Explained with ayahs 8–10
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر
کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔…
Read the full tafseer →سورة الْمُجَادِلَة 24
اس سے معلوم ہوا کہ نجویٰ (آپس میں راز کی بات کرنا) بجائے خود ممنوع نہیں ہے، بلکہ اس کے جائز یا ناجائز ہونے کا انحصار ان لوگوں کے کردار پر ہے جو ایسی بات کریں، اور ان حالات پر ہے جن میں ایسی بات کی جائے، اور ان باتوں کی نوعیت پر ہے جو اس طریقے سے کی جائیں۔ جن لوگوں کا اخلاص، جن کی راست بازی، جن کے کردار کی پاکیزگی معاشرے میں معلوم و معروف ہو، انہیں کسی جگہ سر جوڑے بیٹھے دیکھ کر کسی کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپس میں کسی شرارت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جو لوگ شر اور بد کرداری کے لیے معروف ہوں ان کی سرگوشیاں ہر شخص کے دل میں یہ کھٹک پیدا کردیتی ہیں کہ ضرور کسی نئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى، سابقہ آیات میں کفار کو ناجائز سرگوشی پر تنبیہ کی گئی تھی، اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ اپنی سرگوشیوں اور مشوروں میں اس کا دھیان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے سب حالات اور گفتگو کا علم ہے اور اس استحضار کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کے مشورے اور سرگوشی میں کوئی بات فی نفسہ گناہ کی یا دوسروں پر ظلم کرنے کی یا کسی خلاف شرع کام کی نہ ہو، بلکہ جب بھی آپس میں مشورہ کرو نیک کاموں کے لئے کرو۔
کفار کی شرارت پر بھی نرمی اور شریفانہ…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا اذ تت جیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تما جوا بلبر والتقوی واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون) (9)۔
(نجوی کی پاکیزہ قسم)۔ یہ مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ نجوی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اجتماعی و معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بھی پیش آتے ہیں جب ہم دگرراز دارانہ مشورت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شوری اجتماعی زندگی کی اساسات میں سے ہے اور اس میں راز داری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، اگر یہ مشورت نیکی، تقویٰ اور اصلاح ذات البین کے لیے ہے تو یہ نجویٰ باعث خیر و برکت ہے اور تم جب بھی کوئی راز دارانہ مشورت کرو تو کسی مقصد خیرہی کے لیے کرو۔ البتہ وہ نجویٰ شیطانی نجویٰ ہے جو…
Read the full tafseer →9۔ 1 جس طرح یہود اور منفقین کا شیوہ ہے یہ گویا اہل ایمان کو تربیت اور کردار سازی کے لیے کہا جارہا ہے کہ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو تمہاری سرگوشیاں یہود اور اہل نفاق کی طرح اثم وعدوان پر نہیں ہونی چاہئیں۔
9۔ 2 یعنی جس میں خیر ہی خیر ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مبنی ہو، کیونکہ یہی نیکی اور تقویٰ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔
6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یایھا الذین .................... المومنون (01) (85 : 9۔ 01)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ بےاذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
معلوم ہوتا ہے ابتدائی زمانے میں جب کہ لوگوں میں ابھی تک اسلامی جماعت کا صحیح شعور اور احساسات پیدا نہ ہوئے تھے ، بعض…
Read the full tafseer →1 یعنی سچے مسلمانوں کو منافقین کی خو سے بچنا چاہیے۔ ان کی سرگوشیاں اور مشورے ظلم وعدوان اور اللہ و رسول کی نافرمانی کے لیے نہیں، بلکہ نیکی اور تقویٰ اور معقول باتوں کی اشاعت کے لیے ہونے چاہئیں جیسا کہ سورة " نساء " میں گزرا۔ (لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۢ بَيْنَ النَّاسِ ) 4 ۔ النسآء :114)
2 یعنی سب کو اللہ کے سامنے جمع ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ اس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں۔ لہذا اس سے ڈر کر نیکی اور پرہیزگاری کی بات کرو۔
Read the full tafseer →آیت 9{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ } ”اے اہل ایمان ! اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو“
{ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ } ”تو گناہ ‘ زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو“
اگر تم میں سے چند لوگوں کا علیحدہ بیٹھ کر کوئی گفتگو یا منصوبہ بندی کرنا ناگزیر ہو تو یاد رکھو ‘ تمہاری اس خفیہ بات چیت یا سرگوشی کا موضوع ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس سے گناہ ‘ کسی پر زیادتی یا اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتاہو۔
{ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی } ”ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرسکتے…
Read the full tafseer →10 سرگوشی کی تین صورتیں اور ان کا مقام :۔ اس آیت میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے جن میں منافقین بھی شامل ہیں۔ سرگوشی، کاناپھوسی اور کھسر پھسر سب ہم معنی الفاظ ہیں۔ اور ان کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سرگوشی، بدنیتی، برے ارادوں یا کسی ناپاک سازش پر محمول ہو۔ جیسے منافق لوگ مسلمانوں کے خلاف سرگوشیاں کیا کرتے تھے۔ یہ شیطان کی انگیخت ہوتی ہے جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت سے مذکور ہے۔ اور یہ بالاتفاق حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ سرگوشی بھلائی اور نیکی پر محمول ہو مثلاً دو لڑنے والوں کے درمیان سمجھوتہ کے لیے سرگوشی کی جائے یا جیسے سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے جب اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لیا تھا…
Read the full tafseer →18۔ (جیسا کہ کافر اور منافق کرتے رہتے ہیں) یہاں یہ بتادیا کہ سرگوشی بجائے خود کوئی جرم نہیں، اسے جرم تو محض ان اغراض ومقاصد نے بنادیا ہے، جنہیں لے کر منافقین آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں۔
19۔ راز دارانہ سرگوشیوں کی ضرورت آخر مسلمانوں کو بھی کبھی پڑجاتی تھی، یہاں ارشاد ان سے ہورہا ہے کہ ضرورت کے وقت نفس سرگوشی کی ممانعت نہیں۔ لیکن یہود ومنافقین کا تشبہ ہلکا سا بھی نہ پیدا ہونے پائے، تمہارا موضوع ومقصود، بجائے اثم وعدوان ومعصیت رسول کے بروتقوی ہی رہے۔ (آیت) ” البروالتقوی “۔ اہل نظر نے کہا کہ آیت میں (آیت) ” البر “۔ سے مراد خیر متعدی، اور (آیت) ” التقوی “۔ سے مراد خیر لازمی ہے۔ مرشد تھانوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
تفسیر و تشریح
شان نزول :
اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں :
1۔ اول واقعہ :۔
آپ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلا جو سیاسی قدم اٹھایا وہ یہ تھا کہ یہود اور مسلمانوں کے درمیان معاہدہ صلح فرمایا تاکہ مدینہ کے یہود کی طرف سے اطمینان ہوجائے کیونکہ مشرکین مکہ کی جانب سے ریشہ دوانیاں رہتی تھیں اور ہمہ وقت خطرہ رہتا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دو طرفہ پریشانی میں مبتلا ہوجائیں، مگر صلح کے باوجود یہود اپنی نازیبا حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے، یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کو ذہنی طور پر پریشا ان کرنے کے لئے اپٓس میں سر جوڑ کر کھسر پھسر کرنے لگتے اور اس کی طرف دیکھتے جاتے اور بعض اوقات آنکھ وغیرہ سے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ۔
” اے ایمان والو ! جب تم (کسی ضرورت سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کرو اور نفع رسانی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشی کیا کرو اور اللہ سے ڈرو۔ جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے۔ “
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : مقاتل نے کہا : اس آیت میں خطاب منافقوں کو ہے جو صرف زبانوں سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے۔ دلوں میں ایمان نہیں تھا۔ عطاء نے کہا : وہ مؤمن…
