58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 58:1

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

اللہ نے بیشک اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ردو بدل کہہ رہی تھی اور اللہ سے فریا دکررہی تھی،1۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا اللہ تو (سب کچھ) سننے والا (سب کچھ) دیکھنے والا ہے،2۔

1۔ ان بی بی صاحب کا نام خولہ بن ثعلبہ تھا۔ ان کے شوہر اوس بن صامت نے ایک بارغصہ میں آکر ان سے کہہ دیا ” انت علی کظھر امی “۔ (تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت) اس کو اصطلاح میں ظہار کہتے ہیں اور عرب میں اس سے طلاق واقع ہوجاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان بی بی کا قصہ سن کر اسی قول مشہور کے مطابق فرمایا کہ میری رائے میں تو تو حرام ہوگئی۔ انہوں نے احتجاج کیا کہ شوہر نے لفظ طلاق تو کہا نہی نہیں، اور حق تعالیٰ سے فریاد کرنے لگیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ آیت سے ایک علم یہ بھی حاصل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہر ادنی سے ادنی بندہ اور بندی کی باتیں سنتا رہتا ہے (آیت) ” قد سمع اللہ “۔ قد توقع کے جواب میں اور اس کے پورے ہونے کے موقع پر آیا کرتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی رسول اللہ ﷺ اور ان صحابیہ دونوں کو توقع یہی تھی کہ اس مستغیثہ کی سن لی جائے گی۔ معناہ التوقع لان رسول اللہ ﷺ والمجادلۃ کانا یتوقعان ان یسمع مجادل تھا وشکواھا وینزل فی ذالک مایفرج عنھا (کشاف) (آیت) ” تجادلک “۔ جدال یہاں اپنے معروف معنی میں نہیں، بلکہ گفتگو کے ردو بدل کے معنی میں ہے۔ اے تراجعک الکلام فی شانہ (روح) 2۔ (اور اس جیسے خبیروعلیم، سمیع وبصیر کے لئے لوگوں کی مشکلات کی کشائش کرتے رہنا کیا دشوار ہے) (آیت) ” سمیع “۔ الفاظ واقوال کا سننے والا۔ (بصیر “۔ نیتوں اور دلوں کا حال جاننے والا۔
Ayah 58:2

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں تو وہ (بیویاں) ان کی مائیں (کچھ ہو) نہیں (جاتی) ہیں، ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ یقیناً ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہہ رہے ہیں،3۔ بیشک اللہ بڑا معاف کردینے والا ہے بڑا بخشنے والا ہے،4۔

3۔ (کہ بیوی کو ماں کہہ دینے یا ماں کے کسی حصہ جسم سے تشبیہ دے دینے سے حرمت لازم آجاتی ہے) (آیت) ” یظھرون منکم “۔ ظھار۔ اصطلاح شریعت میں یہی ہے کہ کوئی مرد اپنی بیوی سے کہے کہ ” انت علی کظھر امی “۔ (آیت) ” ماھن امھتھم “۔ نہ وہ بیویاں ان الفاظ کے تلفظ سے مائیں بن گئیں، اور نہ کوئی اور سبب حرمت کا پیدا ہوگیا، 4۔ (چنانچہ اس بارے میں بھی اگر گناہ کا تدارک کرلیاجائے تو گناہ معاف ہوجائے گا)
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں ایک مملوک کو آزاد کرنا ہے،5۔ اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے، اور اللہ کو پوری خبر ہے اس کی جو تم کرتے رہتے ہو،6۔

