Ayahs 63:1–41۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا لوگوں نے کہا کہ زید نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ بولا۔ ان کی یہ بات میرے دل کو انتہائی سخت گزری۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں یہ نازل فرمایا آیت اذا جاءک المنفقون نبی ﷺ نے ان کو بلوایا تاکہ وہ ان کے لیے استغفار کریں مگر انہوں نے اپنے سروں کو پھیرلیا اور اسی کو فرمایا آیت کانہم خشب مسندۃ اور کہا کہ وہ لوگ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کی وجہ سے بہت خوبصورت لوگ تھے۔
منافقین کی ہرزہ سرائی کا ذکر
2۔ ابن سعد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل اور ابن عساکر نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا اور ہمارے ساتھ کچھ دیہاتی لوگ بھی تھے ہم پانی کی طرف جلدی کرتے تھے مگر دیہاتی اس کی طرف ہم سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں کو آگے لانے لگا یہاں تک کہ اس کے ساتھی آگئے اتنے میں ایک انصاری اس دیہاتی کے پاس آیا۔ اس نے اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی چھوڑدی تاکہ وہ پانی پی لے۔ لیکن اس دیہاتی نے اسے پانی دینے سے انکار کردیا تو اونٹنی والے نے ایک پتھر اکھیڑ دیا اور پانی بہہ گیا۔ دیہاتی نے لکڑی اٹھائی اور اس انصاری کے سر پردے ماری اور اس کو زخمی کردیا۔ پھر وہ انصاری رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور اس کو اس واقعہ کی خبردی ساتھیوں میں بیٹھا ہوا تھا یہ سن کر وہ بہت غصہ ہوا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جتنے دیہاتی ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے چلے جائیں گے۔ اور یہ لوگ کھانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا جب یہ لوگ محمد ﷺ سے اٹھ کر چلے جائیں تو محمد ﷺ کے پاس کھانا لے آنا۔ تاکہ آپ اور جو آپ کے پاس ہوکھالی۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا جب تم مدینہ کی طرف لوٹوگے تو چاہیے کہ عزت والے ذلیل لوگوں کو ننھیال تھے۔ میں نے اپنے چچا کو بتایا۔ چناچہ وہ گئے رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور مجھے جھٹلادیا پھر میرا چچا میرے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے تیری تکذیب کا ارادہ نہیں کیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ناپسند کیا اور مسلمانوں نے بھی تجھ کو جھٹلایا یہ سن کر مجھ پر ایسا غم لاحق ہوا کہ جتنا کبھی کسی کو نہیں پہنچا۔ اس درمیان کہ میں چل رہا تھا اور میں نے اپنے سر کو غم سے ہلکا کیا۔ اچانک میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے کان کو پکڑ کر ملنے لگے اور آپ میرے سامنے ہنسنے لگے۔ اور مجھے یہ بات خوش نہ کرسکتی تھی اگر اس کے بدلے میرے لیے خلد یا دنیا ہوتی۔ پھر مجھے ابوبکر ؓ ملے اور پوچھا کہ تجھے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا میں نے کہا مجھے کچھ نہیں فرمایا مگر یہ میرے کان کو پکڑ کر ملا اور آپ میرے سامنے مسکرائے تو انہوں نے فرمایا یہ تیرے لیے خوشخبری ہے۔ پھر عمر ؓ مجھ سے ملے۔ ان سے میں نے وہی بات کہی جو ابوبکر ؓ سے کہی تھی۔ جب ہم نے صب کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ جب آپ کے پاس منافق آئے تو کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حتی کہ یہاں تک کہ پہنچے آیت لیخرجن الاعز منہا الذل۔ تو عزت والے لوگ اس سے ذلیلوں کو نکال دیں گے۔
3۔ ابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا۔ جب عبداللہ بن ابی نے کہا آیت لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چلے جائیں اور کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے۔ تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ میں نے اس کی یہ گفتگو سنی اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے یہ بات آپ کو بتائی۔ انصار میں سے کچھ لوگوں نے مجھے ملامت کی۔ اور وہ ان کے پاس آیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ میں گھر لوٹ آیا اور سوگیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری بات کی تصدیق کردی۔ تو یہ آیت اتاری گئی آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ۔
