Explained with ayahs 5–8
کتابوں کا بوجھ لادا گدھا اور بےعمل عالم
ان آیتوں میں یہودیوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے کہ انہیں تورات دی کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے تو اسے یہ تو معلوم ہے کہ اس پر کوئی بوجھ ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے ؟ اسی طرح یہود ہیں کہ ظاہری الفاظ تو خوب رٹے ہوئے ہیں لیکن نہ تو یہ معلوم ہے کہ مطلب کیا ہے ؟ نہ اس پر ان کا عمل ہے بلکہ اور تبدیل و تحریف کرتے رہتے ہیں، پس درصال یہ اس بےسمجھ جانور سے بھی بدترین، کیونکہ اسے تو قدرت نے سمجھ ہی نہیں دی لیکن یہ سمجھ رکھتے ہوئے پھر بھی اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اسی لئے دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے۔ (ترجمہ) یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے…
Read the full tafseer →سورة الْجُمُعَة 10
یہ نکتہ قابل توجہ ہے۔ " اَے یہودیو " نہیں کہا ہے بلکہ " اَے وہ لوگو جو یہودی بن گئے ہو " یا " جنہوں نے یہودیت اختیار کرلی ہے " فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو موسیٰ ؑ اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا، اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیداوار ہے۔ یہ اس خاندان کی طرف منسوب ہے جو حضرت یعقوب ؑ کے چوتھے بیٹے یہوداہ کی نسل سے تھا۔ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب سلطنت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ خاندان اس ریاست کا مالک ہوا جو یہودیہ کے نام سے موسوم ہوئی، اور بنی…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ، یہود اپنے کفر و شرک اور ساری بد اخلاقیوں کے باوجود یہ دعویٰ بھی رکھتے تھے (آیت) نحن ابنآو اللہ و احبآوہ، یعنی ہم تو اللہ کی اولاد اور محبوب ہیں اور اپنے سوا کسی کو جنت کا مستحق نہ کہتے تھے بلکہ یوں کہا کرتے تھے (آیت) لن یدخل الجنة الامن کان ھودا، گویا وہ آخرت کے عذاب سے اپنے آپ کو بالکل محفوظ و مامون سمجھتے اور جنت کی نعمتوں کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کا یہ ایمان ہو کہ آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے ہزاروں…
Read the full tafseer →(قل یایھا الذین ھادو ان زعمتم انکم اولیاء اللہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین) (6)۔
(یہود کے پندار پر ایک اور ضرب)۔ یہ ان کے اسی پندار پر ایک اور ضرب لگائی کہ اگر تمہارا زعم یہ ہے کہ تم خدا کے محبوب ہو تو اس محبت و محبوبیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمہارے اندر خدا کی راہ میں جان دینے کا شوق و ولولہ ہو۔ محب کو سب سے زیادہ آرزو و محبوب کی ملاقات کی ہوتی ہے۔ وہ اس چیز سے جان نہیں چراتا جو محبوب سے ملاقات کی راہ کھولے، لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ موت کا مقابلہ کرنے میں تم سے زیادہ بزدل کوئی نہیں۔ سورة صفت کی آیت 4، 5 میں ان کے حال پر جو تبصرہ فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ سورة حشر میں…
Read the full tafseer →6۔ 1 جیسے وہ کہا کرتے تھے کہ ' ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں (وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ۭقُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۡ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ 18) 5۔ المائدہ :18) اور دعویٰ کرتے تھے کہ ' جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا نصرانی ہوگا ' (وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ۭ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُمْ اِنْ…
Read the full tafseer →5: یہ بات سورة بقرہ : 95 میں بھی فرمائی گئی ہے۔ یہ بہت آسان چیلنج تھا جو یہودیوں کو دیا گیا تھا، ان کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ سامنے آ کر یہ کہہ دیں کہ ہم موت کی تمنا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی یہ کہنے کے لیے آگے نہیں بڑھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا ہوا چیلنج ہے، اس لیے جونہی وہ یہ تمنا کریں گے، واقعی انہیں موت آجائے گی۔
