Ayahs 67:1–11ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو معاف کرنے والا ہے اس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کئے بعض بعض کے اوپر اتصال کے بغیر، تو خدا کی اس صنعت میں یا اس کے علاوہ (کسی اور صنعت) میں کوئی خلل مثلاً تباین اور عدم تناسب نہیں دیکھے گا پھر نظر آسمان کی طرف لوٹا کہیں تجھے کوئی خلل یعنی شگاف اور خستگی نظر آتی ہے ؟ پھر نظر مکرر بار بار ڈال نقص کا ادراک نہ کرنے کی وجہ سے ذلیل و درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹے گی حال یہ کہ وہ نقص کے ادراک سے عاجز ہوگی بیشک ہم نے آسمان دنیا کو یعنی زمین سے قریبی آسمانوں کو چراغوں ستاروں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیاطین کو مارنے کا آلہ (ذریعہ) بنایا ہے جب کہ وہ چوری چھپے سننے کے لئے کان لگاتے ہیں اس طریقہ سے کہ ستارہ سے شعلہ جدا ہوتا ہے، جس طرح کہ چنگاری آگ سے جدا ہوتی ہے تو وہ جنی کو قتل کردیتا ہے، یا اس کو پاگل بنا دیتا ہے، نہ یہ کہ ستارہ اپنی جگہ سے ہٹ جاتا ہے اور ہم نے شیطانوں کے لئے دوزخ کا جلانے والا عذاب یعنی جلانے والی آگ تیار کر رکھا ہے اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہے اور جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس کی گدھے کی آواز کے مانند ناخوشگوار آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی قریب ہے کہ کافروں پر غصہ کے مارے پھٹ جائے اور اصل کے مطابق تتمیز بھی پڑھا گیا ہے بمعنی تنقطع جب کبھی اس میں ان میں کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائے گی تو جہنم کے نگراں بطور توبیخ ان سے سوال کریں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والا رسول کہ جس نے تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہو نہیں آیا تھا ؟ تو وہ جواب دیں گے بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلادیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم بہت بڑی گمراہی میں ہو احتمال یہ ہے کہ یہ نبیوں کو کفار کا جواب ہو، اور وہ فرشتوں سے (یہ بھی) کہیں گے اگر ہم سمجھنے کے لئے سنتے یا غور کرنے کے لئے سمجھتے تو ہم جہنمیوں میں سے نہ ہوتے غرض وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے جب کہ ان کا اعتراف جرم ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور وہ جرم رسولوں کی تکذیب ہے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے یعنی ان کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے، (سحقا) حاء کے سکون اور ضمہ کے ساتھ بیشک وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے غائبانہ ڈرتے ہیں (یعنی) جب کہ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوتے ہیں تو وہ چھپ کر اس کی اطاعت کرتے ہیں تو وہ ظاہر میں بطریق اولیٰ اطاعت کرنے والے ہوں گے، ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے یعنی جنت، اور اے لوگو ! تم خواہ چھپ کر بات کرو یا ظاہر کر کے بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں کا جاننے والا ہے تو پھر جو تم بولتے ہو اس کا کیا حال ہوگا ؟ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ مشرکین نے آپس میں کہا کہ تم خفیہ طور پر باتیں کیا کرو، ایسا نہ ہو کہ محمد (ﷺ) کا خدا سن لے، کیا وہ نہ جانے گا جس نے اس چیز کو پیدا کیا جس کو تم چھپاتے ہو یعنی کیا اس کا علم اس سے منتفی ہوجائے گا ؟ نہیں، وہ اپنے علم کے اعتبار سے باریک بین اور اس سے باخبر ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : خلق الموت فی الدنیا، والحیاۃ فی الاخرۃ، اوھما فی الدنیا، موت اور حیات کے بارے میں اختلاف ہے ابن عباس ؓ کلبی اور مقاتل سے منقول ہے کہ موت اور حیات دونوں جسم ہیں، اس صورت میں موت اور حیات دونوں، وجودی ہوں گے اور خلق اپنے اصلی معنی میں ہوگا، دونوں کے درمیان تقابل تضاد ہوگا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ موت عدم حیات کا نام ہے اس صورت میں حیات وجودی اور موت عدمی ہوگی، اس صورت میں تقابل عدم و الملکہ کا ہوگا، جیسا کہ عدم البصر میں، موت کی دوسری تفسیر کی صورت میں خلق بمعنی قدر ہوگا، اس لئے کہ تقدیر کا تعلق عدمی اور وجودی دونوں سے جائز ہے، بخلاف خلق کے کہ اس کا تعلق وجودی شئے سے تو درست ہے مگر عدمی سے درست نہیں ہے۔
حق بات :
حق بات یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک موت وجودی ہے مگر حیات کی ضد ہے جیسا کہ حرارت اور برودت، دونوں آپس میں متضاد ہونے کے باوجود وجودی ہیں پہلا قول اہل ست والجماعت اور دوسرا معتزلہ کا ہے۔
(حاشیہ جلالین ملخصًا)
بہتر ہوتا کہ مفسر علام (بیدہٖ ) کی تفسیر بقدرتہ سے کرتے اس لئے کہ ” ملک “ استیلاء تصرف کو کہتے ہیں، لہٰذا مطلب ہوگا فی تصرفہ التصرف جس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
قولہ : والحیاۃ فی الآخرۃ یعنی موت دنیا میں پیدا کی اور حیات آخرت میں، مگر اس قول کی مساعدت اللہ تالیٰ کا قول لیبلوکم نہیں کرتا، اس لئے کہ امتحان اور آزمائش کا تعلق دنیوی حیات سے ہے نہ کہ اخروی حیات سے، معلوم ہوا موت وحیات کا تعلق دنیا سے ہے۔ (صاوی)
قولہ : القربی یہ قریب کا اسم تفضیل ہے یعنی وہ آسمان جو زمین سے قریب تر ہے، دنیا کو دنیا اسی وجہ سے کہتے ہیں یہ آخرت کی بنسبت قریب ہے۔
قولہ : ینقلب جمہور کے نزدیک باء کے سکون کے ساتھ ہے جو اب امر ہونے کی وجہ سے اور بعض حضرات نے باء کے رفع کے ساتھ بھی پڑھا ہے یا تو جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے یہ حال مقدرہ ہونے کی وجہ سے اور فاء کو حذف کردیا گیا ہے اصل میں فینقلب تھا۔
قولہ : رجوما، رجوم، رجم کی جمع ہے رجم مصدر ہے اس کا اطلاق مرجوم بہ پر کیا گیا ہے اسی لئے مفسر علام نے رجوم کی تفسیر مراجم سے کی ہے ای یرجم بہ۔
قولہ : بان ینفصل شھاب الخ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نجوم کے ذریعہ آسمان دنیا کو زینت بخشی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ نجوم اپنی جگہ پر قائم رہیں اور وجعلنھا رجوما للشیطین کا مقتضی ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں دونوں باتوں میں تضاد و تعارض ہے ؟
جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ پورا نجم شیاطین کو مارنے کے لئے اپنی جگہ نہیں چھوڑتا بلکہ اس کا ٹکڑا شیاطین کو مارتا ہے، جیسا کہ آگ میں سے ایک چنگاری۔
قولہ : یخبلہ یہ خبل بہ سکون باء سے مشتق ہے جس کے معنی فساد فی العقل کے ہیں۔
قولہ : وللذین کفروا الخ، وللذین کفروا خبر مقدم ہے اور عذاب جھنم مبتداء مؤخر ہے۔
قولہ : وھو اللطیف الخبیر جملہ حالیہ ہے۔
قولہ : فیہ لا اس میں اشارہ ہے کہ استفہام انکاری ہے، لہٰذا نفی النفی ہو کر اثبات ہوگیا، مقصد اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کا اثبات ہے۔
تفسیر و تشریح
سورة ملک کے فضائل :
اس سورت کی فضیلت میں متعدد روایات آئی ہیں، جن میں چند روایات صحیح یا حسن ہیں، ایک میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ کی کتاب میں ایک سورت ہے جس میں صرف 30 آیات ہیں یہ آدمی کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے گا “۔
(ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ، مسند احمد)
دوسری روایت میں ہے ” قرآن مجید میں ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے لڑے گی حتیٰ کہ اسے جنت میں داخل کروائے گی “۔ (مجمع الزوائد)
ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سونے سے پہلے سورة الم السجدہ اور سورة ملک ضرور پڑھتے تھے۔
سورة ملک کے دیگر نام :
اس سورت میں واقیہ اور منجیہ بھی فرمایا گیا ہے، ” واقیہ “ کے معنی ہیں بچانے والی اور ” منجیہ “ کے معنی ہیں نجات دینے والی۔
تبارک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شیء قدیر، تبارک، برکۃ سے مشتق ہے جس کے معنی بڑھنے اور زیادتی کے ہیں، جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ” سب سے بالاو برتر “ ہونے کے ہوتے ہیں، بیدہ الملک ملک اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہاتھ سے مراد یہ معروف ہاتھ نہیں ہے بلکہ ہاتھ سے مراد قدرت اور اختیار ہے یعنی ہر شئے اس کے شاہانہ اختیار میں ہے ید وغیرہ جسے الفاظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لئے متشابہات میں سے ہیں، جس کے حق ہونے پر ایمان لانا واجب ہے مگر اس کی کیفیت و حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جسم وجوارح سے بالاتر اور پاک ہے، تفسیر مظہری میں ہے کہ موت اگرچہ عدمی چیز ہے مگر عدم محض نہیں، بلکہ ایسی چیز کا عدم ہے جس کو وجود میں کسی وقت آنا ہے، اور ایسی تمام معدومات کی شکلیں عالم مثال میں ناسوتی وجود سے قبل موجود ہوتی ہیں جن کو اعیان ثابتہ کہا جاتا ہے ان اشکال کی وجہ سے ان کو قبل الوجود بھی ایک قسم کا وجود حاصل ہے اور عالم مثال کے موجود ہونے پر بہت سی روایات حدیث سے استدلال فرمایا ہے۔
موت وحیات کے درجات مختلفہ :
اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت اور حکمت بالغہ سے مخلوقات و ممکنات کی مختلف اقسام میں تقسیم فرما کر ہر ایک کو حیات کی ایک قسم عطا فرمائی ہے سب سے زیادہ کامل اور مکمل حیات انسان کو عطا فرمائی ہے، جس میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی کہ وہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ایک خاص حد تک حاصل کرسکے، اور یہ معرفت ہی احکام شرعیہ کی تکلیف کا مدار ہے اور وہ بار امانت ہے کہ جس کے اٹھانے سے آسمان اور زمین اور پہاڑ ڈر گئے تھے، اور انسان نے اسے اپنی اس خداداد صلاحیت کے سبب اٹھا لیا اس حیات کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت افمن کان میتا فاحییناہ میں ذکر فرمایا ہے کہ کافر کو مردہ اور مومن کو زندہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ کافر نے اپنی اس معرفت کو ضائع کردیا جو انسان کی مخصوص حیات تھی اور مخلوقات کی بعض اصناف و اقسام حیات کا یہ درجہ تو نہیں رکھتیں مگر ان میں حس و حرکت موجود ہے اس کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت کنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم میں آیا ہے کہ اس جگہ حیات سے مراد حس و حرکت اور موت سے مراد اس کا ختم ہوجانا ہے اور ممکنات کی بعض اقسام میں یہ حس و حرکت بھی نہیں صرف نمو (بڑھنے کی صلاحیت) ہے جیسا کہ درخت اور عام نباتات میں اس کے بالمقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کی آیت یحی الارض بعد موتھا میں آیا ہے، حیات کی یہ تین قسمیں انسان، حیوان، نبات، میں منحصر ہیں، ان کے علاوہ اور کسی میں یہ اقسام حیات نہیں ہیں اس لئے حق تعالیٰ نے پتھروں سے بنے بتوں کے لئے فرمایا ” اموات غیر احیاء “ لیکن اس کے باوجود بھی جمادات میں ایک قسم کی حیات موجود ہے جو وجود کے ساتھ لازم ہے، اسی حیات کا اثر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں وان من شئی الا یسبح بحمدہ یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کی تسبیح نہ پڑھتی ہو، اور آیت میں موت کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بھی اس بیان سے واضح ہوگئی کہ اصل کے اعتبار سے موت ہی مقدم ہے ہر چیز وجود میں آنے سے پہلے موت کے عالم میں تھی، بعد میں اس کو حیات عطا ہوئی ہے۔
