Ayah 62:1سورة الْجُمُعَة 1
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة حدید، حواشی 1، 2، الحشر، حواشی 36، 37، 41۔ آگے کے مضمون سے یہ تمہید بڑی گہری مناسبت رکھتی ہے۔ عرب کے یہودی رسول اللہ ﷺ کی ذات وصفات اور کارناموں میں رسالت کی صریح نشانیاں بہ چشم سر دیکھ لینے کے باوجود، اور اس کے باوجود کہ توراۃ میں حضرت موسیٰ ؑ نے آپ کے آنے کی صریح بشارت دی تھی جو آپ کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوتی تھی، صرف اس بنا پر آپ کا انکار کر رہے تھے کہ اپنی قوم اور نسل سے باہر کے کسی شخص کی رسالت مان لینا انہیں سخت ناگوار تھا۔ وہ صاف کہتے تھے کہ جو کچھ ہمارے ہاں آیا ہے ہم صرف اسی کو مانیں گے۔ دوسرے کسی تعلیم کو، جو کسی غیر اسرائیلی نبی کے ذریعہ سے آئے، خواہ وہ خدا ہی کی طرف سے ہو، تسلیم کرنے کے لیے وہ قطعی تیار نہ تھے۔ آگے کی آیتوں میں اسی رویہ پر انہیں ملامت کی جا رہی ہے، اس لیے کلام کا آغاز اس تمہیدی فقرے سے کیا گیا ہے۔ اس میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ یعنی یہ پوری کائنات اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جن کی بنا پر یہودیوں نے اپنی نسلی برتری کا تصور قائم کر رکھا ہے۔ وہ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔ جانب داری (Favouristism) کا اس کے ہاں کوئی کام نہیں۔ اپنی ساری مخلوق کے ساتھ اس کا معاملہ یکساں عدل اور رحمت اور ربوبیت کا ہے۔ کوئی خاص نسل اور قوم اس کی چہیتی نہیں ہے کہ وہ خواہ کچھ کرے، بہرحال اس کی نوازشیں اسی کے لیے مخصوص رہیں، اور کسی دوسری نسل یا قوم سے اس کو عداوت نہیں ہے کہ وہ اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتی ہو تو وہ اس کی عنایات سے محروم رہے۔ پھر فرمایا گیا کہ وہ بادشاہ ہے، یعنی دنیا کی کوئی طاقت اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی نہیں ہے۔ تم بندے اور رعیت ہو۔ تمہارا یہ منصب کب سے ہوگیا کہ تم یہ طے کرو کہ وہ تمہاری ہدایت کے لیے اپنا پیغمبر کسے بنائے اور کسے نہ بنائے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ وہ قدوس ہے۔ یعنی اس سے بدرجہا منزہ اور پاک ہے کہ اس کے فیصلے میں کسی خطا اور غلطی کا امکان ہو۔ غلطی تمہاری سمجھ بوجھ میں ہو سکتی ہے۔ اس کے فیصلے میں نہیں ہو سکتی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو مزید صفتیں بیان فرمائی گئیں۔ ایک یہ کہ وہ زبردست ہے، یعنی اس سے لڑ کر کوئی جیت نہیں سکتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے، یعنی جو کچھ کرتا ہے وہ عین مقتضائے دانش ہوتا ہے، اور اس کی تدبیریں ایسی محکم ہوتی ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کا توڑ نہیں کرسکتا۔
Ayah 62:2سورة الْجُمُعَة 2
یہاں امی کا لفظ یہودی اصطلاح کے طور پر آیا ہے، اور اس میں ایک لطیف طنز پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو یہودی حقارت کے ساتھ امی کہتے اور اپنے مقابلہ میں ذلیل سمجھتے ہیں، انہیں میں اللہ غالب و دانا نے ایک رسول اٹھایا ہے۔ وہ خود نہیں اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس کا اٹھانے والا وہ ہے جو کائنات کا بادشاہ ہے، زبردست اور حکیم ہے، جس کی قوت سے لڑ کر یہ لوگ اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید میں " اُمی " کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے اور سب جگہ اس کے معنی ایک ہی نہیں ہیں بلکہ مختلف مواقع پر وہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں وہ اہل کتاب کے مقابلہ میں ان لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے جس کی پیروی وہ کرتے ہوں۔ مثلاً فرمایا قَلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَا لْاُمِّیِّنَءَ اَسْلَمْتُمْ (آل عمران۔ 20)۔ " اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کیا تم نے اسلام قبول کیا ؟ " یہاں امیوں سے مراد مشرکین عرب ہیں، اور ان کو اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے الگ ایک گروہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی جگہ یہ لفظ خود اہل کتاب کے اَن پڑھ اور کتاب اللہ سے ناواقف لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جیسے فرمایا وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّا اَمَانِیَّ (البقرہ۔ 78)۔ " ان یہودیوں میں کچھ لوگ امی ہیں، کتاب کا کوئی علم نہیں رکھتے، بس اپنی آرزوؤں ہی کو جانتے ہیں "۔ اور کسی جگہ یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے مراد دنیا کے تمام غیر یہودی ہیں۔ مثلاً فرمایا ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ (آل عمران۔ 75)۔ یعنی " ان کے اندر یہ بد دیانتی پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں امیوں کا مال مار کھانے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے "۔ یہی تیسرے معنی ہیں جو آیت زیر بحث میں مراد لیے گئے ہیں۔ یہ لفظ عبرانی زبان کے لفظ گوئیم کا ہم معنی ہے، جس کا ترجمہ انگریزی بائیبل میں Gentiles کیا گیا ہے، اور اس سے مراد تمام غیر یہودی یا غیر اسرائیلی لوگ ہیں۔
لیکن اس یہودی اصطلاح کی اصل معنویت محض اس کی اس تشریح سے سمجھ میں نہیں آسکتی۔ دراصل عبرانی زبان کا لفظ گوئیم ابتداءً محض اقوام کے معنی میں بولا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہودیوں نے اسے پہلے تو اپنے سوا دوسری قوموں کے لیے مخصوص کردیا، پھر اس کے اندر یہ معنی پیدا کردیے کہ یہودیوں کے سوا باقی تمام اقوام ناشائستہ، بد مذہب، ناپاک اور ذلیل ہیں، حتیٰ کہ حقارت اور نفرت میں یہ لفظ یونانیوں کی اصطلاح Barbarian سے بھی بازی لے گیا جسے وہ تمام غیر یونانیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ربیوں کے لٹریچر میں گوئیم اس قدر قابل نفرت لوگ ہیں کہ ان کو انسانی بھائی نہیں سمجھا جاسکتا، ان کے ساتھ سفر نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان میں سے کوئی شخص ڈوب رہا ہو تو اسے بچانے کی کوشش بھی نہیں کی جاسکتی۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ آنے والا مسیح تمام گوئیم کو ہلاک کر دے گا اور جلا کر خاکستر کر ڈالے گا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حاشیہ 64)۔
سورة الْجُمُعَة 3
