Explained with ayahs 5–8
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم
ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے ؟ اسی طرح یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے ؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس درصال یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اسی لئے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے۔ (ترجمہ) یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 7
اس فقرے کے دو معنی ہیں۔ ایک عام اور دوسرا خاص۔ عام معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر توراۃ کے علم و عمل، اور اس کے مطابق دنیا کی ہدایت کا بار رکھا گیا تھا، مگر نہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور نہ اس کا حق ادا کیا۔ خاص معنی یہ ہیں کہ حامل توراۃ گروہ ہونے کی حیثیت سے جن کا کام یہ تھا کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس رسول کا ساتھ دیتے جس کے آنے کی صاف صاف بشارت توراۃ میں دی گئی تھی، مگر انہوں نے سب سے بڑھ کر اس کی مخالف کی اور توراۃ کی تعلیم کے تقاضے کو پورا نہ کیا۔
سورة الْجُمُعَة 8
یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے، اسی طرح یہ توراۃ کو…
Read the full tafseer →(آیت) مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا، اسفار، سفر بکسر سین کی جمع ہے، بڑی کتاب کو کہا جاتا ہے، سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت و نبوت امیین میں ہونا اور آپ کی بعثت کے تین مقاصد کا ذکر جن الفاظ میں آیتا ہے، پچھلی آسمانی کتاب تورات میں بھی آپ کا ذکر تقریباً انہی الفاظ وصفات کے ساتھ آیا ہے، جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ یہود آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہی آپ پر ایمان لے آتے، مگر ان کو دنیا کے جاہ و مال نے تورات کے احکام سے اندھا کردیا اور باوجود تورات کا علم ہونے کے عمل کے اعتبار سے ایسے ہوگئے جیسے بالکل جاہل ناواقف ہوں ان لوگوں کی…
Read the full tafseer →(مثل الذین حملوا ا لشورۃ ثم لم یحملوھا کمثل لحمار یحمل اسفارا بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ واللہ لا یھدی القوم الظلمین) (5)۔
(یہود کے پندار پر ضرب)۔ یہ یہود کے پندار کے ضرب لگائی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے حامل وہی ہو سکتے ہیں، کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہوسکتا، تو یہ گھمنڈ اب وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ اب ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھائے ہوئے ہے لیکن اسے کچھ خبر نہیں کہ ان کتابوں میں کیا ہے۔ (حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا) یعنی اس میں تو شبہ نہیں کہ ایک زمانے میں ان کے اوپر تورات کا بوجھ لادا گیا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →5۔ 1 اَ سْفَار سَفْر کی جمع ہے، معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے اس لئے کتاب کو سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے۔ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل و تحریف اور تغیر وتبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم وشعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم و شعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے…
Read the full tafseer →4: اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انہیں نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن وہ آپ پر ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →مثل الذین ............ القوم الظلمین (26 : 5) ” جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا “۔
