68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ن، یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ ہی اس سے اپنی مراد کو بہتر جانتا ہے اور قسم ہے اس قلم کی جس کے ذریعہ کائنات لوح محفوظ میں لکھی گئی، اور اس خیر و صلاح کی جس کو فرشتے لکھتے ہیں اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں یعنی تیرے رب کے تیرے اوپر نبوت وغیرہ کے فضل کے سبب سے تجھ سے جنون منتقی ہے یہ ان (مشرکوں) کے ان قول کا رد ہے کہ آپ مجنون ہیں اور بیشک تیرے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے اور آپ ﷺ بڑے (عمدہ خلق) دین پر ہیں اب آپ ﷺ بھی دیکھ لیں گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کس کو جنون ہے ؟ مفتون مصدر ہے جیسا کہ معقول یعنی فتون بمعنی جنون یعنی (جنون) آپ ﷺ کو ہے یا ان کو ؟ بلاشبہ تیرا رب ان کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ ان کو بھی بخوبی جانتا ہے جو راہ ہدایت پر ہیں اور اعلم بمعنی عالم ہے، تو آپ ﷺ ان تکذیب کرنے والوں کا کہنانہ مانتے، وہ چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو وہ بھی ڈھیلے ہوجائیں لو مصدر یہ ہے فیذھنون کا عطف تدھن پر ہے، اور اگر فیدھنون کو جواب تمنی قرار دیا جائے جو کہ ودوا سے مفہوم ہے تو یذھنون سے پہلے اور فاء کے بعد ھم مقدر مانا جائے گا، اور کسی ایسے شخص کا بھی کہنا نہ ماننا کہ جو جھوٹی بہت قسم کھانے والا بےوقار عیب گو یعنی غیبت کرنے والا چغل خور ہو یعنی لوگوں کے درمیان فساد برپا کرنے کی نیت سے ادھر کی ادھر لگانے کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہو، نیک کام سے روکنے والا ہو، یعنی حقوق کے معاملہ میں مال خرچ کرنے میں بخیل ہو، حد اعتدال سے گزرنے والا ظالم ہو، گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہو، تند خو سخت مزاج ہو پھر اس کے ساتھ بےنسب بھی ہو (یعنی) قریش کے نسب میں داخل کیا گیا ہو، اور وہ ولید بن مغیرہ ہے اس کے والد نے اس کو اٹھارہ سال بعد متنبی بنایا تھا، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہمارے علم میں نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے علاوہ کسی کے ایسے اوصاف بیان کئے ہوں، اور اس کے ساتھ ایسے شرم (کے اوصاف) لاحق کردیئے ہوں کہ جو اس سے کبھی جدا نہ ہوں، زنیم سے اس کے ماقبل کا ظرف (یعنی ذالک) متعلق ہے (اور یہ سرکشی محض اس لئے ہے) کہ وہ مال اور اولاد والا ہے ان معنی میں لان کے ہے، اور لان اس سے متعلق ہے جس پر اذا تتلی علیہ دلالت کرتا ہے، اور وہ کذب بھا الخ ہے، جب اس کو ہماری آیتیں یعنی قرآن پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ تو گزشتہ لوگوں کے قصے ہیں یعنی اس نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا، ہمارے اس کے اوپر مذکورہ انعام (مال و اولاد) کی وجہ سے، اور ایک قرأت میں ان کان کے بجائے ا ان کان دو مفتوحہ ہمزوں کے ساتھ ہے ہم اس کی ناک پر عنقریب داغ لگا دیں گے یعنی عنقریب ہم اس کی ناک پر ایسی علامت لگا دیں گے کہ زندگی بھر اس کے ذریعہ اس کو عاردلائی جائے گی، چناچہ یوم بدر میں اس کی ناک پر تلوار کا زخم لگا دیا گیا، بیشک ہم نے ان اہل مکہ کو قحط اور بھوک کے ساتھ ایسے ہی آزمایا جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جب کہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ باغ کے پھلوں کو صبح تڑکے ضرور توڑ لیں گے، تاکہ مساکین کو ان کے پھل توڑنے کا علم نہ ہو سکے اور وہ مساکین کو پھلوں میں سے وہ حصہ نہ دیں گے جو حصہ ان کے والد ان پر صدقہ کیا کرتے تھے، مگر انہوں نے اپنی قسم میں استثناء نہیں کیا (یعنی) انشاء اللہ نہیں کہا، اور جملہ مستانفہ ہے ای شانھم لا یستثنون ذلک، پس اس باغ پر تیرے رب کی جانب سے ایک گھومنے والی (بلا) گھوم