Ayah 62:1یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم .
” جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں ‘ سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں ‘ جو بادشاہ ہے (ہر عیب اور نقص سے) پاک ہے ‘ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ “
اَلْقُدُّوْسِ : ہر اس وصف سے جو اس کی شان کے لیے زیبا نہیں ‘ پاک ہے۔
اَلْعَزِیْزِ : اپنی حکمت میں بڑا زبردست ہے۔
اَلْحَکِیْمِ : اپنی صنعت میں حکمت والا ہے۔ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کی ہستی (اور اس کی وحدانیت) پر دلالت کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ اس کو بنانے والا ہر نازیبا شئی (یعنی عیب و نقص و کمزوری) سے پاک و صاف ہے۔ نیز یہ کہ ہر چیز خواہ وہ نبات ہو یا جماد۔ ایک خاص نوعیت کی زندگی اور نوعی شعور کی حامل ہے اور اپنی نوعی زبان میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر رہی ہے اور اس کا بےعیب ہونا بیان کر رہی ہے لیکن (اے انسانو ! ) تم اس کی تسبیح قولی کو نہیں سمجھتے۔
Ayah 62:2ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلو علیھم ایتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین .
” وہی ہے جس نے (عرب کے) ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے (یعنی عرب میں سے) ایک پیغمبر بھیجا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو (غلط عقائد اور برے اعمال و اقوال سے) پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور دانش مندی کی باتیں سکھاتا ہے اور بلاشبہ یہ لوگ (بعثت محمدی ﷺ سے) پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ “
الْاُمِّیِّنَ : سے مراد ہیں عرب ‘ کیونکہ ان میں اکثر ناخواندہ تھے۔
مِنْھُمْ : یعنی پیغمبر بھی ان امیوں میں سے ایک امّی تھے ‘ مطلب یہ کہ ان کی طرح ناخواندہ تھے۔
اٰیتِہٖ : یعنی باوجود ناخواندہ ہونے کے اللہ کا کلام اور اس کی بھیجی ہوئی آیات سناتے ہیں۔
وَ یُزَکِّیْھِمْ : یعنی شرک اور گندے افکار و اعمال سے ان کو پاک کرتے ہیں۔
وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ : یعنی ان کو قرآن کی تعلیم دیتے ہیں جو ایسا بلیغ ہے کہ سارے انس و جن مل کر اگر اس کے مثل کلام بنانے کی کوشش کریں تب بھی عاجز رہیں گے۔
وَالْحِکْمَۃَ : یعنی محکم شریعت جو (ناقابل نسخ ہے اور) دوسرے انبیاء کی شریعتوں کی تائید کر رہی ہے ‘ یعنی آسمانی کتابوں کے اصول کے مطابق ہے اور یہ اصول وہی ہیں جن کی شہادت تمام کتب سماویہ میں دی گئی ہے۔
وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ...... بلاشبہ عرب بعثت نبوی سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے یعنی پتھروں کو پوجتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ ان کے عقائد و اقوال کی تائید نہ عقل سے کی جاسکتی تھی نہ کسی صحیح نقل سے ‘ نہ درایت اس کو قبول کرتی تھی نہ روایت اس کی صحت کی شہادت دیتی تھی۔
Ayah 62:3واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم
” اور (علاوہ ان موجودین کے) دوسرے لوگوں کیلئے بھی جو انہیں میں سے ہیں ‘ مگر ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔
وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ : اس کا عطف یُعَلِّمُھُمْ کی ضمیر مفعول ہے یعنی ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی وہ تعلیم دیتے ہیں اور یہ دوسرے لوگ بھی اوّل لوگوں میں سے ہی ہیں یعنی انہی کے ہم مذہب ہیں اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔
عکرمہ اور مقاتل نے کہا : آخرین سے مراد ہیں تابعین۔ ابن زید نے کہا : وہ تمام لوگ مراد ہیں جو قیامت تک حلقۂ اسلام میں داخل ہونے والے ہیں۔ ابن نجیع کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا ہے لیکن عمرو بن سعید بن جبیر اور لیث کی روایت میں مجاہد کا قول آیا ہے اور اس سے مراد عجمی لوگ ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ سلمان ؓ فارسی بھی ہمارے ساتھ تھے ‘ اتنے میں سورت جمعہ نازل ہوئی۔ جب حضور ﷺ نے (آیت) : وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ تلاوت فرمائی تو ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ کون لوگ ہیں ؟ حضور ﷺ نے لوٹا کر کوئی جواب نہیں دیا۔ اس شخص نے جب دو یا تین بار سوال کیا تو سلمان ؓ فارسی کے اوپر ہاتھ رکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا : اگر ایمان ثریا کے پاس (یعنی آسمان پر) ہوگا تو ان کے (یعنی ان کی قوم کے) کچھ لوگ اس کو پالیں گے۔ (متفق علیہ) دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : اگر دین ثریا کے پاس بھی ہوگا تب بھی اہل فارس میں سے کوئی شخص (یا فرمایا کچھ لوگ) وہاں تک جا پہنچے گا اور اس کو پالے گا۔
میں کہتا ہوں ‘ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ فارس کے کچھ آدمی بھی ایسی فضیلت کے حامل ہوں گے کہ ان کا شمار ان (برگزیدہ) لوگوں میں ہوگا جو آیت : وآخرین منھم میں مراد ہیں۔ آیت کے عموم کا اقتضاء یہ نہیں ہے کہ صرف اہل فارس مراد ہوں۔
حضور ﷺ نے جو رجال من ھؤلآء ابناء فارس فرمایا ‘ شاید ان سے مراد ہوں نقشبندی سلسلہ کے اکابر ‘ نقشبندیہ اکابر بخارا اور سمرقند کے باشندے تھے اور طریقت میں ان کی نسبت حضرت سلمان فارسی ؓ سے ہے کیونکہ ان کا انتساب حضرت جعفر صادق سے ہے اور حضرت جعفر کا تعلق قاسم بن محمد سے اور قاسم کی نسبت حضرت سلمان ؓ سے ہے اور حضرت سلمان کا طریق تعلق حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے اور حضرت ابوبکر کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے۔
لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ : یعنی آنے والے لوگوں نے ان کو یعنی صحابہ کو ابھی نہیں پایا (ابھی وہ پیدا نہیں ہوئے لیکن صحابہ ؓ کے بعد ہوجائیں گے) یا یہ مطلب ہے کہ فضیلت اور ثواب میں صحابہ ؓ کے درجہ کو نہیں پہنچے۔ تابعین (رح) اور ان کے بعد آنے والے لوگ صحابہ ؓ کے مرتبہ کو نہیں پاسکتے۔ حضور گرامی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے میرے صحابیوں کو برا نہ کہو ‘ اگر تم میں سے کوئی کوہ احد کے برابر بھی سونا راہ خدا میں خرچ کرے گا تو صحابہ ؓ کے ایک سیر بلکہ آدھا سیر خرچ کرنے کے برابر نہ ہوگا۔ (متفق علیہ من حدیث ابی سعید)
