Ayah 62:11۔ ابن المنذر والحاکم و بیہقی نے شعب الایمان میں عطاء بن سائب سے اور انہوں نے میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت تورات شریف میں سات سو آیتوں کے ساتھ لکھی ہوئی ہے۔ یعنی یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم۔ جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ اور یہ سورة جمعہ کی پہلی آیت ہے۔
رسول اللہ ﷺ امی تھے
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہوالذی بعث فی الامیین رسول منہم۔ وہی ہے جس نے عرب کے ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے ایک پیغمبر بھیجا الایۃ۔ یہ ایک عرب میں سے ایک قبیلہ تھا جو ان پڑھ تھا۔ ان میں کوئی کتاب نہ تھی جو اس کو پڑھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان میں محمد ﷺ کو سراپا رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا کہ ان کے ذریعہ وہ ان کو ہدایت دے گا۔
3۔ البخاری ومسلم وابوداوٗد والنسائی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ ہم ان پڑھوں کی ایک جماعت ہیں نہ ہم لکھ سکتے ہیں اور نہ ہم شمار کرسکتے ہیں۔
Ayah 62:24۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت ہوا الذی بعث فی الامیین رسولا منہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں رسولا سے مراد محمد ﷺ ہیں آیت یتلو علیہم کہ وہ ان پر اس کی آیات کو پڑھتے ہیں یعنی قرآن کو آیت وان کانوا من قبل لفی ضلٰل مبین اور اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے یعنی شرک میں۔
5۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا لذی بعث فی الامیین رسولا منہم سے مراد عرب کے لوگ مراد ہیں آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم اور دوسرے لوگ جو انہیں میں سے ہیں مگر ابھی ان میں شامل نہیں اس میں اٰخرین سے مراد عجمی لوگ ہیں۔
6۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ وابو نعیم و بیہقی معاً فی الدلائل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ جب سورة جمعہ نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی اور جب اس آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم پر پہنچے تو ایک آدمی نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں جو ہم سے نہیں ملے تو آپ نے اپنا ہاتھ مبارک سلمان فارسی ؓ کے سر پر رکھا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا ستارے پر ہوگا تو ان میں سے کچھ لوگ اسے یقیناً پالیں گے۔
7۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے پر ہوگا تو اس کو اہل فارس والے لوگ پالیں گے۔
Ayah 62:38۔ طبرانی وابن مردویہ نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ میں سے کچھ لوگو کی نسلوں در نسلوں میں سے ایسے مرد اور عورتیں ہوں گی جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم وہو العزیز الحکیم۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ سارے لوگ مراد ہیں جنہوں نے اسلام کی تابعداری کی۔
10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واخرین منہم لمایلحقوا بہم سے تابعین مراد ہیں۔
11۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو عرب وعجم میں سے قیامت کے دن تک اسلام لائیں گے۔ اور نیک عمل کریں گے۔
Ayah 62:412۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ میں الفضل سے مراد ہے دین۔
Ayah 62:51۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوہا۔ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ یعنی یہودیوں نے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوہا سے مراد ہے کہ ان یہودیوں کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ اس تورات میں ہے اسے لے لو یعنی اس پر عمل کرو۔ مگر انہوں نے اس کے مطابق عمل نہیں کیا۔
3۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین حملو التوراۃ ثم لم یحملوہا کمثل الحمار یحمل اسفارا۔ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی حالت اس گدھے کی طرح ہے جو اپنے اوپر بہت سے کتابیں لادے ہوئے ہو۔ یعنی ایسی کتاب کہ جس کے بارے میں یعنی وہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے اور نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے کیا مثالیں بیان فرمائیں اور تم بھی اگر اس کتاب پر عمل نہیں کرو گے۔ تو تمہاری مثال بھی ان کی مثال کی طرح ہوگی۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت یحمل اسفارا۔ سے مراد ہے کہ وہ کتابیں اٹھائے ہوئے ہے لیکن جو کچھ ان میں ہے وہ نہیں جانتا اور نہ وہ ان کو سمجھتا ہے۔
5۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کمثل الحمار یحمل اسفارا سے مراد ہے کہ گدھا اپنی پیٹھ پر کتابیں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس پر کیا ہے۔
6۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اسفارا سے مراد ہے کتاب۔
7۔ الخطیب نے عطا بن ابی رباح (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اسفارا سے مراد ہے کتابیں فرمایا کہ نبطی زبان میں کتاب کو سفر کہا جاتا ہے۔
