Ayahs 58:1–2[ 3] ظہار کی بےحقیقتی کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے جو لوگ ظہار کرلیں اپنی بیویوں سے۔ یعنی ان کو اپنی محرمات ابدیہ میں سے کسی کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے د ہیں۔ جس کو دیکھنا ان کے لیے حرام ہے، اور اس سے ان کا مقصود ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر حرام کرنا ہوتا ہے، جیسے " انت علی کظھر امی " کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، وغیرہ۔ سو یہ سب بےحقیقت ہے۔ زمانہء جاہلیت میں اس سے عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہوجایا کرتی تھی، اور ایسی کہ اس سے رجوع کرنے کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی تھی، اور اس سے آگے طرح طرح کے فتنے پیدا ہوتے، اور مفاسد جنم لیتے تھے، تو اسلام نے اپنی ان پاکیزہ اور مقدس تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اس عذاب سے ہمیشہ کے لیے نجات دے دی۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔ بہرکیف ظہار ان ہی خلاف فطرت باتوں میں سے ایک تھا، جس کو لوگوں نے زمانہء جاہلیت کی رسوم بد کی بنا پر اپنے اوپر مسلط کر رکھا تھا، اس لیے دین حنیف اسلام مجید نے اس طرح کی خلاف فطرت باتوں کی اصلاح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سب باتیں غلط اور بےبنیاد ہیں، سو اس طرح اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلادی، کہ فطرت کے قانون کے مطابق جس چیز کے لئے جو جگہ مقرر ہے، اس کو اسی جگہ رکھو۔ اس میں ردوبدل کرکے دین فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش مت کرو، کہ یہ خرابی و فساد کی راہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، یاذالجلال والاکرام، سبحانہ وتعالیٰ ، جل شانہ وعم نوالہ،
[ 4] کسی کی ماں وہی ہوتی ہے جو اس کو جنم دیتی ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی مائیں تو وہی ہوتی ہیں، جنہوں نے ان کا جنم دیا ہوتا ہے، کہ حقیقی مائیں تو وہی ہوتی ہیں، البتہ " حکما " اور " احتاماً " دوسری بھی ہوسکتی ہیں، جیسے حرمت رضاعت اور حرمت مصاہرت وغیرہ اسباب کی بناء پر جو مائیں بنتی ہیں، یا وہ جو باپ دادا کی منکوحہ ہوں، یا پیغمبر کی ازواج مطہرات، کہ یہ سب حکماً اور احتراماً مائیں ہیں، مگر اصل اور حقیقی ماں انسان کی وہی ہوتی ہے جس نے اس کو جنا ہوتا ہے، سو ایسی حقیقی ماؤں کو جو حرمت حاصل ہوتی ہے، وہ ان کے جننے کی بناء پر ہوتی ہے، اس لیے یہ ایک فطری اور ابدی حرمت ہے، جو دوسری کسی عورت کو محض اس بناء پر حاصل نہیں ہوسکتی، کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دے دی، سو اس طرح کی کوئی بات اگر کسی نے کہی تو یہ ایک بھونڈی اور جھوٹی بات ہوگی، جس پر وہ تنبیہ اور تادیب کا مستحق ضرور ہے، لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوجائے گی، ایسے جاہلانہ تصورات کی کوئی حقیقت نہیں، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ظہار جیسی ایسی ناروا باتوں سے فطرت کے قوانین نہیں بدل سکتے، اور کسی شخص کی بیوی محض اس کے منہ کی بات اور ان کے جھوٹ کی بناء پر اس کی ماں نہیں بن سکتی، انسان کی ماں وہی ہے اور وہی ہوسکتی ہے جو اس کو جنم دیتی ہے اور بس۔ اس کے سوا باقی سب باتیں بےبنیاد ہیں، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ،
[ 5] ظہار ایک جھوٹی اور قابل تادیب بات :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ ایک بھونڈی اور جھوٹی بات منہ سے نکالتے ہی۔ والعیاذ باللّٰہ۔ جو جھوٹی اور حقیقت و واقعہ کے بھی خلاف ہے، اور دین و شریعت کے اعتبار سے بھی ممنوع و محذور ہے، پس مومن صادق کے شایان شان نہیں کہ وہ ایسی بات منہ سے نکالے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو ایسی بھونڈی، نامعقول اور جھوٹی بات منہ سے نکالنے پر ایسا شخص تنبیہ و تادیب کا مستحق تو ہوگا، لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوجائے گی، سو اگر کوئی مسلمان اس طرح کی کوئی جھوٹی اور بھونڈی بات منہ سے نکال دے، اور اشتعال میں آکر اس حرکت کا ارتکاب کرلے، اور پھر اس کو اپنی غلطی پر احساس ہوجائے، تو اس کی معافی کی امید رکھنی چاہیے، کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا، معاف فرمانے والا ہے، غلطی کا احساس کرنے والے کیلئے اس کے یہاں عفو و درگزر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ خواقہ غلطی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، توبہ البتہ سچی اور مخلصانہ ہونی چاہیے اللہ توفیق بخشے اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پانہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین
Ayah 58:3[ 6] ظہار کے حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر وہ اپنی کہی ہوئی بات سے پھرنا چاہیں، یعنی ان سے زن و شوئی کے تعلقات پھر قائم کرنا چاہیں تو اس کیلئے یہ حکم اور یہ طریقہ ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے اور یہ اس ارشاد کا ایک معنی و مفہوم ہے، اور اپنے ظہار کا نقص و ازالہ کرنا چاہتے ہیں، اور اپنے کیے پر نادم ہو کر اس کو بدلنا چاہیں تو ان کیلئے یہ حکم اور یہ طریقہ ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے اور یہ اس ارشاد کا ایک معنی و مفہوم ہے، جب کہ دوسرا مفہوم اس ارشاد کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی ہی بات پھر کرنا چاہتے ہوں [ خازن، مراغی، اور صفوۃ وغیرہ ] مگر ظاہر پہلا ہی احتمال ہے، والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ العزیز بہرکیف اس سے ظہار کا حل بتایا گیا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے ظہار کر بیٹھے، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹنا چاہے، جس کو اس نے اپنے طور پر حرام ٹھہرا دیا تھا، تو اس کو اس سے پہلے کفارہ ادا کرنا پڑنے گا، جس کا ذکر آگے آرہا ہے، سو اس کی تنبیہ و تادیب کے لئے اس پر کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، تاکہ اس طرح اس شخص کو بھی آئندہ کیلئے تنبہ و تادیب ہوجائے، اور دوسروں کو بھی اس سے سبق مل جائے۔ اور وہ اس سے باز رہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، وھو العزیز الوھاب، جل شانہ وعم نوالہ،
[ 7] کفارہء ظہار کی ادائیگی قبل المسیس :