بنی اسرائیل کو توریت دی گئی اور وہ نظریہ اور شریعت کی امانت کے حامل بنے۔ لیکن انہوں نے۔
لم یحملوھا (26 : 5) ” انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا “۔ کیونکہ اس امانت کو ادراک تفقہ اور فہم و فراست اور حکمت و دانائی کے ساتھ اٹھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ضمیر کی دنیا میں اور عمل کی دنیا میں اس ذمہ داری کو قبول…
Read the full tafseer →2 یعنی یہود پر " تورات " کا بوجھ رکھا گیا تھا اور وہ اس کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات و ہدایات کی کچھ پروانہ کی، نہ اس کو محفوظ رکھا، نہ دل میں جگہ دی، نہ اس پر عمل کر کے اللہ کے فضل و انعام سے بہرہ ور ہوئے۔ بلاشبہ تورات جس کے لوگ حامل بنائے گئے تھے حکمت و ہدایت کا ایک ربانی خزینہ تھا مگر جب اس سے منتفع نہ ہوئے تو وہ یہ مثال ہوگئی۔ نہ محقق شدی نہ دانشمند چار پائے بروکتابے چند ایک گدھے پر علم و حکمت کی پچاسوں کتابیں لاد دو ، اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے۔ اس بات سے کچھ سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدھے ہوئے…
Read the full tafseer →اب اگلی چار آیات میں بنی اسرائیل کی مثال کا آئینہ دکھا کر ہمیں ہمارے مجموعی طرزعمل سے آگاہ کیا جارہا ہے :
آیت 5{ مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّـوْرٰٹۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاط } ”مثال ان لوگوں کی جو حامل تورات بنائے گئے ‘ پھر وہ اس کے حامل ثابت نہ ہوئے ‘ اس گدھے کی سی مثال ہے جو اٹھائے ہوئے ہو کتابوں کا بوجھ۔“
جب وہ لوگ حامل تورات ہو کر بھی تورات سے بےگانہ رہے تو ان میں اور اس گدھے میں کیا فرق رہ گیا جو اپنی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ ظاہر ہے ایک گدھے پر آپ مکالماتِ افلاطون لاد دیں یا انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کی تمام جلدیں رکھ دیں…
Read the full tafseer →9 پڑھے لکھے یہود کا اخلاقی انحطاط :۔ اس آیت اور اس سے آگے کی آیات میں براہ راست یہود کو خطاب کیا گیا ہے۔ جو اپنے آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتے تھے۔ انہوں نے تورات کی کئی شرحیں بھی لکھ رکھی تھیں۔ جنہیں تلمود کہتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اور بہت سے تورات کے عالم بھی تھے۔ عرب بھر میں ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ دوسرے سب لوگوں کو امی، ان پڑھ، بدھو کہتے تھے اور انہیں حقیر سمجھتے تھے لیکن ان کی عملی زندگی کا یہ حال تھا کہ وہ بےعمل بھی تھے اور بدعمل بھی۔ دنیا کے لالچ میں پھنس کر اللہ کو بھول چکے تھے۔ اللہ کے صرف ان احکام پر عمل کرتے تھے جو ان کی طبیعت اور…
Read the full tafseer →5۔ (آیت) ” الظلمین “۔ سے مراد وہی لوگ ہیں، جو دین حق سے عنادرکھتے ہیں۔ اور اسی خبث وعناد کی بناء پر کبھی دلائل وحقائق پر غور نہیں کرتے۔ ایسوں کو سنا دیا گیا کہ جب تک وہ اپنی طرف سے عناد ترک نہ کریں گے، انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ (آیت) ” مثل .... کمثل الحمار “۔ یہ مثلیت اور تشبیہ نفع سے محرومی کے لحاظ سے ہے۔ جس طرح کتابوں کے بوجھ سے لدا ہوا گدھا کتابوں کے نفع سے محروم محض رہتا ہے، اسی طرح یہ اہل توریت، توریت پر عمل نہ کرنے کے باعث، اس کے فوائد سے کورے رہ گئے۔ (آیت) ” کمثل الحمار “۔ حمار گدھے کی تخصیص اس لیے کہ جانوروں میں اس کی بلادت اور نافہمی ضرب المثل کی حد تک مشہور ہے، اور اہل عرب کو بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفاراً بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ واللہ لا یھدی القوم الظالمین .
