Ayah 68:1قلم کی قسم کثرت منافع کے لئے کھائی :
1 : نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ (ن ! قسم ہے قلم کی اور ان کے لکھنے کی) نؔ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد یہی حرف معجم ہے۔ باقی قول حسن (رح) کا کہ اس کا معنی دوات ہے اور قول ابن عباس ؓ کہ نون مچھلی کو کہتے ہیں۔ جس پر زمین رکی ہوئی ہے اور اس کا نام یھ موت ہے وہ یہاں مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے لیے اعراب ضروری ہے خواہ وہ اسم جنس ہو یا علم ہو۔ پس سکون اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حروف تہجی میں سے ہے۔ وَالْقَلَمِ قلم سے وہ مراد ہے جس سے لوح محفوظ کو لکھا گیا نمبر 2۔ ملائکہ کے اقلام۔ نمبر 3۔ جس سے لوگ لکھتے ہیں۔ اس کی قسم اسلئے کھائی کیونکہ اس کے منافع و فوائد بیان سے باہر ہیں۔ وَمَا یَسْطُرُوْنَ یعنی جو کراماً کاتبین لکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ خیر کی جو باتیں کسی بھی کتاب میں لکھی جاتی ہیں۔ ما ؔ موصولہ ہے یا مصدریہ۔
Ayah 68:22 : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ (کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں) یہ جواب قسم ہے اپنے رب کے فضل کی موجودگی میں جو اس نے نبوت اور دیگر انعامات کی صورت میں آپ پر فرمایا۔ (دیوانہ نہیں ہیں)
نحو : انت یہ ماؔ کا اسم ہے۔ بمجنون اس کی خبر ہے۔ اور بنعمۃؔ ربک یہ اسم و خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ بنعمۃ کی باء محذوف کے متعلق ہے اور وہ حال ہونے کی بناء پر محلاً منصوب ہے۔ بمجنون اس میں عامل ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ مَا اَنْتَ بِمَجْنُوْن مَنعَمًا علَیْکَ بِذٰلِکَ باء اس سلسلہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ مجنون اپنے ماقبل پر عمل کرے کیونکہ یہ باء زائدہ ہے جو تاکید نفی کیلئے ذکر کی گئی ہے۔ یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے۔ جو ان کی زبانوں پر رہتا تھا۔ وقالوا یٰٓـاَیـُّھَا الذِی نُزِّل عَلَیْکَ الذِّکْر اِنَّکَ لَمَجْنون ] الحجر : 6[ (ان کے انکار کی شدت کی بناء پر جواب میں قسم اور دیگر تاکیدات لائی گئی ہیں) ۔
Ayah 68:33 : وَاِنَّ لَکَ (اور بیشک آپ کے لئے) ان باتوں کے برداشت کرنے اور صبر میں لَاَجْرًا (ایسا اجر ہے) اجرثواب کے معنی میں ہے۔ غَیْرَ مَمْنُوْنٍ (جو ختم ہونے والا نہیں) غیرمنقطع ہے نمبر 2۔ ایسا ثواب ہے جس پر دوسرے لوگوں کا احسان مند نہ ہونا پڑے۔ محض احسان الٰہی ہے۔
Ayah 68:44 : وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (بلاشبہ آپ اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں) ایک قول یہ ہے اس میں اسی بات کا تذکرہ ہے جس کا دوسرے مقام پر حکم دیا خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن َ ] الاعراف : 199[
اخلاقِ نبوت :
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ کا اخلاق قرآن تھا یعنی قرآن میں جو مکارم اخلاق ہیں۔ وہ سب آپ کی طبیعت ثانیہ تھے۔ آپ کے اخلاق کو عظیم قرار دیا کیونکہ آپ کو نین پر بخشش وسخاوت فرمانے والے اور کونین کے خالق پر کامل بھروسہ والے تھے۔ ] مسلم : 746، نسائی 3/199[