چناچہ اس بارے میں تصریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ قبل اس سے کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو چھوئیں، سو اس کی ادائیگی سے قبل اس سے وطی کرنا اس کے اس شوہر کے لیے جائز نہیں، یعنی تم اس اور مسیس سے یہاں پر بطور مجاز وطی مراد ہے، اور بعض نے کہا کہ یہ مطلق مس پر محمول ہے، لہٰذا کفارہ کی ادائیگی سے قبل اس کے لیے اس کو ہاتھ لاگانا بھی جائز نہیں بہرکیف " من قبل ان یتماسا " [ قبل اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں ] میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کفارہ ہاتھ لگانے سے پہلے ادا کردیا جائے، آگے والی آیت کریمہ میں اس قید کا اعادہ ہے، جس سے اس کی مزید تاکید فرما دی گئی ہے، اس لئے کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ غلبہء نفس سے بےبس ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی تعلق قائم کرلے، اگر کسی نے ایسے کیا تو یہ حدود اللہ سے تجاوز ہوگا، والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
[ 8] احکام الٰہی سے متعلق ایک خاص ہدایت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان احکام کے بارے میں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، یعنی تمہارے رب کی جانب سے۔ تاکہ تم ظہار جیسے اس منکر سے باز رہو، اور ان مشکلات اور پریشانیوں سے محفوظ رہو، جو اس کے نتیجے میں تم کو پیش آتی ہیں، اور ان باتوں کی نصیحت تم لوگوں کو تمہارتے رب کی طرف سے کی جاتی ہے، جس جیسی اور کوئی نصیحت ممکن ہی نہیں، پس تمہارا بھلا اور فائدہ اسی میں ہے کہ تم اپنے رب کی ان باتوں کو دل و جان سے اپناؤ، اور ان پر صدق دل سے اور پوری احتیاط کے ساتھ عمل کرو، کہ اس میں خود تم ہی لوگوں کا بھلا ہے، دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، اور تمہارے رب کے ہر حکم کی شان یہی ہے کہ اس میں خود تمہارا ہی بھلا ہوتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو رب کی ان نصیحتوں کو کہیں تم لوگ دنیاوی قوانین و ہدایات کی طرح نہیں سمجھ لینا، جہاں پر ظاہر و باطن کے اختلاف اور منافقانہ پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہاں صدق و اخلاص ہی درکار ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، وھو العزیز الوھاب، سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 9] اللہ ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہے، سبحانہ وتعالیٰ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو، اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ تم ہر حال میں اس کی معصیت اور نافرمانی سے بچنے کی فکر و کوشش کرو، کیونکہ ہر کسی نے اس کے یہاں بہرحال حاضر ہونا اور اپنے کیے کرائے کا پھل پانا ہے، پس اگر تم میں سے کسی نے اعلانیہ یا خفیہ طور پر اس کے ان احکام کی خلاف ورزی کی تو وہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکے گا، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کا بھلا اور اس کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اس حقیقت کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھے، کہ ایسا معاملہ اس کے خالق ومالک سے صحیح اور درست رہے کہ وہ اس کے ہر کام سے پوری طرح واقف و آگاہ اور باخبر ہے، اس سے اس کی کوئی بھی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 58:4[ 10] غلام نہ ملنے کی صورت میں حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جس کو یہ میسر نہ ہو یعنی غلام نہ مل سکے کہ سرے سے غلام ہی نہی پائے جاتے ہوں، جیسا کہ آج کل ہے، یا خریفنے کی طاقت نہ ہو، دونوں صورتوں میں ایسے شخص کے ذمے روزے رکھنا ہے، سو ایسی صورت میں یہ شخص لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے، اور تسلسل اور پابندی کے ساتھ اس طرح رکھے کہ بیچ میں کوئی ناغہ نہ ہو، جیسا کہ آگے آرہا ہے کہ کفارہ کے ان روزوں میں تسلسل ضروری ہے، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر کفارہء ظہار کی ادائیگی کے سلسلے میں غلام باندی کو آزاد کرنے کی صورت میسر نہ ہو کہ یا سرے سے غلام باندی ہی کہیں موجود نہ ہوں یا وہ شخص ان کو خریدنے اور آزاد کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو تو پھر متواتر دو ماہ کے روزے رکھے۔ سو دو ماہ کے متواتر روزے غلام آزاد کرانے کے متبادل ہے۔ اگر بیچ میں ناغہ کرلیا تو کفارہ ادا نہ ہوگا بلکہ از سرنو رکھنے پڑیں گے۔
[ 11] کفارہ ظہار میں روزوں کے حکم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اس کو غلام باندی میسر نہ آسکیں، تو اس کے ذمے لگاتار دو ماہ کے روزے ہیں، پس اگر بیچ میں کوئی دن ناغہ کرلیا تو ازسر نو رکھنے پڑیں گے، اگرچہ دو ماہ کا آخری دن کی کیوں نہ ہو، کیونکہ تتابع یعنی لگاتار رکھنے کی وہ شرط فوت ہوگئی، جس کا پایا جانا ضروری ہے، [ المراغی وغیرہ ] اسی لئے حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ روزے وہ شخص اس طرح رکھنے کہ بیچ میں نہ رمضان کا مہینہ آئے، اور نہ ان پانچ دنوں میں سے کوئی دن جب میں روزہ رکھنا جائز نہیں، یعنی دونوں عید کے پانچ دن کیونکہ ان میں تسلسل شرط ہے جیسا کہ آیت کریمہ میں صریح طور پر موجود ہے۔ اور تین دن ایام تشریق کے، تاکہ وہ ماہ کے ان روزوں کے تتابع اور تسلسل میں کوئی انقطاع واقع نہ ہوجائے [ روح وغیرہ ] بہرکیف دہ ماہ کے ان روزوں میں تتابع اور تسلسل شرط ہے۔
[ 12] قبل المسیس کی شرط کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یعنی یہ کفارہاتھ لگانے سے پہلے پہلے ادا کیا جائے، آگے والی آیت میں بھی اس قید کا اعادہ ہے، جس سے اس کی مزید تاکید ہوجاتی ہے، سو اس طرح مؤکد کرکے واضح فرما دیا گیا کہ یہ جائز نہیں کہ خواہش نفس سے مغلوب ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی تعلق قائم کرلیا جائے، سو اگر ایسا کیا گیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود سے تجاوز ہوگا، جو کہ جائز نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 13] کفارہ ظہار کی تیسری صورت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا پھر جو ایسا نہ کرسکے، یعنی روزے نہ رکھ سکے خواہ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے، یا اس طرح کی کسی اور وجہ سے، تو وہ ساتھ مسکینوں کو پیٹ بھر کے کھانا کھلائے، یا وہ آدھا صاع گندم یا ایک صاع جو یا کھجور فی مسکین کے حساب سے غلہ دے دے، اور یہ بھی تم اس یعنی وطی اور دواعیء وطی سے قبل ادا کرے [ المراغی وغیرہ ] سو کفارہء ظہار کی یہ تین صورتیں ہوگئیں، اول یہ کہ وہ ایک غلام آزاد کرے، اگر ایسے نہ کرسکے تو پھر دوسری صورت کہ لگاتار ساٹھ دن کے روزے رکھے، اگر کسی عذر کی بناء پر یہ بھی نہ ہوسکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یہاں پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے سلسلہ میں " من قبل ان یتماسا " کی قید کو ذکر نہیں فرمایا گیا، لیکن یہ قید اس صورت میں بی ملحوظ ہے اور اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شکل اصل نہیں، بلکہ اصل کی مطابق فرع ہے اور جب اصل کے ساتھ اس کا ذکر موجود ہے تو پھر فرع کے ساتھ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ اصل میں اس کا مذکورہ ہونا ہی کافی ہے، پس ایسا روزے بھی قبل المسیس رکھے گا، سو اس سے اللہ تعالیٰ کی ارشاد فرمودہ ہدایت پر عمل اور اس کی سرحدوں کی پابندی و پاسداری کا ہم صلہ وثمرہ ذکر وبیان فرما دیا گیا، تاکہ اس طرح تمہارے ایمان کی تقویت کا سامان ہو۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشے اور اس طور پر کہ وہ ہم سے راضی ہوجائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، کل شانہ وعم نوالہ فایاہ نسئل التوفیق لم ایحب ویرضی، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، جل وعلا۔
[ 14] حدود اللہ کی پابندی تقویت ایمان کا ذریعہ و وسیلہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ان ہدایات ربانیہ کے فائدے کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اسلئے ہے تاکہ تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر، کہ جاہلیت کے طریقوں کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ فرمودہ احکام کے مطابق عمل کرو، تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوزو فلاح سے بہرہ ور و سرفراز ہو سکو، سو اس سے ان ہدایات کا فائدہ ذکر فرمایا گیا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہدایات تم لوگوں کو اسلئے دی گئی ہیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر تمہارا ایمان مضبوط ہو، کیونکہ انسان جب اپنی کسی کمزوری یا غلطی کی تلافی کیلئے کوئی مشقت اٹھاتا ہے تو اس سے اس غلطی کی تلافی بھی ہوتی ہے، اور اصل مقصد میں اس کے قدم بھی راسخ ہوتے ہیں، سبحان اللّٰہ ! کیسی کیسی باریکیاں اور نزاکتیں و لطافتیں اور برکتیں ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے ارشادات پر عمل پیرا ہونے میں، سبحانہ وتعالیٰ ، پس بندے کیلئے خیران کو صدق دل سے اپنانے میں ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب، والھادی الی الحق والرشاد، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی وجہ کل شرو فساد، ودفع کل ظلم وعناد،
[ 15] حدود اللہ کو توڑنے والوں کیلئے دردناک عذاب، والعیاذ باللّٰہ :
سو ایسے واضح فرما دیا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدیں ہیں، اس لیے ان کو توڑنے کی جسارت نہ کرنا کہ اس کا انجام برا ہوگا کہ اللہ کی حدوں کو توڑنا کفر ہے اور کافروں کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کے ارشاد فرمودہ احکام کا انکار کریں، معلوم ہوا کہ دردناک عذاب دراصل کفار کے لیے ہے، گنہگار مومن اپنے ایمان کی برکت سے اس سے محفوظ رہے گے، سبحان اللہ ! کس قدر عظیم دولت ہے، یہ ایمان کی دولت ہے، " فالحمد اللّٰہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان، اللّٰۃ م فزدنا منہ وثبتنا علیہ " سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ کی مقرر فرمودہ حدود کو توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے، [ تفسیر المراغی وغیرہ ] دوسرے مقام پر اسی حقیقت کو اس طرح ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ { ولیحکم اہل الانجیل بمآ انزل اللّٰہ فیہ ط ومن لم یحکم بما انزل اللّٰہ فاولئک ھم الفسقون } [ المائدہ : 47 پ 6] یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابقو حکم اور فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں، سو کیسے بدقسمت اور بدبخت ہیں، وہ لوگ، جو اسلام کا دعوی رکھنے کے باوجود اپنے آپہ کو کافروں میں شامل کرلیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 58:5[ 16] محادہ کا معنی و مفہوم ؟:
یحادون۔ حد سے بنا ہے جس کے معنی روکنے اور باز رہنے کے آتے ہیں، اسی لئے دربان کو حداد کہا جاتا ہے کہ وہ اندر جانے سے روکتا ہے، پس جو لوگ اللہ پاک اور اس کے رسول کے احکام کو توڑتے، اور ان کی مخالفت کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی طرف سے حدود متعین کرتے اور خود شارع بنتے ہیں، نیز مخالفت کرنے کی وجہ سے چونکہ وہ دوسری حد اور دوسری جہت میں ہوجاتے ہیں، اس لیے یہ لفظ مخالفت، دشمنی اور نافرمانی کے، معنی میں استعمال کیا جاتا ہے [ ابو السعود، خازن وغیرہ ] سو یہ لفظ " موادۃ " کا مخالف اور اس کی ضد ہے، اور اب یہاں سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جن کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی اور مخالفت کا تھا، والعیاذ باللّٰہ، سو اوپر ان لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، جو کسی مشکل کے پیش آنے صورت میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں، انہی کے سامنے اپنی مشکل پیش کرتے، اور انہی سے شکوہ اور مجادلہ کرتے، اور اپنی مشکل کا حل ڈھونڈتے ہیں یہاں سے اب اس کے بالمقابل ان لوگوں کا کردار پیش فرمایا جا رہا ہے، جو دعوی تو ایمان و اسلام کا کرتے تھے، لیکن ان کا رویہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا تھا جو کہ ہلاکت و تباہی اور ذلت و رسوائی کا راستہ ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
[ 17] انکار و تکذیب حق کے نتیجہ و انجام کا ذکر وبیان :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انکار و تکذیب حق اور اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ جیسا کہ گزشتہ اقوام کے وہ کفار و مشرکین جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام کی خلاف ورزی و نافرمانی کی تھی، اور وہ اس کا انجام بھگت چکے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، " کبت " کے معنی ذلیل و خوار کرکے تباہ کرنے کے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو آج اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور دمنی کرتے ہیں، یہ بھی اسی طرح ذلیل و خوار ہو کر تباہ و برباد ہوں گے، جس طرح کہ ان سے پہلے کے انکے ہم شرب ہلاک ہوچکے ہیں، کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے ایک اور یکساں ہے، سو اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہئے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اس سلسلے میں ایسے لوگوں کو قانون قدرت کے مطابق جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ بہرحال ایک ڈھیل ہوتی ہے جس نے اپنے مقرر پر بہرحال ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے، اور اس کے بعد ایسے لوگوں نے بہرطور اپنے ہولناک انجام سے دو چاسر ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف،
