Ayah 69:11 : اَلْحَآقَّۃُ قیامت جس کا وقوع لازمی ہے جس کی آمد ثابت شدہ ہے وہ کہ جس کی آمد میں کوئی شک نہیں۔ الحاقہؔ یہ حَقَّ یَحِقُّ سے ہے بمعنی لازم ہونا۔
Ayah 69:22 : مَا الْحَآقَّۃُ
نحو : مامبتدأ الحاقۃ خبر اور یہ جملہ الحاقہ کی خبر ہے۔ اصلؔ اس طرح ہے : الحاقہ : ماہی۔ یعنی ای شیٔ ھی تو ضمیر کی جگہ اسم ظاہر دوبارہ لے آئے تاکہ قیامت کی ہولناکی اور عظمت شان زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو۔
Ayah 69:33 : وَمَآ اَدْرٰٹکَ (کس چیز نے تمہیں بتلایا کہ الحاقہ کیا ہے ؟ ) یعنی تمہیں اس کی حقیقت کا علم نہیں اور نہ اس کی ہولناکی کی بڑائی معلوم ہے۔ کیونکہ شدت و عظمت میں وہ اتنی بڑی ہے کہ مخلوق کی درایت اس کو پانے سے قاصر ہے۔
نحو : ما مبتدأ اَدْرٰکَ خبر اور ما الحاقہ جملہ موضع نصب میں ادر ٰ ی کا مفعول ہے۔ مَآ اَدْرٰکَ یہ استفہام انکاری ہے۔
Ayah 69:4قارعہ نام کی وجہ :
4 : کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌم بِالْقَارِعَۃِ (قوم عاد وثمود نے اس کھڑ کھڑانے والی چیز کی تکذیب کی) یعنی الحاقہ کا انکار کیا۔ یہاں القارعہ کو اس کی جگہ رکھ دیا گیا کیونکہ یہ دونوں قیامت ہی کے اسماء ہیں اس کا نام القارعہ اس وجہ سے ہے کیونکہ یہ لوگوں کو اپنی ہولناکیوں اور گھبراہٹوں سے کھٹ کھٹاتی ہے۔
Ayah 69:55 : ربط : جب قیامت اور اس کی عظمت کا ذکر کیا تو اس کے معاً بعد قیامت کے منکرین کا ذکر کیا اور ان پر جو عذاب اس تکذیب کی وجہ سے اترا۔ اہل مکہ کو نصیحت کرنے کیلئے اس کا ذکر کردیا۔ تاکہ وہ تکذیب کے خوفناک انجام سے بچ جائیں۔
ثمود پر اترنے والا عذاب :
فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُھْلِکُوْا بِالطَّاغِیَۃِ (پس ثمود تو ایک زور کی آواز سے ہلاک کر دئیے گئے) ایسے واقعہ کے ساتھ جو شدت میں حد سے بڑھنے والا تھا اب اس میں اختلاف ہے کہ ہلاکت کس چیز سے ہوئی۔ ایک قول زلزلہ دوسرا قول چیخ ایک اور قول الطاغیہ یہ العافیہ کی طرح مصدر ہے معنی یہ ہوگا ان کی سرکشی کے سبب مگر یہ قول اس آیت کے بالکل مطابق نہیں۔ واما عاد فاھلکوا بریح یعنی ذریعہ ہلاکت بیان فرمایا نہ کہ باعث ہلاکت کو۔ فَتَدَبَّرْ
Ayah 69:6ٹھنڈی ہوا سے عاد کی ہلاکت :
6 : وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ (اور عاد جو تھے پس وہ ایک تیز و تند ہوا سے ہلاک کیے گے) ریح سے پچھم کی ہوا مراد ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نصرت بالصبا واہلکت عاد بالدبور صبح کی ہوا سے میری نصرت کی گئی اور قوم عاد پچھم سے ہلاک ہوئے۔ صَرْصَرٍ (تیز آواز والی) یہ الصُرّۃ سے لیا گیا جس کا معنی چیخ ہے نمبر 2۔ ٹھنڈی۔ اس صورت میں یہ الصِرّ سے ماخوذ ہے گویا وہ ہوا اس انداز کی تھی جس میں بار بار سردی رکھی گئی اور بہت زیادہ رکھی گئی پس وہ اپنی ٹھنڈک کی کثرت سے جلا ڈالتی ہے۔ عَاتِیَۃٍ (تیز آندھی) نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر ناراضی کی وجہ سے گویا وہ ہوا باذن اللہ ملائکہ سے نکل نکل جانے والی تھی جو اس پر مقرر ہیں۔
Ayah 69:7مسلسل عذاب :
