Ayah 63:11 : اِذَا جَآ ئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ (جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں) لَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ (کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم ہے کہ آپ بلاشبہ اس کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ منافقین بلاشبہ اس قول میں جھوٹے ہیں) ۔
جھوٹی شہادت :
قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ الاٰیۃ سے منافقین کی مراد ایسی شہادت تھی کہ جس میں زبانوں کے ساتھ ان کے دل بھی موافقت کرنے والے ہیں۔ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ یعنی اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ معاملہ بالکل اسی طرح ہے جیسا ان کا قول اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ دلالت کررہا ہے۔ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ وہ زبان ودل کی موافقت کے دعوی میں جھوٹے ہیں۔ نمبر 2۔ انہم لکاذبون فیہ۔ وہ اس میں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ جب شہادت زبان و دل کی موافقت سے خالی ہو تو وہ شہادت ہی نہیں رہتی۔ پس اس کا نام شہادت قرار دینے میں وہ جھوٹے ہیں۔ نمبر 3۔ وہ اپنے نفسوں کے ہاں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان کا اعتقاد یہ ہے۔ کہ ان کا قول انک لرسول اللہ یہ کذب ہے۔ اور ایسی خبر ہے جو مخبرعنہ کی حالت کے برخلاف ہے۔
Ayah 63:22 : اِتَّخَذُوْا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً (انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے) یعنی قتل وقید سے بچانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ اشہد یمین ہے۔ فَصَدُّوْا (پھر دوسروں کو بھی روکتے ہیں) عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے) اسلام سے نفرت دلاتے ہیں۔ اور لوگوں کو اشتباہ میں مبتلا کرتے ہیں۔
اِنَّہُمْ سَآ ئَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کے یہ اعمال بہت ہی برے ہیں) منافقت سے مراد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنا۔ ساءؔ میں تعجب کا معنی ہے تاکہ سامعین کے ذہنوں میں ان کے اس معاملے کو انتہائی برا سمجھاجائے۔
Ayah 63:3منافقین کا طرز عمل :
3 : ذٰلِکَ (یہ بات) اس کا مشار الیہ ساء ما کانوا یعملون ہے۔ مطلب یہ ہے یہ قول اس بات پر شاہدعدل ہے کہ وہ عملی اعتبار سے لوگوں میں سب سے بدترین ہیں۔ بِاَنَّھُمْ (اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ) ای بسبب انہم۔ اس سبب سے کہ وہ ٰامَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا (ایمان لائے پھر کافر ہوگئے) نمبر 2۔ ان کے جو حالات منافقت وکذب اور ایمان کو دنیاوی اغراض کیلئے بطور ڈھال استعمال کرنا وغیرہ تمام کام اس سبب سے ہیں کہ انہوں نے پہلے اپنی زبانوں سے کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور اسلام میں داخل ہونے والے جیسا عمل تو کیا مگر پھر کافر ہوگئے ان کا کفر ان کے اس قول میں ظاہر ہوگیا۔ ان کان ما یقولہ محمد حقا فنحن حمیر (اگر محمد (ﷺ) کی بات سچی ہے تو ہم گدھے ہوئے) وغیر ذلک۔ نمبر 3۔ مؤمنوں کے پاس تو ایمان کا اقرار کیا پھر اپنے سرداروں کے پاس اسلام سے استہزاء کرتے ہوئے کفر بک دیا۔ جیسا فرمایا : واذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا الاٰیۃ ] بقرہ : 14[ فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (پس ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی) ان کے نفاق کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مہر کر کے بند کردیا گیا ایمان اس میں داخل ہو نہیں سکتا۔ فَہُمْ لَایَفْقَھُوْنَ (پس اس سبب سے کہ وہ حق کو نہیں سمجھتے) وہ غور و فکر نہیں کرتے یا ایمان کی صحت کو جانتے ہی نہیں۔
Ayah 63:4منافقین کی دوغلی پالیسی :
4 : وَاِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ (جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے قدوقامت خوشنما معلوم ہوں) کؔ کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا۔ نمبر 2۔ ہر مخاطب مراد ہے۔ وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِھِمْ (اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں) عبد اللہ بن ابی لحیم جسیم خوبصورت فصیح الکلام آدمی تھا۔ کچھ دیگر منافق بھی اسی ڈیل ڈول کے تھے۔ پس جب وہ مجلس نبوی ﷺ میں حاضر ہوتے۔ پس وہ اس میں ٹھاٹھ سے بیٹھتے۔ پرشوکت مناظر اور فصیح زبانوں سے بولتے۔ نبی اکرم ﷺ اور حاضرین مجلس ان کی شکلوں اور صورتوں پر تعجب کرتے اور ان کی گفتگو کی طرف کان لگاتے۔ کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ (گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار کے سہارے کھڑی ہیں)