Read the full tafseer →قل یایھا الذین .................... کنتم تعملون (8) (26 : 6 تا 8) ” ان سے کہو ، ” اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو ، اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمناکرو۔ اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو “۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں ، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ ان سے کہو ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔
مباہلہ کے معنی یہ ہیں کہ فریقین آمنے سامنے کھڑے ہوجائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 یعنی اس گدھے پن اور جہل و حماقت کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ بلا شرکت غیرے ہم ہی اللہ کے دوست اور ولی، اور تنہا جنت کے حق دار ہیں بس دنیا سے چلے اور جنت میں پہنچے۔ لیکن اگر واقعی دل میں یہ ہی یقین ہے اور اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ضروری تھا کہ دنیا کے مکدر عیش سے دل برداشتہ ہو کر محبوب حقیقی کے اشتیاق اور جنت الفردوس کی تمنا میں مرنے کی آرزو کرتے۔ جس کو یقینا معلوم ہوجائے کہ میرا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے اور کوئی خطرہ نہیں۔ وہ بیشک مرنے سے خوش ہوگا اور موت کو ایک پل سمجھے گا جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے اس کی زبان پر تو یہ الفاظ ہوں گے۔ " غَدًا نَلْقَی اِلَّاحِبَّۃٌ، مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ، اور یَا…
Read the full tafseer →آیت 6{ قُلْ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْآ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّــکُمْ اَوْلِیَــآئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ اے وہ لوگو جو یہودی ہوگئے ہو ‘ اگر تمہیں واقعی یہ گمان ہے کہ بس تم ہی اللہ کے دوست ہو باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر“
زعم کا لفظ ”خیال خام“ کے معنی میں ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں چیز کا بڑا زعم ہے۔ تو اگر تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے چہیتے اور محبوب ہونے کا ایسا ہی زعم ہے :
{ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ } ”تو تم موت کی تمنا کرو ‘ اگر تم واقعی سچے ہو۔“
اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور دوست ہو تو تمہیں اپنے دوست…
Read the full tafseer →11 ان سب قباحتوں کے باوجود یہ سمجھتے تھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم ہی تمام دنیا میں اس کے چہیتے اور پیارے ہیں۔ مرنے کے بعد صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے۔ باقی سب لوگ دوزخ میں جائیں گے۔ نیز یہ کہ مرتے ہی ہم سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کو مردود قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنا چاہیے تاکہ اس دنیا کے جھنجھٹوں اور جنجالوں سے تمہیں نجات مل جائے۔
Read the full tafseer →6۔ (اپنے دعوی محبوبیت مطلقہ میں) (آیت) ” یایھا الذین ھادوا “۔ خطاب ان اہل عرب سے ہے، جو یہود کے طور طریقے، وضع ومعاشرت، شعائر و عقائد اختیار کرتے کرتے رفتہ رفتہ خود بھی یہودی بن گئے تھے، جیسے ہندوستان میں انگریزوں کے زمانہ عروج خصوصا شروع انگریزی دور میں، ہزار ہا اہل ہند نے انہیں کا تمدن اختیار کرکے رفتہ رفتہ اپنے کو ” کر شٹان “ بنالیا تھا۔ یہودی مذہب اصلا تبلیغی مذہب نہیں، نسلی مذہب تھا، صرف نسل اسرائیل کے لیے محدود، لیکن یہود کے علم وفضل، ثروت و تمدن سے مرعوب ومسحور ہو کر کثرت سے مشرکین عرب نے بھی چپکے چپکے دبے پاؤں اپنے اوپر یہودیت (تہود) طاری کرلی تھی، (آیت) ” انکم ...... الناس “۔ یہود نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ…
Read the full tafseer →قل یایھا الذین ھادوا ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین
آپ کہہ دیجئے اے یہودیو ! اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ بلا شرکت غیرے تم اللہ کے (محبوب اور) دوست ہو تو (اس دعوے کے ثبوت کے لیے) تم موت کی آرزو کرو (تاکہ تم اللہ کے قرب میں جلد پہنچ جاؤ) اگر تم سچے ہو (تو ایسا کر کے دکھاؤ)
اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآءُِ ﷲِ : یہودی کہتے تھے ہم اللہ کے دوست اور چہیتے ہیں۔
مِنْ دُوْنِ النَّاسِ : دوسروں کی شرکت کے بغیر یعنی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی شرکت کے بغیر۔
فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ : یعنی اللہ سے صرف اپنی موت کی دعا کرو تاکہ اس مصیبت کے گڑھے سے نکل کر مقام عزت میں…
Read the full tafseer →آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو دین اسلام سے منہ موڑ کر یہودیت پر قائم ہیں اور بنی یہودا ہیں کہ اگر تم بلا شرکت نبی کریم اور آپ کے اصحاب کے اللہ کے مقبول ہو تو پھر تم اس دعوے کی تصدیق کے لیے ذرا موت کی تمنا کرو، چناچہ حضور نے ان سے فرمایا کہ کہو اللہ تعالیٰ ہمیں موت دے اللہ کی قسم ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو یہ کہے مگر یہ کہ اس کو فورا موت نہ آجائے، چناچہ وہ لوگ اس بات سے ڈرے اور انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
قُلْ یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (94 تا 96) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
جب یہودیوں نے فضیلت کا دعویٰ کیا اور کہا : نحن ابنوآء اللہ واحبآء وہ (المائدہ :18) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان زعمتم انکم اولیآء للہ من دون الناس تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اولیاء کو عظمت و شان حاصل ہے۔ فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ تاکہ تم بھی وہاں پہنچ جائو جہاں اولیاء اللہ پہنچے ہیں۔ ولایتمنونہ ابداً بما قدمت ایدیھم۔ جو انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی تکیذب کر رکھی ہے اس لئے وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اگر وہ آرزو کرتے تو ضرور مر جاتے۔ اس میں ان کے قول کا بطلان ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیارے ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا اس کا بطلان ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم نے ارشاد…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان زعمتم انکم اولیاء للہ۔ اگر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ بلاشرکت غیرے تم اللہ کے محبوب اور دوست ہو یعنی وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں پھر فرمایا آیت ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیہم وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، بوجہ ان اعمال کفریہ کے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں یعنیہ وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں پھر اس کو چھپاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں۔
Read the full tafseer →[قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ : آپ کہہ دیجئے اے وہ لوگو جو ] [هَادُوْٓا : یہودی ہوئے ] [ان زَعَمْتم : اگر تم کو زعم ہے ] [انكُمْ اَوْلِيَاۗءُ للّٰهِ : کہ تم لوگ دوست ہو اللہ کے ] [مِنْ دُوْنِ النَاسِ : (دوسرے) لوگوں کے بجائے ] [فَتمنَّوُا الْمَوْتَ : تو تم لوگ تمنا کرو موت کی ] [ان كُنْتم صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ]
(آیت۔ 6) باب تفعل اور باب تفاعل میں فعل ماضی میں جمع مذکر غائب کا صیغہ اور فعل امر میں جمع مذکر مخاطب کا صیغہ، دونوں ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ یہاں فَتَمَنَّوْا باب تفعل سے ہے اور بظاہر اس میں بھی دونوں امکان ہیں لیکن آیت کی عبارت صاف بتارہی ہے کہ یہ فعل ماضی نہیں ہے بلکہ…
Read the full tafseer →یہودیوں کا اپنے بارے میں یہ گمان تھا کہ ہم اللہ کے دوست ہیں اور ہمارے سوا اللہ کا کوئی دوست نہیں بلکہ یوں کہتے تھے کہ ﴿نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ 1ؕ﴾ (ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں) اور یوں بھی کہتے تھے کہ دارالآخرۃ صرف ہمارے لئے ہے ان کی ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿قُلْ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 006﴾ (آپ فرما دیجئے کہ اے یہودیو اگر تم نے یہ خیال کیا ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگ اس دوستی میں شریک نہیں تو تم موت کی تمنا کرو اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة الجمعۃ :