7 : سَخَّرَھَا (اس ہوا کو ان پر مسلط کردیا) عَلَیْھِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ (سات راتیں اور آٹھ دن) عذاب کی ابتداء بدھ کے دن مہینے کے اواخر میں ہو کر اگلے بدھ تک رہی۔ حُسُوْمًا (متواتر) پے درپے کہ درمیان میں انقطاع نہ تھا۔ حُسُومًایہ حاسم کی جمع ہے۔ جیسے شہود جمع شاہد کی ہے۔ ہوا کے تواتر کو داغنے والے کے فعل سے تشبیہ دی جس طرح وہ بیماری کے مقام کو پے درپے داغتا جاتا ہے یہاں تک کہ مرض مٹ جاتا ہے۔ نمبر 2۔ ممکن ہے کہ یہ مصدر ہو۔ ای تحسم حسومًا وہ ہوا ان کا استیصال کر رہی تھی استیصال کرنا۔ فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا (پس اے مخاطب تو اس قوم کو دیکھتا ہوا کے چلنے کے دوران یا ان راتوں اور دنوں میں) صَرْعٰی (گرے ہوئے) جمع صریعٌ۔
نحو : یہ حال ہے۔
کَاَنَّھُمْ (گویا کہ وہ )
نحو : یہ حال ثانی ہے۔
اَعْجَازُ (تنے) جڑیں نَخْلٍ (کھجوروں کے) جمع نخلۃ خاویۃ (گری ہوئی) کھوکھلی پرانی۔
Ayah 69:88 : فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْم بَاقِیَۃٍ (پس کیا تجھ کو ان میں سے کوئی بچا ہو انظر آتا ہے) یعنی من نفس باقیہ کوئی باقی رہنے والا شخص یا من بقاء باقی رہنا۔ گویا مصدر کے معنی میں ہے جیسا کہ طاغیہ بمعنی طغیان۔
Ayah 69:99 : وَجَآ ئَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَہٗ (اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے) قبلہ سے مراد جو امتیں اس سے پہلے ہو گزریں۔
قراءت : بصری اور علی نے من قِبَلِہٖ پڑھا ہے۔ یعنی اس کی طرف اور اس کے پیروکاروں کی طرف۔
قوم لوط کی بستیاں :
وَالْمُؤْتَفِکٰتُ (اور الٹی جانے والی بستیاں) قوم لوط کی بستیاں انہی کو الٹ دیا گیا یعنی پلٹ دیا گیا۔ بِالْخَاطِئَۃِ (غلطیوں کے سبب) نمبر 2۔ اس بدکرداری والی حرکت کے سبب۔ نمبر 3۔ گناہوں والے کاموں کے سبب۔
Ayah 69:1010: فَعَصَوْا (پس انہوں نے کہنا نہ مانا) یعنی قوم لوط نے رَسُوْلَ رَبِّھِمْ (اپنے ربّ کے رسول کا) یعنی لوط (علیہ السلام) کا فَاَخَذَھُمْ اَخْذَۃً رَّابِیَۃً (تو اللہ تعالیٰ نے انکو بہت سخت پکڑا) رابیہؔ انتہائی سخت جیسا کہ ان کی قبیح حرکت دوسروں سے بڑھی ہوئی تھی۔
Ayah 69:11طوفانِ نوح :
1 1 : اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآ ئُ (ہم نے جبکہ پانی کو طغیانی ہوئی) وہ پانی طوفان کے وقت دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے پندرہ ہاتھ بلند ہوگیا۔ حَمَلْنٰکُمْ (ہم نے سوار کیا) تمہارے آباء و اجداد کو فِی الْجَارِیَۃِ (کشتی میں) نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں
Ayah 69:1212 : لِنَجْعَلَھَا (تاکہ ہم اس معاملہ کو بنادیں) معاملے سے ایمان والوں کی نجات اور کفارکا غرق ہونا مراد ہے۔ لَکُمْ تَذْکِرَۃً (تمہارے لئے ایک یاد گار) نصیحت و عبرت وَّ تَعِیَھَآ (اور یاد رکھیں اس کو) اس کو یاد کرلیں۔ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ (کان یاد رکھنے والے) سننے والی بات کو محفوظ کرنے والے کان۔
قول قتادہ :
وہ کان جو اللہ تعالیٰ کی بات کو سمجھنے والے اور جو کچھ سنا اس سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔
Ayah 69:1313 : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّاحِدَۃٌ (پس جب صور میں یک بارگی پھونک ماری جائے گی) اس سے نفخہ اولیٰ مراد ہے۔ جس سے تمام لوگوں پر موت طاری ہوجائے گی۔ اور دوسرے نفخہ سے تمام کو اٹھایا جائیگا۔
