Ayah 62:1(62:1) یسبح : مضارع واحد مذکر غائب تسبیح (تفعیل) مصدر۔ پاکی بیان کرتا ہے۔ تسبیح کرنا ہے ۔ مضارع کا صیغہ استمرار کے لئے ہے ۔ للہ : لام استحقاق کا ہے۔ اللہ مفعول لہ ہے۔
ما فی السموت وما فی الارض : ما موصولہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (ہر وقت) اللہ کی تسبیح کرتی رہتی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت (57:1)
الملک : (بادشاہ) ۔
القدوس : (بہت پاک) جملہ نقائص سے منزہ قدس سے مبالغہ کا صیغہ ۔
العزیز۔ (غالب) الحکیم (دانا۔ حکمت والا)
یہ تمام اللہ (تبارک تعالیٰ ) کی صفات ہیں اور اسی نسبت سے مجرور ہیں۔
Ayah 62:2(62:2) بعث : ماضی واحد مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر۔ اس نے بھیجا۔
الامیین : امی کی جمع بحالت جر۔ امی جو نہ لکھ سکے نہ کتاب پڑھ سکے۔ ان بڑھ۔ بےپڑھا لکھا۔ امین سے مراد اہل عرب ہیں جو اکثر ان پڑھ تھے۔
رسولا : پیغمبر۔ بعث کا مفعول ہے۔
منھم : ای من جملتیہم ومثلہم۔ یعنی انہی میں سے کا ایک ۔ انہیں جیسا (امی) یہ رسولا کی صفت ہے۔
یتلوا علیہم ایتہ : یہ دوسری صفت ہے رسولا کی۔ پڑھ کر سناتا ہے۔ (امتیین کو) اس (اللہ) کی آیات، یہ تیسری صفت ہے رسولا کی۔ یتلوا مضارع واحد مذکر غائب ! تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ وہ پڑھ کر سناتا ہے۔ وہ تلاوت کرتا ہے۔
ویزکیہم : اس کا عطف یتلوا پر ہے۔ یزکیہم مضارع واحد مذکر غائب تذکیۃ (تفعیل) مصدر۔ اور وہ پاکیزہ کردیتا ہے ان کو ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یہ رسولا کی صفت چہارم ہے۔
ویعلمہم الکتب والحکمۃ : ہم مفعول اول فعل یعلم کا الکتب (ای القران) مفعول ثانی والحکمۃ مفعول ثالث
وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔ واؤ عاطفہ ہے ان مخففہ ہے (نون ثقیلہ) سے مخفف ہے۔ ان کا اسم محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی :۔ وانھم کانوا ۔۔ الخ۔ من قبل ، قبل مضاف ہے جس کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ ای من قبل ارسال محمد ﷺ لفی میں لام فارقہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور بلاشبہ یہ لوگ (بعثت محمدی سے) پہلے صریح گمراہی میں پڑے تھے۔
Ayah 62:3(62:3) واخرین منھم اس کا عطف یعلمہم کی ضمیر پر ہے اور منھم کی ضمیر جمع مذکر غائب امیون کی طرف راجع ہے۔ یعنی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو امیین میں سے ہیں نہ صرف ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں اور یہ دوسرے لوگ بھی اول لوگوں میں سے ہی ہیں۔ (منھم) یعنی انہی کے ہم مذہب اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔
اخرین سے کون مراد ہیں اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔
(1) عکرمہ اور مقاتل نے کہا کہ اخرین سے مراد تابعین ہیں۔
(2) ابن زید نے کہا کہ :۔ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو قیامت تک حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے ہیں ۔ ابن بخیع کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا ہے ۔ لیکن
(3) عمر و بن سعید بن جبیر اور لیث کی روایت میں مجاہد کا قول یوں آیا ہے اس سے مراد عجمی لوگ ہیں۔
لما یلحقوا بھم : لما حرف جازم ہے اور لم کی طرح فعل مجارع پر داخل ہوتا ہے۔ اس کو جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی میں کردیتا ہے۔ یلحقوا مضارع مجزوم بوجہ عمل لما۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لحقوق (باب سمع) مصدر۔ بھم میں ب الصاق کے لئے ہے (حرف جار ہے) ھم ضمیر جمع مذکر غائب مجرور جو امیون کی طرف راجع ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ جو ابھی تک ان سے آکر نہیں ملے۔ یہ اخرین کی صفت ہے۔
لما کا استعمال مندرجہ ذیل آیت میں اسی معنی میں آیا ہے۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (49:14) اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
وھو العزیز الحکیم : اور وہ گا لب حکمت والا ہے۔
Ayah 62:4(62:4) ذلک اسم اشارہ، اس کا مشار الیہ بعثت رسول ﷺ تعلیم رسول۔ تزکیہ گمراہان۔