تکمیل بشارت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) بہ بعثت نبی اکرم ﷺ وتنبیہ بر شقاوت اہل کتاب بوجہ انحراف از ایمان واتباع نبی آخر الزمان ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” گزشتہ سورت میں خاص طور پر حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی بعثت کا اہم مقصد یہ بیان کیا گیا تھا آنے والے پیغمبر آخرالزمان محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ونبوت کی بشارت سنانا تھا اور بنی اسرائیل کو اس بات پر مامور کرنا تھا کہ جب وہ نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوں تو ان پر وہ لوگ لوگ ایمان لائیں تو اب اس سورت میں اللہ کی پاکی اور حمد وثناء بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا ارشاد ہے پاکی بیان کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7:۔ ” قل یا ایہا الذین ھادوا “ یہ یہود کو دعوت مباہلہ ہے تم خاتم النبیین کی بعثت سے پہلے فخر کیا کرتے تھے اب وہی رسول آگیا ہے، تو محض اپنی دنیوی ریاست کے تحفظ کی خاطر اس پر ایمان نہیں لاتے ہو، اور دعوی کرتے ہو کہ تم ہی حق پر ہو اور تم اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہو تو آؤ مباہلہ کرلو۔ دونوں فریق ایک کھلے میدان میں نکل کر ایک دوسرے پر بد دعا کریں کہ اللہ جھوٹے کو ہلاک کردے۔ مگر یہود مباہلہ کے لیے ہرگز تیار نہ ہوں گے۔ کیونکہ انہیں پانے کرتوت معلوم ہیں، اور وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر پیغمبر (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مباہلہ کے لیے نکلے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔ فادعوا بالموت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ بیان کرنے کے بعد نبی آخر الزمان کی بعثت کا ذکر ہوا۔ یہ بعثت عرب کے امیوں کی طرف بالخصوص اور باقی لوگوں کے لئے بالعموم ہے۔ پھر اہل کتاب میں سے یہودیوں کا ذکر ہوا ، جنہیں تورات کا حامل بنایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ اللہ نے ان کی مثال گدھے کے ساتھ دی جس پر کتابوں کا دفتر لدا ہوا ہے مگر وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح یہودی بھی اللہ کی کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے بےانصاف لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی۔
موت کی تمنا :
اہل کتاب کا دعویٰ تھا لن یدخل الجنۃ ……………اونصری…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ ہَادُوْٓا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِيَاۗءُ لِلہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 6
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ترکیب : مثل الذین مبتدا کمثل الحمار خبرہ یحمل الجملۃ اماحال والعامل فیھا معنی المثل اوصفۃ للحمارا ولیس المراد بہ معنیافھوفی حکم النکرۃ کما فی ھذا القول ولقد امر علی اللئیم یسینی مثل القوم فاعل بئس الذین فی موضع خبرلغتا للقوم والمخصوص بالذم محذوف ای ہذا المثل ویمکن ان یکون فی موضع رفع تقدیرہ ئبس مثل القوم مثل الذین فمثل المحذوف ھوالمخصوص بالذم وقدحذف اوقیم المضاف الیہ مقامہ۔ (ابن الصائغ) وقدر العلامۃ ابوالمسعود وھذا ای بئس مثلاً مثل القوم الذین کذبوا علی ان التمیز محذوف والفاعل المفسربہ مستتر ومثل القوم ھوالمخصوص بالذم اولموصول صفۃ لقوم۔ فانہ ملاقیکم الجملہ خبران ودخلت الفاء لمافی الذی شبہ…
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْآ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّـکُمْ اَوْلِیَـآئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الجمعۃ : 6)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے لوگو ! جو یہودی بن گئے ہو اگر تمہارا گمان ہے کہ دوسروں کے مقابل میں تم ہی اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہو، تو موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ )
خطاب کے الفاظ کی وضاحت