5۔ اور مملوک میں غلام اور باندی دونوں شامل ہیں۔ (آیت) ” رقبۃ “۔ کے لفظی معنی ” گردن “ کے ہیں قرآنی کنایہ میں مراد مملوک سے ہوتی ہے۔ (آیت) ’ فتحریر رقبۃ “۔ غلاموں، باندیوں کی گلوخلاصی اور آزادی کو مختلف گناہوں کا کفارہ بنادینا اس کے مرادف تھا کہ یہ گلوخلاصی اسلام میں بہرحال ایک امر مستحسن ہے۔ (آیت) ” ثم ..... قالوا “۔ یعنی تحریم زوجہ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ (آیت) ” من قبل ان یتمآسا “۔ یعنی قبل اس کے کہ میاں بیوی اختلاط کریں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ مس یا اختلاط کرلیا، تو اب اور کوئی مزید جزاء اس پر لازم نہ آئے گی، وہ کفارہ کافی ہوگا، البتہ اپنے اس عمل پر ندامت و توبہ بہرحال کرنی چاہے۔ (آیت) ” رقبۃ “۔ حنفیہ اور بعض دوسرے فقہاء قدیم اور بعض تابعین کے ہاں مملوک مطلق ہے، کافر ومسلم کے لئے عام ہے۔ امام شافعی (رح) و امام مالک (رح) کے نزدیک مملوک مسلمان ہونا چاہئے۔ فقال عطاء و مجاھد وبراہیم، واحدی الروایتین، عن الحسن یجزی الکافر وھو قول اصحابنا والثوری والحسن بن صالح، وروی عن الحسن انہ لایجزی فی شیء من الکفارات الاالرقبۃ ال مومن ۃ وھو قول مالک والشافعی (جصاص) 6۔ یعنی تمہاری لغزشوں اور خطاؤں سے بھی اور ان کے کفارہ سے بھی، سب سے باخبر ہے۔ قرآن مجید چونکہ احکام ظاہری کی تعمیل کافی نہیں سمجھتا، بلکہ قلب میں بھی تقوی پیدا کرانا چاہتا ہے، اس لئے تقریبا ہر حکم فقہی کے ساتھ ساتھ حق تعالیٰ کے عالم کل اور خبیر مطلق ہونے کا بھی استحضار کراتا رہتا ہے۔ دنیوی حاکموں کو دھوکا دے لینا بہرحال ممکن ہے، اصل ضرورت تو آسمانی عدالت سے ڈرنے کی ہے۔ (آیت) ” ذلکم تو عظون بہ “۔ یعنی تمہیں زجر ونصیحت اس حکم کفارۂ مالی کے ذریعہ سے کی جاتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کفارۂ مالی کو موجب وعظ وزجر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ مالی بار کو بھی اصلاح نفس میں دخل ہے۔ اور یہیں سے مشائح طریقت نے یہ تدبیر اخذ کی ہے کہ مریدوں سے ان کے نفس پر جرمانہ بھی کراتے ہیں، گو خود اسے وصول نہیں کرتے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں اس کے ذمہ دو متواتر مہینوں کے روزے ہیں،7۔ پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکے تو اس کے ذمہ کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کا،8۔ یہ (احکام) اس لئے ہیں تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں،9۔ اور کافروں کے لئے عذاب درد ناک ہے،10۔

7۔ یہاں یہ بتایا کہ جس کسی کے پاس غلام یا باندی سرے سے ہو نہیں (خواہ اس لئے کہ اسے اتنی مقدرت ہی نہ ہو اور خواہ وہ ملک ایسا ہو جہاں مملوک شرعی کا وجود نہ پایا جاتا ہو۔ مثلا آج کا ہندوستان) تو اس کے لئے دوسرا متبادل کفارہ یہ مسلسل دو (2) مہینہ کے روزے ہیں۔ 8۔ تیسرا متبادل کفارہ یہ ہوا۔ (آیت) ” ستین مسکینا “۔ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر ایک ہی مسکین کو 60 دن تک کھلاتے رہیں تو بھی درست ہے۔ (آیت) ” فمن لم یستطع “۔ غیرمستطیع سے اس سیاق میں وہ شخص مراد ہے جو بسبب ضعف یا مرض روزہ پر قادر نہ ہو۔ 9۔ (انہیں معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہ کرو، یاد رکھو کہ یہ الہی ضابطے ہیں) (آیت) ” ذلک لتؤمنوا باللہ “۔ ایمان پر مضبوطی احکام کی تعمیل وپابندی ہی سے قائم رہتی ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہی تعلیم جو ابھی اوپر ملی ہے۔ اشارۃ الی مامر من البیان (روح) 10۔ کافروں سے یہاں مراد وہ لوگ ہیں، جو خداوندی احکام اور ضابطوں کی تصدیق نہیں کرتے، محض تارکین نہیں، منکرین احکام مراد ہیں، قال ابن عباس ؓ لمن جحدہ وکذب بہ (معالم) اے الذین لم یؤمنوا ولا التزموا باحکام ھذہ الشریعۃ (ابن کثیر) اے الذین لا یقبلونہ، (بیضاوی) لمن جحد ھذا وکذب بہ (کبیر) جن مفسرین نے تارکین احکام مراد لی ہے، انہوں نے اطلاق کفر کو یہاں حقیقی معنی میں نہیں لیا ہے، بلکہ اسے صرف تہدیدی مفہوم میں لیا ہے۔ جیسا کہ بعض اور بھی آیات قرآنی میں آیا ہے۔ واطلق الکافر علی متعدی الحدود تغلیظا لزجرہ ونظیر ذلک قولہ تعالیٰ ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین (روح)
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے رہتے ہیں یہ خوار ہوں گے جیسے ان کے قبل کے لوگ خوار ہوچکے ہیں،11۔ اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کئے ہیں اور کافروں کیلئے ذلت کا عذاب ہونا ہے،12۔