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کی یہ صفات چار مقامات پر بیان کی گئی ہیں، اور ہر جگہ ان کے بیان کی غرض مختلف ہے۔ البقرہ آیت 129 میں ان کا ذکر اہل عرب کو یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ آنحضور کی بعثت، جسے وہ اپنے لیے زحمت و مصیبت سمجھ رہے تھے، در حقیقت ایک بڑی نعمت ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) اپنی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ البقرہ آیت 151 میں انہیں اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان حضور ﷺ کی قدر پہچانیں اور اس نعمت سے پورا پورا فیض حاصل کریں جو حضور ﷺ کی بعثت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہے۔ آل عمران آیت 164 میں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے ان کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ کتنا بڑا احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنا رسول بھیج کر کیا ہے اور یہ لوگ کتنے نادان ہیں کہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ اب چوتھی مرتبہ انہیں اس سورة میں دہرایا گیا ہے جس سے مقصود یہودیوں کو یہ بتانا ہے کہ محمد ﷺ تمہاری آنکھوں کے سامنے جو کام کر رہے ہیں وہ صریحاً ایک رسول کا کام ہے۔ وہ اللہ کی آیات سنا رہے ہیں جن کی زبان، مضامین، انداز بیان، ہر چیز اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ فی الواقع وہ اللہ ہی کی آیات ہیں۔ وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہے ہیں، ان کے اخلاق اور عادات اور معاملات کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک کر رہے ہیں، اور ان کو اعلیٰ درجے کے اخلاقی فضائل سے آراستہ کر رہے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو اس سے پہلے تمام انبیاء کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ صرف آیات ہی سنانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اپنے قول اور عمل سے اور اپنی زندگی کے نمونے سے لوگوں کو کتاب الٰہی کا منشا سمجھا رہے ہیں اور ان کو اس حکمت و دانائی کی تعلیم دے رہے ہیں جو انبیاء کے سوا آج تک کسی نے نہیں دی ہے۔ یہی سیرت اور کردار اور کام ہی تو انبیاء کا وہ نمایاں وصف ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ جس کا رسول بر حق ہونا اس کے کارناموں سے علانیہ ثابت ہو رہا ہے اس کو ماننے سے تم نے صرف اس لیے انکار کردیا کہ اللہ نے اسے تمہاری قوم کے بجائے اس قوم میں سے اٹھایا جسے تم امی کہتے ہو۔ "
سورة الْجُمُعَة 4
یہ حضور ﷺ کی رسالت کا ایک اور ثبوت ہے جو یہودیوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے عرب کی سر زمین میں آباد تھے اور اہل عرب کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، اور تمدنی زندگی کا کوئی گوشہ ان سے چھپا ہوا نہ تھا۔ ان کی اس سابق حالت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ چند سال کے اندر محمد ﷺ کی قیادت و رہنمائی میں اس قوم کی جیسی کایا پلٹ گئی ہے اس کے تم عینی شاہد ہو۔ تمہارے سامنے وہ حالت بھی ہے جس میں یہ لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے مبتلا تھے۔ وہ حالت بھی ہے جو اسلام لانے کے بعد ان کی ہوگئی، اور اسی قوم کے ان لوگوں کی حالت بھی تم دیکھ رہے ہو جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا ہے۔ کیا یہ کھلا کھلا فرق، جسے ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے، تمہیں یہ یقین دلانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ ایک نبی کے سوا کسی کا کارنامہ نہیں ہوسکتا ؟ بلکہ اس کے سامنے تو پچھلے انبیاء تک کے کارنامے ماند پڑگئے ہیں۔
Ayahs 62:3–4سورة الْجُمُعَة 5
یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ " دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں " اس میں لفظ منہم (ان میں سے) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ محمد ﷺ کو ماننے والے ہونگے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہوجائیں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات جہاں اس مضمون کی صراحت کی گئی ہے، حسب ذیل ہیں الانعام، آیت 19۔ الاعراف، 158۔ الانبیاء، 107۔ الفرقان، 1۔ سبا، 28 (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة سبا، حاشیہ 47)۔
سورة الْجُمُعَة 6
یعنی یہ اسی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ ایسی ناتراشیدہ امی قوم میں اس نے ایسا عظیم نبی بیدا کیا جس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے، اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کی حامل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرسکتی ہے۔ کوئی بناؤٹی انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرلیتا، یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار، دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین سے ذہین آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے، اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کو دے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر و ہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہوجائے۔ یہ ایک معجزہ ہے جو اللہ کی قدرت سے رونما ہوا ہے، اور اللہ ہی نے اپنی حکمت کی بنا پر جس شخص، جس ملک، اور جس قوم کو چاہا ہے اس کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اس پر اگر کسی بیوقوف کا دل دکھتا ہے تو دکھتا رہے۔
Ayah 62:5سورة الْجُمُعَة 7
اس فقرے کے دو معنی ہیں۔ ایک عام اور دوسرا خاص۔ عام معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر توراۃ کے علم و عمل، اور اس کے مطابق دنیا کی ہدایت کا بار رکھا گیا تھا، مگر نہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور نہ اس کا حق ادا کیا۔ خاص معنی یہ ہیں کہ حامل توراۃ گروہ ہونے کی حیثیت سے جن کا کام یہ تھا کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس رسول کا ساتھ دیتے جس کے آنے کی صاف صاف بشارت توراۃ میں دی گئی تھی، مگر انہوں نے سب سے بڑھ کر اس کی مخالف کی اور توراۃ کی تعلیم کے تقاضے کو پورا نہ کیا۔
سورة الْجُمُعَة 8
یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے، اسی طرح یہ توراۃ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لیے آئی ہے اور ان سے کیا چاہتی ہے۔
سورة الْجُمُعَة 9
یعنی ان کا حال گدھے سے بھی بدتر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا اس لیے مغرور ہے۔ مگر یہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ توراۃ کو پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ اس کے معنی سے ناواقف نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ اس کی ہدایات سے دانستہ انحراف کر رہے ہیں، اور اس نبی کو ماننے سے قصداً انکار کر رہے ہیں جو توراۃ کی رو سے سراسر حق پر ہے۔ یہ نافہمی کے قصور وار نہیں ہیں بلکہ جان بوجھ کر اللہ کی آیات کو جھٹلانے کے مجرم ہیں۔