4۔ طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ جب ابن ابی نے کہا جو کچھ کہا۔ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور ان کو خبردی۔ وہ آیا اور اس نے قسم کھالی کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور لوگوں نے بھی کہنا شروع کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جھوٹ کو لے آیا یہاں تک کہ میں گھر میں بیٹھ گیا اس خوف سے کہ کوئی مجھے نہ دیکھ لے۔ اور یہ کہنے لگیں کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے جھوٹ بولا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
عزت کا مدار ایمان ہے
5۔ طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب ؓ میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ وہاں سے گذرے عبداللہ بن ابی نے کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ میں سعد بن عبادہ ؓ کے پاس آیا۔ اور میں نے ان کو یہ بات بتائی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان کو یہ بات بتائی رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا۔ تو عبداللہ بن ابی نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے ایسی بات نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ ؓ کی طرف دیکھا۔ سعد ؓ نے کہا یارسول اللہ ! مجھے اس بارے میں زید بن ارقم نے بتایا ہے۔ سعد ؓ آئے اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے گئے اور جاکر کہا کہ اس نے مجھے بیان کیا ہے۔ مجھے عبداللہ بن ابی نے جھڑک دیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا۔ اور میں نے کہا اس کی قسم ! جس نے آپ پر قرآن اتارا ہے۔ یقینی بات ہے کہ اس نے یہ بات کی ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام منافقین رکھا ہے۔ کیونکہ انہوں نے شرک کو چھپایا اور ایمان کو ظاہر کیا۔
7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا۔ کہا آیت اتخذوا ایمانہم جنۃ سے مراد ہے کہ انہوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں کہ تم میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایمان کے ذریعے سے اپنے آپ کو قتل ہونے اور جنگ سے بچاؤ کے لیے ڈھال بنایا۔
8۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت اتخذوا ایمانہم جنۃ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پنالیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنی جانوں کو اور اپنے مالوں کو بچالیں۔
9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب سفر فرماتے تھے۔ تو مالدار ایمان والوں میں سے ہر آدمی کے ساتھ غریب آدمیوں میں سے ایک آدمی ہوتا تھا۔ تو اس کے کھانے کا سامان اور اس کا پانی وغیرہ اٹھائے ہوتا جب وہ لوگ پانی کے قریب ہوتے تھے تو یہ غریب لوگ آگے بڑھ جاتے تھے۔ اور اپنے ساتھیوں کو پانی پلاتے تھے ایک دفعہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی ان سے آگے بڑھ گئے۔ اور انہوں نے ایمان والوں کے لیے پانی چھوڑدینے سے انکار کردیا تو ایمان والوں نے ان کو گھیر لیا۔ جب عبداللہ بن ابی آیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ تو کہنے لگا اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ہم عزت والے لوگ، ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ اور کہنے لگا کہ ان سے خریدو فروخت کو روک لو۔ زید بن ارقم ؓ نے ابن ابی کی بات کو سن لیا۔ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے اور یہ کہنا بھی کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر خرچ نہ کرو۔ زید ؓ نے اپنے چچا کو خبر دی اور اس کے چچا نے نبی ﷺ کو خبر دی نبی ﷺ نے ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا جو اپنی شکل و صورت اور حسن و جمال کے سبب خوشنما دکھائی دیتا تھا۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس چل کر آتا تھا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وذا رأ یتہم تعجبک اجسامہم۔ وان یقولوا تسمع لقولہم۔ کانہم خشب مسندۃ۔ اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کی جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گویا وہ لکڑیاں ہیں جو کھڑی ہوئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو پہچان لیا اور جب اس کو بتایا تو اس نے قسم لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اتخذو ایمانہم جنۃ وقالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اسی کو فرمایا آیت اذا جا ءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نازل فرمائی تو اس سے عبداللہ بن ابی کا ارادہ فرمایا۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک بانہم اٰمنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبہم۔ یہ بات اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے سو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سے مراد ہے کہ انہوں نے زبان سے لا الہ الا اللہ کا اور محمد رسول اللہ کا اقرر کیا لیکن ان کے دل اس سے انکار کرتے ہیں۔
11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کانہم خشب مسندۃ۔ گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں کھڑی ہوئی یعنی وہ کھجور کے درخت ہیں کھڑے ہوئے۔
Ayah 63:51۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں جب کسی منزل پر اترتے تو اس جگہ سے روانہ نہ ہوتے ج تک اس میں نماز نہ پڑھتے۔ جب غزوہ تبوک ہوا تو آپ نے ایک مقام پر قیام فرمایا عبداللہ بن ابی منافق نے کہا گر ہم مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ہم عزت والے وہاں سے ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز نہیں پڑھی۔ صحابہ ؓ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ابن ابی کا واقعہ بیان فرمایا پھر قرآن بھی اس بارے میں نازل ہوا آیت اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ واللہ یعلم انک لرسولہ۔ پھر عبداللہ بن ابی، نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا اور معذرت کرنے لگا اور قسمیں کھانے لگا کہ اس نے اس طرح نہیں کہا اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا توبہ کرے تو اس نے سر کو ہلانا شروع کیا اور توبہ نہیں کی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووا رؤ و سہم اور ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آؤ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو وہ اپنے سر کو پھیر لیتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لوواؤ روسہم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ اس سے کہا گیا آجا تیرے لیے رسول اللہ ﷺ استغفار کریں تو اس نے اپنے سر کو پھیرلیا۔ اور کہنے لگا میں نے کیا کہا ہے ؟ (کہ میں استغار کروں)
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت واذا قیل لہم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ لووا رؤ و سہم کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے اپنے سروں کو حرکت دی مذاق کرتے ہوئے۔
آیت کا شان نزول
4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ اس کے رشتہ داروں میں ایک بچہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کی گفتگو اور سخت تکذیب کو لے کر اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلایا۔ تو وہ قسمیں کھانے لگا اور اس سے اپنی براءت کا ظہار کرنے لگا اور انصار بھی اس بچے کے پاس آآ کر اس کو لعن طعن اور ملامت کرنے لگے۔ اور عبداللہ سے کہا گیا اگر رسول اللہ ﷺ کے پاس آجائے کہ تیرے لیے وہ استغفار کریں تو وہ اپنا سرگھمانے لگا اور کہنے لگا میں نے کچھ نہیں کیا مجھ پر جھوٹ باندھا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جو تم سن رہے ہو۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے الحکم کے طریق سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی سلول کا ایک بیٹا تھا۔ جس کو حباب کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اپنے باپ کو قتل مت کر۔ پھر وہ آیا اور کہا یا رسول اللہ میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کق تل کروں ؟ آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو قتل مت کر نہ پھر وہ آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میر اباپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل مت کر نہ پھر وہ آیا اور کہا یا ارسول اللہ ! میرا باپ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتا ہے مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو قتل مت کر۔ پھر اس نے کہا یارسول اللہ مجھے اجازت دیں۔ یہاں تک کہ میں آپ کے وضو کا پانی اس کو پلاؤں شاید اس کا دل نرم ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اس کو بچا ہوا پانی عطا فرمایا۔ وہ اپنے باپ کے پاس لے گیا اور اس کو پلایا پھر اس سے کہا کیا تو جانتا ہے کہ کونسا پانی میں نے تجھ کو پلایا۔ اس کے والد نے اس سے کہا کہ تو نے مجھے اپنی والدہ کا پیشاب پلایا ہے بیٹے نے اس سے کہا اللہ کی قسم ! میں نے تجھ کو رسول اللہ ﷺ کے وضو کا پانی پلایا ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا کہ عبداللہ بن ابی سردار اور قدر ومنزلت والا تھا اور یہ آیت اس کے بارے اور منافقین کے بارے میں اتاری گئی جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بھاگ جائیں اور اس نے بھی یہ کہا تھا۔ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ حکم نے کہا پھر مجھے بشرب بن مسلم نے بیان کیا کہ اس سے کہا گیا اے ابوحباب ! تیرے بارے میں سخت آیتیں نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس جا تاکہ وہ تیرے لیے استغفار کریں تو اس نے اپنے سر کو ہلادیا پھر کہن لگا تم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایمان لاؤں تو میں ایمان لے آیا اور تم نے مجھے حکم کیا کہ میں زکوٰۃ دوں اپنے مال میں سے تو میں نے وہ بھی ادا کری۔ اب صرف یہی بات باقی ہے کہ میں محمد ﷺ کو سجدہ کروں۔
عبداللہ بن ابی کا ذکر
6۔ بیہقی نے دلائل میں زہری (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی کا ایک مقام تھا جس پر وہ ہر جمعہ کھڑا ہوتا تھا اور وہ اس مقام کو اپنی ذات اور اپنی قوم میں باعث شرف ہونے کی وجہ سے کبھی نہ چھوڑتا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے خطبہ کے لیے بیٹھ جاتے تو یہ کھڑا ہو کر کہتا اے لوگو ! یہ اللہ کے رسول ہیں تہارے درمیان ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت عطا فرمائی اور ان کے سبب تمہیں غلبہ عطا فرمایا پس تم ان کی مدد کرو اور ان کی تعظیم کرو۔ اور ان کی بات کو سنو اور اطاعت کرو۔ پھر وہ بیٹھ جاتا۔ جب رسول اللہ ﷺ احد سے واپس تشریف لائے تو وہاں اس منافق نے جو کچھ کیا سو کیا تو یہ اٹھ کر وہی کچھ کرنے لگا جو کیا کرتا تھا تو مسلمانوں نے اس کے کپڑے کے کناروں سے پکڑ لیا۔ اور کہا اے اللہ کے دشمن بیٹھ جا۔ تو اس مقام کے لائق نہیں تو نے جو کچھ کیا ہے سو کیا ہے تو وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نکل گیا اور وہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم میں بہت عمدہ ات کہتا، میں کھڑا ہو کر اس کے کام کو درست قرار دیتا اور اسے پختہ اور مضبوط کرتا تھا تو ایک آدمی نے اسے کہا تیری بربادی ہو تو واپس لوٹ جا۔ تاکہ رسول اللہ ﷺ تیرے لیے استغفار کریں تو مناق نے کہا اللہ کی قسم ! میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے لیے استغفار کریں۔
Ayah 63:67۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة براءت کی یہ آیت نازل ہوئی آیت استغرلہم اولا تستغرلہم (التوبہ : 80) تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کو سنا کہ اس بارے میں انہوں نے مجھے رخصت دی ہے اللہ کی قسم ! میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو مغفرت فرمادے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آتی سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم۔ لن یغفر اللہ لہم۔ اب آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ان کے حق میں دونوں برابر ہیں اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔
8۔ ابن مردویہ نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت استغرلہم اولاتستغفر لہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم۔ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر متبہ بھی استغار کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشیں گے۔ نازل ہوئی تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا میں ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفر لہم۔ برابر ہے ان کے لیے آپ استغفار کریں یا نہ کریں۔
Ayahs 63:7–89۔ ابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ من حولہ۔
منافقین کو قتل نہ کرنے کی حکمت
11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں۔ اگر تم ان پر خرچ نہ کروگے تو وہ بھاگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ لیجرجن الاعز منہا الاذل۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات اس بڑے منافق نے کہی ان دو آدمیوں کے بارے میں جو آپس میں لڑ پڑے ایک ان میں سے غفاری تھا اور دوسرا جہنی تھا غفاری جہنی پر غالب ہوگیا جہینہ اور انصار کے درمیان دوستی تھی۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا اور وہ عبداللہ بن ابی تھا۔ اے قبیلہ اوس اور خزرج والو ! اپنے ساتھی اور اپنے حلیف کی مدد کے لیے آؤ پھر کہا اللہ کی قسم ! ہماری اور محمد ﷺ کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک کہنے والے نے کہا۔ اپنے کتے کو خوب موٹا تازہ کر تاکہ تجھ کو کھاجائے۔ اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو ضرور نکال دیں گے۔ یہ سن کر ان میں سے بعض نے اس کی یہ بات اللہ کے نبی ﷺ تک پہنچائی۔ عمر ؓ نے کہا اے اللہ کے نبی معاذ کو حکم دیجیے کہ وہ اس منافق کی گردن ماردے۔ آپ نے فرمایا کیا لوگ یہ باتیں نہ کریں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اس وقت منافقین میں سے دو سے زائد آدمی آپ ﷺ کے پاس موجود تھے تو عمر ؓ نے پوچھا کیا وہ نماز پڑھتا ہے ؟ تو صحابہ ؓ نے جواب دیا۔ ہاں پڑھتا ہے۔ اور اس کی نماز میں خیر نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا۔ مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا مجھے نماز پڑھنے والوں کو مارنے سے منع کیا گیا۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ منافقوں نے کہا محمد ﷺ اور آپ اصحاب کرام ؓ کو مت کھلاؤ یہاں تک کہ جب ان کو بھوک پہنچے گی تو وہ اپنے نبی کو چھوڑ دیں گے اسی کو فرمایا آیت لئن رجعنا الی المدینۃ لیخرجن الاعذ منہا الذال۔ اور یہ بات عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین اور منافقین میں سے کچھ اور لوگوں نے کہی تھی۔
13۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک غزوہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ سفیان ؓ نے کہا کہ ان کا گمان ہے کہ وہ غزوۂ بنی المصطلق تھا۔ منافقین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پشت پر ہاتھ یا لات ماری۔ نبی ﷺ نے جب اس بات کو سنا تو فرمایا جاہلیت کی پکار اور آواز کیا ہے ؟ تو صحابہ ؓ نے عرض کیا مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک آدمی کی پشت پر لات ماردی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس عصبیت کی پکار کو چھوڑ دو ۔ کیونکہ یہ بوبودار ہے۔ اس بات کو عبداللہ بن ابی نے سن لیا اور اس نے کہا کہ انہوں نے اس طرح کیا کہ مہاجر نے انصار کو مارا ہے۔ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن ماردوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑدیا تاکہ لوگ ایسی اتیں نہ کریں کہ محمد ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قتل کردیا ہے۔ ترمذی (رح) نے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ اس کے بیٹے عبداللہ نے کہا اللہ کی قسم ! تو لوٹ کر نہیں جائے گا۔ یہاں تک کہ تو اس بات کا اقرر کر کہ تو ہی ذلیل ہے اور رسول اللہ ﷺ عزت والے ہیں تو اس نے ایسے ہی کہا۔
14۔ عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار کے ایک غلام اور بنو غفار کے ایک غلام کے درمیان راستے میں کچھ گفتگو (یعنی تلخی) ہوگئی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا مبارک ہو ! تمہارے لیے قوت ہے۔ بڑی آسانی کے ساتھ ہے۔ بلامشقت تم نے مزنیہ اور جہینہ میں سے طاقتور لمبی لمبی پنڈلیوں کو جمع کرلیا ہے اور انہوں نے تم کو تمہارے پھلوں پر غالب کردیا ہے اگر ہم مدینہ منورہ لوٹ گئے تو ہم عزت والے لوگ ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکالیں گے۔
