Ayah 64:1حقیقی بادشاہی اللہ کی :
1 : یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
آیت میں دونوں ظروف کو مقدم کیا تاکہ ملک و حمد کی خصوصیت اللہ عزوجل کے ساتھ ثابت ہوسکے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہی حقیقت میں اسی ہی کی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کو ابتداء سے بنانے والا اور اس کو قائم رکھنے والا ہے اور اسی طرح تعریف حقیقی کا حقدار بھی وہی ہے۔ کیوں کہ اصول نعمت اور فروع نعمت اس کی طرف سے میسر ہوئیں۔ باقی دنیا میں جو بادشاہ کہلاتے ہیں۔ یہ اسی نے ان کو تسلط دیا۔ اور نگران بنادیا۔ اور دوسرے کی تعریف جو تھوڑی بہت کی جاتی ہے وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اس کے ہاتھ سے جاری ہوئی۔ اس لئے وہ سبب عارضی برائے حصول نعمت بن جانے کی وجہ سے تعریف کیا جانے لگا۔
Ayah 64:22 : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّ مِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ (وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مؤمن) کافر ہیں یعنی کفرکا ارتکاب کرنے والے اور کفر کرنے والے ہیں۔ اور بعض ایمان لانے والے ہیں۔ ایمان کا فعل کرنے والے ہیں۔ اور اس معنی پر۔ واللّٰہ بما تعملون بصیر دلالت کر رہا ہے۔
اصل نعمتیں دینے والے اللہ ہیں :
وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (یعنی تمہارے کفر و ایمان کو جاننے والے اور دیکھنے والے ہیں) جو کہ دونوں تمہارے عمل ہیں۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے۔ جنہوں نے اصل نعمتیں اپنے فضل سے عنایت فرمائیں ہیں۔ اور اسی کو عدم سے خلق وایجاد کہا جاتا ہے۔ لازم یہ تھا کہ تم تمام شکر گزار ہوتے۔ تمہیں کیا ہوا کہ تم نے پارٹی بازی بنالی۔ پس کوئی کافر بن گئے اور کچھ مؤمن ؟ کفر کو اولاً لائے۔ کیونکہ اغلب و اکثر کافر ہی ہیں۔ اور اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جو یہ کہتے ہیں۔ جیسے (خوارج) کہ کچھ لوگ نہ مومن ہیں اور نہ کافر۔ ایک قول یہ ہے وہی ذات جس نے تمہیں پیدا کیا پس بعض تم میں خلق کے انکاری ہیں اور وہ دہریہ ہیں اور بعض تم میں سے اس پر ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 64:33 : خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (اسی نے آسمانون کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا) اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اور وہ یہ ہے کہ زمین کو مکلفین کے ٹھہرائو کی جگہ بنادیا تاکہ وہ عمل کریں اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیں۔
سب سے زیادہ خوبصورت انسان :
وَصَوََّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ (اور تمہاری صورتیں بنائیں) پس اچھی صورتیں بنائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات میں سب سے زیادہ شاندار اور خوبصورت بنایا۔ اس کی دلیل نمبر 1۔ عقلی یہ ہے۔ کہ انسان کبھی بھی یہ تمنا نہیں کرتا کہ اس کی صورت دیگر حیوانات میں سے کسی کی شکل جیسی ہوتی۔ نمبر 2۔ اس کی حسن صورت کی دلیل یہ بھی کہ سیدھے قد والابنایا۔ کبڑا، جھکا ہوا بدصورت، بد شکل نہیں بنایا۔ بےڈھبی خلقت ہوا۔ اس میں بےڈھبہ پن تو کوئی نہیں۔
درجات ِحسن :
البتہ یہ ضرور بات ہے کہ حسن کے درجات ہیں۔ سب سے کم درجہ اور اس سے اوپر جن میں ملاحت نہیں۔ صباحت نہیں مگر حسن سے کوئی خالی نہیں۔
قول حکماء :
دو چیزوں کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ نمبر 1۔ جمال نمبر 2۔ بیان۔
وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (اور اس کی طرف تم سب نے لوٹ کر جانا ہے) پس اپنے بواطن کو خوبصورت بنائو۔ جیسا اس نے تمہیں خوبصورت شکلیں دیں۔
