Ayahs 62:1–8ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں، لام زائدہ ہے من کے بجائے ما ذکر کرنے میں اکثر کو غلبہ دینا ہے جو بادشاہ ہے، ان چیزوں سے پاک ہے جو اس کی شایان شان نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں (یعنی) عرب میں ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا امی وہ شخص ہے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو اور وہ محمد ﷺ ہیں، جو انہیں اس قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو شرک سے پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب قرآن اور حکمت (یعنی) جس میں احکام ہیں ان مخففہ عن الثقیلہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے ای انھم، سکھاتا ہے یقینا یہ اس کی آمد (بعثت) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے اور بعد والوں میں (مبعوث فرمایا) اور آخرین کا عطف الامیین پر ہے یعنی ان امیون میں سے موجودین میں اور (آئندہ) ان کے بعد آن والے امیوں میں، لیکن سبقت اور فضل میں ان کے برابر نہیں پہنچے اور وہ (نہ پہنچنے والے) تابعین ہیں، اور تابعین پر، تابعین کے بعد تاقیامت آنے والے جن و انس جو کہ آپ ﷺ پر ایمان لائے صحابہ ؓ کی فضیلت ثابت کرنے کیلئے تابعین پر اثبات فضیلت پر اقصار کرنا کافی ہے، وہ صحابہ ؓ ہیں کہ جن میں آپ ﷺ مبعوث فرمائے گئے، اس لئے کہ ہر زمانہ اپنے مابعد متصل زمانہ سے بہتر ہوتا ہے، اپنے ملک و صنعت میں وہی غالب با حکمت ہے یہ خدا کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے یعنی نبی کو اور ان کو جن کا نبی کے ساتھ ذکر کیا گیا اور اللہ بڑے فضل والا ہے جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا یعنی جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا مکلف بنایا گیا پھر انہوں نیاسپر عمل نہیں کیا ان صفات پر جو آپ ﷺ کی (صفات) اس (تورات) میں تھیں جس کی وجہ سے وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے، ان کی مثال فائدہ حاصل نہ کرنے میں اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہے غرضیکہ ان لوگوں کا برا حال ہے جنہوں نے خدا کی ان آیتوں کو جھٹلایا جو محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرنے والی ہیں اور مخصوص بالذموم محذوف ہے اور اس کی تقدیر ہذا لمثل ہے اور اللہ ظالم یعنی کافر کو ہدایت نہیں دیتا، آپ کہہ دیجیے کہ اے یہودیو ! اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم بلاشرکت غیرے اللہ کے مقبول (محبوب) ہو تو تم موت کی تمنا کرو (تمنوا) سے دو شرطیں متعلق ہیں اس طریقہ پر کہ اول ثانی میں قید ہے، یعنی اگر تم اپنے گمان میں اس بات میں سچے ہو کہ تم اللہ کے محبوب ہو اور محبوب آخرت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کا مبداء موت ہے لہٰذا تم اس کی تمنا کرو، و کبھی اس موت کی تمنا نہیں کریں گے، بوجہ ان اعمال کفریہ کے جن کو وہ اختیار کرچکے ہیں یعنی بوجہ آپ ﷺ کے انکار کے جو ان کی تکذیب کو مستلزم ہے اللہ تعالیٰ ان ظالموں کافروں کو خوب جانتا ہے آپ کہہ دیجیے کہ تم جس موت سے بھاگتے ہو وہ تم کو آپکڑے گی فانہ میں فاء زائدہ ہے، پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے کے پاس لے جائے جائو گے پھر وہ تم کو تمہارے سب کئے ہوئے کام بتا دیگا اور تم کو اس کی جزاء دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ :۔ القدوس مبالغہ کا صیغہ بہت پاک، برکت والا، بروزن فعول بضم فاء عربی میں اس وزن پر صرف چار الفاظ آئے ہیں، قدوس، سبوح ، ذروح ، قروخ کو ان کو بھی الفتح الفائ پڑھنا جائز ہے باق اس وزن پر جتنے بھی الفاظ آئے ہیں سب فتحہ فائ کے ساتھ آئے ہیں۔