گئی، یعنی ایسی آگ کہ اس نے باغ کو راتوں رات جلا دیا، اور وہ پڑتے سوتے ہی رہے اور وہ باغ نہایت تاریک رات کے مانند ہوگیا یعنی خاک سیاہ ہوگیا، اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں کہ اگر تم کو پھل توڑنے ہیں تو صبح تڑکے اپنی کھیتی پر چلو، ان اغدوا، تنادوا کی تفسیر ہے (یعنی ان بمعنی ای ہے) یا ان مصدر یہ ہے ای بان اور جواب شرط (محذوف ہے) جس پر اس کا ماقبل یعنی ان اغدوا دلالت کر رہا ہے، پھر وہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس آنے نہ پائے یہ ما قبل کی تفسیر ہے (اور ان بمعنی ای ہے) یا ان مصدر یہ ہے اور معنی میں بان کے ہے اور وہ بزعم خویش فقراء کو نہ دینے پر خود کو قادر سمجھ کر چلے، جب انہوں نے اس باغ کو جلا ہوا سیاہ دیکھا تو کہنے لگے ہم یقینا باغ کا راستہ بھول گئے ہیں یعنی یہ ہمارا باغ نہیں ہے پھر جب ان کو معلوم ہوا تو کہنے لگے ہم تو فقراء کو پھلوں سے روکنے کی وجہ سے، پھلوں سے محروم ہوگئے، ان میں سے جو بہتر تھا اس نے کہا کہ کیا میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی طرف رجوع ہو کر اس کی پاکی بیان کیوں نہیں کرتے ؟ تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے فقراء سے ان کا حق روک کر ہم ہی ظالم تھے پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ملامت کرنے لگے، کہنے لگے : ہائے افسوس ! ہماری بدقسمتی یہ یقینا سرکش تھے کیا عجب کہ ہمارا رب اس سے بہتر بدلہ دے (یبدلنا) تشدیدو تخفیف کے ساتھ ہے، ہم تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں تاکہ وہ ہماری توبہ قبول فرمائے، اور ہمیں ہمارے بہتر باغ سے عطا فرما دے، روایت کیا گیا ہے کہ ان کو اس سے بہتر باغ بدلے میں عطا کردیا گیا، اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے یعنی ان لوگوں کے عذاب کے مانند اہل مکہ میں سے جنہوں نے ہمارے حکم کی خلاف ورزی کی، اور آخرت کا عذاب اس سیب ڑھ کر ہے اگر یہ آخرت کے عذاب کو جان لیتے تو ہمارے حکم کی خلاف ورزی نہ کرتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : سورة ن اس کا دوسرا نام سورة القلم بھی ہے۔ قولہ : احد حروف الھجاء اس عبارت کا مقصد ان لوگوں پر رد کرنا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ (ن) رحمن کا آخری حرف ہے یا نصر، ناصر، نور، کا پہلا حرف ہے۔ قولہ : وما یسطرون، ما مصدر یہ ہے یا موصولہ ما یسطرون ای بمسطورھم یعنی قسم ہے اس کی جو فرشتے لکھتے ہیں۔ قولہ : ما انت بنعمۃ ربک بمجنون یہ جواب قسم ہے اور بنعمۃ میں باء سبیہ ہے یعنی اپنے رب کے فضل کے سبب سے آپ ﷺ مجنون نہیں ہیں بنعمۃ جار مجرور سے مل کر اس فعل نفی کے متعلق ہے جس پر ما دلالت کرتا ہے ای انتفی بنعمۃ ربک عنک الجنون، بمجنون میں باء زائدہ ہے۔ (جمل) قولہ : بسبب انعامہ اس سے جس طرح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باء سببیہ ہے اسی طرح اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ انت، ما کا اسم اور بمجنون اس کی خبر ہے۔ قولہ : وان لک لاجرا الخ یہ اور اس کا مابعد جواب قسم پر معطوف ہے، گویا کہ مقسم علیہ دو ہیں ایک ما انت بنعمۃ ربک بمجنون اور دوسرا وان لک لاجرا غیر ممنون۔ قولہ : بابکم خبر مقدم ہے اور المنفتون مبتداء موخر ہے۔ قولہ : ھو معطوف علی تدھن یعنی فیدھنون کا عطف تدھن پر ہے اور جس طرح معطوف لو کے ماتحت ہونے کی وجہ سے متمنی ہے فیدھنون بھی متمنی ہوگا، اس طرح دو چیزیں متمنی ہوں گی مگر اس صورت میں یہ اعتراض ہوگا کہ فیدھنون جواب تمنی ہے لہٰذا منصوب ہونے کی وجہ سے اس کا نون اعرابی ساقط ہونا چاہیے، حالانکہ فیدھنون میں نون اعرابی باقی ہے ؟ جواب : یہ ہے کہ نون کے ساقط ہونے کے لئے فا کا سببیہ ہونا ضروری ہے اور یہاں فاعاطفہ ہے نہ کہ سببیہ۔ دوسرا جواب : مفسر علام نے قدر قبلہ بعد الفاء سے دیا ہے، اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ فیدھنون کی فاء کے بعد ھم مبتداء مقدر مان لیا جائے اور یذھنون مبتداء کی خبر ہوگی، مبتداء خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر جواب تمنی ہوگا، لہٰذا اس صورت میں حذف نون کی ضرورت نہیں ہوگی (ترویح الارواح، فتح القدیر، شوکانی) اور بعض قرأتوں میں فیدھنوا بھی ہے اس صورت میں فیدھنوا جواب تمنی ہوگا اور فاء سببیہ ہوگی جس کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ (فتح القدیر) قولہ : ای مغتاب، ای حرف تفسیر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغتاب، عیاب کی تفسیر ہے حالانکہ مغتاب، عیاب کی تفسیر نہیں لہٰذا مفسر علام کے لئے مناسب تھا کہ ای کے بجائے او کہتے تاکہ ھماز کی دوسری تفسیر ہوجاتی۔ (صاوی) قولہ : بنعمیم یہ مشاء کے متعلق ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ادھر کی ادھر لگانے کے لئے بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔ قولہ : غلیظ، تند خو، جاف خشک مزاج۔ قولہ : بعد ذلک یعنی مذکورہ تمام عیوب میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ وہ غیر ثابت النسب ہے۔ قولہ : زنیم، الزنمۃ سے ماخوذ ہے وہ چھلا جو بھیڑ بکری وغیرہ کے کان میں ڈال دیا جاتا ہے، مجاز اً اس شخص کو کہا جانے لگا جس کو نسب میں شامل کرلیا گیا ہو، حقیقت میں وہ نسب میں داخل نہ ہو، عربی میں اس کو مستحلق کہتے ہیں، ولید بن مغیرہ ایسا ہی تھا۔ قولہ : لان وھو متعلق بما دل علیہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کان ذا مال و بنین میں ان سے پہلے لام جارہ مقدر ہے اور وہ اذا تتلی علیہ آیاتنا کے مدلول سے متعلق ہے اور مدلول کذب بھا ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے۔ قولہ : و فی قراءۃ ا ان دو ہمزوں کے ساتھ پہلا ہمزہ استفہام توبیخی ہے اور دوسرا ان مصدریہ کا ہے اس سے پہلے لام مقدر ہے اور معنی اکذب بھا لان ذا مال و بنین۔ قولہ : الخرطوم درندوں کی تھوتھڑی کو کہتے ہیں خاص طور پر ہاتھی اور خنزیر کی سونڈ اور تھوتھڑی کو، ولید بن مغیرہ کی ناک کو اسہزاء خرطوم کہا گیا ہے۔ قولہ : و جواب الشرط دل علیہ ما قبلہ یعنی ان کنتم شرط کا جواب شرط محذوف ہے، جس پر ما قبل یعنی ان اغدوا دلالت کر رہا ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کنتم صارمین اغدوا۔ تفسیر و تشریح ن والقلم و ما یسطرون نون اسی طرح حروف مقطعات میں سے ہے جیسے اس سے قبل صٓ، قٓ وغیرہ گزر چکے ہیں، اس میں قلم کی قسم کھا کر یہ بات کہی گئی ہے کہ آپ ﷺ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں، اور آپ ﷺ کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے، قلم کی اس لحاظ سے ایک اہمیت ہے کہ اس سے تبیین اور توضیح ہوتی ہے، بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ قلم سے خاص قلم مراد ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا، اور اسے تقدیر لکھنے کا حکم دیا، چناچہ اس نے قیامت تک ہونے والی ساری چیزیں لکھ دیں۔ (سنن ترمذی) مایسطرون میں ما مصدریہ ہے مطلب یہ کہ قلم کی قسم اور جو کچھ فرشتے لکھتے ہیں ان کے لکھنے کی قسم، مقسم بہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اس کے مناسب کسی چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اور وہ قسم مضمون پر ایک شہادت ہوتی ہے، یہاں مایسطرون سے دنیا کی تاریخ میں جو کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے اس کو بطور شہادت پیش کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی تاریخ کو دیکھو، ایسے اعلیٰ اخلاق و اعمال والے کہیں مجنون ہوتے ہیں ؟ وہ تو دوسروں کی عقل درست کرنے والے ہوتے ہیں نہ کہ خود مجنون۔
Ayahs 68:2–3

