62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 62:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے جو کہ بادشاہ ہے ہر طرح سے پاک سب پر غالب اور انتہائی حکمت والا ہے

1 ۔ آسمانوں کی ہر چیز اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی پاکی بیہان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے، ہر نقص و عیب اور تقصیر و کوتاہی سے، اور ہر قسم کے شریک اور ہر شائبہ شرک سے، سبحانہ وتعالی۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی، اس لیے معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی، وحدہ لاشریک ہے، اور عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، یہاں پر تسبیح کا ذکر یسبح فعل مضارع سے فرمایا گیا ہے جو کہ تصویر حال کا فائدہ دیتا ہے، سو اس وحدہ لا شریک کی تسبیح و تقدیس ہمیشہ ہوئی ہے، لگاتار ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی، کہ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف وہی وحدہ لا شریک ہے، دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں اس کی شریک وسہیم نہیں۔ سبحانہ وتعالی۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے، عبادت کی کوئی بھی قسم کسی اور کے لیے بجالا لانا شرک اور ظلم عظیم ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال، و سوء و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 2 ۔ اور زمین کی ہر چیز بھی اس کی پاکی بیان کرتی ہے : یعنی زمین کی ہر چیز بھی اسی کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے " اپنی زبان حال سے بھی کہ ہر ایک اس کے حکم و ارشاد کے مطابق اپنے مقصد تخلیق کو برابر پورا کر رہا ہے، اور اپنی زبان قال سے بھی جس کو ہم سمجھ نہیں سکتے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا تـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا ( بنی اسرائیل 44 پ 15) سو اس میں ایک طرف تو بندے کے لیے یہ درس ہے کہ جس اللہ وحدہ لا شریک کی تسبیح زمین و آسمان کی ایک ایک چیز کرتی ہے اس سے اگر انسان منہ موڑے اور غفلت برتے تو اس سے بڑھ کر محروم بدنصیب اور ناشکرہ اور بےانصاف اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسری طرف اس سے اس معبود برحق کی عظمت اور شان بےنیازی بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جس کی تسبیح و تقدیس میں پوری کائنات مشغول و منہمک ہے، اس کو کسی کی تسبیح و تقدیس کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے ؟ سبحانہ وتعالی۔ پس وہ جو تسبیح کے لیے فرماتا اور اس کی تلقین کرتا ہے وہ صرف اپنے بندے کے بھلے اور اس کے فائدے کے لیے فرماتا ہے، سو کائنات کی ہر چیز اپنی زبان حال اور زبان قال سے اس وحدہ لاشریک کی تسبیح کرتی ہے کہ وہی سب کا خالق ومالک اور سب کو قائم اور باقی رکھنے والا ہے۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم عدد ما یحب ویرضی جل وعلا۔ 3 ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کے اسماء وصفات کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بادشاہ ہے ہر طرح سے پاک اور سب پر غالب، پس نہ اس کے مقابلے میں کوئی غالب آسکتا ہے، اور نہ اس کی گرفت اور پکڑ سے کوئی نکل کر بھاگ سکتا ہے، کہ اس طرح وہ اپنے کیے کے انجام سے بچ نکلے، جل جلالہ وعز سلطانہ۔ سو جب بادشاہ حقیقی بھی وہی وحدہ لا شریک ہے، ہر طرح کے نقص و عیب اور اس کے ہر شائبہ سے پاک بھی وہی ہے اور سب پر غالب اور انتہائی حکمت والا بھی وہی ہے، تو پھر معبود برحق اس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو لوگوں نے اپنے طور پر اس کے بارے میں جو مختلف تصورات قائم کر رکھے ہیں جو اس کی صفات کے تقاضوں کے خلاف ہیں وہ سب بےبنیاد ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کی صفات کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ سبحانہ وتعالی۔ اور اس کے اسماء وصفات وہی ہیں جو اس کی کتاب عظیم اور سنت رسول سے ثابت ہیں۔ پس انہی کے ذریعے اس کی معرفت سے سرفرازی و سرشاری حاصل کی جاسکتی ہے، اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالی۔
Ayah 62:2