سب سے پہلے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے خطاب کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ یہ نہیں فرمایا گیا، اے یہودیو ! بلکہ یہ فرمایا گیا ہے اے لوگو ! جو یہودی بن گئے ہو۔ یعنی جن لوگوں نے یہودیت اختیار کرلی ہے۔ یہ درحقیقت یہودی کہلانے والے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور ظالم ہوئے ان میں سر فہرست یہودی ہیں۔ اس لیے انہیں ایک بار پھر براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو یہودی کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ انہیں ” ھَادُوْ “ کے الفاظ سے مخاطب کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ اے لوگو ! جو یہودی بن چکے ہو اگر تمہیں اس بات کا خیال ہے کہ تم اللہ کے چہیتے ہو تو پھر موت کی تمنا کرو بشرطیکہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ لیکن یہ لوگ موت کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں، یہ اپنے مظالم کو بھول سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ظالموں کے ایک ایک ظلم کو اچھی…
Read the full tafseer →6 : قُلْ یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا (آپ کہہ دیجئے اے یہودیو ! ) ھاد۔ جبکہ وہ یہودیت اختیار کرلے۔ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآ ئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ بلاشرکت غیرے تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو تو تم موت کی آرزو کرو (تاکہ تم جلد قرب میں پہنچ جائو) اگر تم سچے ہو) ۔ یہود کہا کرتے تھے۔ نحن ابناء اللہ واحبائٗ ہُ ۔ ] المائدہ : 18[ یعنی اگر تمہاری بات درست ہے۔ اور تمہیں یقین ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمنا کرو کہ وہ تمہیں موت دے کر جلدی سے اپنی عزت و مکرمت کے مقام میں منتقل کر دے جو اس نے اپنے اولیاء…
Read the full tafseer →5 ۔” مثل الذین حملوا التوراۃ “ یعنی اس کے ساتھ قائم ہونے اور اس عمل کے کرنے کے مکلف بنائے گئے۔ ” لم الم یحملوھا “ جو اس میں ہے اس پر عمل نہیں کیا اور اس کا حق ادا نہیں کیا۔ ” کمثل الحمار یحمل اسفارا “ یعنی علم کی کتابیں اس کا واحد سفر ہے۔ فراء کہتے ہیں وہ بڑی کتابیں ہیں یعنی جیسے گدھے ان کتابوں کو اٹھاتے ہیں اور جو اس میں ہے اس کو نہیں جانتے اور اس سے نفع نہیں اٹھا سکتے۔ اسی طرح یہود توریت پڑھتے ہیں اور اس سے نفع نہیں اٹھاتے اس لئے کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی ہے۔ ” بئس مثل القوم الذین کذبوا بآیات اللہ واللہ لا یھدی القوم الظالمین “ جن لوگوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 8۔ اوپر گزر چکا ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں آنحضرت ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت ان کے نام کی برکت سے فتح کی دعا یہ لوگ مانگا کرتے تھے توراۃ میں جو آپ ﷺ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادے سے آن کر رہے تھے کہ جب نبی آخر الزمان ﷺ مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے پورے دشمن ہوگئے اور تورات کی…
Read the full tafseer →بنا بریں فرمایا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعایل کے دوست ہو ( فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ) تو تم موت کی آرزو کرو۔ اور یہ بڑا خفیف سامعاملہ ہے کیونکہ اگر انہیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس عوت موت کی تمنا، پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →یہود کی خام خیالی
قول باری ہے (قل یایھا الذین ھادوا ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صادقین، ان سے کہو ” اے لوگوجو یہودی بن گئے ہو ! اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو ) تا قول باری (واللہ علیم بالظلمین، اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے)
ایک روایت کے مطابق یہودا اس گھمنڈ میں مبتلا تھے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر صرف یہی لوگ اللہ کے پیارے اور چہیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی ﷺ کو یہ بتادیا کہ اگر یہ موت کی تمنا کریں گے تو مرجائیں گے۔
اس آیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
11 ۔ یہود کے حسد پر تعریض کا ذکر وبیان : سو یہود جو محض حسد وعناد کی بنا پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت رسالت کا انکار کرتے تھے کہ ان کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے اندر کیوں ہوگئی، سو ان کے اس زعم باطل پر رد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کاف جل ہے ہو جس کو چاہے عطا فرمائے، یعنی یہ عظیم الشان مرتبہ جس سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو نوازا گیا اور پھر آپ کے توسط سے آپ کیا مت کو اس کے انوار و برکات سے نوازا گیا یعنی نور نبوت اور دین حق کی نعمت جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے یہ سب محض اللہ پاک کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے، سو یہ سب اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