اس تشریح پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ لَمَّا نفی ماضی اور توقع مستقبل پر دلالت کرتا ہے ‘ اگر مرتبہ کے مساوات کی نفی مقصود ہوتی تو مضارع منفی کا صیغہ استعمال کیا جاتا کیونکہ بصورت مذکورہ تو یہ مطلب ہوگا کہ وہ لوگ صحابہ ؓ کے مرتبہ کو ابھی نہیں پہنچے ‘ مگر آئندہ اس کی امید ہے اور مضارع کا صیغہ ذکر کیا جاتا تو یہ مطلب ہوتا کہ آنے والے لوگ صحابہ ؓ کے مرتبہ کو نہیں پہنچیں گے۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ماضی میں نفی لحوق کا تحقق اکثریت کے لحاظ سے اور مستقبل میں توقع لحوق بعض افراد کے لحاظ سے ہے یعنی امید ہے کہ آنے والے بعض افراد خواہ ہزار برس کے بعد آئیں ‘ اتباع رسول کی پابندی کی وجہ سے قرن اوّل کے درجہ تک پہنچ جائیں گے۔
گویا اس میں اشارہ ہے حضرت مجدد الف ثانی اور آپ کے خلفاء کاملین کی طرف جو رسول اللہ ﷺ کی انتہائی متابعت کی وجہ سے کمالات رسالت تک پہنچ گئے اور وہ تمام مراتب ان کو حاصل ہوگئے جو اولو العزم اصحاب خُلّت و ملّت اور فائزین بدرجۂ محبوبیت کے فضائل کا مجموعہ تھے۔ صحابہ ؓ کے بعد حضرت مجدد (رح) اور آپ کے خلفاء کے سوا صدر اوّل کے مرتبہ کو اور کوئی نہیں پہنچا اور یہ حضرات پہنچ گئے۔ تو گویا صحابہ ؓ کے مشابہ ہوگئے۔ پس ان کی وجہ سے امت اسلامیہ مرحومہ کی مثال اس بارش جیسی ہوگئی جس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ اس کس اوّل حصہ (افادیت میں) بہتر ہے یا آخری حصہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے کہ یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا اوّل حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ ‘ یا اس باغ کی طرح ہے کہ ایک سال اس کے پھل ایک حصہ میں آئے اور ایک سال دوسرا حصہ پھلا۔ تو شاید آخری سال پھلنے والا ٹکڑا زیادہ لمبا چوڑا اور حسین ہو۔ (رواہ رزین)
وَھُوَ الْعَزِیْزُ : یعنی وہی زبردست طاقت رکھتا ہے ‘ اس امر کی کہ ایک امّی آدمی کو ایسے امر عظیم پر جس کی مثال پیش کرنے سے دوسرے عاجز ہوں ‘ قدرت عطا فرما دے اور اس کام میں اس کی مدد کرے۔
اَلْحَکِیْمُ : وہ حکمت والا ہے کہ دوسرے انسانوں کو نظر انداز کر کے ایک خاص شخص کو پیغمبری کے لے منتخب کرلینے کا اختیار رکھتا ہے۔
Ayah 62:4ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم .
یہ (رسول کی ہدایت اور اسکو قبول کرنا) اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
ذٰلِکَ : یہ بعثت رسول ‘ تعلیم رسول اور تزکیۂ گمراہاں ؓ
فَضْلُ اللہ : اللہ کا فضل ہے محمد رسول اللہ ﷺ پر کہ ان کو پیغمبری کے لیے چن لیا اور ہادی بنا دیا اور امت پر بھی اللہ کا فضل ہے کہ انہوں نے رسول کا اتباع کیا اور رسول نے ان کو ہدایت کی اور پاک کیا۔
یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ : وہ جس کو دینا چاہتا ہے اور اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے اس کو وہ عنایت کرتا ہے۔
Ayah 62:5مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفاراً بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ واللہ لا یھدی القوم الظالمین .
” جن لوگوں کو توریت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ‘ پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ‘ انکی حالت اس گدھے کی طرح ہے ‘ جو اپنے اوپر بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو ‘ بری حالت ہے ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔ “
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا : یعنی ان کو توریت کی تعلیم دی گئی اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا : یعنی اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا اور اس سے فائدہ اندوز نہیں ہوئے۔
یَحْمِلُ اَسْفَارًا : جیسے گدھا علم کی کتابیں اپنے اوپر اٹھائے پھرتا ہے۔ کتابوں کے بوجھ سے تھکا جاتا ہے اور ان سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اس گدھے کی حالت اس عالم کی ہے جو علم کے موافق عمل نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا میں فرمایا تھا : اے اللہ ! میں غیر مفید علم سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔
بِءْسَ مَثَلُ اَلْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللہ : اس قوم سے مراد یہودی ہیں جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا اور توریت کی ان آیتوں کی بھی تکذیب کی جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دلالت کرتی تھیں۔
لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ : یعنی جو لوگ خود ظلم پسند ہوں اللہ ان کو ہدایت نہیں کرتا یا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم ازلی میں پہلے ہی ظالم قرار پا گئے ہیں ‘ اللہ ان کو ہدایت نہیں کرتا۔
Ayah 62:6قل یایھا الذین ھادوا ان زعمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین
آپ کہہ دیجئے اے یہودیو ! اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ بلا شرکت غیرے تم اللہ کے (محبوب اور) دوست ہو تو (اس دعوے کے ثبوت کے لیے) تم موت کی آرزو کرو (تاکہ تم اللہ کے قرب میں جلد پہنچ جاؤ) اگر تم سچے ہو (تو ایسا کر کے دکھاؤ)
اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّکُمْ اَوْلِیَآءُِ ﷲِ : یہودی کہتے تھے ہم اللہ کے دوست اور چہیتے ہیں۔
مِنْ دُوْنِ النَّاسِ : دوسروں کی شرکت کے بغیر یعنی محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی شرکت کے بغیر۔
فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ : یعنی اللہ سے صرف اپنی موت کی دعا کرو تاکہ اس مصیبت کے گڑھے سے نکل کر مقام عزت میں (جلد) پہنچ جاؤ۔ موت ایک پُل ہے جو حبیب کو حبیب تک پہنچا دیتا ہے۔
اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو موت کی تمنا کرو ‘ موت کی تمنا جائز ہے یا ناجائز۔ اس کی تحقیق ہم نے سورة بقرہ کی آیت میں کردی ہے۔
Ayah 62:7ولا یتمونہ ابدا بما قدمت ایدیھم واللہ علیم بالظالمین
” اور وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے بوجہ ان اعمال (کفریہ) کے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور اللہ ان ظالموں کی حالت کو خوب جانتا ہے۔ “
وَلاَ یَتَمَنَّوْنَہٗٓ اَبَدًا : چونکہ کفر و معاصی کا ارتکاب وہ پہلے کرچکے ہیں اور آیات توریت کو بگاڑنے کا جرم کرچکے ہیں اور توریت کی جو آیات رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں ‘ انہوں نے ان میں تحریف کرلی ہے اور ان کو جرائم مذکورہ کی پاداش میں اپنے دوزخی ہونے کا یقین ہے اس لیے موت کی تمنا نہیں کریں گے ‘ ان کو تو زندگی کی حرص سارے لوگوں سے سوا ہے ‘ یہ تو چاہتے ہیں کہ ہزار برس جیتے رہیں۔ یہ موت سے ڈرتے اور بہت بھاگتے ہیں۔
Ayah 62:8ظقل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملقیکم ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون .
” (اے نبی ﷺ ! ) آپ (یہودیوں سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ (ایک دن) تم کو آپکڑے گی ‘ پھر عالم الغیب والشہادۃ کی طرف تم کو لے جایا جائے گا پھر وہ تم کو تمہارے سب کام بتلا دے گا۔ ‘
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ..... یعنی جس موت سے تم کو انتہائی ڈر لگتا ہے کہ تم کو تمہاری بد اعمالی کے جرم میں پکڑا جائے گا وہ ضرور تم کو آکر رہے گی ‘ اس سے بھاگنا سود مند نہ ہوگا۔
اس جملہ میں آمد موت کی انتہائی تاکید کے لیے ان کو مکرر ذکر کیا ‘ یہودیوں کو کفر اور معاصی پر سخت اصرار تھا ‘ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو موت سے سخت انکار ہے ‘ اس لیے موت کے آنے کی خبر کو پرزور طور پر ذکر کرنا ہی مناسب تھا (تاکید بقدر انکار ضابطہ بلاغت ہے ‘ مترجم)
اِنّ کے اسم کے اندر شرط کا معنی تھا اس لیے اِنّ کی خبر پر فَ لائی گئی ‘ موت سے بھاگنا ‘ موت کے جلد آنے کا موجب ہے کیونکہ موت سے فرار ‘ موت کی طرف سے غافل بنا دیتا ہے ‘ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس غفلت کی حالت میں زندگی کتنی ہی طویل ہو اور عمر کتنی ہی لمبی ہو لیکن طویل حیات کا احساس و شعور جاتا رہتا ہے اور موت جب بھی آئے گی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ جلد آگئی اور جو شخص موت کا مشتاق رہتا ہے اس کو مختصر زندگی بھی طویل معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس پر زندگی شاق ہوتی ہے اور وہ ہر وقت موت کی آمد کا منتظر رہتا ہے ‘ خلاصہ یہ کہ موت سے فرار سرعت موت کا موجب ہوتا ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فَ تعلیلیہ ہو اور اِنّ کی خبر محذوف مانی جائے ‘ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ موت سے جو تم بھاگتے ہو ‘ یہ بھاگنا تمہارے لیے سود مند نہیں ہوگا کیونکہ موت تو بہرحال آئے گی۔
فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : یعنی اللہ تم کو تمہارے کیے ہوئے اعمال بتائے گا ‘ پھر تم کو اس کا بدلہ ملے گا۔
Ayah 62:9یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ و ذروا البیع ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون . ” اے ایمان والو ! جب جمعہ کے روز نماز (جمعہ) کے لیے اذان کہی
جایاکرے تو تم اللہ کی یاد (یعنی نماز و خطبہ) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو اور خریدو فروخت (اور اسی طرح کے دوسرے مشاغل جو چلنے سے مانع ہوں) چھوڑ دیا کرو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم کو کچھ سمجھ ہو ‘ (تو سمجھو) ۔ “
اِذَا نُوْدِیَ : یعنی جب اذان دی جائے۔
مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ : مِنْ بیانیہ ہے یہ اِذَا نُوْدِیَ کا بیان ہے ‘ بعض اہل علم نے اس جگہ مِنْ کو بمعنی فِیْ کہا گیا یعنی جب نماز جمعہ کے لیے جمعہ کے دن اذان دی جائے جیسے آیت : اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ میں مِنْ بمعنی فِیْ ہے۔
مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ : مِنْ بیانیہ ہے ‘ یہ اِذَا نُوْدِیَ کا بیان ہے ‘ بعض اہل علم نے اس جگہ مِنْ کو بمعنی فِیْ کہا ہے یعنی جب نماز جمعہ کے لیے جمعہ کے دن اذان دی جائے جیسے آیت : اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ میں مِنْ بمعنی فِیْ ہے۔
جمعہ کی وجہ تسمیہ
جمعہ کو جمعہ کہنے کی کیا وجہ ہے ؟ علماء نے مختلف توجیہات کی ہیں ‘ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ دور جاہلیت میں یعنی دور اسلامی سے پہلے جمعہ کو العروبہ کہتے تھے یعنی عظمت والا کھلا ہوا دن۔ اَعْرَبَ کا معنی ہے ظاہر کیا ‘ عروبہ اسی سے ماخوذ ہے۔
سب سے پہلے اس دن کا نام کعب بن لوی نے رکھا ‘ کعب نے ہی عربی خطبہ میں سب سے پہلے امابعد کا لفظ استعمال کیا ‘ اس روز قریش کعب کے پاس جمع ہوتے تھے۔ کعب ان کو خطاب کرتا اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر دیتا اور آپ کی پیدائش سے آگاہ کرتا تھا اور حکم دیتا تھا کہ جب پیدا ہوجائیں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی پیروی کرنا اور اسی مضمون کے کچھ اشعار بھی سناتا تھا ‘ پہلے بنی اسماعیل تعمیر کعبہ سے تاریخ کا حساب لگایا کرتے تھے جب کعب بن لوی مرگیا تو اس کی وفات سے تاریخ کا حساب کرنے لگے اس کے بعد عام الفیل (حبشیوں کے کعبہ کو ڈھا دینے کے لیے مکہ پر چڑھائی کرنے کے سال) سے حساب کرنے لگے ‘ یہی سال رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا بھی تھا۔ عام الفیل (حبشیوں کے کعبہ کو ڈھا دینے کے لیے مکہ پر چڑھانے کرنے کے سال) سے حساب کرنے لگے۔ یہی سال رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا بھی تھا۔ عام الفیل سے حساب کرنے کا دستور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت تک رہا۔ اس کے بعد ہجرت نبوی ﷺ سے حساب کیا جانے لگا۔ کعب کی وفات اور بعثت نبوی کے درمیان 560 برس کا فصل ہوا۔
(شرح خلاصۃ السیر)