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے (عرب کے) ان اَن پڑھوں میں ان ہی میں سے ایک ایسا عظیم الشان رسول بھیجا جو کہ پڑھ پڑھ کر سناتا (سمجھاتا) ہے ان کو اس کی آیتیں اور وہ سنوارتا (نکھارتا) ہے ان کے باطن کو اور سکھاتا (پڑھاتا) ہے ان کو کتاب و حکمت (کے مطالب و معانی کے انمول خزانے) جب کہ یہ لوگ اس سے قبل یقینا پڑے تھے کھلی گمراہی میں

4 ۔ " امیین " سے مقصود و مراد ؟: امی کے معنی ان پڑھ کے ہیں، جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا جانتا ہو، اور اسلام سے پہلے عربوں کی اکثیرت چونکہ ایسی ہی ان پڑھ تھی نہ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب تھی اور نہ ہی وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اس لیے ان کو امی کہا جاتا تھا ( فتح القدیر وغیرہ) سو اس سے مراد عرب ہیں (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن التاویل وغیرہ) کیونکہ وہ لوگ بالعموم 5 ۔ بعثت رسول ﷺ صفات خداوندی کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ تعالیٰ کی صفات کے تقاضوں کی تکمیل ہے، اسی لیے کہ یہاں پر اوپر اللہ تعالیٰ کی چار صفات کریمہ کے ذکر وبیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے ان ان پڑھوں کے اندر ایک عظیم الشان پیغمبرو مبعوث فرمایا خود انہی میں سے، یعنی انہی کے قوم قبیلے اور انہی کی جن سے، اس لیے وہ اس کے حسب و سنب اور اس کی شرافت و نجابت سے پوری طرح واقف و آگاہ تھے، اور ان کے اعلی اخلاق و کر ادار کو پوری طرح جانتے تھے اور ان کی اتباع و پیروی میں ان کے لیے کوئی دقت اور دشواری نہ تھی، پس جو لوگ پیغمبر کی بشریت کے انکاری ہیں وہ قرآن و سنت کی بیشمار نصوص کے معارضہ کے علاوہ عقل و فطرت سے مطابقت رکھنے والے ان تمام مطالب سامیہا اور معانی رفیعہ کے انکار کے بھی مرتکب ہورہے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ قدرت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے کہ اس نے اس عظیم الشان پیغمبر کو خود انہی کے اندر سے مبعوث فرمایا، تاکہ یہ لوگ زندگی کی ہر حالت اور ہر گوشہ میں اس کی اتباع کرسکیں۔ سو اس رسول عظیم کی بعثت و تشریف آوری خداوند قدوس کی ان صفات عالیہ کے تقاضوں کی تکمیل ہے جو اوپر ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پس جب اس کائنات کا بادشاہ حقیقی وہی ہے تو اس کا تقاضوا ہوا کہ وہ اپنی رعیت کو اپنی ہدایات و احکام سے آگہی بخشنے کے لیے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث فرمائے جبکہ ان کو اس کی آیات پڑھ پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اور جب وہ قدوس اور پاک ہے تو اس نے چاہا کہ اپنے رسول کے ذریعے اپنے بندوں کے تزکیہ کا انتظام فرمائے اور ان کو عقائد و اخلاق و اعمال و کردار سے پاک کرے اور جب وہ عزیز و حکیم ہے تو اس نے اپنے بندوں کو سچی اور حقیقی عزت سے نوازنے کے لیے ان کو اپنے رسول کے ذریعے خزانہ وحی اور ہدایات خداوندی سے نوازا۔ سبحانہ وتعالی جل وعلا۔ 6 ۔ عظمت رسول اور مقاصد بعثت کا ذکرو وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے مبعوث فرمایا ان امیوں (ان پڑھوں) میں ایک ایسا عظیم الشان رسول جو پڑھ پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں، یعنی رسولا کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے اور اس سے مراد امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو کہ نبی الانبیاء اور امام الانبیاء ہیں، جن جیسی دوسری کوئی ہستی نہ آج تک کبھی ہوئی اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے، اور جن کی بعثت و رسالت قیامت تک کے سب انسانوں اور جملہ زمانوں کے لیے ہے، سو ایسی عظمتوں والی وہی ایک ہستی ہوئی ہے، اس طرح کی دوسری کوئی ہستی نہ کبھی ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہونے والی ہے۔ سو عربوں کے ان امیوں اور ان پڑھوں کے درمیان ایسی عظیم الشان اور بےمثال ہستی کی بعثت و تشریف آوری قدرت کا وہ انعام و احسان ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، سو اس کے باوجود لوگ اس سے منہ موڑتے ہیں وہ کتنے بدبخت، محروم القسمت اور کس قدر ناشکرے اور بےانصاف ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین 7 ۔ تزکیہ نفوس بعثت پیغمبر (علیہ السلام) کا ایک اہم مقصد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو پاک کرتا ہے ان کے بواطن کو، یعنی کفر و شرک کی نجاستوں، گندے عقائد و اخلاق کی غلاظتوں اور برے اعمال و کردار کی خباثتوں سے تاکہ اس طرح وہ ان کو ایسے پاکیزہ انسان بنادے جو اس دنیا میں حیات طیبہ ( پاکیزہ زندگی) سے سرشار ہوسکیں اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں وہ جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز ہوسکیں، سو تزکیہ نفوس ایک عظیم الشان مقصد ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس سے انسان انسان بنتا ہے، ورنہ حیوانیت کے حفیض مذلت میں گر کر حیوان محض بن کر رہ جاتا ہے بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر " اسفل السافلین " اور " شر البریہ " بن جاتا ہے، جس کے مظاہر سے یہ دنیا ساری اٹی پڑی ہے۔ یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ تزکیہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، رسول تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے نمائندے اور وسیلہ ہوتے ہیں، چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا (النساء 49 پ 5) اسی لیے رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا (النساء 80 پ 5) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ 8 ۔ بعث رسول ﷺ کی عظمت و اہمیت کے ایک خاص پہلو کا ذکرو بیان : سو اس ارشاد سے بعثت رسول کی عظمت و اہمیت کے اس خاص پہلو کا ذکر فرمایا گیا کہ اس وقت لوگ نور ہدایت سے بالکل محروم تھے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ رسول کو اس وقت بھیجا جبکہ اس سے پہلے یہ لوگ یقینا کھلی گمراہی میں پڑے تھے، یعنی یہ ان مخففۃ من المثقلۃ ہے، اور اس کا قرینہ اس کی خبر میں لام تاکید کا پایا جانا ہے، (جامع البیان وغیرہ) سو اس سے امیوں کے جذبہ شکر وسپاس کو ابھارنے کے لیے اس تاریکی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کے اندر یہ لوگ ماضی میں ڈوبے ہوئے تھے، مطلب یہ کہ اگر یہ لوگ گھٹا ٹوپ تاریکی کو یاد کریں جس میں یہ گرفتار رہ چکے ہیں تو اس سے ان کو اپنے رب کے اس فضل و کرم کا کچھ اندازہ اور احساس ہوگا جس سے اس نے ان کو اپنے رسول کی بعثت کے ذریعے نوازا ہے، سبحانہ وتعالی۔ سو اس اعتبار سے بعثت رسول کی عظمت و اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ والحمدللہ جل وعلا۔
Ayah 62:3

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

نیز (اس رسول کی تشریف آوری) ان دوسرے تمام لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی تک ان سے نہیں ملے اور وہی (اللہ) ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا

9 ۔ عموم بعثت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز ان کی بعثت ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی تک ان کے ساتھ ملے نہیں ہیں۔ یعنی واخرین کا عطف " الامیین " پر ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا عطف " یعلمھم " کی ضمیر منصوب پر ہو کہ آنحضرت ﷺ کی پیش فرمودہ تعلیمات عالیہ قیامت تک کے جملہ انسانوں کے لیے ہیں سو اس سے اشارہ فرمایا گیا کہ انہی امیوں میں سے جن کے لیے یہ آسمانی نعمت اتاری گئی ہے کہ کچھ دوسرے بھی ہیں جو ابھی تک اس سے دور ہیں، سو پیغمبر کی بعثت موجود بنو اسماعیل کے علاوہ آئندہ آنے والوں کے لیے بھی ہے۔ کیونکہ آپ کی بعثت عام اور سب دنیا جہاں اور قیامت تک کے سب لوگوں کے لیے ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد قیامت تک نہ کسی نبی نے آنا ہے نہ کسی رسول نے، بلکہ قیامت تک آپ ﷺ ہی کی نبوت و رسالت کی رحمتیں ساری دنیا پر سایہ فگن رہیں گی کہ آپ ﷺ کو سب دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء 107 پ 17) 10 ۔ آخرین کی صفت اور اس کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو اس سے آخرین کی ایک اور صفت کا ذکر فرمایا گیا اور اس ضمن میں ایک بشارت کی طرف بھی اشارہ دیا گیا۔ چناچہ آخرین کی ایک اور صفت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو ابھی تک ان سے ملے نہیں۔ کہ یا تو وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، یا ابھی اسلام لانے کے شرف سے مشرف نہیں ہوئے۔ بہرکیف اس میں قیامت تک آنے والے سب لوگ داخل ہیں کہ قیامت تک آنحضرت ﷺ ہی کی نبوت رہے گی، اور یہ سب لوگ بہرحال آپ ﷺ ہی کی امت ہیں، جنہوں نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق کو قبول کیا، وہ آپ ﷺ کی امت اجابت میں شامل ہوگئے، اور جن بدنصیبوں کو ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئ، وہ آپ کی امت دعوت میں بہرحال شریک ہیں، نیز " لما یلحقوا بھم " میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ بعد میں آنے والے لوگ شرف و مرتبہ کے اعتبار سے ان حضرات سے نہیں مل سکتے کہ صحابیت کا جو شرف ان کو حاصل ہے وہ بہرحال بہت بڑا شرف و مرتبہ اور فقید البدل اعزازو امتیاز ہے، سو اس میں یہ بشارت ہے کہ کچھ دوسرے جو ابھی تک ان سے ملے نہیں لیکن وہ بعد میں آئیں گے ان سے ملیں گے اور نور ایمان سے مشرف و فیضیاب ہوں گے، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا کہ آپ ﷺ کی نبوت قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کے لیے ہے۔ صلوات اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ والتابعین لھم باحسان۔
Ayahs 62:4–6

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے وہ اس کو جسے چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے1

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جن سے اٹھوائی گئی تورات (اور ان کو اس پر عمل کا پابند کیا گیا) مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا (اور اس پر عمل نہ کیا) اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر لدی ہوں بہت سی (بھاری بھر کم) کتابیں بڑی ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور اللہ نہیں نوازتا ہدایت (کی دولت عظیم) سے ایسے ظالم لوگوں کو2

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اے وہ لوگوں جو یہودی بن گئے ہو اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم اللہ کے دوست (اور پیارے) ہو باقی لوگوں کو چھوڑ کر تو تم تمنا کرو موت کی اگر تم سچے ہو (اپنے قول وقرار میں)

