے دوسروں کو تعلیم دیتے ہیں یعنی مومنین جو ان کا دین رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ جب اسلام لے آئے تو ان میں سے ہوگئے کیونکہ تمام مسلمان ایک امت ہیں اور علماء کا ان میں اختلاف ہے تو ایک قوم نے کہا وہ عجم ہیں اور یہ ابن عمرو ؓ اور سعید بن جبیر (رح) کا قول ہے اور لیث کی مجاہد سے روایت ہے اور اس پر دلیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ہم نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ اس سورة میں جمعہ کی نماز کا ذکر ہے اس لئے اس سورة کا نام سورة جمعہ ہے۔ بعض علماء نے جمعہ کی نماز کو بھی کفایہ لکھا ہے لیکن صحیح مذہب یہی ہے کہ اور فرض نمازوں کی طرح جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ اس مذہب کی تائید کا بیان آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں آتا ہے حدیث 2 ؎ شریف میں آیا ہے کہ تین جمعہ کو نماز کو جو شخص بغر عذر کے محض سستی سے چھوڑ دے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے بعضی روایات اس حدیث کی معتبر ہیں ضرورت ہو تو اکثر علماء کے نزدیک جمعہ کی نماز سے پہلے جمعہ کے دن سفر کرنا جائز ہے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں فقط خطبہ کے وقت کی اذان تھی۔ حضرت عثمان ؓ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ وہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر بھی احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہ کی دعوت پہنچی تھی اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پاسکے۔ بہر حال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنی صحیح ہیں بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ نے اپنا رسول مبعوث کیا جنہوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا ان کو ایسے خصائل اور فضائل حاصل ہیں کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
علم بغیر عمل کے بیکار ہے
قول باری ہے (مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملو ھا کمثل الحمار یحمل اسفار، جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں)
ایک روایت کے مطابق اس سے یہود مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے تورات کا علم حاصل تو کرلیا لیکن اس پر عمل پیرا نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گدھے کے مشابہ قرار دیا جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیونکہ انہوں نے بھی اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جس کا انہیں حامل بنایا گیا تھا جس طرح گدھا اپنی پیٹھ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
11 ۔ یہود کے حسد پر تعریض کا ذکر وبیان : سو یہود جو محض حسد وعناد کی بنا پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت رسالت کا انکار کرتے تھے کہ ان کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے اندر کیوں ہوگئی، سو ان کے اس زعم باطل پر رد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کاف جل ہے ہو جس کو چاہے عطا فرمائے، یعنی یہ عظیم الشان مرتبہ جس سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو نوازا گیا اور پھر آپ کے توسط سے آپ کیا مت کو اس کے انوار و برکات سے نوازا گیا یعنی نور نبوت اور دین حق کی نعمت جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے یہ سب محض اللہ پاک کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے، سو یہ سب اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اللہ رب العزت کی تسبیح اور آخری رسول ﷺ کی بعثت کا ذکر
تشریح : اس مضمون سے ملتی جلتی بیشمار آیات ہم پڑھ چکے ہیں اب اس مضمون کو ہم سید حسین نصر صاحب کی تحریر سے واضح کرتے ہیں لکھتے ہیں، عام طور پر اسلام کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے معنوی لحاظ سے تین درجے ہیں اول تو یہ کہ ساری مخلوق مسلم ہے یعنی اللہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ (ایک پھول اس بات پر قادر نہیں کہ وہ پھول نہ رہے، اسی طرح ایک ہیرا چمکنے پر مجبور ہے اللہ نے انہیں ایسا ہی بنایا ہے اور ان کا کام ہی اطاعت کرنا ہے) دوسری بات یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو اپنی مرضی سے مقدس الہامی قانون کو قبول کرتے ہیں اس اعتبار سے مسلم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 7 کیا وجہ ہے کہ ان مسلمان علماء کا حال اس سے مختلف ہو جو قرآن و حدیث کا علم رکھتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے یا یہودیوں کی طرح ان کی من مانی تاویلیں کرتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یہود کے عالم ایسے تھے کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثر نہ ہوا، اللہ ہم کو پناہ دے۔ “ (واضح)8 یعنی انہیں اپنے علم سے فائدہ اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →(62:4) ذلک اسم اشارہ، اس کا مشار الیہ بعثت رسول ﷺ تعلیم رسول۔ تزکیہ گمراہان۔