Ayah 68:55 : فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَ (پس عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے) عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ دیکھ لیں گے یہ آپ کے ساتھ وعدہ اور کفار کے متعلق وعید ہے۔
Ayah 68:66 : بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ (کہ تم میں کس کو جنون تھا) مفتون مجنون کے معنی میں ہے یہ فتن سے لیا گیا کیونکہ وہ جنون کی مشقت میں ڈالا گیا باء زائدہ ہے۔ نمبر 2۔ المفتون مصدر ہے جیسا المعقول یعنی تم میں کس کو جنون ہے۔
قول الزجاج (رح) باء ؔ فی کے معنی میں ہے جیسا کہتے ہیں کنت ببلد کذا ای فی بلد کذا میں فلاں شہر میں تھا۔ اب تقدیر کلام یہ ہے فی ایکم المفتون یعنی کس فریق کو ہر دو فریق میں سے جنون تھا مؤمنوں کے فرقہ کو یا کفار کے گروہ کو۔
Ayah 68:77 : اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ (آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے) حقیقتاً وہ ان مجانین کو اچھی طرح جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ( اور وہ راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے) اور وہ عقلاء کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔
Ayah 68:88 : فَـلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ (تو آپ ان تکذیب کرنے والوں کا کہنا نہ مانیں) اس میں ان کی نافرمانی پر مضبوطی سے قائم رہنے پر آپ کو آمادہ کیا گیا ہے۔ کفار تو یہ چاہتے تھے کہ کچھ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کچھ عرصہ آپ ان کے معبودوں کی عبادت
کرلیں تو وہ اپنی شرارتیں اور سختیاں آپ سے بند کرلیں گے۔
Ayah 68:99 : وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ (یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے ہوجائیں) اگر آپ ان کے سلسلہ میں نرمی اختیار کریں فَیُدْ ھِنُوْنَ (تو یہ بھی ڈھیلے ہوجائیں) پھر وہ ان کے سلسلہ میں نرمی برتیں گے۔
فیدھنون : یہ اَنْ مضمرہ کی وجہ سے منصوب نہیں ہے حالانکہ یہ تمنی کے جواب میں واقع ہے کیونکہ یہ دوسرے رخ پر مڑگیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مبتدأ محذوف ھمؔ کی یہ خبر ہے اے فھم یدھنون مطلب یہ ہے پھر وہ تو ابھی نرمی اختیار کرلیں گے اس لئے کہ ان کو تو آپ کے نرم پڑنے کی طمع تھی۔
Ayah 68:10ولید کے متعلق یہ آیت اتری :
10 : وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّھِیْنٍ (اور آپ کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت زیادہ قسمیں اٹھانے والابے وقعت ہو) حلافؔ جو جھوٹی سچی بہت قسمیں اٹھائے۔ اس آیت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے والوں کو خوب ڈانٹ پلائی گئی ہے۔ مھینؔ۔ نمبر 1۔ جو رائے اور تمیز میں کمی رکھتا ہو۔ یہ المھانۃ سے لیا گیا۔ وہ قلت و حقارت پر بولتے ہیں۔ نمبر 2۔ جھوٹا کیونکہ وہ بھی لوگوں میں ذلیل ہوتا ہے۔
Ayah 68:111 1 : ھَمَّا زٍ (طعنہ زن) عیب جو، طعنہ مارنے والا۔ غیبت کرنے والے۔ مَّشَّآئٍم بِنَمِیْمٍ (چغلیاں لگاتا پھرتا ہو) ایک قوم کی بات دوسرے لوگوں کو فساد و چغلی کے طور پر نقل کرنے والا۔ النمیم والنمیمہ دونوں کا معنی چغلی ہے۔