خطبہ کے دوران باتیں کرنا سخت گناہ ہے
9۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کے دن اس وقت بات کی جبکہ امام خطبہ دے رہا ہے تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہے اور جو شخص اسے یہ کہتا ہے کہ خاموش ہوجاؤ تو اس کا جمعہ قبول نہیں۔
ترجمہ : اے ایمان والو جب نماز جمعہ کے لیے اذان دی جائے جمعہ کے دن تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور بیع کو سودے کو چھوڑدو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو (9) پھر جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کو طلب کرو اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب وہ تجارت یا اللہ سے غافل کرنے والی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف لپک پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اللہ سے غافل کرنے والی چیزوں سے بہتر ہے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے (11)
Ayah 62:61۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان زعمتم انکم اولیاء للہ۔ اگر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ بلاشرکت غیرے تم اللہ کے محبوب اور دوست ہو یعنی وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں پھر فرمایا آیت ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیہم وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، بوجہ ان اعمال کفریہ کے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں یعنیہ وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں پھر اس کو چھپاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں۔
Ayah 62:72۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ولایتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیہم کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک بڑے اعمال کرنے والا موت کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔
Ayah 62:83۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے معمر (رح) سے روایت کیا کہ قتادہ (رح) نے یہ آیت ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ پھر تم کو عالم الغیب والشہادۃ کی طرف لے جایا جائے گا۔ تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو موت کے ذریعہ پست کیا اور میں اس کے بارے میں خوب جانتا ہوں کہ وہ اس کو بلند کردے گا۔
Ayah 62:94۔ سعید بن منصور وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کس چیز کی وجہ سے یوم الجمعہ کا نام جمعہ رکھا گیا۔ آپ نے فرمایا اس میں تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی مٹی کو جمع کیا گیا۔ اور اسی میں زلزلہ اور دوبارہ اٹھنا ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک گھڑی ایسی ہے اس میں جو دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔
5۔ سعید بن منصور واحمد والنسائی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا سول ہی بہتر جانتے ہیں اس کو آپ نے تین مرتبہ فرمایا پھر آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کی مٹی کو جمع کیا گیا کیا میں تم کو یوم الجمعہ کے بارے میں نہ بتاؤں کہ جو شخص اس میں اچھی طرح پاکی حاصل کرتا ہے یعنی غسل کرتا ہے اور اچھے کپڑے پہنتا ہے۔ اور اپنے گھر کی خوشبو لگاتا ہے اگر ان کے پاس خوشبو ورنہ پھر پانی استعمال کرتا ہے پھر مسجد آتا ہے اور خاموش ہو کر بیٹھ جاتا ہے یہاں تک کہ امام اپنی نماز پوری کرلے۔ تو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیان سب گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ جب تک بڑے گناہوں سے بچتا رہے اور یہ سارے زمانہ میں اسی طرح ہوتا ہے۔
6۔ البخاری والترمذی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا گیا۔ اور اسی دن جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن نکالے گئے۔ اور جمعہ کے دن قیامت قائم ہوگی۔
جمعہ کے دن کی فضیلت
7۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن ماجہ وابو الشیخ فی العظمہ وابن مردویہ نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن سارے دنوں کا سردار اور عظمت والا ہے اللہ کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک یوم الفطر اور یوم الاضحی سے بھی زیادہ عظمت والا ہے اور اس میں پانچ باتیں ہیں اسی میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور اسی میں ان کو زمین کی طرف اتارا۔ اور اسی میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو موت عطا فرمائی۔ اور اسی میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں کوئی بندہ کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمادیتے ہیں جب تک وہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے اور اسی میں قیامت قائم ہوگی۔ اور نہیں ہے کوئی فرشتہ اور نہ زمین اور نہ آسمان اور نہ ہوا اور نہ پہاڑ اور نہ سندر کہ وہ جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں کہ اس میں قیامت قائم ہوگی۔
