61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب خدا کی تسبیح کرتی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

ایک روایت : 1 : سَبَّحَ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ روایت میں ہے کہ جہاد کا حکم دیے جانے سے قبل لوگوں نے کہا اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب ترین عمل کونسا ہے۔ تو ہم اس کو اپنا لیں۔ پس یہ آیت جہاد نازل ہوئی۔ پھر بعض نے سستی کی تو یہ آیت اتری۔
Ayah 61:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

مومنو ! تم ایسی باتیں کیوں کہا کرتے ہو جو کیا نہیں کرتے

2 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ ۔ لِمَ ۔ یہ لام اضافت ہے۔ جو ماؔ استفہامیہ پر داخل ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس پر دیگر حروف جر داخل ہوتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں، بم، فیم، ومم، 1 لام و علام۔ البتہ الف کو حذف کردیا گیا۔ کیونکہ ما اور لام یا اس کے علاوہ وہ ایک شئی بن جائیں۔ یہ استفہامی کلام میں کثرت سے مستعمل ہے اگرچہ اصل کا استعمال بھی ہے مگر یہ بہت قلیل۔ جیسا شاعر کا قول علام قام یشتمنی جریر ؟ قراءت : اور ھاء سکتہ لائیں گے تو وقف ہوگا یا ساکن کی صورت میں۔ جنہوں نے وصل میں اس کو اختیار کیا۔ تو اس کو وقف کے قائم مقام کرکے کیا ہے۔
Ayah 61:3

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

خدا اس بات سے سخت بیزار ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں

3 : کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ کی بڑی ناراضگی ہے یہ کہ جو کہو وہ کرو نہیں) کَبُرَ میں تعجب کا معنی غیر لفظ سے مقصود ہے۔ جیسا اس قول میں غَلَتْ نابٌ کلیب بوا ؤُھا۔ اور تعجب کا مطلب سامعین کے دلوں میں اس امر کی عظمت بٹھانا مقصود ہوتا ہے۔ کیوں تعجب اسی چیز میں ہوتا ہے جو اپنے ہم مثلوں سے خارج ہوجائے۔ ان تقولوا کی طرف اسناد کی گئی اور مقتًا پر نصب تمیز کی وجہ سے ہے۔ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ ان کا قول مالا یفعلون۔ یہ خالص ناراضگی ہے اس میں کوئی اور ملاوٹ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے تمہارا قول مالا تفعلون اللہ تعالیٰ کے ہاں ناراضگی کیلئے کافی ہے۔ لفظ المقتؔ کو استعمال فرمایا کیونکہ یہ بغض کی انتہائی قسم ہے۔ قول بعض سلف : ان کو کسی نے کہا ہمیں حدیث بیان کرو۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں وہ بات کہہ ڈالوں جو میں نہیں کرتا ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو اپنے لئے جلد طلب کرلوں ؟
Ayah 61:4

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی راہ میں (ایسی طور) پر پرے جما کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں وہ بیشک محبوب مددگار ہیں

4 : پھر اللہ تعالیٰ نے وہ بات بتلائی جو اس کو پسند ہے۔ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خاص کر پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں) یعنی اس حالت میں کہ وہ اپنے آپ کو صفوں میں کرنے والے ہوتے ہیں۔ نحو : صفًا یہ مصدر ہے جو حال واقع ہوا ہے۔ کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں) ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملے ہوئے چمٹے ہوئے۔ ایک قول یہ ہے اس سے مراد ان کی نیتوں کی درستی اور برابری ہے۔ یہاں تک کہ ایک بات پر اجتماعیت میں وہ دیوار کی طرح ہیں۔ جس کا بعض بعض حصہ سے چمٹا ہو۔ نحو : یہ بھی حال ہے۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ تو جب ان لوگوں نے کجروی کی خدا نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور خدا نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

