67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

1 : تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ ڑ (وہ بڑا عالی شان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) اسمائے سورت : اس سورت کا نام الواقیہ نمبر 2۔ المنجیہ بھی ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ روایت مرفوعہ میں ہے، جس نے اس سورت کو ایک رات میں پڑھا اس نے بہت زیادہ اور بہت خوب عمل کیا۔ (رواہ الطبری و ابن مردویہ من حدیث ابن مسعود مرفوعًا) تَبٰرَکَ (بلندو عالی شان ہے ان صفات سے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں) الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ یعنی ملک اسی کے تصرف میں ہے اور اس کو ہر موجود پر غلبہ حاصل ہے۔ وہ ملک کا مالک ہے۔ جس کو چاہتا ہے عنایت کرتا اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ شئی سے مقدورات مراد ہے، گویا شئی مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ نمبر 2۔ شئی سے انعام و انتقام مراد ہے کہ دونوں پر یکساں قدرت ہے۔ قدیرکامل قدرت والا ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے

2 : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ (جس نے موت وحیات کو پیدا کیا) نحو : مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ پہلے الذی سے بدل ہے۔ الحیاۃ : جس کے پائے جانے سے احساس درست ہو۔ الموتؔ : جس کے پائے جانے سے احساس درست نہ رہے۔ خلق ‘ موت وحیات کا معنی : اس مصح (تندرست) کا ایجاد حیات اور اعدام موت ہے۔ مطلب یہ ہے اے مکلف (انسانوں) اس نے تمہاری موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ لِیَبْلُوَکُمْ ( تاکہ تمہاری آزمائش کرے) تاکہ وہ اپنے امرو نہی سے۔ اس موت اور زندگی کے ذریعہ تمہارا امتحان لے، جو موت امیر و اسیر کو شامل ہے اور جو زندگی بیمار و طبیب ہر دو سے بےوفائی کرنے والی ہے۔ تاکہ تم سے وہ ظاہر ہو جو اس کے علم میں ہے کہ تم سے ظاہر ہوگا۔ پھر وہ تمہارے عمل پر تمہیں بدلہ دے گا۔ نہ کہ اپنے علم پر جو اسے تمہارے متعلق ہے۔ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے) ایکم مبتدأ اور احسن عملاً اس کی خبر ہے۔ احسن ؔ زیادہ خالص ‘ زیادہ باصواب، الخالص : خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے جو کریں۔ الصواب : سنت کے بالکل مطابق ہو۔ المراد المطلوب : اس نے تمہیں زندگی بخشی جس کے ذریعہ عمل کی توفیق ملی۔ پھر اس نے موت کو مسلط کیا جو کہ تمہیں دعوت دے رہی ہے۔ کہ قبیح کے مقابلہ میں تم حسن عمل کو اختیار کرو۔ پس موت کے بعد تو بعث اور وہ جزاء ہے جس نے بہر صورت پیش آنا ہے۔ موت کی وجہ ِتقدیم : موت کو حیات سے مقدم کیا کیونکہ عمل کا سب سے مضبوط داعی موت ہے۔ جس نے اپنی موت کو سامنے رکھا اس نے خوب عمل کیا یہاں موت کو اس لئے بھی مقدم کیا کہ سیاق آیت کے اعتبار سے بھی زیادہ اہم یہی ہے۔ جب موت کو پہلے لائے جو صفت قہاریت کا پر تو ہے اور زندگی کو جو کہ لطف الٰہی کا اثر ہے بعد میں ذکر کیا گیا۔ اسی ترتیب ذکری کے لحاظ سے صفت قہری کو مہری سے مقدم کیا فرمایا وَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور وہ زبردست) یعنی ایسا غالب ہے کہ برا عمل کرنے والا اس کو تھکا نہیں سکتا۔ الْغَفُوْرُ (بخشنے والا ہے) ستار ایسا کہ کوئی بڑے سے بڑے گناہ و لغزش والا اس کی بارگاہ سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