Ayah 62:6سورة الْجُمُعَة 10
یہ نکتہ قابل توجہ ہے۔ " اَے یہودیو " نہیں کہا ہے بلکہ " اَے وہ لوگو جو یہودی بن گئے ہو " یا " جنہوں نے یہودیت اختیار کرلی ہے " فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو موسیٰ ؑ اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا، اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیداوار ہے۔ یہ اس خاندان کی طرف منسوب ہے جو حضرت یعقوب ؑ کے چوتھے بیٹے یہوداہ کی نسل سے تھا۔ حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب سلطنت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ خاندان اس ریاست کا مالک ہوا جو یہودیہ کے نام سے موسوم ہوئی، اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کرلی جو سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ پھر اسیریا نے نہ صرف یہ کہ سامریہ کو برباد کردیا بلکہ ان اسرائیلی قبیلوں کا بھی نام و نشان مٹادیا جو اس ریاست کے بانی تھے۔ اس کے بعد صرف یہوداہ، اور اس کے ساتھ بن یامین کی نسل باقی رہ گئی جس پر یہوداہ کی نسل کے غلبے کی وجہ سے " یہود " ہی کے لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ اس نسل کے اندر کاہنوں اور ربیوں اور احبار نے اپنے اپنے خیالات و نظریات اور رجحانات کے مطابق عقائد اور رسوم اور مذہبی ضوابط کا جو ڈھانچہ صدہا برس میں تیار کیا اس کا نام یہودیت ہے۔ یہ ڈھانچا چوتھی صدی قبل مسیح سے بننا شروع ہوا اور پانچویں صدی عیسوی تک بنتا رہا۔ اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی ربانی ہدایت کا بہت تھوڑا ہی عنصر اس میں شامل ہے۔ اور اس کا حلیہ بھی اچھا خاصا بگڑ چکا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ان کو الَّذِیْنَ ھَادُوْا کہہ کر خطاب کیا گیا ہے، یعنی " اے وہ لوگو جو یہودی بن کر رہ گئے ہو "۔ ان میں سب کے سب اسرائیل ہی نہ تھے، بلکہ وہ غیر اسرائیلی بھی تھے جنہوں نے یہودیت قبول کرلی تھی۔ قرآن میں جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہے وہاں " اے بنی اسرائیل " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور جہاں مذہب یہود کے پیروؤں کو خطاب کیا گیا ہے وہاں اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔
سورة الْجُمُعَة 11
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان کے اس دعوے کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا (البقرہ۔ 111) ہمیں دوزخ کی آگ ہرگز نہ چھوئے گی، اگر ہم کو سزا ملے گی بھی تو بس چند روز (البقرہ۔ 80، آل عمران۔ 24)۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (المائدہ۔ 18) ایسے ہی کچھ دعوے خود یہودیوں کی اپنی کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔ کم از کم یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی بر گزیدہ مخلوق (Chosen People) کہتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ خدا کا ان کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے جو کسی دوسرے انسانی گروہ سے نہیں ہے۔
سورة الْجُمُعَة 12
یہ بات قرآن مجید میں دوسری مرتبہ یہودیوں کو خطاب کر کے کہی گئی ہے۔ پہلے سورة بقرہ میں فرمایا گیا تھا " ان سے کہو، اگر آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے اللہ کے ہاں مخصوص ہے تو پھر تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ بلکہ تم تمام انسانوں سے بڑھ کر، حتیٰ کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر ان کو کسی نہ کسی طرح جینے کا حریص پاؤ گے۔ ان میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس جیے، حالانکہ وہ لمبی عمر پائے تب بھی اسے یہ چیز عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ ان کے سارے کرتوت اللہ کی نظر میں ہیں " (آیات 94۔ 96) اب اسی بات کو پھر یہاں دہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ محض تکرار نہیں ہے۔ سورة بقرہ والی آیات میں یہ بات اس وقت کہی گئی تھی جب یہودیوں سے مسلمانوں کی کوئی جنگ نہ ہوئی تھی۔ اور اس سورة میں اس کا اعادہ اس وقت کیا گیا ہے جب ان کے ساتھ متعدد معرکے پیش آنے کے بعد عرب میں آخری اور قطعی طور پر ان کا زور توڑ دیا گیا۔ ان معرکوں نے اور ان کے اس انجام نے وہ بات تجربے اور مشاہدے سے ثابت کردی جو پہلے سورة بقرہ میں کہی گئی تھی۔ مدینے اور خیبر میں یہودی طاقت بلحاظ تعداد مسلمانوں سے کسی طرح کم نہ تھی، اور بلحاظ وسائل ان سے بہت زیادہ تھی۔ پھر عرب کے مشرکین اور مدینے کے منافقین بھی ان کی پشت پر تھے اور مسلمانوں کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ لیکن جس چیز نے اس نامساوی مقابلے میں مسلمانوں کو غالب اور یہودیوں کو مغلوب کیا وہ یہ تھی کہ مسلمان راہ خدا میں مرنے سے خائف تو درکنار، تہ دل سے اس کے مشتاق تھے اور سر ہتھیلی پر لیے ہوئے میدان جنگ میں اترتے تھے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ خدا کی راہ میں لڑ رہے ہیں، اور وہ اس بات پر بھی کامل یقین رکھتے تھے کہ اس راہ میں شہید ہونے والے کے لیے جنت ہے۔ اس کے بر عکس یہودیوں کا حال یہ تھا کہ وہ کسی راہ میں بھی جان دینے کے لیے تیار نہ تھے، نہ خدا کی راہ میں، نہ قوم کی راہ میں، نہ خود اپنی جان اور مال اور عزت کی راہ میں۔ انہیں صرف زندگی درکار تھی، خواہ وہ کیسی ہی زندگی ہو۔ اسی چیز نے ان کو بزدل بنادیا تھا۔
Ayahs 62:7–8سورة الْجُمُعَة 13
بالفاظ دیگر ان کا موت سے یہ فرار بےسبب نہیں ہے۔ وہ زبان سے خواہ کیسے ہی لمبے چوڑے دعوے کریں، مگر ان کے ضمیر خوب جانتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کے ساتھ ان کا معاملہ کیا ہے، اور آخرت میں ان حرکتوں کے کیا نتائج نکلنے کی توقع کی جاسکتی ہے جو وہ دنیا میں کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا نفس خدا کی عدالت کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے۔
Ayah 62:9سورة الْجُمُعَة 14