11۔ (قتل سے، قید سے، شکست سے وغیرہا) (آیت) ” الذین ..... رسولہ “۔ اس کے تحت میں ریاست مکہ سے مشرکین اور یہود عرب دونوں آگئے۔ اور سزائے سخت یعنی حقیر و ذلیل ہونے کہ پیشگوئی دونوں کے حق میں جلد ہی پوری ہوکررہی۔ یہ لوگ وہی ہوتے ہیں، جو اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کئے ہوئے حدود کو چھوڑ کر اپنی طرف سے حدود وضع کرتے ہیں۔ اے یضعون اور یختارون حدودا غیر حدودھا (بیضاوی) آیت کو وسیع مفہوم میں لے کر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ جو مسلمان ملوک وامراء سوء نے شریعت اسلامی سے الگ ہو ہو کر قانون نکالے ہیں، وہ سب اسی وعید کے تحت میں آجاتے ہیں، لیکن صاحب روح نے ایک اسی قسم کے رسالہ کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ کاش رسالہ مذکور میری نظر سے بھی گزرا ہوتا، اس لئے کہ اتنی سی بات پر اطلاق کفر دشوار ہے۔ پھر آگے لکھا ہے۔ ثم ان لاشبھۃ فی انہ لاباس بالقوانین السیاسیۃ اذا وقعت باتفاق ذوی الاراء من اھل الحل والعقد علی وجہ یحسن بہ الانتظام ویصلح امر الخاص والعام ومنھا تعیین مراتب التادیب والزجر علی معاص وجنایات لم ینص الشارع علی حد معین بل فوض الامر فی ذلک لرأی الامام فلیس ذلک من المحادۃ للہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ فی شیء ” ایسے قوانین سیاسی میں تو مطلق مضائقہ نہیں جو اہل حل وعقد کے اتفاق رائے سے منظور ہوں اور جن کی غایت حسن انتظام اور معاملات کی درستی ہوتی ہے۔ اور انہیں میں سے یہ امر بھی ہے کہ جن گناہوں اور جرموں کے بارے میں شریعت نے کوئی سزائے معین نہیں رکھی ہے، بلکہ ان کی تفصیل امام پر چھوڑ دی ہے تو ایسے قوانین پر اللہ و رسول کے احکام کی مخالفت کا اطلاق ذرا بھی نہیں ہوتا۔ (آیت) ” کبتوا “۔ اس سزائے خواری کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان یاد رہے کہ مستقبل کے قطعی ویقینی واقعات کا ذکر صیغہ ماضی ہی میں ہی میں کیا جاتا ہے۔ 12۔ (آخرت میں) سزائے دنیوی کا ذکر ابھی گزر چکا۔ اب بیان سزائے آخرت کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” وقد انزلنا ایت بینت “۔ اس میں یہ اشارہ آگیا کہ ایسے کھلے ہوئے احکام وہدایات کی مخالفت یقیناً مستوجب تعزیر ہوگی۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

اس روز جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر ان کا سب کیا ہوا انہیں جتلائے گا، اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور یہ لوگ اسے بھول گئے اور اللہ تو ہر چیز پر مطلع ہے،13۔