3 : الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا (جس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا کئے) ایک دوسرے آسمان پر طبقاتی صورت میں۔ طباق یہ طَابَقَ النعل سے لیا گیا ہے جبکہ موچی جوتے کو تہ بہ تہ کر کے سیتا ہے۔ یہ مصدر ہے جس کو بطور صفت لائے ہیں۔ نمبر 2۔ مضاف محذوف ہے ای ذات طباق نمبر 3۔ طوبقت طباقا۔ فعل محذوف کا مصدر ہے۔ نمبر 4۔ ایک قول یہ ہے یہ طباق جمع طبق کی ہے جیسے جمل کی جمع جمال ہے۔ مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ (تو رحمان کی اس صنعت میں نہ دیکھے گا) یہ خطاب رسول اللہ اکو ہے۔ نمبر 2۔ ہر مخاطب کو عام ہے۔ مِنْ تَفٰوُتٍ (کوئی خلل) کوئی اضطراب، اختلاف، بقول سدی (رح) کوئی عیب۔ قراءت : حمزہ و علی نے من تفوت پڑھا ہے۔ دونوں وزن ایک ہی معنی رکھتے ہیں۔ جیسا تعاھد اور تَعَھد۔ حقیقت ِتفاوت : تناسب کا نہ ہونا گویا بعض حصہ دوسرے سے فوت ہوجائے اور اس کے مناسب نہ رہے۔ یہ اشیاء تخلیق رحمانی ہیں : یہ جملہ طباقاؔ کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے ماتری فیھن من تفاوت پس خلق الرحمان کو ضمیر کی جگہ لائے۔ ان کی تخلیق کی عظمت کو بتلانے اور تغاوت سے سلامت رہنے کا سبب ظاہر کرنے کے لئے ایسا کیا گیا اور وہ اس طرح ہے کہ یہ چیزیں رحمان کی تخلیقات سے ہیں اور وہی اپنی زبردست قدرت کی وجہ سے ایسی متناسب مخلوق پید اکر سکتا ہے۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ (پس تم پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو) یعنی اپنی نگاہ آسمان کی طرف لوٹائو۔ تاکہ مشاہدہ سے اس خبر کی سچائی تیرے سامنے آجائے۔ اور تمہیں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُورٍ (کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے) فطورؔ جمع فطر، پھٹن، شگاف، دراڑ (من زائدہ ہے اور استفہام تقریری ہے۔ )
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔

4 : ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ (پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ) دوبارہ دو مرتبہ نگاہ ڈال پہلی سمیت دو مرتبہ۔ ایک قول : پہلی کے علاوہ دو مرتبہ پس تین مرتبہ ہوجائیں گی۔ ایک قول اور ہے : دو مرتبہ پر اکتفاء مطلوب نہیں بلکہ کثرت تکرار مراد ہے۔ بار بار نگاہ ڈال اور گہرائی اختیار کرو۔ کیا تمہیں اس میں کوئی عیب و شگاف نظر آتا ہے۔ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُخَا سِئًا (نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی ) نحو : ینقلبؔ یہ لوٹنے کے معنی میں ہے۔ یہ جواب امر ہے اسی لئے مجزوم ہے۔ خاسئًا ذلیل نمبر 2۔ اس سے بہت دور جو تیرے ارادہ میں ہے۔ نحو : یہ البصر سے حال واقع ہے۔ وَّ ھُوَ حَسِیْرٌ (وہ تھکی ہوئی اور درماندہ ہے) اور تمہیں آسمان میں کوئی شگاف نہ مل سکے گا۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

