Ayah 66:11 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ (اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے اس کو آپ حرام کیوں کرتے ہیں ؟ ) روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ کی باری میں ماریہ سے خلوت کی۔ حفصہ ؓ کو اس کا علم ہوگیا۔ آپ نے حفصہ کو فرمایا میری بات ظاہرنہ کرنا۔ میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ ابو بکر، عمر میرے بعد میری امت کے معاملے کے ذمہ دار ہونگے۔ حفصہ ؓ نے اس کی اطلاع عائشہ ؓ کو دے دی۔ یہ دوسہیلیاں تھیں۔
ایک قول یہ ہے :
کہ حفصہ کی باری کے دن میں ماریہ سے خلوت کی پھر اس کو خوش کرنے کیلئے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ اور اس کو چھپانے کا حکم دیا۔ مگر اس نے نہ چھپایا۔ پس آپ نے حفصہ کو طلاق دے دی۔ اور بیویوں سے علیحدگی اختیار فرمائی۔ 29 انتیس راتیں ماریہ کے گھر میں گزاریں پس جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور عرض کیا حفصہ سے رجوع فرما لیں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے اور قیام کرنے والی ہے اور قیامت کے دن جنت میں یہ آپ کی ازواج سے ہے۔
] قال الحافظ اراہ ھکذا وھو عند الحاکم وغیرہ بغیر ذکر سببہٖ حاشیہ کشاف[
ایک اور روایت :
میں ہے کہ آپ نے زینب بنت حجش کے گھر میں شہد پیا۔ عائشہ اور حفصہ ؓ ، نے باہمی موافقت کی اور کہنے لگیں ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ آپ ﷺ بو کو ناپسند کرتے تھے۔ پس آپ نے شہد کو حرام کرلیا۔ پس اس کا معنی : آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے حلال کر رکھا ہے۔ باندیوں کو یا شہد کو۔] رواہ البخاری 5267، مسلم 1474[
تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ (آپ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی خوشنودی) یہ لم تحرم کی تفسیر ہے۔ نمبر 2۔ حال ہے نمبر 3۔ جملہ مستانفہ ہے اور یہ آپ کی طرف سے لغزش تھی کیوں کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرے۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے) اس نے آپ کو بخش دیا جو لغزش آپ سے ہوئی۔ اور آپ پر اس نے رحم فرمایا کہ مؤاخذہ نہیں کیا۔
Ayah 66:2قسم کی نکلنے کی راہ :
2 : قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ (اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کیلئے تمہاری قسموں کے کھولنے (کاطریقہ) مقرر کردیا ہے) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسی چیز مقرر فرما دی جس سے تم اپنی قسموں سے حلال ہوسکتے ہو اور وہ کفارہ ہے۔ نمبر 2۔ کفارہ سے قسموں کی حلت کو مشروع کیا۔ نمبر 3۔ قسموں میں استثناء کو جائز قرار دیا۔ عرب کہتے ہیں حلل فلان فی یمینہٖ جب کہ وہ اس میں استثناء کرے۔ اور استثناء یہ ہے کہ قسم کے آخر میں انشاء اللہ کہہ دے تو اس کی قسم نہ ٹوٹے۔
عند الا حناف :
حلال کو حرام کرلینا قسم ہے۔
بقولِ مقاتل :
رسول اللہ ﷺ نے ایک رقبہ تحریم ماریہ میں آزاد فرمایا۔ قولِ حسن (رح) ۔ آپ ﷺ نے کفارہ نہیں دیا کیونکہ آپ کو ماتقدم من ذنبہٖ اور ماتاخر سب معاف تھے۔ اور یہ ایمان والوں کی تعلیم کیلئے فرمایا گیا۔ وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ (اور اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے) تمہارا آقا اور تمہارے کاموں کا ذمہ دار ہے۔ ایک قول یہ ہے : مولا کم تمہارے نفوس سے بڑھ کر حقدار ہے۔ پس اس کی خیر خواہی تمہاری نصیحتوں سے زیادہ نفع بخش ہے۔ وَھُوَ الْعَلِیْمُ (وہی بڑا جاننے والا ہے) جو چیز تمہارے لئے درست ہے پس وہ اسی کو مشروع کرنے والا ہے۔ الْحَکِیْمُ (بڑی حکمت والا ہے) اس میں جو اس نے حلال و حرام قرار دیں ہیں۔
Ayah 66:3حدیث ِماریہ ‘ امامت شیخین :