[ 18] توضیح حق کے لئے کھلی نشانیوں کا انتظام :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہم نے اتاردی ہیں کھلی آیتیں، یعنی ایسی نشانیاں جو حق و ہدایت کی توصیح کے لئے کافی اور وافی ہیں، اور یہ ایسی نشانیوں ہیں۔ جو ایک طرف تو حلال و حرام اور جائز و ناجائز وغیرہ احکام کو کھول کھول کر اور صاف صاف بیان کرتی ہیں، اور دوسری طرف وہ اس دین اور اس کے لانے والے رسول کی صداقت و حقانیت بھی پوری طرح سے واضح کر رہی ہیں، نیز یہ ارشاد ان تاریخی حقائق سے متعلق بھی ہے، جو سابقہ کفار و منکر قوموں کی ہلاکت و تباہی کے بارے میں ذکر ہوئے ہیں، سو ان آیات بینات کے ذریعے اس حقیقت کو پوری طرح واضح کردیا گیا کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کرنے والے بالآخر ذلیل و خوار اور ہلاک و برباد ہو کر رہتے ہیں، سو ایسے میں دور حاضر کے ان منکروں کیلئے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ،
[ 19] کافروں کے لیے رسوا کن عذاب۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کیلئے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ کہ انہوں نے تکبر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق کو جھٹلایا اور ٹھکرایا، تو اس کے عوض ان کو ایسا رسوا کن عذاب بھگتنا ہوگا، کہ جزا عمل کے مطابق ہوتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ من کل سوئٍ وشرّ اور یہ اشارہ ان کافروں کی طرف ہے جو حضور ﷺ کی مخالفت میں سرگرم تھے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بھی بالآخر اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے، جس طرح کہ ان کے پیشرو ذلیل و خوار ہوچکے ہیں، کیونکہ جب ان کا عمل و کردار وہی ہے، جو ان گزشتہ کفار منکرین کا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کا نجام ان سے مختلف ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے یکساں اور ایک برابر ہے، سو کافروں کیلئے بہرحال رسوا کن عذاب ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
[ 20] یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور غفلت کے ماروں کو یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ یاد کریں اس دن کو جس دن اللہ ان کو بتادے گا وہ سب کچھ جو انہوں نے کیا تھا، اپنی فرصت حیات میں، تاکہ ان کے کرتوت سب کے سامنے ان کی ذلت و رسوائی کا سامان بن سکیں، اور یہ واضح ہوجائے کہ جو کچھ ان کو پیش آرہا ہے، وہ سب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، کوئی زیادتی ان پر کسی بھی طرف سے نہیں ہوئی ہے۔ " فان الجزآء من جنس العمل " یعنی جزاء عمل کے مطابق اور اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یعنی جس طرح کا عمل ہوگا جزاء بھی اسی طرح کی ہوگی، کیونکہ روز جزاء میں انسان کا اپنا کیا کرایا اور اس کا طبعی نتیجہ اور ثمرہ ہی اس کے سامنے آئے گا، خیر کا خیر، اور شر کا شر، اور بتادینے سے مراد صرف خبر کردینا یا مطلع کردینا ہی نہیں، بلکہ یہاں دراصل ملزوم بول کر لازم مراد لیا گیا ہے، یعنی ان کے زندگی بھر کے سب کیے دھرے کو ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، تاکہ یہ لوگ اپنے کیے کرائے بھگتان کا خود خمیازہ بھگتیں، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، اور " جمیعا " کی قید سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ آج جو سازشیں اور سرگوشیاں یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف کر رہے ہیں، ان کے تمام عوامل و ارکان جمع کیے جائیں گے، اور اللہ ہر ایک کے سامنے اس کے سارے راز بےنقاب کر دے گا، تاکہ یہ امر واضح ہوجائے کہ کس نے کیا کردار ادا کیا تھا، اور کس طرح کا حصہ کیا تھا، تاکہ وہ اس کا پورا بدلہ پائے۔ اور اسطرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ وباللّٰہ التوفیق۔
Ayah 58:6[ 21] ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو بھول گئے ہیں، یعنی یہ بھول گئے ہیں اپنے کیے کرائے کو، کہ ان کے نزدیک کوئی حساب کتاب ہونا ہی نہیں ہے، بلکہ ان کے خیال کے مطابق یہ سب کچھ یونہی مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا، اور بس، مگر ان کے بھلا دینے سے معاملہ یونہی رفت گزشت تھوڑا ہی ہوجائے گا، کہ ان کی کوئی پرستش اور پوچھ نہ ہو، نہیں بلکہ ان کے کرتوتوں کا پورا ریکارڈ تیار اور محفوظ ہے، جس کے نتیجہ میں ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتنا بہرحال اور پورے طور پر بھگتنا ہوگا، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، سو بڑے ہی خصارے میں ہیں وہ لوگ جو اس بارے غفلت و لاپرواہی کا شکار ہیں، اور وہ اپنی آخرت اور اس انجام لازم مصیر محتوم کو بھول کر اسی دنیا اور اس کی فانی لذتوں کیلئے جہ رہے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے غافل اور منکر لوگوں کے ایک بہت بڑے مغالطے کا ازالہ فرما دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جس طرح یہ سب کچھ کر کرا کر بھول گئے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کو بھول گیا ہے اس لیے ان کو ان کی شرارتوں اور شرانگیزیوں کی کوئی سزا نہیں ملے گی، سو ایسے لوگوں کی اس ہولناک غلط فہمی سے ان کا سارا سلسلہ حیات ہی غلط ہوگیا اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ ایسے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے جس کے تدارک اور تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکے گی، اس لئے رب رحمن نے اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ اس طرح کے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ سب یونہی مٹ مٹا کر ختم ہوجائے گا، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سب کیے کرائے کا ریکارڈ محفوظ کر رکھا ہے۔ جو قیامت کے اس روز حساب میں انکے ساتھ رکھ دیا جائے گا جو فیصلے اور بدلے کا دن ہوگا تب ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا اور پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ کھرا کیا ہے تھا اور کھوٹا کیا ؟ اور یہ کہ کون کہاں کھڑا تھا، تب پتہ چلے گا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حالٍ من الاحوال جل وعلا۔