ابو حذیفہ بخاری نے المبتداء میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے جمعہ کے دن لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس لیے اس دن کا نام یوم الجمعۃ ہوا۔ اس اثر کی سند ضعیف ہے ‘ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس روز تخلیق آدم کے قوامی مادہ (مادۂ تخلیق) کو جمع کیا گیا اس لیے یوم الجمعۃ ہوگیا (فیہ خلق آدم ‘ عام قول ہے لیکن قابل وثوق نہیں ‘ مترجم)
امام احمد ‘ نسائی ‘ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت سلمان کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم کو علم ہے کہ یوم الجمعۃ کیا ہے ؟ (یعنی اس کی وجہ تسمیہ اور حقیقت کیا ہے ؟ ) میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی جانے۔ حضور ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی ‘ تیسری مرتبہ میں فرمایا : یہی وہ دن ہے جس میں تمہارے باپ (کے تخلیقی مادہ) کو جمع کیا گیا۔ اس حدیث کی شاہد حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بھی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے موقوفاً قوی سند سے اور امام احمد (رح) نے مرفوعاً ضعیف سند سے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر (رح) نے کہا : یہی بات زیادہ صحیح ہے ‘ اسی سے متصل ہے وہ بیان جس کو عبدالرزاق نے بروایت ابن سیرین صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ بیان یہ ہے کہ انصار ‘ اسعد بن زرارہ کے پاس جمع ہوتے تھے اور یوم جمعہ کو یوم عروبہ کہتے تھے۔ اسعد بن زرارہ ان کو نماز پڑھاتے اور نصیحت کرتے تھے ‘ اس وجہ سے انصار نے اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھ دیا۔ یہ قصہ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کا ہے۔ بعض اہل روایت کا قول ہے کہ ایسا رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ہوا تھا ‘ دار قطنی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز جمعہ پڑھنے (اور اس روز سب کے جمع ہونے) کا حکم دیا تھا۔ حضور ﷺ نے مصعب بن عمیر کو لکھا تھا : اما بعد ! تم کو دیکھنا چاہیے کہ یہودی کس روز زبور کی تلاوت جہر کے ساتھ کرتے ہیں ‘ اسی روز تم اپنی عورتوں اور بچوں کو جمع کرو اور جمعہ کے (یعنی جمع ہونے کے) دن ‘ دن ڈھلے سب مل کر دو رکعتیں پڑھ کر اللہ کا قرب حاصل کرو۔ راوی کا بیان ہے کہ سب سے پہلے حضرت مصعب نے جمعہ پڑھا (اور پڑھتے رہے) یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ اس بیان کی سند میں ایک راوی احمد بن غالب باہلی ہے جس پر وضع حدیث کا (محدثین) نے الزام لگایا ہے۔ زہری نے کہا : اس متن کا مرسل ہونا معروف ہے۔
بعض اہل روایت نے کہا کہ ایسا صحابہ ؓ کے اجتہاد سے کیا گیا ( رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا تھا) عبدالرزاق نے صحیح سند سے محمد بن سیرین کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے اور جمعہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہی اہل مدینہ نے جمعہ پڑھا تھا۔ انصار نے کہا کہ یہودیوں کا ہر سات دن میں ایک دن ہے جس میں وہ جمع ہوتے ہیں اور عیسائی بھی ہر ہفتے میں ایک مقررہ دن جمع ہوتے ہیں ‘ لہٰذا ہم کو بھی ایک دن مقرر کرلینا چاہیے جس میں ہم جمع ہو کر نماز پڑھیں ‘ اللہ کی یاد کریں اور شکر ادا کریں۔ حسب مشورہ انصار نے یوم العروبہ مقرر کردیا اور حضرت اسعد بن زرارہ کے پاس جمع ہوئے اور آپ نے ان کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد اللہ نے آیت : اِذَا نُوْدِیَ للصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ..... نازل فرمائی۔ حافظؔ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن حسن سند سے اس کا ایک شاہد بھی ہے ‘ جس کو ابوداؤد ‘ ابن ماجہ ‘ ابن خزیمہ اور بعض دوسرے علماء نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت کعب نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں رونق افروز ہونے سے پہلے ہم کو جمعہ کی نماز اسعد بن زرارہ نے پڑھائی ‘ الحدیث۔ حضرت کعب جب جمعہ کی اذان سنتے تھے تو حضرت اسعد ابن زرارہ کے لیے دعاء رحمت کرتے تھے۔ عبدالرحمن بن کعب کا بیان ہے میں نے حضرت کعب سے پوچھا ‘ آپ حضرات اس زمانہ میں کتنے تھے ؟ فرمایا : چالیس۔ ابن سیرین کی مرسل حدیث بتارہی ہے کہ ان صحابہ ؓ نے یوم جمعہ کا انتخاب (اور نماز کے لیے تعین) اپنے اجتہاد سے کیا تھا اور ممکن ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے اسی زمانہ میں جمعہ کے متعلق وحی آگئی ہو لیکن (ماحول دیکھ کر) آپ جمعہ قائم نہ کرسکے ہوں ‘ جیسا کہ ابن خزیمہ کی حدیث میں اور اس کے بعد والی مرسل روایت میں آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ میں پہنچتے ہی رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو جمعہ کی نماز پڑھائی۔
رسول اللہ ﷺ کے مدینے میں رونق افروز ہونے اور پہلی نماز جمعہ پڑھنے کابیان