Ayah 68:1212 : مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ (نیک کام سے روکنے والا ہو) بخیل ہو۔ الخیر سے مال مراد ہے۔ نمبر 2۔ اپنے اہل کو نیکی سے بہت روکنے والا اس صورت میں خیرؔ سے مراد اسلام ہے۔ اور یہ ولید بن المغیرۃ، مخرومی ہے جمہور علماء کا قول یہی ہے۔ اس کے دو بیٹے تھے وہ ان کو کہا کرتا تھا۔ جو تم میں سے مسلمان ہوگا میں اس کا خرچہ بند کردونگا۔ مُعْتَدٍ (حد سے گزرنے والا ہو) ظلم میں حدود کو پھاندے والا۔ اَثِیْمٍ (گناہوں کا کرنے والاہو) بہت گناہ کرنے والا۔
Ayah 68:1313 : عُتُلٍّم (سخت مزاج ہو) اکھڑ بدخلق بَعْدَذٰلِکَ (اس کے بعد) اس کے ان شمار کردہ معایب کے ساتھ زَنِیْمٍ (حرامی کی تہمت والا) منسوب۔ ولیدقریش کی طرف منسوب تھا۔ ان کے اصل میں سے نہ تھا جب اس کی عمر 18 سال کی ہوگئی تو تب اس کے باپ نے اس کے اپنا بیٹا ہونے کا اقرار کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی ماں نے ارتکاب زنا کیا تھا۔ اس آیت کے نزول سے قبل ولید کو اس بات کا علم نہ تھا۔ جب نطفہ خبیث ہو تو اس شخص میں خباثتیں ہی ہونگی۔ روایت میں ہے کہ یہ اپنی ماں کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) نے میری دس صفات بیان کی ہیں۔ نوؔ تو مجھ میں موجود ہیں دسویں صفت الزنیم ؔ اس کا مجھے علم نہیں ہے تو مجھے سچی بات بتلا ورنہ میں تیری گردن اڑا دونگا۔ اس کی ماں نے کہا تیرا باپ عنین و نامرد تھا۔ مجھے خطرہ ہوا کہ یہ مرجائے گا اور مال اولاد کے علاوہ اور کسی کے ہاں چلا جائے گا۔ چناچہ میں نے ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا۔ تو اس چرواہے کا نطفہ ہے۔
Ayah 68:1414 : اَنْ کَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَ (اس سبب سے کہ وہ مال و اولاد والا ہو) یہ ولا تطع سے متعلق ہے یعنی ان معایب کے ہوتے ہوئے اس کی اتباع اس بنا پر مت کرو کہ وہ مالی وسعت رکھتا ہے۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یہ مابعد سے متعلق ہو۔ اس وجہ سے کہ وہ مال و اولاد والا تو ہماری آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ اس پر اذا تتلٰی دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 68:1515 : اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا (جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھکر سنائی جاتی ہیں) آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔ قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تو وہ کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں ہیں)
نحو : اس میں قال ؔ عمل نہیں کرتا کیونکہ شرط کا مابعد اپنے ماقبل پر عمل نہیں کرتا۔
قراءت ـ : حمزہ، ابوبکر نے أأن پڑھا ہے۔ کیا اس لئے کہ وہ مال و اولاد والا ہے۔ اس نے جھٹلایا اور تکذیب کی ؟ اَنْ شامی، ، یزید، یعقوب، سہل، نے بلا ہمزہ پڑھا ہے۔ گویا لام اس سے پہلے محذوف ہے یعنی اس وجہ سے اس کی بات نہ مان لینا کہ مال والا ہے۔ علماء نے کہا کہ جب ولید نے نبی اکرم ﷺ پر کاذب ہونے کا عیب دھرا اور نام لے کر المجنون کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دس سچے نام بتلائے۔
ایک نکتہ :
جب عدل الٰہی کا فیصلہ یہ ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھ ایک زیادتی کرنے والے کو دس گنا سزا سے نوازا۔ تو اس کے فضل کا تقاضا یہی تھا کہ جو آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں۔
Ayah 68:16خرطوم تذلیل کے لئے فرمایا :