آسمان میں چراغ : 5 : وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآ ئَ الدُّنْیَا (اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو مزین کر رکھا ہے) الدنیاؔ قریبی، یعنی وہ آسمان جو تمہارے قریب ہے۔ بِمَصَابِیْحَ (ستاروں کے ساتھ) ایسے ستاروں کے ذریعہ جو صبح کی طرح روشن ہیں۔ یہ مصباح کی جمع ہے۔ چراغ کو کہتے ہیں۔ ان کو چراغ اس لئے کہا کیونکہ لوگ اپنی مساجد اور گھروں کو چراغوں کی روشنی سے مزین کرتے ہیں۔ ( اور ان سے آسمان مزین ہے) ایک قول یہ ہے : ہم نے اس گھر کی چھت کو جس میں تم اکٹھے ہو چراغوں سے مزین کردیا۔ ایسے چراغ کہ روشنی میں تمہارے چراغ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ (اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے) تمہارے ایسے دشمنوں کیلئے جو تمہیں روشنی سے اندھیروں میں ڈالتے ہیں۔ ستاروں کے کام : قول قتادہ (رح) ستاروں کے تین کام ہیں۔ نمبر 1۔ آسمان کی زینت نمبر 2۔ شیاطین کیلئے رجم نمبر 3۔ زمین میں راہنمائی کیلئے علامات جس نے اس کے علاوہ تاویل کی ہے اس نے جہالت و بےعلمی اور تکلف سے کام لیا ہے۔ الرجومؔ جمع رجم کی ہے یہ مصدر ہے جس سے مرجوم کا نام رکھا گیا ہے۔ رجوم شیاطین کا مطلب یہ ہے کہ ستارے سے ایک شعلہ (چنگاری) نار کی طرح جدا ہوتا ہے۔ جو اس جن کو ہلاک کردیتا ہے۔ یا اس کو مخبوط الحواس کر ڈالتا ہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ ستارے اپنی جگہ سے زائل ہو کر اس کو لگتے ہیں۔ بلکہ وہ تو اپنی حالت میں آسمان میں جمے رہنے والے ہیں۔ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ (اور ہم نے تیار کر رکھا ہے) یعنی شیاطین کیلئے عَذَابَ السَّعِیْرِ (دوزخ کا عذاب) جو آخرت میں ان کو شہاب ثاقب سے دنیا میں جل جانے کے بعد ملے گا۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

6 : وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ (اور جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں) اس میں شیاطین کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا ہر شخص شامل ہے۔ عَذَابُ جَھَنَّمَ (ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے) فقط شیاطین دوزخ کے عذاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ بری جگہ ہے) المصیر لوٹنے کی جگہ مراد جہنم ہے۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

7 : اِذَآ اُلْقُوْا فِیْھَا (جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے) جب ان کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جیسا لکڑیوں کو بڑی آگ میں پھینکا جاتا ہے۔ سَمِعُوْا لَھَا (تو اس کی ایک بڑی زور کی آواز سنیں گے) جہنم کی آواز شَھِیْقًا ( گدھے کی آواز جیسی انوکھی آواز) جہنم کی زور دار بری آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دی۔ وَّھِیَ تَفُوْرُ (اور وہ جوش مارتی ہوگی) جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں اسی طرح ابال آئے گا جیسے ہنڈیا میں پکنے والی اشیاء کو ابال آتا ہے۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟

زبانیہ کا سوال : 8 : تَکَادُ تَمَیَّزُ (ایسامعلوم ہوتا ہے کہ غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی) تمیز یہ تتمیز ہے پھٹنا اور ٹکڑے ٹکڑے ہونا۔ مِنَ الْغَیْظِ (کفار پر غصہ کی بناء پر) جہنم کے بہت زیادہ ابال کو استعارۃً اس طرح قرار دیا گویا وہ سخت غصہ میں لال پیلی ہے۔ کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ (جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالاجائے گا) کفار کی جماعت مراد ہے۔ سَاَ لَھُمْ خَزَنَتُہَآ (تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے) خزنہؔ سے مالک اور اس کے مددگار زبانیہ مراد ہیں اور یہ سوال زجرو تذلیل کیلئے ہوگا۔ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ (کیا تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا تھا) وہ رسول جو تمہیں اس عذاب سے ڈرائے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