یہود کی مذمت
تشریح : یہود کے حالات بڑی وضاحت سے بہت دفعہ بیان کیے جا چکے ہیں۔ یہاں پھر اس لیے ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کے بڑے سخت دشمن تھے اور اب بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ ہدایت کی کتاب تورات ان کو بھی دی گئی تھی مگر انہوں نے یوں کیا کہ جیسے کتاب گدھے پر لا دی گئی ہو۔ جیسے گدھے کو اپنے اوپر لادی گئی کتابوں کا کوئی شعور نہیں ہوتا انہوں نے بھی اپنی دی گئی کتاب سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا اور اب الزام دیتے ہیں دوسروں کو۔ تو ان کو صاف صاف بتا دو کہ ہم مسلمان تو رب قدوس کو مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخرت میں جزا و سزا ضرور ملے گی اس لیے قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں۔ اگر تم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
آیات 1 تا 8۔
اسرار ومعارف۔
ذکرالٰہی۔
ارض وسما کی ہر شے اپنے شعور وادارک کے مطابق اللہ کا ذکر کرتی ہے اور ہر ذرہ اپنے حال سے تو اس کی پاکی پہ دلالت کرتا ہے کہ وہی حقیقی بادشاہ ہے جو ہر عیب سے پاک اور زبردست ہے اور بڑاحکمت کا مالک ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے ان پڑھ عربوں میں اپنارسول مبعوث فرمایا جو امی تھا کہ عربوں میں پڑھنے لکھنے کارواج نہ تھا بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔
معجزہ۔
خود رسول اللہ نے کبھی پڑھنالکھنا نہیں سیکھا عموما ایسی قوم کی اصلاح محال ہوتی ہے اور انہیں کچھ سمجھانا بہت مشکل مگر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ نے انہیں ایسابنادیا کہ دنیا کے لیے وہ علم و حکمت کے خزینے ثابت…
Read the full tafseer →ف 1 کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ اسے مرنے کے بعد جنت نصیب ہوگی وہ لازماً یہ چاہے گا کہ دنیا کے جھنجھٹ سے جلد از جلد نجات پائے
Read the full tafseer →(62:6) قل : ای قیل یا محمد ﷺ ۔
یایھا الذین : یا حرف نداء ہے جو قریب ، بعید، اوسط، سب کی نداء کے لئے موضوع ہے۔
ایھاوای تھا پر اکثر و بیشتر یہی حرف نداء آتا ہے ۔ نداء میں جب منادی پر ال داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہاں منادی الذین (اسم موصول) ہے۔
ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھود (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پشیمان ہونا۔ حق کی طرف لوٹنا۔ یہودی ہونا۔ یہاں مراد یہودی ہوئے ۔ بچھڑے ہوئے۔ بچھڑے کی پوجا سے توبہ کی تھی اس لئے یہود کہلائے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کو جنہوں نے یہودیت قبول کرلی تھی خواہ وہ بنی اسرائیل تھے یا نہیں الذین ھادوا کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے جبکہ جہاں بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بےعمل علمائ۔
(ف 1) اوپر گزرچکا ہے کہ نبی ﷺ کی نبوت سے پہلے یہود کے دل میں نبی ﷺ کی یہ عظمت تھی کہ لڑائیوں کے وقت حضور کے نام کے وسیلہ کے ساتھ فتح کی دعایہ لوگ مانگا کرتے تھے تورات میں جو آپ کے اوصاف تھے ان سے یہ لوگ آپ کو اس طرح پہچانتے تھے کہ جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ شام کے ملک کی سکونت چھوڑ کر مدینہ کے اطراف میں یہ لوگ اسی ارادہ سے آن کررہے تھے کہ جب نبی آخزالزمان مدینہ کو آئیں گے تو تورات کے حکم کے موافق ان کا ہر طرح ساتھ دیں گے لیکن تورات کے حکم کے موافق عمل کرنے کا وقت جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دکھایا تو ازلی بدبختی کے سبب سے یہ لوگ نبی آخزالزمان کے پورے دشمن ہوگئے اور…
Read the full tafseer →[7] '' اے یہودیو '' نہیں کہا بلکہ '' اے لوگو جو یہودی ہوگئے ہو '' فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد تمام انبیاء لے کر آئے تھے وہ اسلام ہی تھا۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد کی پیداوار ہے۔
[8] تاکہ دنیا کی مصیبتوں سے جلد نجات پا کر اللہ سے جا ملو اور بہشت کے مزے اڑاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