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تمہارے لئے بےانتہا اجر ہے۔

ما انت بنعمۃ ربک بمجنون یہ جواب قسم ہے جس میں کفار کے قول کو رد کیا گیا ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کو مجنون اور دیوانہ کہتے تھے، آپ ﷺ نے فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی طعن وتشنیع سنیں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے، من کے معنی ختم ہونے اور قطع کرنے کے ہیں۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں

وانک لعلی خلق عظیم، خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ تو اس خلق پر ہیں کہ جس کا حکم اللہ نے قرآن میں دیا ہے، یا اس سے مراد تہذیب و شائستگی نرمی و شفقت، امانت و صداقت، حلم و کرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں، جن میں آپ ﷺ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید اور وسعت آئی، اسی لئے جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آپ ﷺ کے خلق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کان خلقہ القرآن (صحیح مسلم) بلند اخلاقی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ کفار آپ ﷺ پر دیوانگی اور جنون کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں، دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو، اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت ہے، رسول اللہ ﷺ کے اخلاق سے اہل مکہ ناواقف نہیں تھے، اس لئے ان کی طرف محض اشارہ کردینا ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ وہ لوگ کس قدر بےشرم ہیں جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں، ان کی یہ بےہودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دماغی توازن آپ ﷺ کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا خراب ہے جو مخالفت کے جوش میں پاگل ہو کر پاگلوں والی باتیں کرتے ہیں، یہی معاملہ ان مدعیان علم و تحقق کا بھی ہے جو اس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ پر مرگی اور جنون کی تہمت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاق کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ قول ” کان خلقہٗ القرآن “ قرآن آپ ﷺ کا اخلاق تھا، کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں فرمائی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھایا تھا، ایک اور روایت میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا اور نہ کبھی عورت پر ہاتھ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ ﷺ نے کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ہے، آپ ﷺ نے کبھی میری کسی بات پر اف تک نہ کی، کبھی میرے کام پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کیوں کیا ؟ اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کیوں نہ کیا ؟ (بخاری مسلم)
Ayahs 68:5–7

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لینگے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ اور انکو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستہ پر چل رہے ہیں

فستبصرو یبصرون مکہ کے یہ بد باطن مشرکین عداوت کے جوش میں پاگل ہو کر جو حقیقت کو چھپانے اور نور حق کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں جب عنقریب قیامت کے دن حق واضح ہوجائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے تو ساری دنیا دیکھ لے گی کہ کون دیوانہ تھا اور کون فرزانہ ؟ بعض مفسرن نے ظہور حقیقت کے دن سے یوم بدر مراد لیا ہے۔
Ayahs 68:8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو بھی نرم ہوجائیں

فلا تطع المکذبین یعنی آپ ﷺ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں، یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ تبلیغ احکام میں کچھ نرم پڑجائیں، تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ ﷺ پر طعن وتشنیع اور ایذا رسانی ترک کردیں۔ (قرطبی) مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم بھی ہمیں کچھ نہ کہو، یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (معارف، مظہری) یعنی بلاکسی اضطراب اور مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز نہیں۔
Ayahs 68:10–16