13۔ (اس کے علم میں اور اس کے حساب و کتاب میں کسی غلطی یا اختلال کا احتمال بھی نہیں) (آیت) ’ نسوہ “۔ مراد نسیان طبعی واضطراری نہیں، بلکہ نسیان ارادی ہے، ان کی دانستہ بےالتفاتی وبے فکری کا نتیجہ۔ (آیت) ” واللہ ..... شھید “۔ مشرکین جاہلین کے استحضار کے لئے حق تعالیٰ کے عالم جزئیات وکلیات ہونے اور اس کی صفات ہمہ بینی وہمہ دانی کی تکرار وتاکید کی ضرورت بار بار تھی۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ نے اس پر نظر نہیں کی کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کوئی سرگوشی تین (آدمیوں) میں ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ نہ ہو، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی جس میں چھٹا وہ نہ ہو اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں، پھر وہ ان کو ان کے کرتوت قیامت کے دن جتلادے گا بیشک اللہ کو ہر چیز کو پوری خبر ہے،14۔

14۔ یہ تنبیہ وسرزنش یہود ومنافقین پر ہے جو اکثر باطل کے لئے سرگوشیاں آپس میں کیا کرتے، اور یہ سمجھے رہتے کہ اس کی خبر نہ مسلمانوں کو ہوگی نہ ان کے خدا اور رسول کو۔ (آیت) ” الم ..... الارض “۔ چناچہ انسانوں کا کوئی بڑے سے بڑا مخفی راز بھی حق تعالیٰ کے لئے راز نہیں۔ (آیت) ’ نجوی “۔ اس کے لفظی معنی تو مطلق سرگوشی کے ہیں۔ لیکن یہاں مراد وہ اسرار مخفی ہیں جو کسی بےگناہ کی اذیت رسانی یا امر حق کی مخالفت میں ہوں۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں (کے حال) پر نظر نہیں کی جنہیں سرگوشی سے روک دیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی کرتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا تھا، او سرگوشیاں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں،15۔ اور وہ جب آپ کے پاس آتے ہیں آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا،16۔ اور اپنے آپس میں کہتے ہیں کہ اللہ ہم کو ہمارے اس کہنے پر (فورا) سزا کیوں نہیں دے دیتا ؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے کہ اس میں یہ داخل ہوں گے سو وہ برا ٹھکانا ہے،17۔

15۔ یعنی یہ بدسرشت لوگ حکم امتناعی کے باوجود سرگوشیاں کر کر کے تین تین قانونی دفعات کے تحت میں مجرم ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الاثم “۔ قانون کی خلاف ورزی بجائے خود ایک گناہ ہے، یہ پہلا جرم ہوا۔ (آیت) ” والعدوان “۔ یعنی مسلمانوں کو دیکھ پہنچانے اور ان کی طبیعت کو ملول ومکدر کرنے کا گناہ۔ یہ دوسرا جرم ہوا۔ (آیت) ” ومعصیت الرسول “۔ یعنی رسول کی براہ راست نافرمانی۔ یہ تیسرا جرم ہوا۔ (آیت) ” نھوا عن النجوی “۔ خفیہ سرگوشی بجائے خود کوئی جرم نہیں۔ یہاں مفاسد اور شرانگیزیوں کی بناء پر ممنوع قرار پائی۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ امام کو اختیا رہے، اپنے اجتہاد و احتیاط کی بناء پر جس امر مباح سے چاہے رعایا کو روک دے۔ 16۔ یہود مدینہ کی بدنفسی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جب مجلس نبوی ﷺ میں آتے، اور عام ملکی تہذیب اور بےتمیزی کا ڈھونڈھ لیتے، یعنی زبان سے بجائے ” السلام علیکم “ کے السام علیکم، تلفظ کرتے جس کے معنی ہیں کہ تم پر موت آئے۔ (آیت) ” حیوک .... اللہ “۔ آج کل سلام کے جو غیر اسلامی صیغے، آداب، اور کو رنش اور بندگی اور مجرا وغیرہ نکل آئے، اور اس سے بڑھ کر اب جو ” جے ہند “ وغیرہ نکل رہے ہیں، فقہاء عصر نے آیت کے اس جزء سے استدلال کرکے ان سب کو بدعت قرار دیا ہے۔ 17۔ (اور عذاب عاجل تو دوسری حکمتوں اور مصلحتوں سے سردست ملتوی ہوگیا ہے) (آیت) ” ویقولون ...... نقول “۔ یعنی اگر یہ واقعی رسول ہیں، اور ہم ان کے ساتھ گستاخیاں کررہے ہیں، تو آخرت ہمیں سزا فورا کیوں نہیں مل جاتی ؟
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والوجب تم کسی سے سرگوشی کرو تو سرگوشی گناہ اور زیادتی اور نافرمانی رسول کی نہ کرو،18۔ اور نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشیاں کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے،19۔