Ayah 64:44 : یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ (وہ اس سے بھی واقف ہے جو زمین اور جو آسمان میں ہے۔ اور سب چیزوں) وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللّٰہُ عَلِیمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (کو جانتا ہے جو تم پوشیدہ کرتے ہو اور جو تم علانیہ کرتے ہو۔ اور وہ دلوں تک کی باتوں کو جاننے والا ہے) وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کو جانتے ہیں۔ پھر جو بندے بھید چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے بھی واقف ہے۔ پھر وہ سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔ کلیات و جزئیات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر مخفی ہو۔ پس اس کا حق یہ ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور احتیاط کی جائے۔ اور جو چیز اس کی رضا کے خلاف ہو۔ اس کی جرأت نہ کی جائے۔ علم الٰہی کو دوبارہ ذکر کرنا درحقیقت یہ وعید کو دوبارہ لانے کی طرح ہے۔ اور وہ تمام جو فمنکم کافرومنکم مومن کے بعد ذکر کیا گیا۔ وہ کفر پر وعید ہی کے حکم میں ہے۔ اور اس بات پر انکار ہے کہ خالق کی نافرمانی کی جائے اور اس کی نعمتوں کا شکریہ نہ ادا کیا جائے۔
Ayah 64:55 : اَلَمْ یَاْتِکُمْ (کیا تم کو نہیں پہنچی) یہ کفار مکہ کو خطاب ہے۔ نَبَؤُا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ (خبر ان لوگوں کی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا) یعنی قوم نوح، ہود، صالح، لوط۔ فَذَا قُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ (انہوں نے اپنے اعمال کا وبال (دنیا میں بھی) چکھا) یعنی دنیا میں کفر کی سزا چکھی۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور اس کے علاوہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے) جو آخرت میں ملے گا۔
Ayah 64:66 : ذٰلِکَ (یہ) اس کا مشارٌ الیہ ہے وہ وبال جو ان کو دنیا میں پہنچا اور آخرت میں ان کے لئے تیار کیا گیا۔ بِاَنَّہٗ (اس سبب سے) کہ بات اور حالت یہ ہے۔ کَانَتْ تَّاْتِیْھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (یہ اس سبب سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر دلائل واضحہ لے کر آئے) البَینات سے معجزات مراد ہیں۔ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا (تو ان لوگوں نے ان کو کہا کیا آدمی ہم کو ہدایت کریں گے) انہوں نے بشر کے لئے رسالت کا انکار کردیا۔ مگر حجرو پتھرکیلئے عبادت کا انکار نہیں کیا۔ فَکَفَرُوْا (غرض انہوں نے کفر کیا) رسولوں کا انکار کردیا۔ وَتَوَلَّوْا (اور روگردانی اختیار کی) ایمان سے منہ موڑ لیا۔ وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی کوئی پرواہ نہ کی)
ان کو آزاد چھوڑدیا۔ تاکہ ہر چیز حاصل کرلیں اور ان اشیاء من جملہ میں سے ایمان اور طاعت بھی تھی۔ وَاللّٰہُ غَنِیٌّ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بےنیاز ہیں) حَمِیْدٌ (اپنی صنعت پر تعریفوں والے ہیں)
Ayah 64:77 : زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (کافر یہ دعویٰ کرتے ہیں) کافروں سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔
نحو : الزعم : علم کا دعویٰ اور یہ فعل علم کی طرح متعدی ہوتا ہے۔
کفار کا انکار بعث :
اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا (کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے) ان اپنے مابعد سمیت دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ انہم ان یبعثوا۔ کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ قُلْ بَلٰی (آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں) یہ مابعد لن کے اثبات کیلئے لائے اور جس کا اثبات کیا وہ بعث ہی ہے۔ وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ (مجھے اپنے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جائوگے) ۔ یہاں اخبارکوقسم سے مؤکد کیا گیا ہے۔
