Ayah 65:1ارادئہ طلاق مراد ہے :
1 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ (اے پیغمبر ﷺ (آپ لوگوں کو کہہ دیجئے) کہ جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو۔ تو (زمانہ) عدت میں (طہر کی حالت میں) طلاق دو اور عدت کی گنتی یاد رکھو) نداء میں نبی اکرم ﷺ کو خاص کیا گیا۔ اور خطاب عام امت کو کیا گیا کیونکہ نبی اکرم ﷺ امت کے پیشوا اور مقتدا ہیں۔ جیسا کہ قوم کے ریئس کو کہا جاتا ہے۔ یا فلان افعلوا کذا۔ اس سے مقصود اس کے تقدم کو ظاہر کرنا اور اس کی سرداری کو معتبر قرار دینا ہوتا ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنی قوم کا نمونہ ہے۔ پس وہ اکیلا ہی پوری قوم کے حکم میں ہے اور تمام کے قائم مقام ہے۔
ایک قول یہ ہے :
تقدیر کلام اس طرح ہے : یایھا النبی و المؤمنون اذاؔ طلقتم النساء کا معنی جب تم ان کو طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ارادئہ فعل کی تعبیر فعل سے کی جاتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ من قتل قتیلا فلہ سلبہ ] رواہ احمد : 3/114 والبخاری /3051، مسلم /1809[ اور اسی سے کہا جاتا ہے کہ نماز کی طرف جانے والا اور نماز کا منتظر حکم نماز میں شمار ہوتا ہے۔ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّ تِھِنَّ (پس تم ان کو طلاق دو اس حال میں کہ وہ اپنی عدت کا سامنا کرنے والیاں ہوں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی قراءت میں فی قبل عدتھن ہے۔ جب عورت کو طلاق اس طہر میں دی جائے گی جو حیض سے پہلے ہوگا۔ تو گویا اس عورت کو طلاق ایسی حالت میں ملی ہے کہ وہ اپنی عدت کا سامنا کرنے والی ہے۔ مراد یہ ہے۔
طلاق احسن :
ایسی مدخول بہا عورتیں جو حیض سے عدت گزارنے والیاں ہوں ان کو ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو۔ پھر ان کو چھوڑ دیا جائے۔ یہاں تک کہ ان کی عدت گزر جائے۔ یہ سب سے بہتر طلاق ہے۔ وَاَحْصُوْا الْعِدَّۃَ اس کو حفظ سے یاد کرو اور تین کا مل آئندہ حیضوں سے پورا کرو۔ کہ ان میں کوئی ناقص نہ ہو۔ خاوندوں کو خطاب اس لئے کیا کیونکہ عورتیں اس سلسلہ میں غفلت کرتی ہیں۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ لَاتُخْرِجُوْھُنَّ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ اور ان عورتوں کو مت نکالو) یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو۔ مِنْم بُیُوْتِھِنَّ (ان کے رہنے کے گھروں سے) ان رہائشی مکانات سے جہاں وہ عدت سے قبل رہائش پذیر تھیں۔ اور وہ خاوندوں کے گھر ہی ہیں۔ اور عورتوں کی طرف اضافت کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان کی رہائش کیلئے خاص تھے۔
مسئلہ : اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سکنی واجب ہے اور جب کوئی آدمی یہ قسم اٹھا لے کہ وہ فلاں کے گھر میں داخل نہ ہوگا۔ تو اس کے رہائشی مکان میں خواہ وہ اس کی ملک نہ تھی داخل ہونے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔
معنی الاخراج :
کہ خاوند ان کو ناراضگی کی وجہ سے مت نکالیں۔ ان کی سکونت کو ناپسند کرتے ہوئے نہ نکالیں یا مکان کی ضرورت کے پیش نظر نہ نکالیں۔ اور نہ ہی ان کو نکلنے کی اجازت دیں جبکہ وہ ان سے نکلنے کا مطالبہ کریں یہ بات ظاہر کرنے کیلئے کہ رکاوٹ کے دور کرنے میں ان کے اذن و اجازت کو کوئی دخل نہیں ہے۔ وَلَا یَخْرُجْنَ (اور نہ وہ خود نکلیں) اگر اس کا ارادہ رکھتی ہوں۔ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ (ہاں مگر کوئی کھلی بےحیائی کریں) ایک قول یہ ہے : فاحشہؔ سے مراد زنا ہے۔ یعنی اگر وہ ارتکاب زنا کرلیں تو نفاذ حد کیلئے اس کو نکالا جائے گا۔ ایک اور قول یہ ہے عورت کا اختتام عدت سے پہلے نکلنا یہ فی نفسہٖ فاحشہ ہے۔ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں) اس سے مذکورہ احکام مراد ہیں وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْظَلَمَ نَفْسَہٗ لَاتَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا (اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا۔ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اے مخاطب مجھے معلوم نہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ (اس کے بعد) کوئی نئی بات تیرے دل میں پیدا کر دے) کہ خاوند کے دل کو بغض سے محبت کی طرف پلٹ دے اور بےرغبتی کو رغبت میں بدل ڈالے اور عزیمیت طلاق پر شرمندگی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے رجوع کرے۔ مطلب یہ ہوا فطلقوھن لعدتھن واحصوا العدۃ اور ولا تخرجوھن من بیوتھن۔ پس ان کو عدت کے وقت میں طلاق دو اور عدت کو شمار کرو اور ان کو رہائشی گھروں سے نہ نکالو شاید کہ تمہیں شرمندگی ہو پھر تم رجوع کرلو۔
Ayah 65:22 : فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ (پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمہ کے قریب پہنچ جائے) عدت کے اختتام کے قریب پہنچ جائیں۔ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْفَارِ قُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ (تو تم قاعدے کے موافق ان کو (اپنے نکاح) میں روک لو یا قاعدہ کے موافق ان کو چھوڑدو) مطلب یہ ہے تمہیں اختیار ہے اگر تم رجوع کرنا چاہو۔ اور روکنا قاعدہ اور احسان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اور اگر رجعت نہیں چاہتے مفارقت چاہتے ہو تو وہ ضرار سے بچی ہوئی ہونی چاہیے ضرارؔ یہ ہے کہ عورت سے عدت کے اختتام پر رجوع کرے پھر اس کو اسلئے طلاق دے تاکہ اس کی عدت طویل ہو اور اس کو تکلیف پہنچے۔ وَّ اَشْھِدُوْا (اور تم گواہ بنا لو) رجوع و فرقت ہر دو دو وقت میں گواہ بنا لینا مستحب ہے تاکہ ان کے مابین جھگڑا نہ پڑے۔ ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ ( دو عدل والے تم مسلمانوں میں سے) وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ (اے گواہو ! تم ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کیلئے شہادت دو ) خالص اس کی رضا مندی کیلئے اور وہ یہ ہے کہ وہ گواہی نہ تو مشہود علیہ اور نہ مشہود لہٗ اور نہ ہی کسی اور غرض کی خاطر دیں بلکہ صرف ازالہ ظلم اور قیام حق کیلئے دیں۔ ذٰلِکُمْ (یہ) یعنی شہادت کو رضائے الٰہی اور انصاف کو قائم رکھنے کیلئے دینا۔ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہو) یعنی اس سے نفع ایسے ہی لوگوں کو ہوگا۔
تقویٰ والے کے لئے اللہ راہ نکال دیتے ہیں :
وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا (جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے نجات کی شکل نکال دیتا ہے) یہ جملہ معترضہ طلاق کو طریق سنت کے مطابق جاری کرنے کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے۔ پھر سنت طریق سے اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور معتدہ طلاق کو تنگ نہیں کرتا اور اس کو جائے سکونت سے دوران عدت نہیں نکالتا اور محتاط رہا۔ تو اس کو جمع خاطر رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ضرور کوئی ایسا راستہ اس غم سے نکلنے کا پید اکر دیں گے جو عموماً ایسے خاوندوں کو پیش آیا کرتا ہے۔ اس کو تنگیوں سے نکال کر کشادگی کردیں گے اور پریشانیوں سے چھٹکارا عنایت فرمائیں گے۔
