Al-Mujaadila 58:9

Al-Mujaadila · from ayah 9

58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ۟يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَيۡتُمۡ فَلَا تَـتَـنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَتَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, when you converse privately, do not converse about sin and aggression and disobedience to the Messenger but converse about righteousness and piety. And fear Allah, to whom you will be gathered.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mujaadila

All translations of 58:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک دوسرے سے سرگوشی کرو تو ایسی سرگوشی نہ کرو جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہو، ہاں ایسی سرگوشی کرو جو نیک کاموں اور تقوی پر مشتمل ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جس کے پاس تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم و سرکشی اور نافرمانئ رسالت مآب ﷺ کی سرگوشی نہ کیا کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی بات ایک دوسرے کے کان میں کہہ لیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی سے متعلق سرگوشی نہ کیا کرو، بلکہ سرگوشی کرو تو نیکی اور تقویٰ کے متعلق کیا کرو۔ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے ہاں تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور میں تم سب اکٹھے کیے جائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب تمہیں آپس میں سرگوشی کرنا ہو تو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی مت کرنا بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی سرگوشی کیا کرو اور ہمیشہ ڈرتے رہا کرو اللہ سے جس کے حضور تم سب کو حشر میں پیش ہونا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والوجب تم کسی سے سرگوشی کرو تو سرگوشی گناہ اور زیادتی اور نافرمانی رسول کی نہ کرو۔ اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشیاں کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو تو گناہ زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرسکتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکو کاروں اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا اور اللہ سے جس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے ڈرتے رہنا

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers, when you converse in secrecy, let that not be concerning sin and transgression and disobedience to the Messenger; rather, converse concerning virtue and piety. And fear Allah to Whom all of you shall be mustered.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, when you hold secret counsel, do not whisper for sinful act and wrongdoing and disobedience of the prophet, and do whisper for righteousness and taqwa (piety). And fear Allah, before whom you will be gathered together.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, when you hold secret counsel, do not whisper for sinful act and wrongdoing and disobedience of the prophet, and do whisper for righteousness and taqwa (piety). And fear Allah, before whom you will be gathered together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience to the Messenger, but do it for Al-Birr and Taqwa; and have Taqwa of Allah unto Whom you shall be gathered.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! When ye conspire together, conspire not together for crime and wrongdoing and disobedience toward the messenger, but conspire together for righteousness and piety, and keep your duty toward Allah, unto whom ye will be gathered.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, when you converse privately, do not converse about sin and aggression and disobedience to the Messenger but converse about righteousness and piety. And fear Allah, to whom you will be gathered.

— Saheeh International

Believers, when you hold a secret counsel, let it not be for a sinful, hostile purpose or to disobey the Messenger, but let your counsel take place for virtuous and pious reasons. Have fear of God in whose presence you will all be brought together.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! when you confer together in private, do not give to each other counsel of sin and revolt and disobedience to the Apostle, and give to each other counsel of goodness and guarding (against evil); and be careful of (your duty to) Allah, to Whom you shall be gathered together.

— Muhammad Habib Shakir

O ye who believe! when ye whisper together, whisper not of sin, transgression and disobedience toward the apostle; but whisper for virtue and piety. And fear Allah Unto Whom ye will be gathered.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! When ye hold secret counsel, do it not for iniquity and hostility, and disobedience to the Prophet; but do it for righteousness and self-restraint; and fear Allah, to Whom ye shall be brought back.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 58:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُجَادِلَة 24 اس سے معلوم ہوا کہ نجویٰ (آپس میں راز کی بات کرنا) بجائے خود ممنوع نہیں ہے، بلکہ اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا انحصار ان لوگوں کے کردار پر ہے جو ایسی بات کریں، اور ان حالات پر ہے جن میں ایسی بات کی جائے، اور ان باتوں کی نوعیت پر ہے جو اس طریقے سے کی جائیں۔ جن لوگوں کا اخلاص، جن کی راست بازی، جن کے کردار کی پاکیزگی معاشرے میں معلوم و معروف ہو، انہیں کسی جگہ سر جوڑے بیٹھے دیکھ کر کسی کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپس میں کسی شرارت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جو لوگ شر اور بد کرداری کے لیے معروف ہوں ان کی سرگوشیاں ہر شخص کے دل میں یہ کھٹک پیدا کردیتی ہیں کہ ضرور کسی نئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى، سابقہ آیات میں کفار کو ناجائز سرگوشی پر تنبیہ کی گئی تھی، اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ اپنی سرگوشیوں اور مشوروں میں اس کا دھیان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے سب حالات اور گفتگو کا علم ہے اور اس استحضار کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کے مشورے اور سرگوشی میں کوئی بات فی نفسہ گناہ کی یا دوسروں پر ظلم کرنے کی یا کسی خلاف شرع کام کی نہ ہو، بلکہ جب بھی آپس میں مشورہ کرو نیک کاموں کے لئے کرو۔ کفار کی شرارت پر بھی نرمی اور شریفانہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یایھا الذین امنوا اذ تت جیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تما جوا بلبر والتقوی واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون) (9)۔ (نجوی کی پاکیزہ قسم)۔ یہ مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ نجوی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اجتماعی و معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بھی پیش آتے ہیں جب ہم دگرراز دارانہ مشورت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شوری اجتماعی زندگی کی اساسات میں سے ہے اور اس میں راز داری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، اگر یہ مشورت نیکی، تقویٰ اور اصلاح ذات البین کے لیے ہے تو یہ نجویٰ باعث خیر و برکت ہے اور تم جب بھی کوئی راز دارانہ مشورت کرو تو کسی مقصد خیرہی کے لیے کرو۔ البتہ وہ نجویٰ شیطانی نجویٰ ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 جس طرح یہود اور منفقین کا شیوہ ہے یہ گویا اہل ایمان کو تربیت اور کردار سازی کے لیے کہا جارہا ہے کہ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو تمہاری سرگوشیاں یہود اور اہل نفاق کی طرح اثم وعدوان پر نہیں ہونی چاہئیں۔ 9۔ 2 یعنی جس میں خیر ہی خیر ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مبنی ہو، کیونکہ یہی نیکی اور تقویٰ ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔ 6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی سچے مسلمانوں کو منافقین کی خو سے بچنا چاہیے۔ ان کی سرگوشیاں اور مشورے ظلم وعدوان اور اللہ و رسول کی نافرمانی کے لیے نہیں، بلکہ نیکی اور تقویٰ اور معقول باتوں کی اشاعت کے لیے ہونے چاہئیں جیسا کہ سورة " نساء " میں گزرا۔ (لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ) 4 ۔ النسآء :114) 2 یعنی سب کو اللہ کے سامنے جمع ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ اس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں۔ لہذا اس سے ڈر کر نیکی اور پرہیزگاری کی بات کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ } ”اے اہل ایمان ! اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو“ { فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ } ”تو گناہ ‘ زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو“ اگر تم میں سے چند لوگوں کا علیحدہ بیٹھ کر کوئی گفتگو یا منصوبہ بندی کرنا ناگزیر ہو تو یاد رکھو ‘ تمہاری اس خفیہ بات چیت یا سرگوشی کا موضوع ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس سے گناہ ‘ کسی پر زیادتی یا اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتاہو۔ { وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی } ”ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرسکتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 سرگوشی کی تین صورتیں اور ان کا مقام :۔ اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے جن میں منافقین بھی شامل ہیں۔ سرگوشی، کاناپھوسی اور کھسر پھسر سب ہم معنی الفاظ ہیں۔ اور ان کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سرگوشی، بدنیتی، برے ارادوں یا کسی ناپاک سازش پر محمول ہو۔ جیسے منافق لوگ مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کیا کرتے تھے۔ یہ شیطان کی انگیخت ہوتی ہے جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت سے مذکور ہے۔ اور یہ بالاتفاق حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ سرگوشی بھلائی اور نیکی پر محمول ہو مثلاً دو لڑنے والوں کے درمیان سمجھوتہ کے لیے سرگوشی کی جائے یا جیسے سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے جب اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (جیسا کہ کافر اور منافق کرتے رہتے ہیں) یہاں یہ بتادیا کہ سرگوشی بجائے خود کوئی جرم نہیں، اسے جرم تو محض ان اغراض ومقاصد نے بنادیا ہے، جنہیں لے کر منافقین آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں۔ 19۔ راز دارانہ سرگوشیوں کی ضرورت آخر مسلمانوں کو بھی کبھی پڑجاتی تھی، یہاں ارشاد ان سے ہورہا ہے کہ ضرورت کے وقت نفس سرگوشی کی ممانعت نہیں۔ لیکن یہود ومنافقین کا تشبہ ہلکا سا بھی نہ پیدا ہونے پائے، تمہارا موضوع ومقصود، بجائے اثم وعدوان ومعصیت رسول کے بروتقوی ہی رہے۔ (آیت) ” البروالتقوی “۔ اہل نظر نے کہا کہ آیت میں (آیت) ” البر “۔ سے مراد خیر متعدی، اور (آیت) ” التقوی “۔ سے مراد خیر لازمی ہے۔ مرشد تھانوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–10

تفسیر و تشریح شان نزول : اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں : 1۔ اول واقعہ :۔ آپ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا جو سیاسی قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ یہود اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ صلح فرمایا تاکہ مدینہ کے یہود کی طرف سے اطمینان ہوجائے کیونکہ مشرکین مکہ کی جانب سے ریشہ دوانیاں رہتی تھیں اور ہمہ وقت خطرہ رہتا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دو طرفہ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں، مگر صلح کے باوجود یہود اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے، یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کو ذہنی طور پر پریشا ان کرنے کے لئے اپٓس میں سر جوڑ کر کھسر پھسر کرنے لگتے اور اس کی طرف دیکھتے جاتے اور بعض اوقات آنکھ وغیرہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ۔ ” اے ایمان والو ! جب تم (کسی ضرورت سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو اور نفع رسانی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشی کیا کرو اور اللہ سے ڈرو۔ جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے۔ “ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : مقاتل نے کہا : اس آیت میں خطاب منافقوں کو ہے جو صرف زبانوں سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے۔ دلوں میں ایمان نہیں تھا۔ عطاء نے کہا : وہ مؤمن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو جھوٹ ظلم اور رسول اکرم کے حکم کی مخالفت کی سرگوشیاں مت کیا کرو جیسا کہ منافقین یہودیوں کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور فرائض خداوندی کی تعمیل اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان و بھلائی اور معاصی و ظلم کے چھوڑنے کے بارے میں سرگوشی کیا کرو اور مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس تم سب آخرت میں جمع کیے جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ۔۔۔۔۔: جیسا کہ آیت (7) کے فوائد میں گزرا کہ ”نجویٰ“ کا لفظ عموماًبرے مقاصد کے لیے سرگوشیوں پر استعمال ہوتا ہے جو حرام ہیں ، لیکن بعض اوقات ”نجوی“ (خفیہ مشورہ) اچھے مقاصد کے لیے بھی ہے، اس کی اجازت ہے ، بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ باعث اجر ہے۔ (دیکھئے نساء : 114) اس آیت میں ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو گناہ ، زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی والی سرگوشیوں اور خفیہ مجلسوں سے منع فرمایا ، کیونکہ یہ ایمان کے دعویٰ کے خلاف ہے اور نیکی اور تقویٰ والی سرگوشیوں کی اجازت بلکہ نصیحت فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے سوگوشی کی ہر ایسی صورت سے منع فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یا یھا الذین امنوا اذا تنا جیتم مومنوں کو اس سے منع کیا کہ وہ منافقوں اور یہودیوں کی طرح باہم سرگوشیاں نہ کریں تو فرمایا : اے مومنوچ جب تم رازی داری سے بات کرو فلاتتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تنا جوا یہ عام قرأت ہے یحییٰ بنت و ثاب، عاصم اور رویس نے یعقوب سے فلاتنتجوا، اتجاء سے پڑھا ہے۔ وتنا جوا بالبر برسے مراد اطاعت ہے۔ والتقویٰ اللہ تعالیٰ نے جس سے بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچنے کی بات کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، خطاب منافقوں کو ہے مراد ہوگا اے وہ لوگوچ جو اپنے گمان کے مطابق مومن ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والو ! واثقوا اللہ الذی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کوئی فوجی دستہ بھیجتے تو اسے جنگ کرنے پر آمادہ کرتے تو منافقین آپس میں ملتے اور مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے سروں کو ہلاتے اور کہتے تھے کہ یہ قوم یعنی صحابہ مارے جائیں اور جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپس میں سرگوشیاں کرتے اور غم کو ظاہر کرتے تو یہ بات نبی ﷺ اور مسلمانوں کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالثم والعدوان الایۃ اے ایمان وال ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی سرگوشیاں نہ کرو۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا تَنَاجَيْتم : جب کبھی تم لوگ آپس میں سرگوشی کرو ][ فَلَا تَتَـنَاجوا : تو سرگوشی مت کرو ][ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَان : گناہ اور زیادتی کے بارے میں ][ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی نافرمانی کے بارے میں ][ وَتَنَاجوا : اور آپس میں سرگوشی کرو ][ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى: نیکی اور تقوٰی کے بارے میں ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيٓ: اور تقوٰی اختیار کرو اس اللہ کا ][ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : جس کی طرف تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کو نصیحت کہ یہودیوں کا طریقہ کار استعمال نہ کریں یہود اور منافقین کی بدحالی بتا کر مومنین مخلصین کو نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ ﴾ (اے ایمان والو ! جب تمہیں خفیہ مشورہ کرنا ہو (آہستہ آہستہ باتیں کرنی ہوں) تو گناہگاری اور زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو) ۔ ﴿ وَ تَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ﴾ (اور نیکی اور تقویٰ کا مشورہ کرو) ۔ ﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 009 ﴾ (اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم جمع كئے جاؤ گے) یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–13

بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔ (ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم “ یہ اصلاح منافقین کیلئے پہلا قانون ہے اور خطاب منافقین سے ہے اور ایمان سے ایمان باللسان مراد ہے۔ ای امنوا بالسنتہم وھو خطاب للمنافقین (مدارک) ۔ یا مؤمنین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ کفار و منافقین کی طرح نہ ہوں۔ قال اللہ تعالیی مؤدبا عبادہ المؤمنین ان لا یکوانو مثل الکفرۃ و المنافقین (ابن کثیر ج 4 ص 323) ۔ کوئی ایسا پروگرام نہ بناؤ اور ایسا مشورہ نہ کرو جو سراسر گناہ ہو یا جس کا مقصد مسلمانوں پر ظلم وتعدی کرنا یا پیغمبر خدا ﷺ کے احکام کی مخالفت ہو۔ بلکہ ہمیشہ ایسے کاموں کے باہم مشورے کرو جو نیکی اور تقوی کے کام ہوں یعنی احکام شریعت کی تعمیل اور مخالفت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات : پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى0 وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ۝ 9 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ سام موت مدینے کے یہود ایسا کرتے تھے دبخت لوگوں میں ایسی کمینگی اور چالاکی اور گستاخی کی عادت اخلاق کریمانہ کی جگہ ہوجاتی ہے۔ 12 منہ 2 ؎ اسلام کا آسمانی قانون جس طرح روحانی اور اخلاق امور کی تعلیم کرتا ہے اسی طرح بعض رسمی اور علامتی باتوں کو بھی بڑے زور سے قائم کرتا ہے خصوصاً ان اوفضاع واطوار کو جو صحابہ ؓ پیغمبر ﷺ کے تھے جو اسلامیوں کے نشان اور علامات قرار دیے گئے ہیں (جیسا کہ ڈاڑھی رکھنا مونچھیں کتروانا ناخن لوانا زیر ناف کے بال لبنا ختنہ کرنا آپس میں بوقت ملاقات السلام علیکم کہنا) اس کا غلبہ اور قوموں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان باتوں میں پیروی کریں اوروں کو جھکاتا ہے مبتذل اور فاحشہ کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ط وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 9) (اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں کوئی خفیہ مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو، اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم جمع کیے جاؤ گے۔ ) نجویٰ ایک اجتماعی ضرورت ہے لیکن اس کا مقصد پاکیزہ ہونا چاہیے منافقین پر تنقید کے بعد مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ آپس میں رازداری کی باتیں اور سرگوشیاں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : بری سرگوشی سے منع کرنے کے بعد نیکی اور اچھے کاموں پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہر قسم کی سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے گناہ، ظلم اور رسول کی مخالفت کرنے پر سرگوشی سے منع کرنے کے ساتھ اور نیکی اور تقویٰ کے کام پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو ! بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ جو بری سرگوشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ شیطان کی سرگوشی ہوتی ہے۔ شیطان اپنے کارندوں سے یہ کام اس لیے کرواتا ہے تاکہ اس سے ایمان دار لوگ پریشان ہوں، لیکن ایمان داروں کو برے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے غم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ( اے ایمان والو ! ) جو زبانوں سے فقط ایمان لائے ہو۔ یہ منافقین کو خطاب ہے۔ ظاہر کلام کا تقاضا یہ ہے کہ مؤمنین کو خطاب ہے۔ اِذَا تَنَا جَیْتُمْ فَـلَا تَتَنَا جَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی) وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ (سرگوشیاں نہ کیا کرو) یعنی جب سرگوشی کرو تو یہود اور منافقین کی طرح شرو گناہ کی سرگوشی مت کرو) وَتَنَاجَوْا بِالْبِّرِ (اور نفع رسانی کی سرگوشی کرو) طاعات اور ادائے فرائض کی سرگوشی کرو۔ وَالتَّقْوٰی (اور پرہیز گاری کی باتوں کی) گناہوں کو ترک کرنے کی سرگوشی کرو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” الم ترالی الذین نھوا عن النجویٰ “ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ آپس میں سر گوشیاں کرتے تھے اور مومنین کی طرف دیکھتے تھے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے مسلمانوں کو یہ وہم دلاتے تھے کہ وہ آپس میں ایسی سرگوشی کررہے ہیں جو ان کو تکلیف پہنچائے گا۔ پس وہ اس وجہ سے غمگین ہوتے تھے اور کہتے تھے ہمارا خیال ہے کہ ان کو ہمارے ان بھائیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے جو جہاد میں زخمی ہوگئے کہ یا تو وہ قتل کردیئے گئے ہیں یا مرگئے ہیں یا شکست کھاگئے ہیں تو یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کو غمگین کردیا۔ جب یہ بات کافی عرصہ رہی اور اکثر ہونے لگی تو مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–10