Ayah 69:1414 : وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ (اور زمین اور پہاڑ اٹھالیے جائیں گے) ۔ ان کو ان کی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا۔ فَدُکَّتَّا دَکَّۃً وَّاحِدَۃً (پھر دونوں ایک ہی مرتبہ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے) ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس کے حصوں کو آپس میں ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ نرم ریت اور اڑتے غبار کے ذرات میں بدل جائیں گے۔
Ayah 69:1515 : فَیَوْمَپذٍ (تو اس روز) یعنی اس وقت وَّ قَعَتِ الْوَاقِعَۃُ (ہونے والی چیزہو پڑے گی) یعنی قیامت اتر پڑے گی آجائیگی۔
نحو : اذا کا جواب وقعت الواقعہ ہے اور یومئذ یہ اذا سے بدل ہے۔
Ayah 69:1616 : وَانْشَقَّتِ السَّمَآئُ (اور آسمان پھٹ جائے گا) کھل کر دروازے دروازے ہوجائے گا۔ فَہِیَ یَوْمَپذٍ وَّ اھِیَۃٌ (اور وہ اس روز بالکل بودا ہوگا) ڈھیلا کہ جس کی قوت ختم ہوچکی حالانکہ پہلے بہت مضبوط تھا۔
Ayah 69:17حاملین عرش کی تعداد میں اضافہ :
17 : وَّالْمَلَکُ (اور فرشتے) جنس ملائکہ مراد ہے جمع کے معنی میں ہے۔ یہ الملائکہ جمع کی بنسبت عام ہے۔ عَلٰٓی اَرْجَآپھَا ( اور اس کے کناروں پر آجائیں گے) ارجاء اطراف اس کا واحد رجاء مقصور ہے۔ آسمان فرشتوں کا مسکن ہے جب وہ پھٹ جائے گا تو وہ اس کے کناروں میں پناہ گزیں ہونگے۔ وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ (اور آپ کے رب کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہونگے) ان فرشتوں سے اوپر جو آسمان کی اطراف میں ہونگے۔ یَوْمَپذٍ ثَمٰنِیَۃٌ (اس دن آٹھ فرشتے) انہی فرشتوں میں سے آج چار فرشتے اس کو اٹھانے والے ہیں۔ قیامت کے دن اور چار کا اضافہ کردیا جائے گا۔ قول ضحاک آٹھ صفیں ایک اور قول یہ ہے۔ آٹھ قسمیں۔
Ayah 69:1818 : یَوْمَپذٍ تُعْرَضُوْنَ (جس روز تم پیش کیے جائو گے) حساب و کتاب اور سوالوں کیلئے۔ اس پیشی کو بادشاہ کے سامنے لشکر کو معائنہ کیلئے جیسے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے حالات سے واقف ہو سے تشبیہ دی ہے۔ لَاتَخْفٰی مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ (تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی) خافیہ : سریرۃٌ، مخفی، جو دنیا میں حالت چھپی رہتی تھی۔
قراءت : عاصم کے علاوہ کوفی قراء نے یخفٰیپڑھا ہے۔ حدیث میں وارد ہے لوگوں کی تین پیشیاں ہونگی دو پیشیوں میں جھگڑا کرنا اور معذرتیں ہونگی اور تیسری پیشی کے وقت صحائف اعمال اڑکر کامیاب لوگوں کے دائیں ہاتھ میں مل جائیں گے۔ اور ناکام کو نامہ عمل بائیں میں ملے گا۔ ] رواہ احمد، 4/414، الترمذی 2425، ابن ماجہ 4277 بیہقی بروایت ابن مسعود [
Ayah 69:19اصحاب ِیمین کا ذکر اور ان کا بدلہ :
19 : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَیَقُوْلُ (پس پھر وہ شخص جس کو نامہ عمل دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ تو کہے گا) اپنی جماعت کو اس پر خوش ہو کر اس لئے کہ وہ نامہ عمل میں نیکیاں ہی پائے گا۔ ھَآؤُمُ (یعنی لو) یہ اسم فعل ہے۔ اقْرَئُ وْا کِتٰبِیَہْ (میر انامہ عمل پڑھ لو)