” جن لوگوں کو توریت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ‘ پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ‘ انکی حالت اس گدھے کی طرح ہے ‘ جو اپنے اوپر بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو ‘ بری حالت ہے ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔ “
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا : یعنی ان کو توریت کی تعلیم دی گئی اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا : یعنی اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا اور اس سے فائدہ اندوز نہیں ہوئے۔
یَحْمِلُ اَسْفَارًا :…
Read the full tafseer →جن لوگوں کو توریت پر عمل کرنے اور رسول اکرم کی نعت و صفت ظاہر کرنے کا حکم دیا گیا تھا پھر انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی ان کی حالت اس گدھے کی طرح ہے جس پر بہت سی کتابیں لدی ہوئی ہوں مگر وہ ان کتابوں کے نفع سے محروم ہو اسی طرح یہود توریت کے نفع سے محروم ہیں۔
ان یہودیوں کی بری حالت ہے جنہوں نے رسول اکرم اور قرآن حکیم کو جھٹلایا اور ایسے یہودیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں فرمایا کرتا۔
Read the full tafseer →1۔ مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرٰۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا۔۔۔۔۔:”اسفارا“”سفر“ کی جمع ہے ، بڑی کتاب۔ ”سفر یسفر“ (ن) ”الکتاب“ لکھنا۔ ”السافر ای الکاتب“ جمع اس کی ”سفرۃ“ ہے ، جیسا کہ فرمایا :(بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍم بَرَرَۃٍ) (عبس : 15، 16)”ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ جو معزز ہیں ، نیک ہیں“۔
2۔ بعض اہل علم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تین باتوں میں یہود کا رد فرمایا، انہوں نے فخر کیا کہ وہ اہل کتاب ہیں جب کہ عرب امی ہیں ، تو اس کی تردید کرتے ہوئے انہیں اس گدھے کے ساتھ تشبیہ دی جو بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ انہوں نے فخر کیا کہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب ہیں ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →جب یہودیوں نے تورات پر عمل کو ترک کردیا اور وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک مثال بیان فرمائی۔
حملوا التورئۃ انہیں اس پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے جرجانی نے کہا، یہ حمالہ سے مشتق ہے جس کا معنی کفالت ہے، یعنی انہیں تورات کے احکام کا ضامن بنایا گیا۔ کمثل الحمار یحبل اسفاراً یہ سفر کی جمع ہے اس سے مراد بڑی کتاب ہے۔ جب اسے پڑھا جاتا ہے تو یہ معنی سے پردہ کو ہٹا دیی ہے۔ میمون بن مہران نے کہا : گدھا نہیں جانتا کہ اس کی پشت پر کتابیں ہیں یا گوبر ہے یہودیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تنبیہ ہے کہ جو کتاب اٹھائے وہ اس کے معانی…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوہا۔ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ یعنی یہودیوں نے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوہا سے مراد ہے کہ ان یہودیوں کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ اس تورات میں ہے اسے لے لو یعنی اس پر عمل کرو۔ مگر انہوں نے اس کے مطابق عمل نہیں کیا۔
3۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملو التوراۃ ثم لم یحملوہا کمثل الحمار یحمل اسفارا۔ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا…
Read the full tafseer →[مَثَلُ الَّذِينَ : ان لوگوں کی مثال جن سے ] [حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ : اٹھوائی گئی تورات ] [ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا : پھر انھوں نے نہیں اٹھایا اس کو ] [كَمَثَلِ الْحِمَارِ : اس گدھے کی مثال کی مانند ہے ] [يَحْمِلُ اَسْفَارًا : جو اپنے اوپر لادتا ہے کچھ کتابیں ] [بِئْسَ : کتنی بری ہے ] [مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ : اس قوم کی مثال جنھوں نے ] [كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ : جھٹلایا اللہ کی نشانیوں کو ] [وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي : اور اللہ ہدایت نہیں دیتا ] [الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے لوگوں کو ]
Read the full tafseer →یہودیوں کی ایک مثال اور ان سے خطاب کہ جس موت سے بھاگتے ہو وہ ضرور آکر رہے گی