یؤتیہ۔ مضارع واحد مذکر ایتاء (افعال) مصدر۔ وہ دیتا ہے۔ وہ عطا کرتا ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع فضل ہے۔ من موصولہ، یشاء اس کا صلہ، جسے وہ چاہتا ہے۔
واللہ ذوالفضل العظیم : جملہ معترضہ تذلیلی ہے ما سبق کی تائید کے لئے ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ بڑے فضل کا مالک ہے۔ ذوا مضاف الفضل العظیم موصوف صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اللہ کی صفت۔
Ayah 62:5(62:5) مثل الذین حملوا التوریۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارا۔
حملوا ماضی جمع مذکر غائب تحمیل (تفعیل) مصدر۔ ان پر لادا گیا۔ ان سے اٹھوایا گیا۔ یعنی ان کو تورات کا علم دیا گیا اور اس پر عمل کرنے کا ان کو مکلف بنایا گیا ۔ ضمیر نائب فاعل حملوا : الذین کی طرف راجع ہے۔ التوریۃ مفعول فعل حملوا کا ۔
ثم : التراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ لم یحملوا مضارع مجزوم نفی جحد بلم حمل (باب ضرب) مصدر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب (پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا اور اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
ک تشبیہ کا ہے۔ مثل الحمار مضاف مضاف الیہ۔
اسفارا جمع سفر کی بمعنی کتابیں یحملکا مفعول اول۔ یحمل اسفارا یہ صفت ہے الحمار کی۔ جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے
بئس : بری ہے۔ برا ہے ۔ فعل ذم ہے۔ اس سے گردان نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا۔ بروزن فعل (باب سمع) سے عین کلمہ کی اتباع میں اس کےکلمہ کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا بئس ہوگیا۔
مثل القوم مضاف مضاف الیہ۔ (اس) قوم کی مثال۔
الذین کذبوا بایت اللہ : الذین اسم موصول اگلا جملہ اس کا صلہ (جنہوں نے) اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ بری ہے مثال اس قوم کی جس نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔
القوم سے مراد یہودی ہیں اور ایت اللہ سے مراد تورات کی وہ آیات جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔
Ayah 62:6(62:6) قل : ای قیل یا محمد ﷺ ۔
یایھا الذین : یا حرف نداء ہے جو قریب ، بعید، اوسط، سب کی نداء کے لئے موضوع ہے۔
ایھاوای تھا پر اکثر و بیشتر یہی حرف نداء آتا ہے ۔ نداء میں جب منادی پر ال داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہاں منادی الذین (اسم موصول) ہے۔
ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ھود (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پشیمان ہونا۔ حق کی طرف لوٹنا۔ یہودی ہونا۔ یہاں مراد یہودی ہوئے ۔ بچھڑے ہوئے۔ بچھڑے کی پوجا سے توبہ کی تھی اس لئے یہود کہلائے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کو جنہوں نے یہودیت قبول کرلی تھی خواہ وہ بنی اسرائیل تھے یا نہیں الذین ھادوا کے الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے جبکہ جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہے وہاں الفاظ ینبی اسرائیل استعمال ہوئے ہیں۔
ان زعمتم ۔۔ من دون الناس۔ جملہ شرط ہے ان نافیہ زعمتم ماضی جمع مزکر حاضر۔ زعم (باب نصر) مصدر۔ تم نے سمجھا۔ تم نے دعوی کیا۔
انکم بیشک تم۔ ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ اولیاء للہ : اللہ کے دوست، اللہ کے پیارے۔
یہاں اولیاء اللہ استعمال کیا ہے تاکہ مدعی ولایت اور وہ جسے اللہ نے اپنی ولایت کے لئے مختص کردیا ہو، فرق واضح ہوجائے۔
من دون الناس : من حرف جار۔ دون الناس مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر۔ یہ ان کے اسم کی ضمیر کی طرف راجع ہے اور اس سے حال ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ (اے محمد ﷺ ) کہہ دیجئے ! اے لوگو ! جو یہودی ہوگئے ہو اگر تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو چھوڑ کر (صرف) تم ہی اللہ کے پیارے ہو ۔۔
فتمنوا الموت : جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے۔ تمنوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تمنی (تفعل) مصدر۔ الموت مفعول بہ۔ تو موت کی تمنا کرو، موت کی آرزو کرو۔