[ 22] اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر کسی کا ریکارڈ موجود محفوظ ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو اپنے کیے کرائے کو بھلائے بیٹھے ہیں، لیکن اللہ نے اس سب کو پوری طرح محفوظ کر رکھا ہے کہ اس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، اور ان کا کیا دھرا اس نے ان کے نامہ ہائے اعمال میں درج بھی کرا رکھا ہے، سو یہ اپنے کئے کرانے کا بھگتان بہرحال جھگت کر رہیں گے، پس یہ لوگ اس غلظ فہمی میں نہ رہیں کہ جس طرح یہ سب کچھ کرکے بھول گئے ہیں، اسی طرح اللہ بھی اس کو بھول گیا ہے، اور معاملہ ختم ہوگیا ہے، نہیں ایسے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرکے محفوظ کر رکھا ہے، اور جزا و سزا کے اس حقیقی اور ہوناک دن میں ان کا سب کیا کرایا ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، اور اس کے مطابق ان کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا پڑے گا، سو جو لوگ اس اہم اور بنیادی حقیقت کو فراموش کئے بیٹھے ہیں وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اس لئے غافل لوگوں کو آنکھ کھول کر اپنے بارے میں دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ یہ کہاں کھڑے ہیں، ان کو کیا کرنا چاہئے تھا اور یہ کیا کر رہے ہیں، اور یہ اس یوم حساب کیلئے تیاری کرلیں قبل اس سے کہ حیات دنیا کہ یہ فرصت مستعاران کے ہاتھ سے نکل جائے جو کہ اصل میں انسان کو دی ہی اسلئے گئی تھی کہ وہ آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے تیاری کرسکیں، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال،
[ 23] اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ پوری طرح جانتا ہے کہ وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو بھی کوئی سرگوشی ہوتی ہے وہ اس کے علم میں ہوتی ہے جہاں تین کی سرگوشی ہوتی ہے وہاں چوتھا وہ ہوتا ہے، اور جہاں پانچ کی ہوتی ہے وہاں چھٹا وہ ہوتا ہے، یعنی کم سے کم عدد تناجی اور مش اور ات کے لیے یہی ہوتا ہے تاکہ اگر دو میں اختلاف رائے ہوجائے تو تیسرا حکم اور ثالث بن سکے، نیز آگے جو " نعمیم ولا ادنی من ذالک " سے ارشاد فرمائی جا رہی ہے، وہ بھی حقیقی معنوں میں اسی صورت میں متحقق ہوسکتی ہے جب کہ آغاز تین کے عدد سے فرمایا جائے، کہ تین سے ادنی دو موجود ہے کیونکہ دو سے ادنی یعنی ایک میں تناجی و مشاورت کا تحقق نہیں ہوسکتا، بہرکیف اس سے اوپر والی بات کی مزید وضاحت فرما دی گئی کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت میں ہے، وہ اس کی ایک ایک چیز سے واقف و آگاہ ہے، کوئی بھی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ اس کی قدرت سے خارج، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور " الم تر " کا خطاب یہاں پر عام ہے اور یہ اسلوب بیان اس موقع پع اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ ایسی بات ہے جو ہر شخص پر واضح ہونی چاہئے اور ہر کسی کو اس کے بارے میں غور وفکر کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے۔ آمین ثم آمین،
Ayah 58:7[ 24] اللہ تعالیٰ کی معیت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی یہ ہوں، یعنی وہ ہر وقت ہر حال میں انکے ساتھ ہوتا ہے، یعنی اپنے علم لامتناہی اور قدرت بےپایاں کے اعتبار سے، اور جس کے علم وقدرت کی یہ شان ہو اس سے کائنات کی کوئی چیز چھپی کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور ایسی ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور اپنی عرض والتجاء پیش کرنے کیلئے واسطوں کے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اس کو دنیا کے حاکموں اور بادشاہوں پر قیاس کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ تعالیٰ اللّٰہ عما یقولون علواً کبیراً ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ جتنے بھی ہوں، اور جہاں بھی اور جس حال میں بھی ہوں، وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، اس سے ان کی کوئی بات اور کیفیت بھی مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی، اس لئے وہ ہر ایک کے سامنے اس کا ایک ایک عمل رکھ دے گا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ان لوگوں کو یہ اہم اور بنیادی حقیقت ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے کہ آسمان و زمین کی پوری کائنات میں کوئی گوشہ ایسا نہیں ہوسکتا جہاں یہ اپنے آپ کو خدائے عالم الغیب سے چھپا سکیں، پس ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کریں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 58:8[ 25] مخالفین کی سرگوشیوں اور ان کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا یونی ان کے حال پر غور نہیں کیا جن کو سرگوشیوں سے منع کیا گیا مگر وہ پھر بھی اسی بات کی طرف لوٹتے ہیں، جس سے ان کو منع کیا گیا اور وہ گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں، روایات میں ہے کہ یہود جب کسی مسلمان کو آتا دیکھتے تو آپس میں کانا پھوسی شروع کردیتے، تاکہ اس سے اس کو ڈر اور خوف لاحق ہو، اور وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے ہی بارے میں کوئی پروگرام بنا رہے ہیں، تاکہ اس طرح وہ راستہ بدلنے پر مجبور ہوجائے، تو آنحضرت ﷺ نے یہود کو اس طرح سرگوشیوں سے منع فرمایا مگر یہ لوگ اس کے اس مذموم حرکت سے باز نہ آئے، تو اس پر اللہ پاک نے یہ ارشاد نازل فرمایا، [ روح، قرطبی، ابن کثیر، محاسن اور جامع البیان وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کی یہ حالت تعجب اور افسوس کے لائق ہے، کہ ان کو جن سرگوشیوں سے روکا گیا تھا یہ انہی میں لگے ہوئے ہیں، اور اس سے بھی بڑی جسارت یہ کہ یہ لوگ سرگوشیاں بھی گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی کرتے ہیں، ان کو نہ ذرہ برابر اپنی اس حرکت پر شرم آتی ہے اور نہ خدا کا خوف۔ جس سے ان کی حرمان نصیبی واضح ہوجاتی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔
[ 26] اشرار کی شرانگیزی کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان :
سو اس سے اشرار کی شرارت اور ان کے بخض و کہنہ کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے کہ یہ بدبخت اللہ کے پیغمبر کو سلام کرتے وقت السلام علیک کی بجائے السّام علیک کہتے تھے، جس کے معنی موت کے آتے ہیں، سو اس طرح وہ بدبخت اپنے دلوں کی اس جلن اور اپنے اس بغض کا اظہار کرتے جس میں یہ خود ہی جل رہے تھے۔ " قاتلہم اللہ واجعل کیدھم فی نحورھم " بہرکیف اس سے ان اشرار کی شقاوت و بدبختی اور ان کی محرومی میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، کہ یہ لوگ اس ذات اقدس کے لیے موت کی بددعا کرتے ہیں، جو سراسر رحمت و شفقت اور حضرات انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ واسلام کی امام و پیشوا ذات ہے، اور جن پر اللہ اور اس کے فرشتے درودوسلام بھیجتے ہیں، سو اس میں جہان ان سیاہ بختوں کی بدبختی کا اظہار ہے وہیں پیغمبر ﷺ کے لیے تسکین و تسلی کا سامان بھی۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
[ 27] بدبختوں کے ایک مغالطے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان بدبختوں کے مغالطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ سو یہی غلط فہمی ایسے سیاہ بخت لوگوں کو کل تھی اور یہی غلط فہمی آج بھی بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہے، کہ ہمیں ہمارے جرائم کی سزا فوری طور پر کیوں نہیں مل جاتی، حالانکہ اللہ پاک کے حلم بےپایاں اور اس کے کرم بےنہایت کے علاوہ خود اس دنیا کے دارالعمل اور دارالامتحان ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے، کہ ایسوں کو ڈھیل اور مہلت ملتی جائے، تاکہ دنیاوی زندگی کی اس فرصت امتحان کے ختم ہوجانے پر ان کے لئے کوئی عذر اور حجت باقی نہ رہ سکے، سو اگر کفروبغاوت، اور زیغ وضلال، اور الحادو انحراف پر فوری سزا نہیں ملتی، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس پر عذاب ہونا ہی نہیں، اور یہ کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، اللہ پاک پاک کی بےآواز لاٹھی سے غافل اور بےفکر ہوجانا بہت بڑی بھول اور بڑی ہلاکت کی بات ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شییئ۔
[ 28] منکروں کیلئے جہنم کافی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کافی ہے ان کیلئے دوزخ جس میں ایسے منکروں کو بہرحال داخل ہونا ہوگا، اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا۔ پس دنیا میں اگر ایسے بدبختوں کو کوئی سزا نہ بھی ملے، تو بھی کیا ہوا کہ دوزخ کے اس عذاب کے بعد کوئی کسر باقی نہیں رہے گی، کہ اس کا عذاب ایسا ہولناک اور اس قدر سخت ہوگا کہ اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، اور جس کا معاملہ دوزخ کے اس ہولناک عذاب پر رکھ دیا جائے، اس سے بڑا بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہر کیف فرمایا گیا کہ ان کیلئے جہنم ہی کافی ہے جس میں ان کو بہرحال داخل ہونا ہوگا، اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے، اس کے ہوتے ہوئے اگر ان پر دنیا کا کوئی عذاب نہ بھی آئے تو بھی کچھ فرق نہیں پڑتا، دوزخ کا وہی عذاب ساری کسر پوری کردینے کے لئے کافی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین، وھو العزیز الوہاب،
Ayah 58:9[ 29] ناجائز سرگوشی سے ممانعت کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تمہیں آپس میں کوئی سرگوشی کرنی ہوا کرے تو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہیں کرنا، جس طرح کہ یہود اور منافقین کرتے ہیں، پس تم ایسے نہیں کرنا، اور تمہارے ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تم لوگ ایسی ہر بات سے دور ونفور ہو، جو ایمان کے تقاضوں کے خلاف اور اہل کفر ونفاق کا شیوہ ہو، سو اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ " نجوی " یعنی سرگوشی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حد تک ضرورت بھی ہے کہ اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بہرحال پیش آتے ہیں، جہاں انسان کو دوسروں کے ساتھ راز دارانہ مشوروں کی ضرورت پڑتی ہے، اور شورٰی تو اہل ایمان کی اجتماعی زندگی کی اساسات میں سے ہے، اور اس میں راز داری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، سو سرگوشی جب صحیح مقصد کیلئے ہو تو وہ بری نہیں اس لئے یہاں پر صرف ناجائز سرگوشی سے منع فرمایا گیا ہے، کہ وہ تمہارے دین و ایمان کے تقاضوں کے خلاف اور اہل کفر ونفاق کا شیوہ ہے۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا ،
[ 30] جائز سرگوشی کی اجازت واستثناء کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ [ اے ایمان والو !] نیکی اور پرہیزگاری کی سرگوشی کیا کرو، یعنی ایسی چیز کی جس میں دنیا وآخرت کا بھلا ہو، خود تمہارے لئے بھی، اور دوسروں کیلئے بھی، سو جو " نجوی " یعنی سرگوشی نیکی، تقوی اور اصلاح البین جیسے امور خیر کیلئے ہو وہ جائز، بلکہ باعث خیروبرکت ہے، پس تم لوگ کوئی بھی رازدارانہ مشورہ کرو، تو وہ کسی مقصد خیر ہی کیلئے کرو، اور جو " نجوی " و سرگوشی گناہ، زیادتی اور معصیت رسول جیسے امور معصیت کیلئے ہو وہ نجوی ئِ شیطانی ہے، اس سے تم لوگ ہمیشہ اور ہر حال میں بچتے رہا کرو، سو اس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ " نجوی " یعنی سرگوشی کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ دراصل ان باتوں پر موقوف ہوتا ہے جن کے لئے سرگوشی کی جاتی ہے، اگر وہ صحیح اور درست ہوں گی، تو ان کیلئے کی جانے والی سرگوشی بھی صحیح اور درست ہوگی، اور اگر وہ باتیں غلط اور ناجائز ہوں گی تو ان کیلئے کی جانے والی سرگوشی بھی ناجائز اور ممنوع ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل سوئِ وانحراف،
[ 31] تقویٰ اور پرہیزگاری اصلاح کی اصل اصیل :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ہمیشہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے۔ پس یہ اساس و بنیاد اور مقیاس و معیار ہے ہر اس کام کیلئے جو تم کرتے ہو، لہٰذاہر کام میں اسی کو پیش نظر رکھا کرو، کہ یہ کام کہیں اللہ پاک کی ناراضگی کا باعث تو نہیں، اس طرح تمہارا ہر معاملہ خود سیدھا ہوتا چلا جائے گا، سبحان اللہ ! کتنا آسان اور کس قدر پاکیزہ نسخہ ہے، تقویٰ و پرہیز گاری اور خدا خوفی کا یہ نسخہ جو دین ِ حق نے اپنے ماننے والوں کو سکھایا بتایا ہے، مگر آج دنیا اور خود مسلمان اس سے غافل وبے بہرہ ہے۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، اور تقویٰ و پرہیزگاری کی تاکید مزید کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اس اللہ سے جس کے حضور تم سب کو اکٹھا کیا جائے گا، جہاں پہنچ کر تم لوگوں نے اپنے کیے کرائے کا پورا حساب دینا ہے، اور اس کا پھل پانا اور جہاں تمہارا کوئی معان ومساعد نہیں ہوگا جو تمہیں وہاں کی گرفت وپکڑ سے چھڑا اور بچا سکے، اس لئے یوم حساب کے اس یوم عظیم کے تقاضوں کو ہمیشہ اور ہر حال میں پیش نظر رکھا کرو، سو اس یوم عظیم یوم حساب کی یاددہانی اور تقوی و پرہیز گاری اصلاح احوال کی اصل اصیل اور اساس متین ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل اٰن وحین، وھو العزیز الوہاب، ملہم الصدق والصواب، جل وعلا