پیغمبر کی توقیت چاہیے نہ کہ ایذاء : 5 : وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ (اور جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم والو ! تم مجھے دکھ کیوں دیتے ہو) آیات کا انکار کرکے اور میرے متعلق ان باتوں کی نسبت کر کے جو مجھ میں پائی نہیں جاتیں۔ وَقَدْتَّعْلَمُوْنَ (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ موضع حال میں ہے۔ مطلب یہ ہے لما تؤذوننی تم مجھے کیوں کر ایذاء پہنچاتے ہو۔ یہ یقینی طور پر جانتے ہوئے کہ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ (میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں) اور تمہارے اس بات کو جان لینے کا تقاضا یہ ہے کہ تم میری توقیرو تعظیم کرو نہ کہ الٹا مجھے دکھ پہنچائو۔ فَلَمَّآ زَاغُوْٓا (پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے) حق سے باطل کی طرف جھکاؤ اختیار کرلیا۔ اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ (تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا) ہدایت سے نمبر 2۔ یا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے نور ایمان کو کھینچ لیا۔ نمبر 3۔ جب انہوں نے ٹیڑھا پن چن لیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو ٹیڑھا کردیا یعنی ان کو رسوا کردیا اور اتباع حق والی توفیق سے ان کو محروم کردیا۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت یاب نہیں کرتا) یعنی اس کو ہدایت نہیں دیتے جس کے بارے میں فاسق ہونا علم الٰہی میں لکھا جاچکا ہو۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہو (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

بشارتِ عیسیٰ d: 6 : وَاِذْقَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (جب کہ عیسیٰ بن مریم نے کہا۔ اے بنی اسرائیل) یہاں یٰقوم نہیں فرمایا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کیونکہ آپ کا ان میں کوئی نسب نہ تھا کہ وہ آپ کی قوم بنتی۔ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ (میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ (آچکی ہے۔ اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ اور ایک عالی قدر رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا) میں تمہارے پاس اس حالت میں بھیجا گیا ہوں کہ میں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اور اس حال میں کہ میں ایک رسول کی خوشخبری دے رہا ہوں۔ جو میرے بعد ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ میرا دین اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے تمام انبیاء جو پہلے گزرے اور جو بعد میں ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ قراءت : بَعْدِیَ ، حجازی، ابو عمرو، ابوبکر اور خلیل و سیبویہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ نحو : مصدقًا ومبشراً یہ الرسول کے اندر جو معنی ارسال ہے اس کی بناء پر منصوب ہے۔ فَلَمَّا جَآ ئَ ھُمْ (پس جب وہ اپنی رسالت کی کھلی نشانیاں ان کے سامنے لائے) عیسیٰ (علیہ السلام) یا محمد ﷺ بِالْبَیِّنٰتِ (یعنی معجزات لائے) قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ (تو انہوں نے کہا یہ صریح جادو ہے) قراءت : ساحر، حمزہ اور علی نے پڑھا ہے۔
Ayah 61:7

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون کہ بلایا جائے تو اسلام کی طرف اور وہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

7 : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ پر دروغ بندی کرتا ہے حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت یاب نہیں کرتے) اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ جس کو اس کا رب اپنے پیغمبر کی زبان پر اسلام کی طرف بلا رہا ہو۔ وہ اسلام جس میں دارین کی خوش نصیبی ہے۔ وہ اس کو قبول کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے کلام برحق کو سحر کہنے لگ جائے۔ السحرؔ جھوٹ، ملمع سازی۔
Ayah 61:8

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا (کے چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

8 : یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَاللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں سے) بجھا دیں) ۔ اس میں کفار کے ابطال اسلام کے ارادہ کے ساتھ استہزاء کیا گیا۔ کہ تم قرآن کو سحر کہتے ہو۔ تمہاری مثال تو اس شخص جیسی ہے جو سورج کی روشنی کو منہ کی پھونک سے بجھارہاہو۔ نحو : مفعول کو حذف کردیا۔ اور لام تعلیل کیلئے ہے تقدیر کلام یہ ہے۔ یریدون الکذب لیطفؤا نور اللّٰہ بافواھھم ای بکلامہم۔ وہ کلام سے اللہ تعالیٰ کے نورکو بجھانے کا جھوٹا ارادہ رکھتے ہیں۔ وَاللّٰہُ مُتِمَّ نُوْرِہٖ (اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچاکر رہے گا) قراءت : مکی، حمزہ، علی، حفص نے مُتِم نورہ پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر نے مُتمٌ نورہٗ ، پڑھا ہے۔ یعنی وہ حق کو مکمل کرنے والے اور ان کی کمال تک اس کو پہنچانے والے ہیں۔ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (اگرچہ کافر اس بات کو ناپسند کریں)
Ayah 61:9

