65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 65:1–7

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) انکو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی معیار (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انکو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور گواہوں) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز اخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کیلئے (رنج وسخن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دیگا

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا خدا اس کو کفایت کرتے گا اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (انکی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (انکی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کام میں سہولت کر دے گا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں اور خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا۔

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کیلئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو پھر اگر وہ بچے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو اور (بچے کے بارے میں) پسند یدہ طریق سے موافقت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچے کو) اس کے باپ) کے کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائیگی

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا۔

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! ما بعد کے قرینہ سے مراد آپ کی امت ہے، یا اس کے بعد قل لھم محذف ہے (اے نبی ! آپ ﷺ مسلمانوں سے کہئے) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینے لگو یعنی طلاق دینا چاہو تو تم ان کو طلاق عدت کے شروع وقت میں دو اس طریقہ سے کہ طلاق ایسے طہر میں ہو کہ جس میں قربت (وطی) نہ کی ہو، آنحضرت ﷺ کے یہ تفسیر کرنے کی وجہ سے، (رواہ الشیخان) اور تم عدت کو یاد رکھو تاکہ عدت پوری ہونے سے پہلے تم رجوع کرسکو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے اس کے امر و نہی میں اس کی اطاعت کرو ان عورتوں کو ان کے مسکن سے نہ نکالو اور نہ وہ خود اس سے نکلیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہوجائے، الایہ کہ وہ کوئی کھلی بےحیائی کریں (زنا وغیرہ) یاء کے فتح اور کسرہ کے ساتھ یعنی ظاہر یا ظاہر کرنے والی ہوں تو ان پر حدود قائم کرنے کے لئے ان کو نکالا جائے، یہ مذکورہ سب اللہ کے مقرر کردہ احکام ہیں، جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تجھے کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ اس طلاق کے بعد مراجعت کی صورت نکال دے اس صورت میں جب کہ طلاق ایک یا دو ہوں پھر جب وہ (مطلقہ) عورتیں اپنی عدت گزارنے کے قریب پہنچ جائیں یعنی ان کی عدت گزرنے کے قریب ہوجائے تو ان کو قاعدہ کے مطابق بغیر ضرر پہنچائے (رجعت کر کے) نکاح میں رہنے دو یا قاعدہ کے مطابق ان کو رہائی دو یعنی ان کو چھوڑ دو کہ ان کی عدت پوری ہوجائے، اور (بار بار) رجعت کر کے ان کو ضرر نہ پہنچائو، رجعت یا فرقت پر آپس میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ بنا لو اور تم ٹھیک ٹھیک بلارورعایت کے اللہ کے لئے گواہی دو اور تمہارا ارادہ کسی کو نہ فائدہ پہنچانے کا ہو اور نہ نقصان پہنچانے کا، اس مضمون سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے نجات کی شکل نکال دیتا ہے یعنی دنیا و آخرت کی تکلیف سے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچا دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا یعنی اس کے دل میں خیال بھی نہیں آتا، جو شخص اپنے کاموں میں اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اس کے لئے کافی ہے اللہ تعالیٰ اپنا کام یعنی مراد پوری کر کے رہتا ہے اور ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر شئے مثلاً فراخی اور شدت (تنگی) کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور تمہاری وہ بیویاں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہیں (واللآئی) میں ہمزہ اور یاء اور