66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 66:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو ؟ کیا اس سے اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کرد یا ہے اور خدا ہی تمہارا کا رساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس کو جس کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے ؟ یعنی اپنی باندی ماریہ قبطیہ ؓ کو جب کہ آپ ﷺ نے اس سے حفصہ ؓ کے گھر میں ہمبستری فرمائی، اور حفصہ ؓ موجود نہیں تھیں، اچانک آگئیں اور یہ بات ان کے گھر میں ان کے بستر پر ان کو گراں گزری، اس وقت آپ ﷺ نے ھی حرام علی وہ میرے اوپر حرام ہے فرما دیا، اس کو حرام کر کے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، اللہ بخشنے والا مہربان ہے آپ ﷺ کے اس حرام کرنے کو معاف فرما دیا، تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کو کفارہ دے کر جس کا سورة مائدہ میں ذکر ہے کھول ڈالنا فرض مشروع کیا ہے اور باندی کو حرام کرلینا بھی قسم میں داخل ہے ! کیا آپ ﷺ نے کفارہ ادا فرمایا (یا ادا نہیں فرمایا) مقاتل نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے ماریہ ؓ کی تحریم کے سلسلہ میں ایک غلام آزاد فرمایا، اور حسن نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے کفارہ ادا نہیں فرمایا، اس لئے کہ آپ ﷺ تو بخشے بخشائے ہیں، اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی حکمت والا ہے اور یاد کرو اس وقت کو جب آپ ﷺ نے اپنی بعض ازواج سے اور وہ حفصہ ؓ ہیں راز دارانہ طور پر ایک بات کہی اور وہ ماریہ قبطیہ ؓ کی تحریم کی بات تھی اور آپ ﷺ نے (حفصہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ اس راز کو ظاہر نہ کرنا مگر اس نے اس بات کی عائشہرضی اللہ تعالیٰ عنھا کو خبر کردی یہ سمجھتے ہوئے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اللہ نے اپنے نبی کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا تو نبی نے حفصہ کو تھوڑی سی بات تو بتادی اور تھوڑی ٹال گئے آپ ﷺ کے کرم (حسن خلق کی وجہ سے) سو پیغمبر نے اس بیوی کو وہ بات جتلا دی تو کہنے لگی آپ ﷺ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے جاننے والے بڑے خبر رکھنے والے (اللہ) نے خبر دی اے حفصہ اور عائشہ ! اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرلو تو بہتر ہے، یقینا تم دونوں کے دل ماریہ ؓ کی تحریم کی طرف مائل ہوگئے ہیں یعنی ان کو (اس تحریم) نے خوش کیا حالانکہ آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری، اور یہ بات گناہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے (ای تقبلا) اور قلبین پر قلوب کا اطلاق کیا، دونوں کو تثنیہ سے تعبیر نہیں کیا، دو تثنیوں کے کلمہ واحد کے مانند میں جمع ہونے کے ثقیل ہونے کی وجہ سے، اور اگر تم دونوں نبی کے خلاف اس چیز میں جس کو نبی ناپسند کرتا ہے مدد کرو گی تو اللہ اس کا مددگار ہے ھو ضمیر فصل ہے اور جبرائیل اور نیک اعمال والے ابوبکر ؓ و عمر ؓ و جبرئیل و صالح المؤمنون کا ان کے اسم کے محل پر عطف ہے تو یہ سب آپ ﷺ کے مددگار ہیں اور اللہ اور مذکورین کی مدد کے علاوہ فرشتے اس کے مددگار ہیں یعنی تمہارے مقابلہ میں اس کی نصرت کے معاون (و مددگار ہیں) اگر نبی تم کو طلاق دیدے یعنی نبی اپنی ازواج کو طلاق دیدے، تو بہت جلد انہیں ان کا رب تمہارے عوض میں تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا، (یبدلہ) دال کی تشدید و تخفیف کے ساتھ ہے (ازواجا) عسی کی خبر اور جملہ جواب شرط ہے اور شرط کے واقع نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی واقع نہیں ہوئی، جو اسلام لانے والیاں ہوں گی توبہ کرنے والیاں عبادت کرنے والیاں روزے رکھنے والیاں، ہجرت کرنے والیاں ہوں گی بیوہ اور کنواریاں ہوں گی اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو اللہ کی اطاعت پر آمادہ کر کے نار جہنم سے بچائو جس کا ایندھن کافر انسان ہیں اور پتھر ہیں جیسا کہ پتھر کے بت عنی جہنم شدید حرارت والی ہے جس کو مذکورہ چیزوں سے جلایا گیا ہے نہ کہ دنیا کی آگ کے مانند جس کو لکڑی وغیرہ سے جلایا جاتا ہے جس کے نگراں سخت دل فرشتے ہیں جن کی تعداد انیس ہے جیسا کہ سورة مدثر میں آئے گا غلاظ، غلظ القلب سے ماخوذ ہے اور پکڑ کرنے کے اعتبار سے شدید ہیں جن کو جو حکم اللہ تعالیٰ دیتے ہیں اس کی نافرمانی نہیں کرتے (ما امر اللہ) لفظ اللہ سے بدل ہے مطلب یہ کہ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے (بلکہ) جس بات کا حکم دیا جاتا ہے وہی کرتے ہیں یہ تاکید ہے اور آیت میں مومنین کے لئے ارتداد سے اور زبان سے نہ کہ دل سے ایمان لانے والے منافقین کے لئے ڈراوا ہے، اے کافرو ! تم آج عذر بہا نہ مت کرو ان سے یہ بات دوزخ میں داخلے کے وقت کہی جائے گی، یہ اس لئے کہ عذر و معذرت ان کو کوئی نفع نہ دے گی، تمہیں صرف تمہارے کرتوتوں کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد سورة تحریم کا دوسرا نام سورة النبی بھی ہے۔ (قرطبی) قولہ : ماریۃ القبطیۃ یہ وہ باندی تھیں جنہیں مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا تھا، یہ واقعہ 7 ھ میں پیش آیا اور ان کے بطن سے ذی الحجہ 8 ھ میں آپ ﷺ کے فرزند حضرت ابراہیم ؓ پیدا ہوئے تھے۔ قولہ : تحلۃ کھولنا، حلال کرنا حلل کا مصدر ہے۔ قولہ : جواب الشرط معذوف، ان تتوبا شرط ہے اور فقد صغت قلوبکما علت شرط ہے یعنی تم توبہ اس لئے کرو کہ تمہارے قلوب حق سے غیر حق کی طرف مائل ہوگئے ہیں، جواب شرط تقبلا محذوف ہے یعنی اگر تم توبہ کرو گی تو قبول کرلی جائے گی کما صرح بہ المفسر العلام، اور بعض حضرات نے یکن خیرا لکم جزاء محذوف مانی ہے۔ قولہ : اطلق قلوب علی قلبین الخ۔ سوال : قلوبکما میں تثنیہ کی جگہ قلوب جمع لایا گیا ہے حالانکہ قیاس کا تقاضہ قلباکما تھا اس لئے کہ دو آدمیوں کے دو ہی قلب ہوتے ہیں۔ جواب : مثل کلمہ واحدہ میں دو تثنیوں کا اجتماع ثقیل ہونے کی وجہ سے قلوب جمع لایا گیا ہے۔ سوال : مثل کلمہ واحدہ کیوں فرمایا نہ کہ کلمہ واحدہ ؟ جواب : مضاف اور مضاف الیہ حقیقت میں دو کلمے ہوتے ہیں مگر شدت اتصال کی وجہ سے مثل کلمہ واحدہ کے شمار ہوتے ہیں۔ قولہ : فان اللہ ھو مولاہ یہ شرط کی جزاء محذوف کی علت ہے وہ ناصر سے محروم اس لئے نہیں ہوگا کہ اللہ اس کا مولا اور ناصر ہے۔ قولہ : صالح اسم جنس ہے جس کا اطلاق واحد، تثنیہ، جمع سب پر ہوتا ہے اسی لئے اس کی صفت المومنون لانا صحیح ہے، کتاب میں مذکور ترکیب کے علاوہ ایک صورت یہ بھی جائز ہے کہ جبرئیل اور اس کے معطوفات مبتداء ہوں اور ظھیر بمعنی ظھراء مبتداء کی خبر۔ سوال : ظھیر خبر مفرد ہے اور مبتداء جمع ہے یہ جائز نہیں ہے۔ جواب : ظھیر فعیل کے وزن پر ہے اس وزن میں واحد، تثنیہ، جمع سب برابر ہوتے ہیں۔ قولہ : خبر عسی، ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن، عسی کی خبر ہے اور ربہ، عسی کا اسم ہے عسی اپنے اسم و خبر سے مل کر جواب شرط ہے اور ان طلقکن شرط ہے، مگر اس صورت میں یہ اعتراض ہوگا کہ اس جملہ کا فعل جامد ہے اور جب جملہ اس قسم کا ہو تو اس پر فاء لازم ہوتی ہے حالانکہ یہاں فاء نہیں ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ جزاء محذوف مانی جائے اور اس جملہ کو دلیل جزاء قرار دیا جائے۔ (صاوی) قولہ : قوا بروزن عوا امر جمع مذکر حاضر یہ اصل میں اوقیوا تھا۔ تفسیر و تشریح شان نزول : یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک (الآیۃ) اس آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں چند اقوال ہیں، واحدی نے کہا ہے کہ اکثر مفسرین کا قول یہ ہے حضرت حفصہ ؓ کے گھر میں ماریہ قبطیہ ؓ کا واقعہ سبب نزول ہے، وقال القرطبی اکثر المفسرین علی ان الایت نزلت فی حفصۃ اور بعض مفسرین نے حضرت زینب بنت حجش ؓ کے گھر شہد پینے کے واقعہ کو سبب نزول قرار دیا ہے، اور بعض مفسرین نے اس عورت کے واقعہ کو شان نزول قرار دیا ہے جس نے خود کو آپ ﷺ کو ہبہ کردیا تھا۔ (فتح القدیر، شوکانی) فائدہ : 6 ھ میں صلح حدیبیہ سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جو خطوط اطراف و نواح میں بادشاہوں کو بھیجے تھے ان میں سے ایک اسکندریہ کے رومی بطریق کے نام بھی تھا جسے عرب میں مقوقس کہتے تھے، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ یہ نامہ مبارک لیکر گئے تھے، حضرت حاطب ؓ جب اس کے پاس پہنچے تو اس نے اسلام تو قبول نہ کیا مگر حاطب ؓ کے ساتھ خوش اخلاقی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آیا اور جواب میں لکھا کہ مجھے یہ معلوم ہے کہ ابھی ایک نبی آنا باقی ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ وہ شام میں نکلے گا تاہم میں آپ کے قاصد کے ساتھ احترام سے پیش آیا ہوں اور آپ کی خدمت میں دو لڑکیاں (باندیاں) بھیج رہا ہوں جو قبطیوں میں بڑا رتبہ رکھتی ہیں (ابن سعد) ان لڑکیوں میں سے ایک سیرین تھیں اور دوسری ماریہ (عیسائی حضرت مریم کو ماریہ کہتے ہیں) مصر سے واپسی پر حضرت حاطب ؓ نے دونوں کے سامنے اسلام پیش کیا، دونوں مشرف با اسلام ہوگئیں، جب دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئیں تو آپ ﷺ نے سیرین حضرت حسان بن ثابت ؓ کو عطا فرما دیں اور حضرت ماریہ کو اپنے پاس رکھ لیا، ان ہی کے بطن سے 8 ھ میں آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم ؓ پیدا ہوئے۔ (الاستیعاب، الاصابہ) یہ خاتون نہایت خوبصورت تھیں، حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کے متعلق حضرت عائشہ ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ مجھے کسی عورت کا آنا اس قدر ناپسندنہ ہوا جتنا ماریہ ؓ کا آنا ہوا تھا، کیونکہ وہ حسین و جمیل تھیں اور آپ ﷺ کو بہت پسند آئی تھیں ان کے بارے میں متعدد طریقوں سے جو قصہ احادیث میں نقل ہوا ہے وہ مختصراً یہ ہے۔ حضرت ماریہ ؓ کا واقعہ : آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے لئے باری مقرر فرمائی تھی، حضرت حفصہ بنت عمر ؓ نے اپنی باری میں آپ ﷺ سے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت چاہی آپ ﷺ نے اجازت دیدی، اس کے بعد آپ ﷺ نے حضرت ماریہ ؓ کو طلب فرمایا اور حضرت حفصہ ؓ ہی کے گھر ہم بستر ہوئے، حضرت حفصہ ؓ واپس آئیں تو دروازہ بند پایا دروازہ پر بیٹھ گئیں اور رونے لگیں جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو رونے کا سبب دریافت فرمایا، تو حضرت حفصہ ؓ نے عرض کیا، میری باری، میرا حجرہ، میرا بستر، میرے حق کی کچھ رعایت نہ کی گئی، کیا آپ ﷺ نے مجھے اس لئے اجازت دی تھی آپ ﷺ نے حفصہ ؓ کو نرمی سے سمجھا کر خوش کیا اور فرمایا میں نے اسے حرام کرلیا، اور میرے بعد ابوبکر ؓ ان کے بعد عمر ؓ خلیفہ ہوں گے مگر یہ راز مخفی رہے (بخاری، بحوالہ خلاصۃ التفاسیر) یہی واقعہ مذکورہ آیت کے نزول کا سبب ہوا۔ حضرت زینب ؓ کا واقعہ : صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد کھڑے کھڑے سب بیویوں کے پاس (خبر گیری کے لئے) تشریف لے جایا کرتے تھے، ایک روز حضرت زینب ؓ کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے اور شہد نوش فرمایا، تو مجھے رشک آیا اور میں نے حضرت حفصہ ؓ سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ ﷺ تشریف لائیں تو وہ یوں کہے کہ آپ ﷺ نے مغافیر نوش فرمایا ہے (مغافیر ایک خاص قسم کا گوند ہوتا ہے جس میں کچھ بدبو ہوتی ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ ﷺ جس بیوی کے پاس تشریف لے جاتے یہی بات سننے کو ملتی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے، ان بیوی نے کہا شاید کوئی مکھی مغافیر کے درخت پر بیٹھی ہو اور اس کا رس چوسا ہو، اسی وجہ سے شہد میں بدبو آنے لگی ہو ؟ رسول اللہ ﷺ بدبو کی چیزوں سے بہت زیادہ پرہیز فرماتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے قسم کھالی کہ آئندہ میں شہد نہ پیوں گا اور اس خیال سے کہ زینب ؓ کو یہ بات ناگوار ہو اس بات کے اخفاء کی تاکید فرمائی مگر ان صاحبہ نے دوسری بیوی سے کہہ دیا، بعض روایات میں ہے کہ حضرت حفصہ ؓ شہد پلانے والی ہیں اور حضرت عائشہ ؓ اور سودہ ؓ وصفیہ ؓ صلاح و مشورہ کرنے والی ہیں اور بعض روایات میں یہ قصہ دوسری طرح بھی آیا ہے۔ ممکن ہے کہ کئی واقعات ہوں اور ان کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ہو۔ (معارف) اکابر اہل علم نے ان دونوں قصوں میں سے اسی دوسرے قصے کو صحیح قرار دیا ہے، امام نسائی فرماتے ہیں کہ شہد کے معاملہ میں حضرت عائشہ کی حدیث نہایت صحیح ہے، اور حضرت ماریہ ؓ کو حرام کرلینے کا قصہ کسی عمدہ طریق سے نقل نہیں ہوا، قاضی عیاض فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ماریہ کے معاملہ میں نہیں بلکہ شہد کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے، قاضی ابوبکر ابن عربی شہد ہی کے قصے کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور یہی رائے امام نووی اور حافظ بدر الدین عینی کی ہے، ابن کثیر فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت شہد کو اپنے اوپر حرام کرلینے کے بارے میں نازل ہوئی، ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے بھی اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک (الآیۃ) اس آیت میں بھی قرآن کے عام اسلوب کے مطابق آپ ﷺ کا نام لیکر خطاب فرمانے کے بجائے آپ ﷺ کے اعزازی لقب یایھا النبی سے خطاب فرمایا ہے، فرمایا آپ ﷺ اپنی ازواج کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے اپنے اوپر حلال چیز کو حرام فرما کر کیوں تنگی کرتے ہیں یایھا النبی لم تحرم میں اگرچہ صورت استفہام کی ہے مگر مقصد ناپسندیدگی کا اظہار ہے یہ کلام اگرچہ ازروئے شفقت ہوا مگر صورت جواب طلبی کی تھی اور آپ ﷺ کو اس بات پر تنبیہ کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا جو فعل آپ ﷺ سے صادر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اسے حرام کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے حتیٰ کہ خود نبی ﷺ کو بھی نہیں ہے، اگرچہ حضور ﷺ نے اس چیز کو نہ عقیدۃ حرام سمجھا تھا اور نہ اسے شرعاً حرام قرار دیا تھا، بلکہ صرف اپنی ذات پر اس کے استعمال کو ممنوع کرلیا تھا، لیکن چونکہ آپ ﷺ کی حیثیت ایک عام آدمی کی نہیں بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تھی، اور آپ ﷺ کے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے سے یہ خطرہ پیدا ہوسکتا تھا کہ امت بھی اس شئے کو حرام یا کم از کم مکروہ سمجھنے لگے، یا امت کے افراد یہ خیال کرنے لگیں کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اس فعل پر مشفقانہ گرفت فرمائی اور آپ ﷺ کو اس تحریم سے باز رہنے کا حکم دیا۔ کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کی تین صورتیں ہیں، (1) اگر کوئی شخص کسی حلال قطعی کو عقیدۃً حرام قرار دے تو یہ کفر اور گناہ عظیم ہے (2) اور اگر عقیدۃً حرام نہ سمجھے مگر بلاکسی ضرورت و مصلحت کے قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرلے تو یہ گناہ ہے، اس قسم کو توڑنا اور کفارہ ادا کرنا واجب ہے اور اگر کسی ضرورت و مصلحت سے ہو تو جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے (3) تیسری صورت یہ کہ نہ عقیدۃً حرام سمجھے نہ قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کرے مگر عملاً اس کو ترک کرنے کا دل میں عزم کرلے، یہ عزم اگر اس نیت سے کرے کہ اس کا دائمی ترک باعث ثواب ہے تب تو یہ بدعت اور رہبانیت ہے جو شرعاً گناہ اور مذموم ہے اور ترک دائمی کو ثواب سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے کسی جسمانی یا روحانی مرض کے علاج کے طور پر کرتا ہے تو بلاکراہت جائز ہے جیسا کہ کوئی شوگر (شکر) کا مریض (شکر) کا استعمال ترک کر دے۔ (معارف) واقعہ مذکورہ میں آپ ﷺ نے قسم کھالی تھی نزول آیت کے بعد اس قسم کو توڑا اور کفارہ ادا کیا، جیسا کہ درمنثور کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک غلام کفارہ قسم میں آزاد کیا۔ (ازبیان القرآن) قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم یعنی ایسی صورت میں جہاں قسم کا توڑنا ضروری یا مستحسن ہو تمہاری قسموں سے حلال ہونے یعنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینے کا راستہ نکال دیا ہے، قسم کا یہ کفارہ سورة مائدہ آیت 89 میں بیان کیا گیا ہے چناچہ آنحضور ﷺ نے بھی کفارہ ادا کیا۔ (کمامرانفا)
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی) جب اس نے اسکو افشا کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے (ان بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے .

واذا سرالنبی (الآیۃ) وہ راز کی بات کیا تھی جو آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی سے کہی تھی، صحیح اور اکثر روایات کی رو سے شہد کو حرام کرنے کی بات تھی، اور مخفی رکھنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ زینب ؓ کو اس سے تکلیف و رنج نہ ہو، مگر اس بیوی نے یہ راز دوسری بیوی پر ظاہر کردیا، اس راز کی بات کے بارے میں اگرچہ اور اقوال بھی منقول ہیں مگر راجح یہی قول ہے۔ فلما نبات بہ (الآیۃ) جب اس بیوی نے وہ راز کی بات دوسری بیوی سے کہہ دی اور اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس افشائے راز کی خبر کردی تو آپ ﷺ نے اس بیوی سے افشائے راز کا شکوہ کیا مگر پوری بات نہیں کھولی کچھ بات کہی اور کچھ کو ٹال گئے تاکہ اس بیوی کو زیادہ خجالت اور شرمندگی نہ ہو، یہ آنحضرت ﷺ کا کرم اور حسن سلوک تھا، جس بیوی سے راز کی بات کہی تھی وہ کون تھی ؟ اور جس پر راز ظاہر کیا وہ کون ؟ قرآن کریم نے اس کو بیان نہیں کیا، اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ راز کی بات حضرت حفصہ ؓ سے کہی گئی تھی انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کردیا۔ بعض روایات حدیث میں ہے کہ حضرت حفصہ ؓ کے راز فاش کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا، مگر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو بھیج کر آپ ﷺ کو طلاق سے روک دیا اور فرمایا کہ وہ بہت نماز گزار اور بکثرت روزے رکھنے والی ہیں اور ان کا نام جنت میں آپ ﷺ کی بیویوں میں لکھا ہوا ہے۔ (مظہری، معارف) بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک طلاق دیدی تھی مگر جبرئیل کے کہنے سے آپ ﷺ نے رجوع فرما لیا۔
Ayahs 66:4–5

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبرئیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں اور (انکے علاوہ اور) فرشتے بھی مددگار ہیں

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں ان کا بروردگا رتمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دیدے مسلمان صاحب ایمان ' فرنبردار ' توبہ کرنے والیاں ' عبادت گزار ' روزہ رکھنے والیاں ' بن شوہر اور کنواریاں۔

ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما، ان تتوبا تثنیہ کا صیغہ ہے جس سے مراد دو بیویاں ہیں وہ دو کون ہیں ؟ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک طویل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے ایک روز موقع پا کر خود حضرت عمر ؓ سے ان دونوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا وہ حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ ہیں، ان تتوبا میں دونوں ازواج کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارے قلوب حق سے مائل ہوگئے ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ تم توبہ کرو، کیونکہ آپ ﷺ کی محبت اور رضا جوئی ہر مومن کے لئے ضروری ہے، مگر تم دونوں نے باہم مشورہ کر کے ایسی صورت اختیار کی جس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچی لہٰذا اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
Ayahs 66:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا انکو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

کافرو ! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے تھے انہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا

یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا اس آیت میں اہل ایمان کو ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام، تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو۔ (سنن ابی دائود و سنن ترمذی)