رسول اللہ ﷺ کی قمیص میں کفن
15۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کو موت حاضر ہوئی (یعنی موت کا وقت قریب آپہنچا) تو ابن عباس ؓ نے فرمایا تو اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور دونوں کے درمیان آپس میں گفتگو ہوئی تو عبداللہ بن ابی نے کہا جو کچھ آپ کہتے ہیں میں اسے سمجھتا ہوں۔ لیکن آج کے دن مجھ پر احسان فرمائیے۔ اپنی اس قمیص مبارک سے مجھے کفن دیجیے اور مجھ پر نماز بھی پڑھیے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص کے اتھ اس کو کفن دیا اور اس پر نماز بھی پڑھی۔ اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں کہ وہ کونسی نماز تھی۔ اور محمد ﷺ نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا سوائے اس کے کہ حدیبیہ کے دن اس نے اچھی بات کہی تھی۔ عکرمہ ؓ سے پوچھا گیا وہ بات کیا تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قریش نے اس سے کہا تھا اے ابو حباب ! کہ ہم نے محمد ﷺ کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا تھا لیکن ہم تجھے اجازت دیتے ہی تو اس نے کہا نہیں میرے لیے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے طواف سے روک دیا تھا لیکن ہم تجھے اجازت دیتے ہیں۔ تو اس نے کہا نہیں میرے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ عکرمہ ؓ نے کہا کہ صحابہ ؓ جب مدینہ پہنچے تو اس کے بیٹے نے تلوار اٹھائی اور اپنے والد سے کہا تو گمان کرتا ہے کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے تو ہم عزت والے اس میں سے ذلت والوں کو ضرور نکال دیں گے۔ اللہ کی قسم ! تو اس میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دیں۔
16۔ حمید نے اپنی مسند میں ابوہارون المدنی (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے اپنے والد سے کہا اللہ کی قسم ! تو کبھی مدینہ میں داخل نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ تو کہہ کہ رسول اللہ صلی اللہ عزت والے ہیں۔ اور میں ذلیل ہوں۔
17۔ طبرانی نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ بنی مصطلق سے واپس تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ کھڑے ہوگئے اور اپنے باپ پر تلوار سونت لی اور کہا مجھ پر اللہ کی قسم ہے کہ میں اپنی تلوار کو نیام میں نہیں ڈالوں گا یہاں تک کہ تو یہ نہ کہے کہ محمد ﷺ عزت والے ہی اور میں ذلیل ہوں۔ اس نے کہا تیری ہلاکت ہو محمد ﷺ عزت والے ہیں اور میں ذلیل ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے اس پر تعجب فرمایا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔
18۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب صحابہ کرام ؓ مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ ؓ نے اپنے باپ پر تلوار سونت لی۔ اور کہا میں ضرور تجھ کو قتل کردوں گا یا تو یوں کہہ دے کہ میں ذلیل ہوں اور محمد ﷺ عزت والے ہیں وہ نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس نے یہ بات کہی۔
19۔ ابن ابی شیبہ نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ غزوہ بنی المصطلق میں تھے۔ جب وہ ایک منزل پر آئے تو مہاجرین اور انصار کے غلاموں میں جھگڑا ہوگیا۔ تو مہاجرین کے غلاموں نے مہاجرین کو مدد کے لیے بلایا اور انصار کے غلاموں نے انصار کو بلایا جب یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! اگر تم ان پر خرچ نہ کرتے تو یہ آپ کے اردگرد سے بھاگ جاتے اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی۔ تو آپ نے وہاں سے کوچ کرنے کا حکم فرمایا اور آپ نے سفر کے دوران بنو عبدالاشہل کے سواروں کو پایا تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ عبداللہ بن ابی منافق نے کیا کہا۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اس نے کیا کہا ہے تو آپ نے فرمایا اس نے کہ اللہ کی قسم ! اگر تم ان پر خرچ نہ کرتے تو وہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ جاتے اور یوں کہا اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ تو ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اس نے سچ کہا ہے اللہ کی قسم ! آپ ہی سب سے بڑھ کر عزت والے ہیں اور وہ ذلیل ہیں۔