بلایاء کے دونوں جگہ، اگر تم کو ان کی عدت کے بارے میں شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے (اور اسی طرح) وہ عورتیں کہ جن کو صغر سنی کی وجہ سے حیض نہیں آیا تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہے مذکورہ دونوں مسئلے ان عورتوں کے ہیں کہ جن عورتوں کے شوہروں کی وفات نہ ہوئی ہو، اب رہی وہ عورتیں کہ جن کے شوہروں کی وفات ہوئی ہے تو ان عورتوں کی عدت وہ ہے جس کا ذکر ” یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ میں ہے اور حاملہ عورتوں کی عدت خواہ مطلقات ہوں یا ” متوفی عنھن ازواجھن “ ہوں ان کے اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں دنیا و آخرت میں آسانی فرما دے گا عدت کے بارے میں جو مذکور ہوا یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہاریپ اس بھیجا ہے جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو دور فرما دے گا اور اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا تم ان مطلقہ عورتوں کو اپنی وسعت کے مطابق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو یعنی اپنی گنجائش کے مطابق نہ کہ اس سے کم اور گھر میں ان پر تنگی کر کے ان کو تکلیف مت پہنچائو کہ وہ نکلنے یا نفقہ پر مجبور ہوجائیں کہ وہ تمہارے پاس سے چلی جائیں اور اگر وہ (مطلقہ) عورتیں حاملہ ہوں تو بچہ کی ولادت ہونے تک ان کو خرچ دو پھر وہ عورتیں (مدت کے بعد) ان سے تمہاری اولاد کو دودھ پلائیں تو تم ان کو دودھ پلائی کی اجرت دو اور آپس میں اولاد کے حق میں مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو دودھ پلائی کی اجرت معروفہ پر اتفاق کر کے اور اگر تم دودھ پلانے کے معاملہ میں باہم کشمکش (تنگی) کرو گے تو باپ اجرت دینے سے اور ماں دودھ پلانے سے رک جائیں گے تو باپ کے لئے کوئی دوسری عورت دودھ پلائے گی اور مطلقات اور مرضعات پر وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق خرچ کرنا چاہیے، اور جس کو (اللہ نے) تنگ روزی بنایا ہو تو اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرے، اللہ تعالیٰ کسی کو اس سے زیادہ مکلف نہیں بناتا جتنا اس کو دیا ہے خدا تعالیٰ جلدی ہی تنگی کے بعد فراغت عطا فرمائے گا، اور بلاشبہ فتوحات کے بعد اس نے ایسا کردیا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بقرینۃ ما بعدہ۔ ما بعد سے مراد اذا طلقتم النساء ہے اس لئے کہ اس میں صیغہ جمع استعمال ہوا ہے جس سے مراد امت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب آپ ﷺ ہی کو ہو اور طلقتم جمع کا صیغہ بطور تعظیم لایا گیا ہو، اوقل لھم سے احتمال ثانی کا بیان ہے۔ قولہ : اردتم الطلاق اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا ازالہ ہے، شبہ ہوتا ہے کہ اذا طلقتم النساء فطلقوھن میں ترتب شیء علی نفسہ لازم آرہا ہے اور یہ تحصیل حاصل ہے جو محال ہے اس لئے کہ شیء کا حمل خود اپنے اوپر درست نہیں ہوتا، اس شبہ کو دفع کرنے کے لئے مفسر علام نے اردتم الطلاق کا اضافہ فرمایا، تاکہ ترتب شیء علی نفسہ کا شبہ ختم ہوجائے۔ قولہ : لاولھا، ای فی اول العدۃ یعنی عدت کے اول وقت میں اور عدت کا وقت امام شافعی (رح) تعالیٰ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک طہر کا وقت ہے مطلب یہ ہے کہ اول طہر میں جس میں قربت نہ کی ہو طلاق دو ، یہ تفسیر امام شافعی (رح) تعالیٰ کے مسلک کے مطابق ہے۔ قولہ : بینت او بینۃ یہ مبینہ بفتح الیاء اور بکسر الیاء کی قرأت کی تشریح ہے بینت فتحہ کی صورت میں اور بینۃ کسرہ کی صورت میں۔ قولہ : احفظوھا، ای احفظوا وقت عدتھا یعنی اس وقت کو یاد رکھو جس میں طلاق واقع ہوئی ہے۔ قولہ : ذلکم یوعظ بہ، ای المذکور من اول السورۃ الی ھنا۔ قولہ : ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا یہ احکام نساء کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : وفی قراء ۃ بالاضافۃ، ای بالغ امرہ۔ قولہ : واللائی مبتداء ہے اور فعدتھن اس کی خبر ہے۔ قولہ : ان ارتبتم شرط ہے اور اس کا جواب محذوف ہے ای فاعلموا انھا ثلثۃ اشھر شرط اور جواب شرط جملہ معترضہ ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعدتھن جواب شرط ہو۔ قولہ : اولات الاحمال مبتداء ہے اجلھن مبتداء ثانی ہے۔ قولہ : ان یضعن ثانی مبتداء کی خبر ہے اور مبتداء ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتداء اول کی خبر ہے۔ تفسیر و تشریح نام اس سورت کا نام الطلاق ہے، بلکہ یہ اس سورت کے مضمون کا عنوان بھی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس کا دوسرا نام، سورة النساء القصریٰ ، چھوٹی سورة نساء بھی منقول ہے، مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا نزول سورة بقرہ کی ان آیات کے بعد ہوا ہے جن میں طلاق کے احکام پہلی مرتبہ دیئے گئے تھے۔ اس سورت کے احکام کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان ہدایات کو ذہن نشین کرلیا جائے جو طلاق اور عدت سے متعلق اس سے پہلے قرآن میں بیان ہوچکی ہیں۔ (1) طلاق دو بار ہے، پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا پھر بھلے طریقے سے رخصت کردیا جائے۔ (البقرہ، 229) (2) اور مطلقہ عورتیں (طلاق کے بعد) اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو (اپنی زوجیت میں) واپس لے لینے کے حقدار ہیں اگر وہ اصلاح پر آمادہ ہوں۔ (البقرہ، 228) پھر اگر وہ (تیسری بار) ان کو طلاق دیدیں تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلال نہ ہوں گی جب تک کہ اس عورت کا نکاح کسی اور سے نہ ہوجائے۔ (البقرہ : 23) (3) جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدو تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورا کرنے کا تم مطالبہ کرو۔ (الاحزاب، 49) (4) اور تم میں سے جو لوگ مرجائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ (البقرہ، 234) ان آیات میں جو قواعد مقرر کئے گئے تھے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (1) مرد اپنی بیوی کو زیادہ سے زیادہ تین طلاق دے سکتا ہے۔ (2) ایک یا دو طلاق کی صورت میں مرد کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق رہتا ہے، اور عدت گزر جانے کے بعد اگر وہی شوہر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اس کے لئے تحلیل کی کوئی شرط نہیں ہے۔ (3) مدخولہ عورت جس کو حیض آتا ہو اس کی عدت یہ ہے کہ اسے طلاق کے بعد تین حیض آجانے تک چھوڑے رکھے، ایک یا دو صریح طلاق کی صورت میں شوہر کو مدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوگا، تین طلاق کی بعد رجعت کا حق باقی نہیں رہتا۔ (4) غیر مدخولہ عورت جسے ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دیدی جائے اس کے لئے کوئی عدت نہیں وہ چاہے تو طلاق کے فوراً بعد نکاح کرسکتی ہے۔ (5) جس عورت کا شوہر مرجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ سورة طلاق کے نزول کا مقصد : سورة طلاق کے نزول کے دو مقاصد ہیں : (1) ایک یہ کہ مرد کو جو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے اس کو استعمال کرنے کے حکیمانہ طریقے بتائے جائیں، جن سے حتی الامکان جدائی کی نوبت ہی نہ آنے پائے اور اگر جدائی ناگزیر ہو تو ایسی صورت میں ہو کہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں، کیونکہ خدائی شریعت میں طلاق ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر رکھی گئی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے، نبی ﷺ کا ارشاد ہے ” ما احل اللہ شیئا ابغض الیہ من الطلاق “ تمام حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ (ابودائود) (2) دوسرا مقصد یہ ہے کہ سورة بقرہ کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دیکر اسلام کے عائلی قانون کے اس شعبہ کی تکمیل کردی جائے، اس سلسلہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن مدخولہ عورتوں کو حیض آنا بند ہوگیا ہو یا جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، طلاق کی صورت میں ان کی عدت کیا ہوگی، اور جو عورت حامل ہو اسے اگر طلاق دیدی جائے یا اس کا شوہر مرجائے تو اس کی عدت کیا ہے ؟ اور مختلف قسم کی مطلقہ عورتوں کی نفقہ اور سکونت کا انتظام کس طرح ہوگا، اور جس بچے کے والدین طلاق کے ذریعہ الگ ہوگئے ہوں ان کی رضاعت کا انتظام کس طرح کیا جائے ؟ یایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن یہاں خطاب اگرچہ بظاہر آپ ﷺ ہی کو معلوم ہوتا ہے مگر مراد امت ہے، اس کی تائید طلقتم کے جمع کے صیغہ سے بھی ہوتی ہے اگرچہ یہ بھی درست ہے کہ طلقتم جمع کا صیغہ آپ ﷺ ہی کے لئے تعظیم کے طور پر بولا گیا ہو، امت کے مراد ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ جہاں خاص طور پر آپ ﷺ ہی کو خطاب مقصود ہوتا ہے تو وہاں اکثر یایھا الرسول فرمایا جاتا ہے اور جہاں امت کو خطاب مقصود ہوتا ہے وہاں یا ایھا النبی فرمایا جاتا ہے۔ اسلامی عائلی قانون کی روح : اسلامی عائلی قانون کی روح یہ ہے کہ جن مردوں اور عورتوں میں ازدواجی تعلق قائم ہو وہ پائیدار اور عمر بھر کا رشتہ ہو جس سے ان دونوں کی دنیا اور آخرت دونوں درست ہوں، اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد کے اعمال و اخلاق بھی درست ہوں، اسی لئے نکاح کے معاملہ میں شروع سے آخر تک اسلام کی ہدایات یہ ہیں کہ اس تعلق کو تلخیوں اور رنجشوں سے پاک و صاف رکھنے کی اور اگر کبھی پیدا ہوجائے تو ان کے ازالہ کی پوری کوشش کی گئی ہے، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود بعض اوقات طرفین کی زندگی کی فلاح اسی میں منحصر ہوجاتی ہے کہ یہ تعلق ختم کردیا جائے، جن مذاہب میں طلاق کا اصول نہیں ہے ان میں ایسے واقعات میں سخت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بعض اوقات انتہائی برے نتائج سامنے آتے ہیں، اس لئے اسلام نے نکاح کی طرح طلاق کے بھی قواعد و ضوابط مقرر فرما دیئے مگر ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دیدی کہ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت مبغوض و مکروہ کام ہے جہاں تک ممکن ہو اس سے پرہیز کرنا چاہیے، حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ” حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک طلاق ہے “ (ابودائود) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” تزوجوا ولا تطلقوا فان الطلاق یھتز منہ عرش الرحمٰن “ یعنی نکاح کرو طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے عرش رحمٰن ہل جاتا ہے، حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” اللہ نے زمین پر جو کچھ پیدا فرمایا ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کے نزدیک غلاموں کا آزاد کرنا ہے اور سب سے زیادہ مبغوض و مکروہ طلاق ہے “۔ (معارف، قرطبی) بہرحال اسلام نے اگرچہ طلاق کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ حتی الامکان اس کو روکنے کی کوشش کی ہے لیکن بعض ناگزیر موقعوں پر شرائط کے ساتھ اجازت دی تو اس کے لئے کچھ اصول اور قواعد بنا کر اجازت دی جن کا حاصل یہ ہے کہ اگر اس رشتہ ازدواج کو ختم کرنا ہی ضروری ہوجائے تو وہ بھی خوبصورتی اور حسن معاملہ کے ساتھ انجام پائے، محض غصہ اتارنے اور انتقام لینے کی صورت نہ بنے۔ پہلا حکم : فطلقوھن لعدتھن ” عدت “ کے لغوی معنی شمار کرنے کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں اس عدت کو کہا جاتا ہے جس میں عورت ایک شوہر کے نکاح سے نکلنے کے بعد دوسرے سے ممنوع ہوجاتی ہے، اس مدت انتظار کو عدت کہتے ہیں، اور نکاح سے نکلنے کی دو صورتیں ہیں، (1) ایک یہ کہ شوہر کا انتقال ہوجائے اس عدت کو عدت وفات کہا جاتا ہے جو غیر حاملہ کے لئے چار ماہ دس دن مقرر ہے۔ (2) دوسری صورت طلاق ہے، عدت طلاق غیر حاملہ کے لئے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ اور بعض دیگر ائمہ رحمھم اللہ تعالیٰ کے نزدیک تین حیض مکمل ہیں اور امام شافعی (رح) تعالیٰ اور دوسرے بعض ائمہ رحمھم اللہ تعالیٰ کے نزدیک طہر عدت طلاق ہے یعنی کچھ ایام یا مہینے مقرر نہیں، جتنے مہینوں میں تین حیض اور تین طہر پورے ہوجائیں وہی عدت طلاق ہوگی، اور جن عورتوں کو ابھی کم عمری کی وجہ سے حیض نہ آیا ہو یا عمر زیادہ ہوجانے کی وجہ سے حیض منقطع ہوچکا ہے ان کا حکم آئندہ مستقلا آرہا ہے، اور اسی طرح حمل والی عورتوں کا حکم بھی آگے آرہا ہے اس میں عدت وفات اور عدت طلاق دونوں یکساں ہیں، فطلقوھن لعدتھن اور صحیح مسلم کی حدیث ہے آپ ﷺ نے فطلقوا لقبل عدتھن تلاوت فرمایا : آیت مذکورہ کی دونوں قرأتوں اور ایک روایت سے آیت مذکورہ کا یہ مفہوم متعین ہوگیا کہ جب کسی عورت کو طلاق دینا ہو تو عدت شروع ہونے سے قبل طلاق دی جائے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ وغیرہ کے نزدیک چونکہ عدت طہر سے شروع ہوتی ہے اس لئے لقبل عدتھن کا مفہوم یہ قرار دیا کہ بالکل شروع طہر میں طلاق دے دی جائے۔ طلقوھن لعدتھن حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ طلاق حیض کی حالت میں نہ دے اور نہ اس طہر میں دے جس میں شوہر مباشرت کرچکا ہو، جب عورت حیض سے فارغ ہوجائے تو اس کو ایک طلاق دیدے، اس صورت میں اگر شوہر رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو وہ صرف ایک ہی طلاق سے جدا ہوجائے گی۔ (ابن جریر) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں عدت کے لئے طلاق یہ ہے کہ طہر کی حالت میں مباشرت کئے بغیر طلاق دی جائے، یہی تفسیر عبد اللہ بن عمر، عطاء، مجاہد، میمون بن مہران، مقاتل وغیرہم سے مروی ہے۔ (ابن کثیر) اس آیت کے منشا کو بہترین طریقہ سے خود رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر واضح فرمایا تھا جب حضرت عد اللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تھی، اس واقعہ کی تفصیلات قریب قریب حدیث کی ہر کتاب میں نقل ہوئی ہیں۔ قصہ اس کا یہ ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تو حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ سن کر سخت ناراض ہوئے، اور فرمایا کہ اس سے کہو کہ بیوی سے رجوع کرے یہاں تک کہ وہ طاہر ہوجائے پھر اسے حیض آئے اور اس سے فارغ ہو کر وہ طاہر ہوجائے اس کے بعد اگر وہ طلاق دینا چاہے تو طہر کی حالت میں مباشرت کئے بغیر طلاق دے۔ اس حدیث سے چند باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے، دوسری یہ کہ اگر کسی نے ایسا کرلیا تو اس طلاق سے رجعت کرلینا واجب ہے (بشرطیکہ طلاق قابل رجعت ہو جیسا کہ ابن عمر ؓ کے واقعہ میں تھی) تیسری یہ کہ جس طہر میں طلاق دینی ہو اس میں مباشرت نہ ہو، چوتھی یہ کہ یہ آیت فطلقوھن لعدتھن کی یہی تفسیر ہے۔ دوسرا حکم : واحصوا العدۃ ہے مطلق یہ کہ عدت کے ایام کو اہتمام سے یاد رکھنا چاہیے، یاد رکھنے کی ذمہ داری اگرچہ دونوں کی ہے مگر چونکہ ایسے معاملات میں جن کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں کی ہوتی ہے اکثر خطاب مرد کو ہوتا ہے۔ تیسرا حکم : لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن اس آیت میں لفظ بیوتھن سے اشارہ کردیا کہ گھر میں عورت کا بھی حق سکونت ہے اور جب تک اس کی عدت ختم نہیں ہوجاتی عورت کا حق سکونت باقی رہتا ہے محض طلاق دینے سے سکنیٰ کا حق ساقط نہیں ہوجاتا، اور نہ وہ خود نکل سکتی ہے اگرچہ شوہر اس کی اجازت بھی دیدے، اس لئے کہ سکنیٰ محض حقوق العباد میں سے نہیں بلکہ حق اللہ بھی ہے۔ چوتھا حکم : الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ یہ ماقبل کی آیت کے مضمون سے مستثنیٰ ہے مطلب یہ ہے کہ بیت سکنی سے نہ تو مرد کا معتدہ کو نکالنا جائز ہے اور نہ اس کا خود نکلنا جائز ہے مگر یہ کہ عورت کوئی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے، بےحیائی سے مراد مثلاً خود ہی گھر سے نکل بھاگے یا زنا کا ارتکاب کرے یا زبان درازی سے سب کو تنگ کر دے۔ وتلک حدود اللہ (الآیۃ) اس آیت سے احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید ہے کہ یہ شریعت کے مقرر کردہ حدود و قواعد ہیں جو شخص ان مقررہ حدود سے تجاوز کرے گا، تو اس نے گویا خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ مطلقہ مدخولہ کی عدت تین حیض ہے، اگر رجوع کرنا ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کرو، بصورت دیگر انہیں معروف طریقہ کے مطابق اپنے سے جدا کردو۔ اس رجعت یا طلاق پر گواہ بنا لو یہ امر استحباب کے لئے ہے، بعض حضرات کے نزدیک وجوب کے لئے ہے، نیز گواہوں کو تاکید کی گئی ہے کہ کسی کی رو رعایت کے بغیر گواہی دیں نہ کسی کو فائدہ پہنچانا مقصد ہو اور نہ نقصان پہنچانا۔ جن عورتوں کا حیض کبر سنی یا کسی اور وجہ سے منقطع ہوگیا ہو یا صغر سنی کی وجہ سے ابھی شروع نہ ہوا ہو تو ایسی عورتوں کی عدت تین ماہ ہے۔ مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے خواہ دوسرے ہی دن وضع حمل ہوجائے، حاملہ متوفی عنھازوجھا کی عدت وضع حمل ہے اور غیر حاملہ کی چار ماہ دس دن، نیز مطلقہ رجعیہ اور بائنہ کے لئے سکنی ہے۔
