Ayah 62:11 : یُسَبَّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ (جو چیزیں آسمانوں میں ہیں۔ اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ سب اللہ تعالیٰ ) الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ (کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ جو بادشاہ ہے ہر عیب و نقص سے پاک ہے زبردست ہے۔ حکمت والا ہے)
تسبیح :
تسبیح سے مراد۔ نمبر 1۔ تسبیح خلقت ہے کہ جب تم غور سے ہر چیز پر نگاہ ڈالو تو وہ اسکی وحدانیت کی طرف تیری راہنمائی کرے گی اور ہم مثلوں سے اس کے پاک ہونے کو بتلائے گی۔ نمبر 2۔ تسبیح معرفت ہے کہ ہر شئی میں اپنے لطف و کرم سے ایسی چیز رکھ دے جس سے وہ اپنے خالق کو پہچانے۔ اور عیب سے اس کو پاک قرار دے۔ جیسا کہ اس قول میں فرمایا۔ وان من شیٔ الا یسبح بحمدہٖ ولکن لا تفقھون تسبیحھم ] الاسراء : 44[ نمبر 3۔ تسبیح ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جوہر میں بلا معرفت تسبیح جاری کردے۔
Ayah 62:2امیین میں بعث رسول :
2 : ھُوالَّذِیْ بَعَثَ (وہی ہے جس نے بھیجا) رسول بنا یا۔ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ (ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے ایک پیغمبر) یعنی ایک امی انسان کو ناخواندہ قوم میں رسول بنایا۔
ایک قول :
منہم یہ اس قول کی طرح ہے۔ من انفسکم ] التوبہ : 128[ کہ وہ اس کے نسب و احوال کو جانتے ہیں۔ الامیؔ اس کی نسبت امت عرب کی طرف ہے کیونکہ وہ پوری امتوں میں پڑھ لکھ نہ سکتے تھے (اکثریت ان کی اس طرح تھی) ایک قول یہ ہے کتابت کی ابتداء طائف میں ہوئی۔ جس کو انہوں نے اہل حیرہ سے لیا۔ اور اہل حیرہ نے اہل انبار سے لی۔ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ (جو ان کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ وَیُزَکِّیْھِمْ (اور ان کو پاک کرتا ہے) ان کو شرک و خبائث جاہلیت سے پاک کرتا ہے۔ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ (اور ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے) الکتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ وَالْحِکْمَۃَ (اور دانشمندی کی باتیں سکھاتا ہے) سنت یا تفقہ فی الدین مراد ہے۔ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ (اور بلاشبہ یہ لوگ پہلے) یعنی محمد ﷺ سے پہلے لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (کھلی گمراہی میں تھے) کفر و جہالت میں تھے۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور اس کی دلیل لام ہے۔ مطلب یہ ہوا وہ گمراہی میں تھے۔ جس سے بڑھ کر کسی گمراہی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 62:3آخرین کی مراد :
3 : وَّ ٰاخَرِیْنَ مِنْہُمْ (اور دوسرے لوگوں کیلئے بھی) نحو : یہ مجرور ہے۔ اور اس کا عطف الامیّین پر ہے۔ یعنی اسی نے آپ کو بھیجا اُمیّین میں جو آپ کے زمانہ میں ہیں۔ اور امیّین میں سے پچھلوں میں جو ابھی تک نہیں آئے۔ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (مگر ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے) یعنی ابھی تک ان کے ساتھ نہیں ملے۔ وہ عنقریب ان سے آملیں گے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ ؓ کے بعد ہوئے (تابعین) نمبر 2۔ جو صحابہ کرام کے بعد قیامت تک آئیں گے۔ ایک قول یہ ہے اس سے عجمی مراد ہیں۔
نحو : اس کا عطف یعلمھم کی ضمیر مفعول پر ہے۔ اور یہ حالت نصبی میں ہے۔ تقدیرعبارت یعلمھم ویعلم آخرین۔ کیونکہ تعلیم کا جب پچھلے زمانہ تک متصل ہوجائے تو وہ اول کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ پس گویا اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر اس چیز کا ذمہ دار ہے جو آپ سے پائی جارہی ہے۔ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (اور وہی زبردست حکمت والا ہے) ۔ کہ اس نے اپنی زبردست قدرت سے ایک امی آدمی کو اس عظیم کام کیلئے مقرر فرما دیا اور اپنی تائید و مدد اس کے شامل حال کردی۔ اور تمام انسانوں میں اسی کا چنائو کیا۔
Ayah 62:44 : ذٰلِکَ (یہ) وہ فضل جو اس نے محمد ﷺ کو عنایت فرمایا وہ یہی ہے کہ ان کو اپنے زمانہ کے لوگوں کا پیغمبربنا دیا اور بعد والے زمانوں کیلئے بھی پیغمبر بنادیا۔ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآ ئُ (اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے) جس کو وہ عطاء کرنا چاہتا ہے۔ اور اس کی حکمت جس کو عطاء کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے)
Ayah 62:5عدم عمل میں گدھے سے تشبیہ دی :