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔

اظہارِ دین کا عہد : 9 : ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ (اسی نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور سچا دین دے کر بھیجا ہے) دین الحقؔ سے ملت حنیفیہ مراد ہے۔ لِیُظْھِرَہٗ (تاکہ اس کو غالب کرے) اس کو بلند کرے۔ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ( تمام دوسرے دینوں پر) اس کے مخالف تمام ادیان پر۔ میری عمر کی قسم اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا۔ کوئی ایسا دین نہیں رہا جو اسلام کے سامنے مقہور نہ ہوا ہو۔ قولِ مجاہد (رح) : جب عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنََ (گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں) ۔
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

مومنو ! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دی۔

ایمان و جہاد باقی رہے گا : 10 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتائوں جو تم کو ایک درد ناک عذاب سے بچالے ) قراءت : تُنَجِّیْکُم شامی نے پڑھا ہے۔
Ayah 61:11

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

(وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

1 1 : تُؤْمِنُوْنَ (تم ایمان لائو) یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا ہم کیا کریں۔ تو جواب ملا۔ تم ایمان لائو۔ یہ سیبویہ کے نزدیک آمنوا کے معنی میں ہے۔ اسی لئے اس کا جواب یغفرلکم سے دیا گیا اور ابن مسعود ؓ کی قراءت اس پر دلالت کرتی ہے۔ آمنو باللّٰہ ورسولہ وجاھدوا۔ وجہ : اس کو خبر کے انداز سے اس لئے لائے تاکہ بتلا دیا جائے کہ اس پر عمل کرنا لازم ہے گویا اس پر عمل کرلیا گیا ہے۔ اس سے خبردی کہ ایمان و جہاد موجود رہے گا۔ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ ( اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول پر اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ) جس کا تذکرہ ہوا یعنی ایمان و جہاد۔ خَیْرٌلَّکُمْ (بہت ہی بہتر ہے تمہارے لئے) تمہارے لئے تمہارے اموال وانفس کے مقابلہ میں اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو) کہ یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ تو پھر تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا کیونکہ جب تم نے اسکو جان لیا اور اسکے مطابق اعتقاد کرلیا تو تم نے ایمان اور جہاد کو اپنے اموال وانفس کے مقابلہ میں محبوب قرار دے دیا۔ پس تم مخلص ہوگئے تو کامیابی حاصل ہوجائیگی۔
Ayah 61:12

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

12 : یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ (اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اور تم کو آخرت میں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور عمدہ مکانوں میں داخل کر دیگا۔ جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں بنے ہوں گے) ۔ یعنی اقامت اور ہمیشگی کہا جاتا ہے۔ عدن بالمکانؔ جبکہ وہاں اقامت اختیار کرے اسی طرح کہا گیا ہے۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (یہ بڑی کامیابی ہے)
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح (عن) قریب ہوگی اور مومنو کو (اس کی) خوشخبری سنا دو