قولہ :۔ فی الامیین ای الی امیین وآخرین ای الی آخرین فی بمعنی الی ہے۔
قولہ :۔ یتلوا علیھم یہ رسولاً کی صفت ہے یا اس سے حال ہے۔
قولہ :۔ مخففۃ من الثقلیۃ و ان کانوا میں ان مخففہ عن الثقلیہ ہے اصل میں انھم تھا اور دلیل اس کی مابعد میں لام کا واقع ہونا ہے، ای لفی ضلال مبین اس قسم کا لام مخففہ عن الثقیلہ کے ساتھ مخصوص ہے۔
قولہ :۔ عطف علی الامیین یعنی آخرین کے اعراب میں دو وجہ ہیں، اول یہ کہ آخرین، امیین پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہو، ای بعثہ فی الاممین و قی الآخرین من الامیین اور
قولہ :۔ لما یلحقوا بھم یہ آخرین کی صفت ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ آخرین، یعلمھم کی ضمیر پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو، ای یعلم الآخرین لم یلحقوا بھم
قولہ :۔ الموجودین منھم یہ الامیین معطوف علیہ کی تفسیر ہے اور مراد امیین سے وہ عرب ہیں جو آپ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔
قولہ :۔ لم یلحقوا بھم فی السابقۃ لما کی تفسیر لم سے کر کے اشارہ کردیا کہ یہ عدم سابقیۃ تاقیامت ہے، یہ مطلب نہیں کہ اب تک سابقیۃ میں مساوی نہیں ہوئے مگر آئندہ امید ہے، جیسا کہ لما سے مفہوم ہوتا ہے اس لئے لما کا مفہوم ہے تاہنوز اور لم کے ذریعہ نفی عام ہوتی ہے خواہ متوقع الحصول ہو یا نہ ہو بخلاف لما کے کہ اس کا استعملا اس منفی میں ہوتا ہے جو متوقع الحصول ہو۔
قولہ :۔ والاقتصار علیھم یعنی آخرین کی تفسیر میں تابعین پر اقتصار کرنا کافی ہے، دراصلیہ مفسر علام کی جانب سے دیگر مفسرین کی تفسیر سے عدول کرنے کا اعتزار ہے، یعنی دیگر مفسرین حضرات نے صحابہ ؓ کی فضیلت تاقیامت آنے والے مسلمانوں پر بیان فرمائی ہے، اور مفسر علام محلی (علیہ السلام) کی عباتر سے صرف تابعین پر فضیلت معلوم ہوتی ہے حق دیگر مفسرین کے ساتھ ہے، اعتزار کا حاصل یہ ہے کہ جب تابعین پر صحابہ ؓ کی فضیلت ثابت ہوگئی تو تابعین کے حد والے حضرات پر بطریق اولی فضیلت ثابت ہوگی اور دلیل اس کی یہ ہے کہ ہر قرن اپنے مابعد متصل قرن سے بہتر ہوتا ہے۔
قولہ : ممن بعث الیھم، من عداھم کا بیان ہے۔
قولہ :۔ من جمیع یہ بیان کا بیان ہے۔
قولہ : یہ مفسر کے قول کاف کی علت ہے۔
قولہ : کی تفسیر ہے اور سے مراد اور ہیں۔
قولہ :
اعتراض : یعنی اول ثانی کے شرط ہے اس کا متتضی یہ ہے کہ اصل شرط ثانی ہے اور اول اس کی قید ہے، اور یہ مشہور قاعدہ کے خلاف ہے، اور قاعدہ مشہورہیہ ہے کہ جب ایک جزاء دو شرطوں سے متعلق ہو تو درحقیقت اول ہی شرط ہوتی ہے اور ثانی اول کی شرط ہوتی ہے گویا کہ شرط اول اور شرط ثانی مل کر معنی میں کے ہیں۔
جواب : جواب کا محصل یہ ہے کہ قاعدہ مشہورہ اس وقت ہے جب کہ جزاء دونوں شرطوں کے بعد یا پہلے واقع ہو، یہاں جزا دونوں شرطوں کے درمیان واقع ہے، لہذا یہ قاعدہ مشہورہ کے خلاف نہیں ہے
تفسیر و تشریح
نام :
زمانہ نزول
پہلے رکوع کا زمانہ نزول 7 ھ ہے، اور غالبا یہ رکوع فتح خیبر کے موقع پر یا اس کے قریبی زمانہ میں نازل ہوا ہے بخاری، مسلم، ترمذی، نشائی، اور اب جریر نے حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے جب یہ آیات ناز ہوئیں، اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ صلح حدیبیہ 2 ھ کے بعد اور فتح خیبر سے پہلے ایمان لائے تھے، اور خیبر کی فتح ابن ہشام کے بقول محرم میں اور ابن سعد کے بقول جمادی الاولیٰ 7 ھ میں ہائی ہے۔ دوسرارکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانہ میں نازل ہوا ہے، کیونکہ حضور ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی پانچویں روز جمعہ قائم کردیا، اور اس رکوع کی آخری آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ صاف بتارہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازما کسی ایسے زمانہ میں پیش آیا ہوگا جب لوگوں کو دینی اجتماعات کے آداب کی پوری تربیت ابھی نہیں ملی تھی
نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ اور سورة منافقون پڑ ھا کرتے تھے، (مسلم شریف کتاب الجمعہ) قرآن کریم کی جو سورتیں سے شرہو ہوئی ہیں ان کو مسبحات کہا جاتا ہے، ان تمام سورتوں میں زمین وہ آسمان اور جو کچھ میں ہیں سب کے لئے اللہ کی تسبیح خوانی ثابت کی گئی ہے، اگر اس تسبیح سے مراد تسبیح حالی ہے یعنی بزبان حال تو ہر شخص سمھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا ذرہ ذرہ اپنے صالع حکیم کی حکمت وقدرت پر گواہی دیتا ہے یہی اس کی تسبیح ہے اور صیح بات یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اپنے شعور اور طرز کے مطابق حقیقی تسبح کرتی ہے، اس لئے کہ شعور وادراک اللہ تعالیٰ نے ہر شجر و حجر بلکہ ہر شئی میں رکھا ہے اس عقل و شعور کا لازمی نتیجہ اور لازمی تقاضہ تسبیح ہے، مگر ان چیزوں کی تسبیح کو لوگ سنتے نہیں ہیں، اسی لئے قرآن کریم میں فرمایا
اس تمہید کو آگے کے مضمون سے بڑی گہری مناسبت ہے، عرب کے یہودی رسول اللہ ﷺ کے ذات وصفات اور کارنوموں میں رسالت کی صریح نشانیاں بچشم سر دیکھ لینے کے باوجود اور اس کے باوجود کہ تورات میں حضرت موسٰی ( علیہ السلام) نے آپ کے آنے کی صریح بشارت دی تھی جو آپ ﷺ کے سوا کسی اور پر صادق نہیں آتی تھی، صرف اس بناء پر آپ ﷺ کا انکار کرنے تھے کہ اپنی قوم و نسل سے باہر کے کسی شخص کی رسالت مان لینا سخت ناپسند کرتے تھے، آگے کی آیتوں میں ان کے اسی رویے پر انہیں ملامت کی جارہی ہے، اس لئے کلام کا آغاز اس تمہیدی فقرے سے کیا گیا ہے اس میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبح کر رہی ہے یعنی یہ پوری کائنات اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جن کی بناء پر یہودیوں نے اپنی نسلی برتری کا تصور قائم کر رکھا ہے، وہ کسی کا رشتہ دار نہیں، نہ جانب داری کا اس کے یہاں کوئی کام، اپنی ساری مخلوق کے ساتھ اس کا معامل یکساں عدل و رحمت اور ربوبیت کا ہے، کوئی خاص نسل یا قوم اس کی چہیتی نہیں ہے ج کہ وہ خواہ کچھ بھی کرتی رہے ہرحال میں اس کی نوازشیں اسی کے لئے مخصوص رہیں اور کسی دوسری نسل یا قوم سے اس کو عداوت نہپیں ہے کہ وہ اپنے انر خوبیاں بھی رکھتی ہو تو بھی وہ اس کی عنایتوں سے محروم رہے، پھر فرمایا گیا کہ وہ باشاہ ہے یعنی دنیا کی کوئی طاقت اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی نہیں ہے تم بندے اور رعیت ہو، تمہارا یہ منصب کب سے ہوگیا کہ تم یہ طے کررہے ہو کہ وہ تمہاری ہدایت کے لئے اپنا پیغمبر کسے بنائے ؟ اور کسے نہ بنائے اس کے بعد ارشاد ہوا کہ وہ قدوس ہے یعنی وہ اس سے بدرجہا مزہ اور پاک ہے کہ اس کے فیصلہ میں کسی خطا اور غلطی کا امکان ہو، آخر میں اللہ کی دو مزید صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ زبردست ہے، اس سے لڑ کر کوئی جیت نہیں سکتا، دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے یعنی جو کچھ وہ کرتا ہے وہ عین حکمت کے مطابق ہوتا ہے، اور اس کی تدبیریں ایسی محکم ہوتی ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کو توڑ نہیں سکتا۔
کی جمع ہے، ناخواندہ شخص کو کہا جاتا ہے، عرب کے لوگ اس لقب سے معرف ہیں، کیونکہ ان میں نوشت و خواند کارواج نہیں تھا، بہت کم لوگ پڑھے لکھے ہوتے تھے، اور یہ کہ جو رسول بھیجا گیا ہے وہ بھی انہیں میں سے ہے یعنی امی ہے، اس لئے یہ معاملہبڑا حیرت انگیز ہے کہ قوم ساری امی اور جو رسول بھیجا گیا وہ بھی امی اور جو فرائض اس رسول کے سپرد کئے گئے ہیں جن کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے، وہ سب علمی، تعلیمی اور اصلاحی ایسے ہیں کہ نہ کوئی امی ان کو سکھا سکتا ہے اور نہ امی قوم ان کو ان کو سیھکنے کے قابل ہے۔