بخاری نے حضرت عائشہ کی روایت سے اور ابن سعد نے صحابہ کی ایک جماعت کے حوالہ سے بیان کیا کہ مدینہ میں جب مسلمانوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے روانہ ہوگئے ہیں تو ہر روز صبح کو مدینے سے نکل کر حرہ میں پہنچتے اور انتظار کرتے رہتے۔ جب سورج میں تیزی آجاتی اور دوپہر کی دھوپ ستانے لگتی تو واپس آجاتے ‘ یہ زمانہ گرمی کا تھا۔ جب حضور ﷺ کی تشریف آوری کا دن ہوا تو لوگ انتظار کرنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔ ایک یہودی اپنی گڑھی پر کسی کام سے چڑھا ہوا مدینہ کو آنے والے راستہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جونہی رسول اللہ ﷺ پر اس کی نظر پڑی ‘ فوراً بلند آواز میں اس نے پکارا : قبیلے والو ! یہ آگئے وہ صاحب جن کا تم انتظار کرتے تھے ‘ آواز سنتے ہی مسلمان دوڑ پڑے اور جا کر حضور ﷺ کا استقبال کیا۔ یہ واقعہ یکم ربیع الاوّل روز دو شنبہ کا ہے۔ جریر بن حازم نے ابو اسحاق کی روایت سے دوسری ربیع الاوّل آمد کی تاریخ بتائی ہے۔ ابراہیم بن سعد نے بروایت ابن اسحاق بارہ تاریخ اور ابو سعید نے 13 تاریخ بیان کی ہے ‘ حافظؔ نے کہا اکثر کا قول ہے کہ دن میں پہنچے تھے۔ مسلم کی روایت ہے کہ رات کو آئے تھے۔ دونوں روایتوں کا اختلاف اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ آخر شب یعنی ابتدائے صبح میں پہنچے ہوں ‘ اس طرح حضور والا قبا میں پہنچے اور بنی عمرو بن عوف (کے محلہ) میں کلثوم بن ہدم اور ابوبکر حبیب بن اساف کے گھر فروکش ہوئے۔ کلثوم نے چیخ کر غلام کو آزاد دی ‘ نجیع ! نجیع کا لفظ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر میں کامیاب ہوگیا (نجیع کا معنی ہے کامیاب ‘ حضور ﷺ نے اس لفظ سے نیک فال لی) قباء میں کلثوم بن ہدم کی ایک ایسی جگہ تھی ‘ جہاں خشک کرنے کے بعد چھوارے پھیلائے جاتے تھے۔ حضور ﷺ نے وہ جگہ لے کر وہاں مسجد تعمیر کرا دی۔
صحیح روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو بن عوف (کے محلہ) میں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا اور وہاں ایک مسجد کی بنیاد ڈالی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ ایسی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے (یعنی لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی سے یہی مسجد مراد ہے) ۔
صحیح روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو کے محلہ میں رسول اللہ ﷺ نے دس روز سے کچھ زائد قیام فرمایا۔ حضرت انس نے فرمایا : 14 روز قیام پذیر رہے۔ ابن اسحاق نے پانچ دن کہا ہے۔ ابن حبان نے کہا : سہ شنبہ ‘ چہار شنبہ اور پنج شنبہ تین روز قیام پذیر رہے اور جمعہ کے دن وہاں سے نکل آئے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عقبہ نے تین دن کی صراحت کی ہے ‘ گویا ان دونوں حضرات نے داخل ہونے اور برآمد ہونے کے دن کی گنتی نہیں لگائی۔ بنی عمرو بن عوف کے کچھ لوگوں کا بیان ہے کہ 22 روز قیام فرمایا۔ امام احمد (رح) اور بخاری (رح) و مسلم (رح) نے حضرت ابوبکر کی روایت سے اور سعید بن منصور نے حضرت ابن زبیر کے حوالہ سے اور ابن اسحاق نے حضرت عویمر بن ساعد کی نسبت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی نجار کو بلوایا۔ بنی نجار آپ کے (رشتہ کے) ماموں ہوتے تھے کیونکہ عبدالمطلب کی ماں اسی خاندان کی تھیں ‘ وہ لوگ تلواریں لٹکائے حاضر ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ سے کہا تشریف لے چلیے۔ آپ سب امن ‘ چین میں رہیں گے اور آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی قصویٰ (نام والی) اونٹنی پر سوار ہوگئے ‘ لوگ آپ ﷺ کے دائیں ‘ بائیں اور پیچھے ہو لیے۔ کچھ لوگ سوار تھے ‘ کچھ پیدل۔ یہ دیکھ کر بنی عمرو بن عوف جمع ہوگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ ﷺ ہمارے مکان سے بہتر مکان کے خواستگار ہیں کہ یہاں سے تشریف لیے جا رہے ہیں ؟ فرمایا : مجھے ایسی آبادی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو سب بستیوں کو کھالے گی اس لیے تم اس (اونٹنی) کو چھوڑ دو ۔ یہ خدا کی طرف سے مامور ہے جہاں حکم ہوگا وہیں ٹھہر جائے گی) غرض مدینہ کو پہنچنے کے ارادے سے حضور ﷺ قباء سے چل دیئے لوگ آپ ﷺ کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے جو کہہ رہے تھے اللہ اکبر ! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ عورتیں اور لڑکیاں اور بچے کہہ رہے تھے (نظم) وداع کی گھاٹیوں سے چودہویں کا چاند نکل آیا۔ جب تک دعا کرتے رہیں دعا کرنے والے (یعنی ہمیشہ) شکر ادا کرنا ہم پر لازم ہے۔ اے وہ رسول ! جس کو ہمارے اندر بھیجا گیا ہے ‘ آپ اس حکم کے ساتھ تشریف لائے ہیں جس کی تعمیل کی جائے گی (یعنی آپ کے ہر حکم کی ہم تعمیل کریں گے) ۔
امام احمد (رح) نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے کی خوشی میں وحشی چھوٹے چھوٹے برچھے لے کر کھیل دکھانے لگے۔ بخاری نے حضرت براء کی روایت سے لکھا ہے ‘ حضرت براء نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے اہل مدینہ جتنا خوش ہوئے ‘ میں نے اتنا خوش ہوتے ان کو کبھی نہیں دیکھا۔ انصار کے جس گھر کی طرف سے آپ ﷺ گزرتے تھے وہ کہتے تھے : یا رسول اللہ ! ﷺ تشریف لائیے ( آپ ﷺ کے لیے) حفاظت اور فراغت ہے۔ حضور ﷺ ان کو دعاء خیر دیتے اور فرماتے : یہ (اونٹنی) مامور ہے اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ بنی سالم کی طرف سے گزرے تو عتبہ بن مالک اور نوفل بن عبداللہ بن مالک آئے اور نوفل نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے پاس نزول اجلال فرمائیے ‘ ہمارے لوگوں کی تعداد بھی بہت ہے اور سامان بھی کثیر ہے اور اسلحہ بھی ہے اور ہم باغوں والے ہیں۔