18۔ (جیسا کہ کافر اور منافق کرتے رہتے ہیں) یہاں یہ بتادیا کہ سرگوشی بجائے خود کوئی جرم نہیں، اسے جرم تو محض ان اغراض ومقاصد نے بنادیا ہے، جنہیں لے کر منافقین آپس میں سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں۔ 19۔ راز دارانہ سرگوشیوں کی ضرورت آخر مسلمانوں کو بھی کبھی پڑجاتی تھی، یہاں ارشاد ان سے ہورہا ہے کہ ضرورت کے وقت نفس سرگوشی کی ممانعت نہیں۔ لیکن یہود ومنافقین کا تشبہ ہلکا سا بھی نہ پیدا ہونے پائے، تمہارا موضوع ومقصود، بجائے اثم وعدوان ومعصیت رسول کے بروتقوی ہی رہے۔ (آیت) ” البروالتقوی “۔ اہل نظر نے کہا کہ آیت میں (آیت) ” البر “۔ سے مراد خیر متعدی، اور (آیت) ” التقوی “۔ سے مراد خیر لازمی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کے لئے تخیلہ میں تعلیم وگفتگو کی گنجائش اس آیت سے نکلتی ہے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

(ایسی) سرگوشی بس شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ مسلمانوں میں رنج ڈالے اور انہیں کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا مگر ہاں اللہ کے ارادہ سے،20۔ اور ایمان والوں کو تو بس اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے،21۔

20۔ شیطان مردود میں قوت ہی کیا ہے، اس سے کسی صاحب ایمان کا ہراساں ہونا بالکل بےمعنی ہے۔ مسلمان کو اس کے اثر سے جو کچھ مضرت پہنچتی ہے وہ بھی تمامتر حق تعالیٰ ہی کی مشیت تکوینی کے ماتحت۔ (آیت) ” انما النجوی من الشیطن “۔ اس نجوی ، (سرگوشی) سے مراد وہی مفسدانہ وشرانگیز سرگوشیاں ہیں۔ (آیت) ’ باذن اللہ۔ “۔ اذن پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) (آیت) ” وما ھم بضآرین بہ من احد الا باذن اللہ “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ 21۔ (اور ادھر ادھر اپنے خیالات کو ڈانوا ڈول ہونے ہی نہ دینا چاہئے) مومن اگر اللہ پر پورا پورا توکل واعتماد کرے تو پھر ہمیشہ کے لئے شیطان اور ہر مخلوق کی طرف سے خطرہ سے نجات ہوجاتی ہے۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو جگہ کھول دیا کرو اللہ تمہیں کھلی جگہ دے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو، تو اٹھ کھڑے ہوا کرو،22۔ اللہ تم میں ایمان والوں کے اور ان کے جنہیں علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا اور اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے،23۔

22۔ غرض یہ کہ صدر مجلس کے ہر حکم کی تعمیل بےچون وچرا کیا کرو۔ (آیت) ” یایھا الذین ..... المجلس “۔ اب تعلیم آداب مجلس کی مل رہی ہے، خصوصا مجلس نبوی ﷺ کی۔ شریعت کی ہمہ گیری سے زندگی کا کون سا شعبہ بچا رہ سکتا ہے۔ (آیت) ” اذا قیل لکم “۔ یہ حکم صدر مجلس کی طرف سے ملے گا، کسی ضرورت یا مصلحت کی بناء پر۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ طریقت اگر اپنی مجلس کے کچھ آداب و ضوابط مقرر کرے، تو اسے اس آیت سے اصل مل سکتی ہے۔ 23۔ (چنانچہ اس کی بھی کہ کون تعمیل ارشاد، محض دنیوی مصلحت سے کررہا ہے بلاشائبہ ایمان، اور کون پورے ایمان، اخلاص و خشیت کے ساتھ کررہا ہے) (آیت) ” الذین .... درجت “۔ ان قیدوں کے لگ جانے سے، درجات عالی کے وعدہ سے منافقین نکل گئے، اور یہ وعدہ درجات عالی، مجموعہ مخاطبین میں سے صرف اہل ایمان اور اہل علم کے لئے، ان کے غایت خلوص وغایت خشیت کی بناء پر مخصوص رہ گیا، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کے لئے جائز ہے کہ اپنے اصحاب کے درمیان خواص وعوام کے فرق کی رعایت کرے اور اس کا مدار شیخ کی رائے پر ہوگا نہ کہ اصحاب شیخ کی رائے پر۔
Ayah 58:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے قبل کچھ خیرات دے دیا کرو،24۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور پاک ہونے کا اچھا ذریعہ لیکن اگر تم مقدرت نہ رکھتے ہو، تو اللہ بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،25۔