کفار کا اعتراف : 9 : قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ (وہ کافر کہیں گے واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔ ) یہ کفار کی طرف سے عدل الٰہی کا اعتراف ہے۔ اور اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو روانہ کر کے اور انذار کے ذریعہ عذاب میں مبتلا ہونے کے اسباب بالکل واضح کردیے تھے۔ فَکَذَّبْنَا (پس ہم نے جھٹلادیا) یعنی ہم نے ان کو جھٹلا دیا۔ وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ (اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نہیں اتاری۔ ) جو یہ انبیاء وعد، وعید وغیرہ کہہ رہے ہیں۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ (تم بڑی غلطی میں پڑے ہو) یعنی کفار منذرین کو کہنے لگے تم شدید غلطی کا شکار ہو۔ النذیرؔ یہ انذار کے معنی میں ہے پھر انہوں نے اسی کو اپنے منذرین کے متعلق غلو کرتے ہوئے بطور صفت استعمال کیا گویا کفار کا مطلب یہ تھا یہ تمہاری بات نرا ڈراوا ہے۔ (حقیقت سے اس کا تعلق نہیں) نمبر 2۔ ممکن ہے کہ یہ جہنم کے فرشتوں کا کلام ہو جبکہ اس سے پہلے قالؔ کو مان لیں۔ اس صورت میں ضلال سے ہلاکت مراد ہوگی۔ نمبر 3۔ گمراہی کی سزا کو خود گمراہی سے تعبیر کردیا جیسا کہ جزاء سیئہ کو سیئہ کہہ دیا جاتا ہے۔ اور اعتدائے سیئہ کو اعتداء کہتے ہیں اس کو علم بیان کی زبان میں مشاکلہ کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ یہ رسولوں کا کلام ہے جو وہ خزنہ کے سامنے نقل کریں گے یعنی کفار کہیں گے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے تو ہم کو یہ بات کہی مگر ہم نے اس کو قبول نہ کیا۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

10 : وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ (اور کہیں گے اگر ہم سنتے) طالب حق کی طرح ڈراوئوں کو سنتے اَوْ نَعْقِلُ ( یا سمجھتے) ایسے سمجھتے جیسے غور و فکر والا سمجھتا ہے مَاکُنَّا فِیْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (تو اہم اہل دوزخ میں نہ ہوتے) من جملہ ان لوگوں میں سے جو دوزخ میں پڑے ہیں۔ نحو : تکلیف کا دارومدار دلائل سمع و عقل پر ہے اور یہی دو دلیلیں اتمام حجت کیلئے کافی ہیں۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے

11 : فَاعْتَرَفُوْا بِذَمنْبِہِمْ (غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے) کہ تکذیب رسل کر کے انہوں نے کفر کیا ہے۔ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (پس اہل دوزخ پر لعنت ہے) قراءت : فَسُحُقًا یزید و علی نے پڑھا۔ سحقاً کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت و کرامت سے ان کو دور کردیا گیا وہ اعتراف کریں یا انکار اس سے ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ نحو : یہ مصدر ہے جو بددعا کے موقعہ پر استعمال ہوا۔ اس لئے منصوب ہے۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

12 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ (بےشک جو لوگ اپنے رب سے بےدیکھے ڈرتے ہیں) یعنی اس کے عذاب کو دیکھنے کے بغیر ڈرتے ہیں۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ (ان کے لئے مغفرت ہے) گناہوں کی۔ وَّ اَجْرٌ کَبِیْرٌ (اور اجر عظیم ہے) وہ جنت ہے۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

اللہ تعالیٰ کو سرّ و اعلانیہ کی اطلاع ہے : 13 : وَاَسِرُّوْا قَوْلَکُمْ اَوِا جْھَرُوْا بِہٖ (تم لوگ خواہ چھپا کر بات کرو یا پکار کر کہو) اس کے ظاہر سے دونوں میں سے ایک بات ثابت ہو رہی ہے۔ اسرار یا اظہار مگر معنی یہ ہے کہ تمہارا اسرار و اظہار اس کے علم میں برابر ہے۔ روایت ہے کہ مشرکین مکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق طرح طرح کی بدگوئیاں کرتے۔ اللہ تعالیٰ جبریل (علیہ السلام) کو بھیج کر ان کے اقوال کی اطلاع دے دیتے۔ تو وہ کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا الٰہ سن نہ لے۔ پس یہ آیت اتاری۔ پھر اس کی تعلیل آیت کے اگلے حصہ میں ذکر کردی۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب آگاہ ہے) یعنی وہ چھپی ہوئی باتیں جن کی ترجمانی ابھی تک زبانوں نے نہیں کر پائی ہوتی۔ پس یہ کیوں نہ وہ جانے گا جو زبان سے کہہ دی گئی (خواہ آہستہ کہی یا زور سے )
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے

14 : اَ لَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین پورا باخبر ہے) نحو : مَن یہ یعلم کا فاعل ہونے کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ کیا وہ جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس کی صفت لطیف وخبیر بھی ہے وہ ان کے ضمیر اور راز ہائے سینہ اور ظاہر سے واقف نہ ہوگا ؟ اللطیف اس کی صفت یہ ہے کہ وہ اشیاء کے دقائق سے واقف ہے۔ الخبیر ؔ اور اشیاء کے حقائق سے بھی آگاہ ہے۔ فائدہ : اس سے ثابت ہوا کہ اللہ اقوال کا خالق ہے پس افعال کا خالق ہونا خود ثابت ہوگیا۔ قولِ ابوبکر اصم وجعفر بن حرب : کہ مَنْؔ مفعول ہے اور فاعل مضمر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ اس حیلہ بازی سے انہوں نے خلق افعال کی نفی کرنا چاہی (مگر بےحاصل) ۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔

انعاماتِ الٰہیہ : 15 : ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا (وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا) ھو سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ذلولا (نرم اور سہل) ایسی تابع کہ اپنے اوپر چلنے سے نہیں روکتی۔ فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا (پس تم اسکے رستوں میں چلو) مناکب (جوانب و اطراف) استدلال کرتے ہوئے اور رزق کو طلب کرنے کیلئے چلو۔ نمبر 2۔ مناکب کا معنی پہاڑنمبر 3۔ راستے۔ وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ (اور اللہ تعالیٰ کی روزی میں سے کھائو) جو اس میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق ہے۔ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ (اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے) اسی کی طرف تم نے اٹھ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم سے اپنے انعامات کے شکریہ کے متعلق پوچھ گچھ کریں گے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

16 : ئَ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ ( کیا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں ہے) یعنی وہ ذات جس کی بادشاہی آسمان پر ہے۔ کیونکہ آسمان مسکن ملائکہ ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے فیصلے ‘ کتب، اوامرو نواہی نازل ہوتے ہیں۔ پس گویا اس طرح فرمایا اء منتم خالق السماء و ملکہ کیا تم آسمان کے خالق و بادشاہ سے بےخوف ہوگئے ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ وہ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اسی کی طرف سے اترتے ہیں۔ پس ان کو کہا گیا انہی کے اعتقاد کو سامنے رکھ کر کہ کیا تم اس ذات سے بےخوف ہوگئے ہو جس کے متعلق تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ آسمان میں ہے حالانکہ اس کی ذات تو مکان سے بلند وبالا ہے۔ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ (کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے) جیساقارون کو دھنسا دیافَاِذَاھِیَ تَمُوْرُ (پھر وہ زمین تھرتھرانے لگے) اضطراب و حرکت میں آجائے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

17 : اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآ ئِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا (کیا تم لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر ایک ہوائے تند بھیج دے) حاصبؔ: پتھر۔ نحو : ان یرسل یہ بدل الاشتمال سے بدل ہے اور اسی طرح ان یخسف ؔ بھی۔ امؔ بمعنی ھل ہے۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ کَیْفَ نَذِیْرِ (پھر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈر انا کیسا تھا) یعنی جب تم عذاب کو دیکھ لو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا مگر اس وقت کا علم چنداں مفید ثابت نہ ہوگا۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔

18 : وَلَقَدْ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ (اور ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے جھٹلا یا تھا) آپ کی قوم سے پہلے فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ (پس میرا عذاب کیسا ہوا) میرا انکار ان پر کیسا رہا جبکہ میں نے ان کو ہلاک کردیا۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