یا رسول اللہ ! ﷺ جو عرب دشمن سے ڈر کر آتا تھا ہمارے پاس آکر پناہ لیتا تھا (ہم ہی اس کو پناہ دیتے تھے) حضور ﷺ مسکرانے لگے اور فرمایا : ( اس کے راستہ سے ہٹ جاؤ) اس اونٹنی کو چھوڑ دو ‘ یہ (اللہ کی طرف سے) مامور ہے۔ عبداللہ بن صامت اور عباد بن فضلہ بھی آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے پاس اتر جائیے۔ فرمایا : اللہ تم کو برکت دے یہ اونٹنی مامور ہے۔ مسجد بنی سالم (کے مقام) پر پہنچے۔ یہ مسجد وادی وانونا میں واقع تھی۔ بغوی نے لکھا ہے ہے کہ جمعہ کا دن بنی سالم بن عمرو بن عوف (کے محلہ) میں آیا اور اسی مسجد میں آپ ﷺ نے نماز جمعہ ادا کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضور ﷺ نے مدینہ میں جمعہ کی اوّل نماز پڑھی اور مدینہ ہی میں جمعہ کا پہلا خطبہ دیا۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ مسجد قباء میں نماز پڑھتے تھے۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب جمعہ کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ کے ساتھ سو آدمیوں نے نماز پڑھی پھر حضور ﷺ راستہ سے دائیں سمت کو ہو لیے (یعنی مڑ گئے) بنی ساعدہ کی طرف سے گزر ہوا تو سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو اور دجانہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ یہاں تشریف لے آئیے۔ یہاں حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم کے ساتھ ثروت و طاقت اور دلیری بھی ہے۔ سعد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ثروت دلیری ‘ کثرت تعداد اور اس کے ساتھ کھجور کے خوشوں کی فراوانی اور کنواں میری قوم سے بڑھ کر کسی قبیلے کے پاس نہیں ہے (میرے ہی قبیلہ میں نزول فرمائیے) حضور ﷺ نے فرمایا : ابو ثابت اس کا راستہ چھوڑ دو (اس سے تعرض نہ کرو ‘ جہاں ٹھہرنا ہے یہ ٹھہر جائے گی اللہ کی طرف سے) یہ مامور ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ اور بڑھے ‘ راستہ میں سعد بن ربیع ‘ عبداللہ بن رواحہ اور شبر بن سعد سامنے آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم کو چھوڑ کر آگے نہ بڑھیے۔ کہاں تشریف لے جانے کا ارادہ ہے۔ زیاد بن لبید اور فروہ بن عمر نے بھی یہی گزارش کی لیکن حضور ﷺ نے یہی فرمایا : اس کا راستہ چھوڑ دو ‘ یہ مامور ہے۔ اس کے بعد بنی عدی نجاری کی طرف گزر ہوا۔ یہ لوگ آپ ﷺ کے ماموں تھے (عبدالمطلب کی ماں اسی قبیلہ کی تھیں) ابو سلیطہ اور صرفہ بن انس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم کو چھوڑ کر آگے نہ جائیے۔ ہماری تعداد بھی (بہت) ہے ‘ قوّت بھی ہے اور آپ ﷺ سے قرابت بھی ہے یا رسول اللہ ! ﷺ چونکہ آپ ﷺ سے قرابت بھی ہے اس لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی دوسرا قبیلہ آپ کا مستحق نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا راستہ چھوڑ دو یہ بندۂ حکم ہے (خود مختار نہیں ہے) غرض اونٹنی اور آگے چلی یہاں تک کہ جب بنی عدی بن نجار کے احاطہ کے سامنے پہنچی تو ان کی جانب رخ کر کے کچھ ٹھہری بالآخر چلتے چلتے مسجد کے دروازہ تک پہنچے ‘ مسجد کے دروازہ تک پہنچ کر اونٹنی بیٹھ گئی ‘ جبار بن صخر اس کو اس امید پر مارنے لگے کہ شاید اٹھ کھڑی ہو لیکن اونٹنی نہیں اٹھی ‘ رسول اللہ ﷺ اُتر پڑے اور فرمایا : کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے ‘ ابو ایوب نے عرض کیا : میرا یہ گھر زیادہ قریب ہے۔ حضور ﷺ ان کے گھر فروکش ہوگئے اور چار مرتبہ دعا کی ‘ اے اللہ برکت والے مقام میں ہم کو نازل فرما ‘ تو بہترین اتارنے والا ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن الزبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابو ایوب کے مکان پر اترے اور زید بن حارثہ بھی ساتھ تھے۔
ابن اسحاق نے المبتداء میں اور ابن ہشام نے التیجان میں بیان کیا ہے کہ ابو ایوب کے جس گھر میں رسول اللہ ﷺ اترے تھے وہ مدینہ کے اگلے حصہ میں تھا اس کی تعمیر تبع اوّل نے کی تھی ‘ تبع کے ساتھ چار سو علماء یہود بھی تھے۔ ان علماء نے آپس میں طے کرلیا کہ اس جگہ سے باہر نہیں جائیں گے۔ تبع نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : ہم اپنی کتاب میں پاتے ہیں کہ ایک نبی جن کا نام محمد ﷺ ہوگا
