Ayah 68:4141 : اَمْ لَھُمْ شُرَکَآئُ ( کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں) یعنی کچھ لوگ ہیں جو اس بات میں ان کے ساتھ شریک ہونگے اور ان کے راستہ پر چلیں گے۔ فَلْیَاْ تُوْا بِشُرَکَآ ئِھِمْ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ (پس ان کو چاہیے کہ اپنے ان شریکوں کو پیش کریں اگر یہ سچے ہیں) اپنے اس دعویٰ میں مطلب یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ان کا یہ حق نہ مانے گا اور نہ ان کی معاونت کرے گا جیسا کہ انکے پاس کوئی کتاب نہیں جو ان کے حق میں گواہ ہو۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا کوئی وعدہ اور ان کا کوئی کفیل ہے جس نے ان کی ضمانت اٹھالی ہو۔
Ayah 68:4242 : یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ (جس دن ساق کی تجلی فرمائی جائے گے)
نحو : یومؔ یہ فلیاتوا کا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔
شدت بطور کنایہ ہے :
قول جمہور : کشف ساق یہ معاملے کی شدت اور مصیبت کی زیادتی کی تعبیر ہے پس معنی یہ ہوگا جس دن معاملہ سخت اور مشکل ہوجائے گا۔ وہاں نہ کشف ہے اور نہ ساق ہے۔ لیکن شدت کو بطور کنایہ اس طرح بیان کیا کیونکہ جب وہ کسی سختی میں پھنس جاتے تو پنڈلی کھول دیتے اور یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو اس آدمی کو جو بہت ہی بخیل ہو۔ یدہ مغلولۃ حالانکہ نہ وہاں ہاتھ ہے اور نہ طوق بلکہ بخل سے کنایہ ہے۔ باقی جن لوگوں نے اس کو تشبیہ قرار دیا تو اس کا سبب ان کی کم فہمی اور علم بیان سے قلیل واقفیت ہے اگر بات اسی طرح ہوتی جیسا مشبہین کہتے ہیں تو ساق کو معرفہ لایا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ ان کے نزدیک تو یہ ساق مقررہ ہے۔ وَّیُدْعَوْنَ (اور لوگوں کو بلایا جائے گا) کفار کو اس جگہ بلایا جائے گا۔ اِلَی السُّجُوْدِ (سجدہ کی طرف) یہ سجدہ تکلیفی نہیں بلکہ تو بیخی ہوگا اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں سجدہ چھوڑا فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (پس یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے) کیونکہ ان کی پشتیں گائے کے سینگوں کی طرح ہوجائیں گی جو جھکتے اٹھتے دوہری نہیں ہوتیں۔
Ayah 68:4343 : خَاشِعَۃً (جھکنے والی ہونگی )
نحو : یہ یدعون کی ضمیر سے حال ہے۔
اَبْصَارُھُمْ (ان کی آنکھیں) تقدیر کلام یہ ہوگا یدعون فی حال خشوع ابصارھم آنکھوں کے جھکنے کی حالت میں ان کو بلایا جائے گا۔ تَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ(ان پر ذلت چھائی ہوگی) ان کو ذلت ڈھانپ لے گی۔ وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ ( اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جایا کرتے تھے) رسولوں کی زبانوں پر اِلَی السُّجُوْدِ (دنیا میں سجدہ کی ان کو دعوت دی جاتی تھی) وَھُمْ سَالِمُوْنَ (اور وہ صحیح سالم تھے) وہ صحت مند تھے پھر وہ سجدہ نہ کرتے تھے۔ پس اسی طرح اس جگہ ان کو سجدہ سے روک دیا گیا۔
Ayah 68:4444 : فَذَرْنِیْ (پس رہنے دو مجھ کو) عرب کے لوگ ذرنی وایاہ بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہوتا ہے اس کو میرے حوالے کرو میں اس سے نپٹ لوں گا۔ وَمَنْ یُّکَذِّبُ (اور اس کو جو جھٹلاتے ہیں) اس کا مفعول پر عطف ہے یا یہ مفعول معہ ہے۔ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ (اس کلام کو) مراد قرآن مجید ہے۔ مقصد یہ ہے اس کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دو ۔ میں اس کو جانتا ہیں جو کچھ اس کے ساتھ کرنا ہے اور اس کی طاقت رکھتا ہوں آپ اس کی وجہ سے اپنے دل کو پریشان مت کریں اور انتقام میں مجھ پر توکل کریں۔ اس میں مکذبین کو تہدید کی گئی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔
استدراج کی حالت :
سَنَسْتَدْرِجُھُمْ (ہم ان کو بتدریج لئے جارہے ہیں) درجہ بدرجہ ان کو عذاب سے قریب کر رہے ہیں۔ عرب کہتے ہیں۔ استدرجہ الی کذا۔ اس کو درجہ بدرجہ اتارا یہاں تک کہ اس کو اس میں گم کردیا۔ استدارج الٰہی نافرمانوں کے متعلق یہ ہے کہ ان کو صحت ونعمت دیتا چلا جاتا ہے۔ وہ اس رزق کو معاصی کے بڑھانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مِّنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُوْنَ (اس طور پر کہ انکو خبر بھی نہیں) ایسی جہت سے کہ ان کو شعور بھی نہیں کہ یہ استدراج ہے۔ ایک قول یہ ہے جب وہ نئی نافرمانی کرتا ہے ہم ان کو تازہ نعمت دے دیتے ہیں اور ان کا شکر یہ بھلا دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ کسی بندے پر انعام کرتا ہے اور ادھر وہ معصیت پر قائم ہے تو یقین کرلو کہ وہ استدراج کا شکار ہے ] دیلمی فی مسند الفردوس : 1073[ اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔
Ayah 68:4545 : وَاُمْلِیْ لَھُمْ (اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں) اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ (بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے) آیت میں احسان و تمکین کو کید ؔ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ پچھلی آیت میں اس کو استدراج فرمایا کیونکہ وہ تدبیری شکل میں ہے اس لئے کہ وہ اس کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اصل یہ ہے کہ کید ‘ مکر اور استدراج کا معنی امن والی جانب سے پکڑ لینا ہے۔ ان الفاظ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے متعلق کا ئد اور ماکر اور مستدرج کے الفاظ بولنے درست و جائز نہیں۔
Ayah 68:4646 : امْ تَسْئَلُھُمْ ( کیا آپ ان سے مانگتے ہیں) تبلیغ رسالت پر اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ (کوئی معاوضہ کہ وہ اس تاوان سے) مُّثْقَلُوْنَ (بوجھل ہوئے جاتے ہیں) پس اس وجہ سے ایمان قبول نہیں کرتے یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے۔ آپ وحی کی تبلیغ پر ان سے اجر کی ذرہ بھر طمع نہیں رکھتے کہ جس کی وجہ سے ان کو گرانی ہوئی ہو اور وہ اس وجہ سے ایمان سے رکتے ہیں۔ )
Ayah 68:4747 : اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ (کیا ان کے پاس غیب ہے) الغیب سے یہاں جمہور کے نزدیک لوح محفوظ مراد ہے۔ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ (کہ یہ لکھ لیا کرتے ہیں) اس سے اس بات کو جو یہ فیصلہ کرتے ہیں۔
Ayah 68:4848 : فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ (آپ اپنے رب کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیں) اس میں کفار کو مہلت دیے جانے کو بیان فرمایا اور آپ کی نصرت میں تاخیر کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ اگرچہ وقتی طور پر ان کو مہلت دے دی گئی مگر ان کو اسی طرح نہ چھوڑا جائے گا۔ وَ لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ (اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے) مراد یونس (علیہ السلام) ہیں۔ جلدی کرنے اور قوم پر ناراضی میں ان کی طرح نہ ہوں تاکہ تم کسی ابتلاء میں نہ پڑو۔
نحو و قراءت : الحوتؔ پر وقف ہے کیونکہ اذؔ یہ ماقبل کا ظرف نہیں بن سکتا۔ اس لے کہ نداء عبادت وطاعت ہے پس اس سے روکا نہیں جاسکتا۔ بلکہ اذ یہ فعل محذوف اذکر کا مفعول ہے۔ اِذْ نَادٰی (جبکہ یونس نے دعا کی) مچھلی کے پیٹ میں اپنے رب سے دعا کی وہ دعا یہ تھی۔ لا اِلٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ] الانبیاء : 83[ وَھُوَ مَکْظُوْمٌ (وہ غم سے گھٹ رہے تھے) غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ کظم السقاءؔ سے لیا گیا جبکہ مشک بھر جائے۔