16 : سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ (ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے) نسمؔ داغ دینا۔ الخرطومؔ : ہاتھی کی سونڈھ۔ تذلیل کیلئے اس کی ناک کو خرطوم فرمایا۔ اور علم کے طور پر ذکر کیا تاکہ وہ اسی سے معروف ہو۔ ناک کو خاص طور پر اس لئے ذکر کیا کیونکہ اسپر لگا ہوا نشان بہت بھدا لگتا ہے۔ ایک قول یہ ہے بدر کے دن اس کی ناک میں تلوار سے نکیل ڈالی گئی وہ اس کی خاک پر مستقل نشان چھوڑ گئی۔
Ayah 68:1717 : اِنَّا بَلَوْنٰھُمْ (ہم نے ان کی آزمائش کر رکھی ہے) ہم نے اہل مکہ کا قحط و بھوک کے ساتھ امتحان لیا۔ یہاں تک کہ مردار اور بوسیدہ ہڈیاں کھانے تک مجبور ہوگئے۔ اور یہ نبی اکرم ﷺ کی اس بددعا کی وجہ سے ہوا۔ اللھم اشددوطأتک علی مضر و اجعلھا سنین کسنی یوسف ] بخاری : 804، مسلم 675[ اے اللہ مضر پر بندھن کو سخت فرما اور یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط ان پر مسلط فرما۔
باغ والوں کی مثال :
کَمَا بَلَوْنَآ اَصحٰبَ الْجَنَّۃِ (جیسا ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی) وہ نماز پڑھنے والے لوگ تھے۔ ان کے والد کا ایک باغ بستی میں تھا جس کو ذروان کہتے تھے۔ یہ صنعاء یمن سے دو فرسنگ پر واقع تھا۔ وہ اس باغ سے سال کا خرچہ حاصل کرتا۔ باقی فقراء و مساکین کو دے دیتا۔ جب وہ فوت ہوگیا تو اس کے بیٹے کہنے لگے اگر ہم بھی اسی طرح کریں گے جیسا ہمارا والد کرتا تھا تو ہم تنگدست ہوجائیں گے۔ ہم صاحب عیال ہیں۔ پس انہوں نے باہمی قسمیں اٹھائیں۔ کہ لیصرمنہا مصبحین منہ اندھیرے توڑ لیں گے تاکہ مساکین کو علم نہ ہو۔ انہوں نے قسم میں انشاء اللہ نہ کہا پس اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ کو جلا دیا۔ قول حسن (رح) یہ کافر تھے۔ قول جمہور : یہ مسلمان تھے جیسا پہلا قول نقل کیا۔ اِذْاَقْسَمُوْا (انہوں نے قسمیں اٹھائیں) لَیَصْرِمُنَّھَا (وہ ضرور اس کا پھل توڑ لیں گے) مُصبِحِیْنَ (صبح سویرے) جونہی صبح داخل ہو اور فقراء ادھر ادھر منتشر ہوں۔
نحو : یہ یصرمنھا کی ضمیرفاعلی سے حال ہے۔
Ayah 68:1818 : وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ (اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا) انشاء اللہ کو عرب کے لوگ استثناء کا نام دیتے ہیں۔ اگرچہ صورۃً تو یہ شرط ہے کیونکہ یہ استثناء کا معنی ادا کرتا ہے۔ لا خرجن انشاء اللہ اور لا اخرج الا ان یشاء اللہ دونوں کا معنی ایک ہے۔
Ayah 68:1919 : فَطَافَ عَلَیْھَاطَآ ئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ (اس باغ پر آپ کے رب کی طرف سے پھرنے والا پھر گیا) اس پر عذاب اترا۔ ایک قول
اللہ تعالیٰ نے آگ سے اس کو جلا دیا۔ وَھُمْ نَآپمُوْنَ (اور وہ سو رہے تھے) اپنی نیند کی حالت میں تھے۔
Ayah 68:2020 : فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ (پھر صبح کو وہ باغ ایسا رہ گیا جیسا کٹا ہوا کھیت )
اصبحت یہ صار کے معنی میں ہے صریمؔ : اندھیری رات کی طرح یعنی جل کر سیاہ ہوگیا۔ نمبر 2۔ صبح کی طرح یعنی سفید زمین بن گئی جس میں کوئی درخت نہ تھا۔ ایک قول یہ ہے وہ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا گویا وہ کاٹ لیا گیا کیونکہ اس کے پھل تباہ ہوگئے۔
Ayah 68:2121 : فَتَنَا دَوْا مُصْبِحِیْنَ (پس صبح کے وقت وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے )
Ayah 68:2222 : اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ (کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو) علی حرثکمؔ کہا الی حرثکم نہیں کہا گیا۔ کیونکہ غداؔ جس میں انہوں نے کھیت کا ٹنا تھا وہ غداعلیہؔ استعمال ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ غدا کے لفظ میں اقبال کا معنی ضمنًا پایا جاتا ہے گویا اس طرح ہے فاقبلوا علی حرثکم باکرینتم صبح سویرے اپنی کھیتی کی طرف متوجہ ہو۔ اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ (اگر تم کو پھل توڑنا ہے) توڑنے کا ارادہ رکھتے ہو۔
Ayah 68:2323 : فَانْطَلَقُوْا (پھر وہ چلے) کھیتی کی طرف گئے وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ (آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے) سرگوشی کر رہے تھے تاکہ کسی مسکین کو بھنک نہ پہنچ جائے۔
Ayah 68:2424 : اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّھَا (نہ آئے تم تک) یعنی باغ میں۔ ان ؔ مفسرہ ہے ایک قراءت میں اس کے بغیر پڑھا گیا۔ ای یتخافتون یقولون لایدخلنھا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِّسْکِیْنٌ (آج کوئی محتاج) مسکین کے داخلے کی نفی سے مسکین کو داخل ہونے کی قدرت کی نفی ہے کہ اس کو داخل نہ ہونے دو ۔
Ayah 68:2525 : وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قَادِرِیْنَ (وہ اپنے کو اس کے نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے) حردٍِؔ جدوجہد سے روکنا۔ قادرینؔ وہ اپنے نفسوں میں روکنے پر قادر ہیں۔ یہ نفطویہ کا قول ہے۔ نمبر 2۔ الحردؔ ارادہ اور سرعت یعنی وہ چلے تیزی سے اپنے باغ کا قصد کرنے والے تھے۔ اور اپنے دلوں میں اس کے کاٹنے پر قادر تھے اور اس کی منفعت کو مساکین سے روکنے والے تھے۔
نمبر 3۔ الحرد یہ باغ کا نام ہے۔ وہ حرد نامی باغ کی طرف چلے اس مال میں کہ وہ اس کے پھل اپنے خیال میں توڑنے والے تھے۔
Ayah 68:2626 : فَلَمَّا رَاَوْھَا (پھر جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا) اپنے باغ کو جلا ہوا دیکھا قَالُوْٓا (انہوں نے پہنچنے کے فوراً بعد کہا) اِنَّا لَضَآلُّوْنَ (بیشک ہم راستہ بھول گئے) ہم اپنے باغ کے راستہ سے بھٹک گئے اس میں وہ رونق نہیں اس لئے کہ وہ اس کی تباہی دیکھ رہے تھے۔ پھر جب انہوں نے غور کیا تو پہچان کر کہنے لگے۔
Ayah 68:2727 : بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی) ہم اس کے نفع سے محروم کردئیے گئے کیونکہ ہم نے گناہ کیا جس کی ہمیں یہ سزا ملی۔
Ayah 68:2828 : قَالَ اَوْسَطُھُمْ (ان میں سے اچھے آدمی نے کہا) انصاف پسند سب سے بہتر آدمی اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ (کیا میں نے تم کو نہ کہا تھا۔ اب تسبیح کیوں نہیں کرتے) تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کیونکہ استثناء تسبیح ہے کیونکہ تعظیم الٰہی کا معنی دونوں میں مشترک ہے استثناء تفویض اور تسبیح تنزیہ ہے اور تنزیہ وتفویض ہر دو تعظیم ہیں۔ نمبر 2۔ تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرکے اس کی بارگاہ میں خبیث نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے۔ گویا ان کے منصف آدمی نے ان کے اس ارادہ کے وقت ان کو یہ بات کہی۔ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے اس انتقام کو یاد کرو جو وہ مجرمین سے لیا کرتا ہے۔ پس اس خبیث خیال سے توبہ کرو۔ انہوں نے اس کی ایک نہ مانی اب وہ ان کو عار دلا رہا ہے۔ اور اسی لئے انہوں نے کہا۔