Ayah 65:33 : وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ ( اور اس کو ایسی جگہ سے رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں) ایسے طریق سے کہ جس کا اس دل میں گمان بھی نہیں ہوتا) یہ بھی درست ہے کہ اس آیت کو ذلکم یوعظ بہٖ کے ساتھ بطور استطراد لایاجائے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کا راستہ مقرر کردیں گے اور اس کو دنیاوآخرت کے غموم سے چھٹکارا ملے گا نبی اکرم ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی اور فرمایا دنیا کے شبھادت اور غمرات موت اور قیامت کے دن کی سختیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ (رواہ الثعلبی والواحدی۔ حاشیہ کشاف) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ایک ایسی آیت معلوم ہے۔ کہ اگر لوگ اسی کو اپنا لیں تو ان کے لئے کفایت کر جائے پھر یہ آیت ومن یتق اللّٰہ الایۃ پڑھی پھر اس کو بار بار پڑھ کر دھراتے رہے۔] رواہ ابن ماجہ : 4220]
عوف بن مالک ؓ کا واقعہ :
روایت میں ہے کہ عوف بن مالک کے بیٹے کو مشرکین نے قید کرلیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور شکایت کی کہ میرے بیٹے کو قید کرلیا گیا۔ اور فاقے کی بھی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا آل محمد نے تو ایک مد پر شام کی ہے۔ پس تو تقویٰ اختیار کر اور صبر کے دامن کو تھام اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم کو کثرت سے پڑھ عوف اپنے گھر لوٹے اور اپنی بیوی کو کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور تمہیں حکم دیا کہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کو کثرت سے پڑھو۔ اس نے کہا بہت خوب وہ کلمہ ہے جس کے پڑھنے کا حکم ملا ہے۔ انہوں نے اس کو پڑھنا شروع کیا اچانک ان کے دروازہ کو کسی نے کھٹکھٹایا۔ وہ ان کا بیٹا ہی تھا۔ اور اس کے ساتھ ایک سو اونٹ تھے۔ دشمن ان سے غافل ہوئے تو وہ ان کو اپنے ساتھ کھینچ کرلے آیا۔ پس یہ آیت اتری۔ ] رواہ الثعلبی والبیہقی نحوہ حاشیہ کشاف [ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے) اپنا معاملہ خواہ طمع ہو یا تدبیر وہ اس کے سپرد کرتا ہے۔ فَھُوَ حَسْبُہٗ (پس وہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے) دونوں جہانوں میں۔ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنے کام کو پورا کر کے رہتا ہے)
قراءت : حفص نے اسی طرح پڑھا ہے جس کا معنی اپنے حکم کو نافذ کرنے والا ہے۔ دیگر قراء نے بالَغَ امرَہُ وہ پہنچاتا ہے اپنے معاملے کو جو وہ ارادہ کرتا ہے۔ کوئی مراد اس سے رہ نہیں سکتی اور کوئی مطلوب اس سے چھوٹ نہیں سکتا۔ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ئٍ قَدْرًا (اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کررکھا ہے) ہر چیز کا اندازہ اور وقت مقرر ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کیوں ضروری ہے اور معاملات کو کیوں اس کے سپرد کرنا چاہیے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہر چیز خواہ وہ رزق ہو یا روشنی اس کا ایک وقت واندازہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ تو رب مخلوق کی تقدیر کے تسلیم کرنے اور اس کی ذات پر بھروسہ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔
Ayah 65:4عدت ِآئسہ :