[ 32] یوم حساب کی تذکیر و یاددہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ڈرتے رہا کرو تم لوگ اس اللہ سے جس کے حضور اکٹھا ہو کر پیش ہونا ہے تم سب کو، اے لوگو !۔ اور وہاں تمہیں اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کی جواب دہی کرنا ہوگی، اور اس کے مطابق بھر پور صلہ وبدلہ پانا ہوگا، لہٰذا ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور کس جزا وسزا کا مستحق ہے، پس تم لوگوں کو ہر اس چیز سے بچنا چاہیے، جو اس وحدہ لا شریک کی ناراضگی اور اس کے غیظ وغضب کا باعث بنے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور " تحشرون " کے صیغہ مجہول سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حشر بہر حال ہو کر رہے گا، اور تم سب کو بہرحال اس کے حضور حاضر ہونا اور اپنے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، کوئی چاہے یا نہ چاہے، ایسا بہرحال ہو کر رہے گا، اور ہر کسی نے اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کے حساب کتاب اور اس کی جوابدہی کیلئے وہاں حاضر ہونا ہے، پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،
Ayah 58:10[ 33] ممنوع سرگوشی شیطان کی کارگزاری، والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا اور انما کے کلمہ ئِ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی ممنوع سرگوشی تو شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، یعنی جو گناہ زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی ہو، جیسا کہ یہود اور منافقین کرتے تھے، [ جامع، وغیرہ ] سو اس ارشاد سے اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اس طرح کی ساری سرگوشیاں جو یہ منافق لوگ کرتے ہیں، شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازیوں سے ہوتی ہیں، تاکہ اس طرح وہ اہل ایمان کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچا سکے، لیکن وہ اپنی ایسی دسیسہ کاریوں سے اہل ایمان کی کوئی ضرور اور نقصان بہرحال نہیں پہنچا سکتا، لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی اس طرح کی وسوسہ اندازیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں، بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں، اور بھروسہ اللہ ہی پر رکھیں، وہ ان کو ہر شریر کی شرارت سے محفوظ رکھے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے پناہ میں رکھے۔ آمین
[ 34] سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ ئِ قدرت واختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ :
سو " باذن اللہ " کی اس قید سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان اس طرح کی سرگوشی سے ایمان والوں کو غم میں ڈالنا چاہتا ہے حالانکہ وہ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، مگر اللہ کے اذن سے کہ سب کچھ اللہ ہی کے اذن پر موقوف ہے۔ پس اللہ کی طرف سے اگر کچھ ہونا ہوا تو وہ تو بہرحال ہو کر رہے گا، ورنہ شیطان یا کسی اور کی طرف سے کچھ نہیں ہو سکے گا، اس لئے اللہ پاک کے سوا اور کسی سے بھی ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، سو شیطان اللہ کے اذن اور اس کی مشیت کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کہ نفع و نقصان سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ ئِ قدرت واختیار میں ہے، شیطان صرف اس طرح کی وسوسہ اندازیوں سے اہل ایمان کو شک میں ڈال کر ان کو کچھ دکھ ہی دے سکتا ہے اور، اسی لیے حدیث میں سے اس طرح سے منع فرمایا گیا ہے، کہ دو آدمی تیسرے کو الگ کر کے مشورہ اور سرگوشی کرنے لگیں، کیونکہ اس سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے، چناچہ صحیحین وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم تین شخص ہوا کرو تو تم میں سے وہ تیسرے کو الگ کر کے آپس میں سرگوشی مت کرو کہ اس سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے [ بخاری کتاب الاستیذان، مسلم کتاب السلام ] بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ ئِ قدرت میں اور اسی کے اذن اور مشیت پر موقوف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھا جائے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوہاب، جل وعلا۔
[ 35] ایمان کا تقاضا کہ بھروسہ اللہ ہی پر کیا جائے :
سو ارشاد فرمایا گیا اور حصروتاکید کی اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے، ایمان والوں کو۔ کہ ہر طرح کا نفع و نقصان اسی کے اختیار اور قبضہ ئِ قدرت میں ہے، اور ایمان والوں کے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اسی پر اور صرف اسی پر بھروسہ رکھیں۔ " فنساک التوفیق یا اکرم الاکرمین " بہرحال ان ارشادات سے معلوم ہوگیا کہ ایسی کانا پھوسی ممنوع ہے جس سے کسی مومن کو کوئی تکلیف پہنچے، جیسا کہ بخاری ومسلم وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ایک جگہ موجود ہوا کرو تو تم میں سے دو علیحدہ ہو کر باہم کانا پھوسی نہ کریں کہ اس طرح تیسرے کو غم ہوگا، اور اسے تکلیف پہنچے گی، سبحان اللہ ! کیسی عظیم الشان اور پاکیزہ تعلیم ہے اس دین حنیف کی جن میں باہمی تعلقات کے بارے میں اس قدر باریکیوں اور نزاکتوں کا خیال رکھا گیا ہے مگر دینا ہے اور خود مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت ہے کہ وہ ان مقدس اور پاکیزہ تعلیمات سے آنکھیں بند کیے طرح طرح کے اندھیروں میں پڑی ڈبکیاں کھا رہی ہے۔ " الا ماشاء اللہ العزیز الحکیم " بہرکیف یہاں پر کلمات حصر کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ اہل ایمان کو بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر کرنا چاہیے، کہ سب کچھ اسی کے قبضہ ئِ قدرت واختیار میں ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے اس کے سوا نہ کسی سے ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی پرواہ کرنے کی اور ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرے، لیکن آج کے مسلمان کا حال اس سے مختلف اور اس کے برعکس ہے، وہ اللہ سے نہیں ڈرتا اور باقی طرح طرح کی ایری غیری اور وہمی اور فرضی چیزوں تک سے ڈرتا ہے۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف، وبکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 58:11[ 36] بعض اہم آداب مجلس کی تعلیم و تلقین کا ذکرو بیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگوں سے کہا جائے کہ تم اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشادگی کردیا کرو۔ اللہ تم کو کشادگی عطا فرمادے گا۔ یعنی ہر اس امر میں جس میں کشادگی مطلوب ہو، سینے میں کشادگی، مکان میں کشادگی، روزی میں کشادگی، قبر میں کشادگی وغیرہ سب ہی کچھ اس میں آگیا، کہ لفظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور اعمال اعمال صالحہ کے اثرات کہاں کہاں پہنچتے ہیں، اور ان کی برکات وثمرات کس کس شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں کچھ بدری صحابہ ؓ تشریف لائے، تو حاضرین مجلس نے ان کو جگہ ان بدری صحابہ کرام ؓ کو بیٹھنے کا حکم فرمایا، اٹھائے جانے والے حضرات کو یہ بات شاق گزری، تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی،[ روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، مدارک، محاسن اور جامع البیان وغیرہ ] سو اس آیت کریمہ میں مجلس کے وہ اہم آداب بیان فرمائے گئے جن کا بدلنا آج تک کوئی لاسکا ہے نہ قیامت تک لاسکے گا، اور پھر اسلامی تعلیمات کا عدل اور توازن ملا حظہ ہو کہ اہل مجلس پر تو آنے والوں کا یہ حق بتایا مگر باہر سے آنے والوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ان میں سے کسی کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اہل مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے، بلکہ یہ حکم وارشاد فرمایا گیا کہ کشادگی اور توسع پیدا کریں، تاکہ سب کیلئے جگہ ہوجائے، جیسا کہ مسند احمد (رح) وغیرہ کی کتابوں میں صحیح حدیث موجود ہے۔ سبحان اللہ ! دین حق نے آداب مجلس تک اس عمدگی باریکی اور وضاحت سے بیان فرمائے کہ دوسرے کسی دین و مذہب میں اس کی کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی، اللہ تعالیٰ دین حق کی تعلیمات مقدسہ کو سمجھنے اور ان کو اپنانے کی توفیق بخثے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین۔
[ 37] میر مجلس کے حکم کی تعمیل کا حکم وارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جایا کرو۔ یعنی میر مجلس کی طرف سے ایسا کہا جائے تو تم فوراً اس کی تعمیل کرو۔ کسی بھی کام کیلئے کسی کو جگہ دینے کیلئے اور اس کے اکرام کے لئے، جیسا کہ یہاں سیاق کلام بتارہا ہے، یا نماز کیلئے، جہاد کے لئے، یا اور کسی اور کار خیر کے لیے اس امرو ارشاد کا عموم و اطلاق ان سب ہی صورتوں کو محیط اور شامل ہے، سب ہی صورتوں کو محیط اور شامل ہے، پس مومن کو ہر کار خیر کیلئے مستعد و تیار رہنا چاہیے، جب حکم ملے اٹھ کھڑا ہوا " اللّٰہم وقفنا لما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذالجلال والاکرام " بہرکیف آداب مجلس کے سیاق وسباق میں یہاں پر یہ ہدایت فرمائی گئی کہ جب تمہیں صدر مجلس کی طرف کہا جایا کرے کہ اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جایا کرو، اور ایسے حکم کی بلاچوں و چرا اور بغیر کسی احساس کمتری وغیرہ کے تعمیل کیا کرو، پھر اس حکم کی نوعیت انفرادی بھی ہوسکتی ہے، اور اجتماعی بھی، انفرادی یہ کہ کسی شخص کو کسی غرض کیلئے اٹھنے کو کہا جائے، اور اجتماعی یہ کہ پوری مجلس برخاست کردی جائے، جو بھی صورت ہو تمہیں اس حکم کو بخوشی قبول کرلینا چاہیے، اور کس طرح کا غلط خیال اس بارے اپنے دل میں نہیں لانا چاہے، سو اس سے سمع وطاعت کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، آداب مجلس سے متعلق یہ ہدایت اگرچہ اصلاً اور بنیادی ہدایات وتعلیمات کی خیرات و برکات سے معمور منور ہوں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، جل وعلا، اللّٰہم زدنا ایمانًا بک ویقنًا، وحبًّا فیک وخشوعًا، وخذنا بنواصنا الی ما فیہ طاعتک ومرضاتک بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل حین من الاحیان، بمحض منک وکرمک واحسانک، یاذالجلال والاکرام،
[ 38] رفع درجات کا ذریعہ و وسیلہ ایمان صحیح اور علم حق :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جن کو نور علم و ایمان سے نوازا گیا ہے۔ سو رفع درجات کا ذریعہ نور ایمان و علم ہے۔ پس نہ تو اس طرح کس مجلس سے اٹھایا جانا کسی کیلئے توہین کا باعث ہوسکتا ہے، اور نہ ہی کسی کا اس میں جم کر بیٹھ جانا اس کی عزت میں اضافہ کا سبب ہوسکتا ہے، کہ عزت ورفعت اور درجات کی بلندی کا اصل مدارو معیار ایمان اور علم کی دولت ہے، پس ایمان والوں کو بےایمانوں کے مقابلے میں، اور علم والوں کو بےعلموں پر وہ درجات نصیب ہوں گے، جن کو وہی ذات جان سکتی ہے جو یہ درجات عطا فرمانے والی ہے، اور جن خوش نصیبوں کو ایمان اور علم کی دونوں نعمتیں مل گئیں، ان کی بلندیوں کے کہنے ہی کیا ؟ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، سو یہ نور ایمان و علم کی عظمت شان کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ اسی سے اللہ تعالیٰ کے یہاں انسان کو عظیم الشان درجات و مراتب سے نوازا جاتا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، جل وعلا، وعم نوالہ،
[ 39] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے :
سو آیت کریمہ کے خاتمے پر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو، اور صرف ظاہر ہی طور پر ہی نہیں، بلکہ وہ ان پوشیدہ نیتوں سے بھی پوری طرح واقف و باخبر ہے، جو تمہارے دلوں میں مستور اور سینوں میں پوشیدہ ہیں، اور جو ان کاموں کا باعث اور ان کی محرک بنتی ہیں، اس لیے اسی کے مطابق وہ بلندی درجات سے نوازتا ہے، اللہ ہمارے ظاہر کو بھی اچھے سے اچھا رکھے اور باطن کو بھی، کہ سب کچھ اسی کے قبضہء قدرت میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ سو اس ارشاد ربانی میں اہل ایمان اور اصحاب علم و فضل کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے، کہ اللہ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے، اسلئے اس کے یہاں کسی اشتہار یا اعلان کی کوئی ضرورت نہیں، دین و ملت کے قیام و انصرام اور نظم جماعت کی پابندی اور احترام کی خاطر تم جو بھی ایثار کروگے، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے، اور وہ تم کو اس کے بھرپور صلے سے نوازے گا، سبحانہ وتعالیٰ پس بندے کیلئے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے اس خالق ومالک سے اپنا معاملہ صحیح رکھے اور اس کی رضا و خوشنودی کیلئے محنت اور کوشش کرتا رہے، اور انجام کو اسی کے حوالے کر دے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،