64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے (سب) خدا کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی سچی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف (لا متناہی) ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو بھی چیزیں وہ اللہ کی تسبیح پا کی بیان کرتی ہیں للہ میں لام زائدہ ہے اور من کے بجائے ما کو لایا گیا ہے اکثر کو غلبہ دینے کے لئے، اسی کی سلطنت ہے اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس نے تم کو پیدا کیا، سو تم میں سے بعضے تو اصل خلقت میں کافر ہیں اور بعضے مومن پھر وہ اس کے مطابق تم کو موت دے گا، اور لوٹائے گا، اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس کو خوب دیکھ رہا ہے، اسی نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائی، اور بہت اچھی بنائیں، اس لئے کہ اس نے انسانی شکل کو سب شکلوں میں بہتر بنایا، اور اسی کی طرف لوٹنا ہے، وہ آسمان اور زمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو تم چھپائو اور جو تم ظاہر کرو، وہ اس کو جانتا ہے اور اللہ تو دلوں کے رازوں یعنی اسرار و معتقدات کو بھی جانتا ہے اے کفار مکہ ! کیا تمہارے پاس پہلے کافروں کی خبریں نہیں پہنچیں ؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال یعنی کفر کا انجام دنیا میں چکھ لیا اور آخرت میں ان کے لئے دردناک عذاب ہے یہ یعنی دنیا کا عذاب اس لئے ہے کہ اس کے پاس (بانہٗ ) میں ضمیر شان ہے ان کے رسول ایمان پر دلالت کرنے والی واضح دلیلیں لے کر آئے، تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا ؟ بشر سے جنس بشر مراد ہے سو انکار کردیا اور ایمان سے منہ پھیرلیا اور اللہ نے بھی ان کے ایمان سے بےنیازی کی، اللہ اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے، وہ اپنے افعال میں محمود ہے ان کافروں نے خیال کیا کہ دوبارہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، ان مخففہ من الثقیلہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای انھم، آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں ؟ میرے رب کی قسم ! تم دوبارہ ضرور اٹھائے جائو گے، پھر تمہیں تمہارے کئے ہوئے اعمال کی خبر دی جائے گی اور اللہ کے لئے یہ بالکل آسان ہے سو تم اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور نور یعنی قرآن پر جس کو ہم نے نازل کیا ہے ایمان لے آئو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے اس دن کو یاد کرو جس دن تم کو جمع کرنے کے دن یعنی قیامت کے دن جمع کریگا وہی دن ہے ہار جیت کا مومنین کافروں کو ہرا دیں گے جنت میں ان کے گھروں کو اور ان کے اہل کو لے کر، اگر وہ ایمان لاتے اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور نیک اعمال کئے اللہ اس کی برائیاں دور کریگا اور اس کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں قرآن کو جھٹلایا یہی لوگ جہنمی ہیں، جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کا برا ٹھکا نہ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد سورة تغابن مکی ہے سوائے یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم الخ کے یہ آیت مدینہ میں عوف بن مالک کے بارے میں نازل ہوئی۔ قولہ : لہ الملک و لہ الحمد دونوں میں جار مجرور کو حصر کے لئے مقدم کیا گیا ہے اس لئے کہ حقیقی ملک اور حقیقی حمد اللہ ہی کی ہے، اگرچہ مجازی طور پر غیر اللہ کی بھی ملک و حمد ہوتی ہے۔ قولہ : وھو علی کلی شیء قدیرہ ما قبل کی دلیل کے طور پر ہے۔ قولہ : ثم یمیتھم و یعیدھم اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے اس لئے کہ موقع یمیتک و یعیدکم کا ہے۔ قولہ : فذاقوا اس کا عطف کفروا پر ہے، یہ عطف مسبب علی السبب کے قبیل سے ہے، اس لئے کہ کفر، ذوق و بال سبب ہے۔ قولہ : وبال ثقل، شدت، اعمال کی سخت سزا (کرم) سے۔ قولہ : اریدبہ الجنس اس عبارت کے اضافہ کا مقصد بشر اور یھدوننا میں مطابقت ثابت کرنا ہے یا کہا جاسکتا ہے کہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ یھدوننا کی ضمیر بشر کی طرف راجع ہے حالانکہ مرجع مفرد ہے اور ضمیر جمع ہے۔ جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ بشر سے جنس بشر مراد ہے لہٰذا بشر میں جمعیۃ کے معنی موجود ہیں جس کی وجہ سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ قولہ : زعم، متعدی بدو مفعول ہے اور لن یبعثوا قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔ قولہ : فامنوا باللہ و رسولہ یہ مکہ کے کافروں سے خطاب ہے اور رفاء جواب شرط پر واقع ہے، اور شرط محذوف ہے ای اذا کان الامر کذالک فامنوا۔ تفسیر و تشریح یسبح للہ ما فی السموات وما فی الارض آسمان اور زمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص و عیب سے تنزیہ اور تقدیس بیان کرتی ہے، زبان حال سے بھی اور زبان قال سے بھی۔ لہ الملک ولہ الحمد (الآیۃ) یہ پوری کائنات اسی کی سلطنت میں ہے اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل بھی ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، اگر کسی کے پاس کچھ حسن و کمال ہے تو اسی کے مبدأ فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے جب چاہے سلب کرسکتا ہے اس لئے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسکو دیکھتا ہے۔

ھوالذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مومن انسان کے لئے خیر و شر، نیکی و بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی جو آزادی بخشی ہے اسی کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا، اگر وہ جبر کرتا تو کوئی شخص بھی کفر و معصیت کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا، لیکن اس طرح انسان کی آزمائش ممکن نہیں تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت انسان کو آزمانا تھا ” الذی خلق الموت و الحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً ! ؟ “ (سورۃ الملک) لہٰذا جس طرح کافر کا خالق اللہ ہے، کفر کا خالق بھی اللہ ہے لیکن یہ کفر اس کافر کا عمل و کسب ہے، جس نے اسے اپنے ارادے سے اختیار کیا ہے، اسی طرح مومن اور مومن کے ایمان کا خالق بھی اللہ ہی ہے لیکن ایمان اس مومن کا کسب و عمل ہے جس نے اسے اختیار کیا ہے اور اس کسب و عمل پر دونوں کو ان کے عملوں کے مطابق جزا و سزا ملے گی کیونکہ وہ سب کے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ انسانوں کی صرف دو ہی قسمیں ہیں : قرآن حکیم نے انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے، کافر اور مومن، جس سے معلوم ہوا کہ اولاد آدم سب ایک برادری ہے اور دنیا کے پورے انسان اس برادری کیا فراد ہیں، اس برادری کو دو گروہوں میں تقسیم کرنے والی چیز صرف کفر ہے جو شخص کافر ہوگیا اس نے انسانی برادری کا رشتہ توڑ دیا، اس طرح پوری دنیا میں انسانوں میں تحزب اور گروہ بندی صرف ایمان و کفر کی بنا پر ہوسکتی ہے، رنگ اور زبان، نسب و خاندان، وطن اور ملک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو انسانی برادری کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے، ایک باپ کی اولاد اگر مختلف شہروں اور علاقوں میں بسنے لگے یا مختلف زبانیں بولنے لگے یا ان کے رنگ میں تفاوت ہو تو وہ الگ الگ گروہ نہیں ہوجاتے، اختلاف رنگ و زبان وطن و ملک کے باوجود یہ سب آپس میں بھائی ہی ہوتے ہیں، کوئی سمجھدار انسان ان کو مختلف گروہ قرار نہیں دے سکتا۔ (معارف) بدبودار نعرہ : ایک مرتبہ پانی کے معاملہ میں ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان جھگڑا ہوگیا، نوبت زبانی تکرار سے بڑھ کر، ہا تھا پائی تک پہنچ گئی انصاری نے انصار کو اور مہاجر نے مہاجرین کو مدد کے لئے پکارا، دونوں طرف سے لوگ جمع ہوگئے مسلمانوں میں فتنہ برپا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا، جب آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ موقع پر تشریف لے گئے اور سخت ناراضی کے ساتھ فرمایا ” ما بال دعوی الجاھلیۃ “ یہ جاہلیت کا نعرہ ہے ؟ اور آپ ﷺ نے فرمایا ” دعوھا فانھا منتنۃ “ اس نعرہ کو چھوڑ دو یہ بدبودار ہے۔
Ayahs 64:3–8

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اور اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی پاکیزہ بنائیں اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب جانتا ہے اور جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو کھلم کھلا کرتے ہو اس سے بھی آگاہ ہے اور خدا دل کے بھیدوں سے واقف ہے

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو خدا پر اور اس کے رسول پر اور نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاو۔ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

وصورکم فاحسن صورکم اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہترین صورتیں بنائیں، صورت گری درحقیقت خالق کائنات کی ایک مخصوص صفت ہے، اسی لئے اسماء الٰہیہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مصور آیا ہے، غور کرو تو کائنات میں کتنی اجناس مختلفہ ہیں اور ہر جنس میں کتنی انواع مختلفہ ہیں کسی کی شکل صورت کسی سے نہیں ملتی، ایک انسان ہی کو لے لیجئے کہ انسانی چہرہ جو چھ سات مربع انچ سے زیادہ کا نہیں، اربوں انسانوں کا ایک ہی قسم کا چہرہ ہونے کے باوجود ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ پہچاننا دشوار ہوجائے، مذکورہ آیت میں انسان کی بہترین صورت گری کو بطور احسان ذکر فرمایا ہے یعنی شکل انسانی کو ہم نے تمام کائنات میں سب صورتوں سے زیادہ حسین بنایا ہے، کوئی انسان اپنی جماعت میں خواہ کتنا ہی بدشکل اور بدصورت کیوں نہ سمجھا جاتا ہو مگر باقی تمام حیوانات کی اشکال کے اعتبار سے وہ بھی حسین ہے ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “
Ayahs 64:9–10