8۔ احمد وابن مردویہ نے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ہم کو جمعہ کے دن کے بارے میں بتائیے کہ اس میں خیر میں سے کونسے کام ہوء۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں پانچ خصائل پائے جاتے ہیں اس میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے اور اس میں آدم (علیہ السلام) زمین پر اتارے گئے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو موت عطا فرمائی اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں جس چیز کا بھی سوال کیا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرمادیتے ہیں۔ جب تک کہ کسی گناہ کا یا قطع رحمی کا سوال نہ ہو اور اس میں قیامت قائم ہوگی اور نہیں ہے کوئی مقرب فرشتے اور نہ آسمان اور نہ زمین اور نہ پہاڑ اور نہ ہوا مگر سب جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں۔
جمعہ کا دن سید الایام ہے
9۔ ابو الشیخ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سات دنوں میں ایسا دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے دنوں پر اس کو چن لیا اور وہ جمعہ کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کرنے ا فیصلہ فرمایا۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا فرمایا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ اور اس میں ان کو جنت سے نیچے اتارا اور ان کی توبہ قبول کی۔ اور اس میں قیامت قائم ہوگی۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جن کو پیدا فرمایا کہ وہ اس دن سے گھبراتی ہے خوف کرتی ہے کہ سوائے جنات اور انسانوں کے وہ نہیں ڈرتے۔
10۔ ابن مردویہ نے کعب احبار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دنوں کو قیامت کے دن ان کی اصل ہیئت پر مبعوث فرمائے گا اور جمعہ کے دن کو چاند کی صورت میں اٹھایاجائے گا جو اپنے اہل کو روشنی دے رہا ہوگا اور انہیں اس کے ساتھ عزت دی جائے گی۔ جیسا کہ دلہن کہ اس دولہا کی عمدگی اور اچھائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے روشن کرے گا وہ لوگ اس کی روشنی میں چلیں گے۔ اس کے رنگ ان کے لیے برف کی طرح سفید ہوں گے۔ ان کی ہوائیں کستوری کی طرح پھیل رہی ہوں گی اور غوطہ زن ہوں گے کافور کے پہاڑوں میں۔ ان کی طرف جن وانس ان کی طرف تعجب سے آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھیں گے۔ یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ان سے کوئی نہیں ملے گا سوائے اخلاص کے ساتھ اذان دینے والے کے۔
11۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب دنوں کا سردارجمعہ کا دن ہے۔
12۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداوٗد والنسائی وابن ماجہ والدارمی وابن خزیمہ وابن حبان اور حاکم نے اوس بن اوس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے دنوں میں افضل ترین دن جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے اور اس میں صور پھونکا جائے گا اور اس میں زلزلہ ہوگا۔
13۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ کسی دن میں سورج طلوع نہیں ہوتا کہ وہ زیادہ عظمت والا ہو جمعہ کے دن سے جب جمعہ کے دن سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ چیز اس سے خوفزدہ ہوجاتی ہے انسان اور جنات کے کہ جن پر حساب ہے عذاب ہے۔
14۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن، جنات اور انسان کے علاوہ ساری مخلوق گھبراجاتی ہے۔ اور اس دن میں نیکی اور برائی دگنا کردی جاتی ہے اور یہی قیامت کا دن ہے۔
15۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن نیکی کا ثواب دگنا کیا جاتا ہے۔
16۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور ان کے ہاتھ میں شیشے کی طرح کی ایک چیز تھی۔ اور اس میں سیاہ نکتہ تھا۔ آپ نے پوچھا اے جبرئیل یہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا یہ جمعہ ہے۔
17۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کے ہاتھ میں شیشہ کی طرح ایک سفید چیز تھی اور اس میں سیاہ نکتے کی طرح کچھ تھا۔ میں نے پوچھا اے جبرئیل یہ کیا ہے ؟ تو انہوں ننے کہا یہ جمعہ ہے۔ میں نے پوچھا جمعہ کیا ہے ؟ فرمایا تمہارے لیے اس میں خیر ہے۔ میں نے کہا اس میں ہمارے لیے کیا ہے ؟ فرمایا آپ کے لیے عید ہوگی اور آپ کے بعد کی قوم یعنی امت کے لیے بھی۔ اور یہود و نصاری بھی آپ کے تابع ہوں گے۔ پھر میں نے کہا ہمارے لیے اس میں کیا ہوگا۔ فرمایا تمہارے لیے اس میں ایک گھڑی ایسی ہوگی کہ جو مسلمان بندی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی کسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے جو تمہارے حصہ میں ہو۔ تو یقیناً اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا فرما دیتا ہے اور اگر اس طرح نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے پاس سے اس سے افضل اور بہتر چیز اپنے پاس ذخیرہ کرلیتا ہے یا پھر اس کے بدلے ایسے شر سے پناہ عطا فرما دیتا ہے جو اس پر لکھا ہوا تھا۔ ورنہ اس سے بڑی اور شدید آزمائش اس سے پھیر دیتا ہے۔ پھر میں نے اس سے پوچھا اس میں یہ نکتہ کیا ہے ؟ تو جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا یہ قیامت ہے اور یہ جمعہ کے دن قائم ہوگی اور وہ ہمارے نزدیک دنوں کا سردار ہے۔ اور ہم اس کو یوم القیامۃ اور یوم المزید کے نام سے پکارتے ہیں میں نے کہا وہ کیسے ؟ تو جبریل ﷺ نے فرمایا کہ آپ کے رب نے جنت میں سفید مشک کی ایک وادی بنائی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ علیین سے اپنی کرسی پر نزول فرمائیں گے۔ پھر کرسی کے اردگرد سونے کے ایسے منبر بچھائے جائیں گے جو جواہرات سے مرصع اور مزین ہوں گے۔ پھر حضرات انبیاء (علیہم السلام) آئیں گے اور ان پر تشریف فرما ہوں گے اور اہل غرف جن تکے محلات میں رہنے والے اتریں گے اور ٹیلوں پر بیٹھ جائیں گے پھر ان کے لیے ان کا رب تبارک وتعالیٰ تجلی فرمائے گا۔ اور ارشاد فرمائے گا مجھ سے سوال کرو میں تم کو عطا کرو گا تو وہ لوگ رضا کا سوال کریں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر شاہد بنائے گا کہ میں ان سے راضی ہوں اور ان کے لیے وہ چیزیں ظاہر فرمادے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے، نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اور وہ تمہارے جمعہ کے دن سے واپس پھرنے کی مقدار ہوگا پھر وہ بلند ہوجائے گا اور اس کے ساتھ انبیاء اور صدیقین اور شہدا بھی بلند ہوجائیں گے اور اہل غرف اپنے محلات کی مطرف لوٹ جائیں گے اور یہ محل ایک سفید موتی ہوگا جس میں نہ کوئی سوراخ اور نہ پھٹن ہوگی یا سرخ رنگ کا موتی ہے۔ یا سبز رنگ کا زبرجد ہے جس میں کئی کمرے ہیں ان کے دروازہ پر نقش ونگار بنے ہوئے ہیں اور اس میں اس کی نہریں اور اس کے لٹکے ہوئے پھل ہیں پھر فرمایا وہ کس چیز کی طرف ان میں سے حاجت مند نہیں ہوں گے جمعہ کے دن سے بڑھ کر اس لیے تاکہ وہ اپنے رب کے حسن وقدرت کا کثرت سے دیدار کرسکیں۔ اور اس کی جانب سے عزت و کرامت میں اضافہ کرسکیں۔
جمعہ کی قبولیت دعاء کی گھڑی
18۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ مسلمان بندہ اس میں کسی چیز کی بھی دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔
19۔ ابن ابی شیبہ نے کثیر بن عبداللہ المزنی سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جمعہ کے دن ایسی گھڑی ہے کہ کوئی بندہ جو چیز بھی اپنے رب سے مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرما دیتا ہے پوچھا گیا وہ کونسی گھڑی ہے ؟ فرمایا کہ وہ نماز کے لیے اقامت کہے جانے سے لے کر اس سے فارغ ہونے تک ہے۔
20۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن عرفہ کے دن کی طرح ہے اس میں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بندہ اس میں کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو طا فرمادیتے ہیں پوچھا گیا وہ کونسی گھڑی ہے ؟ فرمایا جب موذن صبح کی نماز کے لیے اذان کہتا ہے۔
21۔ ابن ابی شیبہ نے دوسری سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کا دن عرفہ کے دن کی طرح ہے بلاشبہ اس میں اک ایسی گھڑی ہے جس میں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پوچھا گیا وہ کونسی گھڑی ہے فرمایا جب نماز کی اذان دی جائے۔
22۔ ابن ابی شیبہ نے عطا کے طریق سے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت کیا کہ وہ گھڑی جس کا ذکر جمعہ میں کیا جاتا ہے وہ کون سی ہے ؟ عطا (رح) نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ وہ گھڑی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے کہ جس میں نماز ادا کی جاتی ہے تو جواب سن کر انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی اور جو کچھ میں نے کہا اسے خوب پسند فرمایا۔
23۔ ابن ابی شیبہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا میں امید کرتا ہوں کہ وہ گھڑی جو جمع میں ہے ان گھڑیوں میں سے ایک ہے جب موذن اذان دے یا امام منبر پر بیٹھ جائے یا اقامت کے وقت۔
24۔ ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ گھڑی سورج کے زوال کے وقت ہوتی ہے۔
25۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ گھڑی خریدوفروخت کے حرام ہونے کے وقت سے لے کر اس کے حلال ہونے تک کے درمیانی وقت میں ہے۔
26۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہی گھڑی جس میں دعا قبول ہوتی ہے جمعہ کے دن وہ امام کے نماز میں کھڑی ہونے سے لے کر اس سے فارغ ہونے تک ہے۔
27۔ ابن ابی شیبہ نے عورف بن حصیرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ گھڑی جس کی جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی امید اور توقع کی جاتی ہے وہ امام کے خطبہ کے لیے نکلنے سے لے کر نماز کے پورے ہونے کے درمیان میں واقع ہے۔
28۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ وہ گھڑی جمعہ کے دن میں جس میں دعا قبول ہونے کی امید کی جاتی ہے وہ عصر کے بعد ہے۔
جمعہ کے دن عصر کے بعد عبادت کی فضیلت
29۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ گھڑی عصر کے بعد ہے
30۔ ابن ابی شیبہ نے ہلال بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان آدمی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمادیتے ہیں ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے کونسی چیز مانگا کروں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کر۔