20۔ عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ لشکر کے ہمراہ ایک مقام پر تھے اسی دوران قریش کا ایک آدمی اور انصار کے ایک آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوگیا۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان بات بڑھ گئی اور معاملہ سخت ہوگیا۔ عبداللہ بن ابی کو جب یہ بات پہنچی تو وہ آواز دیتے ہوئے نکلا۔ میری قوم پر اس آدمی نے غلبہ پالیا جس کی کوئی قوم نہیں۔ یہ بات عمر بن خطاب ؓ کو پہنچی۔ انہوں نے اپنی تلوار لی۔ پھر ارادہ کرتے ہوئے نکلے۔ تاکہ اس منافق کو ماردیں پھر یہ آیت انہوں نے یاد کی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو۔ وہ لوٹ یہاں تک کہ نبی ﷺ کے پاس آگئے آپ نے فرمایا اے عمر ! تجھ کو کیا ہوا عرض کیا تعجب ہے اس منافق کی طرف ؟ وہ کہتا ہے کہ میری قوم پر ایسے آدمی نے غلبہ پالیا ہے جس کی اپنی کوئی قوم نہیں اور کہتا ہے کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے تو ہم عزت والے اس سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا اٹھو اور لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ یہاں سے کوچ کریں انہوں نے کوچ کیا اور چل دئیے یہاں تک کہ ان کے اور مدینہ کے درمیان صرف ایک رات کا فاصلہ رہ گیا تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے نے جلدی کی۔ یہاں تک کہ اس نے مدینہ منورہ کے تمام راستوں پر اونٹ بٹھادئیے اور لوگ وہاں پہنچے یہاں تک کہ اس کا والد عبداللہ بن ابی بھی آگیا بیٹے نے کہا پیچھے رک جا۔ باپ نے کہا تجھ کو کیا ہوا تیری ہلاکت ہو۔ بیٹے نے کہا اللہ کی قسم تو کبھی داخل نہ ہوگا مگر رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے۔ اور آج معلوم ہوجائے گا۔ عزت والا کون ہے اور ذلیل کون ہے چناچہ وہ واپس لوٹ آیا حتی کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی تو ان سے شکایت کی جو اس کے بیٹے نے اس سے معاملہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس حضرت عبداللہ کی جانب پیغام بھیجا کہ اس کا راستہ چھوڑدے یہاں تک کہ وہ داخل ہوجائے تو اس نے ایسا ہی کیا تھوڑے ہی دن گذرے تھے یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی بیمار پڑگیا۔ اور اس کا درد سخت ہوگیا۔ تو اس نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا اے میرے بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور ان کو بلا کرلے آ۔ اس کے بیٹے نے ایسا ہی کیا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے کہا یا رسول اللہ ! عبداللہ بن ابی شدید تکلیف میں ہے۔ اس نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا کہ میں آپ کے پاس حاضر ہو کر آپ کو اس کے پاس لے چلوں بلاشبہ وہ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے آپ نے اپنا جوتا مبارک پہنا اور کھڑے ہوگئے۔ اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سے ایک جماعت بھی تھی۔ یہاں تک کہ یہ سب لوگ عبداللہ کے پاس داخل ہوگئے جب نبی اکرم ﷺ داخل ہوئے تو اس نے اپنے اہل و عیال سے کہا مجھے بٹھا دو چناچہ انہوں نے اس کو بٹھا دیا۔ تو عبداللہ بن ابی رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن کیا اب تو گھبرا رہا ہے تو اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو اس لیے نہیں بلایا کہ مجھے ڈانٹیں اور جھڑکیں لیکن میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ مجھ پر رحم فرمائیں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور فرمایا تیری حاجت کیا ہے ؟ اس نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ جب میں مرجاؤ تو میرے غسل کے وقت آپ حاضر ہوں۔ اور اپنے کپڑوں میں سے مجھے تین کپڑوں میں کفن دیں۔ اور میرے جنازہ کے ساتھ چلیں۔ اور مجھ پر نماز پڑھیں تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو بعد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ۔ ان میں سے کسی کی نماز نہ پڑھیے جب وہ مرجائے اور اس کی قبر پر بھی نہ ٹھہرئیے۔