ان آیات میں یہود کی بےدینی اور ان کی دنیا و آخرت کی بد حالی بیان فرمائی ہے، یہود حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے جن کا لقب اسرائیل تھا اور اسی مناسبت سے یہودیوں کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان میں جو انبیاء بھیجے ان میں حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما الصلاۃ والسلام زیادہ معروف ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے توراۃ شریف عطا فرمائی، جس میں یہودیوں کے لئے احکام تھے، ان میں اہل علم بھی تھے اور اہل عمل بھی جیسا کہ سورة المائدہ میں فرمایا ہے : ﴿النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →6:۔ ” مثل الذین حملوا “ یہ یہودیوں کی بد عملی کی تمثیل ہے اور مشرکین کے لیے زجر ہے کہ تم ان یہودیوں کی مانند نہ ہوجاؤ جنہیں تورات دی گئی مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لاد دی جائیں تو اس سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اے اہل عرب ! تم اس حمار کی مانند نہ بنو اور اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید کا دعوے مان لو۔ تمہارے پاس اللہ کا سچا رسول آیا اور اللہ کی طرف سے اپنے ساتھ کتاب بھی لایا ہے اس پر ایمان لے آؤ اور یہودیوں کی طرح بدعملی کی راہ اختیار کر کے حمار نہ بنو۔
Read the full tafseer →ربط آیات :
ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ بیان ہوئی۔ پھر اللہ کے آخری نبی کی امیوں کی طرف بعثت اور ان کے فرائض کا ذکر ہوا۔ اللہ نے امیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی اپنے رسول کو مبعوث فرمایا۔ گزشتہ سورة میں اللہ نے فرمایا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل سے خطاب کرکے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔ اس میں اہل ایمان کے لئے تنبیہ ہے کہ کہیں وہ بنی اسرائیل کی طرف اپنے نبی کے لئے اذیت کا باعث نہ بنیں۔ اہل کتاب ہونے کے باوجود ان میں خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے وہ اللہ کے پیغمبروں کو ستاتے تھے ، لہٰذا…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىۃَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْہَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا 0 ۭ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ 5
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰ ۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا ط بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 5)
(مثال ان لوگوں کی جن پر تورات لادی گئی پھر انھوں نے اس کو نہ اٹھایا، اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو، کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
یہود کے پندار پر چوٹ
نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دین کی حامل امت یہود تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں یہودیوں کی طرف صرف اشارہ تھا اب کھل کر یہودیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اپنے پیغام کے لیے منتخب فرما کر نبی ﷺ اور لوگوں پر عظیم فضل فرمایا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ بالخصوص یہودی آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم کرتے اور نبوت کے کام میں آپ کے دست وبازو بنتے۔ لیکن انہوں نے حسد و بغض کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ آپ کی مخالفت کی اور کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس تورات موجود تھی اور ہے۔ یہودیوں کے تحریف کرنے کے باوجود اس میں بیشمار ایسے دلائل ہیں کہ جن سے نبی آخرالزماں ﷺ کی نبوت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ لیکن یہودیوں نے ان دلائل کو جان بوجھ کر اس…
Read the full tafseer →عدم عمل میں گدھے سے تشبیہ دی :
5 : مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰۃَ (جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی حالت) جن کو اس کے علم کا ذمہ دار اور اس کے احکام پر عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا (پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا) پس گویا انہوں نے اس حکم کی ذمہ داری لی ہی نہیں) کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (اس گدھے جیسی ہے جو اپنے اوپر بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو) اسفار جمع سفر : بڑی کتاب۔
نحو : یحمل حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ نمبر 2۔ صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ کیونکہ حمار حکمًا اس قول میں لئیم کی طرح ہے۔…