11 ۔ یہود کے حسد پر تعریض کا ذکر وبیان : سو یہود جو محض حسد وعناد کی بنا پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت رسالت کا انکار کرتے تھے کہ ان کی بعثت بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل کے اندر کیوں ہوگئی، سو ان کے اس زعم باطل پر رد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اللہ کاف جل ہے ہو جس کو چاہے عطا فرمائے، یعنی یہ عظیم الشان مرتبہ جس سے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو نوازا گیا اور پھر آپ کے توسط سے آپ کیا مت کو اس کے انوار و برکات سے نوازا گیا یعنی نور نبوت اور دین حق کی نعمت جو کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہے یہ سب محض اللہ پاک کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے، سو یہ سب اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرمائے، اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں وہی جس کو چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے، اس کا ہر چاہنا اس کی اپنی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ پس یہود اگر حسد کرتے ہیں تو کرتے رہیں اس سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں، سو اس ارشاد ربانی سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نبوت و رسالت محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا انعام و احسان ہے جس میں کسی کے کسب و محنت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، اللہ جس کو چاہے اس سے نوازے اور جس طرح چاہے نوازے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ (الانعام 124 پ 8) 12 ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا فضل والا ہے، اور ایسا کہ اس کے فضل کا نہ کوئی کنارہ ہے نہ انتہا، سبحانہ وتعالی۔ مگر اس کے فضل خاص اور نعمت دین و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہونے کے لیے دلی طلب اور تڑپ کا پایا جانا بنیادی شرط ہے جس کو وہ وحدہ لا شریک پوری طرح جانتا ہے اور اسی کے مطابق وہ کرم و نوازش فرماتا ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس کوئی اگر اس میں حسد کرتا ہے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کے اس فضل عظیم اور کرم بےپایاں ہی کا یہ ایک عظیم مظہر اور ثبوت ہے کہ اس نے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو اس عظیم الشان مرتبہ و مقام اور بےمثال کرم و احسان سے نوازا، اور آنجناب کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے ساری مخلوق کو سرفراز فرمایا جس کا فیض یا قیام قیامت جاری وساری رہے گا، فالحمدللہ رب العالمین اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے خاص فضل وکرم کے سائے میں رکھے۔ اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔
Ayah 62:7

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

مگر وہ کبھی بھی اس کی تمنا نہیں کریں گے بوجہ اپنے ان کرتوتوں کے جو وہ خود اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ایسے ظالموں کو1

17 ۔ ظالم اللہ تعالیٰ کے علم میں، سبحانہ وتعالی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب اور پوری طرح جانتا ہے ظالموں کو جو راہ حق سے ہدایت سے منہ موڑ کر ظلم کرتے ہیں خود اپنی جانوں پر، سو ان کی دوزخ گوئی کو آشکارا کرنے کے لیے ان سے چیلنج کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم موت کی تمنا کرو اگر تم لوگ سچے ہو۔ پھر قرآن حکیم نے ان کے بارے میں پیشینگوئی فرمائی کہ یہ لوگ موت کی تمنا کبھی نہیں کریں گے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی بناء پر۔ پس یہ جھوٹے ہیں اپنے اس زعم و گھمنڈ اور اپنے ان دعوؤں میں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے اور پیارے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قرآن حکیم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ اس نے ان لوگوں کے بارے میں جیسے کہا ویسے ہی ہوا کہ لوگ اس طرح کی کوئی تمنا نہ کرسکے، ورنہ یہ ان کے لیے ایک موقع ( Chance) تھا کہ اس طرح کی کسی تمنا کا اظہار کر کے اس قرآن ارشاد کی تکذیب کی سعی کرتے، مگر کہاں اور کیونکر ؟ پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ اپنے دعوؤں اور اپنے اس طرح کے زعم اور گھمنڈ میں جھوٹے ہیں ورنہ یہ اسطرح موت سے نہ ڈرتے، سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو یہود کی دروغ گوئی آشکارا ہوگئی اور دوسری طرف اس سے قرآن حکییم کی صداقت کا بھی ایک ثبوت مل گیا، والحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و ثابت قدم رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 62:8

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ یہ قطعی حقیقت ہے کہ جس موت سے تم لوگ بھاگتے ہو وہ بہر طور تمہیں آ کر رہے گی پھر تم سب کو آخرکار بہرحال لوٹ کر جانا ہے اس (ذات اقدس و اعلیٰ ) کے حضور جو ایک برابر جانتا ہے نہاں اور عیاں کو تب وہ خبر کر دے گا تم کو ان سب کاموں کی جو تم لوگ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