نحو : تقدیر کلام اس طرح ہے۔
ھاؤم کتابی اقرء وا کتابیہ : تو اول کو حذف کیا کیونکہ کتابیہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ اور کتابیہ کا عامل بصریین کے ہاں اقرء وا ہے۔ کیونکہ وہ اقرب کو عمل دیتے ہیں۔
قراءت : کتابیہ، حسابیہ، مالیہ، سلطانیہ کی ھاء ہائے سکتہ ہے۔ اور اس کا حق تو یہ ہے کہ وصل میں گرجائے اور وقف میں باقی رہے۔ اسلئے وقف کو ترجیح دینا اچھا ہے۔ کیونکہ قرآن کی موجودہ قراءت میں یہی ثابت ہے۔
Ayah 69:2020 : اِنِّیْ ظَنَنْتُ (میں اعتقاد رکھتا تھا) یہ ظننت ‘ علمت کے معنی میں ہے۔ یہاں ظن کو علم کی جگہ لایا گیا۔ کیونکہ ظن غالب عادات، احکامات میں علم کے بمنزلہ ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ جو چیز اجتہاد سے پائی جائے وہ کم وبیش ہی وساوس و خیالات سے بچی ہوتی ہے۔ وہ گمانوں کی طرف لے جاتی ہے اس لئے ظن کا اطلاق اس پر ظن سے خالی نہ ہونے کی بناء پر ہے۔ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَہْ (کہ مجھکو میرا حساب پیش آنے والا ہے) میں اپنے حساب کا معائنہ کرنے والا ہوں۔
Ayah 69:2121 : فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّ اضِیَۃٍ (غرض وہ شخص پسندیدہ عیش) رضا مندی والی جس کو وہ پسند کرے گا۔ یہ راضیہ لابن کی طرح ہے۔ ای ذات رضا۔ نمبر 2۔ راضیہ بمعنی مرضیہ رضا کی نسبت عیشہ کی طرف مجازی ہو )
Ayah 69:2222 : فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ (یعنی بہشت بریں میں ہوگا) بلند پایہ نمبر 2۔ بلند درجات والا باغ نمبر 3۔ بلند محلات اور اونچے مکانات
نحو : یہ خبر کے بعد خبر ہے۔
Ayah 69:2323 : قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ (جس کے میوے جھکے ہوئے ہونگے) اس کے پھل قریب ہونگے جو چاہے گا وہ حاصل کرلے گا۔ بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے کی طرح ہوگا۔ ہر طرح توڑ سکے گا۔
Ayah 69:2424 : ان کو کہا جائے گا۔ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِیْئًام (تم کھائو اور پیو مزے کے ساتھ) کھانا اور پینا خوشگوار۔ دونوں میں کوئی ناگواری نہ ہوگی اور نہ ایذاء۔ نمبر 2۔ ھنیئًا کو مصدر مان لیں تو یہ مفعول مطلق ہوگا۔ ھنئتم ھنیئًا تم کھانے سے لطف اندوزہو، لطف اندوزہونا۔ بِمَآ اَسْلَفْتُمْ (ان اعمال کے صلہ میں جو تم نے گزشتہ دنوں میں کئے) جو اعمال صالحہ کر کے تم نے آگے بھیجے۔ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ (صلہ کی امید سے گزشہ ایام میں) خالیہؔ دنیا میں گزرے ہوئے دنوں میں۔ قول ابن عباس ؓ : یہ روزہ داروں کے متعلق ہے۔ یعنی تم کھائو اور پیو اس کے بدلے میں جو تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے اپنے آپ کو کھانے پینے سے روکا۔
Ayah 69:25اصحاب شمال کا بدلہ :
25 : وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ (اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ پس وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ مجھ کو میرا نامہ عمل ہی نہ ملتا) کیونکہ ساری رذالتیں اس میں لکھی پائے گا۔