3 : وَاِذَا اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا (جب پیغمبر ﷺ نے اپنی کسی زوجہ سے ایک بات چپکے سے کہی اور اس کو کہہ دیا کہ کسی دوسری بی بی سے مت کہنا) حدیث ماریہ اور امامت شیخین مراد ہے۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ (پھر جب اس بیوی نے وہ بات دوسری بی بی کو بتلا دی) عائشہ صدیقہ ؓ کو ظاہر کردی۔ وَاَظْھَرَ ہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ (اور پیغمبر ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر دے دی) پیغمبر ﷺ کو بات کا افشاء کرنا جبرئیل (علیہ السلام) کی زبان پر بتلا دیا گیا۔ عَرَّفَ بَعْضَہٗ (تو پیغمبر ﷺ نے ظاہر کرنے والی بی بی کو تھوڑی سی بات تو بتلا دی) کچھ بات جنوا دی وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍ (اور تھوڑی بات کو ٹال گئے) پس اس کی اطلاع بطور کرم نفسی نہ دی۔
قولِ سفیان (رح) :
شرفاء اور مہربان لوگوں کی باتوں سے تغافل برتنے کا رواج چلا آرہا ہے۔
قراءت : علی نے عرف تخفیف سے پڑھا ہے۔ یعنی بدلہ دیا جیسے تم مجرم و گناہ گار کو کہو : لا عرفَنَّ لک ذلک میں تم سے اس بات کا بدلہ لوں گا۔ ایک قول یہ ہے : المعرَّف حدیث امامت جس سے اعراض کرلیا جائے اس کو المعرض عنہؔ کہا جاتا ہے اس سے مراد حدیث ماریہ تھی۔ روایت میں ہے کہ آپ نے حفصہ کو کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری یہ بات چھپائو ! حفصہ نے جواب دیا جس ذات نے آپ کو سچا پیغمبر بنایا ہے۔ خوشی کی وجہ سے مجھے اپنے اوپر اختیار نہیں رہا اس لئے کہ یہ ایک عظیم شرف تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے میرے باپ کو خاص کیا۔ ] ذکر والزمحشری فی الکشاف 4/566[ فَلَمَّا نَبَّأَ ھَابِہٖ (جب آپ ﷺ نے حفصہ کو وہ بات بتلا دی) نبی اکرم ﷺ نے حفصہ کو بات بتلا دی کہ تم نے عائشہ ؓ پر راز افشاء کیا ہے۔ قَالَتْ (تو حفصہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے کہنے لگی) مَنْ اَنچْبَأَکَ ھٰذَا قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ (آپ کو یہ اطلاع کس نے دی۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا مجھے بڑے علم والے نے) جو سرائر کا راز دان ہے۔ الْخَبِیْرُ (باخبرذات نے خبر دی ہے) جو ضمائر سے واقف ہے۔
Ayah 66:44 : اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ (اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلو) اس میں حفصہ و عائشہ ؓ کو خطاب ہے۔ جو بطور التفات فرمایا گیا۔ تاکہ عتاب میں زیادہ بلیغ ہو۔
نحو : شرط کا جواب محذوف ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے ان تتوبا الی اللّٰہ فھو الواجب۔ اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو وہ ضروری ہے۔ اور محذوف پر دلالت فقد صغت قلو بکما کررہا ہے۔ فَقَدْ صَغَتْ (پس بلاشبہ تمہارے دل قائل ہوگئے) قُلُوْبُکُمَا حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اخلاص میں ہر شخص پر واجب ہے کہ وہی چیز پسند کرے جو آپ پسند کرتے ہیں اور اسی چیز کو ناپسند سمجھے جس کو آپ ناپسند کرتے ہیں۔
دو عورتوں کا باہمی تعاون کیا حیثیت رکھتا ہے جس کے معاون یہ ہوں :
وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ (اور اگر پیغمبر ﷺ کے خلاف تم باہم تعاون کرتی رہیں) ۔