اس فقرے میں تین باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں نماز کے لیے منادی کرنے کا ذکر ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی ایسی نماز کی منادی کا ذکر ہے جو خاص طور پر صرف جمعہ کے دن ہی پڑھی جانی چاہیے۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں چیزوں کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا ہے کہ تم نماز کے لیے منادی کرو، اور جمعہ کے روز ایک خاص نماز پڑھا کرو، بلکہ انداز بیان اور سیاق وسباق صاف بتارہا ہے کہ نماز کی منادی سن کر نماز کے لیے دوڑنے میں تساہل برتتے تھے اور خریدو فروخت کرنے میں لگے رہتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت صرف اس غرض کے لیے نازل فرمائی کہ لوگ اس منادی اور اس خاص نماز کی اہمیت محسوس کریں اور فرض جان کر اس کی طرف دوڑیں۔ ان تینوں باتوں پر اگر غور کیا جائے تو ان سے یہ اصولی حقیقت قطعی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو کچھ ایسے احکام بھی دیتا تھا جو قرآن میں نازل ہوئے، اور وہ احکام بھی اسی طرح واجب الاطاعت تھے جس طرح قرآن میں نازل ہونے والے احکام۔ نماز کی منادی وہی اذان ہے جو آج ساری دنیا میں ہر روز پانچ وقت ہر مسجد میں دی جا رہی ہے۔ مگر قرآن میں کسی جگہ نہ اس کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں، نہ کہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز کے لیے لوگوں کو اس طرح پکارا کرو۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ ہے۔ قرآن میں دو جگہ صرف اس کی توثیق کی گئی ہے، ایک اس آیت میں، دوسرے سورة مائدہ کی آیت 85 میں۔ اسی طرح جمعہ کی یہ خاص نماز جو آج ساری دنیا کے مسلمان ادا کر رہے ہیں، اس کا بھی قرآن میں نہ حکم دیا گیا ہے نہ وقت اور طریق ادا بتایا گیا ہے۔ یہ طریقہ بھی رسول اکرم ﷺ کا جاری کردہ ہے، اور قرآن کی یہ آیت صرف اس کی اہمیت اور اس کے وجوب کی شدت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس صریح دلیل کے باوجود جو شخص یہ کہتا ہے کہ شرعی احکام صرف وہی ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ دراصل سنت کا نہیں، خود قرآن کا منکر ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے جمعہ کے بارے میں چند امور اور بھی جان لینے چاہییں۔
۔۔۔۔۔ جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم عَرُوْبَہ کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا۔ اگرچہ مؤرخین کہتے ہیں کہ کعب بن لُؤَیّ ، یا قُصَیّ بن کلاب نے بھی اس دن کے لیے یہ نام استعمال کیا تھا، کیونکہ اس روز وہ قریش کے لوگوں کا اجتماع کیا کرتا تھا (فتح الباری) ، لیکن اس کے اس فعل سے قدیم نام تبدیل نہیں ہوا، بلکہ عام اہل عرب اسے عروبہ ہی کہتے تھے۔ نام کی حقیقی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اسلام میں اس دن کا یہ نیا نام رکھا گیا۔
۔۔۔ اسلام سے پہلے ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس غرض کے لیے سَبْت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا گیا تھا، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممیز کرنے کے لیے اپنا شعار ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگرچہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ نے دیا تھا، نہ انجیل میں کہیں اس کا ذکر آیا ہے، لیکن عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ اسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے۔ اسی بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر 321 میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعہ سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کردیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کیا۔
۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو مسعود انصاری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم نبی ﷺ پر ہجرت سے کچھ مدت پہلے مکہ معظمہ ہی میں نازل ہوچکا تھا۔ لیکن اس وقت آپ اس پر عمل نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ مکہ میں کوئی اجتماعی عبادت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپ نے ان لوگوں کو جو آپ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے، یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہاں جمعہ قائم کریں۔ چناچہ ابتدائی مہاجرین کے سردار حضرت مصعب بن عمیر نے 12 آدمیوں کے ساتھ مدینے میں پہلا جمعہ پڑھا (طبرانی۔ دارقطنی)۔ حضرت کعب بن مالک اور ابن سیرین کی روایت یہ ہے کہ اس سے بھی پہلے مدینہ کے انصار نے بطور خود (قبل اس کے کہ حضور ﷺ کا حکم ان کو پہنچا ہوتا) آپس میں یہ طے کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن مل کر اجتماعی عبادت کریں گے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کو چھوڑ کر جمعہ کا دن انتخاب کیا اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن زرارہ نے بنی بیاضہ کے علاقہ میں پڑھا جس میں 40 آدمی شریک ہوئے (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، عبد بن حمید، عبدالرزاق، بیہقی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامی ذوق خود اس وقت یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ایسا ایک دن ہونا چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ مسلمان جمع ہو کر اجتماعی عبادت کریں، اور یہ بھی اسلامی ذوق ہی کا تقاضا تھا کہ وہ دن ہفتے اور اتوار سے الگ ہو تاکہ مسلمانوں کا شعار ملت یہود و نصاریٰ کے شعار ملت سے الگ رہے۔ یہ صحابہ کرام کی اسلامی ذہنیت کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ بسا اوقات ایک حکم آنے سے پہلے ہی ان کا ذوق کہہ دیتا تھا کہ اسلام کی روح فلاں چیز کا تقاضا کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد جو اولین کام کیے ان میں سے ایک جمعہ کی اقامت بھی تھی۔ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے آپ پیر کے روز قبا پہنچے، چار دن وہاں قیام فرمایا، پانچویں روز جمعہ کے دن وہاں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، راستہ میں بنی سالم بن عوف کے مقام پر تھے کہ نماز جمعہ کا وقت آگیا، اسی جگہ آپ نے پہلا جمعہ ادا فرمایا (ابن ہشام)۔
۔۔۔۔۔ اس نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ نے زوال کے بعد کا وقت مقرر فرمایا تھا، یعنی وہی وقت جو ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر کو جو تحریری حکم آپ نے بھیجا تھا اس میں آپ کا ارشاد یہ تھا کہ فاذا مال النھار عن شطرہ عند الزوال من یوم الجمعۃ فتقربوا الی اللہ تعالیٰ برکعتین (دارقُطنی)۔ " جب جمعہ کے روز دن نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعہ سے اللہ کے حضور تقرب حاصل کرو "۔ یہ حکم ہجرت کے بعد آپ نے قولاً بھی دیا اور عملاً بھی اسی وقت پر آپ جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ حضرت اَنَس، حضرت سلمہ بن اکوع، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت زبیر بن العوام، حضرت سہل بن سعد، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عمار بن یاسر اور حضرت بلال ؓ سے اس مضمون کی روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں کہ حضور ﷺ جمعہ نماز زوال کے بعد ادا فرمایا کرتے تھے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی، تِرمذی)۔