یہ مقام انکا دار ہجرت ہوگا۔ ہم اسی وجہ سے یہاں مقیم ہونا چاہتے ہیں کہ شاید ان کو پالیں۔ یہ سن کر تبع نے بھی وہیں مقیم ہونے کا ارادہ کرلیا لیکن پھر اس کی رائے ہوئی کہ ان علماء میں سے ہر ایک کا ایک مکان تعمیر کرا دے تو اس نے ہر عالم کے لیے ایک مکان بنوا دیا اور ایک ایک باندی خرید کر ہر عالم کا نکاح کرا دیا اور ہر شخص کو کثیر مال دیا اور ایک تحریر لکھ دی جس میں اپنے مسلمان ہوجانے کا اظہار کیا۔ اس تحریر میں یہ بھی لکھا تھا : میں شہادت دیتا ہوں کہ احمد اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ اگر میری عمر ان کی پیدائش تک ہوتی تو میں ان کا مددگار ہوتا۔ تبع نے اس تحریر پر سونے کی مہر لگا کر سر کردہ احبار (یہودی علماء کے سردار) کے سپرد کردی اور اس سے درخواست کی کہ اگر وہ رسول اللہ ﷺ کو پالے تو ان کی خدمت میں پیش کر دے ورنہ اس کا بیٹا ‘ پوتا وغیرہ جو بھی رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پائے یہ تحریر ان کو پہنچا دے۔ تبع نے رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک مکان بھی تعمیر کرا دیا تھا تاکہ آپ ﷺ جب مدینہ میں آئیں تو اس مکان میں فروکش ہوں۔ اس مکان کی ملکیت نوبت بنوبت چکر کاٹتی ہوئی ابو ایوب تک پہنچی۔ ابو ایوب اسی عالم کی نسل میں سے تھے جو علماء یہود کا سردار تھا۔ مدینہ والوں میں سے جس نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی وہ انہی عالموں میں سے کسی عالم کی نسل میں سے تھے جس کو تبع نے مدینہ میں آباد کیا تھا ‘ کہا جاتا ہے کہ تبع کی وہ تحریر جس میں اس کے اشعار تھے ‘ ابو یوسف کے پاس تھی ‘ جو ابو یوسف نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردی تھی ‘ یہ روایت غریب ہے۔
مسئلہ آیت میں نداء سے مراد وہ اذان ہے جو خطبہ کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کے وقت دی جاتی ہے۔ ابن یزید کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کی اذان اس وقت دی جاتی تھی جب امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ آیا اور جمعہ کی نماز پڑھنے والے آدمی بہت ہوگئے تو آپ نے تیسری اذان جو منارہ پر ہوتی تھی ‘ بڑھا دی۔
تیسری کہنے کی یہ وجہ ہے کہ تکبیر ‘ اقامت کو پہلی اذان قرار دے لیا گیا (اور دوسری اذان خطبہ کے وقت منبر کے سامنے ہوئی) اور تیسری اذان یہی منارہ والی ہوئی ‘ اس تفصیل کی بناء پر اس آیت میں نداء سے مراد ہوگی دوسری اذان جو خطبہ کے وقت منبر کے سامنے ہوتی تھی اور اسی کو سن کر سارے مشاغل چھوڑ کر تیزی کے ساتھ چل پڑنا واجب ہوگا لیکن صحیح یہ ہے کہ خریدو فروخت اور سارے مشاغل ترک کر کے نماز جمعہ کیلئے تیزی کے ساتھ لپکنا پہلی اذان (یعنی منارہ والی اذان) سن کر ہی واجب ہوجاتا کیونکہ اِذَا نُوْدِیَ للصَّلٰوۃِ کا لفظ عام ہے (یعنی جب بھی جمعہ کے لیے اذان دی جائے اور عموم کے تحت اذان اوّل ہی آتی ہے) ۔
فَاسْعَوْا : تو چل پڑو۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن مسعود کی قراءت میں فاسْعَوْا کی بجائے فَامْضُوْا (چل دو ) آیا ہے۔
حسن نے فرمایا : خدا کی قسم ! فاسعوا سے مراد قدموں سے لپکنا مراد نہیں ہے۔ اس کی تو ممانعت آئی ہے۔ نماز کے لیے سکون و اطمینان سے جانے کا حکم ہے بلکہ نیت قلبی اور خشوع کے ساتھ چلنا مراد ہے۔ قتادہ نے اس آیت کی تشریح میں کہا : سعی سے مراد ہے دل سے اور عمل سے یعنی قدموں سے چلنا۔ سعی قدموں سے چلنے کو کہتے ہیں۔ آیت میں آیا ہے : فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ ۔ یعنی جب ان کے ساتھ چلنے لگے۔
دوسری آیت میں آیا ہے : وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ ۔ تیسری آیت میں فرمایا : اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی یعنی تمہارے عمل مختلف ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو نماز کی طرف سعی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ اس سے مراد ہے دوڑنا۔ صحاح ستہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب نماز قائم ہوجائے تو تم اس کی طرف سعی کرتے (یعنی دوڑتے) ہوئے نہ آؤ بلکہ پرسکون اور باوقار طریقہ سے چل کر آؤ پھر جتنی نماز مل جائے (امام کے ساتھ) پڑھ لو ‘ جتنی فوت ہوجائے اس کو پورا کرلو۔ امام احمد کی روایت میں پورا کرنے کی جگہ آیا ہے اس کو قضا کرلو۔
اِلٰی ذِکْرِ اللہ : ذکر سے مراد ہے نماز۔ سعید بن مسیب نے فرمایا : امام کی نصیحت یعنی خطبہ مراد ہے۔
وَذَرُوا الْبَیْعَ : بیع سے (صرف خریدو فروخت ہی مراد نہیں بلکہ اس سے) مراد ہیں وہ تمام مشاغل جو نماز سے روکنے والے ہیں ‘ اس مطلب پر جمعہ کی نماز کے لیے جاتے ہوئے راستہ میں خریدو فروخت کرنا جائز ہوگا۔
بیع کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ اکثر لوگ زوال کے بعد بازاروں کے اندر خریدو فروخت میں مشغول رہتے تھے۔
ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ : یہ اذان کے بعد تمام مشاغل کو ترک کرنا اور نماز کی سعی کرنا تمہارے لیے بیع و شراء سے بہتر ہے اگر تم اپنے ذاتی مصالح کو جانتے ہو تو ایسا کرو۔
مسئلہ جمعہ کی اذان کے وقت بیع کرنا باتفاق علماء گناہ اور حرام ہے لیکن اگر کسی نے ایسا کرلیا اور اذان کے وقت بیع کرلی تو کیا بیع ہو بھی جائے گی یا انعقاد بیع بالکل نہ ہوگا ‘ اول قول امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا ہے اور مؤخر الذکر امام مالک (رح) اور امام احمد کا ہے اس مسئلہ کی بناء پر ایک اصولی مسئلہ کے اختلاف پر ہے ‘ اصولی اختلاف یہ ہے :