قراءت : کوفی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اگر تم دونوں باہمی پیغمبر ﷺ کی مرضی کے خلاف تعاون کرتی رہیں اس بات میں جو آپ کو ناپسند ہے یعنی ایک دوسرے پر غیرت میں افراط اور آپ کے راز کو کھولنا اور ظاہر کرنا۔ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰـہُ (تو یاد رکھو ! پیغمبر ﷺ کارفیق اللہ ہے) آپ کا ولی وناصر ہے۔ درمیان میں ھوؔ کا اضافہ اس بات کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر آپ کا نگہبان و مددگار ہے۔ وَجِبْرِیْلُ (اور جبرئیل بھی آپ کا ولی و دوست ہے۔ ) وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور نیک مؤمنین) جو صالح مؤمنین ہیں ایمان لا کر صالح اعمال انجام دینے والے ہیں۔ ایک قول یہ ہے : جو نفاق سے بری ہیں۔ ایک قول : صحابہ مراد ہیں۔ اگرچہ واحد کا صیغہ ہے مگر مراد جمع ہے۔ جیسے کہتے ہیں۔ لا یفعل ھذا الصالح من الناس یہاں تمہاری مراد جنس صالح ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس کی اصل صالحوا المؤمنین ہے۔ وائو کو لکھنے میں حذف کردیا۔ تاکہ لفظ کی موافقت ہوجائے۔ وَالْمَلٰٓپکَۃُ (اور ان کے علاوہ فرشتے مددگار ہیں) اپنی کثرت تعداد کے ساتھ۔ بَعْدَ ذٰلِکَ ( اس کے بعد) یعنی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور جبرئیل و صالح مؤمنین کی معاونت کے بعد ظَھِیْرٌ (ایک فوج آپ کی معاون ہے۔ ) پس دو عورتوں کا باہمی تعاون کیا حیثیت رکھتا ہے ان کے لئے جن کے معاون یہ سب ہوں۔ کیونکہ فرشتوں کا معاونت کرنا یہ من جملہ اللہ تعالیٰ کی نصرت میں سے ہے تو اسی لئے بعد ذلک کے لفظ ان کی نصرت و معاونت کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے لائے گئے ہیں۔
Ayah 66:55 : عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبَدِلَہٗ (اگر پیغمبر ﷺ تم کو طلاق دے دیں گے بہت جلد ان کا رب تعالیٰ تمہارے بدلے دے دے گا)
قراءت : مدنی، ابو عمرو نے یُبَِدِّلہ پڑھا ہے۔ تشدید کثرت کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ (بیویاں تم سے اچھی ہونگی)
سوال : وہ مبدلات ان سے زیادہ بہتر کیسے ہوسکتی ہیں حالانکہ امھات المؤمنین سے زیادہ خیر والی کوئی عورت سطح زمین پر نہیں پائی جاتی ؟
جواب : جب رسول اللہ ﷺ ان کی ایذاء کی وجہ سے ان کو طلاق دے دیں گے۔ تو ام والی صفت نہ رہی تو دوسری عورتیں ان صفات سے موصوف ہونگی (اور ان کو شرف زوجیت حاصل ہوجائے گا) تو وہ ان سے بہت بہتر ہوجائیں گی۔ (جب طلاق نہیں دی تو کسی دوسری عورت کا ان سے افضل ہونا ثابت نہ ہوا)
صفاتِ مؤمنات :
مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ (اسلام لانے والیاں، فرماں برداری کرنے والیاں) اخلاص کے ساتھ اقرارِاسلام کرنے والیاں۔ قٰنِتٰتٍ (فرمانبردار) القنوتؔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو بجا لانا۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ تٰٓئِبٰتٍ (توبہ کرنے والیاں) ۔ گناہوں سے نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والیاں اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف رجوع کرنے والیاں۔
عٰبِدٰتٍ (عبادت گزار) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والیاں سٰٓئِحٰتٍ (روزے رکھنے والیاں) ہجرت کرنے والیاں۔ روزہ دار کو بھی سائح کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ ہجرت والے کے پاس زادراہ نہیں ہوتا وہ کھانے سے اس وقت تک باز رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کھانے والی چیز پائے پس روزہ دار بھی وقت افطار تک کھانے سے رک جانے میں اس کے مشابہ ہوگیا جس کی وجہ سے سائح کا اطلاق اس پر آگیا۔ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْکَارًا (کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں)
ایک نکتہ :
ثیبّات اور ابکار کے درمیان وائو عاطفہ لائے۔ بقیہ صفات میں وائو کو ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ یہ دونوں صفتیں ایک دوسرے کی منافی اور ضد ہیں۔ بقیہ صفات ایسی نہیں۔