31۔ ابن ابی شیبہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور جس چیز سے وہ اپنی طہارت اور پاکیزگی کی استطاعت رکھتا ہے اس سے خوب پاکیزگی حاصل کرتا ہے پھر تیل لگاتا ہے اور اپنے گھر کی خوشبو میں سے لگا تا ہے پھر وہ نماز کے لیے چل پڑتا ہے اور دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہیں کرتا۔ پھر نماز پڑھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے فرض کی ہے پھر وہ خاموش ہوجاتا ہے جب امام گفتگو کرتا ہے یعنی خطبہ دیتا ہے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے ان سب گناہوں کی جو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان ہوتے ہیں۔
32۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے سائب بن یزید ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کی وہ اذان جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا وہ رسول اللہ ﷺ کے مقدس زمانہ میں اور ابوبکر صدیق اور عمر فاروق اور عثمان ؓ کے دور خلافت میں اکثر دی جاتی تھی کہ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا تو موذن اذان کہا کرتا تھا پھر جب آبادی دور تک پھیل گئی اور لوگ زیادہ ہوگئے تو حضرت عثمان ؓ نے پہلی اذان کا آغاز فرمایا۔ اور لوگوں نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا لیکن لوگوں نے اس وقت آپ پر اعتراض کیا جب آپ نے منیٰ میں پوری نماز پڑھائی راوی نے بیان کیا کہ ہم عمر ؓ کے زمانہ میں نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب نکل کر منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنی نماز اور اپنی گفتگو کو ختم کردیتے تھے۔ اور کبھی حضرت عمر ؓ بعض ایسے لوگوں کے پاس آتے جو آپ کی ولایت میں ہوتے اور آپ ان سے ان کی تجارت کے بارے میں پوچھتے اور آپ ان سے بازار کے متعلق پوچھتے اس حال میں کہ موذن اذان کہہ رہا ہوتا جب موذن خاموش ہوتا تو حضرت عمر کھڑے ہوتے اور کلام فرماتے اور کوئی بھی گفتگو نہ کرتا یہاں تک کہ آپ خطبہ سے فارغ ہوجاتے۔
33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے کہ اس سے مراد وقت ہے یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان کہی جائے۔
34۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ذکر یعنی نماز کے قت اذان کہنا واجب ہے۔
35۔ ابو الشیخ نے کتاب الاذان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر فرض نماز کے ساتھ اذان بھی نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہالذین اٰمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے اذان کہی جائے تو تم اللہ کی یاد یعنی نماز وخطبہ کی طرف فورا چل پڑا کرو۔
36۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ مدینہ والے، نبی اکرم ﷺ کی تشریف آوری اور جمعہ کے نازل ہونے سے پہلے مدینہ والے جمع ہوئے۔ انصار نے کہا کہ یہودیوں کا ایک دن ہے سات دنوں میں جس میں وہ جمع ہوتے ہیں اسی طرح نصاریٰ کا بھی ایک دن مقرر ہے پس تم بھی آجاؤ کہ ہم ایک دن مقرر کرلیں جس میں ہم جمع ہوں گے۔ اور ہم اللہ کا ذکر کریں گے اور اس کا شکر ادا کریں گے۔ پھر انہوں نے کہا ہفتہ کا دن یہود کے لیے ہے۔ اور اتوار کا دن نصاریٰ کے لیے ہے۔ اور تم یوم العروبہ کو مقرر کرلو۔ اور وہ جمعہ کے دن کو یوم العروبہ کہتے تھے۔ وہ لوگ اسعد بن زرارہ کے پاس جمع ہوئے تو آپ نے ان کو اس دن دورکعتیں پڑھائیں۔ اور ان کو ذکر کرایا۔ انہوں نے اس کا نام جمعہ رکھا۔ جب وہ اس کے پاس جمعہ ہوتے وہ ان کے لیے بکری ذبح کرتا اور ان کو صبح وشام کھلاتا اس وقت ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔
جمعہ کی اجازت ہجرت سے قبل
37۔ دارقطنی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو ہجرت کرنے سے پہلے جمعہ کی اجازت دے دی گئی تھی۔ لیکن مکہ مکرمہ میں جمع ہونا ممکن نہ ہوا تو آپ نے مصعب بن عمیر ؓ کی طرف لکھا اما بعد تم دیکھو جس دن یہودی زبور لے کر اکٹھے ہوتے ہیں پر تم بھی اپنی عورتوں اور اپنے بیٹوں کو جمع کرو جب جمعہ کے دن زوال کے وقت دن نصف سے ڈھل جائے تو دو رکعتوں کے ساتھ اللہ کا تقرب حاصل کرو دو رکعتوں کے ساتھ یعنی دو رکعت پڑھ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہی پہلا جمعہ تھا یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور زوال کے بعد ظہر کے وقت میں اجتماع ہوا اور یہ روایت اوپر والی روایت سے زیادہ اظہر ہے۔
38۔ ابو داوٗد وابن ماجہ وابن حیات اور بیہقی نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ان کا والد جمعہ کے دن جب اذان کی آواز سنتا تھا۔ تو اسعد بن زرارہ ؓ کو دعائیں دیتا تھا میں نیان سے کہا اے میرے اباجان مجھے بتائیے میں نے آپ کو استغفار کرتے ہوئے دیکھا ہے اسعد بن زرارہ کے لیے جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ پہلا آدی ہے جس نے ہم کو نقیع مقام میں جمع کیا جس کو نقیع الخضمان من حرۃ بنی بیاضہ کہا جاتا ہے میں نے پوچھا اس دن تم کتنے آدمی تھے فرمایا چالیس آدمی۔