یہ صرف حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کملہ سے رسول اللہ ﷺ کا اعجاز ہی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے جب تعلیم و اصلاح کا کام کیا ہے تو انہیں امیین میں وہ علماء اور حکماء پیدا ہوگئے کہ جن کے علم و حکمت، عقل و دانش اور ہر کام کی عمدہ صلاحیت نے سارے جہاں سے اپنا لوہا منوا لیا۔
بعثت نبوی کے تین مقاصد :
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے تین مقاصد صفت نعمت الٰہیہ کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں، ایک تلاوت قرآن، یعنی قرآن پڑھ کر امت کو سنانا اور دوسرے ان کو ظاہر و باطن غرضیکہ ہر قسم کی نجاست سے پاک کرنا، جس میں بدن، لباس وغیرہ کی ظاہری گندگی بھی شامل ہے اور عقائد و اعمال اور اخلاق و عادات کی پاکیزگی بھی، تیسرے کتاب و حکمت کی تعلیم ہے، یہ دونوں چیزیں حق تعالیٰ کے انعامات بھی ہیں اور آپ ﷺ کی بعثت کے مقاصد بھی۔
آخرین کے لفظی معنی، دوسرے لوگ، لما یلحقوا بھمہ کے بعنی، جو ابھی تک ان لوگوں یعنی امیین کے ساتھ نہیں ملے، مراد ان سے وہ تمام مسلمان ہیں جو قیامت تک اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے۔ (معارف)
لفظ آخرین کے عطف میں دو قول ہیں، بعض حضرات نے اس کا امیین پر عطف قرار دیا ہے جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ بھیجا اللہ نے اپنا رسول ﷺ اُمیین میں اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے نہیں ملے، اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ امیین یعنی موجودین میں رسول ﷺ کا بھیجنا تو ظاہر ہے مگر جو لوگ ابھی آئے ہی نہیں ان میں رسول ﷺ بھیجنے کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا جواب بیان القرآن میں یہ دیا گیا ہے کہ ان میں بھیجنے سے مراد ان کے لئے بھیجنا ہے، کیونکہ لفظ ” فِی “ عربی زبان میں ” کے لئے “ کے معنی میں بھی آتا ہے۔
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ آخرین کا عطف یعلمھمہ کی ضمیر منصوب پر ہے جس کا یہ مطلب ہوا کہ آنحضرت ﷺ تعلیم دیتے ہیں۔ اُمیین کو اور ان لوگوں کو بھی جو ابھی ان کے ساتھ نہیں ملے۔ (اعنارہ فی المظہری، معارف)
اس کی مزید تفصیل، تسہیل و تحقیق کے زیر عنوان گزر چکی ہے ملاحظہ کرلی جائے۔
صحیح مسلم و بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ آپ ﷺ پر نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے ہمیں سنائی، جب آپ ﷺ نے آیت ” و آخرین منھمہ “ (الآیۃ) پڑھی تو ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جن کا ذکر آخرین کے لفظ سے کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے اس وقت سکوت فرمایا : مکرر سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی ؓ پر رکھ دیا (جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اور فرمایا : اگر ایمان ثریا ستارے کی بلندی پر بھی ہوگا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی ایمان کو لے آئیں گے) ۔
اسفار، سفر کی جمع ہے، بڑی کتاب کو کہتے ہیں، کتاب و سفر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو گویا قاری اس کے معانی میں سفر کرتا ہے اس لئے کتاب کو سفر کہتے ہیں۔ (فتح القدیر)
اس آیت میں بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے اور عمل نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں صاف صاف آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی گئی تھی۔ آپ ﷺ کی ایسی علامات بیان کی گئی تھیں کہ جو صرف آپ ﷺ پر ہی چسپاں ہوتی تھیں جس کا تقاضہ تھا کہ یہ لوگ سب سے پہلے آپ ﷺ کی پر ایمان لاتے مگر حسد اور دشمنی کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لائے، یہود کی اس بےعملی کی مثال دی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں رکھی ہوئی ہیں ان میں کیا لکھا ہوا ہے ؟ اس کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ ؟
اللہ تعالیٰ نے یہود کو تورات کا حامل بنایا تھا مگر یہود نے اس کی ذمہ داری نہ سمجھی اور نہ ادا کی، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوں اور اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ کس چیز کا بھار اٹھائے ہوئے ہے بلکہ یہود کی حالت گدھے سے بھی بدتر ہے اس لئے کہ وہ تو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور پھر بھی کتاب اللہ کے حامل ہونے کی ذمہ داری سے سرفرازی اختیا نہیں کرتے، بلکہ دانستہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں، اس کے باوجود ان کا زعم یہ ہے کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور رسالت کی نعمت ہمیشہ کے لئے ان کے نام لکھ دی گئی ہے گویا یہود کی رائے یہ ہے کہ خواہ وہ اللہ کے پیغام کا حق دا کریں یا نہ کریں۔ بہرحال اللہ اس کا پابند ہے کہ وہ اپنے پیغام کا حامل ان کے سوا کسی کو نہ بنائے۔
یہود اپنے کفرو شرک اور ساری بداخلاقیوں کے باوجود یہ دعویٰ بھی رکھتے تھے، یعنینحن ابناء اللہ واحبائہ یعنی ہم تو اللہ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں اور اپنے سوا کسی کو جنت کا مستحق نہیں سمجھتے، بلکہ یوں کہا کرتے تھے، لن یدخل الجنۃ الامن کان ھودًا او نصاری گویا وہ آخرت کے عذاب سے خود کو بالکل محفوظ اور مامون سمجھتے تھے اور جنت کی نعمتوں کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے۔
جب یہود اپنے آپ کو خدا کا محبوب اور چہیتا سمجھتے ہیں، آگر آخرت کی تمام نعمتوں کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، اور یہ بھی ان کا ایمان ہے کہ آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے ہزارہا درجہ اعلیٰ اور بہتر ہیں، تو اس کا مقتضا یہ ہے کہ ان کے دل میں موت کی تمنا پیدا ہو، تاکہ دنیا کی مکدر اور رنج و غم سے بھری ہوئی زندگی سے نکل کر خالص آرام و راحت اور دائمی زندگی میں پہنچ جائیں۔
اس لئے آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی گئی کہ آپ ﷺ یہود سے فرمائیں کہ جب تم خدا کے محبوب اور لاڈلے ہو اور تمہیں یہ خطرہ بالکل نہیں کہ آخرت میں تمہیں کوئی عذاب ہوسکتا ہے تو پھر تم ذرا موت کی تمنا کرو۔
قرآن نے خود ہی ان کا جواب دے دیا، یعنی یہ لوگ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے، اس لئے کہ ان کا موت سے فرار بےسبب نہیں ہے، وہ زبان سے خاہ کیسے لمبے جوڑے دعوے کریں، مگر ان کے ضمیر خوب جانتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کے ساتھ ان کا معاملہ کیا ہے اور آخرت میں ان حرکتوں کے کیا نتائج نکلنے کی توقع کی جاسکتی ہے جو وہ دنیا میں کر رہے ہیں، اسی لئے ان کا نفس خدا کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی راہ میں بھی جان دینے کے لئے تیار نہ تھے، نہ خدا کی راہ میں اور نہ قوم کی راہ میں اور نہ خود اپنی جان و مال و عزت کی راہ میں، انہیں صرف زندگی رکار تھی خودہ کیسی ہی زندگی ہو، اسی چیز نے ان کو بزدل بنادیا تھا۔
یہود خدا کی محبوبیت اور جنت کی ٹھیکے داری کے دعوے کے باجوجود، موت سے بھاگتے ہیں، آپ ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ آ کر رہے گی، اب نہیں تو آئندہ۔