۔۔۔۔۔۔۔ یہ امر بھی آپ کے عمل سے ثابت ہے کہ اس روز آپ ظہر کی نماز کے بجائے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے، اس نماز کی صرف دو رکعتیں ہوتی تھیں، اور اس سے پہلے آپ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ یہ فرق جمعہ کی نماز اور عام دنوں کی نماز ظہر میں تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں صلوٰۃ المسافر رکعتان، وصلوٰۃ الفجر رکعتان، و صلوٰۃ الجمعۃ رکعتان، تمام غیر قصر علیٰ لسان نبیکم ﷺ وانما قصرت الجمعۃ لاجل الخطبۃ (احکام القرآن للجصاص)۔ " تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے حکم کی رو سے مسافر کی نماز دو رکعت ہے، فجر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ یہ پوری نماز ہے، قصر نہیں ہے۔ اور جمعہ کو خطبہ کی خاطر ہی مختصر کیا گیا ہے "۔
۔۔۔۔۔۔ جس اذان کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو خطبہ سے پہلے دی جاتی ہے، نہ کہ وہ اذان جو خطبہ سے کافی دیر پہلے لوگوں کو یہ اطلاع دینے لیے دی جاتی ہے کہ جمعہ کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ حدیث میں حضرت سائب بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صرف ایک ہی اذان ہوتی تھے، اور وہ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں بھی یہی عمل ہوتا رہا۔ پھر حضرت عثمان کے دور میں جب آبادی بڑھ گئی تو انہوں نے پہلے ایک اور اذان دلوانی شروع کردی جو مدینے کے بازار میں ان کے مکان زوراء پر دی جاتی تھی (بخاری، ابو داؤد، نَسائی، طبرانی)۔
سورة الْجُمُعَة 15
اس حکم میں ذکر سے مراد خطبہ ہے، کیونکہ اذان کے بعد پہلا عمل جو نبی ﷺ کرتے تھے وہ نماز نہیں بلکہ خطبہ تھا، اور نماز آپ ہمیشہ خطبہ کے بعد ادا فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے روز ملائکہ ہر آنے والے کا نام اس کی آمد کی ترتیب کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ پھر اذا خرج الامام حضرت الملٰئکۃ یستمعون الذکر۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ نام لکھنے بند کردیتے ہیں اور ذکر (یعنی خطبہ) سننے میں لگ جاتے ہیں " (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی)۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے۔ خود قرآن کا بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پہلے فرمایا فَاسْعَوْا الیٰ ذِکْرِ اللہِ۔ " خدا کے ذکر کی طرف دوڑو "۔ پھر آگے چل کر فرمایا فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْارْضِ "۔ جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ "۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے روز عمل کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذکر اللہ اور پھر نماز۔ مفسرین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ ذکر سے مراد یا تو خطبہ ہے یا پھر خطبہ اور نماز دونوں۔
خطبہ کے لیے " ذکر اللہ " کا لفظ استعمال کرنا خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس میں وہ مضامین ہونے چاہییں جو اللہ کی یاد سے مناسبت رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ کی حمد و ثنا، اس کے رسول پر درود و صلوۃ، اس کے احکام اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کی تعلیم و تلقین، اس کے ڈرنے والے نیک بندوں کی تعریف وغیرہ، اسی بنا پر زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ خطبہ میں ظالم حکمرانوں کی مدح و ثنا یا ان کا نام لینا اور ان کے لیے دعا کرنا، ذکر اللہ سے کوئی دور کی مناسبت بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ تو ذکر الشیطان ہے۔
" اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو "۔ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھاگتے ہوئے آؤ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ اردو زبان میں بھی ہم دوڑ دھوپ کرنا، بھاگ دوڑ کرنا، سرگرم کوشش کے معنی میں بولتے ہیں، نہ کہ بھاگنے کے معنی میں، اسی طرح عربی میں بھی سعی کے معنی بھاگنے ہی کے نہیں ہیں۔ قرآن میں اکثر مقامات پر سعی کا لفظ کوشش اور جدو جہد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ۔ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعیٰ لَھَا سَعْیَھَا۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ۔ وَاِذَا تَوَلّیٰ سَعیٰ فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا۔ مفسرین نے بھی بالاتفاق اس کو اہتمام کے معنی میں لیا ہے، ان کے نزدیک سعی یہ ہے کہ آدمی اذان کی آواز سن کر فوراً مسجد پہنچنے کی فکر میں لگ جائے۔ اور معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ حدیث میں بھاگ کر نماز کے لیے آنے کی صاف ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ " جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ بھاگتے ہوئے نہ آؤ، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہوجاؤ، اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کرلو "۔ (صحاح ستہ)۔ حضرت ابو قتادہ انصاری فرماتے ہیں، ایک مرتبہ ہم حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضور ﷺ نے ان لوگوں سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی ؟ ان لوگوں نے عرض کیا۔ ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آ رہے تھے۔ فرمایا " ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آؤ پورے سکون کے ساتھ آؤ۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کرلو " (بخاری، مسلم)
" خریدو فروخت چھوڑ دو " کا مطلب صرف خریدو فروخت ہی چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ نماز کے لیے جانے کی فکر اور اہتمام کے سوا ہر دوسری مصروفیت چھوڑ دینا ہے، بیع کا ذکر خاص طور پر صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ جمعہ کے رو تجارت خوب چمکتی تھی، آس پاس کی بستیوں کے لوگ سمٹ کر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے، تاجر بھی اپنا مال لے لے کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ لوگ بھی اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں لگ جاتے تھے۔ لیکن ممانعت کا حکم صرف بیع تک محدود نہیں ہے، بلکہ دوسرے تمام مشاغل بھی اس کے تحت آجاتے ہیں، اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ان سے منع فرما دیا ہے، اس لیے فقہاء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد بیع اور ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔
یہ حکم قطعی طور پر نماز جمعہ کے فرض ہونے پر دلا لت کرتا ہے۔ اول تو اذان سنتے ہی اس کے لیے دوڑنے کی تاکید بجائے خود اس کی دلیل ہے۔ پھر بیع جیسی حلال چیز کا اس کی خاطر حرام ہوجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فرض ہے۔ مزید برآں ظہر کی فرض نماز کا جمعہ کے روز ساقط ہوجانا اور نماز جمعہ کا اس کی جگہ لے لینا بھی اس کی فرضیت کا صریح ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک فرض اسی وقت ساقط ہوتا ہے جبکہ اس کی جگہ لینے والا فرض اس سے زیادہ اہم ہو۔ اسی کی تائید بکثرت احادیث کرتی ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کی سخت ترین تاکید کی ہے اور اسے صاف الفاظ میں فرض قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " میرا جی چاہتا ہے کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دوں اور جا کر ان لوگوں کے گھر جلادوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے "۔ (مسند احمد، بخاری) حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ہم نے جمعہ کے خطبہ میں حضور ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے " لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑ نے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے "۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی) حضرت ابو الجعد ضحْری، حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبد اللہ بن ابی اَوْفیٰ کی روایات میں حضور ﷺ کے جو ارشادات منقول ہوئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی حقیقی ضرورت اور جائز عذر کے بغیر، محض بےپروائی کی بنا پر مسلسل تین جمعے چھوڑ دے، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے "۔ بلکہ ایک روایت میں تو الفاظ یہ ہیں کہ " اللہ اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیتا ہے " (مسند احمد، ابو داؤد نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، حاکم، ابن حبان، بزاز، طبرانی فی الکبیر) حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا " آج سے لے کر قیامت تک جمعہ تم لوگوں پر فرض ہے۔ جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑے، خدا اس کا حال درست نہ کرے، نہ اسے برکت دے۔ خوب سن رکھو، اس کی نماز نماز نہیں، اس کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں، اس کا حج حج نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے اللہ اسے معاف فرمانے والا ہے "۔ (ابن ماجہ، بزار) اسی سے قریب المعنیٰ ایک روایت طبرانی نے اوسط میں ابن عمر سے نقل کی ہے۔ علاوہ بریں بکثرت روایات ہیں جن میں حضور ﷺ نے جمعہ کو بالفاظ صریح فرض اور حق واجب قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے " (ابو داؤد، دارقطنی) جابر بن عبداللہ اور ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے خطبہ میں فرمایا۔ " جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے "۔ (بیہقی) البتہ آپ نے عورت، بچے غلام، مریض اور مسافر کو اس فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ حضرت حفصہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ " جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے " (نسائی)۔ حضرت طارق بن شہاب کی روایت میں آپ کا ارشاد یہ ہے کہ " جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سوائے غلام، عورت، بچے، اور مریض کے " (ابو داؤد، حاکم) حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں " جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے۔ الّا یہ کہ عورت ہو یا مسافر ہو، یا غلام ہو، یا مریض ہو " (دار قطنی، بیہقی) قرآن و حدیث کی ان ہی تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔
Ayah 62:10سورة الْجُمُعَة 16
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور تلاش رزق کی دوڑ دھوپ میں لگ جانا ضروری ہے۔ بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ چونکہ جمعہ کی اذان سن کر سب کاروبار چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا اس لیے فرمایا گیا کہ نماز ختم ہوجانے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہوجاؤ اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو کرو، یہ ایسا ہی ہے جیسے حالت احرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا فَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا (الماعدہ۔ 2) " جب احرام کھول چکو تو شکار کرو " اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی پابندی باقی نہیں رہتی۔ چاہو تو شکار کرسکتے ہو۔ یا مثلاً سورة نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت فانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ یہاں اگرچہ فانْکِحُوْا بصیغۂ امر ہے۔ مگر کسی نے بھی اس کو حکم کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ اس سے یہ اصولی مسئلہ نکلتا ہے کہ صیغۂ امر ہمیشہ وجوب ہی کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی یہ اجازت اور کبھی استحباب کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بات قرائن سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں یہ حکم کے معنی میں ہے اور کہاں اجازت کے معنی میں اور کہاں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ کو ایسا کرنا پسند ہے لیکن یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ فعل فرض و واجب ہے۔ خود اسی فقرے کے بعد متصلاً دوسرے ہی فقرے میں ارشاد ہوا ہے واذْکُرُوا اللہَ کَثِیْراً۔ " اللہ کو کثرت سے یاد کرو "۔ یہاں بھی صیغۂ امر موجود ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ استحباب کے معنی میں ہے نہ کہ وجوب کے معنی میں۔
اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ قرآن میں یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس امر سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعار ملت ہے جس طرح ہفتہ اور اتوار یہودیوں اور عیسائیوں کے شعار ملت ہیں۔ اور اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا ایک تمدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتے کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان (اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حس موجود ہو) لازماً اس غرض کے لیے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا، بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامل نہ کیا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی یہودیوں نے جب فلسطین میں اپنی اسرائیلی ریاست قائم کی تو اولین کام جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اتوار کے بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔ قبل تقسیم کے ہندوستان میں برطانوی ہند اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی۔ البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حس موجود نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کو سینے سے لگائے رہتے ہیں جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ اس سے زیادہ جب بےحسی طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کی چھٹی رائج کی جاتی ہے، جیسا کہ مصطفیٰ کمال نے ٹرکی میں کیا۔