4 : وَالّٰئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآ ئِکُمْ (اور تمہاری بیویوں میں سے جو عورتیں حیض آنے سے مایوس ہوگئی ہوں) روایت میں ہے کہ بعض لوگوں نے کہا ہمیں حیض والی عورتوں کی عدت تو معلوم ہوگئی۔ جو عورتیں حیض والی نہیں ہیں ان کی عدت کیا ہے ؟ تو یہ آیت اتری اِنِ ارْتَبْتُمْ (اگر تم کو شبہ ہو) اگر ان کا حکم مشکل ہوجائے اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ کس طرح عدت گزاریں تو فَعِدَّ تُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ (ان کی عدت تین ماہ ہے) یعنی ان کا حکم یہی ہے۔ ایک قول یہ ہے : اگر تمہیں بالغات کے دم حیض کے ناامیدی کی عمر تک پہنچ جانے میں شک ہو (اور اس کا اندازہ ساٹھ سال اور پچپن سال سے کیا گیا ہے) آیا وہ دم حیض ہے یا استحاضہ ؟ تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ جب یہ مشکوک الدم عورت کی عدت ہے تو غیر مشکوک کی تو بدرجہ اولیٰ یہی عدت ہوگی۔ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ (اور وہ عورتیں جن کو حیض نہ آیا ہو) وہ کم عمر ہیں۔ تقدیر کلام یہ ہے واللائی لم یحضن فعدتھن ثلاثۃ اشھر۔ کہ کم عمر عورتوں کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ جملہ کو حذف کیا کیونکہ اس میں دلالت موجود تھی۔
کم عمر عورتوں کی عدت :
وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ (اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے) اجل عدت کے معنی میں ہے یہ نص تمام مطلقات کو شامل ہے جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کے متعلق قول علی و عبد اللہ بن عباس ؓ یہ ہے کہ ابعد الاجلین اس کی عدت شمار ہوگی۔ خواہ وضع حمل ہو یا دیگر وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا (اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر کام میں آسانی کر دے گا) تقویٰ کے سبب اس کے معاملے کو آسان اور اس کے عقدے حل کردیے جائیں گے۔
Ayah 65:55 : ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے) جو ان معتدات کے سلسلہ میں معلوم ہوا۔ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ (جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے) لوح محفوظ سے۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے) ان پر عمل کے سلسلہ میں جو اس نے احکامات اتارے اور اس پر لازم آنے والے حقوق کی نگہبانی کی۔ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا (وہ اس کے گناہوں کو دور کردیں گے۔ اور اس کو بڑا اجر دے گا)
Ayah 65:6وضاحت ِتقویٰ :
6 : مسئلہ : پھر تقویٰ کی وضاحت فرمائی گویا من یتق اللّٰہکا حکم سن کر سوال کیا گیا کہ ہم تقویٰ پر معتدات کے سلسلہ میں کس طرح چلیں تو فرمایا۔ اَسْکِنُوْ ھُنَّ (تم ان کو رہنے کا مکان دو ) اس اس طرح یعنی حیثیت کے مطابق۔ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ (جہاں تم رہتے ہو) یہ من تبعیضیہ ہے۔ اور جس کی بعضیت بیان کی گئی وہ محذوف ہے اے مکان ای اسکنوھن مکانا من حیث سکنتم یعنی اپنی رہائش گاہ کا کوئی حصہ، مِّنْ وُّ جْدِ کُمْ (اپنی وسعت کے موافق )
نحو : یہ من حیث سکنتم کا عطف بیان ہے۔ اور اس کی تفسیر ہے گویا اس طرح کہا گیا اسکنوھن مکانا من مسکنکم مما تطیقونہ۔ الوجدؔ وسعت و طاقت کو کہتے ہیں۔
قراءت : وُجْدِکُمْ یہ ضمہ سے قراءت معروفہ ہے۔ باقی تینوں حرکات سے پڑھا گیا ہے۔