سوال : جس چیز کو انہوں نے انکار کیا۔ اسپرقسم کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : یہ جائز ہے کیونکہ اس سے خوب تہدید ہوتی ہے۔ اور دل میں اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے ؟ گویا اس طرح کہا گیا جس کا تم انکار کرتے ہو وہ لامحا لہ ہو کر رہے گی۔ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذٰلِکَ (پھر جو کچھ تم نے کیا ہوگا۔ اس سے تم کو آگاہ کیا جائے گا) اور اس کے مطابق سز ادی جائے اور یہ بات اور مشارٌ الیہ بعث ہے کہ یہ بعث عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ (اللہ تعالیٰ کیلئے بہت آسان ہے) معمولی ہے۔
Ayah 64:88 : فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (پس تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو) ۔ رسول سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ وَالنُّوْرِ الَّذِیْ اَنْزَلْنَا (اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا) یعنی نور سے قرآن مراد ہے۔ کیونکہ وہ ہر چیز کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ پس اس سے راہنمائی لی جاتی ہے جیسا روشنی سے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے) پس امور کا دھیان کرو۔
Ayah 64:9یوم تغابن :
9 : یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ (اور یاد کرو اس دن کو جب اللہ تعالیٰ تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا)
نحو : یومؔ منصوب لتنبؤن کی وجہ سے ہے۔ نمبر 2۔ اذکر محذوف کی وجہ سے لِیَوْمِ الْجَمْعِ (جس میں اولین و آخرین سب جمع ہونگے) ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ (وہ دن گھاٹا دینے کا ہے) یہ لفظ بطور استعارہ تغابن القوم فی التجارۃ سے لیا گیا ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ غبن کریں۔ قیامت کے دن سعداء اشقیاء کے مقام پر اتر آئے وہ مقامات جن کو وہ کم درجہ سمجھتے تھے اگر وہ سعداء ہوتے۔ اور بدبخت سعداء کی جگہ اتر آئے۔ وہ مقامات کہ جن کو وہ کم درجہ خیال کرتے۔ اگر وہ اشقیاء ہوتے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ اور ذلک یوم التغابن کا معنی یہ ہے۔ لوگ تو اس دن کے علاوہ دنوں میں گھاٹا ڈالا کرتے تھے۔ اور اسی کو بڑا خیال کرتے۔ مگر قیامت کے دن کا گھاٹا حقیقت میں وہ گھاٹا ہے۔ دنیا کے معاملات میں تغابن کی تو اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں۔ وَمَنْ یَّؤْمِنْ 0 بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا (اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا۔ اور نیک کام کرتا ہوگا) یہ صالحًا مصدر کی صفت ہے۔ ای عملًا صالحا اور اس نے عمل کیا نیک عمل۔ یُّکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰ تِہٖ وَیُدْخِلْہُ (اللہ تعالیٰ اس کے گناہ دور کر دے گا اور اس کو داخل کرے گا)
قراءت : مدنی، شامی نے نکفر اور ندخلہ پڑھا ہے۔
جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (ایسے باغوں میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور جن کے اندر ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی ہی کامیابی ہے)
Ayah 64:1010 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ( اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا۔ اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا۔ وہ دوزخی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور برا ٹھکانہ ہے)
Ayah 64:11تکلیف اس کی تقدیر و مشیت ہے :