19 : پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خسف اور آندھی بھیجنے پر اپنی قدرت کے متعلق متنبہ کیا اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ (کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کی) الطیرؔ یہ جمع طائر کی ہے فوقؔ سے فضا مراد ہے۔ صٰٓفّٰتٍ (کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں) وہ اپنے پر فضا میں اڑتے وقت پھیلانے والے ہیں۔ وَّ یَقْبِضْنَ ( اور پر سمیٹ لیتے ہیں) اور ان کو سمیٹ لیتے ہیں جبکہ وہ ان پروں کو اپنے پہلوئوں پر مارتے ہیں۔ نحو : ویقبضن کا عطف اسم فاعل صافاتؔ پر اس کو یصففن کے معنی پر محمول کرنے کی بناء پر ہے ای یصففن ویقبضن یا اس کو اسم فاعل کے معنی میں مان کر ای صافات و قابضاتٍ حکمت : اسی دوسری ترکیب کو اس لئے اختیار کیا کیونکہ طیران کی اصل پر پھیلانا ہے۔ ہوا میں پرواز پانی میں تیراکی کی طرح ہے اور پرندے کیلئے ہوا، تیرنے والے کے لئے پانی کی طرح ہے۔ السباحت ؔ اصل میں اطراف کو دراز کرنا اور پھیلانا۔ باقی قبض تو حرکت پر معاونت کیلئے اس پر طاری ہونی ہے۔ چناچہ آیت میں طاریؔ کو لفظ فعل سے لائے تاکہ یہ ظاہر کردیا جائے کہ اصل تو وہ پروں کو پھیلاتے ہیں باقی وقتاً فوقتاً پر سمیٹنے بھی پڑتے ہیں جیسا تیرنے والے کو کبھی کرنا پڑتا ہے۔ مَا یُمْسِکُھُنَّ (نہیں ان کو تھامے ہوئے ہے) گرنے سے جبکہ وہ پروں کو پھیلاتے اور سمیٹتے ہیں۔ اِلَّا الرَّحْمٰنُ (مگر رحمان) محض اپنی قدرت و رحمت کے ساتھ۔ ورنہ ثقیل چیز تو طبعی طور پر نیچے کو آتی ہے بلند نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر وہ پورے جہان سے اپنی حفاظت و تدبیر کو ہٹا لے تو یکبارگی تمام افلاک دھڑام سے نیچے آگریں۔ نحو : مایمسکھن ؔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ نمبر 2۔ یقبضن کی ضمیر سے حال ہے۔ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍم بَصِیْرٌ (بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے) وہ مخلوق کو پیدا کرنے اور عجائبات کی تدبیر کرنے سے خوب واقف ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں

20 : اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ جُندٌ لَّکُمْ یَنْصُرُ کُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ (ہاں رحمان کے سوا اور کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بنکر تمہاری حفاظت کرسکے) نحو : أمَّنْ یہ مبتدأ ہے ھذاؔ اس کی خبر ہے۔ الذی ھو یہ ؔ ھذاؔ کا بدل ہے۔ اور ینصرکم ؔ جملہ جندٌ کی صفت محل رفع میں ہے یہ بحیثیت لفظ اس کی صفت ہے۔ معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کون ایسا ہے جس کی طرف نصرت و مدد میں اشارہ کیا جائے۔ (یعنی کوئی ایسا نہیں) اِنِ الْکٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍ (کافر نرے دھوکہ میں ہیں) اِنؔ، ما کے معنی میں ہے۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

کیا اللہ کے رزق روکنے پر تمہارے معبود رزق دیتے ہیں : 21 : اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَہٗ (ہاں وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرے) امن کون ایسا ہے جس کی طرف اشارہ کر کے کہا جائے کہ تم کو یہ رزق دے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا رزق روک لیا ؟ یہ تو اس تقدیر پر ہے جب کہ منؔ سے جمیع خلق مراد لی جائے۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس سے اشارہ ان کے تمام بتوں کی طرف ہو کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ ان کی مصائب سے حفاظت کرتے ہیں اور ان کو اپنے ان معبودوں کی برکت سے رزق ملتا ہے گویا وہ اصنام مددگار ‘ لشکر اور رازق لشکر ہیں۔ جب انہوں نے اس سے کوئی تاثر نہ لیا اور اس کو قبول نہ کیا تو ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا۔ بَلْ لَّجُّوْا (بلکہ یہ لوگ جم رہے ہیں) بڑھتے جانا ‘ جمے رہنا۔ فِیْ عُتُوٍّ (سرکشی میں) حق قبول کرنے سے تکبر کرنا۔ وَّ نُفُوْرٍ ( اور نفرت پر) حق سے دور بھاگنے کی وجہ سے کیونکہ حق کو بوجھل خیال کرتے ہوئے اس کی اتباع نہیں کرتے۔ ربط : مؤمنوں اور کافروں کی مثال بیان فرمائی پس فرمایا۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