مسئلہ : نفقہ اور سکنی مطلقہ کیلئے واجب ہے اور امام مالک و شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک مطلقہ مبتوتہ کیلئے نفقہ نہیں ہے دلیل وہ روایت ہے جس کو فاطمہ بنت قیس نے نقل کیا کہ ان کے خاوند نے ان کو طلاق بائنہ دے دی رسول اللہ نے فرمایا تیرے لئے نہ سکنی ہے اور نہ نفقہ۔ (رواہ الترمذی 1180، ابن ماجہ : 2036) حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے پیغمبر کی سنت ایک عورت کے قول پر چھوڑ نہیں سکتے شاید کہ اس کو بھول ہوگئی یا اس کو اشتباہ پڑگیا۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے خودسنا۔ لھا السکنیٰ والنفقۃ ] رواہ احمد : 6/412، مسلم 1480، ابودائود/2288[ وَلَا تُضَآ رُّوْھُنَّ (اور ان کو تکلیف مت پہنچائو) ان کے ساتھ ضرار کا استعمال نہ کرو۔ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنْ (ان کو تنگ کرنے کیلئے) رہائش کے سلسلہ میں بعض ایسے اسباب پیدا کر کے جو ان کے موافق نہ ہوں۔ یا ان کے مکان کو مصروف کردیا جائے۔ نمبر 3۔ اور صورت ایسی پیدا کی جائے جس سے تم ان کو نکلنے پر مجبور کردو۔ وَاِنْ کُنَّ (اور اگر وہ مطلقات) اُولَاتِ حَمْلٍ (حمل والی ہوں) فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (تو وضع حمل تک ان کو (کھانے پینے کا) خرچہ دو )
فائدئہ شرط :
حمل کی شرط لگانے کا فائدہ یہ ہے۔ اس لئے کہ وہ مدت حمل بسا اوقات طویل ہوجاتی ہے۔ تو ممکن ہے کوئی گمان کرلے کہ پھر نفقہ تو ساقط ہوجانا چاہیے جبکہ حائل سے عدت ختم ہوجائے تو یہ شرط لگا کر اس گمان کی نفی کردی گئی۔
مطلقہ مرضعہ :
فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ (اگر وہ تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں) یعنی یہ مطلقات اگر تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں جو دوسری عورتوں سے ہو یا انہی کے بطن سے ہو اس زوجیت کے سلسلہ کے ختم ہونے کے بعد۔ فَاَنْفِقُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ (تو ان کو مقرر اجرت دے دو ) تو ان کا حکم اس وقت دایہ کا ہے۔ جب بچہ خود ان سے ہی ہو تو ان سے (اجرت کا معاملہ) سے استیجار جائز نہیں۔ البتہ امام شافعی (رح) کے ہاں جائز ہے وَاْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ (اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو) اجرت میں باہمی رضا مندی پر مشورہ کرلیا کرو۔ نمبر 2۔ ایک دوسرے کو مناسب بات کہہ دیا کرو۔ اس میں خطاب امہات اور آباء کو ہے۔ بِمَعْرُوْفٍ (دستور کے موافق) طریق سنت کے مناسب، اور جو مروءۃ کے اعتبار سے خوب ہو۔ نہ باپ پر بوجھ ڈالا جائے اور نہ ماں کو تنگ کیا جائے کیونکہ وہ ان کا بیٹا ہے اور وہ دونوں اس میں شریک ہیں۔ اور اس پر شفقت کرنے میں۔ وَاِنْ تَعَاسَرْ تُمْ (اور اگر تم باہم کشمکش کرو گے) ایک دوسرے کے سلسلے میں تنگی کرو گے۔ مثلاً ماں اتنی اجرت پر خوش نہیں جتنی اجرت پر اجنبی عورت پلاتی ہے۔ اور باپ اس سے زیادہ دیتا نہیں۔ فَسَتُرْضِعُ لَہٗ اُخْرٰی (تو کوئی دوسری عورت اس کو دودھ پلادے گی) عنقریب دودھ پلانے والی میسر ہوجائے گی۔ ماں جو دودھ پلائے اس کے علاوہ مرضعہ دشوار نہیں۔ اس میں ماں کی طرف سے جو تنگی پیدا کی گئی اس پر عتاب کیا گیا ہے۔ لہؔ والد کیلئے یعنی اگر ماں نے تنگی ظاہر کی ہے۔ تو بغیر تنگی والی دایہ اس کو میسر ہوجائے گی جو اس کے بیٹے کو دودھ پلائے گی۔
Ayah 65:7خرچہ خشیت کے مطابق :