39۔ طبرانی نے ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا کہ مہاجرین میں سے سب سے پہلے مصعب بن عمیر ؓ مدینہ منورہ تشریف لائے اور وہ پہلے آدمی تھے۔ جنہوں نے جمعہ کے دن سب سے پہلے جمعہ پڑھا یا رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اور وہ بارہ آدمی تھے۔
40۔ زبیر بن بکار نے اخبار المدینہ میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قبا سے جمعہ کے دن چلے اور قبیلہ بنوسالم کے پاس سے گزرے اور وہیں آپ نے بنو سالم کے ساتھ جمعہ پڑھا اور وہی مسجد ہے جو بطن وادی میں ہے۔ اور یہ سب سے پہلا جمعہ تھا جو رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا۔
جمعہ ترک کرنے پر وعید
41۔ ابن ماجہنے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ فرض کیا ہے میری اس جگہ میں، میرے اس دن میں، میرے اس مہینے میں اور میرے اس سال میں قیامت کے دن تک۔ جس نے اس کو ترک کردیا اس کو حقیر سمجھتے ہوئے یا اس کا انکار کرتے ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے بکھرے ہوئے معاملات کو جمع نہیں کرے گا اور نہ اس کے کام میں برکت دے گا اور نہ اس کی نماز ہوگی نہ اس کی زکوٰۃ ہوگی نہ اس کا حج ہوگا نہ اس کا روزہ ہوگا۔ نہ اس کے لیے برکت ہوگی یہاں تک کہ وہ توبہ کرے اور جس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالیں گے۔
42۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اس وقت آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ لوگ جمعہ اور جماعتوں کو ترک کرنے سے باز آجائیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیں گے اور ان کو غافلین میں لکھ دیں گے۔
43۔ ابن ابی شیبہ نے سمرۃ بن جندب ؓ سے مرفعوا روایت کیا کہ جس شخص نے بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر پردہ ڈال دے گا۔
44۔ احمد والحاکم نے ابوقتادہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جس شخص نے بغیر عذر کے تین جمع مسلسل چھوڑ دئیے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیں گے۔
45۔ نسائی وابن ماجہ وابن خزیمہ نے جابر ؓ کی حدیث سے اسی طرح روایت کیا۔
46۔ احمد وابن حبان نے ابوالجحد ضمری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے تین جمعے بغیر عذر کے چھوڑدئیے تو وہ منافق ہے۔
47۔ ابویعلی والمزوری نے الجمعہ میں محمد بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اللہ کے نزدیک جمعہ کے دن سب دنوں کا سردار ہے اور یہ یوم النحر اور یوم الفطر سے بھی زیادہ عظمت والا ہے اور اس میں پانچ خصوصیات ہیں کہ اس دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے اور اس دن جنت سے زمین پر اتارے گئے۔ اور اس دن آدم (علیہ السلام) کی وفات ہوئی۔ اور اس دن میں ایسی گھڑی ہے کہ جو بندہ اس میں اپنے رب سے سوال کرتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ عطا فرمادیتے ہیں جب تک وہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے اور اس دن قیامت قائم ہوگی۔
48۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے میمون بن ابی شعیب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حجاج کے زمانہ میں جمعہ کا ارادہ کیا۔ اور جانے کے لیے تیار ہوا پھر میں نے کہا کہ میں کہاں جاؤں گا اور اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا کبھی خیال آتا کہ جاؤں اور کبھی خیال آتا کہ نہ جاؤں بالآخر میں نے اپنی رائے کو جانے کے لیے جمع کیا۔ تو اتنے میں مجھے گھر کی ایک جانب سے ایک بلانے والے نے آواز دی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لیے اذان کہی جائے تو تم اللہ کی یاد یعنی نماز جمعہ اور خطبہ کی طرف فورا چل پڑو۔
جمعہ کے لیے جلدی روانہ ہونا
49۔ ابوعبید فی فضائلہ و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن الانباری نے المصاحف میں خرشہ بن ھر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے میرے پاس ایک تختی دیکھی جس میں لکھا ہوا تھا آیت اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔ پوچھا تجھ پر کس نے یہ املا کرائی۔ میں نے کہا ابی بن کعب ؓ نے تو فرمایا کہ بلاشبہ ابی ؓ ہم سے زیادہ تر منسوخ کو پڑھنے والے ہیں یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے آیت فامضوا الی ذکر اللہ چلو تم اللہ کے ذکر کی طرف۔
50۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ابی ؓ اس طرح پڑھتے تھے آیت فامضوا الی ذکر اللہ عمر ؓ نے فرمایا کہ ابی ؓ منسوخ کو ہم سے زیادہ جانتے تھے اور وہ اس کو اس طرح پڑھتے ہیں آیت فامضوا الی ذکر اللہ۔
51۔ شافعی فی الام وعبد الرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر کو ہمیشہ اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت فامضو الی ذکر اللہ۔
52۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر ؓ کو سنا آپ ہمیشہ اس طرح پڑھتے تھے آیت فامضوا الی ذکر اللہ۔
53۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ وفات پاگئے اور آپ سورة جمعہ کی یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے آیت فامضوا الی ذکر اللہ۔
54۔ عبدالرزاق وفریابی وابو عبید و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن الانباری و طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت فامضوا الی ذکر اللہ اور فرمایا اگر فاسعوا ہوتا تو میں یقیناً دوڑتا یہاں تک کہ میری چادر گر جاتی۔