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن وہ تم کو اکٹھا ہونے (یعنی قیامت) کے دن اکٹھا کرے گا وہ نقصان اٹھانے کا دن ہے اور جو شخص خدا پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل کرے گا ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

یوم یجمعکم لیوم الجمع ذلک یوم التغابن قیامت کو ” یوم الجمع “ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے، اور اس دن کو یوم التغابن، خسارہ کا یا ہار جیت کا دن، اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک گروہ نقصان میں اور ایک گروہ فائدے میں رہے گا یا ایک گروہ جیت جائے گا اور دوسرا گروہ ہار جائے گا، اہل حق باطل پر، اہل ایمان اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر سبقت لے جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور وہاں ان گھروں کے بھی مالک بن جائیں گے جو جہنمیوں کے لئے تھے اگر وہ ایمان لاتے، اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کی ہوگی یہ کہ ان کے لئے جنت میں جو نعمتیں رکھی تھیں (اگر وہ ایمان لاتے) ان سے محروم ہوجائیں گے، جنتی بھی اپنا بایں معنی نقصان محسوس کریں گے کہ اگر وہ دنیا میں اور زیادہ نیک عمل کرتے تو ان کی نعمتوں میں اور زیادہ اضافہ ہوتا۔ مفلس کون ہے ؟ صحیح مسلم اور ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جس شخص کے پاس مال و متاع نہ ہو تو ہم اس کو مفلس سمجھتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں اپنے اعمال صالحہ نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ وغیرہ لیکر آئے گا مگر اس کا حال یہ ہوگا کہ دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کو مارا یا قتل کیا ہوگا، کسی کا مال غصب کیا ہوگا (تو یہ سب جمع ہوں گے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے) کوئی اس کی نماز لے جائے گا اور کوئی روزہ لے جائے گا تو کوئی زکوٰۃ اور دوسری حسنات لے جائے گا جب اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے، اور ان کا بدلہ چکا دیا جائے گا جس کا انجام یہ ہوگا کہ اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 64:11

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر خدا کے حکم سے۔ اور جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اسکے دل کو ہدایت دیتا ہے اور خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔

ترجمہ : کوئی مصیبت قضاء الٰہی کے بغیر نہیں پہنچ سکتی جو اللہ پر اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ مصیبت تقدیر الٰہی ہی سے آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اس مصیبت پر صبر کی ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر شئے کا جاننے والا ہے (اے لوگو ! ) اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو ہمارے رسولوں پر تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے، اللہ معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کریں، اے ایمان والو ! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہو کہ خیر سے پیچھے رہنے میں ان کی بات نہ مانو، مثلاً جہاد و ہجرت (وغیرہ میں) آیت کے نزول کا سبب ان باتوں میں اطاعت کرنا ہے اور اگر تم ان کو اس خیر سے تم کو روکنے کو معاف کردو حال یہ ہے کہ وہ تمہاری جدائی کی علت جدائی کی مشقت بیان کریں، اور درگزر کردو، اور معاف کردو تو اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے، تمہارے مال اور تمہاری اولاد سراسر تمہاری آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے لہٰذا مال و اولاد میں مشغول ہو کر اس کو فوت نہ کرو جس قدر ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو یہ آیت اتقوا اللہ حق تقاتہ کے لئے ناسخ ہے، اور جس بات کا تم کو حکم کیا جائے اس کو تسلیم کرنے کے طور پر سنو اور اطاعت کرو اور اس کی اطاعت میں خرچ کرو، جو تمہارے لئے بہتر ہے (خیرا) یکن مقدر کی خبر (اور جملہ ہو کر) انفقوا امر کا جواب ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے، اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے اس طریقہ پر کہ طیب خاطر سے خرچ کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے بڑھاتا رہے گا اور ایک قرأت میں (یضعفہٗ ) تشدید کے ساتھ صیغہ ٔ افراد کے ساتھ ہے دس سے سات سو اور اس سے بھی زیادہ اور جو چاہے گا (تمہارے گناہ بھی) معاف فرما دے گا، اللہ بڑا قدردان ہے یعنی طاعت پر اجر دینے والا بردبار ہے معصیت پر سزا دینے میں، غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیر فوائد قولہ : ما اصاب من مصیبۃ، اصاب کا احدا مفعول بہ محذوف ہے اور من مصیبۃ، من کی زیادتی کے ساتھ اصاب کا فاعل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ما اصاب احدا مصیبۃ۔ قولہ : فی قولہ ای فی قول القائل۔ قولہ : فان تولیتم اس کی جزاء محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی فان تولیتم فلا ضیر ولا باس علی رسولنا۔ قولہ : فانما علی رسولنا جزاء محذوف کی علت ہے۔ قولہ : اللہ لا الہ الا ھو، اللہ مبتداء ہے اور لا الہ الا ھو اس کی خبر ہے۔ قولہ : ان تطیعوھم اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مضاف محذوف ہے، یعنی اگر تمہاری ازواج اور اولاد کار خیر میں آڑے آئیں تو ان کی اطاعت سے اجتناب کرو، یہ آیت کہا گیا ہے کہ عوف بن مالک اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قولہ : خبر یکن مقدرۃ یعنی خیرا، یکن مقدر کی خبر ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ فعل محذوف کا مفعول بہ ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی یوتکم خیرا اور یہی اولیٰ ہے اس لئے کہ کان اور اس کے اسم کا حذف مع بقاء الخبر، ان اور لو کے بعد اکثر ہوتا ہے، یکن اپنے اسم و خبر سے مل کر انفقوا امر کا جواب ہے۔ قولہ : شح بخل، حرص، یہ باب علم و ضرب کا مصدر ہے شح خاص طور سے ایسی بخیلی کو کہتے ہیں جو عادت بن گئی ہو۔ تفسیر و تشریح شان نزول : کہا گیا ہے کہ اس آیت کی نزول کا سبب کافروں کا یہ قول تھا کہ ” لو کان ما علیہ المسلمون حق لصانھم اللہ من المصائب فی الدنیا “ اگر مسلمانوں کا مذہب حق ہوتا، تو دنیا میں ان کو مصیبت اور تنگی نہ پہنچتی، (فتح القدیر) قلب کو مصیبت کے وقت ہدایت دینے کا یہ مطلب ہے کہ قلب یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ مصیبت اللہ ہی کی طرف سے ہے، جس کی وجہ سے اس پر صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے اور بےساختہ اس کے منہ سے ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کل جاتا ہے۔
Ayahs 64:12–13