Ayah 63:91۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت یا ایہالذین اٰمنوا لا تلہکم اموالکم ولا اولادکم۔ اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد سے (اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے) سے مراد میری امت میں سے جو نیک بندے ہیں کہ ان کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور پانچوں فرض نمازوں سے غافل نہیں کرے گی۔
2۔ عبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جس کے پاس اتنا مال تھا کہ وہ بیت اللہ کا حج کرسکتا تھا۔۔ یا اس پر مال میں زکوٰۃ فرض تھی۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو موت کے وقت وہ دنیا میں دوبارہ لوٹنے کا سوال کرے گا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا۔ اے ابن عباس ؓ اللہ سے ڈرو۔ کافر لوٹنے کا سوال کرے گا۔ تو انہوں نے فرمایا عنقریب میں تم پر اس کے ذریعہ قرآن پر پڑھوں گا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ۔ اے ایمان والو ! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ سے لے کر سورة کے آخر تک۔
3۔ ابن جریر نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مومن مرد جب اس پر موت آئی اور اس کا مال تھا اور نہ اس نے مال کی زکوٰۃ دی تھی اور اس سے حج کیا تھا اور نہ اس نے اللہ کا کوئی اور حق اس میں سے ادا کیا تھا تو وہ موت کے وقت واپس لوٹائے جانے کی آرزو کرے گا۔ تاکہ وہ اپنے مال میں سے صدقہ اور زکوٰۃ ادا کرسکے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آیت ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلہا اور ہرگز کوئی جان موخر نہیں ہوتی جب اس کا وقت آجائے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ضحاک ؓ سے وایت کیا کہ آیت لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ کہ اس میں ذکر اللہ سے مراد پانچ نمازیں ہیں۔ اور فرمایا آیت وانفقوا من مارزقنکم۔ اور تم خرچ کرو ان چیزوں میں جو ہم نے تم کو رزق دیا یعنی زکوٰۃ میں اور حج میں خرچ کرنا۔
5۔ ابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتلہکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ میں ذکر اللہ سے مراد ہے فرض نماز۔
6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاصدق میں صدقہ کرلیتا یعنی میں زکوٰۃ ادا کروں۔ آیت واکن من الصلحین اور نیک کام کرنے والوں میں شامل ہوجاتا یعنی میں حج ادا کرلوں۔
Ayahs 63:10–117۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت فاصدق واکن من الصلحین یعنی میں حج ادا کرلوں۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت فاصدق واکن من الصلحن واو کے ساتھ۔
9۔ ابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ قراءت کرنا سنتوں میں سے ایک سنت ہے اور تم قرآن کو اس طرح پڑھ وجی سے تم کو پڑھایا گیا ہے جیسے آیت ان ہذان لسحرا (طہ آیت 63) اور آیت فاصدق واکن من الصلحین۔
الحمد للہ سورة المنافقون مکمل ہوئی۔
سورۃ التغابن۔ یہ سورة مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ہیں
1۔ ابن الضریس وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة تغابن مکہ میں نازل ہوئی مگر اس کے آخر میں سے چند آیات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف اپنے گھروالوں اور اپنی اولاد کی جفا کے بارے میں شکایت کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذروھم اے ایمان والو تمہاری بعض بیویاں اور اولاد تمہارے دین کے دشمن ہیں سو ان سے ہوشیار رہو سورة کے آخر تک۔
4۔ ابن اسحاق وابن جریر نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ سورة تغابن ساری کی ساری مکہ میں نازل ہوئی۔ سوائے ان آیات کے یعنی یا ایہالذین اٰمنو ان من ازواکم واولادکم اور یہ آیت عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی وہ گھروالے اور بچوں والے تھے۔ جب وہ کسی غزوۂ میں جانے کا ارادہ کرتے تھے تو وہ ان کی طرف رونے لگتے تھے۔ اور ان کے دل کو نرم کردیتے تھے۔ اور کہنے لگتے کہ تو ہم کو کس کے پاس چھوڑے گا تو ان کے بارے میں یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں۔