55۔ عبدالرزاق والطبرانی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ہے آیت فامضوا الی ذکر اللہ اور یہ اس قول کی طرح ہے آیت ان سعیکم لشتی (اللیل آیت 4) بلاشبہ تمہاری کوشش مختلف ہے۔
56۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ کے طریق سے ابی بن کعب اور ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دونوں اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت فامضوا الی ذکر اللہ۔
57۔ ابن المنذر نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت فامضوا الی ذکر اللہ۔
58۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاسعوا الی ذکر اللہ سے مراد ہے کہ تم اللہ کے ذکر کی طرف چلو۔
59۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فاسعوا الی ذکر اللہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے پاؤں کے ساتھ دوڑنا مراد نہیں ہے بلکہ اس سے منع کیا گیا اور فرمایا گیا ہے کہ نماز کے لیے سکون اور وقار سے آؤ۔ لیکن اس سے مراد ہے کہ دلوں نیت اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کے لیے کوشش کرنا ہے۔
60۔ عبد بن حمید اور بیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ (رح) سے آیت فاسعوا الی ذکر اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ سعی سے مراد ہے کہ تم کوشش کرو اپنے دل کے ساتھ اور اپنے عمل کے ساتھ۔ اور مراد ہے نماز کی طرف آنا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فلما بلغ معہ السعی (الصافات آیت 102) پھر جب اس کے ساتھ چلنے پھرنے لگا یعنی یہ جب کہا کہ جب اسماعیل (علیہ السلام) اپنے والد ابراہیم عیہ السلام کے ساتھ چلنے کے قابل ہوگئے۔
61۔ عبد بن حمید نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم جمعہ کے دن انس بن مالک ؓ کے ساتھ تھے انہوں نے نماز کی اذان سنی تو فرمایا کھڑا ہوجاتا کہ ہم اس کی طرف سعی کریں۔
62۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاسعوا الی ذکر اللہ سے مراد ہے نماز کی طرف جانا اور چلنا۔
63۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سعی سے مراد ہے عمل اور سعی پاؤں کے ساتھ دوڑنا نہیں ہے۔
64۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ سعی سے مراد عمل ہے۔
65۔ عبد بن حمید نے ابن عباس اور عکرمہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
66۔ بیہقی نے اپنی سنن میں عبداللہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن میں مسجد کی طرف نکلا۔ ابوذر ؓ سے میری ملاقات ہوئی اس درمیان کے میں چل رہا تھا اچانک میں نے اذان سنی۔ تو میں نے چلنے میں تیز تیز قدم اٹھائے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے آیت اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ۔ تو انہوں نے مجھے شدت کے ساتھ کھینچ لیا تو فرمایا کیا ہم نماز کی طرف سعی میں نہیں ہیں۔
67۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاسعوا الی ذکر اللہ سے مراد ہے امام کی وعظ ونصیحت۔
68۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن تجارت حرام کردی گئی۔ پہلی اذان سے لے کر اقامت تک اور امام کے نماز سے فارغ ہونے تک کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت یا ایہا الذین آمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ سے لے کر وذرو البیع تک۔
69۔ عبد بن حمید نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمی اپنی تجارت کی غرض سے شام کی طرف سے آتے تھے۔ بسا اوقات وہ جمعہ کے دن آتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے وہ آپ کو پکارتے تھے اور بیع کے علاوہ جس کام میں ہوتے اس میں لگے رہتے۔ یہاں تک کہ نماز کھڑی ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے جو ہوتا رہا وہ ان پر حرام کردیا گیا۔
70۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ وہ اذان جن کے ساتھ خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے وہ اذان ہے جو امام کے نکلنے کے وقت دی جاتی ہے یعنی خطبہ کی اذان پھر فرمایا کہ میرا خیال یہ ہے کہ اب پہلی اذان کے وقت خریدو فروخت چھوڑدی جائے۔
71۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے۔
جمعہ کے دن زوال کے بعد تجارت کا ممنوع ہونا
72۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن جب سورج زائل ہوجائے تو خریدو فروخت اور تجارت حرام ہوجاتی ہے یہاں تک کہ نماز پوری ہوجائے۔
73۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء اور حسن رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
74۔ عبد بن حمید نے ایوب (رح) سے روایت کیا کہ مدینہ والوں کے لیے جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی تھی جس میں ان کو آواز دی جاتی تھی کہ خریدو فروخت حرام ہے اور وہ گھڑی امام کے نکلنے کے وقت ہے۔
75۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ مدینہ منورہ میں جمعہ کے دن جب موذن اذان دیتا تو بازاروں میں آواز لگاتے تھے کہ خریدو فروخت حرام ہے، خریدو فروخت حرام ہے۔