7 : لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰـہُ اللّٰہُ ( وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق خرچ کرنا چاہیے اور جس کی آمدنی کم ہو۔ اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا اس کو دیا ہے۔ اس میں سے خرچ کرے) تنگ دست وسعت والا ہر ایک اپنی حیثیت کا لحاظ کر کے خرچ کریں اور اس خرچ سے مراد وہ نفعات واجبہ ہیں جو مطلقات و مرضعات کو دینے کا شرع نے حکم دیا ہے۔ قدر علیہ ؔ رزقہ تنگی والا ہونا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو خوراک کی حد تک دیا ہے۔ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰھَا ( اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے جتنا اس کو دیا ہے) آتاھا بمعنی اعطاھا کے ہے۔ اور ھاؔ سے مراد نفس ہے۔۔ سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا (عنقریب اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد وسعت پید اکر دیں گے) یعنی معیشت کی تنگی کے بعد وسعت۔ اس میں تنگدست کو کشائش کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 65:8سرکشی اور اس کے نتائج :
8 : وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (بہت سی ایسی بستیاں ہیں) قریہ سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ اے اہل قریۃ بستیوں والے عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہٖ (جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں سے سرتابی کی) یعنی انبیاء سے عنادو سرکشی کی بناء پر اعراض کیا۔ فَحَاسَبْنٰھَا حِسَابًا شَدِیْدًا (پس ہم نے ان کے اعمال کا سخت محاسبہ کیا) ان کا پیچھا کرکے اور پڑتال کر کے۔ وَّعَذَّبْنٰھَا عَذَابًا نُّکْرًا (اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سخت سزا دی)
قراءت : مدنی اور ابوبکر نے نُکْرًا پڑھا ہے۔ بہت ہی اوپرا اور انوکھا۔
Ayah 65:99 : فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِھَا وَکَانَ عَاقِبَۃُ اَمْرِھَا خُسْرًا (غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ ہی ہوا) یعنی خسارہ اور ہلاکت۔ مراد یہ ہے آخرت کا حساب اور عذاب اور جو اس میں وبال پائیں گے اور خسارہ حاصل ہوگا۔
ایک نکتہ :
یہ لفظ ماضی سے ذکر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ جس کا انتظار ہو رہا ہے۔ اور اس کی وعیدیں جو مستقبل سے متعلق ہیں۔ وہ حقیقت میں ایسی ہیں جیسے پہنچ چکی اور جو بھی ہونے والا ہے گویا وہ ہوچکا ہے۔
Ayah 65:1010 : اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے) اس میں وعید کو دوبارہ لائے اور اس بات کی وضاحت فرمائی کہ یہ ہے جس کا انتظار ہے۔ گویا اس طرح فرمادیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اعد اللہ لھم ھذا العذاب۔ کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کیا ہے۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓـاُ ولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (پس اے سمجھدار لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو) اے عقل والو ! ایمان والوں میں سے یہ تمہارے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تقوے میں مہربانی اور اس کے عقاب سے بچنے میں خیر ہے۔ اوپر والی آیات حاسبنہا کو ملا کر تفسیر کر رہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد یہ لیں۔ گناہوں کا شمار اور ان کا گننا دنیا میں ہے اور فرشتوں کے صحائف میں ان کو درج بھی کردیا گیا۔ اور جو کچھ ان کو اس دنیا کی زندگی میں عذاب پہنچا۔ وہ مراد ہو۔ (مگر اکثر مفسرین آخرت کا عذاب مراد لیتے ہیں)
نحو : عتت اپنے معطوفات کے ساتھ قریہؔ کی صفت ہے۔ اور اعداللّٰہ لھم یہ کاین کا جواب ہے۔
قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا (اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا) ذکر سے قرآن مراد ہے۔
Ayah 65:1111 : رَّسُوْلًا (ایک عظیم الشان رسول )
