Ayah 62:1یعنی جو کچھ آسمانون میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اس کو معبود مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ کامل ہے جس کی عالم علوی اور عالم سفلی پر بادشاہی ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی تدبیر کے تحت ہے۔ ( الْقُدُّوْسِ ) عظمت والا، ہر نقص اور ہر آفت سے پاک ہے (الْعَزِيْزِ ) تمام اشیا پر غالب ہے۔ (الْحَكِـيْمِ ) وہ اپنی تخلیق وامر میں حکمت والا ہے۔ یہ عظیم اوصاف اکیلے اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 62:2(امیین) سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے نہ رسالت کے آثار اور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بےبہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے شجر وحجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا اور وہ انبیائے کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جس کے نسب اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ( يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ ) وہ ان پر اللہ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں (ویزکیھم) اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا (وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ) اور ان کو کتاب وسنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین وآخرین کے علم پر مشتمل تھا چناچہ تعلیم وتزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم بلکہ علم ودین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے انہوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا لہذا اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقوی کے قائد بن گئے اللہ نے اس رسول کو ان میں مبعوث فرماکر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔
Ayahs 62:3–4(وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ وہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر بھی احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہ کی دعوت پہنچی تھی اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پاسکے۔ بہر حال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنی صحیح ہیں بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ نے اپنا رسول مبعوث کیا جنہوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا ان کو ایسے خصائل اور فضائل حاصل ہیں کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بےکار نہیں چھوڑا بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے ان کو اوامر نہی کا مکلف بنایا، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
Ayah 62:5جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا جن کے اندر اپنا نبی امی مبعوث فرمایا تو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں خوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا اس سے مراد نبی امی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین وآخرین پر فوقیت لے گئے تھے حتی کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے حتی کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے۔ تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہودونصاری میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور انکو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں انہوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا تو ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر علمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہوسکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہی ؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہوسکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے ؟ یہ مثال اہل کتاب کے ان علما کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے جن میں جلیل ترین عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیٰ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کرسکتا ہے ؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔ ( بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ) جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول کی صداقت اور جو کچھ آپ لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔ ( وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ) اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عناد ان کی صفت ہے تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ کے دوست ہیں۔
Ayah 62:6بنا بریں فرمایا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعایل کے دوست ہو ( فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ) تو تم موت کی آرزو کرو۔ اور یہ بڑا خفیف سامعاملہ ہے کیونکہ اگر انہیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس عوت موت کی تمنا، پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔
Ayahs 62:7–8اس اعلان کے باوجود جب انہوں نے اس کو قبول نہ کیا اور ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقت کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں۔ اس لیے فرمایا (وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗٓ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ۭ ) اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بہ سبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ( وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ) اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے لہذا ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں مگر انکا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو ترغیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ انکو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
Ayah 62:9اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں، سعی، سے مراد جلدی کرنا، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے فرمایا (وَذَرُوا الْبَيْعَ ۭ ) یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو خریدوفروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ( ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ ) کیونکہ جمع کی نماز تمہارے خریدو فروخت میں مشغول ہونے سے او تمہارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے جو تمام فرائض سے زیادہ موکد ہے۔ ( اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعایل کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جب کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ نفع حاصل کررہا ہے خریدوفروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔
Ayah 62:10(فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ ) پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ کام کاج اور تجارت کے لیے چونکہ تجارت میں مشغول ہونا اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے اسل یے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے تلافی ہوجائے چناچہ فرمایا (وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا) یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ( لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) تاکہ تم فلاح پاؤ۔ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔
Ayah 62:11(وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَۨا انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا) جب وہ کوئی سودابکتا یا لہو لعب دیکھتے ہیں تو اس لہو لعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں (وَتَرَكُوْكَ قَاۗىِٕمًا) اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا نبی اکرم لوگوں کو جمعہ خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسا معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کرنا مناسب نہ تھا (قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ ) کہہ دیجئے جو اللہ کے پاس ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے جو اجروثواب ہے۔ (خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ) وہ لہو لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگرچہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کردینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے چناچہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے سے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں۔
1۔ اہل ایمان پر جمعہ کی نماز رض ہے اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔
2۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمع کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا وجب ہے کیونکہ اللہ نے یہاں ذکر کی تفسیر دو خطبوں سے کی ہے۔ اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔
3۔ اس سورة مبارکہ سے متفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خریدوفروخت ممنوع اور حرام ہے اور یہ سرف اس وجہ سے تاکہ وجب سے غافل ہو کر خریدو فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں۔
4۔ ان آیات کریمہ میں جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے اور دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔
5۔ وہ بندہ جو اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو لعب تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے ودعای نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ کے پاس ہیں اللہ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