5 : مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰۃَ (جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی حالت) جن کو اس کے علم کا ذمہ دار اور اس کے احکام پر عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا (پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا) پس گویا انہوں نے اس حکم کی ذمہ داری لی ہی نہیں) کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (اس گدھے جیسی ہے جو اپنے اوپر بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو) اسفار جمع سفر : بڑی کتاب۔
نحو : یحمل حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ نمبر 2۔ صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ کیونکہ حمار حکمًا اس قول میں لئیم کی طرح ہے۔ ولقد امرعلی اللئیم یسبنی۔ یسبنی جملہ اس کی صفت ہے۔ اس آیت میں یہود کو گدھے سے تشبیہ دی۔ کہ وہ تورات کو اٹھانے والے اس کے ذمہ دار اور اس کو پڑھنے والے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد کرنے والے ہیں۔ مگر اس پر عامل نہیں ہیں۔ اور اس کی آیات سے نفع اٹھانے والے نہیں ہیں۔ اور وہ اس طرح ہے کہ تورات میں رسول اللہ ﷺ کی صفات اور بشارت لکھی ہے۔ مگر یہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ اس گدھے سے تشبیہ دی جو علم کی بڑی بڑی کتابیں اٹھانے والا ہو۔ اور ان کو لے کر وہ جارہا ہو۔ وہ ان کتابوں کے متعلق اور کچھ نہیں جانتا۔ سوائے اس تکلیف و تھکاوٹ کے جو بوجھ کی وجہ سے اسے اٹھانی پڑ رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو علم پڑھ رہا ہو مگر اس پر عمل نہ ہو اس کی یہی مثال ہے۔
بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (بری حالت ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا) یعنی نمبر 1: حالت کے لحاظ سے بری حالت اس قوم کی ہے۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ نمبر 2۔ بدترین جھٹلانے والی قوم کی مثال ان جیسی ہے۔ اور اس سے مراد یہود ہیں۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی صحت و درستی پر دلالت کرنے والی آیات کو جھٹلا دیا۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا) یعنی جبکہ انہوں نے ظلم کو پسند کرلیا۔ نمبر 2۔ ان کو ہدایت نہیں دیتا جن کے متعلق اس کے علم میں ظالم ہونا لکھا جاچکا ہے۔
Ayah 62:66 : قُلْ یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ھَادُوْا (آپ کہہ دیجئے اے یہودیو ! ) ھاد۔ جبکہ وہ یہودیت اختیار کرلے۔ اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآ ئُ لِلّٰہِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ بلاشرکت غیرے تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو تو تم موت کی آرزو کرو (تاکہ تم جلد قرب میں پہنچ جائو) اگر تم سچے ہو) ۔ یہود کہا کرتے تھے۔ نحن ابناء اللہ واحبائٗ ہُ ۔ ] المائدہ : 18[ یعنی اگر تمہاری بات درست ہے۔ اور تمہیں یقین ہے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمنا کرو کہ وہ تمہیں موت دے کر جلدی سے اپنی عزت و مکرمت کے مقام میں منتقل کر دے جو اس نے اپنے اولیاء کیلئے تیار کی ہے۔ پھر فرمایا :
Ayah 62:77 : وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ اَبَدًا 0 بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ (وہ کبھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں) اس سبب سے کہ انہوں نے کفر کر کے آگے بھیجا۔
نحو : لا۔ لن میں نفی مستقبل کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ لنؔ کی نفی میں جو تاکید اور تشدید ہے۔ وہ لا ؔ میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کبھی تو وہ تاکید شدید والا لفظ لائے۔ ولن یتمنوہٗ ] البقرہ : 95 [ اور کبھی دوسرے الفاظ لائے جیسا یہاں ولایتمنونہ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کی حالت کو خوب جانتے ہیں) اس میں ان کو وعیدسنائی گئی ہے۔
Ayah 62:88 : قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ (آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو) اور تم جرأت نہیں کر رہے۔ کہ تم اس کی تمنا کرلو۔ اس خطرہ کے پیش نظر کہ تم اپنے کفر کے وبال میں پکڑ لیے جائو۔ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ (وہ ایک دن تمہیں آپکڑے گی) بہر صورت۔
نحو : جملہ اِنَّ کی خبر ہے۔ اور اس پر فاء اس لئے آئی ہے کیونکہ الذیؔ شرط کے معنی کو متضمن ہے۔
ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھرعالم الغیب والشہادۃ کی طرف تم کو لے جایا جائے گا۔ پھر وہ تم کو تمہارے سب کیے کام بتلا دے گا) پھر تم جس سزا کے حقدار ہوگے وہ سزادے گا۔
Ayah 62:9ندائے جمع :