Ayah 66:66 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ (اے ایمان والو ! تم اپنے کو بچائو) معاصی کو چھوڑ کر اور طاعات کو اختیار کر کے۔ وَاَھْلِیْکُمْ (اور اپنے گھر والوں کو) ان پر وہ چیزیں لازم کرو جو اپنے نفسوں پر لازم قرار دیتے ہو۔ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں) وہ آگ کی ایسی قسم ہے جو انسان اور پتھروں سے جلے گی۔ جیسا دوسری آگیں لکڑیوں سے جلتی ہیں۔ عَلَیْھَا (جس پر متعین ہیں) اس کے ذمہ دار اور اس آگ کے ذریعہ عذاب دینے پر نگران مَلٰٓپکَۃٌ( فرشتے ہیں) زبانیہ جن کی تعداد انیس ہے اور ان کے معاون فرشتے۔ غِلَاظٌ شِدَادٌ (تند خو اور قوی) ان کے اجسام میں سختی و شدت ہے یا سخت بول اور زبردست افعال والے۔
وہ ہر حکم کی ادائیگی کرتے ہیں :
لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ (جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے) یہ صفت کی وجہ سے محل رفع میں واقع ہے۔ مَآاَمَرَھُمْ (اس کے حکم میں) علیہ محل نصب میں واقع ہے۔ کیونکہ بدل ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ لا یعصون ما امر اللّٰہ ای امرہ۔ حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ افعصیت امری ] طہ : 93[۔ نمبر 2۔ تقدیر کلام یہ ہوا یعصونہ فیما امرھم۔ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ (اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے) یہ دونوں جملے ایک معنی میں ہیں۔ اس لئے کہ پہلے کا معنی یہ ہے انہم یتقبلون اوامرہ ویلتزمونھا۔ وہ اس کے احکام کو قبول کرتے اور ان کو اپنے پر لازم کرتے ہیں۔ اور دوسرے جملے کا معنی یہ ہے وہ جو حکم دیا جائے اس کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے بوجھ محسوس نہیں کرتے اور نہ سستی کرتے ہیں۔
Ayah 66:7کفار کو معذرت غیر مفید :
7 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَاتَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اے کافرو ! آج معذرت نہ کرو۔ بس تم کو اسی کی سزا مل رہی ہے۔ جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے) ان کو آگ میں داخل ہوتے وقت یہ بات کہی جائے گی۔ تعملونؔ سے دنیا میں کیے جانے والے اعمال۔ لاتعتذروا : آج معذرت نہ کرو کیونکہ تمہارا کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ نمبر 2۔ اس لئے عذر نہ کرو کیونکہ معذرت کرنا تمہارے حق میں آج مفید نہ ہوگا۔
Ayah 66:8خالص توبہ :
8 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرو) نصوحًاؔ سچی یہ معنی اخفش (رح) نے بیان فرمایا ہے۔ ایک قول یہ ہے : نصوح بمعنی خالص۔ عرب کہتے ہیں۔ عسل ناصح جبکہ وہ موم سے اس کو الگ کردیا جائے۔ ایک قول یہ ہے نصوحًا یہ نصاحۃ الثوب یعنی ایسی توبہ جو تیرے دین کے شگافوں کو رفو کر دے اور سوراخ کو بند کردے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایسی توبہ جس میں تو لوگوں سے خیر خواہی کرے یعنی ان کو خیر کی طرف بلائے تاکہ اس کا اثر کرنے والے میں ظاہر ہو۔ اور عمل کے مقتضیات پر عمل پیرا ہونے میں عزیمت و اعلیٰ ہمت کا اظہار کرے۔
قراءت : نصوح حماد و یحییٰ نے پڑھا اور اس کو مصدر قرار دیا ای ذات نصوح اوتنصح نصوحًا۔ اور مرفوع بھی وارد ہوا ہے اِنَّ التوبۃ النصوحُ توبہ نصوح یہ ہے کہ گناہ سے توبہ کرے پھر دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹے جیسے دودھ لوٹ کر تھن میں نہیں جاتا ہے۔
قولِ حذیفہ :
آدمی کی برائی کیلئے یہی کافی ہے کہ گناہ سے توبہ کرے پھر دوبارہ وہی گناہ کرنے لگے۔
قول ابن عباس ؓ :
تو بہ زبان سے استغفار، دل سے شرمندگی، ارکان کے ساتھ اس سے علیحدگی کو کہتے ہیں۔
عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَعَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کرے گا) یہ عسٰی کا لفظ اسی انداز سے ہے جیسا کہ بادشاہ اپنے وعدوں کے وقت کہا کرتے تھے۔ عسٰی ‘ لعل، فعل کذا وغیرہ۔ حالانکہ ان افعال کا وقوع ان سے قطعی و طے شدہ ہوتا ہے۔ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ (اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا۔ جس کے محلات اور درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں) اس میں ان لوگوں یعنی کفار پر تعریض فرمائی جن کو اس دن رسوا کیا جائیگا۔ نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ (ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے داہنے جانب دوڑتا ہوگا)
نحو : نورھم، مبتدأ اور یسعی الخ خبر ہے۔
یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا (وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمارے اس نور کو آخر تک رکھنا) یہ اس وقت کہیں گے جب وہ منافقین کا نور بجھا ہوا دیکھیں گے۔ وَاغْفِرْلَنَا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور ہم کو تو بخشدے تو ہر شئی پر قادر ہے)
Ayah 66:99 : یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ (اے نبی ﷺ کافروں سے جہاد کریں) تلوار کے ساتھ وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور منافقین سے) سخت بات، وعظ بلیغ کے ذریعہ۔
ایک قول :
ان پر حدود اسلامی کو قائم کر کے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر سختی کرو) دو فریق پر اس مجاہدہ میں جو قتال اور حجت باللسان کی صورت میں ان کے ساتھ اختیار فرمائیں۔ وَمَاْ وٰھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے)
Ayah 66:10کافروں کے لئے مثال ‘ زوجہ نوح و لوط کو نیکوں کے نکاح میں ہونا کام نہ آئے گا :
10 : ضَرَبَ اللّٰہُ مَثلَاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْھُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ معَ الدَّاخِلِیْنَ (اللہ تعالیٰ نے کافروں کیلئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا حال بیان فرمایا ہے۔ وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں۔ پس ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ادا نہیں کیا۔ تو یہ نیک بندے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں کو حکم دیدیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی دوزخ میں چلی جائو)
اللہ تعالیٰ نے یہ مثال کفار کی حالت کے متعلق اس سلسلہ میں بیان فرمائی۔ کہ ان کو ان کے کفر و عداوت ِمؤمنین پر بغیر کسی پرواہ کے سزا دی جائے گی اور عداوت کے ہوتے ہوئے ان کو نسب و مصاہرت کام نہ دے گی۔ خواہ وہ نسب سے متصل مومن پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ نوح (علیہ السلام) و لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کا حال ہوا۔ جب دونوں نے منافقت اختیار کی اور دونوں رسولوں کی خیانت، ان کے افشائے راز سے کی تو دونوں رسول ان کے کچھ بھی کام نہ آئے حالانکہ ان کے مابین باہمی ازدواجی تعلق تھا۔ کہ ان کو عذاب سے بچا لیتے۔ قیلؔ ان دونوں کی موت کے وقت یا قیامت کے دن کہا جائے گا۔ ادخلا النارؔ تم دونوں آگ میں داخل ہوجائو۔ مع سائر الداخلین۔ (دوسرے تمام داخل ہونے والوں کے ساتھ) کہ جن کا اور انبیاء (علیہم السلام) کا باہمی کوئی رشتہ نہیں۔ یا داخلین سے اپنی اپنی قوم کے جہنم میں داخل ہونے والے قومی بھائی۔
Ayah 66:11ایمان والوں کے لئے آسیہ کو مثال فرعون کی زوجیت کا کچھ نقصان نہ ہوا :
