63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 63:1–8

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کے پاس جب منافق ٓتے ہیں تو اپنے دل کی بات کے برخلاف زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں، اس بات میں جو یہ اپنے قول کے برخلاف (دل) میں چھپائے ہوئے ہیں ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے (یعنی) اپنی جان و مال کے لئے وقایہ بنا رکھا ہے پس ان قسموں کے ذریعہ اللہ کے راستہ سے یعنی اس میں جہاد کرنے سے محفوظ ہوگئے ہیں بلا شبہ وہ کام جو یہ کر رہے ہیں برا ہے یہ یعنی ان کی بد عملی یہ ہے کہ وہ زبانی ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوگئے یعنی اپنے کفر پر بدستور قائم رہے پس ان کے قلوب پر کفر کی وجہ سے مہر کردی گئی ہے اب یہ ایمان کو سمجھتے نہیں ہیں جب آپ ﷺ انہیں دیکھیں تو آپ ﷺ کو ان کے جسم ان کی خوبصورتی کی وجہ سے خوشنما معلوم ہوں اور جب یہ باتیں کریں تو آپ ﷺ انہیں دیکھیں تو آپ ﷺ کو ان کے جسم ان کی خوبصورتی کی وجہ سے خوشنما معلوم ہوں اور جب یہ باتیں کریں تو آپ ﷺ ان کے کلام کی طرف اس کی فصاحت کی وجہ سے (اپنا) کان لگائیں گویا کہ وہ جسموں کے عظیم ہونے اور ناسمجھ ہونے میں لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے لگائی ہوئی (خشب) شین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہر اس آواز کو جو لگائی جاتی ہے اپنے خلاف سمجھتے ہیں یعنی ہر ندا کو مثلاً لشکر کے کوچ کے نداء اور گمشدہ کا اعلان، اس لئے کہ ان کے قلوب میں اس بات کی ہیبت ہے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی ایسا حکم نازل نہ ہوگیا ہو جو ان کے خون کو حلال کر دے، یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو یہ آپ ﷺ کے راز کافروں پر ظاہر کردیتے ہیں اللہ انہیں غارت کرے کہاں پھرے جا رہے ہیں ؟ (یعنی) برہان قائم ہونے کے بعد ایمان سے کہاں پھرے جا رہے ہیں، جب ان سے کہا جاتا ہے معذرت کرتے ہوئے کہ آئو تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ استغفار کریں، تو اپنے سر مٹکاتے ہیں (لووا) تشدید و تخفیف کے ساتھ، یعنی دوسروں کو گھماتے ہیں، اور آپ ﷺ ان کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ حال یہ کہ وہ تکبر کر رہے ہوتے ہیں، ان کے حق میں آپ ﷺ کا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں ہمزہ استفہام کی وجہ سے ہمزہ وصل سے مستعفی ہوگیا، اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے انصاری بھائیوں سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو مہاجرین جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے پاس سے منتشر ہوجائیں اور آسمانوں اور زمین کے رزق کے سب خزانے اللہ ہی کی ملک ہیں مہاجرین وغیرہ کا وہی رازق ہے لیکن یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم غزوہ بنی مصطق سے لوٹ کر مدینہ پہنچ گئے تو عزت والا مراد اس سے انہوں نے خود کو لیا ہے ذات والے کو مراد اس سے مومنین کو لیا، مدینہ سے نکال دے گا (سنو) عزت والا مراد اس سے انہوں نے خود کو لیا ہے ذلت والے کو مراد اس سے مومنین کو لیا، مدینہ سے نکال دے گا (سنو) عزت غلبہ تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور مومنین کے لئے ہے لیکن یہ منافقین اس کو جانتے نہیں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بعض نسخوں میں سورة المنافقین یاء کے ساتھ ہے قولہ : شرط ہے اور قالو اشھد الح جواب شرط ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ جواب شرط محذوف ہے اور قالو المنافقون سے حال ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اذا جاک المنافقون حال کو بھم قائلین کتب و کتب فلاتقبل منھم فلا تقبل منھم جواب شرط ہے۔ قولہ : شھدالک الرسول اللہ یہ جملہ قسم کے قائم مقام ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے مابعد پر لام داخل ہے، گو وہ جواب قسم ہے اور شھد بمعنی نحلف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نشھد اپنی معنی ہی میں ہو اور مقصد اپنے اوپر سے نفاق کی تہمت کو دفع کرنا ہو۔ قولہ : کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : جیم کے ضمہ کے ساتھ یعنی ڈھال، وقایہ جمع جنن قولہ : باللسان بانھم امنوا کے بعد باللسان کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : منافقین کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ایمان لائے اس کے بعد کفر اختیار کیا حالانکہ وہ سرے سے ایمان ہی نہیں لائے تو پھر ثم کفروا کہنے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ثم ترتیب اخباری کے لئے ہے نہ کہ ترتیب ایجادی کے لئے مطلب یہ ہے کہ لسانی طور پر ایمان لائے اور قلوب سے کفر اختیار کیا، لہٰذا اب کوئی اشکال باقی نہیں رہا۔ قولہ : سوال : تسمع کا صلہ لام نہیں آتا حالانکہ یہاں تسمع کا صلہ لام استعمال ہوا ہے۔ جواب : سمع تصفی کے معنی کو متضمن ہے جس کی وجہ سے تسمع کا صلہ لام لانا درست ہے۔ قولہ : اس میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ یہ جملہ مستانفہ ہے دوسری یہ کہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور وہ ھم ہے قولہ : یہ وجہ شبہ کا بیان ہے یعنی منافقوں کو ان لکڑیوں سے گشبیہ دی گئی ہے کہ جن کو دیوار سے لگا کر رکھ دیا گیا ہو منافقین جن میں راس المنافقین عبداللہ بن ابی بھی شامل ہے آپ ﷺ کی مجلس میں آکر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے جسم و جثہ کے اعتبار سے لحیم شحیم تھے اور شکل و صورت میں بھی شکیل و جمیل تھے مگر دین کی کچھ بھی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے، یعنی جس طرح دیوار سے لگی لکڑی فی الوقت مفید و کار آمد نہیں ہوتی اسی طرح یہ لوگ بھی علم و نظر سے خالی تھے۔ قولہ : کا مفعول بہ اول ہے اور لیھم مفعول بہ ثانی ہے۔ قولہ : میں تنازع کررہے ہیں، تعالو مفعول چاہتا ہے اور یستغفر فاعل چاہتا ہے، بصرپین کے مذہب کے مطابق فعل ثانی کو عمل دیکر اول کے لئے مفعول محذوف مان لیا گیا ہے۔ قولہ : کا جواب ہے قولہ : صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی معروف باب تطعیل سے، مصدر نلوبتہ لی مادہ ہے گھمانا، مٹکانا وغیرہ وغیرہ۔ تفسیر و تشریح سورة منافقون کے نزول کا مفصل واقعہ : جو واقعہ اس سورت کے نزول کا سبب بنا، وہ غزوئہ مریسیع جس کو غزوئہ بنی مصطلق بھی کہتے ہیں کے موقع پر پیش آیا تھا، جو محمد بن اسحاق کی روایت کے مطابق شعبان 6 ھ میں اور قتادہ اور عروہ کی روایت کے مطابق 2 شعبان سن 5 ھ میں پیش آیا حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ یہی قول زیادہ صحیح ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ سعد بن معاذ ؓ کا اس غزوہ میں شریک ہونا صحیح بخاری میں مذکور ہے اور روایات صحیحہ اور احادیث معتبرہ سے یہ ثابت ہے کہ سعد بن معاذ ؓ نے غزوئہ خندق سے فارغ ہو کر غزوئہ بنی قریظہ کے زمانے میں وفات پائی جو سن 5 ھ میں ہوا ہے پس اگر غزوئہ مریسیع سن 6 ھ میں غزوئہ بنی قریظہ کے ایک سال بعد مانا جائے تو سعد بن معاذ ؓ کی اس میں شرکت کیسے ممکن ہوسکتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سن 5 ھ کی روایت صحیح ہے۔ غزوئہ مریسیع کا سبب : رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بہت سی فوج جمع کررکھی ہے اور حملہ آور ہونے کی تیاری میں ہے آپ ﷺ نے اس خبر کی تصدیق کے لئے بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ کو روانہ فرمایا، بریدہ ؓ نے آکر خبر کی تصدیق کی، آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو خروج کا حکم دیا، صحابہ ؓ فورا تیار ہوگئے، تیس گھوڑے ہمراہ لئے جن میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے، اس مرتبہ مال غنیمت کی طمع میں منافقین کی بھی ایک بڑی تعداد ہمراہ ہوگئی تھی آپ ﷺ نے مدینہ میں زید بن حارثہ کو نائب مقرر فرمایا اور ازواج مطہرات میں سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور ام المومنین ام سلمہ ؓ کو ساتھ لیا اور 2 شعبان دو شنبہ سن 5 ھ کو مریسیع کی طرف روانہ ہوئے۔ مریسیع ایک چشمہ یا تالاب کا نام ہے، اسی مقام پر بنی مصطلق سے مقابلہ ہوا آپ ﷺ نے تیز رفتاری کے ساتھ چل کر اچانک ان پر حملہ کردیا اس وقت وہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، ان کے دس آدمی مقتول ہوئے اور باقی مرد عورت، بچے، بوڑھے سب گرفتار کر لئے گئے، دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں مال غنیمت میں ہاتھ آئیں دو سو گھرانے قید ہوئے، انہیں قیدیوں میں بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی جویریہ بھی تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے نتیجے میں جویریہ ثابت بن قیس ؓ کے حصے میں آئیں ثابت بن قیس ؓ نے ان کو ایک بڑی رقم کے عوض مکاتبہ بنادیا۔ حضرت جویریہ ؓ بدل کتابت کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس مالی تعاون کے لئے آئیں اور صورت حال بتاتے ہوئے عرض کیا کہ میں سردار بنی مصطلق حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں، میری اسیری کا حال آپ ﷺ پر مخفی نہیں، میں تقسیم میں ثابت بن قیس کے حصہ میں آئی ہوں، انہوں نے مجھے مکاتبہ بنادیا ہے اب میں بدل کتابت میں آپ سے مدد کے لئے حاضر ہوئی ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم کو اس سے بہتر چیز بتلاتا ہوں اگر تم پسند کرو، وہ یہ کہ تمہاری طرف سے بدل کتابت کی رقم میں ادا کردوں اور آزاد کر کے تم کو اپنی زوجیت میں لے لوں، حضرت جویریہ ؓ نے فرمایا میں اس پر راضی ہوں۔ (سیرت المصطفی، رواہ ابو دائود) ادھر جویریہ ؓ کے والد حارث بن ابی ضرار، عبد اللہ بن زیاد کی روایت کے مطابق بہت سے اونٹ لے کر مدینہ حاضر ہوئے تاکہ زر فدیہ دے کر اپنی بیٹی جویریہ ؓ کو آزاد کر لائیں، نہایت عمدہ قسم کے دو اونٹ جو نہایت پسندیدہ تھے ایک گھاٹی میں چھپا دیئے مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور وہ اونٹ آپ ﷺ کی خدمت میں اپنی بیٹی کے زر فدیہ کے طور پر پیش کئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ دو اونٹ کہاں ہیں جو تم فلاں گھاٹی میں چھپا آئے ہو ؟ حارث نے کہا ؟ ” اشھد انک رسول اللہ “ میں گواہی دیتا ہوں بیشک آپ ﷺ کے رسول ہیں، اللہ کے سوا اس کا کسی کو علم نہ تھا اللہ ہی نے آپ ﷺ کو اس سے مطلع کردیا۔ الغرض آپ ﷺ نے حضرت جویریہ ؓ کو آزاد کر کے اپنی زوجیت میں لے لیا، صحابہ کرام ؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو بنی مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کردیا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے دامادی رشتہ دار ہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سیرت المصطفیٰ ) ایک ناخوشگوار واقعہ۔ ابھی مسلمانوں کا لشکر چشمہ مریسیع پر ہی تھا کہ ایک خوشگوار واقعہ پیش آگیا، جو کہ پانی کے چشمے پر ایک مہاجر جن کا نام جہجاہ تھا اور ایک انصاری جن کا نام سنان بن وبرہ تھا کے درمیان پیش آیا تھا، صورت واقعہ کی یہ ہوئی کہ جہجاہ حضرت عمر ؓ کے ملازم تھے جو ان کے گھوڑے کی نگہداشت کرتے تھے، ان کے اور سنان کے درمیان پانی کے سلسلے میں چہ مہ گوئیاں ہوگئیں اور بات زیادہ بڑھ گئی حتیٰ کہ ہا تھا پائی کی نوبت آگئی جہجاہ مہاجری نے انصاری کے ایک طمانچہ یا لات مار دی، مہاجر نے اپنی مدد کے لئے مہاجرین کو انصاری نے اپنی مدد کے لئے انصار کو آواز دی، دونوں طرف سے کچھ لوگ جمع ہوگئے قریب تھا کہ باہم مسلمانوں میں ایک فتنہ کھڑا ہوجائے جب آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ فوراً موقع پر پہنچے اور سخت ناراضی کے ساتھ فرمایا ” ما بال دعوی الجاھلیۃ “ یہ جاہلیت کا نعرہ کیسا ہے ؟ اور آپ ﷺ نے فرمایا ” دعوھا فانھا منتنۃ “ اس نعرہ کو چھوڑ دو یہ بدبودار نعرہ ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مسلمان کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ ظالم ہو یا مظلوم، مظلوم کی مدد کرنا تو ظاہر ہے، اور ظالم کی مدد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکے کیونکہ اس کی حقیقی مدد یہی ہے۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد سنتے ہی جھگڑا ختم ہوگیا، تحقیق سے زیادتی جہجاہ مہاجری کی ثابت ہوئی، عبادہ بن صامت ؓ کے سمجھانے سے سنان بن وبرہ نے اپنا حق معاف کردیا، اور دونوں جھگڑنے والے پھر آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ عبد اللہ بن ابی کی شرارت : جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس غزوہ میں مال غنیمت کی طمع میں بہت سے منافق اور خود عبد اللہ بن ابی ابن سلول بھی شریک ہوگیا تھا، عبد اللہ بن ابی نے موقع کو غنیمت سمجھا اور مسلمانوں میں نااتفاقی پیدا کرنے اور فتنہ برپا کرنے کی پوری کوشش کی، اور اپنی مجلس میں جس میں منافقین جمع تھے اور مومنین میں سے صرف زید بن ارقم ؓ موجود تھے اس وقت حضرت زید کم عمر تھے عبد اللہ بن ابی نے مجلس میں انصار کو مہاجرین کے خلاف بھڑکایا، اور کہنے لگا تم نے ان کو اپنے وطن میں بلا کر اپنے سروں پر مسلط کیا اپنے اموال اور جائداد ان کو تقسیم کر کے دے دیئے، یہ تمہاری ہی روٹیوں پر پلے ہوئے اب تمہارے ہی مقابلے پر آگئے ہیں اس کی مثال : سمن کلبک یا کلک ہے ” اگر تم نے اب بھی اپنے انجام کو نہ سمجھا تو آگے یہ تمہارا جینا مشکل کردیں گے “ اس لئے تمہیں چاہیے کہ آئندہ ان کی مالی مدد نہ کرو جس سے یہ خود منتشر ہوجائیں گے، اور اب تمہیں چاہیے کہ جب تم مدینہ پہنچ جائو تو عزت والا ذلت والوں کو نکال دے، اس نے عزت والے سے خود کو مراد لیا اور ذلت والوں سے مراد مسلمانوں کو لیا، حضرت زید بن ارقم ؓ نے جب اس کا یہ کلام سنا تو فوراً بول پڑے کہ واللہ تو ہی ذلیل و خوار و مبغوض ہے، عبد اللہ بن ابی کو جب محسوس ہوا کہ میرا نفاق ظاہر ہوجائے گا تو باتیں بنانے لگا اور حضرت زید ؓ سے کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات یوں ہی ہنسی مذاق میں کہہ دی تھی۔ حضرت زید بن ارقم عبد اللہ منافق کی مجلس سے اٹھ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ سنایا، رسول اللہ ﷺ پر یہ خبر شاق گزری، زید بن ارقم ؓ کم عمر صحابی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا اے لڑکے تم جھوٹ تو نہیں بول رہے ہو ؟ زید بن ارقم نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے یہ الفاظ خود اپنے کانوں سے سنے ہیں، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہیں تم کو شبہ تو نہیں ہوگیا ؟ مگر زید نے پھر وہی جواب دیا، پھر اس بات کا پورے لشکر میں چرچا ہونے لگا۔ جب حضرت عمر ؓ کو عبد اللہ بن ابی کی گستاخی اور فتنہ پردازی کا علم ہوا تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر ! اس کا انجام کیا ہوگا ؟ لوگوں میں یہ شہرت دی جائے گی کہ میں اپنے اصحاب ؓ کو قتل کردیتا ہوں ؟ اس لئے آپ ﷺ نے عبد اللہ منافق کے قتل سے عمر ؓ کو روک دیا، اس واقعہ کی خبر جب عبد اللہ بن ابی منافق کے صاحبزادے عبد اللہ بن عبد اللہ مومن کو ہوئی تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اگر آپ ﷺ کا ارادہ اس گفتگو کے نتیجے میں میرے والد کو قتل کرنے کا ہے ؟ تو آپ ﷺ اجازت دیجئے میں اپنے باپ کا سر قبل اس کے کہ آپ ﷺ اپنی مجلس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کر دوں، آپ ﷺ نے فرمایا میرا ارادہ اس کو قتل کرنے کا نہیں ہے اور نہ میں نے کسی کو اس کا حکم دیا۔ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے عام عادت کے خلاف بےوقت سفر کرنے کا اعلان عام فرما دیا اور آپ ﷺ بھی اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوگئے، جب عام صحابہ ؓ روانہ ہوگئے تو آپ ﷺ نے عبد اللہ منافق کو بلایا اور دریافت فرمایا کہ کیا تم نے ایسا کہا ہے ؟ عبد اللہ منافق قسم کھا گیا کہ میں نے ایسا نہیں کہا یہ لڑکا زید بن ارقم ؓ جھوٹا ہے، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے عبد اللہ منافق کا عذر قبول فرما لیا اور زید بن ارقم ؓ اپنی رسوائی کے سبب لوگوں سے چھپے رہنے لگے۔ آپ ﷺ پورے دن اور پوری رات اپنی عادت کے برخلاف سفر کرتے رہے، جب دھوپ تیز ہوگئی تو آپ ﷺ نے ایک جگہ قافلہ کو ٹھہرنے کا حکم فرمایا، قافلہ مسلسل شب و روز چلنے کی وجہ سے چونکہ تھکا ہوا تھا فوراً منزل پر اترتے ہی محو خواب ہوگیا۔ ادھر زید بن ارقم ؓ بار بار آنحضرت ﷺ کے قریب آتے تھے کیونکہ ان کو پورا یقین تھا کہ اس شخص عبد اللہ منافق نے مجھے پوری قوم میں جھوٹا ثابت کر کے رسوا کیا ہے اللہ تعالیٰ ضرور میری تصدیق اور اس شخص کی نکیر میں قرآن نازل فرمائے گا، اچانک زید بن ارقم ؓ نے دیکھا کہ آپ ﷺ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے وقت ہوتی تھی تو زید سمجھ گئے کہ اس بارے میں ضرور کوئی وحی نازل ہوئی ہوگی، جب آپ ﷺ کی یہ کیفیت رفع ہوئی تو زید بن ارقم ؓ ہی فرماتے ہیں کہ میری سواری چونکہ آپ ﷺ کی سواری کے قریب تھی آپ ﷺ نے اپنی سواری ہی پر سے میرا کان پکڑا اور فرمایا، یا غلام ! صدق اللہ حدیثک اور پوری سورة المنافقون عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ (معارف)
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

ترجمہ : اے مسلمانو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کے ذکر پنج و قتہ نماز سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کریں وہ بڑے زیاں کاروں میں ہیں اور جو کچھ ہم نے تم کو دے رکھا ہے اس میں سے زکوٰۃ میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار ! تو کس لئے مجھے تھوڑی دیر کی مہلت نہیں دیتا ؟ (لو لا) بمعنی ھلا یا لا زائدہ ہے، اور لو تمنی کے لئے ہے کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجائوں، کہ حج کروں، (فا صدق) تاء کو اصل میں صاد میں ادغام کر کے، یعنی زکوٰۃ ادا کروں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، کسی نے حج و زکوٰۃ میں کوتاہی نہیں کی مگر یہ کہ اس نے موت کے وقت (دنیا میں) واپسی کا سوال نہ کیا ہو، اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اس کو اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے یاء اور تاء کے ساتھ۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ان یاتی احد کم الموت، ای اماراتہ، و مقدماتہ مضاف محذوف ہے اس کی موت کے بعد کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ قولہ : لو لا، بمعنی ھلا یعنی لولا تحضیضیہ ہے جو کہ ماضی کے ساتھ خاص ہے مگر معنی میں مضارع کے ہے جیسا کہ یہاں مناسب یہ ہے کہ لو لا التماس، دعاء عرض، گزارش کے معنی میں ہو، اس لئے کہ لو لاء تحضیضیہ کا یہاں کوئی موقع نہیں ہے دوسری صورت یہ کہ لو لا میں لا زائدہ ہو اور لو بمعنی تمنا ہو، ای لیتک اخرتنی۔ قولہ : اجل قریب، ای زمان قلیل۔ قولہ : واکن (ن) سے، اصل میں اکون تھا مصحف عثمانی کے رسم الخط کے مطابق بغیروائو کے لکھا گیا ہے ورنہ اکون ہو چاہیے، تلفظ میں دونوں صورتیں جائز ہیں وائو اور حذف وائو کے ساتھ اور اس کو فاصدق پر عطف کرتے ہوئے نصب ہوگا اور محل فاصدق پر عطف ہونے کی وجہ سے حذف وائو اور جزم ہوگا، فاصدق اصل میں فاتصدق تھا جمہور نے تاء کو صاد میں ادغام کر کے پڑھا ہے اور یہ جواب تمنی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : ولن یوخر اللہ نفسا یہ جملہ مستانفہ ہے جو کہ سوال مقدر کا جواب ہے تقدیر عبارت یہ ہے ھل یوخر ھذللتمنی، فقال، ولن یوخر اللہ نفسا الخ۔ تفسیر و تشریح یایھا الذین امنوا یہاں تمام ان لوگوں سے خطاب ہے جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں قطع نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار کرنے والے، اس عام خطاب کے ذریعہ ایک کلمہ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے یہ بات تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ قرآن مجید میں الذین امنوا کے ذریعہ کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں، کیونکہ وہ زبانی اقرار کرنے والے ہوتے ہیں اور کبھی بالعموم ہر طرح کے مسلمان اس سے مراد ہوتے ہیں، کلام کا موقع و محل بتادیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ مراد ہے ؟ اس سورت کے پہلے رکوع میں منافقین کی جھوٹی قسموں اور ان کی سازشوں کا ذکر تھا اور ان سب کا مقصد دنیا کی محبت سے مغلوب ہونا تھا، اسی وجہ سے ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرتے تھے کہ مسلمانوں کی زد سے بچے رہیں اور مال غنیمت سے حصہ بھی ملے، اس دوسرے رکوع میں خطاب مخلص مومنین کو ہے جس میں ان کو ڈرایا گیا ہے کہ دنیا کی محبت میں ایسے مدہوش اور غافل نہ ہوجائیں جیسے منافقین ہوگئے، دنیا کی سب سے بڑی دو چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ سے غافل کرتی ہیں، مال اور اولاد، اس لئے خاص طور پر ان کا نام لیا گیا ہے ورنہ مراد اس سے پوری متاع دنیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مال و اولاد کی محبت تم پر اتنی غالب نہ آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہوجائو اور اللہ کی قائم کردہ حدود کی پروا نہ کرو، منافقین کے ذکر کے فوراً بعد اس تنبیہ کا مقصد یہ ہے کہ یہ منافقین کا شیوہ اور کردار ہے جو انسان کو خسارہ میں ڈال دیتا ہے، اہل ایمان کا کردار اس کے برعکس ہوتا ہے، وہ یہ کہ وہ ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں یعنی اس کے احکام کی پابندی اور حلال و حرام کے درمیان تمیز کرتے ہیں۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

فیقول رب لو لا اخرتنی الی اجل قریب ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ زکوٰۃ واجب تھی اور ادا نہیں کی یا حج فرض تھا مگر نہیں کیا، وہ موت سامنے آجانے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس کی تمنا کرے گا کہ میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جائوں یعنی موت میں کچھ مہلت مل جائے تاکہ میں صدقہ خیرات کرلوں اور فرائض سے سبکدوش ہوجائوں، مگر حق تعالیٰ شانہٗ نے اگلی آیت لن یوخر اللہ (الآیۃ) میں بتلا دیا کہ موت کے آجانے کے بعد کسی کو مہلت نہیں دی جاتی یہ تمنائیں لغو اور فضول ہیں۔ (معارف) بحمدتم اللہ