فتح مکہ یا فارس و روم کی فتح : 13 : وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا (اور ایک اور بھی ہے جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی مغفرت وثواب کی اس نعمت کے ساتھ اس جلد آنے والی دنیا میں ایک پسندیدہ نعمت ہے جو تمہیں میسرآئی گی۔ پھر اس کی تفسیر فرمائی۔ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ (وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور قریب فتح یابی ہے) قریب یعنی جلد ملنے والی۔ وہ فتح مکہ ہے اور قریش پر غلبہ یا فارس کی فتح اور روم کی فتح۔ ایک تنبیہ : تحبونہا کے لفظ میں تھوڑی سی توبیخ ہے کہ جلد ملنے والی چیز کو پسند کرتے ہو جو کہ نہ چاہیے۔ صاحب کشاف نے کہا ہے۔ اس کا معنی ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم وعلی تجارۃ اخری تحبونھا فرما کر بعد میں فرمایا۔ نصرٌ ایھی نصرٌکہ وہ نصرت و مدد ہے۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (تم ایمان والوں کو خوشخبری دے دو ) اس کا عطف تؤمنون پر ہے کیونکہ وہ بھی امر کے معنی میں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا آمنوا و جاھدوا یثبکم اللہ و ینصر کم و بشریا رسول اللہ المؤمنین بذلک۔ تم ایمان لائو اور جہاد کرو اللہ تعالیٰ تمہیں ثواب دیں گے اور تمہاری مدد فرمائیں گے۔ اے اللہ کے رسول آپ مؤمنین کو اس کی خوشخبری دے دیں۔ ایک قول یہ ہے اس کا عطف قل پر ہے جو یایھا الذین امنو اھل ادلکم سے پہلے مراد ہے۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے مددگار بن جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا کہ (بھلا) کون ہیں جو خدا کی طرف (بلانے میں) میرے مددگار ہوں ؟ حواریوں نے کہا کہ ہم خدا کے مددگا رہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ آخر الامر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد دی اور وہ غالب ہوگئے

14 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ (اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار ہوجائو) انصار اللہ۔ یعنی انصار دین۔ اس کے دین کے مددگار۔ قراءت : حجازی، ابوعمرو نے انصارً اللہ پڑھا ہے۔ حواریوں سے معاونت کا مطالبہ : کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَ ارِیِّنَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ (جیسا عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے واسطے میرا مددگار کون ہے) ظاہر میں یہ تشبیہ ہے اس بات میں کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول من انصاری الی اللہ میں ناصر و مددگار بنے۔ مگر اس کو معنی پر محمول کیا گیا ہے۔ ای کونوا انصار اللہ کما کان الحواریون انصار عیسیٰ حین قال لہم من انصاری الی اللہ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار بنو جیسا حواری عیسیٰ ابن مریم کے اس وقت مددگار بنے جب انہوں نے من انصاری الی اللہ کہا۔ مطلب یہ ہے کہ کون میرے لشکر میں سے ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نصرت کی طرف متوجہ ہونے والا ہو۔ تاکہ حواریوں کے جواب کے مطابق بات ہوجائے اور وہ ان کا قول قَالَ الْحَوَرِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ہے یعنی ہم میں وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مدد کریں گے۔ من انصاریؔ کا معنی من الانصار الذین یختصون بی۔ ایسے مددگار کون کون ہیں۔ جو میرے ساتھ خاص ہوجائیں گے۔ اپنے کو میرے ساتھ خاص کردیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی نصرت میں میرا ساتھ دیں گے۔ الحواریونؔ ان کے منتخب لوگ۔ یہ وہ لوگ تھے جو سب سے اول ایمان لائے اور یہ بارہ آدمی تھے۔ حواری الرجل : خالص اور پسندیدہ۔ یہ الحورؔ سے لیا گیا۔ جو خالص سفیدی کو کہتے ہیں۔ ایک قول وہ دھوبی تھے جو کپڑوں کو سفید کرتے تھے۔ فَـٰامَنَتْ طَّآپفَۃٌ مِّنْ 0 بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (پھر ایک گروہ بنی اسرائیل کا تو ایمان لے آیا) عیسیٰ (علیہ السلام) پر وَکَفَرَتْ طَّآپفَۃٌ (اور ایک گروہ منکررہا) ان کا فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا عَلٰی عَدُوِّھِمْ (پس ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی) ان کے مؤمنین کو کفار کے مقابلہ میں مضبوط کردیا۔ فَاَصْبَحُوْا ظَاھِرِیْنَ (اس کے نتیجہ میں وہ غالب ہوگئے) پس وہ مومن کافروں پر غالب آگئے۔