Ayah 69:2626 : وَلَمْ اَدْرِمَا حِسَابِیَہْ (اور مجھ کو یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ میر احساب کیا ہے) ہائے افسوس ! میں اپنے حساب کو نہ جانتا۔
Ayah 69:2727 : یٰلَیْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ (کیا اچھا ہوتا کہ موت ہی خاتمہ کرچکتی) ہائے افسوس ! وہ موت جو مجھ پر واقعہ ہوئی وہ میرے معاملے کو ختم کرنے والی ہوتی اور اس کے بعد میں نہ اٹھایا جاتا۔ اور مجھے اس چیز کا سامنا ہے۔ یہ سامنا نہ کرنا پڑتا۔ القاضیہؔ معاملے کا فیصلہ کرنے والی۔
Ayah 69:2828 : مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ (میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا) جو مال میں نے دنیا میں جمع کیا اس نے مجھے کچھ فائدہ نہیں دیا۔
نحو : ماؔ نافیہ ہے اور شیئا مفعول محذوف ہے۔
Ayah 69:2929 : ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ (میرا جاہ مجھ سے گیا گزرا) میری حکومت اور لوگوں پر تسلط جاتا رہا اور میں فقیر و ذلیل رہ گیا۔
قول ابن عباس ؓ :
میری دلیل مجھ سے گم ہوگئی یعنی وہ دلیل جس سے میں دنیا میں دلیل بنایا کرتا تھا وہ باطل ہوگئی۔
ربط : پس اللہ جل شانہ جہنم کے نگرانوں کو فرمائیں گے۔
Ayah 69:3030 : خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ (اس شخص کو پکڑو اور اس کو طوق پہنا دو ) اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دو ۔
Ayah 69:3131 : ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ (پھر دوزخ میں اس کو داخل کردو) پھر اس کو بھڑکتی آگ میں داخل کردو۔ نمبر 2۔ الجحیم اس فعل سے منصوب ہے جس کی تفسیر صلوہ کر رہا ہے۔
Ayah 69:3232 : ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُھَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا (پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے) ذرعٌ : لمبائی۔ سبعون ؔ ذراعًا فرشتے کے ستّر ہاتھ۔ یہ ابن جریج کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے اس کی پیمائش اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فَاسْلُکُوْہُ (اس کو جکڑ دو ) اس میں داخل کردو۔
نکتہ : سلسلہ کو سلک پر مقدم کرنے سے حصرمقصود ہے جیسا کہ الجحیم کو تصلیہ سے پہلے لا کر حصر پید ا کیا۔
Ayah 69:3333 : اِنَّہٗ کَانَ لَایُؤْمِنُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ (یہ شخص عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا) انہ یہ تعلیل کیلئے آیا ہے گویا اس طرح کہا گیا مالہ یعذب ھذا العذاب الشدید ؟ اس کو اتنا سخت عذاب کیوں دیا جارہا ہے تو جواب دیا گیا بانہٗ کان الاٰیۃ کہ یہ عظمت والے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا تھا۔
Ayah 69:3434 : وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (اور غریب آدمی کے کھلانے کی ترغیب نہ دیتا تھا) کہ مسکین کو کھانا دے۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس کا بعث بعدالموت پر ایمان نہ تھا۔ کیونکہ عام لوگ مساکین کو کھانا کھلانے پر ان سے جزاء طلب نہیں کرتے ان کو رضائے الٰہی کیلئے فقط کھلاتے ہیں۔ اور آخرت کے ثواب کی طلب میں ان کو کھانادیتے ہیں۔ پس جب اس کو قیامت پر یقین نہیں تو اس کے سامنے کوئی ایسی وجہ نہیں جس سے وہ مساکین کو کھانا دے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ وہ کفر کے ساتھ ساتھ محتاجوں کو کھانا کھلانے کیلئے دوسروں کو بھی نہیں کہتا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مسکین کو محروم کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے کفر پر معطوف کیا ہے۔ اور اس کے خلاف ایک دلیل کے طور پر ذکر کیا۔ اور اس کے کفر کا قرین قرار دیا اور یہاں آمادہ کرنے کا تذکرہ ہے فعل کا نہیں۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب آمادہ نہ کرنے والا اس قدر قابل مذمت ہے تو فعل کا چھوڑنے والا کیونکر قابل مذمت نہ ہوگا۔
قول ابودرداء ؓ :
آپ اپنی بیوی کو فرماتے کہ شوربا زیادہ بنانا تاکہ مساکین کو بھی دیا جاسکے۔ نصف زنجیر تو ہم نے ایمان کے ذریعہ اتاری۔ اب بقیہ نصف اس صدقہ سے اتاریں گے۔
۔ :
یہ آیات اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ مومن ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور کافر رحم نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی دو قسمیں فرمائیں ایک قسم ان میں سے اہل الیمین بنائے اور ان کو ایمان سے نوازا پس ان کی اس طرح تعریف فرمائی۔ انی طننت انی ملاق حسابیہ۔ اور دوسری قسم کو اہل شمال بنایا اور ان کے حالات کفریہ اس طرح ذکر کئے انہ کان لا یؤمن باللہ العظیم۔
فائدہ : یہ درست ہے کہ ایمان والوں میں سے جن کو سزا دی جانی ہے۔ وہ نامہ عمل کے دائیں ہاتھ میں ملنے سے پہلے پہلے ہو۔
Ayah 69:3535 : فَلَیْسَ لَہُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا حَمِیْمٌ (پس آج اس شخص کا نہ کوئی دوستدار ہے) حمیم سے مراد ایسا قریبی جو اس سے عذاب کو ہٹائے اور نہ کوئی ایسا ہوگا جس کا دل اس کی خاطر جلے۔
Ayah 69:3636 : وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ (اور نہ اس کو کوئی کھانے کی چیز نصیب ہے۔ بجز زخموں کے دھون کے) غسلینؔ اہل نار کے زخموں کا دھون۔ یہ فعلین کا وزن ہے۔ یہ الغسل سے بنا ہے نون اس کی زائدہ ہے۔ یہاں اس سے مراد جہنمیوں کے بدنوں سے بہنے والی پیپ اور خون ہے۔
Ayah 69:3737 : لَّا یَاْ کُلُہٗ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ (جس کو بجز بڑے گناہ گاروں کے اور کوئی نہ کھائے گا) الخاطئون کافر خطا ٔ کار مراد ہیں۔ یہ خطِیٔ الرجل سے لیا گیا جبکہ جان بوجھ کر وہ گناہ کرے۔
Ayah 69:3838 : فَلآَ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ (پھر میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جن کو تم دیکھتے ہو) جیسے اجسام اور زمین و آسمان۔
Ayah 69:3939 : وَمَا لَاتُبْصِرُوْنَ (اور جن کو تم نہیں دیکھتے ہو) یعنی ملائکہ ارواح وغیرہ پس حاصل یہ ہوا کہ تمام اشیاء کی قسم اٹھائی۔
Ayah 69:40عظمت قرآن :
40 : اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ (بیشک یہ قرآن کلام ہے۔ ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا) ہٗ سے قرآن مراد ہے۔ رسول کریم سے محمد ﷺ ، نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ یعنی آپ اس کو کہتے ہیں اور زبان سے بولتے ہیں اس طور پر کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے۔