Read the full tafseer →اے ایمان والو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو جھوٹ ظلم اور رسول اکرم کے حکم کی مخالفت کی سرگوشیاں مت کیا کرو جیسا کہ منافقین یہودیوں کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں اور فرائض خداوندی کی تعمیل اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان و بھلائی اور معاصی و ظلم کے چھوڑنے کے بارے میں سرگوشی کیا کرو اور مومنین مخلصین کے علاوہ سرگوشی کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس تم سب آخرت میں جمع کیے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ۔۔۔۔۔: جیسا کہ آیت (7) کے فوائد میں گزرا کہ ”نجویٰ“ کا لفظ عموماًبرے مقاصد کے لیے سرگوشیوں پر استعمال ہوتا ہے جو حرام ہیں ، لیکن بعض اوقات ”نجوی“ (خفیہ مشورہ) اچھے مقاصد کے لیے بھی ہے، اس کی اجازت ہے ، بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ باعث اجر ہے۔ (دیکھئے نساء : 114) اس آیت میں ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو گناہ ، زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی والی سرگوشیوں اور خفیہ مجلسوں سے منع فرمایا ، کیونکہ یہ ایمان کے دعویٰ کے خلاف ہے اور نیکی اور تقویٰ والی سرگوشیوں کی اجازت بلکہ نصیحت فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے سوگوشی کی ہر ایسی صورت سے منع فرمایا…
Read the full tafseer →یا یھا الذین امنوا اذا تنا جیتم مومنوں کو اس سے منع کیا کہ وہ منافقوں اور یہودیوں کی طرح باہم سرگوشیاں نہ کریں تو فرمایا : اے مومنوچ جب تم رازی داری سے بات کرو فلاتتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تنا جوا یہ عام قرأت ہے یحییٰ بنت و ثاب، عاصم اور رویس نے یعقوب سے فلاتنتجوا، اتجاء سے پڑھا ہے۔ وتنا جوا بالبر برسے مراد اطاعت ہے۔ والتقویٰ اللہ تعالیٰ نے جس سے بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچنے کی بات کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، خطاب منافقوں کو ہے مراد ہوگا اے وہ لوگوچ جو اپنے گمان کے مطابق مومن ہیں (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والو ! واثقوا اللہ الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کوئی فوجی دستہ بھیجتے تو اسے جنگ کرنے پر آمادہ کرتے تو منافقین آپس میں ملتے اور مسلمانوں کو دیکھ کر اپنے سروں کو ہلاتے اور کہتے تھے کہ یہ قوم یعنی صحابہ مارے جائیں اور جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپس میں سرگوشیاں کرتے اور غم کو ظاہر کرتے تو یہ بات نبی ﷺ اور مسلمانوں کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا تناجیتم فلا تتناجوا بالثم والعدوان الایۃ اے ایمان وال ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی سرگوشیاں نہ کرو۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اے لوگو جو ایمان لائے ][ اِذَا تَنَاجَيْتم : جب کبھی تم لوگ آپس میں سرگوشی کرو ][ فَلَا تَتَـنَاجوا : تو سرگوشی مت کرو ][ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَان : گناہ اور زیادتی کے بارے میں ][ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی نافرمانی کے بارے میں ][ وَتَنَاجوا : اور آپس میں سرگوشی کرو ][ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى: نیکی اور تقوٰی کے بارے میں ][ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيٓ: اور تقوٰی اختیار کرو اس اللہ کا ][ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : جس کی طرف تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ]
Read the full tafseer →اہل ایمان کو نصیحت کہ یہودیوں کا طریقہ کار استعمال نہ کریں
یہود اور منافقین کی بدحالی بتا کر مومنین مخلصین کو نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ ﴾ (اے ایمان والو ! جب تمہیں خفیہ مشورہ کرنا ہو (آہستہ آہستہ باتیں کرنی ہوں) تو گناہگاری اور زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو) ۔ ﴿ وَ تَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ﴾ (اور نیکی اور تقویٰ کا مشورہ کرو) ۔
﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 009 ﴾ (اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم جمع كئے جاؤ گے) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
بیان عظمت خداوندی وآداب حاضری دربار گاہ رسالت ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” الم تران اللہ یعلم ...... الی ...... واللہ خبیر بما تعملون “۔