نماز جمعہ
1: اسلام میں اجتماعیت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس کی عبادات میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ موجود ہے ۔ کہ وہ نوع انسانی کے لئے کیونکر زیادہ سے زیادہ تعاون اور تناصر کے جذبات کو پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ نماز ہی کو دیکھئے ۔ کہ علاوہ روحانی فوائد کے اس کا بین فائدہ یہ ہے ۔ کہ مسلمان پانچ وقت باقاعدہ اپنے محلہ کی مسجد میں جمع ہوتے ہیں ۔ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں ۔ گویا صرف محلے کے لوگوں کے لئے دن اور رات میں پانچ وقت ضروری ہے ۔ کہ ایک جگہ جمع ہوں ۔ اور اپنی فلاح و بہبود کے متعلق سوچیں ۔ اور غور کریں ۔ جمعہ نماز پنجگانہ کی زیادہ کامل صورت ہے ۔ اس کے…
Read the full tafseer →(6) اے پیغمبر آپ ان یہود سے فرمائیے اے یہودیو اور اے یہود ہونے والو ! اگر تم کو یہ دعویٰ ہے کہ اور سب لوگوں کے علاوہ تم ہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یعنی بےعمل کی یہ حالت کہ توریت کے احکام کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو اور دعویٰ یہ کرتے ہو کہ نحن ابنوا اللہ واحیاوہ اور لن تمسسنا النار الا ایاما معدودۃ اور لن یدخل الجنۃ الا من کان دودا او نصاریٰ ۔
غرض یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی نگاہ محبت والفت اور بخشش میں تم ہی تم ہو کوئی دوسرا یعنی مسلمان اور اصحاب رسول اللہ ﷺ اس کے مستحق ہی نہیں ہیں تو تم موت کی تمنا کرو جیسا کہ عاشقین الٰہی کا دستور ہے کہ وہ موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 4۔ یہ اس لئے کہ گدھا ان کتب کے نفع سے محروم ہے اسی طرح اصل مقصود اور نفع علم کا عمل ہے جب یہ نہ ہوا اور صرف تحصیل وحفظ علم میں تعب ہی تعب ہوا تو بالکل ایسی ہی مثال ہوگئی اور گدھے کی تخصیص اس لئے کہ وہ جانوروں میں بیوقوف مشہور ہے تو اس میں زیادہ تنفیر ہوگئی۔
Read the full tafseer →یہود کو انتباہ کہ اگر تم اللہ کے پیارے ہو تو اس کا ثبوت فراہم کرو
6 ؎ یہ مرض بھی بہت پرانا ہے کہ ہر قوم اللہ تعالیٰ کی چہتی بننے کے ثبوت فراہم کرتی ہے اور اعمال کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ نہایت گندے عقیدے رکھنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کام اللہ میاں کو پسند ہیں اسی لیے تو ہم ان کو کہے چلے جا رہے ہیں اگر ہم اور ہمارے یہ کام اللہ کو پسند نہ ہوتے تو ہم ایسے افعال کر ہی کیسے سکتے تھے یہاں تک کہ مکہ والے جو کچھ کرتے تھے وہ اس کو صحیح اور درست سمجھتے تھے اور بر ملا کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا رسول نہیں بلکہ اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہے اور اس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ دیکھو سارے لوگ بیت اللہ…
Read the full tafseer →قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّـهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(Say, "0 those who are Jews, if you claim that you are the friends of Allah to the exclusion of all other people, then express your desire for death, if you are true…62:6)
Friends of Allah to the exclusion of all other people, then express your desire for death, if you are true…62:6)
Despite their kufr, shirk and moral aberration, the Jews claimed نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ (…We are the sons of Allah and His favourites) [ 5:18] and…
Read the full tafseer →10 This point is noteworthy. It has not been said: "O Jews". but "O you who have became Jcws, or who have adopted Judaism", the reason being that the way of life brought by the Prophet Moses (peace be on him) and the Prophets after and before him, was Islam itself. None of those Prophets was a Jew, nor bad judaism been born in their time, but Judaism as such came into being much later. It is ascribed to the tribe which descended from Judah, the fourth son of the Prophet Jacob (peace be upon him) . When after the Prophet Solomon (peace be upon him 1 his kingdom broke into two parts, this tribe…
Read the full tafseer →