1 1 : مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ (اور کوئی مصیبت بغیر حکم اللہ تعالیٰ کے نہیں آتی) مصیبۃؔ سے مراد سختی، مرض، موت اہل و عیال نمبر 2۔ ایسی شئی جو غم پہنچائے۔ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ یعنی اس کے علم اور اس کی تقدیر اور مشیت سے۔ یہ گویا اس کی طرف سے مصیبت کو اجازت ہے کہ وہ بندے کو پہنچے۔ وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ یَھْدِ قَلْبَہٗ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر (پورا) ایمان لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو صبر ورضا کی راہ دکھا دیتا ہے۔ کہ وہ مصیبت کے وقت اس کی بارگاہ میں رجوع کر کے انا للہ وانا الیہ راجعون کہتا ہے۔ (البقرہ : 156) نمبر 2۔ دل اور سینے کو کھول دیتا ہے جس سے ان کی اطاعت و خیر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ نمبر 3۔ یھد قلبہ اس کے دل کی راہنمائی کردیتا ہے جس سے اس کو یقین ہوجاتا ہے کہ جو اس کو پہنچا ہے۔ وہ اس سے خطا ٔ کرنے والا نہ تھا۔ اور جو اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ وہ اس کو پا نہ سکتا تھا۔
قولِ مجاہد :
اگر وہ ابتلاء میں پڑے تو صبر کرے اور اس کو مزید نعمت ملے تو شکر کرے اور اگر اسپر ظلم ہو تو وہ درگزر سے کام لے۔ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے)
Ayah 64:1212 : وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اور (ہر امر میں) اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم روگردانی کرو گے) اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے۔ فَاِنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (تو ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ یعنی اس پر تبلیغ لازم ہے۔ اور وہ انہوں نے کردی)
Ayah 64:1313 : اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (وہی اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو توکل علی اللہ پر ابھارا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس توکل کے نتیجہ میں تکذیب کرنے اور منہ موڑنے والوں کے خلاف ان کی امداد فرمائے۔
Ayah 64:14بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں :
14 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِ کُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ (اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دشمن ہیں) یعنی بیویوں میں سے بعض بیویاں اپنے خاوندوں کی نافرمانی کر تیں اور ان سے جھگڑا کرتی ہیں۔ اور اسی طرح بعض اولادیں اپنے والدین سے دشمنی کرتی اور ان کی نافرمانی کرتی ہیں۔ فَاحْذَرُوْھُمْ (پس تم ان سے ہوشیارر ہو) ھمؔ کی ضمیر عدواؔ یا ازواج یا اولاد تمام کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہوا جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بھی دشمن سے خالی نہیں۔ پس تم ان سے احتیاط برتو۔ اور انکے شرور اور گمراہ کن باتوں پر اعتبار نہ کرو۔
وَاِنْ تَعْفُوْا ( اور اگر تم معاف کرو گے) جب ان کی کسی عداوت پر اطلاع پا کر اگر تم ان کو معاف کردو۔ اور ان کا مقابلہ ان کے طرز عمل سے نہ کرو۔ وَتَصْفَحُوْا (اور درگزر کرو گے) تو بیخ سے گریز کرو گے۔ وَتَغْفِرُوْا ( اور بخش دوگے) ان کے گناہوں کو چھپا کر۔ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا بڑا مہربان ہے) ۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور برائیاں مٹا ڈالے گا۔
ایک قول یہ ہے :
کہ بعض لوگوں نے ہجرت کا ارادہ کیا۔ ان کی ازواج اور اولاد آڑے آئی۔ اور کہنے لگے۔ تم چلے جائو گے تو ہم کو ضائع کر دوگے۔ پس وہ نرم پڑگئے اور ہجرت سے رک گئے۔ جب بعد میں انہوں نے ہجرت کی۔ اور ان لوگوں کو دیکھا کہ جو ہجرت میں سبقت کرنے والے ہیں وہ دین میں بہت آگے بڑھ گئے اور فقاہت حاصل کرچکے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے ازواج و اولاد کو سزا دینا چاہی تو ان کے عفو و درگزر سے زینت دے دی گئی۔