9 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ (اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کیلئے اذان دی جایا کرے) النداءؔ : اذان، منؔ یہ اذا ؔ کا بیان ہے۔ اور اسکی تفسیر ہے۔ یوم جمعہ یہ دنوں کا سردار ہے۔ حدیث میں وارد ہے۔ جو آدمی جمعہ کے دن فوت ہوا اس کے لئے شہید کا اجر لکھا جائے گا۔ اور اس کو فتنہ قبر سے بچا لیا جائیگا۔ (رواہ ابو یعلی فی مسندہ : 4113) فَاسْعَوْا (تو تم اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو) اسعوا اور امضوا جانے اور چلنے کے معنی میں ہے۔ اور ایک قراءت میں اس طرح آیا ہے۔ قول فراء السعی، المضی، الذھاب، ان کا معنی ایک ہے۔ اس سے مراد تیزی سے چلنا نہیں ہے۔
اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ کے ذکر کی طرف) ذکر اللہ سے مراد جمہور علماء کے نزدیک خطبہ ہے۔
استدلالِ ابو حنفیہ m :
اسی سے آپ نے استدلال فرمایا ہے کہ اگر خطیب نے صرف الحمد للہ کے الفاظ خطبے میں کہہ کر اسی پر اکتفاء کرلیا تو یہ جائز ہے ( کیونکہ الحمدللہ ذکر اللہ میں شمار ہوتا ہے) وَذَرُوا الْبَیْعَ (اور خریدو فروخت کو چھوڑ دو ) یہاں اصل اس بات کا حکم دینا مقصود ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرنے والے امور مثلاً دنیا کے مشاغل ان کو چھوڑ دو ۔ البتہ ان مشاغل میں سے بیع کو خاص اس لئے کیا گیا۔ کیونکہ جمعہ کے دن بیع و شراء زوال کے وقت کثرت سے ہوتی ہے۔ پس ان کو فرمایا گیا آخرت کی تجارت میں جلدی کرو۔ اور دنیا کی تجارت کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف جلد لپکو۔ جس سے زیادہ نفع بخش اور فائدہ مند کوئی چیز نہیں ہے۔ وَذَرُوا الْبَیْعَ (اور بیع کو ترک کردو) جس کا نفع معمولی ہے۔ ذٰلِکُمْ (یہ) اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جانا۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہت زیادہ بہتر ہے) بیع وشراء کے مقابلہ میں۔ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اگر تم کو کچھ سمجھ ہو)
Ayah 62:10فضل اللہ سے مراد :
10 : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ (جب نماز ادا کی جاچکے) فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ (تو زمین میں پھیل جائو) یہ امراباحت کیلئے ہے۔ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ ( اور تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو) فضل اللہؔ سے۔ نمبر 1۔ رزق مراد ہے۔ نمبر 2۔ طلب علم نمبر 3۔ عیادۃ المریض۔ نمبر 4۔ دینی بھائی کی ملاقات۔ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کیا کرو) اور اس کا اس بات پر شکریہ ادا کرو کہ اس نے اپنے فریضہ کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرمائی۔ لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (کامیابی کی امید رکھتے ہوئے)
Ayah 62:11تجارتی فاصلہ کا واقعہ :
1 1 : وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْلَھْوَا نِانْفَضُّوْا اِلَیْھَا (اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے) آپ سے جدا ہوگئے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ واذا راوا تجارۃ انفضوا الیھا اولھوًا انفضوا الیہ پس ایک فعل کو حذف کردیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تجارت کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے لئے اہم ترین تھی۔ (یا جب یہ آیت اتری تو وہ واقعہ تجارتی قافلہ کا ہی تھا) ۔
روایت میں ہے کہ مدینہ منورہ میں بھوک اور مہنگائی پھیل گئی دحیہ بن خلیفہ ایک تجارتی قافلہ لے کر شام سے مدینہ پہنچے۔ اس میں زیتون کا تیل وغیرہ تھا۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور نبی اکرم ﷺ خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔ پس قافلے کا سن کر تمام چلے گئے صرف آٹھ افراد باقی رہ گئے یا 12 بارہ افراد رہ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر یہ تمام نکل جاتے تو اللہ تعالیٰ ان کی وادی کو آگ سے جلا کر خاکستر کردیتے۔ (رواہ الواحدی فی اسباب النزول 286) جب قافلہ آتا تو اس کا استقبال طبل، تصفیق سے کیا جاتا تھا۔ اور لہو سے یہی مراد ہے۔ وَتَرَکُوْکَ (اور تمہیں کھڑا چھوڑدیا) یعنی منبر پر قآپمًا (خطبہ دیتے )
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ خطیب کو کھڑے ہو کر خطبہ دینا چاہیے۔ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ (ان سے کہو ! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے) یعنی ثواب۔ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ (وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے) بیع کو ترک کردینے سے ان کا رزق فوت نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ وہ بہتر رزق دینے والے ہیں۔