نمبر 1۔ رسولا منصوب ہے۔ فعل اس کا محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ارسل رسولاً یا یہ ذکراً سے بدل ہے۔ گویا کہ وہ رسول اپنی ذات کے اعتبار سے نصیحت ہے۔ نمبر 3۔ مضاف محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے قد انزل اللّٰہ ذکرارسولاً اور ذکر سے مراد شرف و عظمت ہوگی جیسا اس آیت میں ہے۔ وانہ لذکر لک ولقومک ] الزخرف : 44[ معنی یہ ہوا اے ذا شرف و مجد عند اللہ۔ الرسولؔ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ، نمبر 2، محمد (علیہ السلام) ۔
یَّتْلُوْا (وہ رسول پڑھتا ہے) نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ عزوجل عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ (تم پر اللہ تعالیٰ کی واضح آیات تاکہ وہ نکالے) یعنی اللہ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (ایسے لوگوں کو جو ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں) تاکہ ان کو حاصل ہو جس پر وہ اس گھڑی ہیں یعنی ایمان اور عمل صالح۔ نمبر 2۔ یا تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو جن کے متعلق علم ہوچکا کہ وہ ایمان لائیں گے۔ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (اندھیروں سے روشنی کی طرف) ظلمات ِکفر سے یا جہالت سے ایمان کی روشنی کی طرف یا علم کی طرف وَمنْ یُؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْہُ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو داخل فرمائیں گے)
قراءت : ندخلہ نون کے ساتھ مدنی اور شامی نے پڑھا ہے۔
جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا (جنت کے باغات میں کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے )
ایک نکتہ :
مَنْ کے لفظ کا لحاظ کر کے اور معنی کا لحاظ کر کے واحد و جمع صیغے لائے گئے ہیں۔ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَہٗ رِزقًا (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت اچھی روزی دی ہے) اس میں معنی تعجب کا اور تعظیم کا پایا جاتا ہے اس ثواب کے متعلق جو ایمان والوں کو عنایت کیا جائے گا۔
Ayah 65:12مثلیت ِارض سے مراد :
12 : اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ (اللہ تعالیٰ ہی نے سات آسمان پیدا کیے)
نحو : اللہ مبتدأ الذی خلق خبر ہے۔ سبع سٰمٰوت۔
اجماعِ مفسرین :
مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آسمان سات ہیں۔
وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَھُنَّ (اور انہی کی طرح زمین بھی)
نحو : منصوب مانیں تو اس کا عطف سبع سمٰوٰت پر ہوگا۔
ایک قول :
قرآن مجید میں ہے سوائے اس آیت کے اور کوئی آیت نہیں جو زمین کے سات عدد ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ ہر دو آسمانوں کے مابین تو پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی ہے۔ اور زمینیں بھی ان آسمانوں کی طرح ہیں۔
ایک اور قول : زمین ایک ہے البتہ اقالیم اس میں سات ہیں۔ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَھُنَّ (ان سب میں اللہ تعالیٰ کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم اور فیصلہ ان کے درمیان جاری ہے۔ اور اس کی بادشاہی ان سب میں نافذ ہے۔ لِتَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی پر قدرت رکھتا ہے)
نحو : لام ؔ اس کا تعلق خلق سے ہے۔
وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عِلْمًا (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اپنے احاطہ علمی میں لیے ہوئے ہیں)
نحو : عِلْماً یہ تمیز ہے نمبر 2۔ مصدر ہے جو غیر لفظ سے آیا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے قد علم کل شیٔ علمًا۔