Read the full tafseer →4 ۔” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآئ “ یعنی اسلام اور ہدایت ” واللہ ذوالفضل العظیم “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 8۔ اوپر گزر چکا ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں آنحضرت ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت ان کے نام کی برکت سے فتح کی دعا یہ لوگ مانگا کرتے تھے توراۃ میں جو آپ ﷺ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادے سے آن کر رہے تھے کہ جب نبی آخر الزمان ﷺ مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے پورے دشمن ہوگئے اور تورات کی…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا جن کے اندر اپنا نبی امی مبعوث فرمایا تو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں خوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا اس سے مراد نبی امی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین وآخرین پر فوقیت لے گئے تھے حتی کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے حتی کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے۔ تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہودونصاری میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور انکو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا تو ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
علم بغیر عمل کے بیکار ہے
قول باری ہے (مثل الذین حملوا التوراۃ ثم لم یحملو ھا کمثل الحمار یحمل اسفار، جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں)
ایک روایت کے مطابق اس سے یہود مراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے تورات کا علم حاصل تو کرلیا لیکن اس پر عمل پیرا نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گدھے کے مشابہ قرار دیا جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ کیونکہ انہوں نے بھی اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جس کا انہیں حامل بنایا گیا تھا جس طرح گدھا اپنی پیٹھ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
11 ۔ یہود کے حسد پر تعریض کا ذکر وبیان : سو یہود جو محض حسد وعناد کی بنا پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت رسالت کا انکار کرتے تھے کہ ان کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے اندر کیوں ہوگئی، سو ان کے اس زعم باطل پر رد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کاف جل ہے ہو جس کو چاہے عطا فرمائے، یعنی یہ عظیم الشان مرتبہ جس سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو نوازا گیا اور پھر آپ کے توسط سے آپ کیا مت کو اس کے انوار و برکات سے نوازا گیا یعنی نور نبوت اور دین حق کی نعمت جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے یہ سب محض اللہ پاک کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے، سو یہ سب اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
یہود کی مذمت
تشریح : یہود کے حالات بڑی وضاحت سے بہت دفعہ بیان کیے جا چکے ہیں۔ یہاں پھر اس لیے ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے بڑے سخت دشمن تھے اور اب بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ ہدایت کی کتاب تورات ان کو بھی دی گئی تھی مگر انہوں نے یوں کیا کہ جیسے کتاب گدھے پر لا دی گئی ہو۔ جیسے گدھے کو اپنے اوپر لادی گئی کتابوں کا کوئی شعور نہیں ہوتا انہوں نے بھی اپنی دی گئی کتاب سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب الزام دیتے ہیں دوسروں کو۔ تو ان کو صاف صاف بتا دو کہ ہم مسلمان تو رب قدوس کو مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ملے گی اس لیے قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر تم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 7 کیا وجہ ہے کہ ان مسلمان علماء کا حال اس سے مختلف ہو جو قرآن و حدیث کا علم رکھتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے یا یہودیوں کی طرح ان کی من مانی تاویلیں کرتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یہود کے عالم ایسے تھے کتاب پڑھی اور دل میں کچھ اثر نہ ہوا، اللہ ہم کو پناہ دے۔ “ (واضح)8 یعنی انہیں اپنے علم سے فائدہ اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →(62:5) مثل الذین حملوا التوریۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارا۔
حملوا ماضی جمع مذکر غائب تحمیل (تفعیل) مصدر۔ ان پر لادا گیا۔ ان سے اٹھوایا گیا۔ یعنی ان کو تورات کا علم دیا گیا اور اس پر عمل کرنے کا ان کو مکلف بنایا گیا ۔ ضمیر نائب فاعل حملوا : الذین کی طرف راجع ہے۔ التوریۃ مفعول فعل حملوا کا ۔
ثم : التراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ لم یحملوا مضارع مجزوم نفی جحد بلم حمل (باب ضرب) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا اور اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
ک تشبیہ کا ہے۔ مثل الحمار مضاف مضاف الیہ۔