76۔ عبد بن حمید نے عبدالرحمن بن قاسم (رح) سے روایت کیا کہ جب قاسم جمعہ کے دن اپنے گھروالوں کے پاس آئے اور ان کے پاس ایک عطر بیچنے والا تھا جو بیچ رہا تھا۔ تو انہوں نے اس سے خریدا اور قاسم جمعہ کی طرف چلے گئے دیکھا کہ امام خطبہ کی طرف آچکے ہیں تو انہوں نے ان کو حکم دیا کہ بیع کو توڑدیں۔
77۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا جس نے جمعہ کے دن زوال کے بعد کوئی چیز بیچی۔ تو اس کا بیچنا مردود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خریدو فروخت سے منع فرمایا جب جمعہ کے دن اذان ہوجائے۔
78۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عطاء (رح) سے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی ایسی چیزکو سوائے خریدو فروخت کے جو پہلی ازان کے وقت حرام ہوجاتی ہے تو عطاء (رح) نے فرمایا جب پہلی اذان ہوجاتی ہے تو لہو ولعب اور خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے۔ تو سارے کاروبار خریدو فروخت اور سونے کے قائم مقام ہیں۔ کہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے یا کچھ لکھنے لگے۔ پھر میں نے کہا جب پہلی اذان ہوجائے کیا اس وقت نماز کی طرف چلنا واجب ہے۔ فرمایا ہاں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے آیت اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فرمایا ہاں چاہیے کہ اس وقت ہر چیز کو چھوڑدے اور چاہیے کہ جمعہ کی نماز کی طرف چل دے۔
Ayah 62:1079۔ ابو عبید وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن بسر الحرانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بشر المازنی ؓ کو دیکھا کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکلے تو کچھ دیر بازار میں گھومے پھر مسجد کی طرف لوٹ آئے۔ پھر وہ نماز پڑھتے جتنا اللہ چاہتا کہ وہ پڑھیں تو ان سے پوچھا گیا۔ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا میں نے سید المرسلین ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اس کے بعد تم کو اجازت ہے کہ زمین پر چلو پھرو۔ اور خداداد روزی تلاش کرو۔
80۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب جمعہ کے دن نماز سے فارغ ہوجاؤ تو مسجد کے دروازہ کی طرف نکلو اور کسی چیز کا سودا کرو اگرچہ تو اس کو نہ خریدے۔
81۔ ابن المنذر نے الولید بن رباح (رح) سے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ سے لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے۔ جب سلام پھیرتے تو بلند آواز سے یہ آیت پڑھتے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فاتنشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ تو لوگ دروازوں کی طرف جلدی سے بڑھتے۔
82۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہددوعطا رحمہما اللہ سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض کے بارے میں روایت کیا کہ اگر چاہو تو ایسا کرلو اور اگر چاہو تو ایسا نہ کرو۔
جمعہ کے دن تجارت کی اجازت
83۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوجائے اگر چاہے تو نکل جائے اور اگر چاہے تو مسجد میں بیٹھا رہے۔
84۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ زمین میں چلنا پھرنا نماز کے بعد دنیا کی طلب کے لیے نہیں ہے بلکہ مریض کی عیادت اور جنازہ میں حاضر ہونے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لیے۔
85۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا کی طلب میں سے کسی چیز کے بارے میں یہ حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ اس سے مراد ہے مریض کی عیادت کرنا جنازہ سے حاضر ہونا اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے بھائی سے ملاقات کرنا۔
86۔ طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کی نماز پڑھی اور اس دن روزہ بھی رکھا اور مریض کی عیادت بھی کی۔ اور جنازہ میں بھی حاضرہوا۔ اور نکاح میں بھی حاضرہوا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔
87۔ سعید بن منصور وابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک مدینہ منورہ کا ایک قافلہ آپہنچا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ اس کی طرف دوڑے یہاں تک کہ ان میں صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر ؓ ان میں سے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت واذا رأوا تجارۃ او لہوا ان انفضوا الیہا اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشہ ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے سورة کے آخرتک۔
88۔ بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے دحیہ بن خلیفہ ؓ اپنا سامان بیچنے کے لیے آگئے۔ مسجد میں کوئی باقی نہیں رہا سوائے چند افراد کے اور نبی ﷺ کھڑے رہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا۔ الایۃ۔
89۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا وترکوک قائما کے بارے میں روایت کیا کہ دحیۃ الکلبی سامان تجارت لے کر آئے تو سب لوگ دیکھنے کے لیے باہر نکل گئے سوائے سات آدمیوں کے۔