یعنی تم جو کہتے ہو کہ صرف ہم ہی اللہ کے دوست ہیں اور یہ کہ اللہ کے بیٹے اور لاڈلے ہیں اور یہ کہ صرف اہی جنت میں داخل ہوسکے گا یہودی ہوگا تو اس دنیا کے صعوبتوں سے رہائی پانے کے لئے کیوں نہیں موت کی التجاء کرتے کہ جلدی ہی اگلے جہاں کو جاکر جنت میں داخل ہوکر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرسکو۔
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :۔ والذی نفس محمد بیدہ لو تمنوا الموت مابقی علی ظھرھا یھودی الامات۔ تو اس ذوت کی قسم جس کی قدرت میں میری جان ہے اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ رہتا۔ (ضیاء القرآن)
ان کنتم صدقین : جملہ شرطیہ ہے جس کا جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم صدقین فتمنوا الموت اذا۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو موت کی آرزو کرو۔
Ayah 62:7(62:7) ولا یتمنونہ ابدا : لا یتمنون مضارع منفی جمع مذکر غائب تمنی (تفعیل) مصدر ہ ضمیر مفعول (جس کا مرجع الموت ہے) واحد مذکر غائب۔ ابدا ہمیشہ زمانہ مستقبل غیر محدود۔ وہ اس کی کبھی بھی خواہش نہیں کریں گے۔ وہ اس کی کبھی بھی تمنا نہیں کریں گے۔
بما قدمت ایدیہم : ب سببیہ ما موصولہ۔ قدمت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ تقدیم (تفعیل) مصدر بمعنی آگے بھیجنا۔
ایدیہم مضاف مضاف الیہ ۔ ان کے ساتھ۔ بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ (یعنی ان کے اعمال جن پر آخرت میں سزا و جزا مترتب ہوگی۔ ای بسبب ما قدموا من الکفر والتکذیب (الخازن) یعنی بہ بسبب کفر و تکذیب کے اعمال کے جو انہوں نے آخرت کے لئے کمائے ہیں۔
علیم : علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔
Ayah 62:8(62:8) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔
تفرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ رفار (باب ضرب) مصدر۔ تم بھاگتے ہو۔ تم فرار ہوتے ہو۔
منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الموت ہے۔ ای من الموت۔
فانہ ملقیکم :زائدہ ہے ملقیکم ان کی خبر ہے۔ ملاقی اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف، کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ تم کو پہنچنے والا۔ تم کو پالینے والا۔ ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ یعنی موت جس سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ ضرور تم کو آ لے گی۔
ثم ترددون الی علم الغیب والشھادۃ : ثم تراخی فی الوقت کے لئے پھر۔ تردون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رد (باب نصر) مصدر۔ تم پھیرے جاؤ گے ۔ تم لوٹائے جاؤ گے۔ الی نہایت غایت کے لئے۔ کی طرف۔
فینبئکم :تعقیب کا ہے ینبئی فعل مضارع واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعیل) مصدر۔ وہ خبر دیدے گا ۔ وہ بتادے گا۔
بما کنتم تعملون : ب الساق کے لیے ہے ما موصولہ کنتم تعلمون ماضی اسمتراری۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ وہ خبر دیگا اس چیز کی جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 62:9(62:9) اذا۔ جب ، ظرف زمان ہے بطور شرط آیا ہے۔ اذا تأدی الصلوٰۃ من یوم الجمعۃ جملہ شرط ہے۔
نودی ماضی مجہول واحد مذکر غائب نداء ومناواۃ (مفاعلۃ) مصدر، بمعنی بلانا۔ کسی کام پر لوگوں کو بلانا۔ ن د ی مادہ۔ شریعت میں نداء الصلوٰۃ نماز کی اذان کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل آیا ہے۔
من یوم الجمعۃ جیم اور میم کے ضمہ کے ساتھ اور جیم کے ضمہ اور میم کے سکون کے ساتھ۔ دونوں طرح استعمال ہے۔ بمعنی اجتماع
فاسعوا :جواب شرط کا ہے فاسعوا الی ذکر اللہ جملہ جواب شرط ہے۔ اسعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ سعی (باب فتح) مصدر بمعنی تیز روی۔ تو تم دوڑو۔ تم تیزی سے چلو۔
ذکر اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کے ذکر کی طرف۔ یعنی نماز کی طرف جیسا کہ فاذا قضیت الصلوٰۃ سے ظاہر ہے۔
وذروا البیع : واؤ عاطفہ۔ ذروا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع فتح) مصدر البیع خریدو فروخت۔ اور چھوڑ دو خریدو فروخت کو۔ جملہ معطوف ہے۔ ذروا کا عطف اسعوا پر ہے۔