Ayah 64:1515 : اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ (تمہارے اموال اور اولاد ایک آزمائش کی چیز ہے) آزمائش ومشقت ہے کیونکہ وہ گناہ اور سزا میں مبتلا کرتے ہیں۔ اور ان دونوں چیزوں سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں۔ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ ہی کے ہاں اجر عظیم ہے) آخرت میں اور یہ تمہارے دنیاوی فوائد جو اموال و اولاد کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ ان سے بہت بڑھ کر ہے۔
مِنکا نکتہ :
یہاں مِنؔ داخل نہیں کیا۔ من اموال یا من اولاد نہیں فرمایا۔ جیسا کہ العداوت کے سلسلہ میں مِنؔ داخل کیا۔ کیونکہ تمام اموال و اولاد ہی آزمائش کا باعث اور دل کو مشغول کرنے والے ہیں۔ البتہ بعض عداوت سے خالی ہیں۔ اس لئے من داخل نہیں کیا۔
Ayah 64:16حق تعالیٰ کی تفسیر :
16 : فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ (تو جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو) تمہاری ہمت اور وسعت کے مطابق۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ حق تقاتہٖ کی تفسیر ہے۔ وَاسْمَعُوْا (اور سنو) جو تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ وَاَطِیْعُوْا (اور مانو) جس کا تمہیں حکم دیا جائے۔ اور جس سے منع کیا جائے۔ وَاَنْفِقُوْا (اور تم خرچ کرو) ان مقامات پر جہاں خرچ کرنا تم پر لازم ہوا۔ خَیْرًا لِّاَنْفُسِکُمْ (یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا)
زیادہ صحیح قول یہ ہے :
اس کی تقدیرکلام اس طرح ہے۔ ائتواخیرًا لا نفسکم وافعلوا ما ھو خیر لھا تم اپنے نفوس کو بھلائی پہنچائو اور وہ کروجو تمہارے نفوس کیلئے بہت بہتر ہو۔ اس میں او امر کی پیروی کرنے کی تاکید ہے۔ اور وضاحت ہے۔ کیونکہ یہ امور تمہارے نفوس کیلئے اموال و اولاد سے بہت بہتر ہیں۔ اور اس سے بھی جس پر تم جھکے پڑے ہو اور یعنی شہوات و زخارف دنیا کی محبت۔ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ ( اور جو لوگ نفسانی حرص سے محفوظ رہیں) زکوٰۃ اور صدقہ واجبہ کے متعلق بخل سے بچے رہے۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (وہی آخرت میں فلاح یاب ہونگے)
Ayah 64:1717 : اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (اگر تم اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دوگے) قرض حسنؔ سے نیت واخلاص کے ساتھ دینا۔ قرضؔ کا تذکرہ استدعاء میں لطف پیدا کرنے کیلئے ہے ( یہ ہم ایسے لوٹا دیں گے جیسے قرض لازم سمجھ کر لوٹایا جاتا ہے۔ ورنہ آقا اور غلام میں قرض ہی کیا اور یہاں تو خالق و مخلوق ہیں) یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ (وہ اس کو تمہارے لئے بڑھاتا چلاجائے گا) ایک کے بدلہ میں دس یا سات سو گنا سے جتنا چاہے گا بڑھا دے گا۔ وَیغْفِرْ لَکُمْ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ (اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے) کہ قلیل کو قبول کر کے بہت کثیرو جزیل عنایت فرماتا ہے۔ حَلِیْمٌ (بڑا بردبار ہے) بخیل کے گناہ میں سے بڑے گناہوں پر بھی واپسی کرلیتا ہے۔ نمبر 2۔ صدقہ رد کرنے والے کو بڑھا کردیتا ہے۔ اور روک لینے والے کو جلد سزا نہیں دیتا۔
Ayah 64:1818 : عٰلِمُ الْغَیْبِ (وہ ہر پوشیدہ چیز کو جاننے والا ہے) دلوں کے جو راز چھپے ہوتے ہیں۔ وہ ان کو بھی جانتا ہے۔ وَالشَّہَادَۃِ (اور جس چیز کا لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اس کو بھی جانتا ہے) ۔ یعنی جو ظاہری مصائب و حوادث دنیا میں پھیلے ہیں ان سے بھی واقف ہے۔ الْعَزِیـْزُ (وہ زبردست ہے) سخاوت و معروف کے اظہار سے عزت دینے والا ہے۔ الْحَکِیْمُ (اور حکمت والا ہے) غیوب کے حالات اور اطلاعات دینے میں۔