(ربط) اس سے قبل ان غافلوں اور نافرمانوں پر وعید تھی جو اللہ کے رسول کے احکام سے بغاوت کریں روز قیامت اور اپنے اعمال کے نتیجہ کو فراموش کردیں ان کو آگاہ فرمایا گیا کہ اللہ رب العزت ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے اس کے علم اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں اب ان آیات میں حق تعالیٰ شاہ کی عظمت و جلال کا ذکر ہے اور یہ کہ اس کے رسول کی خدمت میں حاضری کے آداب کیا ہیں اور جو منافقین یہود آپ ﷺ کے پاس محض آپ ﷺ کا وقت ضائع کرنے یا آپ ﷺ کو ایذاء پہنچانے کی غرض سے آتے ہیں…
Read the full tafseer →12:۔ ” یا ایہا الذین امنوا اذا ناجیتم “ یہ اصلاح منافقین کیلئے پہلا قانون ہے اور خطاب منافقین سے ہے اور ایمان سے ایمان باللسان مراد ہے۔ ای امنوا بالسنتہم وھو خطاب للمنافقین (مدارک) ۔ یا مؤمنین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ کفار و منافقین کی طرح نہ ہوں۔ قال اللہ تعالیی مؤدبا عبادہ المؤمنین ان لا یکوانو مثل الکفرۃ و المنافقین (ابن کثیر ج 4 ص 323) ۔ کوئی ایسا پروگرام نہ بناؤ اور ایسا مشورہ نہ کرو جو سراسر گناہ ہو یا جس کا مقصد مسلمانوں پر ظلم وتعدی کرنا یا پیغمبر خدا ﷺ کے احکام کی مخالفت ہو۔ بلکہ ہمیشہ ایسے کاموں کے باہم مشورے کرو جو نیکی اور تقوی کے کام ہوں یعنی احکام شریعت کی تعمیل اور مخالفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات :
پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى0 وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 9
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک…
Read the full tafseer →1 ؎ سام موت مدینے کے یہود ایسا کرتے تھے دبخت لوگوں میں ایسی کمینگی اور چالاکی اور گستاخی کی عادت اخلاق کریمانہ کی جگہ ہوجاتی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ اسلام کا آسمانی قانون جس طرح روحانی اور اخلاق امور کی تعلیم کرتا ہے اسی طرح بعض رسمی اور علامتی باتوں کو بھی بڑے زور سے قائم کرتا ہے خصوصاً ان اوفضاع واطوار کو جو صحابہ ؓ پیغمبر ﷺ کے تھے جو اسلامیوں کے نشان اور علامات قرار دیے گئے ہیں (جیسا کہ ڈاڑھی رکھنا مونچھیں کتروانا ناخن لوانا زیر ناف کے بال لبنا ختنہ کرنا آپس میں بوقت ملاقات السلام علیکم کہنا) اس کا غلبہ اور قوموں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان باتوں میں پیروی کریں اوروں کو جھکاتا ہے مبتذل اور فاحشہ کی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ط وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المجادلۃ : 9)
(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں کوئی خفیہ مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو، اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم جمع کیے جاؤ گے۔ )
نجویٰ ایک اجتماعی ضرورت ہے لیکن اس کا مقصد پاکیزہ ہونا چاہیے
منافقین پر تنقید کے بعد مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ آپس میں رازداری کی باتیں اور سرگوشیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : بری سرگوشی سے منع کرنے کے بعد نیکی اور اچھے کاموں پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہر قسم کی سرگوشی کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ اس نے گناہ، ظلم اور رسول کی مخالفت کرنے پر سرگوشی سے منع کرنے کے ساتھ اور نیکی اور تقویٰ کے کام پر مشاورت اور سرگوشی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو ! بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ جو بری سرگوشی کرتے ہیں حقیقت میں وہ شیطان کی سرگوشی ہوتی ہے۔ شیطان اپنے کارندوں سے یہ کام اس لیے کرواتا ہے تاکہ اس سے ایمان دار لوگ پریشان ہوں، لیکن ایمان داروں کو برے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے غم…
Read the full tafseer →9 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا ( اے ایمان والو ! ) جو زبانوں سے فقط ایمان لائے ہو۔ یہ منافقین کو خطاب ہے۔ ظاہر کلام کا تقاضا یہ ہے کہ مؤمنین کو خطاب ہے۔ اِذَا تَنَا جَیْتُمْ فَـلَا تَتَنَا جَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی) وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ (سرگوشیاں نہ کیا کرو) یعنی جب سرگوشی کرو تو یہود اور منافقین کی طرح شرو گناہ کی سرگوشی مت کرو) وَتَنَاجَوْا بِالْبِّرِ (اور نفع رسانی کی سرگوشی کرو) طاعات اور ادائے فرائض کی سرگوشی کرو۔ وَالتَّقْوٰی (اور پرہیز گاری کی باتوں کی) گناہوں کو ترک کرنے کی سرگوشی کرو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ…