24۔ حکم اغنیائے امت کو مل رہا ہے کہ تم رسول سے اگر تخیلہ چاہتے ہو تو کچھ نہ کچھ نذرانہ فقرائے امت کیلئے پیش کیا کرو، اس حکم کا امت کی انتظامی مصلحتوں پر مبنی ہونا بالکل ظاہر ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ سے تخلیہ چاہنا ایک امر اہم ہے، بلاضرورت اس کی درخواست ومبادرت نہ کرے۔ 25۔ (چنانچہ ناداروں کے حق میں تخیلہ کیلئے اس نے کوئی ایسی قید یا شرط نہیں رکھی) (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ آیت کے شروع میں ان الفاظ مخاطبت سے ظاہر ہورہا ہے کہ اب گفتگو منافقین سے نہیں صرف مخلصین سے ہورہی ہے۔ (آیت) ” ذلک خیرلکم واطھر “۔ جب ہر طاعت کفارۂ سیئات کا سبب ہوتی ہے، تو یہ طاعت بھی لامحالہ اعنیائے امت کے کفارۂ سیئات کا باعث ہوگی، (مرشد تھانوی (رح)) نے فرمایا کہ آیت میں اس شخص کے لئے تسلی ہے، جو صاحب مقدرت نہ ہو، اور شیخ کو ہدیہ دینے پر قادر نہ ہو۔
Ayah 58:13

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اس سرگوشی کرنے کے قبل خیرات کرنے (کے حکم) سے ڈرگئے ؟ سو (خیر) جب تم نہ کرسکے اللہ نے تمہارے حال پر توجہ فرمائی تو تم نماز کے پابند رہو، اور زکوٰۃ دیا کرو اور کہا مانو اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ کو پوری خبر ہے تمہارے اعمال کی،26۔

26۔ یعنی اس حکم منسوخی کے بعد بھی قرب ووصول کے لئے تمہارے لئے دوسرے احکام شریعت پر عمل و مداومت عمل کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ (آیت) ” وتاب اللہ علیکم “۔ چناچہ حق تعالیٰ نے اسے بالکل ہی منسوخ کرکے اس حکم کی تعمیل سے معاف کردیا۔ (آیت) ” ءاشفقتم .... صدقت “۔ روایات حدیث میں آتا ہے کہ جب حکم تخلیہ رسول سے قبل صدقہ پیش کرنے کا نازل ہوا تو بہت سے صحابی ڈر گئے، اور ضروری باتیں پوچھنے سے بھی رک گئے، یہ صحابی یقیناً نادار ہوں گے، انہیں ایک طرف تو یہ احساس کہ ہم اپنی ناداری کی بناء پر ادائے صدقہ کے قابل نہیں، دوسری طرف فرط خشیت سے اپنے متعلق اس میں بھی شک کہ آیا ہم حقیقۃ مقدور اور اس حکم صدقہ سے مستثنی ہیں بھی۔ (آیت) ” واللہ خبیر بما تعملون “۔ حق تعالیٰ خبردار ہے اعمال کی ظاہری صورت سے بھی اور ان کی باطنی کیفیات سے بھی۔
Ayah 58:14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے، یہ لوگ نہ تو تم میں ہیں اور نہ انہیں میں ہیں جھوٹی بات پر قسم کھا جاتے ہیں، درآنحالیکہ (اسے خوب) جانتے ہیں،27۔