سورة الْجُمُعَة 17
یعنی اپنے کاروبار میں لگ کر بھی اللہ کو بھولو نہیں، بلکہ ہر حال میں اس کو یاد رکھو اور اس کا ذکر کرتے رہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة احزاب، حاشیہ 63)۔
سورة الْجُمُعَة 18
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایک ہدایت یا ایک نصیحت یا ایک حکم دینے کے بعد لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْ نَ (شائد کہ تم فلاح پا جاؤ) اور لَعَلَّکُمْ تَرْ حَمُوْنَ (شاید کہ تم پر رحم کیا جائے) کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر شاید کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کو معاذاللہ کوئی شک لا حق ہے، بلکہ یہ دراصل شاہانہ انداز بیان ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مہربان آقا اپنے ملازم سے کہے کہ تم فلاں خدمت انجام دو ، شاید کہ تمہیں ترقی مل جائے۔ اس میں ایک لطیف وعدہ پوشیدہ ہوتا ہے جس کی امید میں ملازم دل لگا کر بڑے شوق کے ساتھ وہ خدمت انجام دیتا ہے۔ کسی بادشاہ کی زبان سے کسی ملازم کے لیے یہ فقرہ نکل جائے تو اس کے گھر خوشی کے شادیانے بج جاتے ہیں۔
یہاں چونکہ جمعہ کے احکام ختم ہوگئے ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب اربعہ میں قرآن، حدیث، آثار صحابہ، اور اسلام کے اصول عامہ سے جو احکام جمعہ مرتب کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ دے دیا جائے۔
حنفیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔ نہ اس سے پہلے جمعہ ہوسکتا ہے، نہ اس کے بعد۔ بیع کی حرمت پہلی اذان ہی سے شروع ہوجاتی ہے، نہ کہ اس دوسری اذان سے جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے، کیونکہ قرآن میں اِذَ نُوْ دِیَ للصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ کے الفاظ مطلقاً ارشاد ہوئے ہیں۔ اس لیے زوال کے بعد جب جمعہ کا وقت شروع ہوجائے اس وقت جو اذان بھی نماز جمعہ کے لیے دی جائے، لوگوں کو اسے سن کر خریدو فروخت چھوڑ دینی چاہیے۔ لیکن اگر کسی شخص نے اس وقت خریدو فروخت کرلی ہو تو وہ بیع فاسد یا جسخ نہ ہوجائے گی، بلکہ یہ صرف ایک گناہ ہوگا۔ جمعہ ہر بستی میں نہیں بلکہ صرف مصر جامع میں ہوسکتا ہے، اور مصر جامع کی معتبر تعریف یہ کہ وہ شہر جس میں بازار ہوں، قیام امن کا انتظام موجود ہو، اور آبادی اتنی ہو کہ اگر اس کی بڑی سے بڑی مسجد میں بھی نماز جمعہ کے مکلف سب لوگ جمع ہوجائیں تو اس میں سما نہ سکیں۔ جو لوگ شہر سے باہ رہتے ہوں ان پر جمعہ اس صورت میں شہر آ کر پڑھنا فرض ہے جبکہ ان تک اذان کی آواز پہنچتی ہو، یا وہ زیادہ سے زیادہ شہر سے 6 میل کے فاصلے پر ہوں۔ نماز کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ وہ کھلے میدان میں بھی ہو سکتی ہے اور ایسے میدان میں بھی ہو سکتی ہے جو شہر کے باہر ہو مگر اس کا یاک حصہ شمار ہوتا ہو، نماز جمعہ صرف اس جگہ ہو سکتی ہے جہاں ہر شخص کے لیے شریک ہونے کا اذن عام ہو۔ کسی بند جگہ، جہاں ہر ایک کو آنے کی اجازت نہ ہو، خواہ کتنے ہی آدمی جمع ہوجائیں، جمعہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں کم از کم (بقول ابو حنیفہ) امام کے سوا تین آدمی، یا (بقول ابو یوسف و محمد) امام سمیت دو آدمی ایسے موجود ہوں جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر ایک شخص سے جمعہ ساقط ہوجاتا ہے وہ یہ ہیں آدمی حالت سفر میں ہی، یا ایسا بیمار ہو کہ چل کر نہ آسکتا ہو، یا دونوں ٹانگوں سے معذور ہو، یا اندھا ہو (مگر امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اندھے پر سے صرف اس وقت جمعہ کی فرضیت ساقط ہوتی ہے جبکہ وہ کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو جو اسے چلا کرلے جائے) یا کسی ظالم سے اس کو جان اور آبرو کا، یا ناقابل برداشت مالی نقصان کا خطرہ ہو، یا سخت بارش اور کیچڑ پانی ہو، یا آدمی قید کی حالت میں ہو۔ قیدیوں اور معذوروں کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ جمعہ کے روز ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ جن لوگوں کا جمعہ چھوٹ گیا ہو ان کے لیے بھی ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ خطبہ صحت جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے کبھی جمعہ کی نماز خطبہ کے بغیر نہیں پڑھی ہے، اور وہ لازماً نماز سے پہلے ہونا چاہیے، اور دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبہ کے لیے جب امام منبر کی طرف جائے، اس وقت سے اختتام خطبہ تک ہر قسم کی بات چیت ممنوع ہے، اور نماز بھی اس وقت نہیں پڑھنی چاہیے، خواہ امام کی آواز اس مقام تک پہنچتی ہو یا نہ پہنچتی ہو جہاں کوئی شخص بیٹھا ہو (ہدایہ، فتح القدیر، احکام القرآن للجصاص، الفقہ علی المذاہب الا ربعہ، عمدۃ القاری)۔
شافعیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب دوسری اذان ہو (یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے)۔ تاہم اگر کوئی شخص اس وقت بیع کرے تو وہ فسخ نہیں ہوتی۔ جمعہ ہر اس بستی میں ہوسکتا ہے جس کے مستقل باشندوں میں 40 ایسے آدمی موجود ہوں جن پر نماز جمعہ فرض ہے۔ بستی سے باہر کے ان لوگوں پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا لازم ہے جن تک اذان کی آواز پہنچ سکتی ہو۔ جمعہ لازماً بستی کے حدود میں ہونا چاہیے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں پڑھا جائے۔ جو لوگ صحرا میں خیموں کے اندر رہتے ہوں ان پر جمعہ واجب نہیں ہے۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں امام سمیت کم از کم 40 ایسے آدمی شریک ہوں جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہوجاتا ہے وہ یہ ہیں سفر کی حالت میں ہو، یا کسی مقام پر چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو، بشرطیکہ سفر جائز نوعیت کا ہو۔ ایسا بوڑھا یا مریض ہو کہ سواری پر بھی جمعہ کے لیے نہ جاسکتا ہو۔ اندھا ہو اور کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو جو اسے نماز کے لیے لے جائے۔ جان یا مال یا آبرو کا خوف لاحق ہو۔ قید کی حالت میں ہو، بشرطیکہ اس کی قید اس کے اپنے کسی قصور کی وجہ سے نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبے کے دوران میں خاموش رہنا مسنون ہے، مگر بات کرنا حرام نہیں ہے۔ جو شخص امام سے اتنا قریب بیٹھا ہو کہ خطبہ سن سکتا ہو اس کے لیے بولنا مکروہ ہے، لیکن وہ سلام کا جواب دے سکتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کا ذکر سن کر بآواز بلند درود پڑھ سکتا ہے (مغنی المحتاج۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔
مالکیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت زوال سے شروع ہو کر مغرب سے اتنے پہلے تک ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے خطبہ اور نماز ختم ہوجائے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد اگر بیع واقع ہو تو وہ فاسد ہے اور فسخ ہوگی۔ جمعہ صرف ان بستیوں میں ہوسکتا ہے جن کے باشندے وہاں مستقل طور پر گھر بنا کر رہتے ہوں، اور جاڑے گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں، اور ان کی ضروریات اسی بستی میں فراہم ہوتی ہوں، اور اپنی تعداد کی بنا پر وہ اپنی حفاظت کرسکتے ہوں۔ عارضی قیام گاہوں میں خواہ کتنے ہی لوگ ہوں اور خواہ وہ کتنی ہی مدت ٹھہریں، جمعہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ جس بستی میں جمعہ قائم کیا جاتا ہو اس سے تین میل کے فاصلے تک رہنے والے لوگوں پر جمعہ میں حاضر ہونا فرض ہے۔ نماز جمعہ صرف ایسی مسجد میں ہو سکتی ہے جو بستی کے اندر یا اس سے متصل ہو اور جس کی عمارت بستی کے عام باشندوں کے گھروں سے کم تر درجے کی نہ ہو۔ بعض مالکیوں نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ مسجد مسقف ہونی چاہیے اور اس میں پنج وقتہ نماز کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ لیکن مالکیہ کا راجح مسلک یہ ہے کہ کسی مسجد میں صحت جمعہ کے لیے اس کا مسقف ہونا شرط نہیں ہے، اور ایسی مسجد میں بھی جمعہ ہوسکتا ہے جو صرف نماز جمعہ کے لیے بنائی گئی ہو اور پنج وقتہ نماز کا اس میں اہتمام نہ ہو۔ جمعہ کی نماز صحیح ہونے کے لیے جماعت میں امام کے سوا کم از کم 12 ایسے آدمیوں کا موجود ہونا ضروری ہے جن پر جمعہ فرض ہو۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہوجاتا ہے وہ یہ ہیں سفر کی حالت میں ہو یا بحالت سفر کسی جگہ چار دن سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ مسجد آنا اس کے لیے دشوار ہو۔ اس کی ماں یا باپ یا بیوی یا بچہ بیمار ہو، یا وہ کسی ایسے اجنبی مریض کی تیمارداری کر رہا ہو جس کا اور کوئی تیماردار نہ ہو، یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار سخت بیماری میں مبتلا ہو یا مرنے کے قریب ہو۔ اس کے ایسے مال کو جس کا نقصان قابل برداشت نہ ہو خطرہ لاحق ہو، یا اسے اپنی جان یا آبرو کا خطرہ ہو، یا وہ مار یا قید کے خوف سے چھپا ہوا ہو بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں مظلوم ہو۔ سخت بارش اور کیچڑ پانی یا سخت گرمی یا سردی مسجد تک پہنچنے میں مانع ہو۔ دو خطبے نماز سے پہلے لازم ہیں، حتیٰ کہ اگر نماز کے بعد خطبہ ہو تو نماز کا اعادہ ضروری ہے۔ اور یہ خطبے لازماً مسجد کے اندر ہونے چاہییں خطبے کے لیے جب امام منبر کی طرف آواز نہ سن رہا ہو۔ لیکن اگر خطیب اپنے خطبے میں ایسی لغو باتیں کرے جو نظام خطبہ سے خارج ہوں، یا کسی ایسے شخص کو گالیاں دے جو گالی کا مستحق نہ ہو، یا کسی ایسے شخص کی تعریفیں شروع کر دے جس کی تعریف جائز نہ ہو، یا خطبہ سے غیر متعلق کوئی چیز پڑھنے لگے، تو لوگوں کو اس پر احتجاج کرنے کا حق ہے۔ نیز خطبہ میں بادشاہ وقت کے لیے دعا مکروہ ہے الا یہ کہ خطیب کو اپنی جان کا خطرہ ہو۔ خطیب لازماً وہی شخص ہونا چاہیے جو نماز پڑھائے۔ اگر خطیب کے سوا کسی اور نے نماز پڑھائی ہو تو وہ باطل ہوگی (حاشیہ الدسوقی علی الشرح الکبیر۔ احکام القرآن ابن عربی۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔
حنابلہ کے نزدیک جمعہ کی نماز کا وقت صبح کو سورج کے بقدر ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے عصر کا وقت شروع ہونے تک ہے۔ لیکن زوال سے پہلے جمعہ صرف جائز ہے، اور زوال کے بعد واجب اور افضل۔ بیع کی حرمت اور سعی کے وجوب کا وقت دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو بیع ہو وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتی۔ جمعہ صرف اس جگہ ہوسکتا ہے جہاں 40 ایسے آدمی جن پر جمعہ فرض ہو، مستقل طور پر گھروں میں (نہ کہ خیموں میں) آباد ہوں، یعنی جاڑے اور گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں۔ اس غرض کے لیے بستی کے گھروں اور محلوں کے باہم متصل یا متفرق ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان سب کے مجموعہ کا نام ایک ہو تو وہ ایک ہی بستی ہے خواہ اس کے ٹکڑے ایک دوسرے سے میلوں کے فاصلے پر واقع ہوں۔ ایسی بستی سے جو لوگ تین میل کے اندر رہتے ہوں ان پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا فرض ہے۔ جماعت میں امام سمیت 40 آدمیوں کی شرکت ضروری ہے۔ نماز کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ کھلے میدان میں بھی ہو سکتی ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہوجاتا ہے وہ یہ ہیں مسافر ہو اور جمعہ کی بستی میں چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ سواری پر آنا بھی اس کے لیے مشکل ہو۔ اندھا ہو، الا یہ کہ خود راستہ ٹٹول کر آسکتا ہو۔ کسی دوسرے شخص کے سہارے آنا اندھے کے لیے واجب نہیں ہے۔ سخت سردی یا سخت گرمی یا سخت بارش اور کیچڑ نماز کی جگہ پہنچنے میں مانع ہو۔ کسی ظالم کی ظلم سے بچنے کے لیے چھپا ہوا ہو۔ جان یا آبرو کا خطرہ یا ایسے مالی نقصان کا خوف ہو جو قابل برداشت نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبے کے دوران میں اس شخص کے لیے بولنا حرام ہے جو خطیب سے اتنا قریب ہو کہ اس کی آواز سن سکتا ہو۔ البتہ دور کا آدمی جس تک خطیب کی آواز نہ پہنچتی ہو، بات کرسکتا ہے۔ خطیب خواہ عادل ہو یا غیر عادل، لوگوں کو خطبہ کے دوران میں چپ رہنا چاہیے۔ اگر جمعہ کے روز عید ہوجائے تو جو لوگ عید پڑھ چکے ہوں ان پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہے۔ اس مسئلے میں حنابلہ کا مسلک ائمہ ثلاثہ کے مسلک سے مختلف ہے (غایتہ المنتہیٰ۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔
اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس شخص پر جمعہ فرض نہیں ہے وہ اگر نماز جمعہ میں شریک ہوجائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اس کے لیے پھر ظہر پڑھنا فرض نہیں رہتا۔