7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

(النَّجْوٰى) دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ہے، کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔ (البر) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے 0 التقوی) تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کردینے کے لیے جامع نام ہے پس بندہ مومن اس حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (الفاجر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–10

اہل کتاب کو کس طرح سلام کہا جائے ؟ قول باری ہے (واذا جآء ک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ ) سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا۔ صحابہ کرام نے اس کے سلام کا جواب دے دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ہمیں سلام کہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ” اس نے سا علیکم کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ تم اپنے دین سے اکتا جائو۔ “ حضور ﷺ کے ارشاد ہے کہ ” جب اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 29] ناجائز سرگوشی سے ممانعت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہیں آپس میں کوئی سرگوشی کرنی ہوا کرے تو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہیں کرنا، جس طرح کہ یہود اور منافقین کرتے ہیں، پس تم ایسے نہیں کرنا، اور تمہارے ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تم لوگ ایسی ہر بات سے دور ونفور ہو، جو ایمان کے تقاضوں کے خلاف اور اہل کفر ونفاق کا شیوہ ہو، سو اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ " نجوی " یعنی سرگوشی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حد تک ضرورت بھی ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بہرحال پیش آتے ہیں، جہاں انسان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–10

سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–13

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔ نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 دیکھئے سورة نساء آیت : 114 صحیحین میں حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جب تم تین آدمی ہو تو تم میں سے چاہیے اس لئے کہ اس سے اس تیسرے آدمی کو رنج ہوگا کہ نہ معلوم میرے خلاف کوئی بات کررہے ہیں۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(58:9) اذا تناجیتم : اذا شرطیہ ہے یا اسم ظرف زمان ہے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تم نے سرگوشی کی۔ یا جب تم سرگوشی کرو۔ فلا تتناجوا :جواب شرط کے لئے۔ لا تتناجوا فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ (تو تم) سرگوشی مت کرو۔ کانا پھوسی نہ کرو۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تتناجوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم سرگوشی کیا کرو۔ یہاں نجوی سے مراد مشورہ ہے۔ یعنی جب رازدارانہ بات کرنا ہی ہو تو نیکی اور پرہیزگاری کے متعلق مشورہ کیا کرو۔ البر : مصدر ہے بمعنی نیکی کرنا۔ بھلائی کرنا۔ نیکوکاری۔ اعتقادی و عملی دونوں قسم کی نیکیاں اس میں شامل ہیں۔ التقوی : پرہیزگاری۔ بچنا۔ تقویٰ اسم ہے اتقی سے۔ لغت میں تو تقوی کے معنی ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–13

نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔ تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔ مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

مسلم امت کے دشمن یہود ومنافقین۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو آپس میں سرگوشیاں کرتے ، اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے ، اور اس سے انہیں رنج ہو ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یا ہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئیں اور مسلمانوں نے نبی ﷺ کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سرد اور دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–10

[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ ان لفظوں میں سلام کیا '' سلام علی المرسلین '' اور '' سلام علی عبادہ الذین اصطفے '' لیکن جب یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تو بجائے '' السلام علیک '' کے دبی زبان میں '' السام علیک '' کہتے جس کے معنی ہیں کہ تجھے موت آئے۔ [12] انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس مغالطے سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی گرفت نہیں ہوگی حالانکہ یہ محض اس کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجاتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–10

ف 2: عام مجلس میں دو تین آدمیوں کو کانا پھوسی کے لئے منتخب کرلینا اخلاقی لحاظ سے مذموم اور آداب مجلس کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اس فریق سے دوسروں کے دلوں میں بدظنی پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ضرورت پیش آجائے ۔ تو ارشاد فرمایا ۔ کہ تمہاری باتیں نیکی اور تقویٰ کی باتیں ہونا چاہئیں ۔ کسی شخص کے متعلق اس لئے سرگوشی کرنا ۔ کہ اس کو تکلیف پہنچنے ۔ اسلامی زاویہ نگاہ سے بہت برا ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ کہ واتقو اللہ یعنی ان باتوں کو حقیر اور معمولی نہ جانو ۔ یہ زہدواتقاء کا صحیح مفہوم ہے ۔ کہ مسلمان زبور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور یہ جانتا ہو ۔ کہ کون باتیں آداب مجلس کے منافی ہیں ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اے ایمان والو جب تم آپس میں سرگوشی اور بھید کی باتیں کرو تو گناہ کی اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کیا کرو بلکہ بھلائی اور پرہیزگاری کی باتوں پر ہم مشورہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے روبرو تم سب جمع کئے جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپس میں کوئی خفیہ بات اور خفیہ مشوروہ کرو تو وہ مشورہ گناہ کے لئے یا ظلم کے لئے یارسول کی نافرمانی کے لئے نہ ہوا کرے بلکہ بھلائی اور تقویٰ کے کاموں پر باہمی مشورہ کیا کرو یعنی دوسروں کو نفع پہنچانا مقصود ہو کوئی ظلم یا پیغمبر کی نافرمانی کی بات کے لئے مشورہ نہ ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اسی کی جناب میں سب کو حاضرہونا ہے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ بر سے مراد نفع متعدی مقابل عدوان کے اور تقوی مقابل اثم و معصیت الرسول کے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کو ( النجوی) یعنی سرگوشیوں کی مخالفت کرنے کے بعد مشروط اجازت 9 ؎ زندگی میں راز کی بات کسی نہ کسی سے انسان کو کہنا ہی پڑتی ہے اور صلاح مشورہ کو لازم بھی قرار دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ بعض مشورے ایسے بھی ہوتے ہیں جو سارے انسانوں کے سامنے نہیں کیے جاسکتے اور خصوصاً ان میں سے قومی مشورے راز دارانہ ہوتے ہیں جن کو راز میں رکھنا ضروری بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا اس لیے زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت فرما دی اور خصوصاً تمام ایمان والوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ ایمان والو ! جب تم کو کوئی راز و نیاز کی بات کرنا ناگزیر ہو تو سمجھ لو کہ معصیتوں اور گناہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Manners of the Secret Conference يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّ‌سُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَىٰ (0 those who believe, when you hold secret counsel, do not whisper for sinful act and wrongdoing and disobedience of the Messenger, and do whisper for righteousness and taqwa [ God-fearing ]... 58:9) In this and the preceding verses secret societies of the unbelievers have been condemned, but the condemnation is not unreserved or unqualified. The current verse guides the Muslims to be conscious of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 This shows that najwa (talking secretly together) by itself is not forbidden, but it s being lawful or unlawful depends upon the character of the people who hold secret consultations and upon the circumstances under which such consultations are held, and upon nature of the consultations themselves, If the people whose sincerity, righteousness and purity of character arc well known, arc seen talking secretly together, nobody would have any misgiving that they were planning mischief. On the contrary, the whispering and secret consultations of the people who are notorious for their evil and…

Read the full tafseer →