18 ۔ موت سے کسی کے لیے بھاگنا اور بچنا ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ جس موت سے تم لوگ بھاگتے ہو وہ بہرحال تم کو آکر رہے گی، تم کسی بھی طرح اس سے بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتے، پس موت سے بھاگنے اور بچنے کی لا حاصل کوشش کی بجائے تم لوگ راہ حق و ہدایت کو اپنا لو، اور ان اعمال کو بجا لانے اور ان سچے عقائد و اخلاق کو اپنانے کی فکر و سعی کرو جو موت کے بعد کے ابدی جہاں میں تمہیں کام آسکیں، جن میں سر فہرست اور سب اول حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر صدق دل سے ایمان لانا، اور آپ ﷺ کی پیش فرمودہ تعلیمات مقدسہ کو اپنانا ہے جو کہ حق و صداقت اور دارین کی سعادت و سرخروئٰ سے ہم کنار کرنے والی راہ اور واحد راہ ہے، اور اس کے بغیر فوز و فلاح کی کوئی صورت ممکن نہیں، سو اوپر قرآن حکیم کی یہ پیشینگوئی ذکر فرمائی گئی کہ یہ لوگ موت سے اس قدر خائف ہیں کہ اس کی کبھی بھی تمنا نہیں کرسکتے، اپنے ان کرتوتوں کے باعث جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہیں، اور اب ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جس موت سے تم لوگ بھاگتے ہو اس سے تم کبھی اور کسی بھی طور بچ نہیں سکو گے۔ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے، سو اس سے بچنے اور بھاگنے کی فکر و سعی کی بجائے تم لوگ اپنے ان مظالم سے بچنے کی فکر و کوشش کرو جن کا ارتکاب تم لوگوں نے اپنی بدبختی کی بناء پر کیا ہے، اور جن کی بنا پر تم لوگ موت سے اس قدر ڈرتے ہو کہ تم لوگوں نے نبیوں کا قتل کیا، تم تورات میں تحریف کے مرتکب ہوئے، تم نے اللہ کی امانتوں میں خیانت کی، اور تم نے ان نشانات ہدایت کو مٹایا جن کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری تھی وغیرہ وغیرہ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 19 ۔ یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صرف یہی نہیں کہ تم کو ت موت آکر رہے گی بلکہ اس کے بعد تم کو اس خدائے پاک کے حضور حاضر ہونا ہے جو نہاں وعیاں سب کو ایک برابر جاتنا ہے، پھر وہ تم لوگوں کو بتادے گا وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے، اور یہ بتادینا کوئی رپورٹ پیش کرنے کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ تم کو تمہارے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دینے کے لیے ہوگا، تب ایسے ظالموں کو اپنے اس تمام کیے کرائے کا حال پوری طرح معلوم ہوجائے گا جو وہ زندگی بھر کرتے رہے تھے، اور اللہ نہاں وعیاں سب کو ایک برابر جاننے والا ہے، اس سے نہ تمہارا کوئی قول و فعل مخفی ہوسکتا ہے، اور نہ تم اس سے کوئی چیز چھپا سکتے ہو، سو وہ تمہارا زندگی بھر کا سب کیا کرایا کھول کر تمہارے سامنے رکھ دے گا، اور تمہیں اپنے جرم کی سزا بہرحال بھگتنا پڑے گی کہ یہ اس کے عدل و انصاف اور اس کی رحمت و عنایت کا تقاضا ہے، جسے بہرحال پورا ہونا ہے، سو اصل چیز اس یوم عظیم اور اس کی جوابدہی کو یاد رکھنے کی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 62:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب اذان دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو تم دوڑ پڑا کرو اللہ کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) کی طرف اور چھوڑ دیا کرو تم خریدو فروخت (اور ہر طرح کے کاروبار) کو یہ تمہارے لئے کہیں زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو

20 ۔ نماز جمعہ کے لیے خاص اہتمام کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے نماز جمعہ کے لیے خاص اہتمام اور جمعہ کے روز اذان ہوتے ہی نماز کی طرف چل پڑنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، یعنی جب دوسری اذان دی جایا کرے جو کہ منبر کے پاس دی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضرات شیخین کریمین سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق ؓ کے عہد خلافت میں یہی اذان ہوا کرتی تھی، بعد میں جب آبادی بڑھ گئی اور لوگوں میں سستی آنے لگی تو حضرت عچمان بن عفان ؓ کے دور میں زوراء کے مقام پر دوسری اذان دی جانے لگی، جس پر کسی نے نکیر نہ فرمائی، اس طرح سب صحابہ کرام ؓ اجمعین کا اس پر گویا اجماع ہوگیا ( صفوۃ البیان وغیرہ) اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یہی اذان ہے جو کہ پہلے دی جاتی ہے اور جس کا آغاز حضرت عثمان ؓ کے دور میں کیا گیا ( درمختار وغیرہ) بہرکیف منبر کے باہر دی جانے والی دوسری اذان کے بارے میں حضرات علماء کرام کا اتفاق ہے کہ اس کے بعد بیع و شراء کا عمل حڑام ہے، (ابن کثیر، خازن، معارف وغیرہ) ذکر اللہ کا لفظ یہاں پر نماز اور خطبہ دونوں کو جامع ہے، نماز کا ذکر اللہ ہونا تو واضح ہے، قرآن حکیم میں اس کو جابجا ذکر ہی سے تعبیر فرمایا گیا ہے، رہا خطبہ تو وہ دراصل ؛ نماز ہی کا حصۃ ہے، اور جمعہ کی نماز چونکہ ظہر کی نماز کی قائم مقام ہے جس کی چار رکعتیں جمعہ کے دن تخفیف ہو کردو رکعت رہ جاتی ہیں اس لیے ان دو کی جگہ اللہ تعالیٰ کا ذکر خطبے کی شکل میں ہوتا ہے۔ 21 ۔ بندے کے لیے خیر، اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے ہی میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ تمہارے لیے کہیں بہتر ہے اگر تم لوگ جانو کہ آخرت کا نفع و فائدہ دنیاوی منافع و مفاد کے اعتبار سے بہرحال بہتر بھی ہے اور دائمی و ابدی بھی، بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا، وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى (الاعلی 16، 17 پ 30) سو بظاہر تو ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو اپنے کاروبار چھوڑ دینے کا یہ حکم گراں گزارے اور تمہیں اپنا کاروبار چھوڑنے میں نقصان محسوس ہو، لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہی تمہارے لیے بہتر اور موجب خیر و برکت ہے، رزق روزی تو سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، اگر تم لوگ اس کی رضا و خوشنودی کے لیے کوئی نقصان برداشت کرو گے تو اس کا اجر وثواب آخرت کے اس ابدی جہاں میں تم کو اس سے کہیں بہتر شکل میں ملے گا اور ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں بھی وہ ایسی شکلیں پیدا فرما دے کہ تمہارے ہر نقصان کی تلافی ہوجائے، سو بندے کے لیے بہرحال اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے اور اس کی پابندی کرنے ہی میں ہے، خواہ بندے کو یہ بات سمجھ آئے یا نہ آئے، کیونکہ یہ احکام اس ذات اقدو اعلی کی طرف سے ہوتے ہیں جو رحمان و رحیم بھی ہے اور حاکم و حکیم بھی اور حلیم و کریم بھی۔ اس لیے اس کا ہر حکم اس کے بندوں کے لیے سراسر خیر و برکت اور عنایت و رحمت ہے۔ سبحانہ وتعالی، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayahs 62:10–11