Ayah 68:4949 : لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ(اگر اللہ تعالیٰ کا احسان و رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی) مِّنْ رَّبِّہٖ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان پر انعام نہ فرماتا اور ان کی دعا کو قبولیت اور عذر کو منظور نہ فرماتا۔ لَنُبِذَ (تو وہ ڈالے جاتے) مچھلی کے پیٹ سے بِالْعَرَآ ئِ (میدان و فضا میں) وَھُوَ مَذْ مُوْمٌ (بدحالی کے ساتھ) اس حال میں لغزش کی وجہ سے عتاب شدہ ہوتے۔ لیکن اس نے رحم فرمایا اور بدحالی کے بغیر ان کو ڈالا۔
Ayah 68:5050 : فَاجْتَبٰہُ رَبُّہٗ (پھر ان کے رب نے ان کو برگزیدہ کرلیا) ان کے عذر اور دعا کی وجہ سے ان کو برگزیدہ کرلیا۔ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور ان کو صالحین میں سے کردیا) جو صلاح کی صفات میں کمال کو پہنچنے والے ہوتے ہیں۔ اور ان کی کوئی لغزش باقی نہ رہنے دی۔ ایک قول یہ ہے الصالحین سے مراد انبیاء (علیہم السلام) میں سے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ رسولوں میں سے۔
فیصلہ کن قول :
مطلب درست وہی ہے جو اولاً ہم نے ذکر کیا کیونکہ وہ نبی و رسول تو پہلے ہی تھے جیسا ارشاد الٰہی ہے۔ ان یونس لمن المرسلین۔ اذابق الی الفلک المشحون ] الصافات : 139 : 140[
Ayah 68:51کفار کا نگاہوں سے پھسلانے کی کوشش کرنا :
51 : وَاِنْ یَّکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنِکَ بِاَبْصَارِ ھِمْ (اور جب یہ کافر قرآن سنتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرا دیں گے)
قراءت : مدنی نے یَزْلِقُوْنَکَ یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کی علامت لام ہے۔ زلقہ، ازلقہ : جگہ سے زائل کرنا۔ مطلب یہ ہے نمبر 1۔ قریب ہے کہ کفار آپ کی طرف بہت زیادہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دشمنی کے ساتھ دیکھنے سے آپ کو اپنی جگہ سے زائل کردیں۔ نمبر 2۔ آپ پر شدید غصہ کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ آپ کو ہلاک کردیں۔ بنی اسد کے لوگوں کی نظر کی یہی کیفیت تھی ان میں سے ایک آدمی تھا۔ اس کو تین دن بھوکا رکھ کر خیمے سے نکالتے تو اس کے سامنے جو چیز گزرتی اگر وہ اس کو کہتا آج اس جیسی میں نے نہیں دیکھی۔ وہ چیز ہلاک ہوجاتی۔ بعض نظرلگانے والوں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق اس کی کوشش کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق بھی اس جیسا جملہ نکالے۔ اور اس نے کہہ دیا : لم ارکالیوم مثلہ رجلاً اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ حدیث میں وارد ہے العین حق، نظر برحق ہے اور نظر اونٹ کو ہنڈیا میں اور آدمی کو قبر میں داخل کردیتی ہے۔ ] فیض القدیر : 5748[ ] تذکرہ الموضوعات : ص : 207[ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے نظر کا دم یہ آیت ہے۔ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ (ذکر سے قرآن مجید مراد ہے) وَیقُوْلُوْنَ (اور وہ کہتے ہیں) اس نبوت پر حسد کرتے ہوئے جو آپ کو عنایت کی گئی ہے۔ اِنَّہٗ لَمَجْنُوْنٌ (کہ یہ مجنون ہے) محمد (ﷺ) مجنون ہیں۔ یہ بات آپ کے معاملے میں حیرانی اور دوسروں کو اس سے نفرت دلانے کیلئے کی جاتی ہے۔
Ayah 68:5252 : وَمَا ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ (حالانکہ یہ قرآن نصیحت ہے) لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) پھر جو ایسا قرآن پیش کرے وہ مجنون کیسے ہوسکتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب انہوں نے آپ کا تذکرہ سنا۔ اور وہ محمد ﷺ جہان والوں کیلئے ایک عظیم شرف ہیں۔ پس ان کی طرف پھر جنون کی کیونکر نسبت ہوسکتی ہے۔ گویا پہلے ذکرؔ سے مراد حضرت محمد ﷺ اور دوسرے ذکرؔ سے مراد شرف و مرتبہ ہے۔