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور خدا کی اطاعت کرو اور اسکے رسول کی اطاعت کرو اگر تم منہ پھیر لو گے تو ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

واطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول فان تولیتم فانما علی رسولنا البلاغ المبین یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو ہمارے رسول ﷺ کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام تو صرف تبلیغ ہے، امام زہری (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ ہے، اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے۔ (فتح القدیر)
Ayahs 64:14–18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مومنو ! تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور خدا کے ہاں بڑا اجر ہے۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دو چند دیگا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے۔

شان نزول یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم و اولادکم عدوالکم فاحذروھم ترمذی، حاکم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت مکہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لے آئے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کے بیوی بچے آڑے آئے اور روکنے کی کوشش کی، مگر وہ پھر بھی ہجرت کر کے مدینہ آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے وہاں جا کر لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے دین میں کافی تفقہ حال کرلیا ہے اس سے ان کو کار خیر میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے رنج ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو جو کہ اس کار خیر میں حارج ہوئے تھے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (روح المعانی) اور عطاء بن ابی رباح ؓ سے مروی ہے کہ عوف بن مالک اشجعی نے نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ کرنے کا ارادہ کیا، ان کے بیوی بچوں نے مل کر ان کو غزوہ میں جانے سے روک لیا اور جدائی کو اپنے لئے شاق اور ناقابل برداشت بتایا، بعد میں جب عوف بن مالک کو تنبہ اور ندامت ہوئی تو اپنے بچوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا، اس سلسلہ میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی) و ان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم سابقہ آیت میں جن کے بیوی بچوں کو دشمن قرار دیا ہے، ان کو جب اپنی غلطی پر تنبہ ہوا تھا تو ارادہ کیا تھا کہ آئندہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ سختی اور تشدد کا معاملہ کریں گے اس پر آیت کے اس حصہ میں یہ ارشاد نازل ہوا کہ اگرچہ ان کے بیوی بچوں نے تمہارے لئے دشمن کا سا کام کیا ہے کہ تمہارے فرض سے مانع ہوئے مگر اس کے باوجود ان کے ساتھ تشدد اور بےرحمی کا معاملہ نہ کرو بلکہ عفو و درگزر اور معافی کا برتائو کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت بھی مغفرت اور رحمت کی ہے۔ (معارف) انما اموالکم و اولادکم فتنۃ یعنی تمہارے اموال اور اولاد جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں تمہاری آزمائش ہیں، پس اس آزمائش میں تم اس وقت سرخ رو ہوسکتے ہو جب کہ تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد انسان کی آزمائش کا ذریعہ ہوتے ہیں، یہ دونوں چیزیں جہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں وہیں انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں۔ بحمدتم اللہ