ذلکم : یعنی کاروبار کا چھوڑ کر نماز جمعہ کی طرف جلدی سے چل پڑنا۔ جواب شرط مقدم ۔
ان کنتم تعلمون ۔ شرط مؤخر۔ اگر تم کو سمجھ ہو۔ اگر تم کو (اس کی صحیح) سمجھ ہے
Ayah 62:10(62:10) فاذا قضیت الصلوٰۃ :عاطفہ، اذا۔ جب۔ ظرف زمان۔ شرطیہ ۔ قضیت : ماضی مجہول واحد مؤنث غائب قضاء (باب ضرب) مصدر۔ نماز ادا کرنا ق۔ ض۔ ی مادہ۔ پھر جب نماز ادا ہوچکے ۔ جملہ شرط ہے۔
فانشروا :جواب شرط کے لئے ہے انشروا : فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ انتشار (افعال) مصدر۔ تم منتشر ہوجاؤ۔ تم الگ الگ ہوجاؤ۔ تم بکھر جاؤ۔ عربی میں لوگوں کے انتشار کا مطلب ان کا پھیل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا ہے۔ جملہ جواب شرط ہے۔
وابتغوا من فضل اللہ۔ واؤ عاطفہ ابتغوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تم تلاش کرو۔ من تبعیضیہ ہے ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا فضل۔ فضل سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) بعض اہل علم نے کہا کہ زمین پر پھیل جانے سے مراد دنیا کمانے کے لئے پھیلنا نہیں ہے۔ بلکہ بیمار کی عیادت، کسی جنازہ کی شرکت اور اللہ کی رضا کی خاطر دوست کی ملاقات کے لئے جانا ہے۔
(2) بعض نے خداداد روزی اس کا مطلب لیا ہے۔
(3) بعض نے اس سے علم حاصل کرنا مراد لیا ہے۔
فضل اللہ کی تلاش کے لئے پھیل جانا و جو بی نہیں ہے بلکہ اباحت کے لئے ہے اس جملہ کا عطف بھی جملہ سابقہ پر ہے۔ اور یہ بھی جواب شرط میں ہے۔
واذکروا اللہ کثیرا۔ یہ بھی جملہ معطوفہ ہے اور جواب شرط میں ہے۔ یعنی نہ صرف زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا رزق تلاش کرو بلکہ ہر حال میں اللہ کو ہرگز نہ بھولو اور اسے ہر وقت اور کثرت سے یاد کیا کرو۔ ذکر اللہ کو محض نماز تک مخصوص اور محدود نہ رکھو۔ بلکہ ہر وقت دوسرے دنیاوی کام کرتے وقت بھی اللہ کو یاد کیا کرو۔
اذکروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) مصدر سے۔ کثیرا صفت ہے موصوف محذوف ہے۔ ای ذکرا کثیرا مفعول مطلق ہے۔ لعلکم : تاکہ تم۔ بمعنی کی۔ تاکہ۔
تفلحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ افلاح (افعال) مصدر۔ تم فلاح پاؤ۔ تم فلاح پاؤ گے۔
Ayah 62:11(62:11) واذا رأوا تجارۃ او لھوا جملہ شرط۔ تجارۃ او لھوا مفعول اول و مفعول ثانی راوا کے۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (باب فتح۔ ر ا ی مادہ) مصدر۔ رأوا اصل میں رابوا تھا۔ ی متحرک ما قبل اس کا مفتوح ی کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوگئے ۔ الف کو حذف کردیا۔ انہوں نے دیکھا۔
انفضوا الیہا : جملہ جواب شرط ہے۔ انفضوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انفیضاض (انفعال) مصدر۔ وہ متفرق ہوگئے۔ض ض مادہ۔ الفض کے معنی کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں۔ جیسے فض ختم الکتب خط کی مہر کو توڑ دیا۔ اسی سے انفض القوم کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی متفرق و منتشر ہوجانے کے ہیں۔ آیت ہذا میں اس کے معنی ہیں :۔
اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر لوگ جاتے ہیں :۔ لانفضوا من حولک (3:159) تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
الیہا : میں ھا ضمیر واحد شرط ہے۔ ترکوا ماضی جمع مذکر غائب۔ ترک (باب نصر) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔ کیونکہ آیت ہذا میں انہی سے خطاب ہے۔ قائما : ترکوک کی ضمیر مفعول سے حال ہے۔
قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔
ما عند اللہ : ما موصولہ۔ عند اللہ مضاف مضاف الیہ۔ عند ظرف مکان ہے لیکن جب زمان کی طرف مضاف ہو تو ظرف زمان بھی ہوتا ہے۔ مثلاً عند الصبح۔ صبح کے قریب۔ اس پر حروف جر میں سے من کے علاوہ اور کوئی حرف نہیں آتا۔ عند اللہ صلہ ہے ما موصولہ کا۔
خیر : افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہتر۔ زیادہ اچھا۔ یہ خبر ہے۔ ما موصولہ کی۔ فالیہ سبحانہ و تعالیٰ اسعواومنہ عزوجل اطلبوا الرزق۔ پس اسی ذات سبحانہ و تعالیٰ کی طرف شتاب چلو۔ اور اسی ذات عزوجل سے رزق طلب کرو۔
واللہ خیر الرازقین۔ اور اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