Ayahs 67:12–14ان الذین یخشون ربھم بالغیب لھم مغفرۃ واجر کبیر یہ اہل کفر کی تکذیب کے مقابل میں اہل ایمان کا اور ان کی نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے یہاں ملیں گی، بالغیب کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں (مظہری ملخصًا)
Ayah 67:15ترجمہ : وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر نرم، اس پر چلنے کے قابل کر رکھا ہے تاکہ تم اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور خدا کی روزی میں سے جس کو اس نے تمہارے لئے پیدا کیا، کھائو، اور قبروں میں سے جزاء کے لئے اسی کی طرف اٹھ کھڑا ہونا ہے، کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ؟ (اامنتم) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ، اور مسہلہ اور غیر مسہلہ کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے، اور اس کو الف سے بدل کر، کہ آسمان والا یعنی آسمان میں جس کی سلطنت اور قدرت ہے تم کو زمین میں دھنسا دے (ان یخسف) من سے بدل ہے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یعنی تم کو لے کر تھرتھرانے لگے اور تمہارے اوپر پلٹ جائے، کیا تم آسمان والے سے بےخوف ہوگئے ؟ اس بات سے کہ وہ ایسی آندھی بھیج دے کہ جو تمہارے اوپر سنگ ریزے برسائے، عنقریب معائنہ عذاب کے وقت، تم کو معلوم ہوجائے گا کہ عذاب سے میرا ڈرانا کیسا رہا ! ! اس سے پہلے جو امتیں گزر چکی ہیں انہوں نے بھی (دین حق کو) جھٹلایا (سو دیکھ لو ! ) موت کے وقت میرا عذاب ان کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسا رہا ! ! یعنی وہ عذاب مقتضٰی کے مطابق رہا، کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر ہوا میں پر پھیلائے اور پروں کو سمیٹے ہوئے پر پھیلانے کے بعد پرندوں پر نظر نہیں کی حالت بسط وقبض میں رحمن ہی (ان کو) اپنی قدرت سے تھامے رہتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے (آیت کا) مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ پرندوں کے ہوا میں ٹھہرے رہنے سے ہماری قدرت پر استدلال نہیں کرتے، کہ ہم ان کے ساتھ ماقبل میں مذکور وغیرہ عذاب کا معاملہ کرسکتے ہیں خدا کے سوا تمہارا وہ کونسا لشکر ہے جو تمہاری مدد کرسکے ؟ یعنی تم سے اس کے عذاب کو دفع کرسکے (امن) مبتداء ہے (ھذا) اس کی خبر ہے (الذی) ھذا سے بدل ہے (جند) بمعنی اعوان ہے (لکم) الذی کا صلہ ہے اور ینصر کم جند کی صفت ہے، یعنی اس کے سوا تمہارے عذاب کو دفع کرسکے، مطلب یہ ہے کہ تمہارا کوئی مددگار نہیں، یہ کافر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، شیطان نے یہ کہہ کر ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے کہ ان پر عذاب ہونے والا نہیں ہے، وہ کون ہے ؟ جو تم کو روزی پہنچا سکے گا اگر رحمن اپنی روزی یعنی بارش کو تم سے روک لے اور جواب شرط محذوف ہے، جس پر اس کا ماقبل دلالت کر رہا ہے، (اور وہ) فمن یرزقکم ہے، یعنی اس کے علاوہ تمہارا کوئی رازق نہیں، بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت میں حق سے دوری پر اڑے ہوئے ہیں (اچھا بتائو ! ) وہ شخص جو اوندھا، منہ کے بل چلے منزل مقصود پر پہلے پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا کھڑے ہو کر ہموار سڑک پر چلے ثانی من کی خبر محذوف ہے جس پر پہلے من کی خبر یعنی اھدی دلالت کر رہی ہے اور (مذکورہ) مثال مومن اور کافر کیے، یعنی ان میں سے کونسا ہدایت پر ہے ؟ آپ ان سے کہئے وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور بدل بنائے، تم میں بہت کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہیں (ما) زائدہ ہے اور جملہ مستانفہ ہے، ان نعمتوں پر ان کی بہت کم شکر کی خبر دے رہا ہے آپ (یہ بھی) کہئے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا (پیدا کیا) اور حساب کے لئے، اسی کے پاس جمع کئے جائو گے، اور یہ لوگ مومنین سے کہتے ہیں یہ حشر کا وعدہ کب (پورا ہوگا ؟ ) اگر تم اس وعدہ میں سچے ہو (تو بتلائو ! ) آپ کہئے کہ اس کی آمد کے وقت کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں، جب یہ لوگ حشر کے بعد عذاب کو قریب تر دیکھیں گے تو ان کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے یعنی سیاہ ہوجائیں گے اور کہا جائے گا یعنی دوزخ کے نگران ان سے کہیں گے یہی ہے وہ عذاب کہ جس سے ڈرانے کے سبب تم دعویٰ کرتے تھے کہ تم کو مرنے کے بعد نہیں اٹھایا جائے گا، یہ آنے والی حالت کا بیان ہے جس کو متحقق الوقوع ہونے کی وجہ سے ماضی سے تعبیر کردیا گیا ہے، آپ ان سے کہئے کہ اچھا تم بتائو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو جو مومن ہیں اپنے عذاب سے ہلاک کر دے جیسا کہ تم چاہتے ہو یا ہمارے اوپر رحم فرمائے کہ ہم کو عذاب نہ دے، تو کافروں کو عذاب الیم سے کوئی بچائے گا ؟ یعنی ان کو عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں، آپ فرما دیجئے کہ وہی رحمان ہے ہم تو اسی پر ایمان لا چکے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے، عذاب دیکھنے کے وقت تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا، فستعلمون تاء اور یاء کے ساتھ کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ؟ ہم یا تم یا وہ ؟ آپ ان سے کہئے کہ اچھا یہ بتائو اگر تمہارا پانی گہرائی میں اتر جائے یعنی زمین میں نیچے چلا جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے چشمہ کا پانی لائے ؟ جس کو تم ہاتھوں اور ڈولوں سے حاصل کرسکوجیسا کہ تمہارا (موجودہ) پانی، یعنی اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں لاسکتا پھر تم تمہارے زندہ ہو اٹھنے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور مستحب ہے کہ تلاوت کرنے والا (معین) کے بعد کہے اللہ رب العالمین جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، بعض جبارین کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی گئی تو اس نے کہا پھاوڑے اور کدال لے آئیں گے، چناچہ اس کی آنکھ کا پانی خشک ہوگیا اور اندھا ہوگیا، ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اللہ اور اس کی آیتوں پر بےباکی کرنے سے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مناکبھا جمع منتہی الجموع ہے، واحد منکب بمعنی جانب، طرف، اسی نسبت سے آدمی کے مونڈھوں کو منکب کہا جاتا ہے۔
قولہ : بتحقیق الھمزتین الخ اس میں کل پانچ قراءتیں ہیں، پہلا ہمزہ محقق ہی ہوتا ہے، دوسرا کبھی محقق اور کبھی مسہل، دونوں صورتوں میں دونوں کے درمیان الف داخل کر کے اور ترک ادخال کر کے، یہ چار صورتیں ہوگئیں، اور ایک صورت دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر کل پانچ صورتیں ہوگئیں۔
قولہ : ان یخسف یہ من سے بدل الاشتمال ہے۔
قولہ : حاصب باد سخت کہ سنگ ریزہ بردارد (صراح) حاصبا، بادسنگبار، سخت آندھی، حصباء کنکریوں کو کہتے ہیں۔
قولہ : انذاری اس میں اشارہ ہے کہ نذیر بمعنی انداز ہے اور یاء محذوف ہے۔
قولہ : اولم یروا وائو عاطفہ ہے اور ہمزہ محذوف پر داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے اغفلو ولم یروا۔