یؤتیہ۔ مضارع واحد مذکر ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیتا ہے۔ وہ عطا کرتا ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع فضل ہے۔ من موصولہ، یشاء اس کا صلہ، جسے وہ چاہتا ہے۔
واللہ ذوالفضل العظیم : جملہ معترضہ تذلیلی ہے ما سبق کی تائید کے لئے ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ بڑے فضل کا مالک ہے۔ ذوا مضاف الفضل العظیم موصوف صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اللہ کی صفت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
حضور ﷺ کی عالمگیر نبوت و رسالت۔
(ف 2) نبی ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے ہیں ان کی ہدایت کرتے اور نیز سوائے عرب کے جس قدر اور ممالک مشارق ومغارب ارض میں سارے جہان کی وہ ہدایت کرتے ہیں جو لوگ ابھی نہیں آئے زمانہ کے آخر تک جب تک دنیا باقی ہے اور دنیا میں آدمی ہیں اس وقت تک کے ہادی ہیں خواہ عرب ہوں خواہ عجم ، خواہ آزاد خواہ غلام ، اس وقت موجود ہوں یا بعد میں آنے والے، غرض آپ کی نبوت عرب عجم وغیرہ سب مخلوقات کے لیے عام ہے خدا بڑی عزت والا ہے غالب ہے جو اس پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا اس کی سزادینے والا حکیم ہے اپنے اوامر ونواہی اور مجاری قضا وقدر میں حکمت والا ہے اس نے حکم دیدیا ہے کہ سوائے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[4] یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عربوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام اقوام عالم کے لئے بھی ہے جو قیامت تک آنے والی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(4) یہ پیغمبر کی بعث اور اس کے ذریعہ سے گمراہی سے نکل کر کتاب و حکمت کی طرف آنا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہی رسول دوسرے ان پڑھوں کے واسطے بھی ہے وہ فارس کے لوگ وہ بھی نبی کی کتاب نہ رکھتے تھے حق تعالیٰ نے اول عرب پیدا کئے اس دین کے تھامنے والے پیچھے عجم میں ایسے کامل لوگ اٹھے۔
خلاصہ : یہ کہ بعض روایات میں چونکہ آخرین کی تفسیر میں فارس کا ذکر آیا ہے اس بنا پر حضرت شاہ صاحب (رح) نے وہ قول اختیار کیا ہے لیکن اس امر کی گنجائش ہے کہ تفسیر میں عام مفہوم کو اختیار کیا جائے تاکہ عموم میں اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3۔ اس میں تمام امت قیامت تک عربی و عجمی سب آگئے اور ان کو منھم باعتبار اسلام کے فرمایا کیونکہ مسلمان سب متحد ہیں۔
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے خالص کرلیتا ہے
4 ؎ مطلب یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ قیامت تک آنے والے لوگوں کے نبی و رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات اگر اٹھا لی جائے گی تو آپ ﷺ کا کام تو بہر حال جاری وساری رہے گا اور دعوت الی اللہ اسی طرح دی جاتی رہے گی اور جو لوگ اس کو قبول کریں گے وہ اپنے حصہ کا انعام حاصل کرتے رہیں گے۔ ایمان کی چاشنی اور مٹھاس سے وہی لوگ واقف ہوتے ہیں جو اس دعوت کو قبول کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ اللہ تعالٰ کا فضل ہے لیکن اس کے فضل ہونے سے مستفید کون ہوتا ہے ؟ وہی جو اس کو اختیار کرتا ہے اور جس کو وہ عطا کیا جاتا ہے اور سچے دل سے ایمان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (...And [ this Messenger is sent also ] to others of them who did not join them so far. And He is the All-mighty, the All-wise...62:3) The word 'akharin means 'other people' and the phrase لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ means 'those people who have not yet joined the unlettered people'. This refers to all those Muslims who will enter the fold of Islam until the Last Hour [ as transmitted by Ibn Zaid, Mujahid and others ]. This indicates that the succeeding generations of Muslims will be appended to the earlier generations of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 That is, the Apostleship of Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is not restricted only to the Arabs but is meant for other nations and races as well, who havc not yet joined the believers, but are going to be born till the Last Day. The word minhum (of them) in the original can have two meanings: (1) "That those other people will be of the ummis i.e. the non-Isaelite nations of the world;" and (2) "that they will be believers in Muhammad (upon whom be Allah s peace and blessings) , though they have not yet joined the believers, but will join them later on. " Thus, this verse…
Read the full tafseer →