22 : اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبًّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ (پس کیا جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو) یعنی اپنے چہرے کے بل گرنے والا ہو اور ہر گھڑی لڑکھڑائے اور بغیر سمجھے بوجھے راستہ اختیار کرنے والا ہو۔ نحو : مَنؔ کی خبر اھدی ہے۔ اَھْدٰٓی (راہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہو) زیادہ راہ پانے والا ہو۔ نحو : اکب یہ کب کا مطاوع آتا ہے کہتے ہیں کببتہٗ فاکبَّ میں نے اس کو اوندھا کیا وہ اوندھا ہوگیا ( گویا اکباب لازم و متعدی ہر دو طرح ہے) اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا (یا وہ شخص جو سیدھا چلتا ہے) سویا ؔ درست ‘ سیدھا ‘ پھسلنے گرنے سے محفوظ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو) ایک برابر راستہ پر ہو۔ نحو : من کی خبر اھدیؔ محذوف ہے کیونکہ پہلا اھدی اس پر دلالت کرتا ہے۔ بقول کلبی، مکب سے مراد ابوجہل اور اہدی سے نبی اکرم ﷺ ہیں۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔

23 : قُلْ ھُوَ الَّذِیْ اَنْشَآَکُمْ (آپ کہہ دیجے کہ وہی جس نے تم کو پیدا کیا) ابتداء ًاس نے تمہیں پیدا کیا۔ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَ فْئِدَۃَ (اور اس نے تم کو کان، آنکھیں اور دل دیے) ان کو اس لئے خاص کیا کیونکہ یہ تینوں ذرائع علم ہیں۔ تم بالکل شکر نہیں کرتے : قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو) ان انعامات کا کیونکہ تم شرک کرتے ہو اور خالص اس کی عبادت نہیں کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم بہت قلیل شکریہ ادا کرتے ہو۔ اس صورت میں ماؔ زائد ہے۔ ایک قول یہ ہے قلت سے مراد عدم ہے کہ تم بالکل شکر نہیں کرتے ہو۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔

24 : قُلْ ھُوَ الَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (آپ کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلا یا اور تم اسی کے پاس اکٹھے کیے جائو گے) ذرأکم اس نے پیدا کیا۔ تحشرونؔ حساب و جزاء کیلئے جمع کیے جائوگے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پوری) ہوگی ؟

25 : وَیَقُوْلُوْنَ (اور یہ لوگ کہتے ہیں) کافر مؤمنوں کو بطور استہزاء کہتے تھے۔ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (کہ یہ وعدہ کب ہوگا) وہ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے رہتے ہو۔ وعدؔ سے عذاب والا وعدہ مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اس کے واقع ہونے میں تو ہمیں اس کا زمانہ بتلا دو ۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔

26 : قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ (آپ کہہ دیجیے کہ یہ علم) یعنی عذاب کے وقت کا علم عِنْدَ اللّٰہِ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو محض صاف صاف ڈرانے والوں میں سے ہوں) نذیرؔ ڈرانے والا۔ مبینؔ شرائع کی تمہارے سامنے وضاحت پیش کرنے والا۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔

27 : فَلَمَّا رَاَوْہُ (پھر جب اس کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے) ہٗ سے مراد وہ عذاب ہے جس کا وعدہ کیا گیا۔ زُلْفَۃً (اپنے قریب ) نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ کافروں پر اکتاہت کا سوار ہونا : سِیْئَتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تو کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے) وعدئہ عذاب کو دیکھتے ہی ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اس لئے کہ ان پر اکتاہٹ اور برائی سوارہو جائیگی اور ان کے چہروں پر سیاہی کے بادل چڑھ جائیں گے۔ وَقِیْلَ ھٰذَا الَّذِیْ (اور ان کو کہا جائے گا) یہ زبانیہ کا قول ہے وہ کہیں گے۔ کُنْتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ (جس کو تم مانگا کرتے تھے) تدعون الدعاء سے باب افتعال ہے یعنی تم اس کو جلد مانگتے تھے اور تم کہتے تھے ائتِنَا بِمَا تَعِدُنَا۔ نمبر 2۔ یہ الدعوی مصدر سے ہے یعنی اس کے سبب سے تم دعویٰ کرتے تھے۔ کہ تم اٹھائے نہ جائو گے۔ قراءت : یعقوب نے تُدْعُوْن تخفیف سے پڑھا ہے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے

کفار کی دُعائے ہلاکت کا جواب : 28 : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَکَنِیَ اللّٰہُ (آپ کہہ دیجیے کہ تم یہ بتلائو اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو ہلاک کر دے) مجھے موت دے دے جیسا دوسرے مقام پر فرمایا اِنْ امْرَؤٌ ھَلَکَ ] النساء : 176[ وَمَنْ مَّعِیَ (اور میرے ساتھیوں کو جو میرے ساتھ ہیں) اَوْ رَحِمَنَا (یا ہم پر رحمت فرمائے) پس ہماری موت کو مؤخر کر دے۔ فَمَنْ یُّجِیْرُ (تو کون بچائے گا) نجات دے گا۔ الْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (کافروں کو دردناک عذاب سے) الیم بمعنی مولم ہے۔ کفارِ مکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے متعلق ہلاکت کی دعائیں کرتے پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کا جواب اس طرح دینے کا حکم فرمایا۔ ہم مومن دو اچھائیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں خواہ تمہاری تمنا کے مطابق ہم ہلاک ہوجائیں تو جنت میں پہنچ جائیں گے یا اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت فرما کر تمہارے خلاف ہماری مدد کرکے تم پر غلبہ دے دیں گے۔ جیسا کہ ہم امیدوار ہیں تو بھی ہم کامیاب پھر تمہارا کیا بنے گا۔ تمہیں اور تمہارے کافروں کو آگ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ تمہارے لئے وہ (کفر کی حالت میں تو) آگ یقینی ہے۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

29 : قُلْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ (آپ کہہ دیجئے کہ وہ بڑا مہربان ہے۔ یعنی جس ذات کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں وہ رحمان ہے۔ اٰمَنَّا بِہٖ (ہم اس پر ایمان لائے) اور اس کی تصدیق کی اور ہم نے تمہاری طرح کفر نہیں کیا۔ وََعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا (اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں) پس ہم نے اپنے تمام امور اسی ہی کے سپرد کر رکھے ہیں۔ فَسَتَعْلَمُوْنَ (پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا) جبکہ تم پر عذاب نازل ہوگا۔ قراءت : ـ علی نے یعلمون یاء سے پڑھا ہے۔ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (کہ کون کھلی گمراہی میں ہے تم یا ہم )
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے

30 : قُلْ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآ ؤُکُمْ غَوْرًا (کہہ دیجئے اچھلا بتلائو۔ اگر تمہارا پانی نیچے کو غائب ہی ہوجائے) گہرائی میں زمین کے اندر چلا جائے۔ ڈول اس کو نہ پہنچ سکیں یہ صفت مصدر کی صورت میں لائی گئی جیسا عدل بمعنی عادل آتا ہے۔ فَمَنْ یَّاْتِیْکُمْ بِمَآ ئٍ مَّعِیْنٍ (تو کون ہے جو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی لے آئے) معینؔ (جاری) جو اس کو پہنچ جائے جو اس کا ارادہ کرلے۔ لطفیہ : ایک ملحد کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو وہ کہنے لگا ہم کسی کدال سے نکال لیں گے رات کو اس کی آنکھ کا پانی چلا گیا اور وہ اندھا ہوگیا اور اسے کہا گیا اب کسی کدال سے لے آئو۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ محمد بن زکریا متطبب تھا۔ (اعاذنا اللہ منہ) اے اللہ ہماری بصیرت میں اضافہ فرما۔