قولہ : صفت و یقبضن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔
سوال : یقبضن کا عطف صافات پر ہے، کیا وجہ ہے کہ معطوف علیہ اسم ہے اور معطوف فعل ؟
جواب : پرندوں میں اصل یہ ہے کہ ان کے پر کھلے ہوئے اور پھیلے ہوئے ہوں اس لئے کہ طائر کو طائر یا پرندہ کو پرندہ اسی لئے کہتے ہیں کہ اس میں صفت طیر اور صفت پرواز اصل ہے اور قبض یعنی پروں کو سکیڑنا یہ طاری (خلاف اصل) ہے لہٰذا اصلی صفت کو اسم سے تعبیر کیا اس لئے کہ اسم استمرار اور دوام پر دلالت کرتا ہے، اور قبض (یعنی سکیڑنے) کو فعل سے تعبیر کیا کیونکہ وہ طاری اور حادث ہے اور فعل حدوث پر دلالت کرتا ہے۔
قولہ : قابضات اس میں اشارہ ہے کہ یقبضن، قابضات کی تاویل میں ہے تاکہ عطف درست ہوجائے، دونوں جگہ اجنحتھن ظاہر کر کے اشارہ کردیا کہ دونوں کے دونوں مفعول محذوف ہیں، دوسرے من مبتداء کی خبر پہلے من مبتداء کی خبر پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردی گئی ہے ای اھدی اور اھدی اسم تفضیل اسم فاعل کے معنی میں ہے، مفسر علام نے اپنے قول ایتھما علی ھدی سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : مامزیدۃ، قلیلاما میں ما تاکید قلت کے لئے زائدہ ہے اور قلیلا موصوف محذوف کی صفت ہے ای شکرا قلیلا۔
قولہ : ان کنتم صادقین یہ شرط ہے اس کی جزاء محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کنتم صادقین فبینوا وقتۃ۔
قولہ : بمجیئہ ای بوقت مجیئہ مضاف محذوف ہے۔
قولہ : زلفۃ یہ ازلاف کا اسم مصدر ہے، بمعنی قریب۔
قولہ : انکم لا تبعثون اس میں اشارہ ہے کہ تدعون کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : وھذہ حکایۃ حال تاتی یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : فرشتے روز قیامت کافروں سے کہیں گے کہ یہ وہی عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا اور تم اس کی تردید و تکذیب کرتے تھے، یہ سوال و جواب سب زمانہ مستقبل (قیامت) میں ہوں گے اس کا تقاضا تھا کہ قیل کے بجائے یقولون سے تعبیر کرتے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ وقوع یقینی کی وجہ سے حکایت حال آتیہ کو ماضی سے تعبیر کردیا ہے، مذکورہ عبارت سے اسی سوال کا جواب دیا ہے۔
قولہ : ارایتم، ارایتم بمعنی اخبرونی ہے جو دو مفعولوں کو نصب دیتا ہے، ان اھلکنی اللہ الخ جملہ شرطیہ قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔
قولہ : لا مجیرلھم اس میں اشارہ ہے کہ فمن یجیر کم میں استفہام انکاری ہے۔
قولہ : ام انتم کا تعلق فستعلمون میں تاء کی قرأت کی صورت میں ہے اور ام ھم کا تعلق فسیعلمون یاء کی قرأت کی صورت میں ہے۔
قولہ : معین یہ اصل میں معیون بروزن مفعول ہے جیسا کہ مبیع اصل میں مبیوع تھا یاء کا ضمہ ماقبل عین کو دیدیا اور وائو میں التقاء ساکنین ہوا وائو حذف ہوگیا عین کو ی کی مناسبت سے کسرہ دیدیا گیا۔
قولہ : وعمی یہ ذھب ماء عینہ کا عطف تفسیری ہے۔
تفسیر و تشریح
ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا (الآیۃ) ذلول کے معنی مطیع و منقاد کے ہیں، اس جانور کو ذلول کہا جاتا ہے جو سواری دینے میں سرتابی اور شوخی نہ کرے، زمین کو مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا قوام اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا کہ نہ تو پانی کی طرح سیال و رقیق اور نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ اگر زمین ایسی ہوتی تو اس پر چلنا اور ٹھہرنا مشکل ہوجاتا، اسی طرح زمین کو لوہے اور پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا اگر ایسا ہوتا تو اس میں نہ کھیتی کی کاشت کی جاتی اور نہ درخت لگائے جاتے اور نہ اس میں کنویں اور نہریں کھودی جاسکتیں۔