27۔ (کہ حلف جھوٹا اٹھالیتے ہیں) (آیت) ” الذین تولوا “۔ مراد منافقین ہیں۔ جس میں سے بہت سے خود بھی یہود تھے اور میل جول بھی یہود ہی سے زیادہ رکھتے تھے ، (آیت) ” قوما غضب اللہ علیہم “۔ مراد یہود ومشرکین ہیں۔ زیادہ ترمراد یہود ہی لئے گئے ہیں۔ وھم الیھود (روح) (آیت) ” ما ..... منھم “۔ یعنی یہ نہ ادھر کے نہ ادھر کے، منافقین نہ تو امت اسلامی ہی کے جزو ہیں، اور نہ ان کا شمار کھلے ہوئے باغیوں اور منکروں میں ہے۔ (آیت) ” منکم “۔ ضمیر جمع مخاطب سے مراد مومنین ہیں، اور ” منھم “۔ میں ضمیر جمع غائب سے مراد وہی قوم مغضوب۔ (آیت) ” یحلفون علی الکذب “۔ اور ان کا سب سے بڑا کذب ان کا یہی دعوی اسلام و ایمان تھا۔ (آیت) ” یحفلون “۔ کے صیغہ مضارع سے اشارہ یہ ہو رہا ہے کہ یہ لوگ ایمان واسلام کا جھوٹا حلف اٹھاتے ہی رہتے ہیں۔ وصیغۃ المضارع اللدلالۃ علی تکرار الحلف (روح)
Ayah 58:15

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بیشک (بہت) برے ہیں دو کام جو وہ کیا کرتے ہیں،28۔

28۔ ظاہر ہے کہ کفر اور پھر منافقت کے ساتھ اخفائے کفر سے بڑھ کر برا کام اور کون سا ہوگا۔ ؛ (آیت) ” انھم ..... یعملون “۔ اس فقرہ نے یہ بتادیا کہ ان کے معذب ہونے کی بنیاد و باعث ان کا یہی کفر وسوء عمل ہے۔ (آیت) ” عذابا شدیدا “۔ سے یہاں مراد عذاب قبر بھی لی گئی ہے۔ والمراد منہ عند بعض المحققین عذاب البقر (کبیر)
Ayah 58:16

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے پھر (اوروں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے،29۔

29۔ عذاب شدید کا ذکر ابھی آچکا ہے، اسی کی تاکید ہے کہ وہ عذاب شدید ہونے کے ساتھ ہی ذلیل ورسوا کرنے والا بھی ہوگا، گویا آزار جسمانی واذیت قلبی کا جامع ، (آیت) ” اتخذوا ایمانھم جنۃ “۔ یعنی اپنے بچاؤ کے لئے اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانے سے جانتے تھے کہ اب مسلمان ان کے جان ومال سے تعرض نہ کریں گے۔
Ayah 58:17

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ (کے عذاب) سے انہیں ذرا نہ بچا سکیں گی یہ لوگ دوزخ والے ہیں اسی میں ہمیشہ رہیں گے،30۔

30۔ آج بھی دنیا میں جو قومیں آخرت کی طرف سے غافل وبیخبر ہیں، انہیں بڑا غرہ اپنی وسیع مالیانہ اور کثیر آبادی ہی کا رہتا ہے۔
Ayah 58:18

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس روز اللہ ان سب کو دوبارہ اٹھائے گا یہ اس کے سامنے (اس طرح) قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں اور یہ خیال کریں گے کہ ہم کسی اچھے حال میں ہیں،31۔ تو خوب سن لو کہ یہ لوگ بڑے ہی جھوٹے ہیں،32۔

31۔ یعنی یہ سمجھیں گے کہ دنیا میں مسلمان کی حیثیت سے رہنے کی جھوٹی قسم کھا کر عذاب جہنم سے بچ جائیں گے۔ جیسے دنیا میں قانون شریعت کی گرفت میں آنے سے، جھوٹ بول بول کر اور مکر کر کرکے بچ جاتے تھے۔ 32۔ (کہ حق تعالیٰ کے سامنے تک جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسم کھانے سے نہ چوکے) جن لوگوں کی ساری عمر مسلسل کذب ومنافقت کی نذر ہو ہی، عجب کیا، جو حشر میں اپنی اسی عادت مستمر کی بنا پر، ان کی زبان جھوٹ پر کھل جائے، اور حق تعالیٰ اس طرح عرصۂ حشر میں ان کی مزید تفضیح ورسوائی کا سامان کردیں۔
Ayah 58:19

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان چھا گیا ہے سو اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں خوب سن لو کہ شیطان کا گروہ ٹوٹے ہی میں پڑ کر رہنے والا ہے،33۔