Ayah 68:29اعترافِ جرم :
29 : قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (سب کہنے لگے۔ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم قصور وار ہیں) انہوں نے خرابی بسیار کے بعد اس چیز پر گفتگو کی جو کہ ان کو قبل ازیں کرنی چاہیے تھی اور نیکی کی ممانعت کرنے کے ظلم کا اپنے متعلق اعتراف کیا۔ اور انشاء اللہ چھوڑنے کی غلطی مان گئے اور اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرتے ہوئے اس کو ظلم سے پاک قرار دیا۔
Ayah 68:3030 : فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَـلَاوَمُوْنَ (پھر ایک دوسرے کو مخاطب بنا کر باہم الزام دینے لگے) مساکین پر خیرات
سے بھاگنے کی جو بدترین حرکت انہوں نے کی تھی اس پر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ہر ایک دوسرے پر ڈال رہا تھا۔ پھر سب نے حد سے تجاوز کرنے کا اعتراف کرلیا۔
Ayah 68:3131 : قَالُوْا یٰوَیْلَنَآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ (کہنے لگے ہم حد سے نکلنے والے تھے) کہ فقراء کا حق روک لیا اور انشاء اللہ بھی چھوڑ دیا۔
Ayah 68:3232 : عَسٰی رَبُّنَآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَآ (شاید ہمارا پروردگار ہم کو اس سے اچھا باغ بدلہ میں دے دے)
قراءت : یبدّلنا تشدید کے ساتھ مدنی، ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ ھاؔ سے مراد سابقہ باغ ہے۔
اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا رَاغِبُوْنَ (ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں) اسی سے خیر و بھلائی کے طالب ہیں اور اس کے عفو کے امیدوار ہیں۔ قول مجاہد (رح) : انہوں نے توبہ کی تو اس سے بہتر باغ بدلے میں دیا گیا۔ قول ابن مسعود ؓ : انہوں نے اخلاص اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں ” الحیوان “ نامی باغ عنایت فرمایا اس میں انگور کے گچھے کو خچر اٹھاتا تھا۔
Ayah 68:3333 : کَذٰلِکَ الْعَذَابُ (اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے) یعنی اس عذاب کی طرح جس کا تذکرہ ہم نے کیا یہ دنیا کا عذاب ہے جو ان کیلئے ہے جو انہی کی راہ پر چلے۔ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ (اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑھ کر ہے) بہت ہی بڑا ہے۔ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کیا خوب ہوتا کہ یہ لوگ جان لیتے) اسلئے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ ان کو عذاب کی طرف دھکیل رہا ہے۔
Ayah 68:3434 : نحو : پھر ایمان والوں کو ملنے والے انعامات کا ذکر فرمایا اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ (بیشک پرہیز گاروں کیلئے) جو شرک سے بچنے والے ہیں۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے نزدیک) یعنی آخرت میں جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (آسائش کی جنتیں ہیں) وہ ایسے باغات ہیں جن میں خالص نعمتوں سے لطف اندوزی ہوگی دنیا کے باغات ایسے نہیں۔
Ayah 68:35مسلم و مجرم برابر نہیں :
