63. Surah Al-Munaafiqoon

المنافقونThe Hypocrites · 11 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 63:1

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 63:1 in the Quran reader

اے محمد) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (ازراہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بیشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحققت تم اسکے پیغمبر ہو۔ لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں

جب نبی کریم مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ یعنی بنواوس اور بنو خزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوط اور ان کا مال سلامت رہے پس اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ایسے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چناچہ فرمایا (اِذَا جَاۗءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ ۘ) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسل ہیں۔ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ (وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ ۭ وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ ) اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوتے ہیں وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 63:2

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 63:2 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور انکے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں

(اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً ) یعنی انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنارکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے مسوب ہونے سے بچاتے ہیں (اِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) پس انہوں نے خود کو بھی اللہ کے راستے سے روک رکھا ہے اور دوسروں لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے (اِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں وہ برے ہیں۔ انہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا اور اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تاثر دیا۔
Ayah 63:3

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:3 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ یہ (پہلے تو) ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔

(ذٰلِكَ ) وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کردیا ( بِاَنَّهُمْ ) اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدر نہیں بلکہ ( اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ) وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی، کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گی۔ (فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ ) پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انہیں فائدہ دیتی ہے اور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے ؟
Ayah 63:4

وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 63:4 in the Quran reader

اور جب تم ان (کے تناسب اعضاء) کو دیکھتے ہو ان کے جسم تمہیں (کیا ہی اچھے معلوم ہوتے ہیں اور جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو تم ان کی تخریج کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی ہوئی ہیں کہ (بزدل ایسے کہ) ہر زور کی آواز کو سمجھیں (کہ) ان پر (بلا آئی) یہ (تمہارے) دشمن ہیں ان سے بےخوف نہ رہنا۔ خدا ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

(وَاِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ ) اور جب آپ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپکو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی خوشنمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ( وَاِنْ يَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ) یعن آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( ۭ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ۭ ) گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۭ ) وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انہی پر (بلا آئی) ہے۔ اور یہ ان کی بزدلی خوف، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے یہی لوگ ہیں (ھم العدو) جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچانا ہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے حالانکہ وہ وہ کھلا دشمن ہے۔ (فَاحْذَرْهُمْ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۡ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ) پس آپ ان سے بچیں اللہ انہیں ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔ دین اسلام کے دلائل واضح جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہوجانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑکر کفر کی طرف کیسے مائل ہورہے ہیں جو انہیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ ؟
Ayahs 63:5–6

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 63:5 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو اپنے سرہلا دیتے ہیں اور تم انکو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں

سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 63:6 in the Quran reader

تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے خدا انکو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ ) جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے آؤ تاکہ رسول تمہارے ان گناہوں کے بارے میں تمہارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں تاکہ تمہارے احوال درست اور تمہارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ ) تو اپنے سرہلادیتے ہیں۔ رسول سے د عا طلب کرنے سے بچنے کے لیے ( وَرَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ ) اور آپ انہیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ( وَهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ ) اور وہ سرکشی، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔ جب رسول اللہ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے اور یہ اللہ کا اپنے رسول پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونہ رسول اللہ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں ان پر برابر ہے چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں اس لیے رسول اللہ کا استغفار انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا 0 استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم۔ التوبہ 80) آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے استغفار نہ کریں اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز بخشنے والا نہیں۔ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ) یقینا للہ تعالیٰ نافرمان لوگو کو ہدایت سے بہر مند نہیں کرتا۔
Ayah 63:7

هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 63:7 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول خدا کو پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کے ہیں لیکن منافق نہیں سمجھتے

یہ ان کی نبی اکرم اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انہوں نے صحابہ کرام کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ کی رضا کی طلب میں ان کی جلد بازی کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے (لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا ۭ ) تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ خود بخود بھاگ جائیں۔ کیونکہ ان کے زعم باطل کے مطابق اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں اس قسم کا دعوی کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کرسکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی بات کو رد کرتے ہوئے کہ (وَلِلّٰهِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمان اور زمین کے خزانے۔ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کردیتا ہے جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کردیتا ہے ( وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَهُوْنَ ) لہکن منافق لوگ نہیں سمجھتے۔ اس لیے انہوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضہ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
Ayah 63:8

یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 63:8 in the Quran reader

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اسکے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے

(يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ۭ ) وہ کہتے تھے، البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ واقعہ غزوہ مریسیع میں ُ یش آیا جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رجنی پیدا ہوئی اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آگیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا ان کے سردار عبداللہ بن ابی سلول نے کہا، ہماری اور ان کی یعنی مہاجرین کی مثال تو بس ایسے ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے، اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔ اور کہنے لگا اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں۔ اور رسول اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ ) حالانکہ عزت اللہ کے لیے اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لی ہے پس یہی عزت والے ہیں منافقی اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ (وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ) مگر منافقین اس حقیقت نہیں جانتے۔ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہوکرسمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
Ayah 63:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 63:9 in the Quran reader

مومنو تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے۔ اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالی اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع فوز و فلاح اور بیشمار بھلائیاں ہیں اللہ نے انہیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثرت نفوس کی جبلت ہے۔ اسی لیے وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اسلیے فرمایا (وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ) جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردیتے ہیں (فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فرانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انما اموالکم واولادکم فتنۃ واللہ عندہ اجر عظیم۔ التغابن 15) بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
Ayahs 63:10–11

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 63:10 in the Quran reader

اور جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس (وقت) سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو (اس وقت) کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ؟

وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 63:11 in the Quran reader

اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو خدا اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔

(وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرو۔ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ، مثلا زکوۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ نان ونفقہ اور تمام نفقات مستحبہ، مثلا تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ( مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ ) یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفقے کا مکلف نہیں بنایاجو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار اور بھائیوں کی مالی مدد کرکے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے انک و رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کرلیں۔ موت جب آئے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہوگا وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کرسکے۔ اس لیے فرمایا ( مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ ) اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹا جانے کی التجا کرتے ہوئے حالانکہ یہ محال ہوگا (کہے گا) ( رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۙ ) اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی ؟ تاکہ جو میں کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کرسکوں۔ (فَاَصَّدَّقَ ) پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں۔ (وَاَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) اور تمام مامورات کو ادا کرکے اور تمام منہیات سے اجتناب کرکے صالحین میں شامل ہوسکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔ اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں بنابریں فرمایا (وَلَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا ۭ ) اور اللہ ہرگز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے جس کا آنا حتمی ہے۔ ( وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) یعنی تم جو اچھے یابرے اعمال کرتے ہو اللہ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمہاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمہیں تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا وسزا دے گا۔