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

ولاتطع کل حلاف مھین (الآیۃ) پہلی آیت میں عام کفار کی بات نہ ماننے اور دین کے معاملہ میں ان کی وجہ سے کوئی مداہنت نہ کرنے کا عام حکم تھا، اس آیت میں ایک خاص شریر کافر ولید بن مغیرہ کی صفات رذیلہ بیان کر کے اس سے اعراض کرنے اور اس کی بات نہ ماننے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے، اس لئے کہ حق بات میں مداہنت، حکمت تبلیغ کے لئے سخت نقصان دہ ہے، مذکورہ آیت میں جو نو اوصاف رذیلہ بیان کئے گئے ہیں ان کے بارے میں راجح قول تو یہی ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کے اوصاف ہیں اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، کسی نے ان اوصاف کا مصداق اسود بن عبد یغوث کو اور کسی نے اخنس بن شریق کو قرار دیا ہے، تفسیر زاہدی وغیرہ میں ہے کہ ولید جب اٹھارہ سال کا ہوا تو مغیرہ نے دعویٰ کیا کہ : میں اس کا باپ ہوں، جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو ولید نے اپنی ماں سے کہا کہ محمد ﷺ نے میرے نو اوصاف بیان کئے ہیں، میں ان میں سے سوائے نویں (زنیم) کے سب کو جانتا ہوں اور صرف اس کو نہیں جانتا، اگر تو مجھے صحیح صحیح نہ بتائے گی تو میں تیری گردن اڑا دوں گا تو اس کی ماں نے کہا تیرا باپ نامرد تھا مجھے مال کے بارے میں تیرے چچا زاد بھائیوں سے اندیشہ ہوا تو میں نے فلاں غلام کو اپنے اوپر قابو دیدیا تو اسی سے ہے۔ (حاشیہ جلالین ملخصًا)
Ayahs 68:17–18

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہم جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قمسیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

باغ والوں کا قصہ : انابلونھم کما بلونا اصحب الجنۃ (الآیہ) یہ باغ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یمن میں تھا اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کی ایک روایت یہ ہے کہ صنعاء جو یمن کا مشہور شہر ہے اس سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا، اور بعض حضرات نے اس کا محل وقوع حبشہ بتایا ہے۔ (اب کثیر) یہ لوگ اہل کتاب تھے اور یہ واقعہ رفع عیسیٰ علیہ والصلوٰۃ والسلام کے کچھ عرصہ بعد کا ہے، (معارف) دو باغ والوں کا اسی قسم کا ایک واقعہ تمثیل کے طور پر سورة کہف رکوع 5 میں بیان ہوا ہے۔ باغ والوں کا واقعہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اس طرح منقول ہے کہ صنعاء یمن سے دو فرسخ کے فاصلہ پر ایک باغ تھا اس مقام کو صروان کہا جاتا تھا، یہ باغ ایک صالح نیک بندے کا تھا، اس کا عمل یہ تھا کہ جب درختوں سے پھل توڑتا تو پھل توڑنے کے دوران جو پھل نیچے گرجاتے وہ فقیروں اور مسکینوں کے لئے چھوڑ دیتا، اسی طرح کھیتی کاٹتے وقت جو خوشہ گر جاتا اور کھلیان میں جو دانہ بھوسے کے ساتھ چلا جاتا وہ بھی فقیروں کے لئے چھوڑ دیتا (یہی وجہ تھی کہ جب پھل توڑنے اور کھیتی کاٹنے کا وقت آتا تو بہت سے فقراء و مساکین جمع ہوجاتے تھے) اس مرد صالح کا انتقال ہوگیا اس کے تین بیٹے باغ اور زمین کے وارث ہوئے، انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہماری عیالداری بڑھ گئی ہے اور پیداوار ضرورت سے کم ہے اس لئے اب ان فقراء کے لئے اتنا غلہ اور پھل چھوڑنا ہمارے بس کی بات نہیں، ہمیں یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے، آگے ان کا قصہ خود قرآن کریم حسب ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اذا قسموا لیصر منھا مصبحین ولا یستثنون یعنی انہوں نے قسم کے ساتھ یہ عہد کرلیا کہ اب کی مرتبہ ہم صبح سویرے ہی جا کر کھیتی کاٹ لیں گے، تاکہ فقراء و مساکین کو خبر نہ ہو اور ساتھ نہ لگ لیں، ان کو اپنے اس منصوبے پر اتنا یقین تھا کہ انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی، بعض مفسرین نے ” لا یستثنون “ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ پورا کا پورا غلہ اور پھل گھر لے آئیں گے اور فقراء کا حصہ مستثنیٰ نہ کریں گے۔ (مظہری)
Ayahs 68:19–25