11 : وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ اٰمنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ (اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کیلئے فرعون کی بیوی کا بیان کرتا ہے) اس کا نام آسیہ بنت متراحم تھا۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں فرعون نے چومیخا کروا کر اسے عذاب میں مبتلا کیا۔ اِذْقَالَتْ (جب اس نے کہا) جب کہ اسے عذاب دیا جارہا تھا۔ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَ کَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ( اے میرے رب میرے لئے اپنے قرب میں جنت کے اندر ایک مکان بنا دے) گویا اس نے بلند درجے کا ارادہ کیا۔ کیونکہ ذات باری تعالیٰ تو مکان سے پاک ہے۔ پس اس کی تعبیر عندکؔ سے کی۔ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ (اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے محفوط رکھ) عملہؔ یعنی عمل فرعون، یا فرعون کی خبیث شخصیت سے اور خصوصاً اس کے عمل کفر، ظلم اور بلا جرم سزا سے محفوظ فرما۔ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ( اور مجھے ان ظالموں سے بچا) اس سے سارے قبطی مراد ہیں۔
فائدہ : نیک لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مصائب و مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں التجاء اور اللہ تعالیٰ کی پناہ اور ظلم سے چھٹکارے کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
Ayah 66:12مریم نے بلد خاوند اپنی ناموس کی حفاظت کی ‘ یہود کا بیر ان کو نقصان نہ دے سکا :
12 : وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرَجَھَا (اور اللہ تعالیٰ مریم بنت عمران کا حال بیان کرتا ہے کہ جس نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا) مردوں سے فَنَفَخْنَا (پس ہم نے پھونک دی) فِیْہِ (اس کے ناموس میں) (شرمگاہ میں) مِنْ رُّوْحِنَا (اپنی روح) جو ہماری مخلوق تھی۔ وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا (اور اس نے تصدیق کی اپنے رب کے پیغامات کی) وہ صحائف جو ادریس (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے اتارے وَکُتُبِہٖ (اور اس کی چاروں کتابوں پر)
قراءت : بصری و حفص نے کُتُبِہٖ پڑھا ہے۔
وَکَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ (اور وہ اطاعت گزاروں میں سے تھی) ۔ جبکہ قنوت ایک صفت ہے جو ہر اس ذات کو شامل ہے جو مرد و عورت میں سے کرے۔ تو اس صفت میں مذکر مؤنثوں پر غالب ہیں۔ اور اسی کے لحاظ سے یہاں استعمال کیا گیا۔
نحو : منؔ یہ تبعیض کیلئے ہے۔ اور ابتدائے غایت کیلئے بھی ہوسکتا ہے اس طور پر کہ اس کی ولادت قانتین ہی کے ہاں ہوئی کیونکہ وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہیں ان کی نسل سے تھیں۔
مؤمنین کی حالت کی مثال اس بات میں ہے کہ کفار کا تعلق و رشتہ داری کوئی نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی ایمان والوں کے مراتب وثواب جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرر ہیں اس میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔ جیسا کہ فرعون کی بیوی اور اس کا عالی مرتبہ باوجود یکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین دشمن کی بیوی تھی۔ اور مریم بنت عمران کو جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اور آخرت میں عزتیں عنایت فرمائیں اور تمام جہان کی عورتوں پر ان کو چنا گیا حالانکہ ان کی قوم یہود کا فر تھے۔ ان دو مثالوں میں دونوں امہات المؤمنین کو تعریض کی گئی ہے۔
اس میں امہات المؤمنین کو تعریض ہے :
جن کا واقعہ شروع سورت میں گزرا۔ اور ان سے جو زیادتی ہوئی کہ رسول اللہ کی مرضی کے برخلاف آپ پر چڑھائی کی۔ ان دونوں کو خبردار کیا گیا۔ اور انتہائی انداز سے خبردار کیا گیا۔ اور اس بات کی طرف اشارہ کردیا۔ ان کا حق تو یہ تھا کہ وہ ان مومنہ عورتوں کی طرح اخلاص سے رہیں۔ اور ان کو اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرنا چاہیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج ہیں تو ان کو رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ میں ہر چیز درست ہے۔