زمین کا اپنی بےحدو حساب مختلف النوع آبادی کے لئے جائے قرار ہونا بھی کوئی معمولی یا سرسری بات نہیں ہے، اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، ان کی تفصیلات پر انسان غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی تھیں۔
یہ کرہ ارض فضائے بسیط میں معلق ہے کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے باوجود یکہ زمین مغرب سے مشرق کی جانب 51035 /6 میل برابر تقریباً 155 کلو میٹر فی گھنٹہ محوری حرکت کرتی ہے (فلکیات جدیدہ) اس میں کوئی اضطراب و اہتزاز نہیں ہے اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز (جھٹکا) ہوتا جس کے خطرناک نتائج کا ہم کبھی زلزلہ آنے سے بآسانی لگا سکتے ہیں تو کرہ ارض پر کوئی آبادی ممکن نا ہوتی یہ کرہ ارضی باقاعدگی سے سورج کے سامنے آتا اور جاتا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں، اگر اس کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ ہمیشہ پوشیدہ رہتا تو یہاں کسی ذی حیات کا وجود ممکن نہ ہوتا، کیونکہ پوشیدہ رخ کی سردی اور بےنوری، نباتات اور حیوانات کو پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رخ کی گرمی کی شدت روئے زمین کو بےآب وگیاہ اور غیر آباد بنا دیتی، اس کرہ ارضی پر پانچ سو میل تقریباً 750 کیلو میٹر بلندی تک ہوا کا ایک کثیف غلاف چڑھا ہوا ہے جو شہابوں کی خوفناک بمباری سے اسے بچائے ہوئے ہے ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب جو ہوا میں فی سیکنڈ 30 میل برابر کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں کرہ ارض پر وہ تباہی مچاتے کہ کسی بھی ذی حیات اور نباتات کی بقا ممکن نہ ہوتی۔
وکلوا من رزقہ والیہ النشور پہلے زمین میں چلنے پھرنے کی ہدایت فرمائی تھی، اس میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ تجارت کے لئے سفر اور مال کی درآمد برآمد اللہ کے رزق کا دروازہ ہے الیہ النشور میں بتلا دیا کہ کھانے پینے رہنے سہنے کے فوائد زمین سے حاصل کرنے کی اجازت ہے مگر موت اور آخرت سے بےفکر ہو کر نہیں، انجام کار اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، زمین پر رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگے رہو۔
Ayahs 67:16–30امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔
جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔
اگلی آیت میں عبرت و نصیحت کے لئے ان قوموں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے زمانہ میں اللہ کے نبیوں کو جھٹلا کر مبتلائے عذاب ہوچکی تھیں، اس کے بعد چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے نمونوں کو بیان فرمایا ہے جو اسی کی اور صرف اسی کی قدرت و حکمت سے ممکن ہے، وہی ہر چیز کا نگہبان اور ہر شئی اسی کی زیر قدرت ہے اگر وہ تمہاری روزی اور اس کے اسباب کو روک لے تو تمہارے پاس کونسا لشکر ہے جو رحمان کے مقابلہ میں مدد کر کے تمہارے رزق کو جاری کرا سکے، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں، اور جانوروں کی طرح منہ نیچا کئے ہوئے اسی جگہ پر چلے جا رہے ہیں جس پر انہیں کسی نے ڈال دیا ہے۔
قل ارایتم ان اصبح ماء کم غورا (الآیۃ) یعنی آپ ﷺ ان لوگوں کو بتلا دیجئے کہ اس بات پر غور کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ پانی کو خشک فرما دیں کہ اس کا وجود ہی ختم ہوجائے یا اتنی گہرائی میں کردیں کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہوجائیں تو بتلائو ! پھر کون ہے جو تمہیں پانی مہیا کر دے ؟ یہ اللہ کی مہربانی ہی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرمایا۔
بحمدتم اللہ