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جسے کٹی ہوئی کھیتی

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کیساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر (ہیں)

فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔
Ayahs 68:26–27

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم (برگشتہ) بےنصیب ہیں

فلما رأوھا قالوا انا لضالون مگر جب اس جگہ باغ و کھیت کچھ نہ پایا، تو اول تو یہ کہنے لگے کہ ہم اپنے باغ کا راستہ بھول کر کسی دوسری طرف نکل آئے ہیں، یہاں نہ تو باغ ہے اور نہ کھیت، مگر جب دیگر نشانیوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ جگہ تو یہی ہے، مگر کھیت اور باغ وغیرہ سب جل کر ختم ہوگیا ہے تو کہنے لگے ” بل نحن محرومون “ یعنی تباہ شدہ باغ ہمارا ہی باغ ہے جس کو اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کردیا، واقعی ہم اس نعمت سے بلکہ لاگت سے بھی محروم کردیئے گئے، یہ واقعی حرمان نصیبی ہے۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں فرزانہ تھا بولا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

قال اوسطھم الم اقل لکم (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں جو نسبۃً بہتر تھا اس نے اس وقت بھی جب وہ فقیروں کو نہ دینے کی قسم کھا رہے تھے کہا تھا کہ تم خدا کو بھول گئے ؟ انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔
Ayahs 68:29–31

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصوروار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

قالوا سبحن ربنا انا کنا ظالمین یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے، اور اس تباہی و بربادی کا الزام آپس میں ایک دوسرے کو دینے لگے۔
Ayahs 68:32–34

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع لاتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

پرہیزگاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں غرباء و مساکین کا حق بھی ادا کریں گے۔ امام بغوی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے ہوتے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا (مظہری، معارف، واللہ اعلم بالصواب)
Ayahs 68:35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح (نعمتوں سے محروم) کردیں گے ؟