Ayahs 65:8–9

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام کی سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا۔ اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔

ترجمہ : اور بہت سی بستیاں (کاین) میں کاف جر ہے، جو ای پر داخل ہے کم کے معنی میں ہے، جس کے رہنے والوں نے اپنے رب کے حکم کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے آخرت میں ان کا سخت محاسبہ کیا اور سخت عذاب دیا اگرچہ آخرت کا وقوع ابھی نہیں ہوا مگر یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا گیا ہے، نکرا کاف کے سکون اور ضمہ کے ساتھ بمعنی شدید ہے، اور وہ آگ کا عذاب ہے، پس انہوں نے اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ لیا (یعنی ان کا انجام بھگت لیا) انجام کار ان کا خسارہ زیاں اور ہلاکت ہی ہوئی، اللہ نے ان کے لئے شدید عذاب تیار کر رکھا ہے وعید کی تکرار تاکید کے لئے ہے پس اللہ سے ڈرو، اے عقلمندو اور ایمان والو ! (الذین امنوا) منادیٰ کی صفت یا اس کا بیان ہے، یقیناً اللہ نے تمہاری طرف ذکر قرآن نازل فرمایا ہے رسول ﷺ یعنی محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا رسولا فعل مقدر یعنی ارسل کی وجہ سے منصوب ہے، وہ تم کو اللہ کی واضح آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، مبینت یاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ، جیسا کہ سابق میں گزر چکا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ذکر اور رسول آنے کے بعد اس کی کفر کی ظلمت سے جس پر وہ تھے نور یعنی اس ایمان جس پر وہ کفر کے بعد قائم رہے، کی طرف نکالے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا (اللہ) اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی اور ایک قرأت میں نون کے ساتھ ہے اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے اور وہ جنت کی روزی ہے جس کی نعمتیں کبھی منقطع ہونے والی نہیں، اللہ وہ ذات ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی یعنی سات زمینیں وحی ان کے درمیان یعنی آسمانوں اور زمینوں کے درمیان اترتی ہے، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اس کو ساتویں آسمان سے ساتویں زمین پر لے کر اترتے ہیں تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو علم کے اعتبار سے گھیر رکھا ہے۔ (یعنی علمی احاطہ کر رکھا ہے) ۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا ورسلہ یہ کلام مستانف ہے وعدہ فتح کی تصدیق کے لئے لایا گیا ہے، کاین خبر یہ بمعنی کم ہے من قریۃ، کاین کی تمیز ہے کاین مبتداء ہونے کی وجہ سے محل میں رفع کے ہے اور عتت اس کی خبر ہے۔ قولہ : عتت، اعرضت کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بعن ہے۔ قولہ : یعنی اھلھا قریۃ بول کر اہل قریہ مراد لیا گیا ہے، اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے اور مجاز مرسل کے قبیل سے ہے، علاقہ حال و محل کا ہے یعنی محل بول کر حال مراد لیا گی ہے۔ قولہ : لتحقق وقوعھا اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے۔ اعتراض : جزاء سزا اور حساب و کتاب آخرت میں ہوگا، پھر حاسبناھا ماضی کے صیغہ سے تعبیر کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : حساب کا وقوع چونکہ یقینی ہے اس لئے ماضی کے صیغہ سے تعبیر کردیا یعنی اس کا وقوع ایسا ہی یقینی ہے جیسا کہ ماضی کا وقوع یقینی ہوتا ہے، یا اس لئے کہ اللہ کے علم ازلی میں اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ (بالاضافہ صاوی) قولہ : تکرر الوعید توکید یعنی مذکورہ چار جملوں میں وعید کو تاکید کے لئے مکرر ذکر کیا ہے، وہ چار جملے یہ ہیں، (1) فحاسبناھا (2) وعدبناھا (3) فذاقت وبال امرھا (4) وکان عاقبۃ امرھا خسرا۔ قولہ : اوبیان بیان سے مراد عطف بیان ہے۔ قولہ : مبینات یہ آیات سے حال ہے، فتحہ کی صورت میں اللہ نے اس کو واضح کردیا، کسرہ کی صورت میں وہ خود واضح ہے۔ (صاوی) تفسیر و تشریح فحاسبناھا حسابا شدیدا وعدبناھا عذابا نکرا اس آیت میں ان قوموں کے حساب و عذاب کا ذکر ہے جو آخرت میں ہونے والا ہے، مگر یہاں اس کو ماضی کے صیغے حاسبنا اور عدبنا سے تعبیر کرنا اس کے یقینی الوقوع ہونے کے اعتبار سے ہے (کما فی روح) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں سوالات اور باز پرس مراد نہ ہو بلکہ سزا کی تعیین ہو اسی کو حساب کرنے سے تعبیر فرما دیا۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصحیت (کی کتاب) بھیجی ہے۔

قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو، دیگر مفسرین حضرات نے اور توجیہات بھی لکھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کثرت ذکر کی وجہ سے رسول گویا خود ذکر ہوگیا تو یہ زید عدل کے قبیل سے ہوگا۔
Ayah 65:11

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے) ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں انکو اندھیرے سے روشنی میں لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا انکو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآ باد اس میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔

لیخرج الذین امنوا وعملوا الصلحت من الظلمت الی النور یعنی جہالت کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف نکال لائے، اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے، اور اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نئی نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرہ کے لئے مفید قانون میسر نہیں آسکا جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ نے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہم کو دیا تھا، اور جس پر کسی نظرثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی اور نہ پیش آسکتی ہے۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے

اللہ الذین خلق سبع سموات ومن الارض مثلھن، مثلھن میں تشبیہ اجمالی ہے کہ کس چیز میں زمین مثل سماوات ہے اس آیت سے اتنی بات تو واضح طور پر ثابت ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمینیں بھی سات ہیں، پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں ہیں اور کس وضع و صورت میں ہیں ؟ تہ برتہ طبقات کی شکل میں ہیں یا ہر زمین کا مقام الگ الگ ہے ؟ اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں ہر دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے اور ہر آسمان میں فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ ہے اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقات زمین ایک دوسرے سے متصل اور پیوستہ ہیں ؟ قرآن مجید اس سے ساکت ہے اور روایات حدیث جو اس سلسلہ میں آئی ہیں ان میں اکثر ائمہ حدیث کا اختلاف ہے بعض نے ان کو صحیح اور ثابت قرار دیا ہے اور بعض نے موضوع اور من گھڑت تک کہہ دیا ہے، مگر عقلاً یہ سب صورتیں ممکن ہیں (معارف) مثلھن کی تفسیر احادیث کی روشنی میں : اس کی تفسیر صحاح میں یوں آئی ہے، بخاری اور مسلم میں ہے، جس نے کسی کی زمین ظلماً غصب کرلی تو قیامت میں وہ زمین اپنے ساتوں طبقوں سمیت اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی ” طوقہ من ارض سبعین “ اور بخاری میں ہے ” خسف بہ الی سبع ارضین “ ان احادیث سے سات زمینوں کا ثبوت اطمینان بخش طریقہ پر ثابت ہوگیا ہے۔ اور ابن عباس ؓ کے اثر میں ہر زمین پر مخلوق اور نبی کا ہونا بھی منقول ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر) قدیم مفسرین میں صرف ابن عباس ؓ ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور بھی کرنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ کائنات میں اس زمین کے علاوہ کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے ؟ موجودہ زمانہ کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے، کجا کہ سوا چودہ سو سال پہلے کے لوگ اسے بآسانی باور کرسکتے، اسی لئے ابن عباس ؓ عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہوجائیں، چناچہ مجاہد (رح) تعالیٰ کہتے ہیں کہ ان سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر میں اس کی تفسیر تم لوگوں سے بیان کردوں تو تم کافر ہوجائو گے اور تمہارا کفر یہ ہوگا کہ اسے جھٹلائو گے، قریب قریب یہی بات سعید بن جبیر ؓ سے بھی منقول ہے، ابن عباس ؓ نے فرمایا، کیا بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر میں تمہیں اس کا مطلب بتادوں تو تم کافر نہ ہوجائو گے ؟ (ابن جریر، عبد بن حمید) تاہم ابن جریر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے اور بیہقی نے ابوالضحیٰ کے واسطے سے باختلاف الفاظ ابن عباس ؓ کی یہ تفصیل نقل کی ہے ” فی کل ارض نبی کنبیکم و آدم کآدمکم، ونوح کنوحکم و ابراھیم اھیمکم و عیسیٰ کعیسکم “ ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبی جیسا اور آدم ہے تمہارے آدم جیسا، اور نوح ہے تمہارے نوح جیسا، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیم جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰ جیسا، اس روایت کو ابن حجر نے فتح الباری میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی نقل یا ہے اور امام ذہبی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے، البتہ میرے علم میں ابوالضحیٰ کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا ہے، اس لئے یہ بالکل شاذ روایت ہے، بعض دوسرے علماء نے اس کو کذب اور موضوع قرار دیا ہے، اور ملا علی قاری (رح) تعالیٰ نے اس کو موضوعات کبیر میں (ص 19) میں موضوع کہتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ ابن عباس ؓ ہی کی روایت ہے تب بھی اسرائیلیات میں سے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے رد کرنے کی اصل وجہ لوگوں کا اسے بعید از عقل و فہم سمجھنا ہے، ورنہ بجائے خود اس میں کوئی بات بھی خلاف عقل نہیں ہے چناچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں، اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مانع ہے اور نہ شرعاً ، مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہے جو ایک اصل کی طرف اسی طرح راجع ہوتی ہے جس طرح آدمی ہماری زمین میں آدم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہوتے ہیں اور ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے یہاں دوسروں کی بہ نسبت اسی طرح ممتاز ہیں جس طرح ہمارے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) ممتاز ہیں، آگے چل کر علامہ موصوف فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ زمین سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی صرف سات ہی نہ ہوں سات کے عدد پر جو عدد تام ہے اکتفا کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس سے زائد کی نفی ہو پھر بعض احادیث میں ایک ایک آسمان کی درمیانی دوری جو پانچ پانچ سو برس بیان کی گئی ہے اس کے متعلق علامہ موصوف فرماتے ہیں ” ھو من باب التقریب للافھام “ یعنی اس سے ٹھیک ٹھیک مسافت کی پیمائش بیان کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود بات کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے قریب تر ہوجائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے رانڈکار پر یشن نے فلکی مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ زمین جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے صرف اس کے اندر تقریباً 60 کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات زمین سے بہت کچھ مشابہ اور ملتے جلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہوں۔ (اکانومسٹ، لدن، مورخہ 26 جولائی 1969 ء) حضرت ابن عباس ؓ کے اثر میں ہر زمین پر مخلوق اور نبی کا ہونا منقول ہے، اس کی تفصیل اور تقریر میں جناب مولانا ابو الحسنات، مولانا محمد عبد الحی (رح) تعالیٰ نے رسائل تصنیف کئے ہیں، اور بعض لوگوں کو جو یہ شبہ ہوا ہے کہ ہر زمین میں مثل ان انبیاء کا ہونا مستوجب ہے مماثلث نبی کریم ﷺ سردار انبیاء کو اور مستلزم ہیں اس بات کو کہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء نہ ہوں، اس نے غور نہیں کیا، معانی اور مفاد تشبیہ میں، بلکہ وہ حضرت نبی کریم ﷺ کی علو شان کو نہ سمجھا ورنہ ایسی جرأت نہ ہوتی نہ مماثلث موجب مساوات ہے اور نہ حضور ﷺ کے فضل خاتمیت کا معارض۔ (حاشیہ خلاصۃ التفاسیر للتائب لکھنوی ملخصًا)