62. Surah Al-Jumu'a
الجمعةFriday · 11 ayahsتفسیر درِ منثور
وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader
اور جب وہ تجارت یا اللہ سے غافل کرنے والی کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف لپک پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اللہ سے غافل کرنے والی چیزوں سے بہتر ہے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے
90۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا وترکوک قائما۔ کے بارے میں روایت کیا کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ کا قافلہ آیا تو کھانے پینے کا سامان اٹھائے ہوئے تھا۔ تو جمعہ سے لوگ باہر نکل گئے ان میں سے بعض تو سامان خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے اور ان میں سے بعض دحیہ ؓ کو دیکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا اور مسجد میں میں صرف بارہ مرد اور سات عورتیں باقی رہ گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم سب کے سب نکل جاتے تو ان پر مسجد آگ سے بھڑک اٹھتی۔
تجارتی قافلہ کا مدینہ منورہ آمد
91۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن اونٹوں کا ایک قافلہ مدینہ میں آیا۔ اور رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشادفرما رہے تھے۔ تو اکثر لوگ اٹھ کر چلے گئے جو مسجد میں تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت اتاری آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا۔
92۔ ابو داوٗد اپنی مراسیل میں مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے عید کی نمازوں کی طرح۔ یہاں تک کہ جب جمعہ کا دن تھا اور نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اور جمعہ کی نماز پڑھ چکے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور کہا کہ دحیہ بن خلیفہ ؓ تجارت کے سامان کے ساتھ آچکا ہے جب دحیہ ؓ آئے تھے ان کے گھر والے اس کی آمد پر دف بجاتے ہوئے اس سے ملاقات کرتے تھے تاکہ اس کے آنے کی سب کو اطلاع ہوجائے لوگ مسجد سے باہر نکل گئے اور ان کا یہ گمان تھا کہ خطبہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا پھر نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کو نماز سے پہلے کردیا اور نماز کو موخر فرمادیا۔
93۔ بیہقی نے شعب الایمان میں مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور دحیہ کلبی ؓ ایک تاجر آدمی تھے اور اسلام لانے سے پہلے وہ مدینہ کی طرف تجارت کا سامان لے کر آتے تھے تو لوگ باہر نکل پڑتے ان کے سامان کو دیکھنے کے لیے کہ وہ کیا لے کر آئے ہیں اور ان سے سامان خریدتے وہ ایک دن جمعہ کے دن آئے اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں تھے۔ اور آپ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ دحیہ کے اونٹوں کا قافلہ جب مدینہ میں داخل ہوا تو ان کے خاندان والوں نے طبلے اور دوسرے سامان لہو کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ یہ وہی کھیل کود ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔ لوگوں نے مسجد میں سنا کہ دحیہ تجارت کا سامان لے کر احجار الزیت کے پاس اترچکا ہے۔ اور یہ مدینہ کے بازار میں ایک جگہ تھی۔ لوگوں نے آوازیں سنیں تو بہت سے لوگ دحیہ کی طرف نکل کھڑے ہوئے اس کے تجارت کے سامان اور تماشہ کو دیکھنے کے لیے۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑا ہوا چھوڑدیا۔ آپ کے ساتھ کوئی بڑی تعداد نہ رہی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ انہوں نے ایسا تین مرتبہ کیا۔ اور ہم کو یہ بات بھی پہنچی کہ وہ تعداد جو مسجد میں نبی ﷺ کے ساتھ باقی رہی۔ وہ تھوڑی تعداد تھی۔ نبی ﷺ نے اس وقت فرمایا اگر یہ لوگ نہ ہوتے جو مسجد میں باقی ہیں نبی ﷺ کے پاس۔ تو میں ان کے لیے آسمان سے پتھر برستنے کی دعا کرتا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی آیت قل ماعنداللہ خیر من اللہو ومن التجارۃ واللہ خیر الرازقین۔ ان سے کہو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔
94۔ ابن جریر وابن المنذر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اور جب کوئی نکاح ہوتا تو اس کے گھر والے کھیل کود کرتے دف بجاتے اور کھیل وکود کرتے ہوئے مسجد کی طرف سے گذرے اور جب بطحاء میں اترتے تو سب جمع ہو کر خوب شور وشغب کرتے اور بطحاء مسجد کے میدان میں ایک بیٹھنے کی جگہ تھی۔ جو بقیع مرقد سے ملی ہوئی تھی۔ اور دیہاتی لوگ جب گھوڑے، اونٹ، ریوڑ اور دوسرا دیہات کا سامان لے کر آئے تو وہ بطحاء میں ہی اترتے تھے جب ایک بار اسی طرح کی آواز ان لوگوں نے سنی جو خطبہ کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ تو وہ تماشے اور تجارت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ دیا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنین کو عتاب فرمایا اپنے نبی ﷺ کے لیے اور فرمایا آیت واذارأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا وترکوک قائما۔
95۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا لیہا کے بارے میں روایت کیا کہ لوگ اٹھ کھڑے ہوتے تھے اپنے پانی لانے والے اونٹوں اور سفر کرنے والے اونٹوں کی طرف اور اس سے تجارت اور کھیل کود کا ارادہ کرتے۔
96۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اچانک مدینہ طیبہ کا ایک تجارتی قافلہ آگیا تو لوگ اٹھ کر اس کی طرف چل دئیے اور نبی ﷺ کو چھوڑدیا۔ صرف ایک چھوٹی سی جماعت آپ کے پاس باقی رہ گئی ان میں ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے۔ یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تم ایک دوسرے کے پیچھے چلے جاتے یہاں تک کہ میرے ساتھ کوئی بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بھر کر بہہ پڑتی۔
97۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہوئے۔ ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور ان کو وعظ و نصیحت فرمائی۔ تو اسی دوران کہا گیا کہ ایک قافلہ آگیا ہے لوگ اٹھنا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ایک چھوٹی سی جماعت باقی رہ گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کتنے ہو ؟ تو انہوں نے اپنے آپ کو شمار کیا تو صرف بارہ مرد اور عورتیں تھیں۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر تمہارا آخری آدمی ان کے پیچھے چلا جاتا تو وادی میں تم پر آگ کو بھڑکا دیا جاتا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ نازل فرمایا آیت واذا راأ تجارۃ الایۃ۔
98۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ او لہوا سے مراد ہے طبلہ بجانا۔
99۔ بیہقی نے شعب الایمان میں بیہقی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ تو گھی اور اس طرح کی کچھ چیزیں سامنے آگئیں لوگوں نے اس کی طرف جانا شروع کیا یہاں تک کہ تھوڑے سے لوگ باقی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم سب ایک دوسرے کے پیچھے چلے جاتے تو وادی آگ سے بھڑک اٹھتی۔
100۔ ابن ابی شیبہ وابن ماجہ والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے نہیں پڑھا آیت وترکوک قائما۔
101۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور عبدالرحمن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے فرمایا اس خبیث کی طرف دیکھو کہ بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ فرم اچکے ہیں آیت وترکوک قائما۔
102۔ احمد وابن ماجہ وابن مردویہ نے جابر بن سمرۃ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔
103۔ احمد وابن ابی شیبہ ومسلم وابو داوٗد والنسائی وابن ماجہ نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے ارشاد فرماتے جن کے درمیان بیٹھتے اس میں قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔
104۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ دو خطبے ارشاد فرماتے تھے اور ان کے درمیان بیٹھتے تھے۔
جمعہ کے لیے دو خطے ارشاد فرمانا
105۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے پھر بیٹھ جاتے تھے پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے تھے
106۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے جمعہ کے دن نبی ﷺ کے خطبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت وترکوک قائما۔
107۔ ابن ابی شیبہ نے عمرو بن مرۃ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوعبیدہ ؓ سے جمعہ کے دن کے خطبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت وترکوک قائما۔
108۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابو بکر، عمر اور عثمان ؓ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ اور سب سے پہلے منبر پر بیٹھ کر جنہوں نے خطبہ دیا وہ معاویہ بن ابی ابی سفیان ؓ ہیں۔
109۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن منبر پر بیٹھنا یعنی بیٹھ کر خطبہ دینا بدعت ہے۔
110۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ حضرت معاویہ ؓ نے بیٹھ کر خطبہ دیا جب ان کی پیٹ کی چربی اور گوشت زیادہ بڑھ گیا (یعنی کھڑا ہونا ان کے لیے مشکل ہوگیا)
111۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن جب منبر پر چڑھتے تو اپنے مقدس چہرے کے ساتھ لوگوں کا استقبال کرتے۔ یعنی اپنا چہرہ لوگوں کے سامنے رکھتے۔ اور فرماتے السلام علیکم اور اللہ کی حمدوثنا بیان کرتے پھر سورة پڑھتے اور بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ ارشاد فرماتے پھر نیچے اتر آتے حضرت ابوبکر اور عمر ؓ بھی ایسا کرتے تھے۔
112۔ ابن ابی شیبہ نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا خطبہ اور نماز مختصر اور چھوٹی ہوتی تھی۔
113۔ ابن ابی شیبہ نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جمعہ کی نماز مختصر ہوتی تھی خطبہ کی وجہ سے۔
114۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے خطبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی وترکوک قائما۔
115۔ ابن ابی الدنیان شعب الایمان میں اور الدیلمی نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جمعہ میں نبی ﷺ کے خطبہ کو تلاش کیا تو اس نے مجھے تھکا دیا تو میں نبی ﷺ کے اصحاب کے ایک صحابی ؓ کے ساتھ چمٹ گیا۔ اور اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ آپ جمعہ کے دن اپنے خطبے میں یہ فرماتے تھے۔ اے لوگو ! بیشک تمہارے لیے ایک علم ہے سو تم اپنے علم کی انتہاء کو پہنچو اور تمہارے لیے ایک غایت اور درجہ ہے پس تم غایت کی انتہا تک پہنچو۔ کیونکہ مومن دو خوفوں کے درمیان ہے۔ ایک اس عمر کا خوف جو گزر چکی وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس میں کیا کرنے والے ہیں۔ پس مومن بندہ کو چاہیے کہ وہ توشہ اور زاد راہ حاصل کرکے اپنے نفس سے اپنے لیے اور اپنی دنیا میں سے اپنی آخرت کے لیے۔ اور جوانی میں سے بڑھاپے سے پہلے اور اپنی صحت سے بیماری سے پہلے۔ کیونکہ تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے اور دنیا پیدا کی گئی ہے تمہارے لیے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے موت کے بعد رضامندی کو طلب کرنے والا موقعہ نہیں اور دنیا کے بعد کوئی گھر نہیں ہوگا سوائے جنت اور دوزخ کے اور میں مغفرت طلب کرتا ہوں اپنے لیے اور تمہارے لیے۔
116۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہم کو یہ بات پہنچی ہے۔ کہ آپ یہ فرمایا کرتے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے آنے والی چیز کے لیے کوئی دوری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جلدی نہیں فرماتے کسی کے جلدی کرنے سے۔ اور نہ ہی وہ آہستگی فرماتے ہیں لوگوں کے کام کے لیے جو اللہ چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا جو لوگ چاہیں لوگ ایک کام کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دوسرے کام کا ارادہ فرماتے ہیں۔ اور جو اللہ چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ اگرچہ لوگ اس کو ناپسند کریں۔ اسے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اس کو قریب کردے اور اسے قریب کرنے والا کوئی جب اللہ تعالیٰ اس کو دور کردے اور کوئی کام اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