Ayahs 62:9–10ترجمہ : اے ایمان والو جب جمعہ کے روز جمعہ (کی نماز) کے لئے اذان کہی جائے تو تم اللہ کی یاد (نماز) کی طرف (فوراً ) چل پڑا کرو، من ’ بمعنی فی ہے اور خریدو فروخت ترک کردیا کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھتے ہو کہ یہ بہتر ہے، پھر تم اس پر عمل کرو، پھر جب نماز ہوچکے تو تم زمین میں پھیل جائو امرا باحت کے لئے، اور خدا کا فضل (روزی) طلب کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہا کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ آپ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ ایک قافلہ آیا، اور دستور کے مطابق اس کی آمد پر ڈھول بجایا گیا تو لوگ اس کے لئے مسجد سے نکل گئے، سوائے بارہ آدمیوں کے تو یہ آیت نازل ہوئی، وہ لوگ جب کسی تجارت کو دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں، یعنی تجارت کی طرف، اس لئے کہ وہ ان کا مطلوب ہے نہ کہ تماشہ اور آپ کو خطبہ میں کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ جو اللہ کے پاس ثواب ہے وہ ایمان والوں کے لئے کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے کہا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اہل و عیال کو روزی دیتا ہے، یعنی اللہ کے روزی سے روزی دیتا ہے۔
قولہ : من بمعنی فی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ من یوم الجمعۃ من بمعنی فی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ من بیانیہ ہو اور اذا نودی کا بیان ہو۔
قولہ : یوم الجمعۃ، الجمعۃ میں دو قرائتیں ہیں، اول دونوں یعنی جیم اور میم کے ضمہ کے ساتھ یہ جمہور کی قراءت ہے اور دوسری جمعۃ کے میم کے سکون کے ساتھ یہ شاذ ہے، اور ایک قراءت میم کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے مگر یہ بھی شاذ ہے۔
قولہ : انہ خیر یہ جملہ مخدوف مان کر اشارہ کردیا کہ تعلمون کا مفعول بہ مخدوف ہے اور فافعلوہ، مخدوف مان کر اشارہ کردیا کہ ان کنتم شرط کی جزاء مخدوف۔
قولہ : لانھا مطلوبھم اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ ماقبل میں دو چیزوں کا ذکر ہے، تجارت اور لھو، لہٰذا مناسب یہ تھا کہ لھا کے بجائے لھما فرماتے۔
جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ سابق میں مذکور اگرچہ دو چیزیں ہیں مگر مطلوب آ میں سے صرف ایک یعنی تجارت ہی ہے لھو مطلوب نہیں ہے، اسی وجہ سے لھا کی ضمیر کو مفرد لایا گیا ہے، اس سوال کا دوسرا جواب یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ او کے ذریعہ عطف کیا گیا ہے لہٰذا مراد تو ایک ہی ہے خواہ تجارت ہو یا لھو، ضمیر مئونث لا کر متعین کردیا کہ تجارت مراد ہے۔
قولہ : وترکوک قائما یہ جملہ انفضوا کا فاعل ہے اور قائما سے اشارہ کردیا کہ خطبہ گھڑے ہو کر ہونا چاہیے نہ کہ بیٹھ کر۔
قولہ : یقال کل انسان یرزق عائلتہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ واللہ خیر الرازقین میں خیر اسم تفضیل کا صیغہ ہے جو تعدد کا تقاضہ کرتا ہے اس لئے کہ اسم تفضیل کا استعمال کم از کم دو کے درمیان ہوتا ہے تاکہ مفضل اور مفضل علیہ کا ثبوت ہوجائے اور یہاں رازق ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے تو اسم تفضیل کا استعمال کیسے درست ہوا ؟
جواب : جواب کا ما حصل یہ ہے کہ یہاں خیر کا صیقہ متعدد ہی میں استعمال ہوا ہے، اس لئے کہ کہا جاتا ہے کہ کل انسن یرزق عائلتہ، تو معلوم ہوا کہ ہر انسان اپنے اہل و عیال کا رازق ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ رازق حقیقی ہے اور انسان رازق مجازی کیوں کہ انسان اللہ کے عطا کردہ رزق ہی میں سے دیتا ہے لہٰذا اسم تفضیل کا استعمال صحیح ہے۔