نحو : یہ ھم کی وجہ سے حالت رفعی میں ہے۔ ای ھم کانھم خشب مسندۃ۔ نمبر 2۔ جملہ مستانفہ ہے جس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ مسندۃ سے مراد دیوار کے ساتھ کھڑا ہونا۔ ان کے ٹیک لگانے کو دیوار کے ساتھ کھڑی لکڑی کے ساتھ تشبیہ دی کہ وہ صرف خول ہیں۔ جو اندر سے ایمان وخیر سے خالی ہیں۔
وجہ تشبیہ :
جب لکڑی سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے تو وہ لکڑی چھت یا دیوار یا دیگر ضروریات میں صرف کی جاتی ہے اور جب اس کی ضرورت نہیں ہوتی تو دیوار کے ساتھ اس کو کھڑا کردیا جاتا ہے۔ گویا عدم فائدہ میں اس لکڑی سے تشبیہ دی۔ یا لکڑی بےجان ہوتی ہے۔ تو یہ بھی شکلیں ہیں ان میں روح ایمان نہیں۔ اجسام ہیں ان میں عقل کا ذرہ نہیں۔
قراءت : ابو عمرو سوائے عباس علی کے خُشْبٌ پڑھا۔ جمع خشبۃ جیسے بَدْنَۃ وبُدنٌ اور خشبٌ یہ ثمرۃ و ثُمُرٌ کی طرح ہے۔
یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ (وہ شورو پکار کو اپنے اوپر پڑنے والی خیال کرتے ہیں) کل صیحۃ یہ مفعول اول ہے۔ اور علیہم دوسرا مفعول ہے۔ اور کلام پورا ہے۔ ای یحسبون کل صیحۃ واقعۃ علیہم۔ ضارۃ لھم لجبنھم ورعبھم مطلب یہ ہے جب لشکر کی طرف ان کو آواز دی جاتی ہے۔ یا کوئی جانور بھاگ جاتا ہے یا گمشدہ چیز کو ڈھونڈنے کیلئے آواز لگائی جاتی ہے تو ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ مصیبت ان پر آن پڑی ہے۔ پھر فرمایا ھُمُ الْعَدُوُّ (یہی لوگ دشمن ہیں) یعنی یہ عدوات میں کامل ہیں۔ کیونکہ سب سے بڑا دشمن اندر گھسا ہوا دشمن ہے۔ جو معاملات میں تیرے ساتھ شریک ہو اور اس کی پسلیوں میں مخالفت کی بیماری گُھُسی ہو۔ فَاحْذَرْھُمْ (پس ان سے محتاط رہو) ان کے ظاہر پر دھوکہ نہ کھانا۔ قَاتَلَھُمُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے) یہ ان کے متعلق بددعا ہے۔ نمبر 2۔ ایمان والوں کو تعلیم دی کہ ان کے حق میں یہ بددعا کریں۔ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (کہاں پھرے چلے جاتے ہیں) وہ حق سے کس طرح عدول کرنے والے ہیں۔ اس میں ان کی جہالت و ضلالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔
Ayah 63:55 : وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوْا رُئُ وْ سَھُمْ (جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئو۔ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں) ان کو موڑتے اور اس سے اعراض کرتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے ان کو مائل کرتے ہیں۔
قراءت : نافع نے لَوَؤا تخفیف سے پڑھا ہے۔
غزوئہ بنو مصطلق اور منافقین کی بدزبانی :
وَرَاَیْتَھُمْ یَصُدُّوْنَ (اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ بےرخی کرتے ہیں) اعراض کرتے ہیں۔ وَھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ (تکبر کرتے ہوئے) معذرت اور استغفار سے۔ روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب بنو مصطلق کو مریسیع کے مقام پر جالیا۔ (یہ پانی کا نام ہے) اور ان کو شکست دی۔ ان کے کچھ آدمی قتل ہوئے۔ تو جہجاہ بن سعید اجیر عمر ؓ اور سنان جہنی حلیف ابن ابی کا پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ جہجاہ نے یاللمہاجرین اور سنان نے یاللانصار کہہ کر آواز دی۔ تو فقراء مہاجرین میں سے جُعال نے اس کی مدد کرتے ہوئے سنان کو تھپڑ مارا۔ اس پر عبد اللہ نے جعال کو کہا تیری کیا مجال ! ہم نے محمد کا اس لئے ساتھ نہیں دیا کہ ہم تھپڑ کھائیں۔ ہماری اور ان کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی نے کہا : سمن کلبک یاکلک۔ اپنے کتے کو پالو تاکہ وہ تمہیں کاٹے۔ سنو ! اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو ہم میں سے زیادہ عزت والے وہاں سے ذلت والوں کو نکال باہر کریں گے۔ الاعز سے اپنا آپ اور الاذل سے رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد لی۔ پھر اپنی قوم کو خطاب کر کے کہنے لگا۔ اللہ کی قسم اگر تم جعال اور اس کے ساتھ والوں کو بچا ہوا کھانا نہ دیتے تو آج وہ تمہاری گردنوں پر سوار نہ ہوتے۔ ان پر خرچ بند کردویہاں تک کہ یہ محمد کے اردگرد سے بھاگ جائیں۔ یہ باتیں زیدبن ارقم ؓ نوعمر صحابی نے سنیں۔ اور منہ پر عبد اللہ کو کہا تو ذلیل ہے۔ اور حقیر اور اپنی قوم کا مبغوض انسان ہے۔ محمد ﷺ رحمان کی طرف سے باعزت اور مسلمانوں کے ساتھ قوت و شوکت والے ہیں۔ عبد اللہ نے کہا تو خاموش ہوجا تو تو کھلونا پتلی ہے۔ زید ؓ نے رسول ﷺ کو آکر اطلاع دی۔ اس پر عمر ؓ نے کہا یارسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ نے فرمایا اس میں یثرب کے بہت سے ناک بگڑ جائیں گے۔ عمر ؓ نے عرض کیا۔ اگر مہاجرین کے ہاتھوں قتل مناسب نہیں تو کسی انصاری کو اس پر مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا۔ اگر ایسا ہوا تو اس بات کا کیا جواب ہوگا کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے عبداللہ کو بلوا کر فرمایا۔ تو نے یہ بات کہی ہے۔ جو مجھے پہنچائی گئی ہے تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! جس نے آپ پر کتاب اتاری۔ میں نے اس میں سے ذرہ بھر بات نہیں کی۔ اور رزید جھوٹ بولتا ہے۔ پس یہی اس کا قول اتخذوا ایمانہم جنۃ میں نقل کردیا گیا ہے۔ (جھوٹ بول کر اپنے کو بچا لیا) حاضرین نے کہا یارسول اللہ ہمارا یہ شیخ اور بڑا ہے۔ ایک چھوٹے بچے کی بات اس کے متعلق قبول نہ فرمائیں۔ ہوسکتا ہے بچے کو وہم ہوگیا ہو۔
جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید کو فرمایا اے نوجوان ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا کردیا اور منافقین کو جھوٹا ثابت کردیا۔ جب عبد اللہ کا کذب ظاہرہوگیا۔ اور اس کو کہا گیا تمہارے متعلق بڑی سخت آیات اتریں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جا کر اپنے لئے استغفار کر وائو۔ تو اس نے سر موڑلیا۔ پھر یہ آیت اتری۔ واذاقیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللّٰہ۔
زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وہ بیمار ہو کر مرگیا۔ (واحدی فی اسباب النزول : 287) (اصل القصۃ فی الصحیحین)
Ayah 63:66 : سَوَائٌ عَلَیْھِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ (اب آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں۔ ان کے حق میں دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا) جب تک وہ نفاق پر مداومت اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے۔ استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے کیونکہ وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ ہی اس کو کوئی حیثیت دیتے ہیں۔ اس کا سبب کفر ہے۔ نمبر 2۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشیں گے اس لئے ان کے حق میں استغفار اور عدم استغفار برابر ہے۔
قراءت : استغفرت حرف استفہام کو حذف کرکے پڑھا گیا۔ کیونکہ ام جو دو میں سے ایک کیلئے آتا ہے۔ وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (بیشک اللہ ایسے نافرمانوں کو توفیق ہدایت نہیں دیتا)
Ayah 63:77 : ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَاتُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ (یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ) رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا (کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو۔ یہاں تک کہ وہ آپ ہی منتشر ہوجائیں) ینفضوا کا معنی منتشر و متفرق ہونا۔ وَلِلّٰہِ خَزَآ ئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ کے پاس آسمان و زمین کے خزانے ہیں) یعنی رزق اور تقسیم رزق اسی کے قبضہ میں ہے۔ وہی انکار ازق ہے۔ اگر اہل مدینہ ان پر خرچ کرنے سے انکار کردیں گے۔ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَایَفْقَھُوْنَ (لیکن یہ منافق سمجھتے نہیں) لیکن عبد اللہ بن ابی اور اس کے ہم مثل جاہل ہیں۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ پھر ہر وہ بات بک دیتے ہیں جو ان کے منہ میں آتی ہے۔ اور جو شیطان ان کے لئے مزین کرتا ہے۔
Ayah 63:8دوسری بدزبانی :
8 : یَقُوْلُوْنَ لَپنْ رَّجَعْنَآ (وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کو لوٹ کر پہنچے) غزوئہ بنو مصطلق سے واپس مدینہ پہنچے۔ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّمِنْھَا الْاَذَلَّ وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ (تو جو عزت والا ہوگا وہ ذلت والے کو مدینے سے نکال کر باہر کر دے گا۔ عزت تو اللہ) عزت یعنی غلبہ اور قوت وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ (اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کو حاصل ہے) جس کو اللہ تعالیٰ عزت دے اور ان کی تائید اپنے رسول اور مؤمنین سے کروائے۔ اور وہ عزت کے ساتھ خاص ہیں۔ جیسا کہ ذلت، بزدلی شیطان اور اس کے حمایتی کفار و منافقین کیلئے ہے۔