کہ افعال حسیہ (جیسے زنا ‘ چوری وغیرہ) کی شرعی ممانعت ان افعال کے لذاتہٖ قبیح ہونے کی موجب ہے اور اس مسئلہ پر سب کا اتفاق ہے لیکن وہ افعال شرعیہ جو شروط فاسدہ کی مقارنت کی وجہ سے ممنوع ہیں ان کی ممانعت قبح لغیرہ کی موجب ہے۔ اصل عقد میں کوئی قبح پیدا نہیں کرتی۔ جیسے مغصوبہ زمین میں نماز کی ممانعت اور جمعہ کی اذان کے وقت بیع و شراء سے باز داشت۔ ایسے ممنوع شرعی افعال کا ارتکاب موجب گناہ ضرور ہے لیکن ذات فعل میں اس سے کوئی فساد نہیں پیدا ہوتا۔ اس بناء پر اذان جمعہ کے وقت خریدو فروخت یا ارض مغصوبہ میں نماز فاسد نہیں ہوجاتی۔ بیع بھی صحیح رہتی ہے اور نماز بھی۔ یہ تفریق امام ابوحنیفہ (رح) نے کی اور امام شافعی نے اس کی تائید کی۔ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک دونوں قسم کے افعال کی ممانعت اصل ذات اور صلب عقد میں قبح پیدا ہوجانے کی موجب ہے اس لیے ایسی بیع بھی اور ایسی نماز بھی غیر صحیح ہے۔
فصل قرآن و حدیث اور اجماع علماء کی روشنی میں صلوٰۃ جمعہ فرض محکم (ناقابل نسخ) ہے۔ اس کا منکر کافر ہے۔ آیت مذکورہ سے جمعہ کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ نماز جمعہ کی اذان ہونے پر سعی کا حکم مرتب کیا گیا ہے ‘ ذکر سے مراد بظاہر نماز ہی ہے یا خطبہ مراد ہے۔ اولیٰ یہ ہے کہ نماز اور خطبہ دونوں مراد ہوں کیونکہ ذکر کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم (دنیا میں) پچھلے ہیں اور قیامت کے روز آگے ہوں گے۔ مگر اتنی بات ہے کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ دن یعنی جمعہ کا دن ان کا تھا۔ اللہ نے ان پر (عبادت) فرض کی تھی اور ان کا آپس میں جمعہ کے سلسلہ میں اختلاف ہوگیا لیکن اللہ نے ہم کو اس کی راہ دکھا دی ‘ دوسرے لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہوگئے۔ یہودی دوسرے دن اور عیسائی ان کے بھی بعد (تیسرے دن) جا پڑے۔ (متفق علیہ) حضرت ابو عمر اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر کے تختوں پر (بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے فرما رہے تھے۔ جمعوں کو ترک کرنے والے ترک سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ‘ پھر وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔ (رواہ مسلم) حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ کچھ لوگ جمعہ کی نماز میں نہیں آتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ (اپنی جگہ) کسی شخص کو نماز پڑھانے کے لیے مقرر کر کے خود جا کر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو جمعہ میں نہیں آتے۔ (مسلم) حضرت طارق بن شہاب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ ہر مسلمان پر سوائے چار آدمیوں کے حق واجب ہے۔ غلام ‘ عورت ‘ بچہ ‘ بیمار۔ (رواہ ابوداؤد) ابوداؤد نے کہا : طارق نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ضرور تھا ‘ لیکن رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا نہیں۔ میں کہتا ہوں ‘ ابو داؤد کے اس تبصرہ کی بناء پر حدیث مرسل صحابی ہوگی اور مرسل صحابی باتفاقِ ائمہ قابل استدلال ہے۔
نووی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث حسب شرط شیخین صحیح ہے۔ بیہقی نے بر طریق بخاری تمیم داری کا قول بیان کیا ہے کہ سوائے بچہ یا غلام یا مسافر کے (ہر شخص پر) جمعہ واجب ہے۔ (رواہ الطبرانی عن الحاکم و ابن مردویہ) اس روایت میں عورت اور بیمار کا بھی استثناء ہے۔ حضرت ابو جعد ضمیری صحابی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تین جمعے حقیر سمجھتے ہوئے ترک کر دے گا اللہ اس کے دل پر چھاپ لگا دے گا۔ (رواہ احمد و ابوداؤد والترمذی و النسائی) ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بغیر عذر کے جمعہ ترک کردیا اس کو منافق لکھ دیا جائے گا۔ اس کتاب میں جس کو نہ مٹایا جائے گا ‘ نہ تبدیل کیا جائے گا ‘ بعض روایات میں تین جمعوں کا لفظ ہے۔ (رواہ الشافعی) ابو یعلی کی روایت میں آیا ہے ‘ جس نے متواتر تین جمعے ترک کردیئے اس نے اسلام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ‘ اس حدیث کے راوی قابل اعتماد ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ (واجب) ہے ‘ سوائے اس کے کہ بیمار ہو یا مسافر یا عورت یا بچہ یا غلام جو شخص کھیل یا تجارت میں مشغول رہ کر (جمعہ کی) پروا نہیں کرے گا اللہ کو بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ اللہ بےنیاز اور مستحق ستائش ہے۔ (رواہ الدار قطنی) علماء کا اجماع ہے کہ جمعہ فرض عین ہے (ہر شخص پر واجب ہے) جو شخص اس کو فرض کفایہ کہتا ہے ‘ غلطی کرتا ہے۔
مسئلہ مسافر پر جمعہ باجماع علماء واجب نہیں۔ زہری اور نخعی کا ایک قول روایت میں آیا ہے کہ مسافر اگر جمعہ کی اذان سن لے تو اس پر جمعہ واجب ہوجاتا ہے۔ غلام اور عورت پر جمعہ واجب نہیں۔ داؤد ظاہری کے نزدیک واجب ہے۔ امام احمد کا قول صرف غلام کے متعلق آیا ہے کہ غلام پر وجوب ہے۔ مکاتب اور ماذون فی التجارۃ غلام کے متعلق علماء کا اختلاف ہے اور اس غلام کے متعلق بھی علماء کا اختلاف ہے جو آقا کے ساتھ مسجد تک گیا ہو اور مسجد کے دروازے پر آقا کی سواری کی حفاظت پر مامور ہو اور جمعہ میں شرکت ‘ سواری کی حفاظت میں خلل انداز نہ ہو ‘ جو لوگ بلا استثناء ہر غلام پر جمعہ واجب نہیں کرتے وہ احادیث مذکورۂ بالا سے استدلال کرتے ہیں۔ احادیث مندرجہ بالا میں کسی غلام کا استثناء نہیں ہے۔
(اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)