یوم الجمعہ : یوم لجمعہ کو یوم الجمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے کائنات کی تخلیق کا بھی آخری دن ہے حضرت آدم ( علیہ السلام) اسی روز پیدا ہوئے، اسی دن قیامت آئے گی۔
” جمہ “ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے زمانئہ جاہلیت میں اس کو یوم عروبہ کہا کرتے تھے، جب اسلام میں اس دن کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن متعین کیا گیا تو اس کو یوم الجمہ کہا جانے لگا، سب سے پہلے عرب میں کفب بن لوی نے اس کا نام جمعہ رکھا، قریش اس روز جمع ہوتے اور کعب بن لوی خطبہ دیتے، یہ واقعہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پانچ سو ساٹھ سال پہلے کا ہے، کعب بن لوی حضور ﷺ کے جدا بعد میں سے ہیں۔
اسلام سے پہلے ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا، یہودیوں کے یہاں اس غرض کے لئے سبت (ہفتہ) کا دن مقرر تھا، کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دی تھی، عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممتاز کرنے کے لئے اپنا شعار ملت اتوار کو قرار دیا، اگرچہ اس کا کوئی حکم نہ تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے دیا تھا اور نہ انجیل میں اس کا کوئی ذکر ہے، لیکن عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے، اسی وجہ سے بعد کے عیسائیوں نے اس دن کو اپنی عبادت کے لئے مقرر کرلیا، اور پھر 321 ء میں رومی سلطنت نے ایک حکم نامہ کے ذریعہ اس کو عام تعطیل کا دن قرار دیدیا، اسلام نے امتیاز کے لئے ان ملتوں کے شعار کو چھوڑ کر جمعہ کو شعار ملت قرار دیا ہے۔
نودی لصلٰوۃ میں نودی سے جمعہ کی اذان مراد ہے وذروا البیع، میع کو ترک کرنے کا مطلب ہر وہ کام ترک کرنا ہے جو سعی الی الجمعہ میں مخل ہو، اس لئے اذان جمعہ کے بعد کھانا پینا، سونا، حتی کہ مطالعہ وغیرہ کرنا سب ممنوع ہیں۔
جمعہ کی اذان شروع میں صرف ایک ہی تھی، جو خطبہ کے وقت امام کے سامنے کہی جاتی ہے آپ ﷺ اور ابومکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ تک ایک ہی اذان تھی، حضرت عثمان غنی ؓ نے ایک اور اذان مسجد سے باہر اپنے مکان ” زوراء “ پر شروع کرا دی جس کی آواز پورے مدینہ میں پہنچنے لگی، صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ لہٰذا یہ اذان اجماع صحابہ ؓ سے ثابت ہوگئی جو ایک مستقل حجت ہے، بیع و شرا، یا دیگر کاروبار میں مشغولیت جو خطیب کے رو برو اذان کے بعد حرام قرار دی گئی تھی اب وہ پہلی اذان سے شروع ہوگئی۔
Ayah 62:11شان نزول
واذا راو اتجارۃ (الآیۃ) یہ آیت اب وقت نازل ہوئی جب کہ ایک روز آپ ﷺ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک تجارتی قافلہ ضرویات زندگی کا سامان لے کر شام سے آگیا، تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ ایک بہت بڑے تاجر وحیہ کلبی کا تھا، اطلاع عام کے لئے ڈھول وغیرہ بجوا کر عام منا دی کرا دی گئی، مدینہ میں ان دنوں خشک سالی تھی ہر شخص کو خوردو نوش کے سامان کی اشد ضرورت تھی جن میں صحابہ ؓ بھی شامل تھے، اس اندیشہ کے پیش نظر کہ کہیں قافلہ کا سامان ختم ہوجائے جس کی وجہ سے ہم نہ پاسکیں آپ ﷺ کو خطبہ پڑھتا چھوڑ کر سوائے بارہ آدمیوں کے سب بازار میں چلے گئے، یہ روایت ابو دائود نے مراسیل میں بیان فرمائی ہے، یاد رہے کہ اس وقت خطبہ جمعہ کے بعد ہوا کرتا تھا، جیسا کہ آج بھی عیدین کے بعد خطبہ ہوتا ہے، اس پر مذکروہ آیت نازل ہوئی، اس وقت تک یہ معلوم نہ تھا کہ خطبئہ جمعہ لازمی اور ضروری ہے اس کے بعد جمعہ کا خطبہ جمعہ کی نماز سے پہلے ہونے لگا۔