بعض صالحات کا مقولہ :
ان کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھا۔ تو انہوں نے کہا کیا تم اسلام پر نہیں ہو۔ انہوں نے کہا اسلام وہ عزت ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے کوئی ذلت نہیں اور ایسا غناء ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی فقر نہیں۔
حضرت حسن بن علی ؓ کا قول :
ایک آدمی نے ان کو کہا۔ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ تم میں تکبر ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں بلکہ یہ عزت ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ وَ لٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنََ (لیکن منافقین یہ بات جانتے نہیں) ۔
Ayah 63:99 : یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ (اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال غافل نہ کردیں) لاتلھکم تمہیں مشغول نہ کردیں۔ اموالؔ یعنی اموال میں لین دین اور اس کو بڑھانے کی کوشش اور اس پر نفع کی طلب۔ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ (اور نہ تمہاری اولادیں) اور تمہارا ان سے خوش ہونا اور ان پر شفقت کرنا اور ان کی امداد کیلئے کھڑے ہونا عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی یاد سے) یعنی صلوات خمس یا قرآن مجید کے وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (اور جو ایسا کریں گے) وہ دین ترک کر کے دنیا میں مشغول ہوجائیں گے۔
ایک قول یہ ہے :
کہ جو آدمی اپنے اموال کو بڑھانے کی طرف متوجہ ہے۔ مگر اپنے احوال کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ اور آخرت کی درستی کی بجائے اولاد کی رضامندی میں مشغول ہے۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (وہی ناکام رہنے والے ہوں گے) اپنی اس تجارت میں اس لئے کہ انہوں نے فانی کے بدلے باقی کو بیچ ڈالا۔
Ayah 63:10موت سے پہلے خرچ کرلو :
10 : وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّارَزَقْنٰکُمْ (اور ہم نے جو کچھ تم کو دیا۔ اس میں سے کچھ (حقوق واجبہ کی ادائیگی میں) خرچ کرو) مِنؔ یہ تبعیض کیلئے ہے۔ مراد اس سے انفاق واجب علی الواجب ہے۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّأْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ (اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آکھڑی ہو) یعنی من قبل ان یری دلائل الموت اس سے پہلے کہ وہ موت کے آثار دیکھے اور ان معاونتوں کو جو مہلت سے مایوس کرنے والی ہوں درآنحالیکہ اس پر خرچ کرنا بھی مشکل ہو۔ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ(پھر وہ حسرت سے کہنے لگے اے میرے رب مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہیں دی) آپ نے میری موت کو مؤخر کیوں نہ کردیا۔ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ (ایک قریبی زمانہ تک) فَاَصَّدَّقَ (کہ میں خیر خیرات کردیتا) میں صدقہ کرلیتا۔
نحو : یہ لولا کا جواب ہے۔ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا) الصالحین سے مؤمنین مراد ہیں۔ یہ آیت ایمان والوں کے متعلق نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے : یہ منافقین کے متعلق اتری۔
قراءت : واکون ابوعمرونے نصب کے ساتھ پڑھا اور لفـظ پر عطف کیا۔ اور جزم موضع اصدق پر عطف کی وجہ سے ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا ان اخترتنی اصدق واکن۔
Ayah 63:111 1 : وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا (اور اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مہلت نہیں دیتا) موت سے اِذَا جَآ ئَ اَجَلُھَا (جبکہ اس کی میعاد ختم ہونے پر آجاتی ہے) جو لوح محفوظ میں لکھی جاچکی ہے۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی پوری خبر ہے)
قراءت : حمادو یحییٰ نے یعملون پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوگا جب تمہیں معلوم ہے۔ کہ موت کی اپنے وقت سے تاخیر کا کوئی راستہ نہیں۔ اور وہ اچانک ہجوم کر کے آجانے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سارے اعمال کا علم ہے۔ پس وہ ترک واجبات پر خود سزا دیں گے۔ اب تو صرف اتنی بات باقی رہ گئی کہ آدمی جلد ازجلد اپنے واجبات و فرائض سے بریٔ الذمہ ہونے کی کوشش کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تیاری کرے۔