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پھر جب ادا کردی جائے نماز تو تم لوگ پھیل جایا کرو (اللہ کی) زمین میں اور تلاش کیا کرو اللہ کا فضل (اور اس کی مہربانی یعنی تمہیں اس کی اجازت ہے) اور یاد کرتے رہا کرو تم لوگ (ہمیشہ اور ہر حال میں اور) کثرت کے ساتھ (اپنے) اللہ کو تاکہ تم فلاح پاسکو

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ) جب انہوں نے دیکھ لیا کوئی سامان تجارت یا کسی طرح کا کوئی (کھیل) تماشہ تو ٹوٹ پڑے اس پر اور چھوڑ دیا آپ کو کھڑا (اے پیغمبر سو ان سے) کہو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہرحال کہیں بہتر (اور بڑھیا) ہے ایسے (کھیل) تماشے اور سامان تجارت سے اور اللہ سب سے اچھا روزی دینے والا ہے2

22 ۔ نماز جمعہ کے بعد طلب و تلاش رزق کی اجازت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کی نماز ادا کردی جائے تو تم پھیل جاؤ زمین میں، اور طلب و تلاش کرو اللہ کا فضل، یعنی روزی اور روزی کا لفظ فضل سے تعبیر فرمانے میں یہ اہم درس بھی ہے کہ یہ تمہاری کوششوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل و کرم کا ثمرہ و پھل ہے، پس تم روزی کے حصول کے لیے کوشش اور محنت تو کر، اور ضرور کرو، اور بھر پور طریقے سے کرو، اور اس کے لیے مطلوبہ اسباب و وسائل بھی پوری طرح اپناؤ مگر دل کا بھروسہ بہرحال ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی پر رکھو کہ تم کو ملے گا وہی جو وہ اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے گا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ پابندی صرف نماز کی ادائیگی تک ہے اور بس، اس کے بعد تمہیں اجازت ہے کہ تم اللہ کی زمین میں پھیل جاؤ اور جہاں چاہو جاؤ اور جس شکل میں چاہو اللہ کا فضل کا تلاش کرو، نیز فضل کے لفظ میں یہ درس بھی ہے کہ جب ویہ تمہیں مل جائے تو اس کو اللہ کی رضا و خوشنودی کی راہوں میں صرف کرو، اور اس کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہا کرو، یہاں پر یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ یہود پر " سبت " کے احترام کی پابندی پورے دن کے لیے تھی لیکن اس امت کے لیے جمعے کے احترام کی پابندی صرف اذان سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک ہے اور بس۔ باقی پورے دن میں وہ اسی طرح آزاد ہیں جس طرح کہ دوسرے عام دنوں میں ہوتے ہیں، فالحمدللہ رب العالمین بکلحال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 23 ۔ ذکر خداوندی کی کثرت کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کثرت سے یاد کرتے رہا کرو تم لوگ اللہ کو، یعنی ایسا نہہو کہ حصول دنیا میں لگ کر اللہ کو بھول جاؤ اور اس طرح تم محرومی کا شکار ہوجاؤ، والعیاذ باللہ۔ کہ اللہ کی یاد دلشاد دلوں کی زندگی اور ان کی آبادی و تازگی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے تم حقیقی فوز و فلاح کی دولت سے سرفراز ہوسکو گے، پس روزی کی طلب و تلاش میں تم لوگ کہیں دنیا ہی کو اپنا مطمع نظر نہیں بنا لینا، بلکہ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو بھی پیش نظر کھنا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھیں، یہی یا دلشاد تمہیں شیطان کی فریب کاریوں اور اس کی فتنہ سامانیوں سے محفوظ رکھے گی اور تمہیں راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے گی، ورنہ شیطان تم لوگوں کو ایسا اندھا اور اوندھا بنا کر رکھ دے گا کہ تم دنیا کے کتے بن کر رہ جاؤ گے، اور اس کے نتیجے میں بالآخر تم دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کے ایندھن بن کر رہو گے جو کہ خساروں کا خسارہ اور ایسا ہولناک نقصان ہے جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاطت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین یا من بیدہ ملکوت کل شیء۔