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیسی تجویزیں کرتے ہو ؟

ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا، اگر ہم کو دوبارہ زندہ کیا گیا تو تم سے بہتر ہم کو عطا کیا جائے گا، پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں، کیا ہم مسلمین اور مجرمین کو برابر کردیں گے ؟ یعنی گنہگاروں کو مسلمانوں کے برابر کردیں گے ؟ تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم یہ فاسد فیصلے کیسے کر رہے ہو ؟ بلکہ کیا تمہارے پاس نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیزیں (لکھی) ہوں جن کو تم پسند کرتے ہو یا تمہارے لئے ہم پر کچھ پختہ قسمیں ہیں ؟ (الی یوم القیامہ) معنی کے اعتبار سے علینا سے متعلق ہے اور اس کلام میں قسم کے معنی ہیں، یعنی اقسمنا لکم اور جواب قسم (ان لکم لما تحکمون) ہے کہ تمہارے لئے وہ سب کچھ ہے جسے تم اپنی طرف سے اپنے لئے مقرر کرلو آپ ﷺ ان سے دریافت فرمائیں کہ اس حکم کا کہ جس کا تم اپنے لئے فیصلہ کر رہے ہو وہ یہ کہ تم کو آخرت میں مسلمانوں سے بہتر عطا کیا جائے گا، کوئی ذمہ دار ہے ؟ کیا ان کے پاس شرکاء ہیں ؟ جو اس بات میں ان کے موافق اور اس سلسلے میں ان کے لئے کفیل ہیں، اگر ایسا ہے تو اپنے کفالت کرنے والے شرکاء کو لے آئیں، اگر وہ سچے ہیں، اس دن کو یاد کرو جس دن ساق کی تجلی ظاہر ہوجائے گی، یہ عبارت ہے قیامت کے دن حساب اور جزاء کی شدت سے، جب شدت کا رن پڑجائے تو بولا جاتا ہے، کشفت الساق عن الحرب، حرب نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں، اور ان کو ان کے ایمان کی آزمائش کے لئے سجدہ کے لئے بلایا جائے گا، تو وہ سجدہ نہ کرسکیں گے ان کی کمریں ایک تختہ ہوجائیں گی حال یہ ہے کہ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی خاشعۃ، یدعون کی ضمیر سے حال ہے، حال یہ کہ ذلیل ہوں گی، نظروں کو اوپر نہ اٹھائیں گے ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، یہ سجدہ کے لئے دنیا میں بلائے جاتے تھے حال یہ کہ وہ صحیح سالم تھے تو یہ سجدہ نہ کرسکیں گے، اس لئے کہ انہوں نے (دنیا) میں نماز نہیں پڑھی تھی مجھ کو اور اس شخص کو جو جھٹلا رہا ہے اسی حال میں رہنے دے، ہم ان کو بتدریج اس طرح کھینچیں گے کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا یعنی ہم ان کو آہستہ آہستہ گرفت میں لیں گے، اور میں ان کو ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط شدید ہے کوئی اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کیا آپ ﷺ ان سے تبلیغ رسالت پر کچھ اجرت طلب کرتے ہیں کہ یہ اس کے بوجھ سے کہ جو یہ آپ ﷺ کو دیتے ہیں دبے جا رہے ہیں ؟ جس کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ؟ یا ان کے پاس علم غیب ہے یعنی لوح محفوظ ہے کہ جس میں غیب (کی باتیں) ہیں کہ جو کہتے ہیں اس سے لکھ لیتے ہیں پس تو ان کے بارے میں جو وہ چاہتا ہے اپنے رب کے حکم کا صبر سے انتظار کر اور تنگ دلی اور عجلت میں مچھلی والے کے مانند نہ ہوجا، اور وہ یونس (علیہ السلام) ہیں، اس نے اپنے رب سے غم کی حالت میں دعاء کی (یعنی) مغموم ہو کر مچھلی کے پیٹ میں دعاء کی، اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پا لیتی تو مچھلی کے پیٹ سے بری حالت میں چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا، لیکن اس پر رحم فرمایا گیا، اور اس کی بری حالت میں نہیں ڈالا گیا، پھر اس کے رب نے اس کو نبوت سے نوازا تو اس کو صالحین انبیاء میں شامل کردیا اور قریب ہے کہ کافر آپ ﷺ کو تیز نگاہوں سے پھسلا دیں، یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، یعنی وہ لوگ آپ ﷺ کو گھور گھور کر دیکھتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کو زمین پر پچھاڑ دیں گے اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ سے گرا دیں گے جب وہ قرآن سنتے ہیں اور حسد کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں یہ تو اس قرآن کی وجہ سے جس کو یہ لایا ہے دیوانہ ہوگیا ہے، درحقیقت یہ قرآن جہان والوں کے لئے یعنی جن و انس کے لئے نصیحت ہے اس کی وجہ سے جنون پیدا نہیں ہوسکتا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای تابعین مناسب تھا کہ مفسر علام تابعین کے بجائے مساوین لھم فی الطعام فرماتے۔ قولہ : مالکم یہ مبتداء خبر سے ملکر جملہ ہے اس لئے اس پر وقف کیا جاتا ہے ای ای شی یحصل لکم من ھذہ الاحکام البعیدۃ عن الصواب۔ قولہ : کیف تحکمون یہ دوسرا جملہ ہے۔ قولہ : ان لکم لما تخیرون، ان لکم دراصل ان لکم فتحہ کے ساتھ تھا اس لئے کہ یہ تدرسون کا مفعول ہے لیکن خبر میں لما تخیرون میں لام سے تاکید لایا گیا تو ان کو کسرہ دے دیا گیا، جیسا کہ علمت انک لعاقل میں اور طلحہ بن مصرف اور ضحاک نے ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، لام کو زائد برائے تاکید قرار دیکر۔ قولہ : متعلق معنی بعلینا، ای متصل بہ، یعنی الی یوم القیامۃ، علینا کے متصل ہے یہاں متعلق سے مراد نحوی تعلق نہیں ہے کہ وہ تعلق فعل یا اس کے ساتھ خاص ہو جو فعل کے معنی میں ہو ام لکم ایمان علینا الخ قسم کے معنی میں ہے اور ان لکم لما تحکمون جواب قسم ہے۔ قولہ : ان کانوا صادقین اس کی جزاء ما قبل کی دلالت کی وجہ سے محذوف ہے۔ قولہ : من حیث لا یعلمون، لا یعلمون کا مفعول محذوف ہے ای لا یعلمون انہ استدراج۔ قولہ : واملی لھم یہ عطف تفسیری ہے اس کا عطف سنستدرجھم پر ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : صنادید قریش نے جب آپ ﷺ کی زبانی سنا کہ مسلمانوں کو آخرت میں ایسی ایسی نعمتیں ملیں گی، تو کہنے لگے کہ اگر بالفرض قیامت قائم ہوگئی تو ہم وہاں بھی مسلمانوں سے بہتر ہی ہوں گے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے بہتر اور آسودہ حال ہیں، یا کم از کم مساوی ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ” افنجعل المسلمین کالمجرمین ؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم مسلمانوں یعنی اپنے فرمانبرداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کردیں ؟ مطلب یہ کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کر دے، افنجعل میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور فاعاطفہ ہے معطوف محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی انحیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالمجرمین الخ یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں تمیز نہ کرے، آخر تمہاری عقل میں یہ بات کیسے آئی کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجا ہے ؟ جس کے یہاں چوپٹ نگری کا راج ہے کہ جہاں ” سب دھان ستائیس سیر “ اور ” ٹکا سیر بھاجی “ اور ” نکا سیر کھاجا “ کا قانون جاری ہے، جو یہ نہ دیکھے گا کہ کن لوگوں نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اور برے کاموں سے پرہیز کیا اور کون لوگ تھے جنہوں نے بےخوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کا ارتکاب کیا ؟ اگر ایسا ہو تو اس سے بڑا ظلم اور ناانصافی کیا ہوسکتی ہے، قیامت کا آنا اور حساب و کتاب کا ہونا اور نیک و بد کی سزا یہ سب تو عقلا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس کا دنیا میں ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں جو عموماً فساق، فجار، بدکار، ظالم، چور اور ڈاکو ہیں نفع میں رہتے ہیں، بسا اوقات ایک چور اور ڈاکو ایک رات میں اتنا مال جمع کرلیتا ہے کہ شریف آدمی عمر بھر میں بھی حاصل نہیں کرسکتا، اس کے علاوہ نہ خوف کو جانتا ہے اور نہ آخرت کو اور نہ کسی شرم و حیا کا پابند ہوتا ہے، اپنی خواہشات کو جس طرح چاہتا ہے پورا کرتا ہے، نیک اور شریف آدمی اول تو خدا سے ڈرتا ہے آخرت کی جواب دہی کا خوف دامن گیر رہتا ہے، اس کے علاوہ شرم و حیا کا بھی پاس ولحاظ کرتا ہے، خلاصہ یہ کہ دنیا کے کارخانہ میں بدکار و بدمعاش کامیاب اور شریف آدمی ناکام نظر آتا ہے، اب اگر آگے بھی کوئی ایسا وقت نہ آئے جس میں حق و ناحق کا صحیح فیصلہ ہو اور بدکار کو سزا و نیکو کار کو جزا ملے تو پھر تو کسی برائی کو برائی اور گناہ کو گناہ کہنا لغو لاحاصل ہوجاتا ہے کہ وہ ایک انسان کو بلاوجہ اس کی خواہشات سے روکتا ہے اور دوسرا شتر بےمہار ہو کر اپنی خواہشات کے پیچھے بےروک ٹوک سرپٹ دوڑ رہا ہے، انجام کار نتیجے میں دونوں برابر ہوں یہ تو عقل و انصاف کے بالکل خلاف ہے، قرآن کریم کے اس لفظ ” افنجعل المسلمین کالمجرمین “ نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت ضرور آئے کہ جس میں سب کا حساب ہو اور مجرموں کے لئے دنیا کی طرح کوئی چور دروازہ نہ ہو، جہاں انصاف ہی انصاف ہو، اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنی نہیں رہتے۔