Ayahs 66:8–9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن خدا پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کریگا۔ بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کرینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (نصوحا) میں نون کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ اس طریقہ پر کہ نہ دوبارہ گناہ کرے گا اور نہ اس کا ارادہ کرے گا امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور یہ ایسی توقع ہے کہ جس کا وقوع (یقینا) ہوگا، تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو آگ میں داخل کر کے رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا اللہ سے دعاء کرتے ہوں گے (یقولون) جملہ مستانفہ ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے اس نور کو جنت میں پہنچنے تک باقی رکھئے اور منافقوں کا نور بجھ جائے گا، اور اے ہمارے پروردگار ! تو ہماری مغفرت فرما بیشک تو ہر شئے پر قادر ہے اے نبی ! کفار سے تلوار سے اور منافقین سے زبان اور دلیل سے جہاد کیجئے اور ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑک سے ان پر سختی کیجئے، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نوح اور لوط کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی ہے اور وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں ان دونوں نے ان کے دین میں جب کہ کفر کیا خیانت کی نوح (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام واہلہ تھا، اپنی قوم سے کہا کرتی تھی کہ یہ (میرا شوہر) پاگل ہے اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام واعلہ تھا اپنی قوم کو لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کی نشاندہی کردیتی تھی، جب رات کو آتے تھے تو آگ جلا کر اور دن میں دھواں کر کے، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) ان سے اللہ کے عذاب کو روکنے میں کچھ کام نہ آئے ان کو حکم دیا جائے گا کہ قوم نوح اور قوم لوط میں سے داخل ہونے والے کافروں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجائو اور اللہ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی تھی اور اس کا نام آسیہ تھا، اور فرعون اس کے ہاتھ اور پیروں میں میخ گاڑ کر سزا دیتا تھا، اور اس کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا تھا، اور اس کو سورج کے رخ کردیتا تھا، اور جب وہ لوگ جن کے اس کو حوالہ کیا تھا الگ ہوجاتے تو فرشتے اس پر سایہ فگن ہوجاتے، جب کہ اس نے حالت تعذیب میں دعاء کی اے میرے پروردگار ! تو میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا دے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے (پردے) اٹھا دیئے، جس سے اس نے اپنا مکان دیکھ لیا، اور سزا کو برداشت کرنا اس کے لئے آسان ہوگیا، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے (یعنی اس کی سزا سے) بچا اور مجھے اس کی ظالم قوم یعنی اس کے ہم مذہب لوگوں سے بچا تو اللہ نے اس کی روح کو قبض کرلیا، اور ابن کیسان نے کہا ہے کہ ان کو زندہ جنت کی طرف اٹھا لیا گیا، تو وہ کھاتی ہے اور پیتی ہے، (اور مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی اس کا عطف امراۃ فرعون پر ہے، جس نے اپنی ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں روح پھونک دی، یعنی جبرائیل نے اس طریقہ پر کہ اس نے اس کی قمیص کے گریبان میں پھونک مار دی، اللہ نے جبرئیل کے فعل کو تخلیق کر کے چناچہ وہ عیسیٰ سے حاملہ ہوگئیں، اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی شریعت کی اور اس کی نازل کردہ کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ عبادت گزار لوگوں میں سے تھیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : نصوحا نون کے فتحہ کے ساتھ، مبالغہ کا صیغہ ہے، بروزن شکور، توبۃ کی صفت ہے یعنی انتہائی خالص توبہ، اور نون کے ضمہ کے ساتھ، مصدر ہے جیسے نصح نصحا و نصوحا اس صورت میں توبۃ کی صفت مبالغۃً ہوگی اور زید عدل کے قبیل سے ہوگی، ورنہ تو مصدر کا حمل ذات پر لازم آئے گا، نصوحا، توبۃ کی صفت اسناد مجازی کے طور پر ہوگی ورنہ حقیقت میں نصوحاً تائب کی صفت ہے۔ قولہ : ترجیۃ تقع اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ عسٰی ترجی اور توقع کے لئے استعمال ہوتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں ترجی اور توقع نہیں ہوتی بلکہ یقینی الوقوع ہوتی ہے۔ جواب : جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عسٰی اگرچہ توقع و ترجی، امید و طمع کے لئے آتا ہے مگر قرآن میں یقینی الوقوع کے لئے استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے۔ قولہ : یوم لا یخزی اللہ النبی، یوم یا تو، یدخلکم کی وجہ سے منصوب ہے یا اذکر فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : والذین امنوا یا تو اس کا عطف النبی پر ہے اس صورت میں وقف معہ پر ہوگا اور نورھم یسعٰی کلام مستانف ہوگا اس صورت میں نورھم مبتداء ہوگا اور یسعٰی بینھم اس کی خبر اور یہ بھی ہوسکتا ہے نورھم یسعٰی جملہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہو۔ قولہ : ضرب اللہ مثلاً ، ضرب بمعنی جعل متعدی بدو مفعول ہے مثلاً مفعول بہ ثانی مقدم امراۃ نوح مفعول بہ اول ہے مفعول بہ اول کو مؤخر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کانتا تحت عبدین الخ سے مفعول اول یعنی امراۃ نوح، امراۃ لوط کا حال بیان کیا جا رہا ہے لہٰذا مفعول اول کو مؤخر کردیا تاکہ حال اور صاحب حال متصل ہوجائیں۔ قولہ : امرات نوح و امرأت لوط مصحف امام کے رسم الخط کے مطابق امراۃ کو لمبی تاء کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ قولہ : شیئا یہ حذف موصوف کے ساتھ لم یغنیا کا مفعول مطلق ہے ای لم یغنیا اغناء شیئا۔ قولہ : قیل قینی الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کیا ہے، اور قائل ملائکہ ہیں۔ قولہ : و تعذیبہ یہ عملہ کا عطف تفسیری ہے۔ قولہ : ای جبرئیل، جبرئیل، روحنا کی تفسیر ہے۔ تفسیر و تشریح توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا ” توبہ “ کے لفظی معنی لوٹنے، رجوع کرنے کے ہیں، مراد گناہوں سے رجوع کرنا ہے، قرآن و سنت کی اصطلاح میں توبہ اس کا نام ہے کہ آدمی اپنے پچھلے گناہ پر نادم و شرمندہ ہو اور آئندہ اس کے ارتکاب نہ کرنے کا پختہ عزم کرے، نصوح، نصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں، خالص شہد کو عسل ناصح کہتے ہیں اس لئے کہ وہ موم اور دیگر آلائشوں سے پاک صاف ہوتا ہے، پھٹے ہوئے کپڑوں کی مرمت کرنے کو بھی نصاحۃ کہتے ہیں، توبۃ النصوح کا مطلب ہوگا ایسی خالص توبہ کہ جس میں ریاء و نفاق کا شائبہ تک نہ ہو، یا آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے خود کو بدانجامی سے بچا لے، یا یہ کہ گناہ کی وجہ سے اس دین میں جو شگاف پڑگیا ہے توبہ کے ذریعہ اس کی اصلاح کرے حسن بصری (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ توبۃ النصوح یہ ہے کہ آدمی اپنے گزشتہ عمل پر نادم ہو اور اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ عزم رکھتا ہو، اور کلبی نے کہا کہ توبۃ النصوح یہ ہے کہ زبان سے استغفار کرے اور دل میں نادم ہو اور اپنے بدن و اعضاء کو آئندہ اس گناہ سے روکے، حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا یہ توبۃ الکذابین ہے، اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے ؟ فرمایا اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہئیں (1) جو کچھ ہوچکا اس پر نادم ہو (2) جن فرائض سے غفلت کی ان کو ادا کرے (3) جس کا حق ماراہو اس کو واپس کرے (4) جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگے (5) آئندہ کے لئے عزم کرے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا (6) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلا دے، جس طرح تو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اس کو اطاعت کی تلخی کا مزا چکھا، جس طرح اب تک تو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے۔ (کشاف، مظہری) فائدہ : توبہ کے سلسلے میں مندرجہ ذیل امور کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے، اول یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لئے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے، ورنہ کسی گناہ سے اس لئے پرہیز کا عہد کرلینا کہ مثلاً وہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے یا کسی بدنامی یا مالی نقصان کا موجب ہے، یہ توبہ کی تعریف میں نہیں آتا، دوسرے یہ کہ جس وقت یہ احساس ہوجائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے تو توبہ کرنے میں جلدی کرے اور بلاتاخیر اس کی تلافی کرنی چاہیے، تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہے یہ توبہ کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے، چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کرچکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اسی گناہ کا اعادہ ہوجائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہوگا، البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے، پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یاد آئے توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے لیکن اگر اس کا نفس اپنی سابقہ گنہگارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اس کے لئے لذت کے بجائے شرم ساری کی موجب بن جائے۔ عسٰی ربکم ان یکفر عنکم آیت میں لفظ عسٰی استعمال ہوا ہے اس کے معنی امید اور توقع کے ہیں مگر یہاں اس سے مراد وعدہ ہے اس لئے کہ بڑے لوگوں مثلاً بادشاہوں کا امید دلانا وعدہ سمجھا جاتا ہے اللہ تعالیٰ تو بادشاہوں کے بادشاہ ان کی توقع اور امید دلانا وعدہ ہی سمجھا جائے گا، مگر لفظ عسٰی استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ انسان کا کوئی بھی عمل یا تمام اعمال صالحہ بھی جنت کی قیمت نہیں بن سکتے اور نہ ازروئے انصاف اللہ پر یہ لازم آتا ہے کہ عمل صالح کے بدلے میں ضرور جنت میں داخل کرے یہ محض اللہ کے فضل و کرم پر موقوف ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا، صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ﷺ کو بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے بھی جب تک اللہ اپنے فضل و رحمت کا معاملہ نہ کرے۔ (بخاری، مظہری) لا یخزی اللہ النبی والذین امنو معہ مطلب یہ کہ اللہ پر واجب اور لازم نہیں کہ محض عمل کے عوض کسی کو جنت میں داخل کرے مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے اور مومنین کے اجر کو ضائع نہ کرے گا، کفار اور منافقین کو یہ کہنے کا موقع ہرگز نہ دے گا کہ ان لوگوں نے خدا پرستی کی بھی تو ان کو کیا صلہ ملا ؟ رسوائی باغیوں اور نافرمانوں کے حصہ میں آئے گی نہ کہ وفاداروں اور فرمانبرداروں کے حصے میں۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

خدا نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرأت نوح (الآیۃ) سورت کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے چار عورتوں کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، پہلی دو عورتیں دو پیغمبروں کی بیویاں ہیں جنہوں نے دین کے معاملہ میں اپنے شوہروں کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں جہنم میں گئیں، اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کی زوجیت بھی ان کو عذاب سے نہ بچا سکی، ان سے میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام واہلہ بیان کیا گیا ہے، دوسری لوط علیہ الصلوٰۃ السلام کی بیوی جس کا نام واعلہ بیان کیا گا ہے (قرطبی) ان کے ناموں میں اور بھی مختلف اقوال ہیں تیسری وہ عورت جو سب سے بڑے کافر خدائی کے مدعی فرعون کی بیوی آسیہ تھی مگر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی، اس کو اللہ نے یہ درجہ دیا کہ دنیا ہی میں اس کو جنت کا مقام دکھلا دیا، شوہر کی فرعونیت اس کی راہ میں کچھ حائل نہیں ہوسکی، چوتھی حضرت مریم ہیں جو کسی کی بیوی نہیں مگر ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ درجہ دیا کہ ان کو نبوت کے کمالات عطا کئے اگرچہ جمہور امت کے نزدیک وہ نبی نہیں۔ (معارف)
Ayahs 66:11–12

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرماں برداروں میں سے تھیں۔

وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرأت فرعون (الآیۃ) یہ مثال فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے اور جادو گر ایمان لے آئے تو آسیہ بنت مزاحم نے بھی اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کی، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کر کے ان کے سینے پر بھری پتھر رکھ دیا، مگر ان سب کچھ کے باوجود کفر کی صولت و شوکت ان کی استقامت فی الدین، شرائد و مصائب پر صبر و ثابت قدمی کو متزلزل نہ کرسکی۔ وصدقت بکلمات ربھا وکتبہ کلمات سے مراد آسمانی صحیفے ہیں اور کتب سے مراد مشہور آسمانی کتابیں ہیں۔ بحمدتم اللہ