اسفارا جمع سفر کی بمعنی کتابیں یحملکا مفعول اول۔ یحمل اسفارا یہ صفت ہے الحمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بےعمل علمائ۔
(ف 1) اوپر گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں نبی ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت حضور کے نام کے وسیلہ کے ساتھ فتح کی دعایہ لوگ مانگا کرتے تھے تورات میں جو آپ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے کہ جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادہ سے آن کررہے تھے کہ جب نبی آخزالزمان مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخزالزمان کے پورے دشمن ہوگئے اور…
Read the full tafseer →[5] یہاں یہود کے پندار پر ضرب لگائی گئی ہے کہ اگر وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ کتاب و شریعت کے وہی حامل ہوسکتے ہیں اور کوئی دوسرا اس شرف میں ان کا حریف نہیں ہوسکتا تو یہ گھمنڈ وہ اپنے دماغ سے نکال دیں۔ بلاشبہ وہ تورات کے حامل بنائے گئے تھے لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات کی کچھ پروا نہ کی۔ چناچہ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے اور اس لئے ان کے نفع سے محروم رہتا ہے۔ اس طرح یہود تورات کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لئے آئی ہے اور کیا چاہتی ہے۔ لہذا وہ اس کے فوائد سے کورے رہ گئے۔
[6] یعنی تورات میں جو بشارتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(5) ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کے علم وعمل کا بار ڈالا گیا تھا پھر انہوں نے اس توریت پر عمل کے بار کو نہ اٹھایا اس گدھے کی سی مثال ہے جو بہت سی بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جھٹلایا ان کی بہت بری مثال ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں فرماتا اور ان کو ہدایت کی توفیق نہیں دیا کرتا۔ یہ ان یہود کے علماء کی مثال ہے جن کو توریت کا علم دیا گیا تھا اور ان کو احکامالٰہی پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور نبی کریم ﷺ کے متعلق جو پیشین گوئیاں توریت میں مذکور تھیں ان پر پردہ ڈالا اور ایک فریق نے مخالف بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ یہ اس لئے کہ گدھا ان کتب کے نفع سے محروم ہے اسی طرح اصل مقصود اور نفع علم کا عمل ہے جب یہ نہ ہوا اور صرف تحصیل وحفظ علم میں تعب ہی تعب ہوا تو بالکل ایسی ہی مثال ہوگئی اور گدھے کی تخصیص اس لئے کہ وہ جانوروں میں بیوقوف مشہور ہے تو اس میں زیادہ تنفیر ہوگئی۔
Read the full tafseer →تورات بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، اس کے عاملین کی حالت ِ زار کا بیان
5 ؎ قرآن کریم کے تخاطب کا انداز عین حکمت پر مبنی ہے اور اس کے اندر پیار اور محبت کی چاشنی بھری گئی ہے ۔ بات کرنے کا انداز ایسا اختیار کرتا ہے کہ بات کسی کی کرتا ہے اور مخاطب کسی سے ہوتا ہے تاکہ جس کو مخاطب کیا جا رہا ہے وہ کسی حال میں چڑ نہ کھائے اور حقیقت حال اس کے کانوں تک پہنچا دی جائے۔ اس جگہ بات سمجھانا دراصل اہل اسلام کو ہے لیکن نام ان لوگوں کا لیا جارہا ہے جو بد عمل تھے اور اپنی بد اعمالیوں کا رزلٹ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ وہ کون تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اہل یہود ہی تھے اور ان ہی کو تورات اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا (The example of those who were ordered to bear (the responsibility of acting upon) the Torah, then they did not bear it, is like a donkey that carries a load of books...5) The word asfar is the plural of sifr, which means a 'large book'. The preceding verses described that the Holy Prophet ﷺ was raised up among the unlettered people having three main objectives of his mission. The previous Divine Book Torah described the Holy Prophet ﷺ almost with the same qualities as are described in…
Read the full tafseer →7 This sentence has two meanings, a general meaning and a special meaning. The general meaning is that the people who were entrusted with the knowledge and practice of the Torah and with the responsibility of guiding the world according to it, neither understood this reapon:ibility nor discharged it as they should have. The special meaning is Being the bearers of the Torah these people should have been fore-most to join hands with the Messenger, good news about whose advent had been already given in the Torah, but, instead, they have been in the forefront to oppose him and have thus failed to…
Read the full tafseer →