Read the full tafseer →8 ۔” الم ترالی الذین نھوا عن النجویٰ “ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ وہ آپس میں سر گوشیاں کرتے تھے اور مومنین کی طرف دیکھتے تھے اور آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے مسلمانوں کو یہ وہم دلاتے تھے کہ وہ آپس میں ایسی سرگوشی کررہے ہیں جو ان کو تکلیف پہنچائے گا۔
پس وہ اس وجہ سے غمگین ہوتے تھے اور کہتے تھے ہمارا خیال ہے کہ ان کو ہمارے ان بھائیوں کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے جو جہاد میں زخمی ہوگئے کہ یا تو وہ قتل کردیئے گئے ہیں یا مرگئے ہیں یا شکست کھاگئے ہیں تو یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں بیٹھ گئی اور ان کو غمگین کردیا۔ جب یہ بات کافی عرصہ رہی اور اکثر ہونے لگی تو مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
7۔ 10۔ خولہ بنت ثعلبہ اور اوس بن صامت کا قصہ جو اوپر گزرا ہے۔ ابن ماجہ 1 ؎ اور مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس قصہ کی روایت کے بعد فرمایا کرتی تھیں اللہ اکبر کس قدر ذرا ذرا سے اپنے بندوں کے قول و فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ جس مکان میں خولہ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت کی باتیں کیں اسی مکان میں میں بھی تھی میں نے بعضی باتیں خولہ کی نہیں سنیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب باتیں اس کی سن کر اس کی شکایت رفع کی۔ اور سورة مجادلہ کی اول آیتیں خولہ کے اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے نازل فرمائیں۔ حاکم نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ کے علم باطنی کا ایک نمونہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(النَّجْوٰى) دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ہے، کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔ (البر) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے 0 التقوی) تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کردینے کے لیے جامع نام ہے پس بندہ مومن اس حکم الہی کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (الفاجر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اہل کتاب کو کس طرح سلام کہا جائے ؟
قول باری ہے (واذا جآء ک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ۔ اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایسے لفظ سے آپ کو سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ )
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا۔ صحابہ کرام نے اس کے سلام کا جواب دے دیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں کچھ پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے ہمیں سلام کہا تھا۔
اس پر آپ نے فرمایا کہ ” اس نے سا علیکم کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ تم اپنے دین سے اکتا جائو۔ “ حضور ﷺ کے ارشاد ہے کہ ” جب اہل کتاب…
Read the full tafseer →[ 29] ناجائز سرگوشی سے ممانعت کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہیں آپس میں کوئی سرگوشی کرنی ہوا کرے تو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہیں کرنا، جس طرح کہ یہود اور منافقین کرتے ہیں، پس تم ایسے نہیں کرنا، اور تمہارے ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تم لوگ ایسی ہر بات سے دور ونفور ہو، جو ایمان کے تقاضوں کے خلاف اور اہل کفر ونفاق کا شیوہ ہو، سو اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ " نجوی " یعنی سرگوشی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حد تک ضرورت بھی ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بہرحال پیش آتے ہیں، جہاں انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سرگوشی اور نیت اللہ سب جانتا ہے