35 : اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ (کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کردیں گے) یہ استفہام انکاری ہے جو ان کے اس قول کا انکار کر کرنے کیلئے لائے۔ لو کان ما یقول محمد حقا فنحن نعطی فی الاٰخرۃ خیرًا مما یعطی ھو ومن معہ کمافی الدنیا۔ اگر محمد سچے ہوں بھی پھر بھی ہم کو آخرت میں ان سے بہتر نعمتیں ملیں گی جیسا کہ دنیا میں ہیں تو فرمایا کیا ہم فیصلہ میں ظلم کریں گے کہ مسلمانوں کو کافروں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ پھر بطریق التفات ان کو فرمایا۔
Ayah 68:3636 : مَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ (تم کو کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو) یہ ٹیڑھا فیصلہ کہ نافرمان اور فرمانبردار یکساں۔ اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کا معاملہ تمہارے سپرد ہوگیا کہ جو چاہو اس میں تم فیصلہ کردو۔
Ayah 68:3737 : اَمْ لَکُمْ کِتٰبٌ (کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے) جو آسمان سے آئی ہو فِیْہِ تَدْرُسُوْنَ (جس میں تم پڑھتے ہو) یعنی اس کتاب میں پڑھ لیتے ہو کہ
Ayah 68:3838 : اِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَ (کہ اس میں تمہارے لیے وہ چیز ہو جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی یہ کہ جو تمہاری دل پسند اور خاطر خواہ چیزیں ہیں۔ وہ تمہیں ملیں گی۔ اصل عبارت اس طرح ہے۔ تدرسون اَنَّ لَکم ماتخیرون۔
نحو : اَنَّ مفتوح ہونا چاہیے کیونکہ وہ مدروس ہے کیونکہ پڑھنا اسی پر واقع ہونے والا ہے۔ اِنَّ مک سورة تو لام کے آنے کی وجہ سے آیا ہے۔ اور یہ بھی درست کہ یہ پڑھی جانے والی چیز کو بطور حکایت بیان کیا گیا ہو۔ جیسا کہ اس قول میں ہے وترکنا علیہ فی الآخرین۔ سلام علی نوح ] الصافات : 78 : 79[ تخیر اور اختار الشئ کسی چیز سے خیر کا حاصل کرنا۔
Ayah 68:3939 : اَمْ لَکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا (کیا ہمارے اوپر کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہاری خاطر سے کھائی گئی ہوں) ایمانؔ سے ایسے وعدے جن کو قسموں سے پختہ کیا گیا ہو۔ بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اور وہ قسمیں قیامت تک باقی رہنے والی ہوں) یعنی وہ اس دن تک پہنچنے والی ہیں۔ اور وافر مقدار میں اس دن ختم ہونگی ان میں کوئی قسم باطل نہ ہوگی یہاں تک کہ مقسم علیہ کی پختگی ثابت ہوجائے۔ (اس کے مطابق ترکیب اول ہوگی)
نحو : نمبر 1۔ ایمان موصوف ہے اور بالغۃؔ صفت اور الی یوم القیامۃ اس کے متعلق ہے نمبر 2۔ مقدر سے متعلق ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ھی ثابتۃ لکم علینا لا الیٰ یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا الایومئذ اذا حکمناکم واعطیناکم ماتحکمون۔ وہ قسمیں تمہاری طرف سے ہم پر لازم ہیں قیامت تک رہنے والی ہیں کہ ہم ان کی ذمہ داری سے اسی دن عہدہ برآ ہونگے جب تمہارے حق میں فیصلہ کردیں گے اور تمہارے فیصلہ کے مطابق تمہیں دے دیں گے۔ اِنَّ لَکُمْ لَمَاتَحْکُمُوْنَ (کہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جو تم فیصلہ کر رہے ہو) اپنے نفوس کے متعلق جو تم فیصلہ کر رہے ہو۔ یہ جواب قسم ہے کیونکہ ام لکم ایمان علینا کا معنی یہ ہے کیا ہم نے تمہارے لئے انتہائی تاکیدی قسمیں اٹھا رکھی ہیں۔
Ayah 68:4040 : سَلْھُمْ (ان مشرکین سے پوچھیں) اَیُّھُمْ بِذٰلِکَ (ان میں سے اس کا کون) اس فیصلہ کا زَعِیْمٌ (ذمہ دار ہے) یعنی کفیل ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