33۔ (آخرت میں تو یقیناً ، اور دنیا میں بھی احیانا) (آیت) ” استحوذ علیھم الشیطن “۔ چناچہ اسی کے چھا جانے سے انہوں نے اس کے اثر اضلال واغواء کو قبول کرلیا ہے۔ (آیت) ’ فانسھم ذکر اللہ “۔ چناچہ یہ احکام الہی کو بالکل چھوڑے بیٹھے ہیں۔ ذکر الہی سے غفلت اور شیطانی تسلط کی خاص علامت یہ ہے کہ انسان کو احکام الہی سے غفلت کی صحبتوں میں غفلت ومعصیت ہی کے مشغلوں اور چرچوں میں لگنے لگتا ہے۔
Ayah 58:20

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ ذلیل ترین ہیں،34۔

34۔ (جس کا کامل ومستقل ظہور آخرت میں ہو کر رہے گا، اور کبھی کبھی دنیا میں بھی) ساری مخلوقات میں اس سے بڑھ کر ذلیل و حقیر کون ہوگا جو خود امن وصداقت کے خلاف جنگ کررہا ہے۔
Ayah 58:21

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہیں گے، بیشک اللہ بڑا قوت والا ہے، بڑا غلبہ والا ہے،35۔

35۔ (اس کے لئے کیا دشوار ہے کہ خلاف اسباب ظاہر بھی جس کو چاہے غلبہ دے دے) حق و باطل کے معرکہ میں حق کا غلبہ بلحاظ قوت دلائل تو ہمیشہ ہی رہتا ہے، اور بہت موقعوں پر اس کا ظہور مادی وظاہری حیثیت سے بھی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” کتب اللہ “۔ یہ وعدۂ حق لوح محفوظ میں مکتوب ہے، اے فی اللوح (مدارک) اے اثبت فی اللوح المحفوظ (روح)
Ayah 58:22

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، آپ انہیں نہ پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر کے مخالف ہیں، خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے کنبے والے ہی کیوں نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں کہ (اللہ نے) ان کے دلوں میں ایمان ثبت کردیا ہے، اور انہیں اپنے فیض سے قوت دی ہے،36۔ اور انہیں ایسے باغوں میں جا داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اللہ سے خوش ہوں گے، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں خوب سن لو کہ اللہ ہی کے گروہ والے فلاح پانے والے ہیں،37۔

36۔ چناچہ وہ لوگ ظاہر میں احکام پر عمل کرتے رہتے ہیں۔ اور باطن میں اسی سے سکون بھی حاصل کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” لاتجد ...... عشیرتھم “۔ مومن کامل ومخلص کی ایک خاص علامت یہ ہوتی ہے۔ کہ وہ دوست بھی اپنے محبوب حقیقی کے دوستوں اور مخلصوں ہی کو رکھتا ہے اور اس کے باغیوں، منکروں کو اپنا بھی دشمن سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کی طبعی محبتوں پر بھی حق تعالیٰ کی عقلی محبت غالب آجاتی ہے، یہ چند رشتے صرف نمونہ کے طور پر گنادئے گئے، انہوں رشتوں کی تعیین و تخصیص مراد نہیں۔ ولیس المراد من ذکر خصوصھم وانما المرادالاقارب مطلقا (روح) (آیت) ” بروح منہ “۔ یعنی وہ سکینت یا نورانیت جو حیات معنوی کو قائم رکھتی اور ترقی دیتی رہتی ہے، وھو نورالقلب (بیضاوی) وتسمیتہ روحا مجاز مرسل لانہ سبب للحیاۃ الطیبۃ الابدیۃ (روح) 37۔ (آخرت میں توتمامتر اور دنیا میں بھی اکثر) (آیت) ” الآ ..... المفلحون “۔ شیطان والے گروہ کا ذکر ابھی گزر چکا ہے، اب ذکر اس کے مقابلے میں اللہ والے گروہ کا ہے، مستقل اور پائداد جتنی بھی نعمتیں ہیں، وہ سب فلاح میں شامل ہیں اور ان سب کا وعدہ اسی گروہ سے ہے۔ اس گروہ کی خاص شناخت یہ بتائی کہ اللہ ان کی طاعت سے خوش رہے گا اور یہ اس طاعت کے انعام سے جی بھر کر خوش اور مطمئن ہوجائیں گے۔ (آیت) ” حزب اللہ “۔ مومنین متقین کے کمال شرف و امتیاز کیلئے یہ بس ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کا انتساب خاص اپنی ذات کے ساتھ کرکے انہیں یاد فرمایا ہے۔