تشریح : ان آیات میں یہودیوں اور منافقین کے بارے میں تفصیلاً بتا دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اکثر اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے اور چپکے چپکے رسول اللہ ﷺ پر فقرے کستے اور مذاق اڑاتے یہ رویہ تو آج کے انسان میں بھی ہے کہ جب بھی کسی واعظ کی مجلس میں جاتے ہیں تو بدنیت، شیطان فطرت لوگ بجائے نصیحت حاصل کرنے کے الٹا غلط رویہ اختیار کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ دین کو مسلم معاشرے کو اور ہدایت کار کو نقصان پہنچائیں۔ تو اس وقت ان لوگوں کو یہ خیال تک نہیں آتا کہ رب العزت علیم وخبیر ہے۔ سمیع وبصیر ہے اور قادر مطلق ہے۔ یعنی کوئی کو نہ ایسا نہیں کہ جن کے بارے میں اللہ کو علم نہ ہو مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
مخالفت رسوال کا ایک اور انداز۔
نیز مخالفت کی مختلف صورتوں میں سیایک صورت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش سوچی جائے یہ عمل سب سے پہلے یہود نے اس وقت شروع کیا جب مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ صلح کرچکے تھے اور علانیہ مخالفت نہ کرسکتے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اور سب کو بھی جان لینا چاہیے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی خفیہ سازش بھی کرتا ہے تو اگر ایسے لوگ تین ہوں تو چوتھا اللہ کریم بھی تو سن رہا ہے یا پانچ ہوں یا اس سے کم یا زیادہ ہر حال میں اللہ کریم ذاتی طور پر سب جانتا ہے اور ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ…
Read the full tafseer →ف 7 دیکھئے سورة نساء آیت : 114 صحیحین میں حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : جب تم تین آدمی ہو تو تم میں سے چاہیے اس لئے کہ اس سے اس تیسرے آدمی کو رنج ہوگا کہ نہ معلوم میرے خلاف کوئی بات کررہے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(58:9) اذا تناجیتم : اذا شرطیہ ہے یا اسم ظرف زمان ہے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تم نے سرگوشی کی۔ یا جب تم سرگوشی کرو۔
فلا تتناجوا :جواب شرط کے لئے۔ لا تتناجوا فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ (تو تم) سرگوشی مت کرو۔ کانا پھوسی نہ کرو۔ تناجی (تفاعل) مصدر۔ تتناجوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم سرگوشی کیا کرو۔ یہاں نجوی سے مراد مشورہ ہے۔ یعنی جب رازدارانہ بات کرنا ہی ہو تو نیکی اور پرہیزگاری کے متعلق مشورہ کیا کرو۔
البر : مصدر ہے بمعنی نیکی کرنا۔ بھلائی کرنا۔ نیکوکاری۔ اعتقادی و عملی دونوں قسم کی نیکیاں اس میں شامل ہیں۔
التقوی : پرہیزگاری۔ بچنا۔ تقویٰ اسم ہے اتقی سے۔ لغت میں تو تقوی کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
نجوی۔ چپکے چپکے باتیں۔ سرگوشی۔ مشورے۔ ینبی۔ وہ آگاہ کرتا ہے۔ وہ خبر دیتا ہے۔ یعودون۔ وہ لوٹتے ہیں۔ وہ پلٹتے ہیں۔ حیو۔ انہوں نے دعادی۔ سلام کیا۔ تفسحوا۔ جگہ چھوڑو۔ کھل کر بیٹو۔ انشزوا۔ تم اٹھ جائو۔ قدموا۔ آگے بھیجو۔ اطھر۔ زیادہ پاکیزہ۔ زیادہ صاف ستھرا۔ اشفقتم ۔ تم ڈر گئے۔
تشریح : دین اسلام ہمیں روحانی اور اخلاقی بلندیوں کے ساتھ معاشرہ میں تہذیب و شائستگی، اعلیٰ درجہ کا نظم و ضبط، سادگی، وقار اور چھوتے برے کے آداب کا لحاظ کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور ہر اس طریقہ کو ناپسند کرتا ہے جس سے آپس میں کسی طرح کی غلط فہمی یا بدگمانی پیدا ہونے کا امکان بھی ہو۔
مشرکین، منافقین اور یہودو نصاری ہر وقت اس فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
مسلم امت کے دشمن یہود ومنافقین۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو آپس میں سرگوشیاں کرتے ، اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے ، اور اس سے انہیں رنج ہو ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یا ہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئیں اور مسلمانوں نے نبی ﷺ کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سرد اور دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[11] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو آپ ﷺ کو دوسرے انبیاء کے ساتھ ان لفظوں میں سلام کیا '' سلام علی المرسلین '' اور '' سلام علی عبادہ الذین اصطفے '' لیکن جب یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس آتے تو بجائے '' السلام علیک '' کے دبی زبان میں '' السام علیک '' کہتے جس کے معنی ہیں کہ تجھے موت آئے۔
[12] انسان کی غفلت اور سرکشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس مغالطے سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہو رہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی گرفت نہیں ہوگی حالانکہ یہ محض اس کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجاتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 2: عام مجلس میں دو تین آدمیوں کو کانا پھوسی کے لئے منتخب کرلینا اخلاقی لحاظ سے مذموم اور آداب مجلس کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اس فریق سے دوسروں کے دلوں میں بدظنی پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔ لیکن اگر ضرورت پیش آجائے ۔ تو ارشاد فرمایا ۔ کہ تمہاری باتیں نیکی اور تقویٰ کی باتیں ہونا چاہئیں ۔ کسی شخص کے متعلق اس لئے سرگوشی کرنا ۔ کہ اس کو تکلیف پہنچنے ۔ اسلامی زاویہ نگاہ سے بہت برا ہے ۔ اس لئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے ۔ کہ واتقو اللہ یعنی ان باتوں کو حقیر اور معمولی نہ جانو ۔ یہ زہدواتقاء کا صحیح مفہوم ہے ۔ کہ مسلمان زبور اخلاق سے آراستہ ہو ۔ اور یہ جانتا ہو ۔ کہ کون باتیں آداب مجلس کے منافی ہیں ۔ اور…
Read the full tafseer →(9) اے ایمان والو جب تم آپس میں سرگوشی اور بھید کی باتیں کرو تو گناہ کی اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں نہ کیا کرو بلکہ بھلائی اور پرہیزگاری کی باتوں پر ہم مشورہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے روبرو تم سب جمع کئے جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپس میں کوئی خفیہ بات اور خفیہ مشوروہ کرو تو وہ مشورہ گناہ کے لئے یا ظلم کے لئے یارسول کی نافرمانی کے لئے نہ ہوا کرے بلکہ بھلائی اور تقویٰ کے کاموں پر باہمی مشورہ کیا کرو یعنی دوسروں کو نفع پہنچانا مقصود ہو کوئی ظلم یا پیغمبر کی نافرمانی کی بات کے لئے مشورہ نہ ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اسی کی جناب میں سب کو حاضرہونا ہے۔
حضرت…
Read the full tafseer →ف 5۔ بر سے مراد نفع متعدی مقابل عدوان کے اور تقوی مقابل اثم و معصیت الرسول کے ہے۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو ( النجوی) یعنی سرگوشیوں کی مخالفت کرنے کے بعد مشروط اجازت
9 ؎ زندگی میں راز کی بات کسی نہ کسی سے انسان کو کہنا ہی پڑتی ہے اور صلاح مشورہ کو لازم بھی قرار دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ بعض مشورے ایسے بھی ہوتے ہیں جو سارے انسانوں کے سامنے نہیں کیے جاسکتے اور خصوصاً ان میں سے قومی مشورے راز دارانہ ہوتے ہیں جن کو راز میں رکھنا ضروری بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں چونکہ سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا اس لیے زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت فرما دی اور خصوصاً تمام ایمان والوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ ایمان والو ! جب تم کو کوئی راز و نیاز کی بات کرنا ناگزیر ہو تو سمجھ لو کہ معصیتوں اور گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
Manners of the Secret Conference
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ (0 those who believe, when you hold secret counsel, do not whisper for sinful act and wrongdoing and disobedience of the Messenger, and do whisper for righteousness and taqwa [ God-fearing ]... 58:9) In this and the preceding verses secret societies of the unbelievers have been condemned, but the condemnation is not unreserved or unqualified. The current verse guides the Muslims to be conscious of the…
Read the full tafseer →24 This shows that najwa (talking secretly together) by itself is not forbidden, but it s being lawful or unlawful depends upon the character of the people who hold secret consultations and upon the circumstances under which such consultations are held, and upon nature of the consultations themselves, If the people whose sincerity, righteousness and purity of character arc well known, arc seen talking secretly together, nobody would have any misgiving that they were planning mischief. On the contrary, the whispering and secret consultations of the people who are notorious for their evil and…
Read the full tafseer →